عصری ٹیکنالوجی اور اردو زبان:مسائل،حل اور امکانات،مضمون نگار:ذاکر احمد کمار

May 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

موجودہ عہد کو اگر کسی ایک نمایاں خصوصیت کے ذریعے بیان کیا جائے تو وہ بلا شبہ ’ڈیجیٹلائزیشن‘ ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن محض ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تبدیلی ہے، جس نے انسانی زندگی کے فکری، سماجی، معاشی اور تہذیبی ڈھانچوں کو ازسرنو تشکیل دیا ہے۔ معلومات کی تخلیق، ترسیل اور ذخیرہ اندوزی کے روایتی طریقے اب ڈیجیٹل ذرائع میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں علم تک رسائی نہایت آسان اور تیز تر ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز نے دنیا کو ایک ’عالمی گاؤں‘ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں فاصلے اور سرحدیں اپنی معنویت کھوتے جارہے ہیں۔
ڈیجیٹلائزیشن کے اس عمل نے نہ صرف انسانی روابط اور طرززندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ زبان و ادب کے میدان میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ زبان، جو انسانی فکر و شعور کی بنیادی ترجمان ہوتی ہے، اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایک نئی جہت کے ساتھ سامنے آرہی ہے۔ اظہار کے انداز بدل رہے ہیں، ابلاغ کے ذرائع متنوع ہو رہے ہیں اور زبانوں کے مابین تعامل میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ آیا تمام زبانیں اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر پا رہی ہیں یا نہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں وہی زبانیں زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کر رہی ہیں جو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو چکی ہیں اور جن کے پاس معیاری ڈیجیٹل مواد، جدید سافٹ ویئر اور تحقیق و تدریس کے لیے موزوں وسائل موجود ہیں، جبکہ دیگر زبانیں بتدریج حاشیے پر جا رہی ہیں۔ یہی صورت حال اردو زبان کے حوالے سے بھی دیکھی جاسکتی ہے، جو ایک عظیم ادبی اور تہذیبی ورثے کی حامل ہونے کے باوجود ڈیجیٹل عہد کے تقاضوں سے خاطر خواہ طور پر ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔
اکیسویں صدی کو بجا طور پر ڈیجیٹل انقلاب کی صدی قرار دیا جاتا ہے، جس میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ابلاغ، تعلیم، معیشت، تحقیق اور سماجی روابط کے تمام نظام اب بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تابع ہو چکے ہیں۔ اس تغیر پذیر عالمی منظرنامے میں زبانیں محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ علم کی ترسیل، تہذیبی شناخت اور عالمی سطح پر مقام کے تعین کا بنیادی وسیلہ بن گئی ہیں۔ اس تناظر میں اردو زبان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایک ادبی زبان ہے بلکہ ایک بھرپور تہذیبی روایت کی امین بھی ہے۔ اس حوالے سے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں:
’’زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت کا سب سے مستحکم حوالہ ہوتی ہے۔ اس کے اندر اس قوم کی تاریخ، روایات، اقدار اور اجتماعی شعور محفوظ ہوتا ہے۔ جب کوئی زبان کمزور پڑتی ہے تو دراصل اس کے پس منظر میں موجود تہذیب بھی زوال کا شکار ہونے لگتی ہے، کیونکہ زبان ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے تہذیب اپنی بقا اور تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔‘‘ 1
یہ اقتباس اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ اردو زبان کو درپیش مسائل محض لسانی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک وسیع تہذیبی اور فکری تناظر رکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں وہ زبانیں جو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں، ترقی کے نئے افق تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جب کہ دیگر زبانیں بتدریج حاشیے پر جا رہی ہیں۔ اردو زبان بھی اسی کشمکش سے گزر رہی ہے۔
اردوجو برصغیر کی ایک اہم تہذیبی و ادبی زبان ہے، اپنی وسعت اظہار، لطافت اور ادبی روایت کے باعث ایک منفرد مقام رکھتی ہے، تاہم ڈیجیٹل عہد میں اسے کئی پیچیدہ اور ہمہ گیر چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ انگریزی زبان کا عالمی غلبہ ہے، جو سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ڈیجیٹل مواد کی بنیادی زبان بن چکی ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب بیشتر علمی اور سائنسی مواد انگریزی میں ہونے کے باعث اردو صارفین کو یا تو انگریزی سیکھنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے یا وہ جدید علم سے جزوی طور پر محروم رہ جاتے ہیں۔ اس صورت حال نے اردو کو ایک ثانوی حیثیت میں محدود کردیا ہے۔
اردو زبان کی تشکیل و ارتقا میں عربی اور فارسی زبانوں کا نہایت اہم کردار رہا ہے۔ ان زبانوں سے ہزاروں الفاظ اردو میں شامل ہوئے، جنہوں نے اسے ایک وسیع، مالا مال اور متنوع زبان بنایا۔ علمی، ادبی اور مذہبی میدانوں میں اردو کی وسعت کا بڑا سبب یہی لسانی اشتراک ہے۔ تاہم، یہی عربی اور فارسی الفاظ بعض حوالوں سے اردو زبان کے لیے ایک چیلنج بھی بن گئے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ غیر ضروری الفاظ کے اضافے کا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں نئی اصطلاحات وضع کرتے وقت اکثر عربی اور فارسی الفاظ کو ترجیح دی جاتی ہے، جس سے اردو میں مشکل اور ثقیل الفاظ کا اضافہ ہوتا رہتا ہے اور زبان کی سادگی متاثر ہوتی ہے۔دوسرا اہم مسئلہ عام تفہیم کا فقدان ہے۔ بہت سے عربی اور فارسی الفاظ عام لوگوں کے لیے مشکل ہوتے ہیں، جس کے باعث انھیں سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس سے زبان اور عوام کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ تیسرا پہلو لسانی خلوص اور شناخت کا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حد سے زیادہ عربی و فارسی الفاظ کے استعمال سے اردو کی اپنی شناخت متاثر ہو رہی ہے اور اس کی اصل سادگی و روانی کم ہو رہی ہے۔ چوتھا مسئلہ نئے الفاظ کی تخلیق میں رکاوٹ ہے۔ جب ہر نئی چیز کے لیے عربی یا فارسی متبادل تلاش کیا جاتا ہے تو اس سے اردو میں نئے اور مقامی انداز کے الفاظ بنانے کی روایت کمزور پڑ جاتی ہے، جو زبان کی فطری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ان مسائل کے پیش نظر ضروری ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جائے۔ عربی اور فارسی الفاظ اردو کا سرمایہ ہیں، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ سادہ، عام فہم اور بامعنی الفاظ کو ترجیح دی جائے، اور ساتھ ہی نئے اردو الفاظ کی تخلیق پر بھی توجہ دی جائے تاکہ زبان نہ صرف زندہ رہے بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہو سکے۔ڈاکٹر جمیل جالبی اس حوالے سے لکھتے ہیں:
’’اردو زبان نے برصغیر کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی جس جامع انداز میں کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے، مگر جدید دور میں اس کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، ورنہ یہ محض ایک ادبی زبان بن کر رہ جائے گی۔‘‘ 2
اردو میں معیاری ڈیجیٹل مواد کی کمی بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اگرچہ ادبی مواد کسی حد تک موجود ہے، تاہم سائنسی، تکنیکی، فلسفیانہ اور جدید تحقیقی موضوعات پر اردو میں مواد نہایت محدود ہے، جو اس کی علمی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ مزید برآں اردو زبان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات، جیسے خودکار ترجمہ، اسپیچ ریکگنیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اصطلاح سازی کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل عہد میں اردو زبان کو جن اہم چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کا ترجمہ ایک نمایاں مسئلہ ہے۔ عصرحاضر میں سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم میں تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں نت نئی اصطلاحات مسلسل معرض وجود میں آ رہی ہیں۔ ان اصطلاحات کو اردو زبان میں منتقل کرنا ایک نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی عمل ہے، جو محض لسانی مہارت ہی نہیں بلکہ متعلقہ علمی میدانوں میں گہری واقفیت کا بھی متقاضی ہے۔اصطلاحات کی برق رفتار تخلیق اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے۔ جدید سائنسی اور تکنیکی ترقیات کے باعث روزانہ کی بنیاد پر نئی اصطلاحات وضع کی جا رہی ہیں، جن کا بروقت اور معیاری اردو متبادل فراہم کرنا ایک بڑا علمی چیلنج ہے۔ اس ضمن میں تاخیر یا عدم توجہی کے نتیجے میں اردو زبان جدید علمی مباحث سے ہم آہنگ ہونے میں پیچھے رہ جاتی ہے۔
مزید برآں، بہت سی اصطلاحات ایسی ہیں جن کا براہ راست یا لفظی ترجمہ ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے مفاہیم سیاق و سباق اور عملی استعمال سے وابستہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان اصطلاحات کے ترجمے کے لیے محض لغوی مطابقت کافی نہیں بلکہ مفہومی ہم آہنگی (Semantic equivalence)کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اس میدان میں ماہرین کی کمی بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ اردو میں سائنسی و تکنیکی اصطلاحات کی معیاری تشکیل کے لیے ماہرین لسانیات اور متعلقہ سائنسی شعبوں کے ماہرین کے باہمی اشتراک کی ضرورت ہے، جو فی الوقت محدود نظر آتا ہے۔ اس کمی کے باعث ایک ہی اصطلاح کے متعدد اور غیر معیاری تراجم رائج ہو جاتے ہیں، جو علمی ابلاغ میں ابہام اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اس مسئلے کے متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اول، علمی و تحقیقی مواد کی اردو میں فراہمی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ مناسب اصطلاحی متبادلات کی عدم دستیابی ترجمے کے عمل کو دشوار بنا دیتی ہے۔ دوم، یہ صورت حال اردو زبان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، کیونکہ کسی بھی زبان کی وسعت اور بقا کا انحصار اس کی علمی و سائنسی استعداد پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اصطلاحات کے فقدان کے باعث اردو زبان کا دائرہ کار محدود ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری محسوس کرتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں:
’’اردو میں سائنسی اور فنی اصطلاحات کی تیاری ایک منظم علمی کوشش کی متقاضی ہے، جس میں تسلسل، تحقیق اور ادارہ جاتی سرپرستی بنیادی حیثیت رکھتی ہے، بصورت دیگر زبان جدید علوم سے کٹ کر رہ جاتی ہے۔‘‘ 3
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اردو زبان کے معیار کو بھی متاثر کیا ہے۔ رومن اردو، غیر معیاری املا اور قواعد سے انحراف زبان کی ساخت اور اس کے جمالیاتی پہلو کو متاثر کر رہے ہیں۔ نئی نسل میں اردو سے دوری بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اور سماجی سطح پر انگریزی کو ترجیح دینا ہے۔ تاہم ان تمام چیلنجز کے باوجود اردو زبان کے لیے امکانات کے دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ ڈیجیٹل دور نے اس کے فروغ کے لیے نئے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ سب سے اہم ضرورت اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ہے۔ اس مقصد کے لیے اردو میں معیاری ڈیجیٹل مواد کی تیاری، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز کا قیام اور جدید ایپلیکیشنز کی تخلیق ناگزیر ہے۔ اسی حوالے سے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے:
’’ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زبانوں کے فروغ، تحفظ اور عالمی سطح پر ترویج میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر مقامی زبانوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی دی جائے تو وہ نہ صرف زندہ رہ سکتی ہیں بلکہ نئی نسل تک مؤثر طریقے سے منتقل بھی ہو سکتی ہیں، جو ان کے تسلسل کی ضمانت ہے۔‘‘4
تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اردو کو ایک فعال علمی زبان کے طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ جامعات اور تحقیقی ادارے اگر اردو میں سائنسی اور تحقیقی مواد کی تیاری کو فروغ دیں تو طلبہ اپنی زبان میں جدید علوم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اردو زبان کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیمی نظام میں اہم تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ اس زبان سے وابستگی پیدا کریں۔ اردو زبان کی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی تربیت ناگزیر ہے۔ انھیں جدید تدریسی طریقوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ طلبہ کو دلچسپ اور مؤثر انداز میں اردو سکھا سکیں۔ نصابی مواد کو جدید موضوعات سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ طلبہ کی دلچسپی برقرار رہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں مشاعرے، تقریری مقابلے اور ادبی نشستوں کا انعقاد بھی اردو کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح لائبریریوں کا قیام اور اردو کتب و رسائل کی دستیابی بھی اہم ہے۔
اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ میڈیا کے ذریعے اردو کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اسے ایک جدید اور زندہ زبان کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز، ریڈیو پروگرامز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اردو زبان کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اردو بلاگنگ، ڈیجیٹل جرائد اور آن لائن پلیٹ فارمز بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی فلموں اور ڈراموں کو اردو میں ڈب کر کے عوام تک پہنچانا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔عالمی سطح پر بھی اردو کے فروغ کے امکانات روشن ہیں۔ بیرون ممالک میں مقیم اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد اور اردو ادب و ثقافت میں عالمی دلچسپی اس زبان کو ایک بین الاقوامی شناخت دے سکتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اردو ادب، شاعری اور ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ ڈیجیٹل دور اردو زبان کے لیے چیلنجز اور امکانات دونوں لے کر آیا ہے۔ اگر سنجیدہ، منظم اور طویل المدتی حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں اور ٹیکنالوجی کو اردو کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو اردو نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھ سکتی ہے بلکہ جدید دنیا میں ایک فعال، مؤثر اور باوقار مقام بھی حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اردو کو محض ماضی کی یادگار کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے مستقبل کی زبان بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ زبان ہی کسی قوم کی شناخت اور تہذیبی تسلسل کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔

حوالہ جات
1 گوپی چند نارنگ، اردو زبان اور لسانیات، رام پور رضا لائبریری،اتر پردیش، 2006، ص45
2 جمیل جالبی، تاریخ ادب اردو، مجلس ترقی ادب، کراچی، 2006، جلد1، ص 78
3 فرمان فتح پوری، اردو نثر کا فنی ارتقا،سنگ میل پبلی کیشنز، 2012، ص 112
4 (UNESCO,Language and Digital Technology, پیرس: یونیسکو پبلشنگ، 2018، ص، 67

Zakir Ahmad Kumar
Research Scholar
Central University of Kashmir
Kashmir – 190006 (J&K)
Zakirahkumar@gmail.com
Mob.: 9797248155

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ

ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

اردو دنیا،مارچ2026: انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی

لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

اردودنیا،جنوری 2026: کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ