یوگا موجودہ عہد کی ایک ضرورت،مضمون نگار: محمد طلحہ

June 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا، جون 2026:

آج کے تیز رفتار اور مقابلہ جاتی دور میں انسان جہاں بے شمار سہولیات سے مستفید ہو رہا ہے وہیں ذہنی دباؤ بے چینی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ایسے حالات میں یوگا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آتا ہے جو انسان کو نہ صرف جسمانی صحت فراہم کرتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور روحانی توازن بھی دیتا ہے۔
یوگا کا آغاز قدیم ہندوستان میں ہزاروں سال پہلے ہوا ہے اور یہ دنیا کی قدیم ترین روحانی و جسمانی مشقوں میں شمار ہوتا ہے اس کی جڑیں ہندومت اور قدیم بھارتی فلسفے میں ملتی ہیں۔ یوگا کا ذکر سب سے پہلے قدیم مذہبی متن رگ وید میں ملتا ہے جو تقریبا 1500 قبل مسیح کے آس پاس لکھا گیا بعد میں یوگا کی تعلیمات کو زیادہ منظم شکل یوگا سوترا میں دی گئی حکیم پتنجلی نے یوگ سوتر میں لکھا ہے کہ’’ آج سے پہلے یوگا صرف اور صرف آشرموں اور گروؤں تک محدود رہا لیکن اب یہ عام انسانوں تک بھی پہنچ چکا ہے‘‘۔ اب ہر سال پوری دنیا میں۲۱جون کو International Yoga Dayمنایا جاتا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک تحریک بن چکی ہے۔ سوامی ستیانند سر سوتی نے کہا ہے: ’’یوگا صرف ورزش نہیں بلکہ ایک چراغ ہے جو باطن کی تاریکی کو دور کرتا ہے‘‘۔
یوگا کے فوائد جاننے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یوگا دراصل کیاہے؟ یوگا زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے جس کا مقصد ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ کا ہونا ہے، انسان ایک جسمانی ، ذہنی اور روحانی وجود ہے یوگا ان تینوں کے درمیان توازن پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جیسا کہ ہندوستان میں آیوروید میں بتایا گیا ہے؛ یوگا صرف جسم کو موڑنے اور سانس کو روکنے کے بارے میں نہیں ہے یہ آپ کو ایسی حالت میں لانے کی تکنیک ہے جہاں آپ حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں اور کھلی آنکھوں سے اس کا تجربہ کرتے ہیں جوآپ کی توانائی کو پرجوش بنا کر ہر چیز کو ایک بناتا ہے ، یہ وہ اتحاد ہے جو یوگا تخلیق کرتا ہے ۔
موجودہ دور میں یوگا ذہنی سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔ آج کل انسان ڈپریشن اور Anxiety کا شکار ہے اور اس قدر مصروف ہے کہ خود کی صحت پر دھیان دینے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا اور وہ ڈپریسڈ ہو جاتا ہے اسے نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت درکار ہوتی ہے اور ڈاکٹر اسے خاص سانس لینے کی تکنیک بتاتے ہیں جسے ’’پرانا یام‘‘ کہتے ہیں اسی آسن سے بلڈ سرکولیشن بڑھتا ہے اور ذہنی سکون ملتا ہے جیسا کہ کرشنا آچاریہ نے کہا ہے کہ ’’سانس لو‘‘ بھی یوگا کا پہلا اور آخری سبق ہے۔
اس طرح باقاعدگی سے یوگا کی مشق مزاج کو فوری طور پر بہتر بناتی ہے جسم کو تازگی بخشتی ہے ۔
اس سے جسم میں خون کی گردش بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے بلڈپریشر میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
یوگا زہریلے مادوں اور آزاد ریڈکلز کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اور تناؤ کو بھی دور کرتا ہے جو کہ عمر بڑھنے کا ایک عنصر ہے ۔
یہ تناؤ کو کم کر کے جسم کو نرم کرتا ہے ۔ جب جسم آرام کرتا ہے تو نبض کی رفتار کم ہو جاتی ہے ۔ نبض کی کم شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب دل اتنا مضبوط ہے کہ کم دھڑکنوں کے دوران زیادہ خون پمپ کر سکے ۔
یوگا جسم میں آکسیجن کو بہتر کرتا ہے اور دل کی دھڑکن کو بھی کم کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں قلبی قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے ۔
یوگا میں پوری طرح سانس لینا شامل ہے ۔ اس میں پھیپھڑوں کو ان کی پوری صلاحیت میں بھرنا پڑتا ہے اس طرح وہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔
اسی طرح یوگا ڈپریشن اور نیند کے مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں اسکرین اور ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔ یوگا کی مشقیں،خاص طور پر یوگا ندرا گہری اور پرسکون نیند دینے میں مدد کرتا ہے اس سے انسان کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور انسان پھرتیلا اور چاق و چوبند رہتا ہے۔
ان سب کے ساتھ یوگا کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ انسان میں مثبت سوچ پیدا کرتا ہے جب انسان ذہنی طور پر پرسکون ہوتا ہے تو وہ مسائل کا سامنا بڑے پرعزم اور صبر کے ساتھ کرتا ہے یوگا کا ا ثر صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ سماج پر بھی اچھا اثر ڈالتا ہے جب ایک انسان پر سکون ہوتا ہے تو وہ اپنے آس پاس لوگوں کے ساتھ بھی اچھا رویہ اختیار کرتا ہے اس طرح یوگا ایک پر امن اور خوشحال معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے یوگا صرف ایک ورزش نہیں بلکہ ایک مکمل طرز زندگی ہے اس کا مقصد انسان کے جسم،ذہن اور روح کے اندر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے یوگا کی مشق انسان کو اندرونی سکون اور صبر کی طرف لے جاتی ہے آج کے دور میں یوگا پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کی ضرورت ہے۔
آج کل موبائل اور لیپ ٹاپ کے زیادہ استعما ل اور مسلسل بیٹھنے سے ہمارے جسم متأثر ہو رہے ہیں جس سے کمردرد،گردن درد، شوگر اور موٹاپا جیسی بیماریاں جڑ پکڑرہی ہیں جن سے نپٹنے کے لیے ڈاکٹر یوگ کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔
یوگا جسم،ذہن اور سانس کو جوڑنے کا ایک قدیم طریقہ ہے جس کی کئی قسمیں ہیں۔
1 -جنان یوگا۔
جنان یوگا خود کی تلاش اور تحقیق کا یوگا ہے اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ علم کا سمندر انسان کے اندر موجود ہے،باہر نہیں جو دنیا ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں یعنی مادی دنیا وہ ایک فریب (illusion) ہے جنان یوگا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کتنا پہچانتا ہے اور وہ اپنے آپ پر کتنا زور دیتا ہے خود کو پہچاننے کے لیے جنان یوگا کے کچھ اصول ہیں
٭ ویوک Viveka (صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت)
٭ویراغیہVairagya (دنیاوی چیزوں سے بے رغبتی)
2 ۔بھکتی یوگاBhakti yoga
بھکتی یوگا خدا سے عقیدت اور محبت اور مکمل سپردگی کا راستہ ہے یہ یوگا کے اہم راستوں میں سے ایک ہے جس میں انسان اپنے دل سے خدا کو یاد کرتا ہے اور اس سے جڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔
3۔ کرما یوگا karma yoga
کرما یوگا ایک ایسا راستہ ہے جس میں انسان کسی بھی لالچ کیے بغیر دوسروں کے ساتھ اچھائی کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک کرما یوگی ہر جاندار اشیا میں خدا کو دیکھتا ہے اس کے لیے لوگوں کی خدمت ہی عبادت بن جاتی ہے۔
4۔راجہ یوگا Raja yoga
راجہ یوگا کو یوگا کا ’’بادشاہی کا راستہ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسان کے ذہن کو کنٹرول کرنے اور اندرونی سکون حاصل کرنے پر زور دیتا ہے اس کا مقصد ہے کہ انسان اپنے ذہن کو قابو میں رکھ کر خود شناسی اور خدا سے جڑ جائے۔ یہ سب یوگا کے اقسام ہیں اسی طرح یوگا کے آسن بھی ہوتے ہیں یوگا کے آسن وہ جسمانی ورزشیں ہیں جو جسم،ذہن اور سانس کو متوازن بنانے کے لیے کی جاتی ہیں یہ خاص طور پر پتنجلی کے یوگا نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔
مشہور یوگا آسن یہ ہیں:
1۔تڑاسن (Tadasana mountain pose)
پہاڑ کی حالت کی طرح یوگا کا ایک بنیادی اور اہم کھڑے ہو کر کیا جانے والا آسن ہے ۔ بظاہر یہ سادہ لگتا ہے ، لیکن دراصل یہ پورے جسم کے توازن ، درست پوسچر ( posture) اور ذہنی یکسوئی کی بنیاد رکھتا ہے ۔ اسی لیے اکثر کھڑے ہو کر کیا جانے والا آسن اسی سے شروع ہوتا ہے ۔
2۔وجرآسن (Vajrasana)
یہ آسن یوگا کا ایک اہم اور بنیادی آسن ہے جسے ’’ہیرا‘‘ یا بجلی کی طرح مضبوط پوز بھی کہا جاتا ہے یہ واحد آسن ہے جسے کھانا کھانے کے بعد بھی آرام سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست نظام ہاضمہ سے ہے اس آسن میں جسم ایک مستحکم اور متوازن حالت میں ہوتا ہے جس سے جسم اور ذہن دونوں کو سکون ملتا ہے ۔
3۔بھجنگ آسن (Bhujangasana cobra)
اس آسن کو کوبرا آسن بھی کہتے ہیں ۔ پیچھے کی طرف جھکنے والی مشقوں کی ترتیب میں سب سے پہلے کیا جاتا ہے جب یہ آسن مکمل طور پر کیا جائے تو اس کی شکل ایک پھن پھیلائے ہوئے سانپ (کوبرا ) جیسی لگتی ہے سنسکرت میں بھوجنگ کا مطلب کوبرا ہے ہم اس آسن کو مختلف مراحل میں کرتے ہیں جس میں سانپ کی نرم اور لچکدار حرکت کا تصور کرتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی کو آہستہ آہستہ ایک ایک مہرے کے ساتھ اوپر اور پیچھے کی طرف کھینچا جاتا ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کمر کے پٹھوں ، خاص طور پر نچلے حصے کو مضبوط ، متحرک اور متوازن بناتا ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی کو پیچھے کی طرف موڑنے سے لچک میں اضافہ ہوتا ہے اعصاب کو تازگی ملتی ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے ۔
4۔تِرکون آسن (Trikon Asana
چونکہ اس آسن کی شکل مثلث جیسی ہوتی ہے اس لیے اسے ’’ترکون آسن‘‘ کہا جاتا ہے یہ ایک منفرد آسن ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو بہترین اطرافی (سائڈ ) حرکت فراہم کرتا ہے اور جسم کے پہلوؤں کے کئی پٹھوں کو بیک وقت کھینچتا اور مضبوط بناتا ہے ۔ یہ توازن بہتر بنانے میں بھی مددگار ہوتا ہے ۔
5۔ پدم آسن (Padmasana Lotus Pose)
اس آسن کو ’’کنول کی حالت ‘‘بھی کہا جاتا ہے یوگا کی ایک کلاسیکی نشست ہے جس میں ٹانگیں کراس کر کے بیٹھا جاتا ہے اور ہر پاؤں کو مخالف ران پر رکھا جاتا ہے ۔ یہ آسن مراقبے کے لیے نہایت موزوں ہے اور جسم میں لچک ، توازن اور ذہنی سکون پیدا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ہر سطح کے یوگا کرنے والوں کے لیے ایک بنیادی اور اہم انتخاب سمجھا جاتا ہے ۔
6۔اردھا متسیندرآسن Ardha) (matsyendrasana
یہ آسن ریڑھ کی ہڈی کو آگے اور پیچھے موڑنے کے بعد ، آدھا اسپائل ٹوئسٹ ایک طرفہ کھنچاؤ فراہم کرتا ہے جو کمر کے نچلے حصے کے عام درد اور کمر و کولہوں کے عضلاتی گٹھیا کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اس میں ریڑھ کی ہڈی کے ہر مہرے کو دونوں سمتوں میں گھمایا جاتا ہے یہ آسن پتہ ، تلی ، گردے ، جگر ، اور آنتوں پر بہت مثبت اثر ڈالتا ہے ۔ اس سے پیٹ کے پٹھوں کی مالش ہوتی ہے اور خاص طور پر بڑی آنت متحرک ہوتی ہے جس سے قبض ، بد ہضمی اور دیگر ہاضمے کے مسائل میں بہتری آتی ہے ۔
7۔ہیڈ اسٹینڈHeadstand
آسنوں کا بادشاہ کہلانے والا یہ آسن اپنے حیرت انگیز فوائد کی وجہ سے بہت اہم ہے توجہ بڑھانے ، یاد داشت کو بہتر بنانے اور جنسی توانائی کو طاقتور حیاتیاتی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ جو لوگ باقاعدگی سے یہ آسن کرتے ہیں ان کی سانس لینے کی رفتار اور دل کی دھڑکن نسبتا کم ہو جاتی ہے ۔ بہت سے نئے سیکھنے والوں کے لیے یہ حیرت کی بات ہوتی ہے کہ اس آسن کے لیے کسی خاص طاقت یا لچک کی ضرورت نہیں ہوتی ، بس باقاعدہ مشق اور مرحلہ وار سیکھنا ضروری ہے ۔
8۔ ٹڈی Locust
تمام آسنوں میں سے شبھاسن وہ آسن ہے جو قوت ارادی کو سب سے زیادہ بڑھاتی ہے سوامی وشنو دیوا نند کے مطابق قوت ارادی کی مشق انسان کے خیالات کو پاکیزہ اور طاقتور بناتی ہے ، اور یہ آسنوں کی مشق کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے ۔ دیگر آسنوں کے برعکس جو آہستہ آہستہ کیے جاتے ہیں ، شبھاسن ایک مضبوط اور طاقتور پٹھوں کے سکڑاؤ کے ذریعے کیا جاتا ہے بالکل ایسے جیسے کوئی ٹڈی (Locust) اچھلتی ہے ۔ یہ عمل بیک وقت سوچ ، سانس ، حرکت اور زندگی کی توانائی کو یکجا کرتا ہے ۔
9۔ مچھلی کا پو ز Fish
اس آسن کا نام ’’متسیاسن‘‘ یعنی مچھلی کی حالت اس لیے رکھا گیا ہے کہ اگر ہم اس حالت کو پانی میں اختیار کریں تو ہم آسانی سے تیر سکتے ہیں ۔ جسمانی طور پر یہ آسن کندھوں کے جھکاؤ کو درست کرنے میں بہت مؤثر ہے اور گردن اور کمر کے اعصاب کو مضبوط اور متوازن بناتا ہے ، ذہنی سطح پر ، جب سینہ مکمل طور پر کھل جاتا ہے تو یہ آسن دل کو دنیا کے لیے کھولنے میں حیرت انگیز اثر رکھتا ہے ۔
plough10۔
ہلاسن جس کا سنسکرت میں مطلب ہل ہے(کھیتی باڑی کا آلہ )۔ یہ ریڑھ کی ہڈی کو جوان اور صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ جسم کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر کھینچتا ہے جس سے پوری ریڑھ کی ہڈی متحرک اور طاقتور بنتی ہے ۔ یہ آسن سخت ہو جانے والے ہیم اسٹرنگر ( ران کے پچھلے پٹھوں ) کو بھی نرم اور لچکدار بناتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ جو شخص باقاعدگی سے ہلاسن کرتا ہے وہ چست ، پھرتیلا اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے ۔
crow-11۔
کاکا سن یعنی کوے کی حالت توازن قائم کرنے والے آسنوں میں سے ایک نہایت مفید آسن ہے اگر چہ تمام آسن جسمانی اور ذہنی مشقوں کے طور پر اس لیے بنائے گئے ہیں کہ جسم اور ذہن کو مراقبے کے لیے تیار کیا جا سکے ، لیکن توازن والے آسن سب سے زیادہ نمایاں بہتری فراہم کرتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی توازن بڑھانے کے علاوہ کاکاسن ذہنی توازن پیدا کرتا ہے اور بازوؤں ، کلائیوں اور کندھوں کو مضبوط بناتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انگلیوں ، کلائیوں اور بازوؤں کے پٹھے بھی کھچاؤ حاصل کرتے ہیں ۔
یوگا آسن جسم اور دماغ دونوں کو صحت مند بنانے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہیں روزانہ تھوڑی دیر یوگا کرنے سے زندگی بہتر اور متوازن ہو سکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ یوگا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے اگر اس کو ہم مسلسل کریں تو یہ ہمیں ذہنی اور روحانی سکون عطا کرتا ہے اور زندگی بڑی پرسکون گزرتی ہے جب ہم سست ہوتے ہیں تو ہمارا کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا اور ہم اوبنے لگتے ہیں تو یوگا ان چیزوں کو دور کرتا ہے اور ہماری زندگی میں نئی امنگیں اور بہار لاتا ہے اسی لیے ہم سب کو دن بھر میں ایک بار یوگا ضرور کرنا چاہیے ۔

Mohd. Talha
Research Scholar Shoba Urdu Jamia Millia Islamia
Mob. 8574080774
Email:mohdtalha964@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،

ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ میں ماحولیاتی استحصال،مضمون نگار:جمیلہ خاتون

اردو دنیا،اپریل2026: ماحولیات (Environment) انسان اور فطرت کے باہمی تعلق کامظہر ہے، جس میں زمین، پانی، ہوا، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل شامل ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف انسانی

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ