اردو تراجم اور عصر حاضر،مضمون نگار:یعقوب یاور

August 27, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

دنیا بھرمیں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اگر انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہے یا ایک دوسرے کی ثقافت اور روزمرہ کے رہن سہن کو سمجھنا چاہے، اس کے فکری و علمی ذخائر سے استفادہ کرناچاہے۔انفرادی طور پر یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنی زبان کے علاوہ ایک یا زائد زبانوں میں دسترس حاصل کرلیں۔چنانچہ اگر ہم دنیا کے مختلف حصوں سے اپنے روابط استوار کرنا چاہتے ہیں یا ان کے بارے میں جاننا سمجھنا چاہیں تو ثانی الذکر ہی واحد قابل عمل طریق کار رہ جاتا ہے۔ یعنی ہم میں سے جو شخص متعلقہ زبان سے واقف ہو، وہ اسے اپنی مقامی زبان میں منتقل کردے۔چنانچہ ترجمہ ہماری ضرورت ہی نہیں مجبوری بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے اگر کسی معاشرے میں ایسا شخص دستیاب نہ ہو ، جو دوسری زبانوںکاعلم رکھتا ہو تو کچھ لوگوں کو باقاعدہ تربیت دے کر اس کام کے لیے تیار کیا جاتا ہے کہ وہ ان زبانوں کو سیکھیں، جن سے استفادے کی انھیں ضرورت ہے۔
اردو کے ابتدائی دور ہی سے ترجمے کی مثالیںمل جاتی ہیں۔ مثال کے طور پرگولکنڈہ اور بیجاپور کی ریاستوں میں دارلترجمہ کا قیام، جہاں مذہبی اور ادبی تراجم ہوئے،مغلیہ عہد کا مکتب خانہ، جہاں مہابھارت، رامائن جیسی کتابوں کے ترجمے ہوئے، شاہ ولی اللہ کا علمی حلقہ جہاں قرآن مجید کا اردو ترجمہ ہوا، اہم ہیں۔ترجمے کے جدید مراکز میں فورٹ ولیم کالج کے اردو تراجم، دہلی کالج میںمختلف علوم و فنون کی کتابوں کے تراجم، سائنٹفک سوسائٹی کے زیر اہتمام تاریخ، معاشیات، سائنس اور سیاسی علوم سے متعلق کتب کے تراجم، دارالمصنفین اعظم گڑھ میں اسلامی علوم کے عربی سے اردو میں تراجم ، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد کے دارالترجمہ میں طب، انجینئرنگ ، قانون، فلسفہ، سائنس اور ریاضی کی کتب کے تراجم، انجمن ترقی اردو میں علمی و ادبی کتب کے تراجم، لغات کی تیاری اور عالمی ادب کے شاہکار تراجم کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ، زبان، دارالترجمہ،جہاں مذہبی، ادبی تراجم،مکتب خانہ، مہابھارت، رامائن، فورٹ ولیم کالج، سائنٹفک سوسائٹی، دارالمصنفین ، معاشیات، عثمانیہ یونیورسٹی، طب، انجینئرنگ ، قانون، فلسفہ، سائنس ۔
———
ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا بھرمیں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اگر انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا چاہے یا ایک دوسرے کی ثقافت اور روزمرہ کے رہن سہن کو سمجھنا چاہے، اس کے فکری و علمی ذخائر سے استفادہ کرناچاہے، تو یا تو اسے ان زبانوں میں مہارت درکار ہوگی یا پھر ان میں سے کوئی، جو متعلقہ زبان سے واقف ہو، یہ ذمہ داری قبول کرے کہ مفاد عامہ کے لیے متعلقہ زبان کو اپنی زبان میں منتقل کر دے۔اول الذکر کا تصور بھی ناممکن ہے، کیونکہ یہ انسان کی بساط سے باہر کی بات ہے کہ وہ ان ہزاروں بولیوں اور زبانوں میں استعداد حاصل کرسکے۔ہاں انفرادی طور پر یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنی زبان کے علاوہ ایک یا زائد زبانوں میں دسترس حاصل کرلے۔چنانچہ اگر ہم دنیا کے مختلف حصوں سے اپنے روابط استوار کرنا چاہتے ہیں یا ان کے بارے میں جاننا سمجھنا چاہیں تو ثانی الذکر ہی واحد قابل عمل طریق کار رہ جاتا ہے۔ یعنی ہم میں سے جو شخص متعلقہ زبان سے واقف ہو، وہ اسے اپنی مقامی زبان میں منتقل کردے۔چنانچہ ترجمہ ہماری ضرورت ہی نہیں مجبوری بھی بن جاتا ہے۔اس لیے اگر کسی معاشرے میں ایسا شخص دستیاب نہ ہو ، جو دوسری زبانوںکاعلم رکھتا ہو تو کچھ لوگوں کو باقاعدہ تربیت دے کر اس کام کے لیے تیار کیا جاتا ہے کہ وہ ان زبانوں کو سیکھیں، جن سے استفادے کی انھیں ضرورت ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانے نے اس بات کی اہمیت کو سمجھااور ایک زبان سے دوسری زبان میںترجمہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چنانچہ قدیم یونان کی علمی اکادمیوں سے لے کر عہدعباسی کے ’دارالحکمت‘ تک، اور پھر نشاۃِ ثانیہ سے جدید دنیا تک، تراجم علم و دانش کی ترسیل و تبادلے کا موثر ذریعہ رہے ہیں۔
جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے،بحیثیت مجموعی اس کی اور یہاں کی زبانوں کی، جس میں اردو بھی شامل ہے،تشکیل و ارتقا میں بھی ترجمے نے نمایاں کردار ادا کیاہے۔ اردو کے ابتدائی دور ہی سے ترجمے کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ مثال کے طور پرگولکنڈہ اور بیجاپور کی ریاستوں میں دارلترجمہ کا قیام، جہاں مذہبی اور ادبی تراجم ہوئے،مغلیہ عہد کا مکتب خانہ، جہاں مہابھارت، رامائن جیسی کتابوں کے ترجمے ہوئے، شاہ ولی اللہ کا علمی حلقہ جہاں قرآن مجید کا اردو ترجمہ ہوا، اہم ہیں۔ترجمے کے جدید مراکز میں فورٹ ولیم کالج کے اردو تراجم، دہلی کالج میںمختلف علوم و فنون کی کتابوں کے تراجم، سائنٹفک سوسائٹی کے زیر اہتمام تاریخ، معاشیات، سائنس اور سیاسی علوم سے متعلق کتب کے تراجم، دارالمصنفین اعظم گڑھ میںاسلامی علوم کے عربی سے اردو میں تراجم ، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد کے دارالترجمہ میں طب، انجینئرنگ ، قانون، فلسفہ، سائنس اور ریاضی کی کتب کے تراجم، انجمن ترقی اردو میں علمی و ادبی کتب کے تراجم، لغات کی تیاری اور عالمی ادب کے شاہکار تراجم کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔بعد ازاں ترقی پسند تحریک کے زیرسرپرستی عالمی ادب کے اردو تراجم اردو کے فکری سرمائے کی تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔عصرِ حاضر میں، جب دنیا ایک گلوبل گاؤں کی شکل اختیار کرچکی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کے توسط سے علوم و فنون کی تخلیق و ترسیل کی رفتار میںغیر معمولی اضافہ ہوا ہے ترجمہ ایک ناگزیر علمی ضرورت بن چکا ہے۔
(2)
یہاں میں ذاتی طور پریہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں میرے خیالات میرے اپنے تجربے سے مستعار ہیں۔گو کہ ترجمے کا میرا تجربہ تقریباً چالیس پینتالیس برسوں پر محیط ہے، لیکن یہ ان معنوں میں محدود ہے کہ میں نے سارے ترجمے انگریزی سے اردو میں کیے ہیں، وہ بھی بیشتر ادب،فلسفہ، مذہب، سیاحت،تاریخ وغیرہ موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی صحافتی،سائنسی اور دیگر علوم کے تراجم کا مجھے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس لیے میرے خیالات اسی دائرے میں محدود ہوں گے۔اس کے علاوہ میںآج تک ادب میں بھی شعری اصناف کے ترجمے کے لیے قلم اٹھانے کی ہمت نہیں کرسکا،کیونکہ میں ایسا سمجھتا ہوں کہ کسی بھی زبان کی شاعری کا ترجمہ اس کے مالہ و ماعلیہ کے ساتھ ناممکنات میں سے ہے۔ ویسے بھی میرے نقطہ نظر سے ترجمہ ایک نامکمل عمل ہے، کیونکہ مترجم کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اصل تحریر کی تمام جہات کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوپاتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے توتمام دیگر علوم کے تراجم ادبی تراجم کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں مجازی اظہار اورالفاظ میں تہداری نہیں ہوتی اور وہ بس وہی مفاہیم ادا کرتے ہیں، جو الفاظ میں بیان ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہاں بھی علمی اصطلاحات کی منتقلی کم پریشان کن نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس ادب بالخصوص شاعری میں الفاظ اکثر لغوی مفاہیم سے کہیں آگے بڑھ جاتے ہیں اور اکثر الفاظ اپنے لغوی معانی کی ضد بھی ہوجاتے ہیں، اس لیے مصنف کی منشا کو سمجھنا اور ایسی صورت حال میں لفظی ترجمے سے گریز کرنا مترجم کی مجبوری بن جاتی ہے۔اصل متن کا بالاستیعاب اور توجہ سے مطالعہ کرنا اور اچھی طرح سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ جہاں تک میرا اپنا سوال ہے، ترجمے کے لیے میرا طرز عمل کچھ یوں ہوتا ہے۔ میں پہلے اصل متن کا مطالعہ کرتا ہوں۔جہاں جہاں مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ باتیں میری فہم سے روگرداں ہیں، اس کی تحقیق کرکے اس کے صحیح مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کے لیے مختلف لغات، تھیسارس اور دیگر کتب سے استفادہ کرتا ہوں، اس کے بعد ترجمے کا کام شروع کرتا ہوں، جو لازمی طور پر بیس سے پچیس صفحات فی دن کے حساب سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد میںترجمے کے متن کی اصلاح کا کام کرتا ہوں اور آخر میں اس پر نظر ثانی اور پروف ریڈنگ کرتا ہوں۔ پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی میں ترجمہ پبلشر کے حوالے کرتا ہوں۔
(3)
ابھی وہ دن دور نہیں گیا ، جب اردو میں ترجمے کے فن کوتیسرے درجے کا کام سمجھا جاتا تھا اور عام طور پراسے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ نتیجے کے طور پر اچھے اور باصلاحیت فنکار اس جانب توجہ دینے کو کسر شان سمجھتے تھے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب میں نے 1981 میں ہرمن ہیس کے ناول سدھارتھ کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا ( اس میدان میں یہ میری پہلی کوشش تھی)،اوراس کی ایک جلد معروف ترقی پسند افسانہ نگار اقبال مجید کی خدمت میں پیش کی تھی، تو وہ مجھے یہ نصیحت کرنے سے خود کو نہیں روک پائے تھے، کہ ’’ترجمہ تمھارے شایان شان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ تم ایک اچھے شاعر اور ناول نگار ہو اور اپنی تمام تر توانائیوں کو ان ہی فنون کے لیے وقف کرنا تمھارے حق میں مفید ہوگا۔ترجمہ جیسی تیسرے درجے کی صنف میں اپنا وقت ضائع مت کرو۔‘‘اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے اکابرین ترجمے کے فن کو کس نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ اس کی بنیاد پر عوام کی نظر میںترجمے کے فن کی کیا وقعت رہی ہوگی، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بڑی حد تک یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، لیکن پہلے کے مقابلے میں اب حالات نسبتاً سازگار ہوئے ہیں۔کچھ لوگ اب اس جانب توجہ بھی دے رہے ہیں، حالانکہ اب بھی صورت حال کواطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا۔میرا اپنا ذاتی مشاہدہ یہ بھی ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ادھر جب سے ساہتیہ اکادمی جیسے موقر ادارے نے تراجم پر اعزاز دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے، کچھ لوگ محض کسی طرح اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لیے ترجمے کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ بیشتر ہندی سے اردو میں ترجمہ کرتے ہیں، جو بنیادی طور پر ایک ہی زبان کی دو شکلیں ہیں۔ دونوں کی قواعد، جملوں کی ساخت اور تہذیبی اور ثقافتی پس منظرمیں ایسا کچھ نہیں ہوتا جو اردوکے تہذیبی و ثقافتی پس منظر سے مختلف ہو۔ چنانچہ ایسے تراجم بچوں کے کھیل کی طرح ہوتے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ ایسے مترجمین کو جیسے ہی یہ اعزاز حاصل ہوجاتا ہے، وہ اس کام کو ترک کردیتے ہیں اور ایسے ادبی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، جو ان کی نظر میںترجمے سے زیادہ وقیع اور مفید ہوتے ہیں۔
(4)
ترجمہ محض زبانوں کے درمیان رابطہ نہیں بلکہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ بھی ہے۔یہ ایک زبان میں موجود خیالات، معلومات، انسانی تجربات، احساسات اورزبان کے مختلف اسالیب کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا فن ہے۔ اچھا ترجمہ صرف الفاظ کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ مفہوم، تہذیب، ثقافت اور مصنف کے طرز تحریر کی مناسب منتقلی بھی ہے۔کچھ باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو ترجمے کو بڑی حد تک کامیاب اور موثر بنایاجاسکتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ معانی کی صحت پر توجہ دی جائے، تاکہ اصل متن کا مفہوم صحیح طور پر منتقل ہو۔مترجم کو نہ تو اصل عبارت میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی اہم نکتے کو حذف کرنا چاہیے۔ اگر مفہوم میں تبدیلی آ جائے تو ترجمہ اپنا بنیادی مقصد کھو دیتا ہے۔مثال کے طور پر اگر اصل متن میں کسی واقعے، نظریے یا جذبات کا خاص انداز موجود ہو تو ترجمے میں بھی وہی انداز اورمفہوم برقرار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ اصل مصنف کے خیالات، نقطہ نظر اور مقصد کے ساتھ مکمل وفاداری قائم رہے۔چنانچہ مترجم کوحتی الامکان یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی اپنی ذاتی رائے یا تعصب ترجمے میں نہ آنے پائے۔
مترجم دراصل مصنف کے پیغام کا امین ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے دیانت داری کے ساتھ منتقل کرے۔ ایک باراس بات کو درگزر کیا جاسکتا ہے کہ مترجم ماخذکی اس زبان سے اتنی اچھی طرح واقف نہ ہو، جس سے ترجمہ کیا جانا ہے، کیونکہ اپنی اس کمی کو وہ لغات اور دوسرے ذرائع سے پورا کر سکتا ہے، لیکن اس کی اپنی یعنی ہدفی زبان میںمکمل مہارت لازمی ہے، تاکہ وہ اپنی تحریر میں الفاظ کا صحیح مقام، قواعد زبان کی پابندی اور زبان کی فصاحت و بلاغت ملحوظ رکھ سکے۔کیونکہ اس کے ترجمے کا قاری اسی زبان سے متعلق ہوتا ہے اور بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماخذی زبان سے ناواقف ہوتا ہے۔ایک کامیاب ترجمہ پڑھتے وقت قاری کو ایسا محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کوئی ترجمہ پڑھ رہا ہے۔ اسے لگنا چاہیے کہ جیسے اصل مصنف نے اپنی اس تحریر کو اسی زبان میں لکھا ہے، جو قاری کے سامنے ہے۔اس کے لیے جملوں کی ساخت، الفاظ کا انتخاب اور اندازِ بیان ہدفی زبان کے فطری استعمال کے عین مطابق ہونا چاہیے۔یعنی ترجمے میں زبان کی شستگی، صفائی، الفاظ کے مناسب در و بست،درست قواعد، مناسب محاورات اور ادبی حسن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔خاص طور پر ادبی متون میں زبان کا حسن ترجمے کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتاہے۔
ترجمے کا ایک مشکل مرحلہ اسلوب کی منتقلی ہے۔ہر مصنف کا ایک مخصوص اسلوب ہوتا ہے۔ کسی ادیب کی سادگی، طنزو مزاح ، فلسفیانہ انداز، جذباتیت یا خطیبانہ رنگ اس کی شناخت بن جاتے ہیں۔ اچھا مترجم صرف مفہوم ہی نہیں بلکہ اسلوب کو بھی منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً شاعرانہ نثر کا ترجمہ خشک اور سادہ انداز میں کر دیا جائے تو اصل متن کاتاثرمجروح ہو جاتا ہے۔ ایک اور مشکل یا یوں کہیے کہ سب سے مشکل مرحلہ تہذیبی بعد ہے۔زبان اور ثقافت کا گہرا تعلق ہے۔بہت سے الفاظ، محاورات اور علامات کسی خاص تہذیب سے وابستہ ہوتے ہیںاور دوسری زبان کے لیے یہ شناسا نہیںہوتے۔چنانچہ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ثقافتوں کا اچھا واقف کار ہو، تاکہ وہ الفاظ کے متبادل کے طور پر مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرسکے۔ مغربی زبانوں کی تہذیب و ثقافت ان کے اپنے مقامی رواجوں اور روایتوں کا عکاس ہوتا ہے، جو ضروری نہیں کہ ہدفی زبان کی تہذیب و ثقافت سے مطابقت رکھتی ہو۔مترجم کی اصل آزمائش یہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیان کردہ باتوں کو وہاں کے تہذیبی میلانات کے ساتھ سمجھے۔ اگر وہ اپنی زبان میں اسے اسی طرح منتقل کردیتا ہے، تو اس کا قاری اجنبیت محسوس کرسکتا ہے۔اس کے لیے نہایت احتیاط سے الفاظ کے متبادل منتخب اور تلاش کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں حواشی کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے، تاکہ قاری اس فرق کو سمجھ سکے جو دونوں زبانوں کے ثقافتی پس منظر کا زائیدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ابتدائی زمانے میں جب مجھے میرے پبلشر نے ایملی برانٹے کے ناول ’وُدرنگ ہائٹس‘ (Wuthering-Heights) کے ترجمے کی فرمائش کی، تو تمام لغات کھنگالنے کے باوجود مجھے ’ودرنگ‘ کا مفہوم نہیں مل سکا۔ لغات میں یہ لفظ ملا بھی تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ ایملی برانٹے کے ناول کے نام کا ایک حصہ ہے۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ لفظ دراصل لندن کے مضافاتی دیہاتوں کا مقامی لفظ ہے۔نتیجتاًمیں نے اس ناول کے ترجمے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ہر زبان کا استعاراتی نظام وہاں دستیاب ان اشیاپر استوار ہوتا ہے، جنھیں یا جن کے بارے میںعام طور پر لوگ سمجھتے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہدفی زبان کی ثقافت اس سے مطابقت رکھے۔ مثال کے طور پر خطہ عرب میں ریگزار اورپانی کے چشموں کی اپنی ادبی اہمیت ہے۔ چنانچہ وہاں کی بیشتر تشبیہات اس کی بنتی بگڑتی شکلوں سے مستعار ہوسکتی ہیں۔اس کے لیے ’سبعہ معلقات‘کے قصائد بہترین مثال ہیں۔ ہدفی زبان اگر ریگستان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتی تو قاری کے لیے انھیں سمجھنا دشوار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی تشبیہات میں ہدفی زبان کا فکری پس منظر مختلف ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر روس کے مختلف علاقوں میں محبوب کو اکثر آہنی پائپوں سے تشبیہ دی گئی ہے یا یورپ کے بیشتر حصوں میں محبوب کو بلی سے تشبیہ دینا عام ہے۔ یہ دونوںصورتیںہندوستان میںمعیوب سمجھی جاسکتی ہیں، کیونکہ یہ دونوں اس خطے میں حسن کے مظہر کے طور پر مستعمل نہیں ہیں۔ چنانچہ مترجم کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس کے لیے حاشیے کا اہتمام کرے اور واضح کرے کہ اس سلسلے میں اصل زبان کا ثقافتی پس منظر کیا ہے۔
ترجمہ بہر صورت واضح اور قابل فہم ہونا چاہیے۔اسے ایسا ہونا چاہیے کہ قاری کو بغیر کسی خاص مشقت کے آسانی سے سمجھ میں آجائے۔مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترجمے کے عمل کے دوران اپنے علم و فضل کی نمائش سے گریز کرے۔ اگر اصل متن پیچیدہ ہو تو مترجم اس کی پیچیدگی کو برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن کوشش کی جانی چاہیے کہ اس عمل میںغیر ضروری ابہام یا الجھاو پیدا نہ ہو۔جیسا کہ ذکر کیا گیا،ہر زبان کے اپنے محاورے اور روزمرہ کے مخصوص انداز ہوتے ہیں۔ لفظی ترجمہ ایسی صورت میں اکثر غلط یا مضحکہ خیز ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مترجم کو متبادل کے طور پرہدفی زبان کے مناسب محاورات استعمال کرنے چاہیے۔مثلاً انگریزی کا ایک محاورہ ہے، A Blessing in disguise۔ اس کا اگر لفظی ترجمہ کیا گیا تو وہ ’بھیس میں چھپی نعمت‘ جیساہوگا، لیکن زیادہ موزوں ہوگا کہ اس کا ترجمہ ’بظاہر نقصان رساں مگر حقیقتاً مفید‘کیا جائے۔ ترجمے کی نوعیت اس کے مقصد کے مطابق ہونی چاہیے۔ قانونی، سائنسی، مذہبی، صحافتی اور ادبی متون کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک ہی اصول کو ہر قسم کے متن پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ سائنسی، فنی، طبی اور قانونی متون میں اصطلاحات کی درست ترجمانی نہایت ضروری ہے۔ ایک اصطلاح کا غلط ترجمہ پورے متن کا مفہوم بدل سکتا ہے۔اس کے ساتھ اختصار و جامعیت کا توازن برقرار رکھنا بھی مترجم کی ذمہ داری ہے، لیکن اختصار کے نام پر مفہوم کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ کامیاب ترجمہ جامع بھی ہوتا ہے اور مناسب حد تک مختصر بھی۔ ایک ضروری امر یہ بھی ہے کہ ترجمہ کرتے وقت ہدفی زبان کے قاری کواور اس کی اہلیت کوپیش نظر رکھنا چاہیے، جس کے لیے یہ ترجمہ کیا جارہا ہے۔ظاہر ہے بچوں، طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے ترجمے کے انداز اور زبان میں فرق ہو سکتاہے، کیونکہ ان کی قوت فہم یکساں نہیں ہوسکتی۔
(5)
ترجمے کے لیے موجودہ عہد کوکئی حوالوں سے منفرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ سب سے نمایاں خصوصیت گلوبلائزیشن ہے، جس نے دنیا کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکھڑا کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف معاشی بلکہ ثقافتی اور لسانی سطح پر بھی تبادلے میں اضافہ ہوا ہے۔ڈیجیٹل انقلاب نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور آن لائن لائبریریوں نے دنیا بھر کے علمی و ادبی ذخیرے کو ایک کلک کی دوری پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں ترجمے کی حیثیت ایک پل کی ہو گئی ہے، جو مختلف زبانوں کے قارئین کو ایک دوسرے کے فکری سرمایے سے روشناس کراتا ہے۔اس طرح، زبانوں کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں۔ لوگ ایک سے زیادہ زبانیں سیکھ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود ترجمے کی ضرورت ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے۔گلوبلائزیشن نے زبانوں کے درمیان تعلق کو ازسرِ نو متعین کیا ہے۔ انگریزی ایک عالمی زبان کے طور پر ابھری ہے،دیکھا جائے تو دنیا بھر کی زبانوں کے اولین تراجم انگریزی میں ہوتے ہیں۔بیشتر یہی تراجم اردو کے لیے ماخذ کا کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر زبانوں، بشمول اردو، کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔حالانکہ ڈیجیٹل عہد میں ’معلوماتی جمہوریت‘نے علم تک رسائی کو عام کر دیا ہے، لیکن یہ رسائی اکثر زبان کی رکاوٹ سے مشروط ہوتی ہے۔ یہاں ترجمہ ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح اس عہد میں ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی مختلف ثقافتیں ایک دوسرے میں مدغم ہورہی ہیں اور ترجمہ اس عمل کا ایک فعال حصہ ہے۔
اردو میں ترجمے کی روایت اگرچہ قدیم ہے، لیکن عصرِ حاضر میں اس میں ایک نئی تیزی دیکھنے میں آتی ہے۔ عالمی ادب، خصوصاً انگریزی،جاپانی، فرانسیسی، روسی اور لاطینی امریکی ادب کے تراجم اردو میں بڑی تعداد میں ہو رہے ہیں۔ ناول، افسانہ، شاعری اور ڈرامہ سبھی اصناف میں ترجمے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔فلسفہ، سماجیات، نفسیات اور سائنس جیسے موضوعات پر بھی اردو میں تراجم ہو رہے ہیں، اگرچہ اس میدان میں ابھی بہت گنجائش باقی ہے۔ مغربی مفکرین جیسے افلاطون،کانٹ، ہیگل، نطشے اور اسپنوزا کے افکار اردو میں منتقل ہو رہے ہیں، جو اردو قارئین کے فکری افق کی وسعت کا سبب بن سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ، برصغیر کی دیگر زبانوں،جیسے ہندی، بنگالی، پنجابی اور تمل سے بھی اردو میں تراجم کیے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف لسانی بلکہ ثقافتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
اردو میں ترجمے کی موجودہ صورتِ حال کو تین بڑے زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ادبی تراجم یعنی ناول، افسانہ، شاعری اور ڈرامے کے تراجم میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ روسی، فرانسیسی اور لاطینی امریکی ادب کے تراجم اردو قارئین میں انتہائی مقبول بھی ہورہے ہیں۔ فکری و فلسفیانہ تراجم، حالانکہ ابھی خاطر خواہ رفتار نہیں پکڑ سکے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں بہتری آئی ہے۔اسپنوزا، کانٹ، نطشے،ہیگل اور فوکو جیسے مفکرین کے تراجم سامنے آئے ہیں اور جہاں تک سائنسی و تکنیکی تراجم کا تعلق ہے،یہ سب سے زیادہ نظر انداز شدہ شعبہ ہے۔ سائنسی اصطلاحات کی عدم دستیابی اور مترجمین کی کمی اس کی بڑی وجوہ ہیں۔
ہمارے عہد میں ٹیکنالوجی نے ترجمے کے عمل کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ مشینی ترجمہ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سافٹ ویئرز نے دیگر زبانوں کی طرح اردو میں بھی ترجمے کو تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ گوگل ٹرانسلیٹ جیسے آلات فوری ترجمہ فراہم کرتے ہیں، جو عمومی فہم کے لیے مفید ہوتا ہے۔تاہم، مشینی ترجمہ ابھی تک انسانی مترجم کا متبادل نہیں بن سکا۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہ زبان کے اسلوبی، ثقافتی اور جذباتی پہلوؤں کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے۔ ادبی متون کے ترجمے میں ، جہاں مجازی اظہار لازم ہوتا ہے،یہ کمی خاص طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود، ٹیکنالوجی مترجمین کے لیے ایک معاون ذریعہ بن چکی ہے اور اس سے استفادہ کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیںہے۔لیکن اس طرح کے تراجم پر مکمل انحصار ایک نئی طرح کی گمراہی کو راہ دے سکتا ہے۔کسی حد تک علمی متون میں اس سے کام چلایا جاسکتا ہے لیکن ادبی متون کے ترجمے میں یہ کمی خاص طور پر نمایاں ہو جاتی ہے،لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آن لائن لغات اورڈیجیٹل لائبریریوں کی وجہ سے مترجم کا کام آسان ہوا ہے اور ان کی مدد سے وہ اپنا کافی وقت بچا سکتا ہے۔
(6)
ترجمے کے اپنے مسائل ہیں، جوضروری نہیںہے کہ ادب کی دیگر اصناف میں پیش آنے والے مسائل سے مماثلت رکھتے ہوں۔یہاںانھیں اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میرا تجربہ انگریزی سے اردو میں ترجمے تک محدود ہے اور میری گفتگو اسی دائرے میںہوگی۔ دوسری زبانوں سے ترجمے میں بھی کم و بیش یہی مسائل ہوسکتے ہیں ،لیکن اکثر مسائل ان سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔
انگریزی سے اردو ترجمے میں سب سے بڑا مسئلہ مناسب الفاظ کے انتخاب کا ہوتا ہے۔ بہت سے انگریزی الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے اردو میںکوئی ایک ایسا لفظ موجود نہیں ہوتا، جو اس کے تمام معانی کا احاطہ کر سکے۔مثال کے طور پرPrivacy کا اردو متبادل ’نجی زندگی کا تحفظ‘ یا ’خلوت‘ ہو سکتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی لفظ مکمل طور پر انگریزی مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرحAccountability کے لیے ’جوابدہی‘ استعمال کیا جاتا ہے، مگر بعض مواقع پر اس کا مفہوم زیادہ وسیع ہوتا ہے۔بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں، جن کے متعدد معانی ہوتے ہیں اور مترجم کو سیاق و سباق کے مطابق درست معنی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔مثلاً انگریزی کے لفظ Bank کو لیجیے۔جس کے معنی’مالی لین دین والابینک‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’دریا کا کنارا‘ بھی۔ ظاہر ہے اگر سیاق نظر انداز ہوگیا تو مفہوم کچھ کا کچھ اور مضحکہ خیزہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان میں ایک ہی مفہوم کے لیے کئی الفاظ استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کے استعمال میں باریک فرق ہوتا ہے۔ اردو میں ان تمام الفاظ کے لیے اکثر ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر انگریزی کے ‘House’ اور ‘Home’ کے لیے اردو میں صرف ’گھر‘کا استعمال ہوتا ہے، لیکن انگریزی میں ’ہاوس ‘سے عمارت مراد ہوتی ہے، جب کہ ’ہوم‘ جذباتی وابستگی اور سکون کے احساس کا اظہار بھی کرتا ہے۔انگریزی کے بعض الفاظ ایک سے زیادہ معانی رکھتے ہیںاور مترجم کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ مخصوص جملے سے کون سا مفہوم مراد ہے۔مثال کے طور پر’Head’ کے ممکنہ معانی، ’سربراہ‘ اور’ سر‘دونوں ہوتے ہیں۔بعض الفاظ مخصوص ثقافت سے وابستہ ہوتے ہیں اور دوسری زبان میں ان کا براہ راست متبادل نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر’Thanks-giving’ کا ترجمہ کرتے وقت مترجم کو وضاحت شامل کرنی ہوگی کہ ’یوم شکرگزاری‘ امریکہ کی ایک قومی تعطیل کا دن ہے۔یہاں صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں بلکہ اس کے ثقافتی پس منظر کی جھلک دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔اس طرح کی متعدد مثالیں اور بھی پیش کی جاسکتی ہیں، جو مترجم کے لیے پریشانی کا باعث ہوسکتی ہیں۔
انگریزی میں کثیر المعانی الفاظ کا بڑا ذخیرہ ہے۔ اردو میںبعض الفاظ بظاہران کے مترادف ہوتے ہیں لیکن ان کے استعمال اور مفہوم میں باریک فرق پایا جاتا ہے۔(یہاں اردو کی کم مائیگی کی بات مناسب نہیں، کیونکہ اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرتے وقت بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے) مثلاً ‘Look’ (نظر آنا)، ‘See’ (دیکھنا) اور ‘Watch’ (غور سے دیکھنا)۔ شاید ان الفاظ کا جملوں میں استعمال اس بات کو زیادہ واضح کر سکے۔ جیسے ‘I can see a bird’، ‘Look at the board’ اور ‘Watch the match carefully’۔ اگر تینوں کا ترجمہ صرف ’دیکھنا‘ کردیا جائے گا تو معنی کا یہ فرق ختم ہوجائے گا۔انگریزی کی معنوی وسعت اور تنگی دونوں مترجم کے لیے زبردست آزمائش بن کر سامنے آتی ہے۔بعض الفاظ انگریزی میں وسیع ترمفہوم رکھتے ہیں، جب کہ دوسری زبان میں ان کا مفہوم محدود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ‘Uncle’ چچا، تایا، ماموں، خالو سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اردو میں رشتوں کی تفریق ضروری ہے۔ اسی طرح ‘Cousin’ اردو میں چچازاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد الگ الگ رشتوں کے نام ہیں۔ اس لیے مترجم کو سیاق کے اعتبار سے ایک ہی کتاب میں کہیں چچازاد، کہیں ماموں زاداور کہیں خالہ زاد استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔بعض الفاظ محض لغوی معنی ہی نہیں رکھتے بلکہ ان میں جذباتی اور ثقافتی تاثر بھی وابستہ ہوتا ہے۔بعض جملوں میں ابہام پایا جاتا ہے اور ایک سے زیادہ معنی نکل سکتے ہیں۔مثلاً یہ جملہ ‘Visiting relatives can be boring’کے ممکنہ معنی رشتہ داروں سے ملنے جانااکتاہٹ بھراہوسکتا ہے۔یا ملنے آنے والے رشتہ دار ہمیں اکتاسکتے ہیں۔ مترجم کو سیاق و سباق کی مدد سے مطلوب معنی متعین کرنا پڑتاہے۔یہی کیفیت مجازی اور حقیقی معنی میں ہوتی ہے۔ادبی متون میں الفاظ اکثر مجازی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، مثلاً’The city never sleeps’ کا لفظی ترجمہ’’شہر کبھی نہیںسوتا اور مفہومی ترجمہ ’شہر ہمہ وقت سرگرم رہتا ہے‘ ہوسکتا ہے۔مجازی معنی کو نہ سمجھنے سے ترجمہ غیر فطری ہو سکتا ہے۔ معنی کا تعین اکثر سیاق و سباق سے ہوتا ہے۔مثلاً ‘Run’کے مختلف معانی He run fast’، (وہ تیزی سے دوڑتا ہے)، ‘She runs a company’ (وہ ایک کمپنی چلاتی ہے)، ‘The machine is running’ (مشین چل رہی ہے)۔ یہاںایک ہی لفظ مختلف معنوی صورتیں اختیار کر رہا ہے۔ بعض الفاظ میںمعنی کے ساتھ جذبات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ‘Die’، جس کا عام ترجمہ مرجانا ‘Pass away’ کا ترجمہ انتقال کرجانا، ‘Martyred’ شہید ہونا ہوتا ہے۔ اگر مترجم جذباتی سطح کو نظر انداز کرتا ہے تو متن اپنا اثر کھو سکتا ہے۔
ایک مسئلہ جملوں کی ساخت کا ہے۔ ظاہر ہے اردو اور انگریزی میں جملوں کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔ انگریزی میں فعل فاعل کے فوراً بعد آتا ہے، جب کہ اردو میں آخر میں۔ چھوٹے جملوںمیں یہ مسئلہ زیادہ پریشان نہیں کرتا، لیکن جب جملے طویل اور کئی ٹکڑوںمیں ہوتے ہیں، تو مترجم کو کافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اردو میں انگریزی کے بڑے جملوں کو اردو میں چھوٹے چھوٹے کئی جملوں میں منقسم کرلیاجائے۔
محاوروں کا مسئلہ بھی ہے، جو کسی بھی زبان میں اظہار کا ایک موثر وسیلہ ہوتے ہیں اور ان کا لفظی ترجمہ اکثر مضحکہ خیز یا بے معنی ہو جاتا ہے۔کسی بھی زبان میں محاوروں کی پیدائش استعاروں کے کثرت استعمال سے پامال ہوجانے کے بعد ہوتی ہے۔چونکہ اب وہ مخصوص استعارہ عام طور پر استعمال نہیں ہورہا ہوتا ، اس لیے انھیں محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگتا ہے۔مثال کے طور پر’To spill the beans’ کا لفظی ترجمہ ’پھلیاں گرا دینا‘ ہوتا ہے، لیکن اس کا اصل مفہوم ’راز فاش کردینا‘ ہے۔ بعض الفاظ محاوراتی مفہوم رکھتے ہیں، جن کا لفظی ترجمہ ممکن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر’Break the ice’ جس کا لفظی ترجمہ برف توڑنا درست نہیں ہوسکتا،کیونکہ اس کا اصل مفہوم ’گفتگو یا تعلقات کی از سر نو تجدید ‘ہوتا ہے۔محاوروں کا استعمال ہی اسی لیے کیا جاتا ہے کہ یہ وسیع تر مفہوم کو کم الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس میں الفاظ کبھی لغوی معنی میں استعمال ہی نہیں ہوتے۔ چنانچہ مترجم کے لیے پہلا مرحلہ ان محاوروں کی شناخت کا ہوتا ہے، اس کے بعداردو میں ایسے محاورے کی تلاش، جو وہی مفہوم رکھتا ہوکم دشوار نہیں ہے۔چنانچہ اکثر مترجم کو ایسی تراکیب کے اختراع کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس محاورے کے مفہوم کی مناسب ادائیگی کرسکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوسکے تومحاورے میںمستعمل الفاظ کا ترجمہ کرنے کے بجائے اس کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ایک پورا جملہ لکھا جائے۔ زبان اور ثقافت کا تعلق کتنا گہرا ہوتا ہے، یہ ہم جانتے ہیں۔ انگریزی میں بعض الفاظ، رسوم، تہوار اور معاشرتی تصورات ایسے ہوتے ہیں جن کا اردو ثقافت میں راست متبادل موجود نہیں ہوتا، اس لیے وضاحتی ترجمہ ضروری ہو جاتا ہے۔
انگریزی میں بعض خیالات مختصر الفاظ میں بیان ہوجاتے ہیں، جب کہ اردو میںان کی وضاحت کے لیے زیادہ الفاظ درکار ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر ‘Sustainable- Development’ اردو میں پائیدار ترقی ہے۔اس کی مزید وضاحت ضروری ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس اردو کے بعض الفاظ یا تراکیب کا انگریزی میں ترجمہ طویل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ مترجم کو اختصار اور وضاحت کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔اردو میں اسما اور افعال پر مذکر و مونث کا اثر نمایاں ہوتا ہے، جب کہ انگریزی میں یہ مسئلہ نسبتاً کم ہے۔مثال کے طور پر ‘The teacher came’ ، اگر جنس معلوم نہ ہوتو اردو مترجم کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ استاد آیا یا استانی آئی، سیاق و سباق کی مدد سے مناسب شکل کا انتخاب ضروری ہے۔
مترجم کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ لفظی ترجمہ کرے یا مفہومی (آزاد)۔ لفظی ترجمہ بعض اوقات اصل الفاظ محفوظ رکھتا ہے لیکن اس سے مفہوم متاثر ہو جاتا ہے، جب کہ آزاد ترجمہ مفہوم کو بہتر انداز میں منتقل کرتا ہے ،مگر اصل ساخت سے دور ہو سکتا ہے۔مترجم کو موقع اور متن کی نوعیت کے مطابق مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
(7)
عصرِ حاضر میں اردو تراجم کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ عالمی سطح پر اردو زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جو معیاری تراجم کی متلاشی ہے۔نئی نسل کے مترجمین، جو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں، اس میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر انھیں مناسب تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اردو تراجم کے معیار کو عالمی سطح تک لے جا سکتے ہیں۔اس سلسلے میںجامعات،علمی وتحقیقی ادارے، انجمن ترقی اردو، اردو اکادمیاں اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے ادارے بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ترجمے کو ایک باقاعدہ علمی شعبے کے طور پر فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی سطح پر ادبی مکالمے میں اردو کی شمولیت بھی ترجمے کے ذریعے ممکن ہے۔ اردو ادب کو دوسری زبانوں میں اور دیگر زبانوں کے ادب کو اردو میں منتقل کر کے ایک صحت مند ادبی تبادلہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
مختصراً یہ کہ ترجمہ زبانوں کے درمیان محض ایک فنی عمل نہیں بلکہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک زندہ مکالمہ ہے۔ جب کوئی مترجم ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے تو وہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں کرتا بلکہ ایک پورے فکری، تہذیبی اور تاریخی تجربے کو نئے لسانی سانچے میں ڈھالتا ہے۔ اسی لیے ترجمہ انسانی تمدن کی تشکیل میں ہمیشہ ایک بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یونان کے علوم کا عربی میں انتقال، عربی علمی سرمایے کا یورپ تک پہنچنا اور جدید مغربی افکار کا مشرقی زبانوں میں ترجمہ ہونا، یہ سب انسانی تاریخ کے وہ سنگِ میل ہیں جنھوں نے اقوام کی فکری سمت متعین کی ہے۔عصرِ حاضر میں جب دنیا جغرافیائی حدود سے زیادہ علمی اور معلوماتی روابط کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہے، ترجمے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ آج علم کی پیداوار چند زبانوں تک محدود نہیں رہی اور نہ ہی کسی ایک تہذیب کو فکر و دانش کی اجارہ داری حاصل ہے۔ ایسے میں ترجمہ مختلف تہذیبوں کے درمیان افہام و تفہیم، احترامِ باہمی اور فکری اشتراک کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔ یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جو زبانوں کو قریب، ثقافتوں کو مانوس اور انسانوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے آشنا کرتا ہے۔
اردو زبان کے تناظر میں ترجمہ محض ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور علمی ضرورت ہے۔ اگر اردو کو عصرِ حاضر کے علمی مباحث میں فعال کردار ادا کرنا ہے تو اسے دنیا بھر میں پیدا ہونے والے نئے علوم، نظریات اور تحقیقات سے مسلسل رشتہ استوار رکھنا ہوگا۔ اسی طرح اردو کے ادبی اور فکری سرمائے کو دوسری زبانوں تک پہنچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ حقیقی علمی تبادلہ یک طرفہ نہیں ہوتا ۔ جو زبان صرف دوسروں سے اخذ کرتی ہے اور اپنے سرمایہ علم کو دوسروں تک نہیں پہنچاتی، وہ عالمی فکری مکالمے میں اپنا موثر مقام برقرار نہیں رکھ سکتی۔ مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمے کے فروغ نے ترجمے کے امکانات کو غیر معمولی وسعت عطا کی ہے، لیکن زبان کی تہذیبی روح، اس کی جمالیاتی لطافت اور معنوی تہ داری اب بھی انسانی شعور ہی کی محتاج ہے۔ مستقبل میں کامیاب ترجمہ غالباً انسان اور مشین کے اشتراک سے وجود میں آئے گا، مگر اس کی سمت متعین کرنے والی قوت بہرحال انسانی فہم، تنقیدی بصیرت اور تخلیقی حس ہی ہوگی۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ محض ایک لسانی ضرورت ہی نہیں ، ایک تہذیبی فریضہ ہے۔ اردو تراجم کا فروغ دراصل اردو زبان کے علمی افق کو وسیع کرنے، اسے عالمی فکری دھارے سے مربوط رکھنے اور انسانی تجربے کی مشترکہ میراث میں اس کے فعال حصہ داری کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے۔ جب تک زبانیں ایک دوسرے سے سیکھتی اور ایک دوسرے کو سمجھتی رہیں گی، ترجمہ انسانی تہذیب کے ارتقا کا ایک ناگزیر اور زندہ محرک بنا رہے گا۔


Prof. Yaqoob Yawar
S-2/410/A-1-K, Ta’beer,
Patrakarpuram Colony, Gilat Bazar
Varanasi- 221002 (India)
Mobile : 919452828524
yaqoobyawar@rediffmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دوارکا پرشاد افق لکھنوی کی شاعری – مضمون نگار: آصف پرویز

  ہما ری مشترکہ تہذیب کے علمبردار اور عہد ساز شعرا، جنھوں ں نے افق ادب پر چمک کر ایک عہد کو چونکا دیا ان میں ایک نما یا ں

وہ گیا جس سے بزم روشن تھی: شبیر احمد لون

پروفیسر ابن کنول جن کا اصل نام ناصر محمود کمال اور قلمی نام ابن کنول ہے،کی پیدائش 15اکتوبر 1857 کوضلع مراد آباد کے قصبہ بہجوئی میں ہوئی۔ان کے اجداد مغلیہ

مصنوعی ذہانت اور ہمارا شعور،مضمون نگار: محمد جہاں گیر وارثی

 ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2024 آرٹیفیشیل اینٹیلی جنس  (Artificial Intelligence) جسے ہم مصنوعی ذہانت بھی کہتے ہیں۔ دراصل کمپیوٹر سائنس کی وہ ترقی یافتہ اور ایڈوانسڈ شاخ ہے جس کا