تلخیص
ترجمہ نگاری کی روایت بہت قدیم اور مستحکم ہے۔ اردو زبان و ادب کی توسیع اور اشاعت میں بھی تراجم کا کلیدی کردار رہا ہے۔ دکنی (اردوئے قدیم) میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہمیں فارسی کی مشہور اورمقبول بے شمار مثنویوں اور چند نثری کاوشوں کے اردو تراجم کے بارے میں مفید معلومات ملتی ہے۔ یہ تراجم انفرادی کوششوں کے نتائج تھے جنھیں عام قارئین نے پسند کیا تھا۔ اردو میں منصوبہ بند ترجمہ نگاری کا آغاز 1800 سے شروع ہوتاہے جب کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں انگریز ملازمین کی تعلیمی /نصابی ضروریات کے لیے فارسی سے مشہور کتابوں کے تراجم کیے گئے۔ حیدرآباد کے شمس الامرا نے 1825 میں دارالترجمہ قائم کیا جہاں مغربی علوم کو اردو میں منتقل کیا گیا تاکہ مدرسوں کے نصاب میں انھیں شامل کیا جاسکے۔ اردو زبان کی توسیع و اشاعت میں دہلی کالج اور ’ورناکیولرسوسائٹی‘کی خدمات بھی سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں جہاں جدید یورپ کے متعدد علوم و فنون کی کتابوں کو نصابی ضروریات کے تحت اردو کا قالب عطا کیا گیا۔ ’ورناکیولرسوسائٹی‘ نے بے شمار کتابیں شائع کی ہیں۔ سرسیداحمدخان نے بھی سائنٹفک سوسائٹی اس مقصد کے تحت قائم کی تھی کہ اردو میں جدید یورپی علوم و فنون کا ترجمہ کیا جائے۔ یہاں اچھی تعداد میں کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ ریاست حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ اور سررشتہ تالیف و ترجمہ کے قیام سے علم وادب میں قابل ستائش پیش رفت ہوئی۔ جامعہ عثمانیہ کا ذریعۂ تعلیم اردو تھا اس لیے نصابی کتب کی فراہمی کے لیے دارالترجمہ عثمانیہ نے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ یہاں تقریباً 369کتابیں ترجمہ اور تالیف کی گئیں۔ مختلف علوم و فنون کی 35000 اصطلاحیں وضع کی گئیں۔ دارالترجمہ میں 129 تنخواہ دار مترجمین ملازم تھے۔ یہاں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، فارسی اور عربی کے مختلف علوم و فنون کے تراجم نے اردو ادب کی توسیع و اشاعت میں کلیدی کردار اداکیا ہے۔ شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ نے بھی بعض اردو تراجم شائع کیے ہیں۔ دہلی میں کچھ ادارے ترجمہ نگاری کے میدان میں بہت فعال ہیں : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا اور مرکزی ساہتیہ اکادمی۔ ان اداروں کی جانب سے بے شمار علمی و ادبی اور دیگر علوم کی کتابوں کے اردو تراجم ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے اردو زبان کا دامن وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔
کلیدی الفاظ
عربی ، فارسی اور ترکی، دکن، محمد قلی قطب شاہ، شیرازی، غواصی، ابن نشاطی، سب رس، شمائل الاتقیا، خاورنامہ، تشبیہات و استعارات، صنمیات و رمزیات، فورٹ ولیم کالج کلکتہ، حیدرآباد، ڈاکٹر جان گلکرسٹ، دارالترجمہ، نواب نصیرالدین حیدر شاہ، قدیم دہلی کالج، مدرسہ غازی الدین خان، فیلکس بوتروس، مولوی عبدالحق، مرحوم دہلی کالج، سیداحمد دہلوی، علی گڑھ سائنٹفک سوسائٹی، سررشتہ تالیف و ترجمہ، جامعہ عثمانیہ، دارالمصنفین۔
————
ترجمہ ایک متحرک قوت ہے جو نہ صرف ترسیل و ابلاغ کے خلا کو پُر کرتی ہے بلکہ زبانوں کی تشکیل اور نشوونما کرتے ہوئے مختلف سماجی گروہ کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ نگاری کی روایت بہت قدیم اور مستحکم ہے۔ اردو زبان و ادب کی توسیع و اشاعت اور ہمہ گیر ترقی میں بھی تراجم نے افادی، کلیدی اور بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے معاشرتی زندگی میں بھی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں کے علمی و ادبی ذخائر کو اردو میں منتقل کرنے سے اردو قارئین کوایسے علوم و فنون تک رسائی حاصل ہوئی جو پہلے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ یورپ کی نئی ادبی تحریکات اور جدید رجحانات سے ہم تراجم کے ذریعے ہی روشناس ہوئے۔ تراجم نے اردو زبان و ادب میں نئے الفاظ، نئی تراکیب، اصطلاحات، اظہار کے نئے زاویے عطا کیے، جس کے سبب اردو نہ صرف ثروت مند ہوئی بلکہ ایک بین الاقوامی زبان بنی۔ جدید تعلیمی نظام کی تشکیل بھی تراجم کی مرہونِ منت ہے۔ اردو زبان کی یہ ہمہ گیر ترقی اور تنوع پلک جھپکتے وجود میں نہیں آئے بلکہ اس کی پشت پر صدیوں کی انفرادی اور منصوبہ بند کوششیں مسلسل کارفرما رہی ہیں۔
ہندوستان کے عہدوسطیٰ کی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس ملک میں زبانوں کا منظرنامہ متنوع اور ارتقا پذیر تھا۔ سنسکرت اور پراکرت کے اثرات سے ہند آریائی زبانیں پھل پھول رہی تھیں۔ برج بھاشا، اودھی، میتھلی، پنجابی، ہریانوی ،راجستھانی اور دیگر مقامی زبانوں نے مسلمانوں کی آمد کے بعد عربی ، فارسی اور ترکی زبانوں کے اثرات قبول کیے اور ایک نئی زبان اردوکا آغاز ہوا جو اپنے ابتدائی اور تشکیلی دورمیں ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دکنی اور ریختہ جیسے ناموں سے منسوب ہوئی۔ لیکن یہ عوام کی زبان تھی جب کہ شاہی درباروں میں فارسی کا طوطی بول رہا تھا۔ وسط ایشیا سے آنے والے نوواردان کے ساتھ فارسی کی مختلف اصناف سخن بھی معاشرے میں متعارف ہورہی تھیں لیکن عامۃ الناس تک ان کی رسائی نہیں تھی اور ردِعمل یہ تھا کہ ’’افسوس ہمیں فارسی نہیں آتی۔ فارسی میں کیسی کیسی چیزیں ہیں ، اگر ہماری زبان میں ہوتیں تو اچھاہوتا۔ عوام الناس کی اس حسرت اور رجحان کے ساتھ سب سے پہلے دکنی میں تراجم کا آغاز ہوا اور فارسی تہذیب اردو تہذیب میں ڈھلنے لگی۔‘‘1؎
دکن میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں فارسی کی شعری اورنثری تخلیقات کے تراجم کا آغاز ہوا۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ (پیدائش 1565 وفات 1612) ایک قادرالکلام شاعر تھا جس نے خواجہ حافظ شیرازی کی بعض غزلوں کا دکنی میں منظوم ترجمہ کیا۔ قطب شاہی عہد کے معروف شاعر غواصی نے تین فارسی مثنویوں کا دکنی میں ترجمہ کیا جن میں ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ (1616) ، ’چندا اور لورک یا میناوستونتی‘ (1616)، اور ’طوطی نامہ‘ (1639) شامل ہیں۔ محمدبن احمد عاجز نے ہاتفی کی فارسی مثنوی ’لیلیٰ مجنوں‘ کا ترجمہ کیا۔ ابن نشاطی نے فارسی قصہ ’بساتین‘ کا ترجمہ ’پھول بن‘ کے نام سے 1665 میں کیا۔ میران جی خدانما نے امام غزالی کے بھائی شیخ احمد کی تصنیف ’شرح تمہیدہمدانی‘ کا اور اسداللہ وجہی نے ’سب رس‘ کے نثری تراجم پیش کیے۔ مشہور صوفی بزرگ برہان الدین غریبؒ اورنگ آبادی کی ’شمائل الاتقیا‘ کا ترجمہ 1667 میں میراں یعقوب نے مکمل کیا۔2؎ 1648 میں کمال خان رستمی نے ابن حسام کی فارسی مثنوی ’خاورنامہ‘ کا اورشغلی نے کسی فارسی کتاب ’پندنامہ‘ کے دکنی میں ترجمے کیے۔ محمد عادل شاہ (1627-1656) کی فرمائش پرملک خوشنود نے امیرخسروکی ’یوسف زلیخا‘ اور ’ہشت بہشت‘ کو فارسی سے دکنی کالباس عطا کیا۔ ابن حسام نے 1426 میں لکھی مثنوی ’بہرام و حسن بانو‘ کا ترجمہ امین نے کیا۔ شیخ محمودالحق خوش دہان نے فارسی رسالہ ’معرفت السلوک‘ کا ترجمہ کیا۔ ہم 1718 میں پہنچتے ہیں توہمیں وجیہ الدین وجدی کی پنچھی باچھا اور ’تحفۂ عاشقاں‘ کا تعارف ہوتا ہے جو بالترتیب فرید الدین عطار کی مثنوی ’منطق الطیر‘ اور ’گل و ہرمز‘ کے تراجم ہیں۔ فتح شریف متخلص بہ فتح کی دو مثنویاں ’زلیخاثانی‘ اور ’پندنامۂ لقمان‘ (1717) فارسی سے ترجمہ ہوئی ہیں۔ میرفیاض علی ولی ویلوری نے ملاحسین واعظ الکاشفی کی فارسی ’روضۃ الشہدا‘ کا (1724) میں اور ’روضۃ النوار‘ کے تراجم کیے۔3؎
ان کے علاوہ اور بھی کئی فارسی اور عربی علمی کتابوں کے دکنی اردو میں تراجم ہوئے ہیں۔ اس سے انکار نہیںکہ ان بے شمار انفرادی تراجم نے اردو زبان اور اس کے ادب میں گراں مایہ اضافہ کیا۔بقول جمیل جالبی ’’ترجموں نے اردو ادب کی ہندوی روایات کو فارسی تہذیب، اس کے طرزِاحساس اور روایت سے اس طورپر پیوست کردیا کہ نئی ہند۔ایرانی تہذیب وجودمیں آئی۔ زبان کو وسعت عطاہوئی، فارسی اسلوب، اوزان و بحور، اصناف، تشبیہات و استعارات، صنمیات و رمزیات دکنی پر حاوی ہوگئے اور زبان کا جدید اسلوب سامنے آیا۔‘‘4؎
اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں دکن کی طرح شمالی ہند میں بھی تراجم ہوئے لیکن ان کی تفصیلات نہیں ملیں۔ ایک بات طے ہے کہ دکنی اردو میں جو تراجم ہوئے، وہ انفرادی نوعیت کے تھے اس کے باوجود ان کے دوررس نتائج دکنی اردو پر اثرانداز ہوئے۔ اردو میں باقاعدہ منظم طریقے سے ترجمہ نگاری کا رواج فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے ہوا۔
1600 میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک خالص تجارتی کمپنی تھی جو مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد سلطنت میں ہندوستان میں آئی اور مغل دربار سے بے شمار مراعات حاصل کیں۔ سورت، بمبئی، مدراس اور مغربی ساحل سمندر کے چند علاقوںمیں اپنی فیکٹریاں قائم کیں جہاں بڑی تعداد میں انگریز ملازمین مقرر کیے گئے۔ آہستہ آہستہ اس کمپنی نے ملک کی مختلف آزاد ریاستوںکی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اورجب سیاسی لحاظ سے مستحکم ہوئی تو اپنی فوجی قوت کو بڑھایا۔ حالات کچھ ایسے رونما ہوئے کہ انگریزوں نے ہندوستانی ریاستوں پر اپناتسلط قائم کرنا شروع کیا۔ 1757 میں انگریز جرنیل کلائیو نے پلاسی کے مقام پر بنگال کے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ کرلیا۔ 1799 میں برطانوی افواج نے ٹیپوسلطان کو شہید کردیا۔ ادھر پونے کے پیشوا باجی راؤ کو معزول کردیا۔ حیدرآباد کی خو دمختار ریاست میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے ہوئے حیدرآباد میں اپنی چھاؤنی بنالی۔ اب انگریزوں کو دلّی کی مغل سلطنت کو بے دخل کرنا مشکل نہیں تھا اور وہ کچھ عرصہ بعدہوا بھی۔
برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو فوج اور دیگر شعبوں میں انگریز ملازمین کی ضرورت تھی جنھیں بڑی تعداد میں ہندوستان لایا گیا۔ کمپنی کے نووارد افسران اور دیگر ملازمین کو ہندوستان کی مروجہ زبانوں سے اور یہاں کی تہذیب و ثقافت سے واقف کروانا ضروری تھا تاکہ وہ موثر طریقے سے حکمرانی کے فرائض انجام دے سکیں۔ کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ رچرڈ ولزلی نے نومبر 1800 میں ان افسران اور ملازمین کے درس و تدریس کے لیے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا جہاں انگریزی ملازمین کو مختلف مضامین کی تعلیم دی جاتی اور مقامی زبان خصوصاً اردو/ہندی سکھائی جاتی۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی سربراہی میں فارسی اور سنسکرت کی اہم کتابوں کے تراجم اور تصنیف و تالیف کا کام شروع ہوا۔ کالج میں کئی منشیوں کا تقرر عمل میں آیا جنھوں نے بالکل سادہ اور سلیس اردو زبان میں کتابوں کے ترجمے کیے۔ مرزا حامد بیگ نے اپنی کتاب ’اردو ترجمے کی روایت‘ (1786 تا حال) میں لکھا ہے کہ ’’فورٹ ولیم کالج کی تصانیف‘ تالیفات اور تراجم میں تذکرۂ افسانہ، صرف نحو، اخلاق، فقہ اسلام، تاریخ، قرآن اور اناجیل کے تراجم خصوصی اہمیت کے حامل ہیں لیکن دیگر علوم یا سائنس سے متعلق کوئی کتاب ترجمہ نہیں کی۔ (ص129) 5؎
اس طرح فورٹ ولیم کالج میں اردونثرنگاری کی بنیادرکھی گئی۔ جس منظم طریقے سے یہاں عربی، فارسی اور سنسکرت کی کتابوں کے اردو میں ترجمے ہوئے، اس سے اردو زبان کا دامن وسیع ہوا اور زبان و ادب کو نئی سمت ملی نیز جدید تعلیمی نظام کا یہ ایک مرکز بن گیا۔ بعض وجوہات کی بنا پر 1854 میں یہ کالج بندکردیا گیا۔
اردو زبان و ادب کی توسیع و اشاعت میں حیدرآباد کی نامور شخصیت نواب محمد فخرالدین خان تیغ جنگ شمس الامرا (1780-1862) کی خدمات کا اعتراف ازحد ضروری ہے۔ شمس الامرا نہایت علم دوست اور اہل فن کے قدردان تھے انھیں سائنس اور دیگر علوم جدیدہ سے گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے اپنے صرفے سے حیدرآباد میں کئی مدارس قائم کیے اور اس کا خصوصی طور پر اہتمام کیا کہ طلبا کو مغربی زبانوں کے علوم سے روشناس کیا جائے۔ آپ نے حیدرآبادکے محلہ جہاں نما کی ایک حویلی میں 1825 میں دارالترجمہ قائم کیا اور مغربی علوم کو منتقل کرنے کے لیے ہندو، مسلمان، فرانسیسی اور انگریز علما کو مترجمین کی حیثیت سے ملازم رکھ لیا۔ شمس الامرا کی ذاتی دلچسپی اور انہماک کی وجہ سے نہ صرف سائنس کی کتابیں ترجمہ ہوئیں بلکہ دیگر فنون کی کتابیں بھی تصنیف و تالیف ہوئیں، انھوں نے کتابوں کی اشاعت کے لیے اپنا ذاتی سنگی کتب خانہ بھی قائم کیا اور اس طرح اردو زبان کے سرمایے میں قابل قدر اضافہ ہوا۔ شمس الامرا نے جو کتابیں ترجمہ کرائیں ان کی تعداد تقریباً 75ہیں جنھیں مدرسوں کے نصاب میں شامل کیا گیا۔ بعض کتابیں حسب ذیل ہیں :
(1) اصولِ علم حساب (2) رسالہ کسوراعشاریہ (3) ستہ شمسیہ ۔ اس کے چھ حصے ہیں جو چھ شعبوں سے متعلق ہیں ۔(4) رسالہ علم و اعمال کرّہ (5)رسالہ منتخب البصر (6) کمسٹری کا رسالہ (7) رسالہ کمسٹری (8)رسالہ خلاصۂ ادویہ (9) نافع الامراض (10) ترکیب ادویہ (11) رسالہ حیواناتِ مطلق (12) رسالہ ارمیری (13) شمس الاعلاج (14) تعلیم الصبیان (15) شمس الہیت (16) رسالہ علم خراط (17) ہندسہ بانتر (18)افضل الادب آصفیہ۔ 6؎
نواب نصیرالدین حیدرشاہ (1803-1837) اودھ کے دوسرے فرماں روا تھے جن کے دور میں لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت اپنے عروج پر تھی اور لکھنؤ فن اور ادب کاگہوارہ تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مداخلت جاری تھی لیکن نواب حیدر شاہ کو تعلیم و تعلم سے غیرمعمولی دلچسپی تھی۔ انھوں نے اسکول بک سوسائٹی لکھنؤ قائم کی ، جس کا مقصد لکھنؤ کے مدارس کے لیے ایسا نصاب تیار کرنا تھا جو یورپی دانش گاہوں کے ہم پلہ ہو۔ اس مقصد کے تحت ایک نصابی کمیٹی ترتیب دی گئی جو نصاب کے لیے انگریزی اور فرانسیسی نصابی کتب کا انتخاب کرتی اور اسے اردو میں ترجمہ کرنے کا فیصلہ صادر کرتی۔ اس کے لیے اودھ میں ایک مطبع سلطانی کا قیام عمل میں آیا۔7؎ ایک انگریز کو سائنسی کتب کے انگریزی سے اردو ترجمہ کے کام پرمقرر کیا۔ کئی کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ 1837 میں ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد میں محمد علی شاہ (1837-1842) اور امجدعلی شاہ (1842-1847) نے ترجمہ نگاری کے کام کو آگے بڑھایا۔ جو کتابیں ترجمہ کی گئیں ان میں مفتاح الافلاک، رسالہ ہیئت، مقاصدعلوم، رسالہ مقناطیس ، رسالہ علوم طبیعہ ، رسالہ علم الکیمیا، رسالہ علم المناظر وغیرہ اہم ہیں۔
اردو زبان کی توسیع و اشاعت میں قدیم دہلی کالج کی خدمات بھی عظیم تھیں۔ مالک رام نے کتاب ’قدیم دلّی کالج‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ’’زبان کو عصری تقاضوں کی راہ پر ڈالنے کا سہرا دلّی کالج کے سر ہے جس نے نہ صرف زبان میں اضافہ کیا بلکہ اس نے ایسے مصنفین بھی دیے جو بعد کے زمانے میں آسمان اردو پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے۔‘‘ مالک رام مزید لکھتے ہیں کہ ’’انیسویں صدی اردو ادب خاص کر اردو نثر کا زریں عہد کہی جاسکتی ہے اس دور میں زبان منجھ گئی اور اس کا معیار مقرر ہوگیا۔ نثر ہی نہیں اس دورمیں اردو شاعری کا رخ بھی متعین کردیا۔‘‘8؎
مدرسہ غازی الدین خان میں 1825 میں دہلی کالج کا قیام عمل میں آیا۔ اس کالج کا مقصد و منشا یہ تھاکہ ہندوستانی طلبہ کو انگریزی اورجدید علوم سے روشناس کرایا جائے اور یہاں عربی، فارسی اور سنسکرت کے ساتھ انگریزی علوم کی بھی تعلیم دی جائے جس کے لیے ذریعہ تعلیم اردو رہے گا۔ نصابی کتب کی فراہمی کے لیے زیادہ توجہ مغربی علوم جیسے سائنس، قانون اور تاریخ پر تھی اور ان علوم کی کتابوںکے تراجم کاکام بڑے پیمانے پر شروع ہوا، جس کی قیادت فیلکس بوتروس کررہے تھے۔ ظاہر ہے ان اقدام سے اردو زبان کے ذخیرۂ الفاظ اور نصابی مواد میں قابلِ قدراضافہ ہوا۔
دہلی کالج برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی درسگاہ تھی اس لیے مشرقی علوم کے محققین ، مصنفین اورمبصرین جیسے جے ایچ بٹلر، ڈاکٹر اسپرنگر اورمسٹرکارکل کو متعین کیا گیا ، کیونکہ یہ تینوں طویل عرصے سے ہندوستان میں مقیم تھے ، یہاں کی مختلف زبانوںکا علم رکھتے تھے اور ہندوستانی عوام کے مزاج اور نفسیات سے بھی بخوبی واقف تھے۔9؎
مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب ’مرحوم دہلی کالج‘ میں دہلی کالج کے پرنسپل فیلکس بوتروس (Felix Boutros)کا مورخہ 19دسمبر1841 کاایک خط شامل کیا ہے۔ بوتروس نے یہ خط گارساں دتاسی کو لکھا تھا۔ اس خط کے مشمولات سے علم ہوتاہے کہ دہلی کالج میں تعلیم کے دو شعبے تھے پہلے میں انگریزی اور ہندوستانی زبانوں کے علاوہ جدید یورپ کے علوم Sciences پڑھائے جاتے تھے اور دوسرے شعبے میں مشرقی زبانیں یعنی عربی، فارسی اور سنسکرت شاملِ نصاب تھیں۔ اس کالج میں 20 پروفیسرس ملازم تھے۔ دہلی کالج کی زیرنگرانی دوم درجے کے دو کالج ایک میرٹھ اور دوسرا بریلی میں تھے۔ اس خط میں بوتروس نے لکھا ہے کہ دو تین سال میں ہندوستانی زبان10؎ نے ایسی اہمیت حاصل کرلی ہے جو اس سے پہلے نہ تھی۔ یہ بہار اورمغربی صوبوں کی یعنی راج محل سے لے کر ہری دوار تک کی سرکاری زبان بن گئی ہے۔ یہ زبان سارے ہندوستان میں سمجھی جاتی ہے اور کم از کم چار کروڑ اشخاص اسے روزمرہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اوراس وقت انگریزی حکومت نے اسے عدالتوں اور سرکاری اخباروں میں جاری کردیا ہے۔ بوتروس نے یہ بھی لکھا ہے کہ تقریباً چھ مہینے میں اس نے 20 مترجم کالج میں ملازم رکھے ہیں جو عربی، فارسی اور سنسکرت کی مشہور کتابوںکے علاوہ انگریزی کی بعض کتابیں جیسے علم طبیعات ، معاشیات، تاریخ، فلسفہ، قانون اور برطانوی ہند میں رائج الوقت قانون کی کتابیں اردو میں منتقل کرتے ہیں۔ تراجم کے تعلق سے اس نے مزید معلومات دیتے ہوئے لکھا ہے کہ رامائن اورمہابھارت کا ترجمہ دلچسپی سے خالی نہیں اور اس وقت خود اس نے ان دونظموں کے خلاصے کاکام شروع کردیا ہے اور بعد میں مکمل ترجمے کی طرف توجہ دے گا۔
دہلی کالج میں مغربی علوم کو دیسی زبان (اردو) کے ذریعے پڑھانے میں بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ نصاب کی کتابیں نہیں تھیں۔ اس ضمن میں 1835 میں سرکاری تعلیمی کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تاکہ اس مسئلہ کا حل نکالا جائے ، اس سے قبل ایک ’اسکول بُک سوسائٹی‘ تھی جس نے بہت سی مفید کتابیں اردو ،ہندی اور بنگالی میں مدارس کے لیے تیار کی تھیں اور ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوچکی تھیں لیکن یہ محض ابتدائی کتابیں تھیں۔ سرکاری کمیٹی کی کارروائی آہستہ روی سے چل رہی تھی لیکن علم کے سچے شائقین اور دیسی زبانوں کے ہمدردوں کی سعی اور توجہ سے ایک ’’انجمن اشاعت علوم بذریعہ السنہ ملکی‘‘ یعنی :
Society for the promotion of knowledge in India through the medium of Vernacular language.
قائم کی گئی۔11؎
اس انجمن کا نام بعدمیں صرف ’ورناکیولر سوسائٹی‘ ہوگیا تھا۔ انجمن نے انگریزی سے اردو میں ترجمے کے لیے چند قواعد و ضوابط بھی وضع کیے تھے مثلاً (1) جب سائنس کا کوئی ایسالفظ آئے جس کا مترادف اردو میں نہیں ہے جیسے سوڈیم، پوٹاشیم، کلورین وغیرہ تو ایسے الفاظ کو بجنسہٖ اردو میں لے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی قاعدہ ایسے خطابات اورالقابات کے بارے میں بھی مدنظر رکھا جائے جن کے مساوی خطابات اور القابات ہندوستان کی تاریخ میں نہیںپائے جاتے جیسے ڈیوک، بشپ، ارل، کلکٹر وغیرہ۔ (2) اگر سائنس کاکوئی لفظ ایسا ہے جس کا مترادف اردو میں پایا جاتا ہے تو اردو لفظ ہی استعمال کرنا چاہیے جیسے Iron (لوہا) ، Sulphur (گندھک)، Minister (وزیر) ، Summon (طلب نامہ) وغیرہ۔ (3) اگرلفظ مرکب ہے اور ہر دو لفظ انگریزی ہیں اور دونوںمیں سے کسی کا مترادف اردو میں نہیں ہوتو وہ لفظ بجنسہٖ اردو میں منتقل کیا جائے جیسے ہائیڈروکلورک ۔کیونکہ ہائیڈروجن اور کلورین میں کسی کا بھی مترادف اردو میںنہیں، اسے اردو میں اداکرنے کی کوشش ضرور کی جائے۔12؎
مولوی عبدالحق نے ورناکیولر سوسائٹی کی جانب سے ترجمہ شدہ اور تالیف کردہ کتابوں کی جو فہرست دی ہے ان کی تعداد 128ہے۔ جن اہم کتابوں کے انگریزی سے اردو میں ترجمے کیے گئے ہیں ان میں : (1) تحریراقلیدس مقالہ 1تا6، 11تا 12ہیں۔ (2) اصول قانون (3)اصول حکومت (4) اصول قوانین مالگزاری (5) اصول قوانین اقوام (6) گولڈاسمتھ کی تاریخ انگلستان کا خلاصہ (7) الجبرا (8)علم مثلث و تراش ہائے مخروطی (9)عملی علم ہندسہ (10) رسالہ کیمسٹری (11) قانون فوج داری قانونِ محمدی (12) قانونِ مال (13) پولٹیکل اکانومی معاشیات (14) تحلیلی علم ہندسہ (15)میکانیات (16) نیچرل تھیالوجی (17) قانون فوجداری (18)ضابطہ مالگزاری (19) جغرافیہ طبعی (20) ہندوستان کے پیدواری ذرائع (21)رسالہ مقناطیس (22) رسالہ جراحی(23) حرکیات و سکونیات (24) حرارت (25) ترجمہ ہائیڈرولکس (26) رسالہ علم برق (27) رسالہ اصول حساب وغیرہ وغیرہ۔
ورناکیولر سوسائٹی کے ان تراجم نے جہاں نصاب تعلیم میں آسانیاں پیدا کیں وہیں اردو زبان و ادب میں بھی بیش بہا اضافہ کرتے ہوئے اردو میں جدید علوم کے دروازے وا کردیے۔ اردومیں بے شمار الفاظ اور اصطلاحات کا ذخیرہ جمع ہوا۔
1857 کی جنگ آزادی میں دہلی کالج پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔ جنگ آزادی کے متوالوں نے کالج کے پرنسپل مسٹرٹیلر کو قتل کردیا۔ یہاں کے استاد امام بخش صہبائی کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ کالج کی عمارت کو آگ لگادی، کتب خانہ لوٹ لیا اور سائنس کی تجربہ گاہ کو تباہ کردیا۔ دہلی کالج بند ہوگیا۔
صدرالصدور سیداحمددہلوی اس زمانے میں دہلی کالج اور ورناکیولر سوسائٹی کے کاموں سے خوب واقف رہے ہوں گے ، جب مغربی علوم کی تعلیم کا مرکز بند ہوا تو اپنے چند ہم خیال ہندوستانی اور برطانوی احباب سے صلاح و مشورہ کے بعد 1863میں انھوں نے غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ سرسید کی اس سوسائٹی کا مقصد بھی ورناکیولر سوسائٹی کی طرح انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں لکھی گئی مختلف علوم و فنون کی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کرنا تھا تاکہ علمی و ادبی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔ سوسائٹی نے یہ اعلان کردیا تھاکہ وہ کسی مذہبی کتاب سے کوئی سروکار نہیں رکھے گی۔ چند برسوں بعد سرسید نے اسی سوسائٹی کو علی گڑھ منتقل کردیا جہاں اسے علی گڑھ سائنٹفک سوسائٹی کا نام دیاگیا۔ اپنے مقاصدکو فروغ دینے کے لیے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ شائع ہونے لگا۔ کتابوں کے تراجم کے لیے معتبر مترجم مقرر کیے گئے جنھوں نے تقریباً 28کتابوں کے انگریزی سے اردو میں ترجمے کیے جو شائع ہوئے۔ ان میں چند نام یہ ہیں : (1)مختصر رسالہ یورپ کے علوم و فنون جو مسٹر مانڈر کاتحریر کردہ ہے۔ (2) آدم اسمتھ کی کتاب قوموںکی ترقی دولت (3) رسالہ بھاپ کے کلوکا بیان(4) یورپ کے آلات کاشتکاری (5)تاریخ چین جس میں چین کی پیداواری، علوم و فنون، مذہب و رسومات اور وہاں کی چھٹی سلطنت کا بیان (6) رسالہ جیولاجی (7) رسالہ علم فلاحت یعنی کاشتکاری (8) تاریخ اسپین (9)رسالہ علم طبیعات (10) کتاب منطق (11) مواعظ سکندر مصنف ارسطو (12) پولیٹکل اکانومی (13) سیاسی معاشیات (14) بجلی کی قوت (15) ماڈرن فارمنگ وغیرہ۔13؎
اردو میں منصوبہ بند طریقوں سے اداروں کی جانب سے ترجمہ نگاری کی شروعات ہوچکی تھی جن کا مقصد یہ تھاکہ جدید مغربی علوم سے اکتساب فیض کیا جائے اور مغربی علوم کی وسعتوں کو اردو میں بہتر طریقے سے روشناس کیا جائے تاکہ طلبا اورعام قاری کی فکری و ذہنی بالیدگی کا سامان مہیا ہوجائے۔ اردو زبان کو اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنانے اور مختلف علوم و فنون کو اردو میںپڑھانے کے لیے ریاست حیدرآباد کے حاکم میر عثمان علی خان آصف جاہ سادس نے 1917 میں ’سررشتہ تالیف و ترجمہ‘ قائم کیا۔ مولوی عبدالحق اس سررشتہ کے ناظم مقرر کیے گئے۔ اس سررشتہ کے قیام کا مقصد علوم و فنون کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا۔ اس سررشتہ کے ایک سال بعد یعنی 1918 میں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی گئی اور 1924 میں یہ یونیورسٹی مکمل طور پر فعال ہوگئی جہاں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا۔14؎
دارالترجمہ کی تاسیس کے مقاصد پر مولوی عبدالحق نے روشنی ڈالتے ہوئے لکھاکہ ’’اس سررشتہ کا کام صرف یہی نہیں ہوگا (اگرچہ کہ یہ اس کافرضِ اولین ہے) کہ وہ نصاب تعلیم کی کتابیں تیارکرے بلکہ اس کے علاوہ ہر علم پر متعدد اور کثرت سے کتابیں تالیف و ترجمہ کرائے تاکہ لوگوں میں علم کا شوق بڑھے، ملک میں روشنی پھیلے، خیالات وقلوب پر اثر پیداہو، جہالت کا استحصال ہو۔‘‘15؎
اس ادارے سے 1919 میں مولانا عبدالماجددریاآبادی کی ترجمہ شدہ پہلی کتاب ’منطق استقراجی و استقرائی‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ 1947 تک اس شعبہ کی جانب سے کل 369کتابیں تالیف و ترجمہ کی گئیں۔ ڈاکٹرمجیدبیدار نے اپنی تحقیقی کتاب ’دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کی ادبی خدمات‘ میں لکھاہے کہ ’’دارالترجمہ ایک سماجی ادارہ تھا اگرچہ کہ اسے شاہانہ سرپرستی حاصل تھی لیکن اس کے کارنامے سماجی حیثیت کے حامل تھے، مختلف النوع اورمختلف الفکروں کا اجتماع اس کی مجلس وضع اصطلاحات میں ہواکرتا تھا۔‘‘16؎
دارالترجمہ دو قسم کے مترجمین کی آماجگاہ تھا۔ ایک کتابوں کے مترجمین اور دوم اصطلاحات وضع کرنے والے مترجمین۔ 1929 تک اصطلاحات کی مجلسوں نے مختلف علوم و فنون کی 35000 اصطلاحیں تیار کرلی تھیں۔ اس کے بعد بھی تقریباً 10 سال تک یہ کام جاری رہا لیکن انھیں یکجا نہیں کیا گیا۔ انجمن ترقی اردونے اصطلاحات پر نظرثانی کا کام کیا۔17؎ دارالترجمہ میں ناظرادبی اور ناظرمذہبی بھی مقرر کیے گئے تھے۔ ناظرادبی کی ذمہ داری ترجمہ شدہ کتابوں کا ادبی نقطۂ نظر سے اور ناظرمذہبی کی ذمہ داری ترجمہ شدہ کتابوں کا مذہبی نقطۂ نظر سے جانچ پڑتال کرنا تھا تاکہ کہیں کوئی خامی نہ رہ جائے۔ اہم بات یہ کہ حیدرآباد اور بیرون حیدرآباد کے کل 129مترجمین کتابوں کے ترجمے کرنے کے لیے ملازم رکھے گئے تھے۔ مولوی عبدالحق نے وضع اصطلاحات کے لیے مجلس اصطلاحات، طبیعات ، کیمیا اور ریاضیات کے لیے ایک الگ مجلس اور فنون کے لیے ایک تیسری مجلس قائم کی تھی جہاں ان علوم کے ماہرین اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ 1947 تک دارالترجمہ میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، فارسی اور عربی کے مختلف علوم و فنون کی کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ 1949 میں دارالترجمہ کے دفتر میں آگ لگ گئی جس میں کئی کتابیں اور مسودات جل کر خاک ہوگئے۔ 1949 میں جب ریاست حیدرآباد ہندوستان میں ضم ہوگئی تو یہ ادارہ بند ہوگیا۔
جہاں تک منصوبہ بند کتابوں کے تراجم کا تعلق ہے وہاں مولانا شبلی نعمانی کے قائم کردہ دارالمصنفین اعظم گڑھ کی خدمات کا ذکر بھی ضروری ہے یہاں تصنیف و تالیف کا زبردست کام ہوتارہا۔ مشرقی علوم و فنون کے ساتھ مغربی ماہرین نفسیات، فلاسفر اور مورخین کی اعلیٰ تصانیف کے اردو میں تراجم اور ان کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دارالمصنفین میں عربی، فارسی اورانگریزی کتابوں کے نادر مخطوطات بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کی فہرست مطبوعات 2015 سے معلوم ہوا کہ چند اہم کتابوں کے تراجم ہوئے جو کتابی صورت میں ادارہ نے شائع کیے ہیں۔
وطن عزیز کی آزادی کے بعد حکومت ہندنے ترقی اردو بیورو کی بنیاد رکھی تھی جو کچھ برسوں بعد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نام سے مقبول و معروف ہوا۔ یہ ادارہ مرکزی حکومت کے زیرسرپرستی اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے حتی الامکان سعی کرنے میں مصروف ہے۔ قومی کونسل نے گذشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں علمی و فنی کتابوں کے انگریزی اور مختلف ریاستی زبانوں سے تراجم کرائے ہیں جن میں سائنس، جغرافیہ، علم کیمیا، تاریخ، ٹیکنالوجی، زراعت ، ریاضی ، سیاسیات، سماجیات، کمپیوٹرسائنس، فلسفہ، معاشیات جیسے مختلف موضوعات کے علاوہ صوفی، سنتوں اور ملک کی مختلف زبانوں کے معتبر ادیبوں اور شعرا کی حیات اور ان کے فن پر بھی تراجم کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
ساہتیہ اکادمی، دہلی کا بنیادی مقصد ہندوستان کی مختلف علاقائی زبانوں کے درمیان باہمی روابط قائم کرنا اور اس کے آئین کے مطابق تراجم کو فروغ دینا ہے۔ اکادمی دستورِہند کے تحت تسلیم شدہ زبانوں میں ترجمہ شدہ کتابوں کی اشاعت کرتی ہے جس میں اردو بھی شامل ہے۔ انگریزی کے علاوہ ہندوستان کی ریاستوں میں مروج زبانوں کی ادبی نگارشات مثلاً فکشن، شاعری، ڈرامہ اور تنقید وغیرہ کے اردو میں تراجم ہوئے ہیں۔ اکادمی مختلف زبانوں میں تنقیدی اور تخلیقی تراجم پر مترجمین کو انعامات سے بھی نوازتی رہتی ہے۔ مختلف النوع موضوعات کی کتابوں کے بھی اردو میں تراجم ہوچکے ہیں۔
یہ بات ہم نہایت وثوق اوراعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ تراجم نے صحیح معنوں میں اردو کے دامن کو بے شمار نئے الفاظ ، محاورات، علامات، تشبیہات اور اصطلاحات سے مالامال کیا ہے ۔ عالمی ادب کی علمی اورفنی تخلیقات جب انفرادی طورپر اورکسی ادارے کے منصوبہ بند طریقے سے (جیساکہ ہم نے گذشتہ صفحات میں دیکھا ہے) آئیں تو ان کے ساتھ ہی فکشن اور شاعری میں اظہار و بیان ، اسالیب وغیرہ کی تکنیک نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ تراجم نے عالمی سطح پر ہونے والی فکری اور علمی پیش رفت سے ، ایجادات سے، طب میںہونے والی تحقیقات سے، فلسفہ، نفسیات، سماجیات، معاشیات، علم بشریات، وغیرہ وغیرہ سے اردو زبان کے طلبا اور اس کے قارئین کو روشناس کرانے میں بیش بہا خدمات انجام دیںاور دے رہے ہیں۔
حواشی
1. جمیل جالبی: تاریخ ادب اردو، جلد اول، ص194
2 نصیرالدین ہاشمی: دکن میںاردو، ص .167
3. مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے نصیرالدین ہاشمی کی ’دکن میں اردو‘
4. جمیل جالبی: تاریخ ادب اردو، جلد اول، ص391
5. ڈاکٹر مرزا حامد بیگ: اردو ترجمہ کی روایت(1786 تا حال)، دوست پبلی کیشن، 2016
6. نصیرالدین ہاشمی: دکن میں اردو، ص 521-22
7. مرزا حامد بیگ: اردو میں ترجمہ کی روایت
8 .مالک رام: مقدمہ۔ قدیم دلّی کالج۔ طبع دوم، اکتوبر 1916 جن آفتاب و ماہتاب کا ذکر کیا ہے وہ منشی ذکاء اللہ اور ڈپٹی نذیراحمد ہیں۔
9. مولوی عبدالحق: مرحوم دہلی کالج، انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی۔ 1945
10. ہندوستانی زبان سے یہاں مراد اردو زبان ہے۔
11. مولوی عبدالحق: مرحوم دہلی کالج، ص 134
12. ایضاً، ص136-38
13. افتخار عالم خان: سرسید اور سائنٹفک سوسائٹی، ایک بازیافت، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ 2013
14. مجیب السلام: دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی و ادبی خدمات 1987
15. مجیب السلام: دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی و ادبی خدمات
16. ڈاکٹر مجیدبیدار: دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کی ادبی خدمات، اشاعت جنوری 1980 ص 30
17 .ایضاً
Aslam Mirza
Flat No.2, First Floor, Salim Complex,
Opp. Burhani National English
High School, Deodi Bazar
Aurangabad-431001 (MS)
Mob.9960053707
Email : mamirza_10@yahoo.com