تمل ناڈو کا ایک باکمال شاعر:گنڈو عبدالقادر شاکر،مضمون نگار:سید سجاد حسین

September 15, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، ستمبر 2026:

محمد عبدالقادر شاکر 1865کو شہر وانمباڑی کے ایک متمول لبابین گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وانمباڑی موجودہ ریاست تمل ناڈو کے ضلع ترپاتور کا ایک تجارتی شہر ہے جو چمڑے کی دباغت کے لیے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ شہر مدراس سے تقریباً 185 کلومیٹر کے فاصلے پر مدراس بنگلور شاہراہ پر واقع ہے۔ اردو زبان و ادب کے لحاظ سے یہ نہایت زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں زبان و ادب کی روایت تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہے۔
 لبابین دراصل مسلمانوں کی وہ نسل ہے جو ظہور اسلام کے ابتدائی دور میں عرب تاجروں اور مقامی باشندوں کے اختلاط سے معرض وجود میں آئی۔ روایت ہے کہ جب یہ عرب اپنی اولاد کو پکارتے تھے تو وہ جواباً لبیک کہتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ لفظ خود اس نسلی وحدت کے لیے استعمال ہونے لگا اور عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ زبان زد خاص و عام ہوگیا۔
(ملاحظہ ہو تاریخ جنوبی ہند مؤلف محمود خان بنگلوری)
لبابین میں یہ عام رواج ہے کہ گھرانوں کے نام آبائی پیشہ یا آبائی وطن پر رکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ شاکر کے جد امجد میسور کے سلاطین کی فوج کے لیے بارود کی گولیاں (تمل مترادف گنڈو) بناتے تھے اور اس طرح ان کے گھرانے کا نام گنڈوکار یا گنڈو پڑ گیا۔ (بحوالہ مثنوی گلزار شاکر) لبابین گھرانے کے کم و بیش تمام افراد تجارت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ وہ دینی علوم و مسائل میں بہت دلچسپی لیتے تھے لیکن شعر و ادب میں نسبتاً کم معروف تھے۔ ایسے ماحول میں شاکر نے آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں حاصل کی اور پھر اپنے آبائی پیشہ یعنی چمڑے کی تجارت کے سلسلے میں دور دراز مقامات جیسے ممبئی، دہلی، کانپور، کلکتہ وغیرہ جانے لگے۔ شاعری کا شوق تھا لہٰذا وہاں کی ادبی محفلوں اور شعر پرور فضاؤں نے سمند شوق پر تازیانے کا کام کیا۔
شاعری شاکر کے لیے ایک دلچسپ مشغلہ تھا۔ اس پر خداداد صلاحیت اور طبیعت کی موزونیت سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی۔ اس دور کی شاید ہی کوئی ایسی صنف سخن ہو جس میں شاکر نے طبع آزمائی نہ کی ہو۔ مثنوی ہو یا غزل، رباعی ہو یا قصیدہ ہر صنف میں شاکر نے لکھا اور خوب لکھا۔
ایک کامیاب تاجر ہونے کے علاوہ وہ ایک باکمال صوفی بھی تھے اور سلسلہ تصوف میں مولانا عبدالوہاب قدس سرہ بانی باقیات الصالحات ویلور کے خلیفہ تھے۔ شاکر نے وانمباڑی میں پالار ندی کے کنارے ایک خانقاہ ’’خانقاہ قادریہ‘‘ تعمیر کرائی جہاں وہ دینی تعلیم کے ساتھ اپنے عقیدت مندوں کو تصوف کی اصطلاحات اور اسرار و رموز سے واقف کراتے تھے۔ یہ خانقاہ آج بھی بوسیدہ حالت میں موجود ہے۔
یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں نہ صرف شعر و شاعری کے چرچے تھے بلکہ آئے دن شعری معرکے بھی ہوا کرتے تھے۔ ان معرکوں میں اساتذہ کرام اور کہنہ مشق شعرا سے لے کر نوواردان بساط ادب تک حصہ لیتے تھے۔ مشاعروں میں بھی اور طرحی غزلوں پر مشتمل ماہناموں میں بھی جو ملک کے مختلف مراکز سے شائع ہوا کرتے تھے شاکر کی نگارشات شائع ہوتی تھیں۔ بسلسلہ تجارت جہاں جہاں وہ پہنچتے وہاں کے مشاعروں میں بڑی سرگرمی سے شریک ہوتے تھے۔ اساتذہ اور اہل زبان ان کے کلام کو توجہ سے سنتے تھے۔
شاکر کی ادبی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جو امرتسر میں پیش آیا تھا جہاں قدر بلگرامی نے ایک مشاعرے کا انعقاد کیا اور یہ اعلان کیا کہ جو کوئی بھی ان کے اس شعر:
رخ جاناں پہ یوں خال رخ جاناں کا قبضہ ہے
محافظ جس طرح فلفل بنے کافور کی بوکا
سے بہتر اشعار نظم کرے گا اسے مبلغ  25 روپے کا انعام دیا جائے گا۔ شاکر نے وہاں اپنی 3 غزلیں (تقریباً 52 اشعار) سنائیں اور حاضرین نے بیک زبان نعرہ بلند کیا کہ شاکر اس انعام کا مستحق ہے لیکن قدر بلگرامی مکر گئے اور محفل مشاعرہ سے کافور کی بو بن کر اڑ گئے (گلزار شاکر)
ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ شاکر نے سلطان دکن آصف جاہ سادس میر محبوب علی خان کے دربار میں حاضر ہو کر مثنوی گلزار شاکر اور دوسری تصانیف نذر کی تھیں۔ آصف جاہ دکن بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ کیا انعام مانگتے ہو۔ تاجر پیشہ شاکر نے عرض کیا ’’دکن بھر میں چمڑے کی تجارت کا اختیار مجھے دے دیا جائے‘‘ سلطان نے جواب دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں رعایا سے ان کے حقوق نہیں چھین سکتا‘‘۔ اس کے بعد شاکر نے کوئی اور انعام لینے سے مودبانہ انکار کر دیا۔
’’دیوان شاکر‘‘ میں کل 121 غزلیں ہیں اور حروف تہجی کے اعتبار سے تمام ردیفوں پر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ شاکر کے ہم وطن و ہم عصر شاعر بادشاہ جن سے اکثر ان کی ادبی چشمکیں ہوا کرتی تھیں کا قطعہ تاریخ شامل کتاب ہے۔ تاریخی مصرع ہے :
’’دیوان شاکر دلچسپ ہے خوب ‘‘
1314ھ
’’گلدستہ شاکر‘‘ دوسرا دیوان ہے جس میں 65 غزلیں ہیں اور 4 رباعیاں، جو سلطان دکن کی مدح میں ہیں۔
تحفہ شاکر تیسرا مجموعہ ہے جس میں 36 ایسی غزلیں شامل ہیں جو بڑے بڑے ادبی معرکوں میں سنائی گئیں۔ ہر غزل کے نیچے ایک نوٹ دیا گیا ہے جس میں مقام مشاعرہ، سامعین اور تاثرات شعرا کا اجمالی طور پر ذکر ہے۔ اہم شعرا جن کے آگے شاکر نے اپنی غزلیں پڑھیں ان میں داغ دہلوی اور امیر مینائی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 
ان کے علاوہ شوکت میرٹھی، مرزا ارشد دہلوی، کیف ٹونکی، ثاقب بدایونی، جلال لکھنوی اور ظہیر دہلوی نے بھی شاکر کے کلام کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ ان کی پذیرائی بھی کی۔
’’حدیقہ شاکر‘‘ میں بچوں کے لیے پند و نصائح منظوم کیے گئے ہیں۔ کتاب کے اختتام پر استاد شاکر مولانا یعقوب خان مدہوش (ساکن دہرادون) کی تقریظ شامل ہے۔ کہتے ہیں :
’’حق یہ ہے کہ زبان اردو میں یہ کتاب بلحاظ جامعیت مضامین و عموم نفع آپ اپنی نظیر ہے۔ آپ مدراس کے رہنے والے عمدتہ التجار، فخر روزگار ہیں۔ آپ کے فضل و کمال کی شاہد حال تو خود کتاب ہی ہے۔ آپ اردو زبان کے بڑے کہنہ مشق شاعر ہیں۔ فصاحت زبان اور شگفتگی بیان میں اہل مدراس میں آپ فی الواقع یکتا ہیں۔۔۔‘‘
اس کتاب میں عشق حقیقی و عشق مجازی کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ تقریظ میں مولانا مدہوش فرماتے ہیں:
’’میں نے اہل مدراس میں ایسی فصیح اردو لکھتے کسی کو نہیں دیکھا خصوصاً مثنوی میں تو قلم توڑ دیا ہے اور لطف یہ ہے کہ واقعات کو شعر کے پیرائے میں اس خوبی سے ادا کیا ہے کہ جس کی داد دینے والا بھی خود مستحق داد ہے‘‘۔
 مثنوی کے بعد 17 غزلیں اور ایک رباعی درج ہے۔ اس کے بعد مصنف کا یہ بیان ہے کہ اس مثنوی میں عشق سے مراد قدرت ہے اور معشوق سے مراد معشوق حقیقی اور دیگر امور جو کتاب مذکورہ میں مندرج ہیں فضول ہیں۔
مثنوی چندر بدن مہیار المعروف بہ ’’گلزار شاکر‘‘ شاعر کا ایک حسین و جمیل شاہکار ہے۔ مقیمی اور باقر آگاہ کی بیان کردہ داستان کو شاکر نے ایک نیا روپ رنگ بخشا ہے۔ بیجاپور کے شاہ میر شرف الدین سہروردی کا ایک نہایت خوبرو لائق وفائق لڑکا تھا مہیار نامی۔ جس نے سندر پٹن کے راجہ رنگ را پتی کی لڑکی چندر بدن کے حسن کی شہرت سنی اور نادیدہ عاشق بن گیا۔ قصے کا خلاصہ ساقی نامہ میں خود شاکر کی زبانی سنیے:
جانا عاشق کا سوئے سندر پٹن
دیکھ لینا صورت چندر بدن
بیٹھنا مندر میں جا کر سال بھر
حسن کی دیوی کا پھر آنا ادھر
اس کے شمع رخ پہ پروانے کی طرح
گر کے بڑھنا اس پہ دیوانے کی طرح
کہہ کے یہ جھنجھلا کے جانا یار کا
’’اے موئے چل کیا تو دیوانہ ہوا ‘‘
جانا جنگل کی طرف صحرا نورد
بولتا مصرع وہی با آہ سرد
حاکم ایجا نگر کا دشت سے
لے کر آنا گھر میں ساتھ اپنے اسے
جان کر سودائی چندر بدن
نامہ لکھنا جانب سندر پٹن
ہو کے پھر محروم حرف مدعا
چھوڑ دینا اس کو پھر نواب کا
دشت میں جانا کہیں پھر ماہیار
ڈھونڈتے آنا اسے چندر نگار
دے کے خوب اپنے ثبوت اقرار کا
مارنا عاشق کو جاں سے یار کا
پھر جنازہ جانا خود اڑ کر وہاں
در پہ اس چندر بدن کے بے گماں
کلمہ پڑھنا دل ربا کا شوق سے
جاں بحق تسلیم کرنا ذوق سے
دونوں کا ایک قبر میں ہونا نہا ں
اس طرح ہے اختتام داستاں
ساقیا تیری نوازش ہو اگر
فیض پائیں اس سے سب اہل نظر
قصۂ چندر بدن اور ماہیار
شاہد معنی کا ہے آئینہ دار
صنع سے ہے رنگ صانع کی نمود
ہے وہی نور قدم نور شہود
قصے کے ایک ایک موڑ پر نبیوں اور ولیوں کی حکایتیں بھی متوازی طور پر بیان کی گئی ہیں، جن سے شاعر کا مقصد واضح ہوتا جاتا ہے۔ اصل داستان کے بعد ایک عبرت ناک قصہ بھی ظریفانہ انداز میں سنایا گیا ہے جو ابتذال کی سرحدوں کو چھو جاتا ہے۔ آخر میں جلال لکھنوی کا یہ مصرع  تاریخ قابل توجہ ہے:
’’مثنوی ایک چھپ گئی کیا خوب‘‘
1326ھ
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور کے قصبہ کدری میں آج بھی چندر بدن اور مہیار کا مشترکہ مزار مرجع خاص و عام ہے۔ مثنوی کے بعد ایک قصیدہ سرور کائنات کی مدح میں ہے اور پھر ایک جواب نامہ کسی دوست کے خط کا ہے جس میں شاکر کہتے ہیں:
’’اردو دراصل ہمارے ہی ملک سے ایجاد ہوئی اور ہم منھ ہی دیکھتے رہ گئے اور اہل دہلی و لکھنو اس میں کمال پیدا کر گئے۔ پھر اردو کے اہل کمال میں سے اختلاف زمانہ کے لحاظ سے کیسے کیسے مختلف المذاہب ہوئے ہیں۔ ایک طبقے میں ایک محاورہ فصیح تھا دوسرے طبقہ والوں نے اس کو مکروہ سمجھا۔۔۔ اس پر خیالات کی چستی، بندش کی درستی اور طرز ادا کی سادگی کی طرف الگ نظر کی گئی اور ہر مضمون کا اچھوتا پن اور تشبیہات کی جدت الگ مد نظر ہے۔ ان سب باتوں کا آن واحد میں لحاظ رکھنا شاعری ہے۔ خواہ کسی زبان میں ہو‘‘۔
اس کتاب میں وہ معرکہ بھی درج ہے جو شاکر اور قدر بلگرامی میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس میں 17 رباعیاں بھی شامل ہیں۔
شاکر کے کلام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ حسن و عشق کی قرنہا قرن کی کشمکش شاعر کا محبوب موضوع ہے۔ اس کا ہر شعر اس کی ہر تخلیق اسی محور پر گھومتی ہے۔ ’مثنوی نالہ شاکر‘ میں واردات قلبی کے جو مرقعے  شاعر نے کھینچے ہیں، وہ خود اس کے دل پر گزر چکے ہیں۔ وانمباڑی  میں اب بھی کچھ ایسے لوگ باقی ہیں جو اس داستان کو حقیقت سمجھتے ہیں، لیکن جس ہستی کو شاعر سے قریبی تعلق رہا ہے اس نے بار بار استفسار پر اس حقیقت کی نقاب کشائی سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’’مرحوم کی زندگی کو بے پردہ کرنا مناسب نہیں۔‘‘
ایثار، قربانی اور معشوق پر مر مٹنے کا وہ جذبہ جو ہر مقام اور ہر دور میں مستحسن نظروں سے دیکھا گیا ہے شاکر کے یہاں حصول مدعا کا واحد ذریعہ ہے۔ نالہ شاکر کا ہیرو اسی راستے سے شہر نگار حقیقی میں داخل ہوتا ہے۔ چندر بدن اور مہیار اسی سفینے کے سہارے بحر محبت کے پار اترتے ہیں۔
جہاں شاکر کے کلام میں ایسے اشعار جا بجا بکھرے پڑے ہیں جن میں ہجر و فراق، محرومی و  بیچارگی، بے رخی و بے اعتنائی اور جور و تغافل کا برملا اظہار ہے وہاں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں محبوب کی قربت، لذت، ہم کناری اور معراج عشق کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ یہیں شاکر کی شخصیت کا وہ پہلو نمایاں ہوتا ہے جس کی بدولت وہ ایک سالک راہ نہیں بلکہ ایک عارف منزل رسیدہ نظر آتے ہیں۔ عشق مجازی کی راہ طے کرتے کرتے شاعر عشق حقیقی کی سرحد میں داخل ہوتا ہے اور پھر وہاں کے انوار بے اندازہ سے منور ہو کر نمودار ہوتا ہے۔
گل و بلبل، شمع و پروانہ جیسی فرسودہ روایات، فراق و وصال کی وہی پرانی واردات، رند و شیخ کے وہی پامال موضوعات جو صدیوں سے غزل میں غالب رہے ہیں، شاکر کے یہاں بھی اپنی پوری رعنائیوں اور رسوائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں، لیکن انہی جانی پہچانی تصویروں کے پس پردہ ایسے نقوش بھی ہیں جو لازوال ہیں اور دل و دماغ پر دیر پا تاثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ حکمت و معرفت کے دریائے اسرار کی شناوری اور فکر و نظر پر مبنی مشاہدے شاکر کو حسن مطلق کی تجلیوں اور معشوق حقیقی کے جلال و جمال کی نیرنگیوں میں گم کر دیتے ہیں اور اس عالم محویت میں گوناگوں حقیقتیں ان کے نوک قلم پر منکشف ہونے لگتی ہیں۔ 
زبان کی صحت و صفائی، کلام کی فصاحت و بلاغت، بندش کی چستی، تشبیہوں اور استعاروں کی موزونیت شاکر کی شاعری کی پہچان ہیں۔ ان کے علاوہ یہ خصوصیت بھی ہے کہ شاعر کو سنگلاخ زمینیں بہت بھاتی ہیں۔ شاید یہ طبیعت کی افتاد ہے کہ جس طرح حسن و عشق کی ظاہری رنگینیوں کو چھوڑ کر انھوں نے حسن حقیقی تک پہنچنے کی دشوار گزار راہوں کو اختیار کیا۔ اسی طرح غزل میں بھی انھیں پیچیدہ راہیں پسند آئیں۔ چنانچہ شاکر کے بہترین اشعار وہی ہیں جو ان زمینوں میں کہے گئے ہیں۔ درج ذیل اشعار دیکھیں: 
رخ روشن سے تم اپنے نقاب الٹو نہ گلشن میں
بھڑک اٹھے گی سوز رشک سے گلزار میں آتش
سوجھتی ہی نہیں انساں کو کبھی قدر وطن
جب تک آنکھوں پہ نہ رہ جائے سفر کی عینک
ذیل میں شاکر کے کلام سے دو رباعیاں اور چند منتخب اشعار پیش کیے جاتے ہیں جن سے ان کے کمال سخن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
موتی نے صفا سے آبرو پائی ہے
پھولوں نے شگفتگی سے بو پائی ہے
انساں ہے وہی عزیز ہر دل شاکر
جس شخص نے دل پسند خو پائی ہے
بلبل ہے اسیر خوشنوائی کے سبب
برباد ہیں پھول خود نمائی کے سبب
ہے عجز و فروتنی سے عزت شاکر
انسان ہے ذلیل کبریائی کے سبب
ہم جام محبت پی لیتے ہیں شاکر
یہ زہر کے ہیں گھونٹ کہ شربت نہیں معلوم
گیا نہ چھوڑ کے دل کو مرے کبھی خالی
خیال زلف رسا مدظلہ العالی
نکالیں گے کوئی صورت تمہارے در تک آنے کی
کسی دن خواب بن کر جائیں گے چشم نگہباں میں
کیوں تیز بہت کرنے لگی آتش گل
اے باد صبا وہ ترے داماں میں لگی آگ
حال دل پورا نہ لکھا تھا کہ غش طاری ہوا
ضعف سے چھوٹا قلم تحریر آدھی رہ گئی
حال بیماروں کا پوچھیں تو یہ کہنا قاصد
مرنے والے تمہیں جینے کی دعا دیتے ہیں
بعد مدت کے جو احوال سفر پوچھا ہے
آج کیا تم کو عزیزان وطن یاد آیا
شاکر اس فن میں مرا نام رہے گا پس مرگ
یاد رکھیں گے مجھے اہل سخن میرے بعد
شاکر کے کلام کو پڑھنے اور پرکھنے کے بعد یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ وہ بلاشبہ تمل ناڈو کا ایک باکمال فنکار ہے جس کے کلام میں کوئی فلسفہ اور ٹھوس پیغام نہ ہونے کے باوجود فنی اعتبار سے جو گہرائی و گیرائی ہے، دل کو موہ لینے والی جو کیفیت ہے نیز  ایک ایسی بے پناہ اور پرخلوص کشش ہے وہ قاری کی توجہ خاص کر اپنی طرف منعطف کر لیتی ہے۔ یہی شاکر کی انفرادیت اور پہچان ہے۔
شاکر کو اپنی عمر کے آخری دور میں ملک گیر شہرت حاصل تھی۔ انھوں نے داغ، امیر، جلال لکھنوی جیسے اساتذہ فن سے داد سخن پائی اور اپنی زندگی ہی میں کلام کے متعدد مجموعے اور دیگر تصانیف شائع کیں۔ ٹمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبے وانمباڑی کا پروردہ یہ شاعر آسمان سخن کا ایک ایسا روشن ستارہ بن کر چمکا  جس کی ضیا پاشی سے بعد کی آنے والی نسلیں فیض یاب ہوتی رہیں۔ تمل ناڈو  کا یہ باکمال شاعر بالآخر 58 سال کی عمر میں 23 جولائی 1923 کو ظلمت عدم میں روپوش ہو گیا۔ اپنی حیات میں شاکر نے جو کتابیں یادگار چھوڑیں وہ حسب ذیل ہیں:
1۔ دیوان شاکر ،مطبع بخشی پریس کلکتہ ، 1896
2۔ مثنوی نالہ شاکر، مطبع گلزار حسینی بمبئی، 1897
3۔ چمنستان شاکر ،مطبع مفید عام آگرہ ، 1900
4۔ گلزار شاکر ،مطبع گلزار حسینی بمبئی ، 1908
5۔ گلدستہ شاکر، مطبع گلزار حسینی بمبئی، 1908
6۔ تحفہ شاکر، مطبع گلزار حسینی بمبئی، 1909
7۔ حدیقہ شاکر، مطبع گلزار حسینی بمبئی، 1909
8۔ صحیفہ ذکر اللہ، مطبع شاہ الحمیدیہ مدراس، 1921
Dr. Syed Sajjad Hussain
19/43  Begam Saheb 3rd lane
Royapettah, Chennai  – 600014
Mob. 9841254068
Email: profsshusain@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

جگر کی کلاسکیت ،مضمون نگار: اکرم پرویز

اردو دنیا،مئی 2026: اردو غزل کی روایت میں جگر مرادآبادی کا فنی اختصاص و انفراد مستحکم ہے لیکن اس کے باوجودان کے فن کے معروضی محاکمے میں کئی نکات سد

سلطان اختر:کلاسیکی روایت کا جدت پسند شاعر،مضمون نگار:ظفر اللہ انصاری

اردو دنیا، مئی 2026:  مجھے جن بزرگ شعرا کو قریب سے دیکھنے اور ان کی شاعری سے مستفیض ہونے کا موقع ملا ان میں ایک معتبر نام سلطان اختر کا

کلام غالب میں لفظ ’’ناخن‘‘ کی انفرادیت،مضمون نگار:غزالہ فاطمہ

اردو دنیا، اگست 2026: کلام غالب میں لفظ ’ناخن‘ کا استعمال مختلف مقامات پر ملتا ہے اسے عام طور سے تشبیہ ، استعارہ یا علامت کے طور پر لایا گیا