اردو زبان کے فروغ میں ٹیکنالوجی کی اہمیت ناگزیر: ڈاکٹر شمس اقبال

June 5, 2024 0 Comments 0 tags

 

اردو زبان کے فروغ میں ٹیکنالوجی کی اہمیت ناگزیر: ڈاکٹر شمس اقبال

(قومی کونسل میں اردو اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے میٹنگ)

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں اردو اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی زبان کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ ہر سطح پر کوشش ہورہی ہے کہ مواد کو ای فارمیٹ میں لایا جائے۔ قومی اردو کونسل بھی اس سلسلے میں مسلسل کام کرتی رہی ہے۔ کونسل کے ای کتاب موبائل ایپ، بلاگ، ای لائبریری ویب سائٹ، اردو آن لائن لرننگ ویب سائٹ وغیرہ سے بڑی تعداد میں ملک اور بیرونِ ملک سے اردو آبادی استفادہ کر رہی ہے۔  ترقی یافتہ زبانوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے آج اس میں توسیع اور اَپ گریڈیشن کی ضرورت  ہے۔  ہم چاہتے ہیں کہ اپنے پلیٹ فارم کو اَپ گریڈ کرکے سبھی مواد کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔  انٹرنیٹ سے بچوں اور نوجوانوں کی وابستگی اور دلچسپی کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انھیں مواد کی فراہمی آسان ہو۔ اسی مقصد کے تحت اس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تاکہ اردو آبادی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے۔ اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ارمان رسول فریدی (چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس، علی گڑھ) نے کہا کہ آج کا دور ٹیکنالوجی کا ہے اور گلوبل ورلڈ میں کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔  اردو ورلڈ نیٹ بنانے کی بھی ضرورت ہے اور اس کام کو قومی اردو کونسل سے بہتر اور کوئی دوسرا ادارہ انجام نہیں دے سکتا۔ پروفیسرمحمد جہانگیر وارثی (چئیرمین شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ اردو زبان کے فروغ کے حوالے سے قومی کونسل کا مینڈیٹ شروع سے بالکل واضح ہے۔ اردو ایک کمیونیکیشن کی زبان بن کر عالمی سطح پر ابھری ہے اور اس میں قومی کونسل کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی این سی پی یو ایل نے سرگرمی دکھائی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر کتابوں کی فہرست، میگزین اور جنرلز، مضامین (یونی کوڈ فارمیٹ میں) اور ای پب و پی ڈی ایف کی صورت میں کتابیں موجود ہیں۔ اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔  پروفیسر منصف عالم (ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔  آج کوئی بھی کام بغیر تکنیکی سہارے کے ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد معمور علی (اسسٹنٹ پروفیسر، ڈپارٹمنٹ آف ٹیچر ٹریننگ اینڈ نان فارمل ایجوکیشن، آئی اے ایس ای، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)  نے کہاکہ آج کے زمانے میں اردو یا اس جیسی کسی بھی زبان کو ٹیکنالوجی کا استعمال ضرور آنا چاہیے۔ زبان سیکھنے والے کو اس کا استعمال اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ہنر آنا ضروری ہے۔ تدریس کے حوالے سے ٹیکنالوجی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔  کونسل کا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے اَپ گریڈیشن کے بارے میں سوچ رہی ہے۔  اس پروگرام میں جناب پرشانت ورما (پروگرام مینیجر  ٹیکنکل سولیوشن ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن، ڈی آئی سی، مائٹی)،  جناب سید محمد احمد  (سی ٹی او، لاریب انٹرنیشنل ، نئی دہلی) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

          میٹنگ میں قومی اردو کونسل کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک)ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسر شاہنواز محمدخرم، ریسرچ اسسٹنٹ محمد افضل حسین خان ، پروجیکٹ اسسٹنٹ محمد افروز وغیرہ موجود رہے۔

)رابطہ عامہ سیل(

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

منظور احمد منظور: دلچسپ نثر نگار، باکمال شاعر: رؤف خیر

  پورے ایک سو سال پہلے 10؍مارچ 1923 کو حیدرآباد دکن کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والے جناب منظور احمد منظور کو ادبی دنیا نے تقریباً بھلا ہی دیا۔ دکن

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے(ڈاکٹر کہکشاں پروین کی یاد میں) مضمون نگار: محمد مکمل حسین

 ماہنامہ اردو دنیا،اگست 2024 کہکشاںپروین عہد حاضر کی ایک معروف افسانہ نگار کی حیثیت سے ادبی حلقوں میںمقبول تھیں۔ وہ گزشتہ چار دہائیوںسے خاموشی کے ساتھ پرورش لو ح وقلم

گمشدہ معصومیت کا متلاشی: محمد علوی – مضمون نگار: قمر جہاں نصیر

  چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی دھرا نہیں آؤ تمھیں بتائیں کہ علوی نے کیا کیا محمد علوی کا یہ شعر ہی ان کے شعری رویے کی طرف اشارہ