استعارہ، طرفین اور وجہ جامع،مضمون نگار:حکیم نجم الغنی خاں نجمی

June 15, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

یاد رکھو کہ استعارے میں مشبہ کو بعینہ مشبہ بہ ٹھہرا لیتے ہیں، یعنی بہادر کو بعینہ شیر سمجھ لیتے ہیں۔ مشبہ بہ خواہ مذکور ہو جیسے استعارہ بالتصریح میں مثلاً شیر کہیں اور اس سے بہادر مراد ہو خواہ مشبہ بہ متروک ہو اور مشبہ مذکور ہو اور وہ شے کہ مشبہ بہ سے خصوصیت رکھتی ہو اس کو مشبہ کے واسطے ثابت کریں جیسے استعارہ بالکنایہ میں، جس کا دوسرا نام استعارہ مکنیہ بھی ہے ۔
علمائے فن بلاغت کا اختلاف ہے اس میں کہ استعارہ کون سا مجاز ہے، آیا لغوی ہے یا عقلی یہاں عقلی سے مراد یہ ہے کہ ایک امر عقلی میں تصرف کیا گیا ہو۔ جمہور کا یہ مذہب ہے کہ استعارہ مجاز لغوی ہے یعنی وہ ایسا لفظ ہے کہ جس معنی کے واسطے بنایا گیا ہے اس معنی کے غیر میں مستعمل ہوا ہے مشابہت کے علاقے سے۔ اور اس بات پر دلیل یہ ہے کہ ہم نے کسی آدمی کوشجاعت کی وجہ سے شیر کہاتو اس سے یہ مراد نہ ہوگی کہ ہیکل مخصوص کا استعارہ اس کے لیے ہے بلکہ مشبہ یعنی مرد شجاع کو مشبہ بہ یعنی شیر کی جنس میں بہ طریق تاویل کے داخل کرلیا جاتا ہے، اور تاویل کی یہ صورت ہے کہ مشبہ بہ کے افراد کو دوقسم پر مقرر کیا جاتا ہے ۔
(1) ایک قسم متعارف و مشہور ہے یعنی جانور، درندہ جو نہایت شجاعت کے ساتھ ہیکل مخصوص میں پایاجاتا ہے۔
(2) دوسری قسم غیر متعارف اور وہ ایسا شیر ہے کہ جس کو درندئہ معروف کی سی شجاعت حاصل ہے لیکن اس خاص ہیکل میں ہو کر حاصل نہیں۔ مرد شجاع اسی قبیل سے ہے مگر لفظ شیر اصل لغت میں قسم دوم کے لیے موضوع نہیں ہے بلکہ قسم اول کے لیے موضوع ہوا ہے پس اس لفظ کا استعمال قسم ثانی میں بہ اعتبار مجاز کے ہے اور یہ اطلاق اس شے پر ہے جو معنی لغوی کی غیر ہے۔ پس مجاز لغوی ہوا اور صحیح یہی مذہب ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ وہ مجاز عقلی ہے۔ پس استعارہ امر عقلی میں تصرف کرنے کا نام ہے اس لیے کہ جب کسی کو شیر کہتے ہیں تو اس کو بعینہ شیر (جانور درندہ) ٹھہرا لیتے ہیں نہ مثل شیر کے۔ اس صورت میں گویاشیر کے لفظ کا وہ شخص موضوع لہ ہو ا۔ پس یہ دعوے کرنا عقل سے تعقل رکھتا ہے، نہ لغت سے۔ حاصل یہ ہے کہ زید واقع میں شیر نہ تھا اور اس کو اپنے نزدیک شیر ٹھہرا لیا ہے، اور جو چیز کہ واقع میں نہ ہو اس کو واقعی ٹھہرا لینے ہی کو مجاز عقلی کہتے ہیں۔ پس استعارہ مجاز لغوی نہ ہوا بلکہ مجاز عقلی ہوا۔ اگر مشبہ کو بعینہ مشبہ بہ نہ ٹھہرا تے ہوں تو آتش کے اس شعر میں معشوق کا کذب کیسے ثابت ہو ؎
وعدئہ شب نہ کراے ماہ لقا، جھوٹھ نہ بول
جلوہ گر رات کو خورشید کہاں ہوتا ہے؟
اس مثال سے مقصود یہ ہے کہ اگر قائل معشوق کو بعینہ خورشید نہ سمجھ لیتا تو معشوق کی وعدہ خلافی اور دروغ گوئی اس جگہ صحیح نہیں ہو سکتی کیونکہ جلوہ گر ہونا ایسے آدمی کا کہ جو حسن میں مشابہت خورشید سے رکھتا ہو شب میں ناممکن نہیں ہے بلکہ طلوع خورشید ہی کا ناممکن ہے ۔
بدھ سنگھ قلندر
جس جگہ خورشید ہی طالع نہ ہو
روسیہ روز وں کا دن اور رات کیا
یہاں خورشید معشوق سے استعارہ ہے اور قائل نے معشوق کو بعینہ سورج سمجھ لیا ہے۔ اسی طرح ناسخ کی اس رباعی میں خدا اور بت کا مقابلہ درست نہ ہو سکتا ؎
رباعی1
ہے جسم مرا اور نہ جاں ہے باقی
تر بت میں نہ کوئی استخواں ہے باقی
کرتا ہے خدا تو امتحاں تادم زیست
پر بت کا ہنوز امتحاں ہے باقی
مومن
دشمن مومن ہی رہے بت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا
ناسخ
وقت بے وقت آگیا ہے بیشتر وہ آفتاب
ہو گئی ہے بارہا شام شب دیجور صبح
اسی طرح اس شعر میں تعجب ثابت نہ ہو سکتا کہ تلوار کی تعریف میںہے ؎
واں شور تھا پیدا مہ نو سے مَہ نو ہے
یاں غل تھا، جدا شمع سے یہ شمع کی لو ہے
اسی طرح امانت کے اس شعر میں ؎
فلک یہ تو ہی بتادے کہ حسن و خوبی میں
زیادہ تر ہے ترا چاند یا ہمارا چاند
اگر قائل معشوق کو بعینہ چاند نہ سمجھ لیتا تو مقابلہ دونوں چاندوں کا درست نہ ہوتا ۔
محققین نے اس مذہب کو اس طرح ردکیا ہے کہ مشبہ کو بعینہ مشبہ بہ ٹھہرا لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مشبہ موضوع لہ ہو جائے کیونکہ یہ امر ظاہر ہے کہ لفظ خورشید جرم روشن معروف کے لیے بنایا گیا ہے اور شخص حسین کے معنی میں استعمال کر لیا گیا ہے اور تعجب کرنا اس لیے ہے کہ گویا مشابہت کو قطعاً فراموش کیا ہے تاکہ مبالغہ کما حقہ ادا ہو جائے۔ یہی حال اور امثلہ کا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ استعارہ مجاز لغوی ہے یعنی موضوع لہ کے غیر میں استعمال کیا گیا ہے ۔
حسن التوصل الی صناعۃ الرسل کے مؤلف نے کہا ہے کہ استعارہ اسے کہتے ہیں کہ تشبیہ میں مبالغے کی غرض سے حقیقت کے معنی کا کسی چیز میں ادعا کرنا اور مشبہ کے ذکر کو لفظاً یا تقریراً ترک کردینا۔ دوسری عبارت میں استعارہ اسے کہتے ہیں کہ تشبیہ میں مبالغے کی غرض سے ایک چیز کو دوسری چیز کردینا یا ایک چیز کو دوسری چیز کے واسطے کر دینا۔ پس اگر کوئی یوں کہے کہ میں نے شیر کو دیکھا اور مراد اس کی شیر سے مرد شجاع ہو تو یہ استعارہ ہے، اور اگر یوں کہے کہ زید شیر ہے تو یہ استعارہ نہ ہو گا اس لیے کہ اس وقت لفظ میں ایک ایسی چیز ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بعینہ شیر نہیں ہے پس مبالغہ حاصل نہ ہو گا۔ یہاں حرف تشبیہ محذوف ہے اور اس قسم کو تشبیہ مضمر الاداۃ کہتے ہیں۔ تشبیہ مضمر الاداۃ میں اور استعارے میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر میں اداۃ تشبیہ کا ظاہر کرنا درست ہے اور آخر الذکر میں درست نہیں، اس لیے کہ استعارے میں مستعارلہ کا ذکر بالکل متروک ہوتا ہے نہ لفظاً مذکور ہوتا ہے نہ تقدیراً کیونکہ اس کے اظہار سے استعارے کی خوبی جاتی رہتی ہے۔ پس صرف مستعارمنہ کے ذکر پر کفایت کرتے ہیں، بر خلاف تشبیہ مضمر الاداۃ کے کہ اس میں مشبہ اور مشبہ بہ مذکور ہوتے ہیں۔ مثلاً زید شیر ہے۔ پس استعارے میں حرف تشبیہ کے اظہار سے کلام پایۂ فصاحت و بلاغت سے گر جاتا ہے او ر تشبیہ مضمر الاداۃ میں فصاحت و بلاغت میںفرق نہیں آتا، بلکہ ذکر کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں چنانچہ زید شیر ہے اور زید مثل شیر کے ہے ان دونوں ترکیبوں میں کوئی فرق نہیں ۔
سوال جو فرق تم نے بیان کیا یہ مسلم نہیں بلکہ فرق کا مدار حرف تشبیہ پر ہے جس میں حرف تشبیہ مذکور نہ ہوگا وہ استعارہ ہے اور جس میں مذکور ہوگا وہ تشبیہ ہے اور اس تقدیر پر زید شیر ہے استعارہ ہے اور زید مثل شیر کے ہے تشبیہ ہے ۔
جواب اگر اس ترکیب کو کہ زید شیر ہے تشبیہ مضمر الاداۃ قرار نہ دیا جائے گا تو معنی مستحیل ہو جائیںگے اس لیے کہ زید بعینہ شیر نہیں بلکہ شجاعت میں شیر کی طرح ہے۔ پس اداۃ تشبیہ کو مقدر ماننا ضرور ہوا تا کہ معنی میں استحالہ نہ پڑے۔ اگر چہ اداۃ تشبیہ کی تقدیر استعارے میں بھی لا بد ہے لیکن اس میں اس کا اظہار درست نہیں بہ خلاف تشبیہ کے اس میں اداۃ کا اظہار درست ہے۔ مثل السائر فی ادب الکاتب و الشاعر میں اسی طرح لکھا ہے اور توضیح کے مؤلف نے استحالے کی وجہ علمائے بیان سے جو کچھ سمجھی ہے وہ یہ ہے کہ استعارہ ایسی چیز ہے جو اسم جنس جامد میں جاری نہیں ہوتا مثلاً زید شیر ہے استعارہ نہیں کیونکہ اس صورت میں حقائق اشیا کا انقلاب لازم آتا ہے، اور و ہ یہاں یہ ہے کہ زید شیر ہے کہنے سے انسان کی حقیقت شیر کی حقیقت سے بدل جاتی ہے۔ پس مثال مذکور تشبیہ کی قسم سے ہے، جس میں حرف تشبیہ مضمر ہے۔ البتہ مشتقات میں جاری ہو تا ہے جیسے میر حسن تسکین کے اس شعر میں ؎
ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے
کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی
(یعنی نقش پا کی شوخی دلالت کرتی ہے ) جرأت کے شعرمیں بھی ۔
میاں جرأت کسی پر تم نہیں عاشق! نہ مانوں میں
کہے دیتی ہے خاموشی، عبث صاحب مکرتے ہیں
(یعنی خاموشی دلالت کرتی ہے ) بالاتفاق استعارہ ہے کیونکہ یہاں استعارہ اسم جنس میں نہیں اور پہلی مثال میں اسم جنس میں تھا۔ پس دوسری اور تیسری مثال میں قلب حقائق لازم نہیں آتا کیونکہ اس میں حقیقت کے لیے وصف کا ثابت کرنا مقصود ہے جو اس کے لیے ثابت نہ تھا اور اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ کہنے کا وصف نقش پا اور خاموشی کے لیے ثابت کرنے میں بھی جو استحالہ ہے وہ انسا ن کے لیے اسدیت ثابت کرنے سے کم نہیں۔ اس کا نام خواہ قلب حقائق رکھیں یا نہ رکھیں۔ علاوہ اس کے محققین کے نزدیک قلب حقیقت یہ ہے کہ واجب و ممکن وممتنع میں سے ایک دوسرے کے ساتھ بدل جائے اور اس میںشک نہیں کہ نقش پا اور خاموشی کے لیے گویائی کا ثبوت ممتنع ہے۔ پس ان کو کہنے والا قرار دینا ممتنع کو ممکن بنانا ہے، اور زید شیر ہے اور میں نے شیر کو تیراندازی کرتے ہوئے دیکھا ان دونوں قولوں میں سے پہلے کو تشبیہ اور دوسرے کو استعارہ ثابت کر نے کے لیے جو علمائے بیان نے یہ توجیہ کی ہے کہ دوسرے قول میں اگر چہ استحالہ ہے لیکن وہ غیر مقصود ہے کیونکہ مقصود یہاں دیکھنا ہے۔ پس امر مستحیل کا دعویٰ قصداً نہ ہو گا، بہ خلاف پہلے قول کے کہ اس میں زید پر شیر کے جمل کرنے سے امر مستحیل کا دعویٰ قصدا ًہوتا ہے۔ یہ فرق بالکل وہی ہے کیونکہ جس کلام میں امر محال ہو، خواہ وہ محال مقصود ہو یا غیر مقصود، وہ کلام ہر طرح باطل ہے۔ پس امر محال کے ایک جگہ مقصود اور دوسری جگہ غیر مقصود ہونے کا فرق نکالنا عقل ودانش سے بعید ہے، اور یہ کہنا بھی خلاف تحقیق ہے کہ چونکہ امر محال وہاں مقصود نہیں ہے اس لیے اس کو استعارہ مانا گیا ہے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ استعارہ ایسے امر محال کو شامل ہوتا ہے جو مقصود ہوتا ہے مثلاً انیس بہادر کی تعریف میں کہتے ہیں ؎
پیاسا وہ کوئی اور ہے اس قتل کے بن میں
اس شیر کی شمشیر کا غل تھا ابھی رن میں
اور ظفر معشوق کی شان میں کہتے ہیں ؎
میںنے پوچھا اس پری سے کیا ہوا حسن و شباب
ہنس کے بولا وہ صنم شان خدا تھی میں نہ تھا
دیکھو یہاں امر محال مقصود بھی ہے اور پھر استعارہ بھی ہے۔ ورنہ ہر جگہ امر محال کا دعویٰ کرنا ناجائز ہوتا ہے، کیونکہ اکثر اغراض اور اعتبارات لطیفہ کی وجہ سے اس کا دعویٰ جائز ہوتا ہے اگر اس کے ساتھ اس بات کا کوئی قرینہ موجود ہو کہ واقع میں اس کا ثبوت مقصود نہیں ہے۔
اور علامہ تفتازانی نے تلویح حاشیہ تو ضیح میں لکھا ہے کہ علمائے بیان کے نزدیک استعارہ یہ ہے کہ مشبہ بہ کو مشبہ میں استعمال کریں اور کلام مشبہ کے ذکر سے خالی ہو اور قرینہ نہ ہو نے کے وقت میں مشبہ بہ کے ارادہ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہاںتک کہ اگر مشبہ لفظاً مذکور ہو جیسے اس مثال میں کہ زید شیر ہے خواہ تقدیراً مذکور ہو مثلاً کوئی پوچھے کہ زید کون ہے تو جواب دیں کہ شیر ہے، استعارہ نہیں ہے کیونکہ زید پر شیر کا جمل ممتنع ہے اس لیے یہاں حرف تشبیہ کا محذوف ماننا واجب ہے اور مبتدا کی خبر ہونے وغیرہ امورات کا علمائے بیان کے نزدیک کوئی لحاظ نہیں، اور اس مثال میں کہ اس کے نقش پا کی شوخی کہے دیتی ہے یا خاموشی کہے دیتی ہے قطعاً استعارہ ہے اس لیے کہ یہاں مشبہ بالکلیہ متروک ہے اور وہ دلالت کا لفظ ہے جس کی تشبیہ کہنے کے ساتھ واقع ہوئی ہے۔ پس اس مثال کو اس مثال سے یعنی زید شیر ہے سے کوئی تعلق نہیں ۔
مجمع الصنائع کے مؤلف نے کہا ہے کہ یہ بھی استعارے کے قبیل سے ہے کہ غیر ذوی العقول سے خطاب کریں اور شعر ا جو مناظرات ان میں باندھتے ہیں جیسے مناظرہ تلوار اور قلم کا اور عقل و عشق کا اور گل ومل (شراب ) کا اور عدل و انصاف کا یہ سب استعارے میں داخل ہے مگر اس میںتامل ہے اس لیے کہ استعارے کا مبنیٰ تشبیہ پر ہے اور وہ یہاں نہیں ۔
استعارہ اور کذب میں یہ فرق ہے کہ استعارے کی بنا تاویل پر ہے یعنی مشبہ کے مشبہ بہ کی جنس سے ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اس میںاس بات کا قرینہ قائم ہوتا ہے کہ یہاں معنی موضوع لہ مراد نہیں ہیں اور کذب میںتاویل و قرینہ نہیں ہوتا بلکہ جھوٹا آدمی اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اپنے ظاہر قول کی صحت سامع کے نزدیک ثابت کرے بہ خلاف استعارے کے کہ اس میں اس بات پر قرینہ قائم کیا جاتا ہے کہ یہاں ظاہر کے خلاف مراد ہے ۔
استعارے میں مشبہ بہ کے معنی کو مستعارمنہ کہتے ہیں اور اس لفظ کو جو مشبہ بہ کے معنی پر دلالت کرے مستعار کہتے ہیں اور مشبہ کے معنی کو مستعارلہ کہتے ہیں اور وجہ شبہ کو استعارہ کی بحث میں وجہ جامع کہتے ہیں جیسے اس مثال میں۔
مذاق
خرام ناز سے اوبت نہ آنا میرے مرقد پر
تری ٹھوکر میں ہے انداز اعجاز مسیحائی
لفظ بت اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ یہاں بت سے معشوق مراد ہے، اور علاقہ تشبیہ کا ہے یعنی سبب سنگ دلی کے معشوق کو بت کہاگیا۔ اس مثال میںبت یعنی صنم جس کی کفار2 عبادت کرتے ہیں اور جو اکثر پتھر کاہوتا ہے۔ اس کے معنی مستعار منہ ہیںیعنی ان سے مانگا ہوا یعنی وہ لفظ مستعار ان سے مانگ کر لائے ہیں کیونکہ واضع نے لفظ بت کو انہی معنی کے واسطے وضع کیا تھااور خود لفظ بت مستعار ہے یعنی مانگا ہوا کیونکہ بت اصل میں خاص ہے اس چیز کے واسطے جس کی کفار عبادت کرتے ہیں اور جب معشوق کے معنی میں کہا گیا تو گویا اس لفظ کو اس چیز سے مانگ لیا اور معنی معشوق کے یعنی شخص خاص مستعارلہ ہے۔ یعنی اس کے واسطے مانگا ہوا کیونکہ لفظ بت کا معشوق کے لیے مانگا گیا ہے اور معشوق کے لفظ کا کچھ نام نہیں اور وجہ جامع وہ سبب ہے جس سے علاقہ تشبیہ کا پایا گیا اور وہ سنگ دلی ہے۔ پس اتقان میں جوسیوطی نے کہا ہے کہ لفظ مشبہ کو مستعار منہ کہتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ اسی طرح ان کا معنی جامع کو مستعار لہ قرار دینا بھی صحت کے خلاف ہے ۔
استعارہ کی بحث کو ہم پانچ چمنوں میںبیان کرتے ہیں پہلے چمن میں طرفین استعارہ یعنی مستعار منہ و مستعار لہ کا مذکور ہے، دوسرے چمن میں وجہ جامع کا ذکر ہے، تیسرے چمن میں ان تینوں کا مجموعی طور پر بیان ہے، چوتھے چمن میں استعارے کی قسموں کی تفصیل ہے، پانچویں چمن میں استعار ے کی حسن و خوبی کے شرائط کا حال ہے ۔
پہلا چمن طرفین: استعارہ کے بیان میں
طرفین استعارہ دو چیزیں ہیں۔ ایک مستعارمنہ دوسرے مستعار لہ۔ پس اگر مستعار منہ اور مستعارلہ اس قسم کے ہوں گے کہ ان کا باہم جمع ہونا ایک جگہ ممکن ہو تو اس کواستعارہ وفاقیہ کہتے ہیں کیونکہ دونوں طرفوں میں موافقت اور اتفاق ہوتا ہے، جیسے :
میر
اندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میر
سوجھے نہ جسے، اسے کہتے ہیں بصیر
جاہل کا استعارہ اندھے سے کیا ہے ۔نا بینائی مستعار منہ اور جہالت مستعار لہ ہے اور جہالت و نا بینائی کا ایک شخص میں جمع ہونا ممکن ہے کیونکہ جائز ہے کہ جاہل ہو اور نا بینا ہو ۔
حالی
وہ جادو کے جملے وہ فقرے فسوں کے
تو سمجھے کہ گویا ہم اب تک تھے گونگے
ان لوگوں کا جو آتش زبانی اور شیوابیانی سے عاری تھے گونگے کے ساتھ استعارہ کیا ہے اور عدم فصاحت و بلاغت اور گونگا ہونا ایک شخص میں جمع ہو سکتا ہے ۔
ولہ
ترقی کا جس دم خیال ان کو آیا
اک اندھیر تھا ربع مسکوں پہ چھایا
جہالت کا استعارہ اندھیرے سے کیا ہے اور ایک جگہ اندھیر کا اور جہالت کا جمع ہونا جائز ہے ۔
ولہ
یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا
یہ راعی نے للکار کر جب پکارا
پیغمبر کا استعارہ راعی سے کیا ہے اور ایک شخص میں راعی ہونا اور پیغمبر ہونا جمع ہو سکتا ہے چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب کے کہنے سے بکریاں چَرائی تھیں ۔
ولہ
مناقب سے بدلے گئے سب مثالب
ہوئے بہرہ و رروح سے ان کے قالب
کمال کا استعارہ روح سے کیا ہے اور ان دونوں چیزوں کا ایک جگہ ہونا ممکن ہے ۔
ولہ
گرے مثل پروانہ ہر روشنی پر
گرہ میں لیا باندھ حکم پیمبر
روشنی سے مراد علم و حکمت ہے اور ان دونوں کاایک جگہ جمع ہونا جائز ہے ۔
ولہ
نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی
نہ یونان کے علم وفن کی خبر تھی

ولہ
نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے
کوئی ان میں سوتا کوئی جا گتا ہے
غفلت کا استعارہ سونے سے کیا ہے اور ہوشیاری کا جاگنے سے۔ اور ایک شخص میں غفلت اور سونا اور دنوں جمع ہونا ممکن ہے۔ اسی طرح ہوشیار ہونے اور جاگنے کا ایک شخص میں جمع ہونا ممکن ہے ۔
اور اگر جمع ہونا محال ہو تو اس کو استعارہ عنادیہ کہتے ہیں کیونکہ دونوں طرفوں کا اجتماع اس میں ممتنع ہوتا ہے، جیسے کسی شخص نا بیناے محض کو بہ اعتبار اس کے کمال علم و عقل کے آنکھوں والا کہیں۔ ظاہرہے کہ اندھا ہونے اور آنکھوں والا ہونے میں باہم عناد ہے۔ ایک شخص میں یہ دونوں امر جمع نہیں ہوسکتے۔ مرزا غالب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں ’’ والی رام پور نے بھی تو مرشدزاد ے کی شادی میں بلایا تھا یہی لکھا گیا کہ میں اب معدوم محض ہوں ‘‘ باوجود ے کہ مرزا موجود تھے، مگر بہ وجہ کسرنفس کے اپنے آپ کو کسی کام کے قابل نہ سمجھ کر معدوم محض کہا اور ظاہر ہے کہ موجود معدوم میں باہم تنافی ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک شخص میں جمع نہیںہو سکتیں ۔اسی قبیل سے ہے انیس کا یہ شعر :
پہنچے انھیں لے کر جو وہ ظالم سردربار
خدام نے کی عرض کہ حاضر ہیں گنہہ گار
یہ ذکر صاحب زادگان حضرت مسلم کا ہے۔ وہ گنہہ گار یعنی مجر م نہ تھے لیکن قتل کرنے کے واسطے لائے گئے تھے اس لیے گنہہ گار کہا۔ گنہہ گاری اور بے گناہی میں عناد ہے ۔
اور عنادیہ کے قبیل سے ہے کہ ظرافت اور خوش طبعی اور طنز کے طور پر دو ضدوں یا دو نقیضوں کا باہم استعارہ کریں۔ ضدین اور نقیضین میں یہ فرق ہے کہ ضدین ایسی وجودی چیزوں کو کہتے ہیں کہ وہ جمع نہیں ہو سکتیں، مرتفع ہو سکتی ہیں، اور دو نقیض باہم نہ جمع ہو سکتے ہیں اور نہ مرتفع ہو سکتے ہیں، اور ان میں سے ایک وجودی ہوتا ہے، ایک عدمی، اور ایک قسم کے استعارے میں یہ وجہ ظرافت و استہزا وغیرہ کے تضاد وتناقص کو تناسب کی جگہ سمجھ لیا جاتا ہے مثلاً نامرد کو شیر یا رستم کہا جائے اور بخیل کو حا تم بولا جائے یا ظالم کا استعارہ نو شیرواں کے ساتھ کیا جائے۔ اسی قبیل سے ہے میر کے اس شعر میں آسمان کی نسبت مہربان کا اطلاق کیا جانا ۔
کوئی آج سے ہے فلک مدعی کیا
ہمیشہ مرے حال پر مہرباں ہے
ولہ
گالی ہے دھول ہے یہ عزت ہے
کہیں غیرت کا سر میں کچھ ہے خیال
ذلت کا استعارہ عزت سے کیا ہے ۔
میرحسن
تم ہی کچھ ایسے نہ دنیا میںجفا کار ملے
جو ملے مجھ کو سو ایسے ہی وفادار ملے
بے وفا کا استعارہ وفادار سے کیا ہے ۔
حالی
شریعت ہوئی ہے نکونام ان سے
بہت فخر کرتا ہے اسلام ان سے
نہ گفتار میں ان کی کوئی خطا ہے
نہ کردار ان کاکوئی نا سزا ہے
بد نام کا استعارہ نکونام سے اور ننگ و عار کرنے کا استعار ہ فخر کرنے سے اور خطا ہونے کا استعارہ خطا نہ ہو نے سے اور ناسزا ہونے کا استعارہ نا سزا نہ ہونے سے کیا ہے ۔
درد
اٹھ چلے شیخ جی تم مجلس رنداں سے شتاب
ہم سے کچھ خوب مدارات نہ ہونے پائی
مدارات اپنے خلاف سے استعارہ ہو اہے۔ اسی قبیل سے ہے سودا کے اس شعر میں معقول کا لفظ:
سودا
ان کا غرض اعتراض دیکھو تو معقول ہے
بات جو معروف ہے ان پہ وہ مجہول ہے
نا معقول کا استعارہ معقول سے کیا ہے ۔
ولہ
نہ ہووے کیونکہ مرا رتبہ شعر میں یاں تک
میں کیسے پیر کی کرتا ہوں اب ثنا خوانی
ہجو و مذمت کا استعارہ ثنا سے کیا ہے ۔
بات ہم سے تو نہ کرنی اور غیروں سے تپاک
ہم مگر اس بزم میں آئے تھے ذلت کے لیے
بزم میں آنے سے غرض تحصیل عزت تھی اس غرض کوبہ طریق استہزا کے ذلت کے لیے آنے سے استعارہ کیا۔ جب حضرت عباس نے پانی لانے کے لیے نہر پر جانا چاہا تو حضرت زینب نے خطرے کے لحاظ سے ان کو روکنا چاہا۔ امام حسینؑ بھی ان کاجانا گوارا نہیں کرتے تھے۔ اس وقت حضرت عباس کی زوجہ حضرت زینب سے کہتی ہیں:
انیس
ہر وقت کبر یا سے طلب گار خیر ہوں
آگے جو کچھ سبھوں کی رضا، میں تو غیر ہوں
زوجہ غیر نہیں مگر اس وجہ سے غیر کہا کہ ان کی بات کا نہ ماننا گویا غیر سمجھنا ہے ۔
حالی
قید خانوں میں جہاں کے ہے پڑا غل تیرا
جتنے قیدی ہیں تری جان کو دیتے ہیں دعا
دعا کا استعارہ بد دعا کے لیے کیا ہے ۔
دوسرا چمن: وجہ جامع کے بیان میں
وجہ جامع کی چار صورتیں ہیں ۔
(1) وجہ جامع مستعار منہ اور مستعار لہ کے معنی کاجز ہوگی جیسے :
حالی
رجال اور اسانید کے جو ہیں دفتر
گواہ ان کی آزادگی کے ہیں یک سر
مطلب یہ ہے کہ رجال و اسانید کے دفتر ان کی آزاد گی کے ثابت کرنے والے ہیں۔ پس ثابت کرنے والے کا استعارہ گواہ کے ساتھ کیا ہے اور وجہ جامع یہاں ثابت کرنا ہے اور وہ دونوں کے مفہوم میں داخل ہے ۔
ولہ
مجرموں کے جرم پر دیوار ودر تھے سب گواہ
پر نہ تھا کوئی شفیع ان کا کہ جو تھے بے گناہ
ولہ
ہیں انھوں کے گواہ حب وطن
درودیوار پیرس و لندن
ولہ
تیری صناعی کا یہ سب ہے اثر
تیری قدرت پہ تیری صنع گواہ
میر
اس احوال کا رنگ رو بس ہے شاہد
جو دل میں ہے میرے سومنھ پر عیاں ہے
برق
اے پری چشم سیاہ و رخ تاباں ہے دلیل
دھوپ وہ پڑتی ہے جس سے کہ ہرن ہو کالا
یعنی چشم سیاہ اور رخ تاباں اس بات کو ثابت کرنے والے ہیں کہ دھوپ ایسی پڑتی ہے کہ جس سے ہرن کالا ہو۔ پس ثابت کرنے والے کا استعارہ دلیل سے کیا ہے اور وجہ جامع یہاں بھی ثابت کرنا ہے جو دونوں کے مفہوم میں داخل ہے ۔
قدیر
تقدیر نے کی مدد شتابی
اغیار کٹے بصد خرابی
کٹنا جو موضوع ہے ان اجسام کا اتصال زائل ہونے کے لیے جن میں سے بعض بعض کے ساتھ متصل اور پیوستہ ہوں۔ اس کا استعارہ اجتماع اغیار کے متفرق ہو جانے اور ان میں سے بعض کے بعض سے جدا ہوجانے کے لیے کیا ہے، اور وجہ جامع دونوں میں اجتماع اور اتصال کا زائل ہو جانا ہے، اور یہ کٹنے اور متفرق ہو جانے کے مفہوموں میں داخل ہے۔ البتہ کٹنے کے مفہوم میں زوال اجتماع شدید ہے، اور متفرق ہونے کے مفہوم میں کم ہے کیونکہ کٹنے کے متفرق ہونے سے قوی ہونے ہی کی صورت میں یہ بات صحیح ہوتی ہے کہ متفرق ہونے کی تشبیہ کٹنے کے ساتھ دی جائے اور کٹنے کا استعارہ متفرق ہونے کے لیے کیا جائے۔ اگر کہا جائے کہ فن حکمت میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جزو ماہیت شدت و ضعف کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتا، پس یہاں جزو ماہیت یعنی زوال اجتماع کیسے جامع بن سکتا ہے اور حال یہ ہے کہ جامع کے لیے مستعارمنہ میں اقویٰ ہونا واجب ہے تا کہ استعارہ مبالغے کا فائدہ دے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اختلاف کا ممتنع ہونا ماہیت حقیقی میں معتبر ہے جیسے انسان و حیوان اور جو ماہیت لفظ سے مفہوم ہوتی ہے اس کا حقیقی ہونا واجب نہیں بلکہ کبھی امر اعتباری ہوتی ہے یعنی ایسے امور سے مرکب ہوتی ہے جن میں سے بعض شدت کے قابل ہوتے ہیں اور بعض ضعف کے قابل۔ اس صورت میں جامع کا طرفین کے مفہوم میں داخل ہونا اور باوجود اس کے مستعار منہ کے مفہوم میں اشدواقوے ہونا جائز ہے۔
میر
طفل مطرب جو مرے ہاتھ آتا
چٹکیوں میں رقیب اڑجاتا
اڑنے کا استعارہ نکل جانے کے لیے کیا ہے۔ وجہ جامع اس میں قطع مسافت ہے جو اڑنے اور نکل جانے دونوں کے مفہوموں میں داخل ہے کیونکہ نکل جانا اور اڑنا حرکت ہے جس سے مسافت قطع ہوتی ہے۔ لیکن اس قدر کہ مستعار منہ میں شدید ہے اور مستعار لہ میں بہ نسبت اس کے ضعیف۔
وجاہت جھنجھانوی
قوم کے واسطے ملکوںمیں اڑے پھرتے ہیں
باوجودے کہ نہیں رکھتے ہیں پر آغا خان
جلد اور شتاب جانے کا استعارہ اڑے پھرنے کے ساتھ کیا ہے۔ وجہ جامع ان میں قطع مسافت ہے جو اڑ نے اور جلد جانے کے مفہوموں میں داخل ہے کیونکہ جلد جانا اور اڑے پھر نا ایسی حرکت کو کہتے ہیں جس سے مسافت جلد قطع ہو ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اڑنا مسافت کا پروں کے ساتھ قطع کرنا ہے جلد ہو یا دیر میں اور سرعت اس کے مفہوم میں داخل نہیں بلکہ اغلباً لازم ہے، جوا ب اس کا یوں دیا جائے گا کہ اڑنا مسافت کو جلدی قطع کرتا ہے۔ پروں کو اختیار ی طور پر ہوا میں ہلانے کے ساتھ، اور یوں بھی جواب دے سکتے ہیں کہ جامع میں ملتفت الیہ فقط مسافت کا قطع کرنا ہے نہ قطع کرنا مسافت کا سرعت کے ساتھ ۔
حالی
چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤ
بس بہت سوے اٹھو ہوش میں آو
غافل رہنے کا استعارہ سونے کے ساتھ کیا ہے اور غفلت و بے پروائی وجہ جامع ہے، جو دونوں کے مفہوموں میں داخل ہے۔ فرق اس قدر ہے کہ مستعار منہ میں شدید ہے اور بہ نسبت اس کے مستعار لہ میں ضعیف ہے ۔
(2) وجہ جامع مستعار منہ اور مستعار لہ کے مفہوم کا جز نہ ہوگی جیسے منور چہرے کو آفتاب کہیں اور بہادر آدمی کو شیر کہیں۔ ظاہر ہے کہ نورانیت سورج اور خوبصورت چہرے کو عارض ہیں۔ ان کے مفہوم میں داخل نہیں۔ اسی طرح شجاعت شیر اور بہادر آدمی کو عارض ہے دونوں کے مفہوم میں داخل نہیں۔ پس جامع دونوں مثالوں میں طرفین سے خارج ہے ۔
غلام امام شہید
جب چلا چاند مدینے کاسوے رب جلیل
بجھ گئی مہر درخشاں کی فلک پر قندیل
پیغمبر خدا کا استعارہ چاند کے ساتھ کیا ہے اور وجہ جامع دونوں میں خوبصورتی ہے اور یہ وجہ جامع دونوں کے مفہوموں کا جز نہیں بلکہ ان کو عارض ہے ۔
انیس
ہشیار کہ وقت ساز و برگ آیا
ہنگام یخ وبرف و تگرگ آیا
بڑھا پے کو یخ و برگ و تگرگ کے ساتھ استعارہ کیا ہے اور وجہ جامع سفیدی ہے اور وہ دونوں کے مفہوم سے خارج ہے ۔
ذوق
خواب غفلت سے ہو بیدا ر کہ آئی پیری
نہیں مہتاب یہ ہے روشنی صبح رحیل
مہتاب یعنی چاندنی استعارہ سفید بالوں سے ہے اور وجہ جامع سفیدی ہے اور وہ دونوں کے مفہوموں سے خارج ہے ۔
گلزارنسیم
سمٹی جو تھی محرم اس قمر کی
برجوں پر سے چاندنی تھی سر کی
یہاں پستان مستعار لہ ہے اور برج مستعار منہ اور وجہ جامع دونوں میں گول اور ابھر ہونا اور وہ دونوں کے مفہوم میں داخل نہیں ۔
ولہ
حاجت کے گماں سے جب ہوئی دیر
جھنجھلا کے پلنگ سے اٹھا شیر
بحر
رنڈیوں کو بھی پسند آیا ہے مردوں کا لباس
اودی اودی ٹوپیاں رکھتی ہیں سر پر چھاتیاں
چھاتی کے سروں کو اودی ٹوپی سے تشبیہ دی ہے اور وجہ جامع گولائی اور رنگ ہے اور یہ دونوں کے مفہوم سے خارج ہے یا جیسے نامرد کو روباہ کہیں، اس میں وجہ جامع بزدلی اور خوف ہے اور یہ ایک صفت ہے آدمی اور اس جانور کی ان کے مفہوم میں داخل نہیں ۔
انیس
اس شان سے غازی صف جنگاہ3 میں آیا
غل تھا کہ اسد لشکر روباہ میں آیا
(3) وجہ جامع ایسی ہو کہ بہت جلد سمجھ میں آجاتی ہو جیسے محبوب کے رخسار ے کو چاند کہنا یا آفتاب سے استعارہ کرنا یہ بات ظاہر ہے کہ روشنی جامع ہے۔ اسی طرح معشوق کے رخسار کو گل سے استعارہ کرنے میں رنگینی جامع ہے، ایسے استعارے کو عامیہ کہتے ہیں، اس لیے کہ بہ سبب ظہور کے اس کو عامۃ الناس جانتے ہیں اور اس کو مبتذلہ بھی بولتے ہیں کیونکہ ابتذال بہت صرف کرنے میں ہے اور ایسا استعارہ بہت مستعمل ہوتا ہے اور کچھ نادر نہیں ہوتا کہ سوا ایک دو جگہ کے اور کہیں استعمال میں نہ آیا ہو ۔
مسکین
اس صنم نے کیا پردے میں جہاں کو بے تاب
برملا ہوتا تو کیا جانے خدا کیا ہوتا
اس بیت میں صنم کا استعارہ معشوق کے واسطے ہے اور یہ نادر نہیں بہت مستعمل ہے اس لیے وجہ جامع اس کی بہ سبب ظہور کے سب پر ظاہر ہے 4۔
نسیم
یہ سن کے اشارے سے بلایا
بادام بنفشہ کو دکھایا
آنکھ کا استعارہ بادام سے کیا ہے اور وجہ جامع دونوں میں ظاہر ہے اور بنفشہ نام ہے مالن کا ۔
ولہ
طوق اس کو طلسم کا پنھایا
قمری اسے سرو نے بنایا
روح افزا پری کا استعارہ سرو کے ساتھ کیا ہے جس نے بہرام وزیر زادے کو جو اس کا عاشق تھا، طلسم کے ذریعہ سے قمری بنایا تھا اور وجہ جامع روح افزاو سرو میں موزونی قامت ہے جو ظا ہر ہے ۔
ولہ
اے شمع نہ سوچی گربد ونیک
رشتہ کاٹے گا تجھ سے ہر ایک
بکائولی کا استعارہ شمع سے کیا ہے اور وجہ جامع عیاں ہے۔
نفیس
چھپے نگاہ سے نور نگاہ زینب کے
غروب ہوگئے دو مہر و ماہ زینب کے
نور نگاہ اور مہر وماہ زینب کے فرزندوں سے استعارہ ہے اور وجہ جامع ظاہر ہے ۔
مومن
درنایاب تو کیا، خاک سے بھی منھ نہ بھرے
جس کے درپر میں کروں لو لوے شاداب نثار
اس بیت میں اشعار بلیغ کا استعارہ لولوے شاداب سے کیا ہے اور وجہ جامع ظاہر ہے ۔
ولہ
میرے گوہرتمام نا سفتہ
میرے یاقوت سب بدخشانی
اس شعر میں گوہر و یاقوت استعارہ اشعار سے کیا ہے اور وجہ جامع ہر شحص پر ظاہر ہے ۔
ظفر
سن کے نالوں کو مرے ہوگئے پتھر پانی
سر مژگاں بھی ترا نم نہ ہوا پر نہ ہوا
پتھر سخت دل بے ر حم سے استعارہ کیا ہے اور پانی ہونا استعارہ ہے ترس کھانے اور غم خواری کرنے سے اور وجہ جامع ظاہر ہے ۔
غلام محمد خان رہا
شیر رو باہوں کو ہم برپا کردیا تونے فلک5
اب تو چیتا تیرا اے گردون گرداں ہو گیا
شیر استعارہ بہادر سے ہے اور روباہ نامرد سے اور وجہ جامع دونوں میں ظاہر ہے ۔
نعیم
شکست چرخ سے ہے اپنے آبگینے کی
الٰہی ٹوٹے کہیں گردن اس کمینے کی
دل کا استعارہ آبگینے سے کیا ہے اور وجہ جامع دونوں میں ہر شخص پر ہویدا ہے ۔
انشا
بے کلی سے ترے کچھ دل کو سروکار نہ ہو
تیری نرگس بھی الٰہی کبھی بیمار نہ ہو
آنکھ کا استعارہ نرگس سے کیا ہے اور یہ استعارہ مبتذل ہے۔
فقیر
تو نے اوبت دل کو اپنے کرلیا فولاد حیف
کچھ اثر کرتی نہیں تجھ کو مری فریاد حیف
ولہ
ہو بہار چمن حسن پہ نازاں نہ بہت
اے گل تر یہ رہے گا ترا جو بن کب تک
امجد علی اصغر
خوب رو بت کے آشنا ہیں ہم
عاشق مذہب خدا ہیںہم
آباد
واللہ کیا ہے حسن بت پر غرور کا
بندوں کو شک ہوا ہے خدا کے ظہور کا
(4) وجہ جامع بہ وجہ نادر ہونے کے ہر ایک پر ظاہر نہ ہو سکے بلکہ بہ دقت سمجھ میں آتی ہو اور سوائے خواص کے عامۃ الناس اس کے سمجھنے سے قاصر ہوں اس قسم کو استعار ہ غریبہ کہتے ہیں ۔
میر
مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا
مے گل گوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا
شیشے کی آواز کو ہچکی سے استعارہ کیا ہے اور وجہ جامع اس میں شیشے کے اندر سے شراب وغیرہ کا نکلنا اور رک رک کر آواز پیدا ہونا ہے اور یہ بات یکایک خیال میں نہیں آتی 6۔
ذوق
جس کی آواز سے ہوں رونگٹے سوہاںکے کھڑے وہ محبت نے دیا سلسلۂ پا ہم کو
سوہان کے دندانے ابھرے ہوئے ہونے کو رونگٹے کھڑے ہونے سے استعارہ کیا ہے اور وجہ جامع اس میں بن موکا اندک اندک اونچا ہو جانا ہے رونگٹے کھڑے ہونے کے وقت چنانچہ یہ امر تجربہ اور مشاہدہ پر موقوف ہے اور اس طرح کی حالت سوہان کے اندر بعینہ پائی جاتی ہے اور خفا اس کا ظاہر ہے ۔
سودا
ہوا یہ جوش میں سودا کہ میری آنکھوں سے
بجا ے لعل نکلتے ہیںاب سلیمانی
جوش سودا سے سیاہ ہونے کے سبب اشک خونیں کو دانئہ سلیمانی سے استعار ہ کیا ہے اور سودا ایک خلط ہے اس کا رنگ سیاہ ہے اور چونکہ دانہ سلیمانی قدرے سفیدی بھی رکھتا ہے اس میں اشک رطوبت کا ہونا بھی معتبر ہے یہ بات بجز خواص کے اور کسی کو معلوم نہیں ہوسکتی ۔
میر
دم بدم رک رک کے ہے منھ سے نکل پڑتی زباں
وصف اس کا کہہ چکے فوراے یا کہنے کوہیں7
فوارے کے سوراخ سے پانی کی دھار کے نکلنے کو زبان کے نکل پڑنے سے استعارہ کیا ہے وجہ جامع اس میں دھار کا کبھی نیچا ہونا کبھی اونچا ہونا کبھی رک جانا کبھی نکلنے لگنا ہے اسی طرح زبان کبھی منھ سے باہر نکل آتی ہے اور کبھی اندر چلی جاتی ہے، کبھی زیادہ نکل آتی ہے، کبھی کم نکل آتی ہے۔
کبھی استعارہ عامیہ مبتذلہ میں تصرف کرنے سے غرابت حاصل ہوجاتی ہے جیسے ؎
نجانے قصد ہے کس خوں گرفتہ کا کہ رہتی ہے
علم شمشیر زہر آلودہ سر پر چشم فتان کے
ابرو کا استعارہ تیغ سے کیا ہے اور یہ استعارہ مبتذل ہے لیکن زہر آلودہ کہنے سے ایک طرح کی غرابت اس میں آگئی کیونکہ زہر کو سبزی سے نسبت ہے اور سبزی و سیاہی میں چنداں تفاوت نہیں۔ پس ابرو کو بہ سبب سیاہی رنگ کے تیغ زہر آلودہ سے استعارہ کرنا امر غریب ہے ۔
گلزار نسیم
غولوں نے بزور پھول اڑایا
اس خضر کو راستہ بتایا
تاج الملوک کے بھائیوں کو غولوں سے استعارہ کیا ہے اور چھین لینے کو اڑانے سے اور تاج الملوک کو خضر سے استعارہ کیا ہے اور تاج الملوک سے پھول چھین کر بھگا دینے کا استعارہ راستہ بتانے سے کیا ہے۔ حاصل معنی یہ ہیں کہ تاج الملوک کے بھائیوں نے زبردستی پھول اس سے چھین کر وہاں سے بھگا دیا اگر چہ استعارہ اپنے مفردات کی وجہ سے مبتذل ہے لیکن ترکیب کی وجہ سے اس میں غرابت پیدا ہوگئی ہے ۔
ولہ
آنکھوں سے اس انجمن کو دیکھا
یک جا بت و برہمن کو دیکھا
لعل وگہر ایک درج میں ہے
شمس و قمر ایک برج میں ہے
تاج الملوک کا استعارہ برہمن سے کیا ہے اور بکائولی کا بت سے۔ اسی طرح لعل و گہر اور شمس و قمر سے ان دونوں کااستعارہ کیا ہے اور مٹھ کا استعارہ درج اور برج کے ساتھ کیا ہے اور یہ استعارے اگر چہ اپنے مفردات کے اعتبار سے مبتذل ہیں لیکن بہ سبب ترکیب کے غرابت حاصل کرلی ہے ۔
ولہ
بولی وہ کہ بخت تھا زبر دست
خورشید کو ذرے نے کیا پست
بکائولی کا استعارہ خورشید سے کیا ہے اور تاج الملوک کا ذرے سے اور یہ استعارہ اگر چہ اپنے مفردات کے اعتبار سے نادر نہیں مگر بہ سبب ترکیب کے غرابت آگئی ہے ۔
عاشق
تماشا دیکھتا ہوں میں تری قدرت نمائی کا
خدا کی شان دعویٰ ہے بتوں کو بھی خدائی کا
بتوں کا استعارہ معشوق کے لیے مبتذل ہے مگر یہ کہہ دینے سے کہ خدا کی شان بتوں کو بھی خدائی کا دعویٰ ہے کسی قدر ندرت آگئی ہے ۔
غالب
کیونکہ اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
ایمان کے ذکر نے بت کے استعارے میں معشوق کے لیے غرابت پیدا کردی ہے ۔
حواشی
1 دیوان ناسخ اول میں رباعیاں نہیں ہیں۔ دیوان دوم میں ہیں، اور یہ رباعی ان میں سے نہیں ہے۔
(مطبع نولکشور کانپور، 1872، ایڈیشن)
2 اس لفظ کا استعمال لازمی نہیں تھا۔ اور یہ درست بھی نہیں ہے۔ گرجا گھروںمیں حضرت عیسیٰؑ اور جناب مریم کی شبیہیں ہیں، لیکن مسیحی فرقے کو کفار کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا۔ اردو شاعری میں، اور کلاسیکی فارسی شاعری میں کافر اور بت ، دونوں لفظ معشوق کے مرادی معنوں میں کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔ خود اس کتاب میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔
3 مرکب لفظ جنگ گاہ ہے، لیکن میر انیس نے ایک گاف کی تخفیف کر کے جنگاہ بنایا ہے۔ جو لغات دیکھے، ان میں یہ لفظ نہیں ہے۔ اس کا اضافہ کیا جانا چاہیے۔
4 اس شعر کے ایک معنی اور بھی ہیں ، اور اس کا امکان بعید نہیں کہ وہی مفہوم شاعر کا منشاہو۔ اگر عشق حقیقی یا تصوف کا شعر مانیں تو بہت ہی مربوط خیال بہت ہی مربوط طریقے سے نظم ہوا ہے۔
5 رہا کے شعر کا پہلا مصرع رمل مثمن محذوف الآخر (فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) ایک سبب خفیف زیادہ ہونے کی وجہ سے بے آہنگ ہے۔’شیرروبا ہوں کو برپا کردیا تو نے فلک‘ یا متبادل ’شیرروباہوں کو ہم پا کردیا تو نے فلک‘ ہو تو مصرع آہنگ میں ہوگا۔
6 حکیم مولوی نجم الغنی اس کوچے کے آدمی نہیں تھے، اس لیے قلقل مینا اور خندئہ ساغر/خندئہ جام کی طرف ان کا دھیان نہیں گیا۔ خدائے سخن نے اسی کی بات کی ہے، جو فوراً خیال میں آتی ہے۔
7 میر تقی میر کے کلیات میں کوئی غزل اس زمین میں نہیں ملی۔

ماخذ: بحرالفصاحت (جلد دوم)، تالیف: حکیم نجم الغنی خاں نجمی رامپوری، تدوین: کمال احمد صدیقی، دوسری اشاعت: 2023، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو دنیا : نومبر2025

Magazine Name : Urdu Duniya   میگزین کا نام: اردو دنیا Publish Date: 07-11-2025 اشاعت کی تاریخ: ۰۷-۱۱-۲۰۲۵ Download : Book Download ڈاؤن لوڈ    

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ