اردو انفارمیٹکس میں اطلاعاتی و معلوماتی ٹیکنالوجی کی اصطلاح،مضمون نگار:مکرم نیاز

May 6, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

گذشتہ دو دہائیوں میں اردو زبان میں ایک نیا علمی و فنی شعبہ بتدریج ابھر کر سامنے آیا ہے جسے عموماً ’اردو اطلاعیات‘ یا ’اردو انفارمیٹکس‘ کہا جاتا ہے۔ اس شعبے کا بنیادی مقصد اردو زبان کو جدید معلوماتی اور ترسیلاتی ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس ضمن میں حروف اور رسم الخط کی معیاری ڈیجیٹل تشکیل، کی بورڈ لے آؤٹس کی سائنسی تدوین، فونٹ ڈیزائننگ، یونیکوڈ انکوڈنگ، اور خودکار ترجمہ جاتی نظامات (Translation Machine) جیسے موضوعات شامل ہیں۔
ہندوستان اور دیگر ممالک کے مختلف سرکاری و تحقیقی اداروں میں یہ احساس زیادہ پختہ ہوا ہے کہ اردو کو ڈیجیٹل عہد کی فعال زبان بنانے کے لیے اردو اطلاعیات اور اردو معلوماتیات کی نظریاتی و عملی بنیادوں کو مستحکم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف تحقیقی ادارے اور تنظیمیں اردو زبان کے لیے سافٹ ویئر لوکلائزیشن، ڈیجیٹل وسائل کی تیاری اور لسانی ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام کر رہی ہیں۔
یہ شعبہ محض تکنیکی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق لسانی معیار سازی، ثقافتی تحفظ اور عالمی ڈیجیٹل نظام میں اردو کی موثر شمولیت سے بھی ہے۔ مثال کے طور پر نستعلیق رسم الخط کی پیچیدہ خطاطی کو ڈیجیٹل اسکرینوں پر معیاری انداز میں پیش کرنے کی کوششیں، یا اردو مواد کے لیے سرچ انجن آپٹیمائزیشن کی تکنیک، اردو انفارمیٹکس کے اہم موضوعات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں ہندوستان کے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی جیسے ادارے قابل ذکر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اردو انفارمیٹکس دراصل لسانیات، کمپیوٹر سائنس اور معلوماتی علوم کے باہمی اشتراک سے تشکیل پانے والا ایک بین الشعبہ جاتی میدان ہے۔ جدید دنیا میں کسی زبان کی بقا اور ترقی اب صرف ادبی پیداوار پر منحصر نہیں رہی بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ وہ زبان ڈیجیٹل نظامات میں کس حد تک موثر طریقے سے شامل ہو سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں کارپس لسانیات، قدرتی زبان کی پراسیسنگ (Natural Language Processing) تقریر کی شناخت (Recognition Speech) اور مشینی ترجمہ جیسے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اردو میں ان میدانوں میں تحقیق کا دائرہ ابھی محدود ضرور ہے، مگر گذشتہ برسوں میں اردو متنی ذخائر کی تیاری، خودکار املا تصحیح اور اردو سرچ انجن انڈیکسنگ جیسے منصوبے سامنے آئے ہیں، جو اردو انفارمیٹکس کی ترقی کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اردو انفارمیٹکس کی عملی ترقی کے لیے صرف نظری مباحث یا اصطلاح سازی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع لسانی وسائل (Linguistic Resources) کی دستیابی بھی ضروری ہے۔ جدید زبانوں میں کمپیوٹیشنل تحقیق کا زیادہ تر انحصار بڑے متنی ذخائر، لغوی ڈیٹابیس، اور تشریح شدہ کارپس (Corpora Annotated) پر ہوتا ہے۔ ان وسائل کی مدد سے زبان کے صرفی، نحوی اور معنوی پہلوؤں کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے، جس سے قدرتی زبان کی پراسیسنگ کے مختلف اطلاقات مثلاً خودکار ترجمہ، املا کی درستی، متن کی درجہ بندی اور معلوماتی بازیافت جیسے نظامات تیار کیے جا سکتے ہیں۔
اردو زبان کے لیے اس نوع کے وسائل کی تیاری ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں متعدد تحقیقی منصوبے سامنے آئے ہیں جن میں اردو لغوی ذخائر کی ڈیجیٹل ترتیب، مشینی لغات کی تیاری، اور اردو کے بڑے متنی کارپس کی تشکیل شامل ہے۔ ان منصوبوں کی بدولت اردو زبان کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے نظامات میں بہتر طور پر شامل کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر بھی اہم ہے کہ اردو کے لسانی وسائل کو اوپن سورس شکل میں دستیاب کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے محققین اور سافٹ ویئر ڈیولپرز اردو زبان کے لیے نئی تکنیکی ایجادات پر کام کرسکیں۔
اردو ٹرمنالوجی کے بنیادی چیلنجز
اردو انفارمیٹکس کی ایک بنیادی جہت اصطلاح سازی اور معیار سازی ہے۔ اس میدان میں Information Technology, Information and Communication Technology(ICT), Informatics, Data Science اور Artificial Intelligence جیسی انگریزی اصطلاحات کے بامحاورہ اور دقیق اردو متبادلات کی تلاش ایک اہم مسئلہ ہے۔
اردو میں انگریزی اصطلاحات کے لیے عموماً تین طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ پہلا طریقہ صوتی نقل (Transliteration) کا ہے، جیسے ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سافٹ ویئر۔ دوسرا طریقہ نیم ترجمہ ہے، جیسے اطلاعاتی ٹیکنالوجی یا ڈیٹا بیس۔ تیسرا طریقہ مکمل ترجمہ کا ہے، جیسے معلوماتی نظام یا خودکار ذہانت۔ یہ تنوع ایک طرف لسانی لچک پیدا کرتا ہے، مگر دوسری طرف تدریسی اور تحقیقی حلقوں میں اصطلاحی ابہام بھی پیدا کرتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ اردو ٹرمنالوجی کے باب میں مفہومی باریکیوں، علمی روایت اور عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ اصطلاحات کی طرف پیش رفت کی جائے۔ مثال کے طور پر ‘algorithm’ کو صرف ’الگورتھم‘ کہنے کے بجائے ’حساباتی فارمولا‘ یا ’گنتی کا فارمولا‘ جیسے متبادلات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح database کے لیے ’ڈیٹا بیس‘ کے ساتھ ’معلوماتی ذخیرہ‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ ایسی اصطلاح سازی نہ صرف تدریس کو آسان بناتی ہے بلکہ اردو کو سائنسی و تکنیکی اظہار کی ایک موثر و مقبول زبان بھی بنا سکتی ہے۔
عالمی تناظر اور اردو کی کوششیں
بین الاقوامی سطح پر معلوماتی ٹیکنالوجی سے متعلق اصطلاحات کے مختلف مقامی تراجم رائج ہیں۔ عربی زبان میں تقنیۃ المعلومات اور المعلوماتیۃ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں، جبکہ ترکی میں Teknolojileri Bilisim اور جرمن میں Informatik رائج ہے۔ چین میں بھی Information Technology کے لیے مقامی زبان میں مخصوص اصطلاحات مستعمل ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف زبانیں اپنی لسانی روایت اور علمی ضروریات کے مطابق اصطلاح سازی کا عمل جاری رکھتی ہیں۔
اردو میں بھی اس سلسلے میں مختلف اصطلاحات رائج ہیں، جیسے اطلاعاتی ٹیکنالوجی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور معلوماتی و ترسیلاتی ٹیکنالوجی۔ صحافتی حلقوں میں پہلی اصطلاح زیادہ استعمال ہوتی ہے، جبکہ جامعات اور تحقیقی اداروں میں دوسری اصطلاح کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔
اصطلاح سازی کا یہ مسئلہ صرف لسانی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بھی ہے۔ مختلف ممالک میں علمی ادارے نئی سائنسی اصطلاحات کی معیار بندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عرب دنیا میں مجمع اللغۃ العربیۃ اور ایران میں فرہنگستانِ زبان و ادب فارسی نے اس میدان میں قابل ذکر کام کیا ہے۔ اردو میں بھی اردو سائنس بورڈ، سنٹر فار لینگویج انجینئرنگ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے ادارے مختلف لغات اور اصطلاحی فہرستیں مرتب کر چکے ہیں۔ تاہم ان اصطلاحات کا یکساں استعمال ابھی تک پوری طرح رائج نہیں ہو سکا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اردو مترادف
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اردو متبادل کے طور پر عموماً دو اصطلاحات سامنے آتی ہیں: اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور معلوماتی ٹیکنالوجی۔ بظاہر دونوں مترادف معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے درمیان ایک باریک معنیاتی فرق موجود ہے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں لفظ ’اطلاعات‘ دراصل اطلاع کی جمع ہے جس کا بنیادی مفہوم خبر رسانی یا آگاہی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے یہ اصطلاح صحافتی اور ابلاغی تناظر میں زیادہ موزوں محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وزارتِ اطلاعات، نظامِ اطلاعات اور اطلاعاتی نشریات جیسی تراکیب عام طور پر میڈیا اور خبر رسانی کے سیاق میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس نقطہ نظر سے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کو Information dissemination Technology کے قریب سمجھا جاسکتا ہے۔
اس کے برعکس ’معلومات‘ لفظ ’معلوم‘ سے بنا ہے اور اس کا تعلق علم، ڈیٹا اور علمی مواد سے ہے۔ چنانچہ معلوماتی ٹیکنالوجی کی اصطلاح ڈیٹا کے ذخیرہ، تنظیم اور تجزیے سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے تناظر میںInformation Technology دراصل ان نظامات کا مجموعہ ہے جو معلومات کو محفوظ کرنے، پراسیس کرنے اور منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین کے نزدیک معلوماتی ٹیکنالوجی کی اصطلاح اس تصور کے زیادہ قریب ہے۔
ICT اور ترسیلاتی ٹیکنالوجی
کبھی کبھی اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے بجائے ’ترسیلاتی ٹیکنالوجی‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم اس اصطلاح کا دائرہ نسبتاً محدود ہے کیونکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر مواصلاتی نظامات سے ہے، جیسے ٹیلی کمیونیکیشن، براڈکاسٹنگ اور انٹرنیٹ نیٹ ورک۔
انگریزی اصطلاح Information Technology دراصل تین بنیادی عناصر پر مشتمل ہے: معلومات کا ذخیرہ، معلومات کی پراسیسنگ اور معلومات کی ترسیل۔ اگر صرف ترسیلاتی ٹیکنالوجی کہا جائے تو اس سے Communication Technologyکا مفہوم زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے Information and Communication Technology کی اصطلاح زیادہ جامع سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں معلوماتی نظامات اور مواصلاتی نظامات دونوں شامل ہوتے ہیں۔
اطلاعیات یا معلوماتیات
بعض ماہرین نے انفارمیٹکس کے لیے اردو اصطلاح ’اطلاعیات‘ تجویز کی ہے۔ ایک ماہرِ لسانیات حافظ صفوان کے مطابق آئی ٹی دراصل آئی سی ٹی ہی کی ایک شکل ہے اور اس کے لیے ’اطلاعیات‘ کی اصطلاح پہلے سے موجود ہے۔ تاہم اس تجویز پر بھی علمی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
اردو میں دو قریبی الفاظ ’اطلاعات‘ اور ’معلومات‘ موجود ہیں۔ چونکہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا تعلق زیادہ تر ڈیٹا پراسیسنگ اور معلوماتی نظامات سے ہے، اس لیے بعض ماہرین کے نزدیک ’معلوماتیات‘ کی اصطلاح زیادہ موزوں معلوم ہوتی ہے۔ عربی زبان میں بھی ’المعلوماتیۃ‘ جیسی اصطلاح رائج ہے جو Informatics یا Information Scienceکے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اس طرح موجودہ صورت حال میں اردو میں تین اصطلاحی رجحانات نمایاں نظر آتے ہیں: اطلاعاتی ٹیکنالوجی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور اطلاعیات یا معلوماتیات۔ ابھی تک ان میں سے کوئی ایک اصطلاح مکمل طور پر غالب نہیں آئی، مگر علمی حلقوں میں’معلوماتیات‘ کو انفارمیٹکس کے لیے نسبتاً موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
کارپس یا متنی ذخیرہ: ایک اصطلاحی بحث
اردو انفارمیٹکس میں ایک اور اہم اصطلاح ‘Corpus’ ہے جس پر حالیہ برسوں میں بحث ہوئی ہے۔ انگریزی میں Corpus سے مراد کسی زبان کے تحریری یا گفتاری مواد کا ایک منظم اور قابل تلاش ڈیجیٹل ذخیرہ ہوتا ہے جسے لسانی تحقیق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اردو میں اس اصطلاح کے دو ممکنہ متبادلات سامنے آئے ہیں: ’کارپس‘ اور ’متنی ذخیرہ‘۔ پہلا طریقہ صوتی نقل کا ہے جس میں انگریزی لفظ کو اردو رسم الخط میں لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ساتھ ہوا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ عالمی علمی ادب سے اصطلاحی ربط برقرار رہتا ہے۔
دوسری طرف ’متنی ذخیرہ‘ ایک وضاحتی ترجمہ ہے جو عام قارئین کے لیے زیادہ بامعنی محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس میں لفظ ’متن‘ اور’ذخیرہ‘ دونوں مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔ عملی طور پر لسانی تحقیق میں ’کارپس‘ کی اصطلاح زیادہ استعمال ہو رہی ہے جبکہ تعارفی تحریروں میں ’متنی ذخیرہ‘ بھی رائج ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں یہی دہرا استعمال برقرار رہے۔
اردو انفارمیٹکس کا میدان ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے اور آئندہ برسوں میں اس کے امکانات مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔ مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمہ اور بڑے لسانی ماڈلز (Large Language Models) کی ترقی نے دنیا کی بڑی زبانوں کے ساتھ ساتھ نسبتاً کم ڈیجیٹل وسائل رکھنے والی زبانوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اگر اردو کے لیے معیاری متنی ذخائر، لغوی ڈیٹابیس اور مستند اصطلاحی لغات تیار کی جائیں تو اردو زبان بھی جدید لسانی ٹیکنالوجی کے میدان میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس تناظر میں اصطلاحی معیار سازی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جب تک علمی اور تکنیکی اصطلاحات میں یکسانیت پیدا نہیں ہوگی، اردو میں سائنسی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں دشواریاں برقرار رہیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ جامعات، تحقیقی ادارے اور سرکاری تنظیمیں باہمی تعاون سے اردو کی سائنسی و تکنیکی اصطلاحات کی ایک جامع فہرست مرتب کریں اور اسے تدریسی و تحقیقی سطح پر رائج کریں۔ اس طرح نہ صرف اردو انفارمیٹکس کے میدان کو مضبوط بنیاد ملے گی بلکہ اردو زبان جدید علمی و سائنسی مباحث میں زیادہ موثر انداز میں شریک ہو سکے گی۔

حوالہ جات
• Urdu Informatics, Wikipedia
• اطلاعیات، اردو ویکیپیڈیا
• Shabdkosh, Terminology Technology Informaation
• درانی، عطش: اردو اطلاعیات (جلد 1 و 2)، اردو سائنس بورڈ لاہور
• Center for Language Engineering, UET Lahore: Urdu Localization Glossary
• NCPUL Digital Resources and Urdu Computing Initiatives
• ICT Terminology Dictionary, Telecommunication Development Resources Authority

Mukarram Niyaz
H.No 16.08.544, Dawood Residency
New Malakpet
Hyderabad- 500024 (Telangana)
Mob.: 8096961731
smniyaz@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو ادب میں ڈیجیٹل ثقافت کی تشکیل ایک نظری و فکری مطالعہ،مضمون نگار:عبدالرزاق

اردو دنیا،مارچ2026: اردو ادب کی تاریخ میں ہر دور کسی نہ کسی فکری، سماجی یا فنی انقلاب کا آئینہ دار رہا ہے۔ کلاسیکی عہد میں داستان و قصیدہ، سرسید کے

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،