اردو ادب اطفال پر دیگر زبانوں کے اثرات،مضمون نگار:مظفر حسین غزالی

May 13, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

بچوں کا ادب ہر زبان کی تہذیبی و اخلاقی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بچوں کے لیے تخلیق کیا جانے والا ادب دراصل اس معاشرے کے فکری رجحانات، تہذیبی اقدار اور تعلیمی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ اردو میں بچوں کے ادب کی روایت انیسویں صدی کے اواخر میں ابھری اور رفتہ رفتہ ایک مضبوط اور باقاعدہ صنف کے طور پر سامنے آئی۔ اس مضمون میں اردو اور دیگر زبانوں میں بچوں کے ادب کا تقابلی مطالعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ مختلف زبانوں کے ادب میں بچوں کی ذہنی تربیت، اخلاقی اقدار، تخیل اور سماجی شعور کو کس طرح پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کرنا ہے کہ اردو میں بچوں کا ادب ایک طرف عالمی ادبی روایات سے متاثر ہے تو دوسری طرف اپنی مقامی تہذیبی خصوصیات کے باعث منفرد حیثیت بھی رکھتا ہے۔
ادبِ اطفال ہر زبان میں آنے والی نسلوں کی فکری تشکیل کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادب محض تفریح کا سامان نہیں بلکہ تعلیم، تربیت اور کردار سازی کا ایک موثر وسیلہ بھی ہے۔ بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہانیاں، نظمیں، نظمیہ ڈرامے، تمثیلی حکایات اور معلوماتی مضامین تخلیق کیے جاتے ہیں تاکہ بچے نہ صرف لطف اندوز ہوں بلکہ ان کی شخصیت کی مثبت تشکیل بھی ہو۔ اردو میں بچوں کے ادب کی بنیاد انیسویں صدی میں اس وقت پڑی جب مولوی اسماعیل میرٹھی، ڈپٹی نذیر احمد، افسر میرٹھی اور حکیم فصیح الدین جیسے اہل قلم نے بچوں کی ذہنی سطح اور نفسیاتی تقاضوں کے مطابق تحریریں پیش کیں۔ مولوی اسماعیل میرٹھی کی نظمیں مثلاً ’ہماری گائے‘، ’بارش‘ اور ’پرندہ‘ آج بھی اردو نصاب کا حصہ ہیں اور بچوں میں سادگی، انسانی ہمدردی ،فطرت سے محبت اور اخلاقی تربیت کے جذبات پیدا کرتی ہیں۔
ابتدائی دور میں بچوں کا ادب زیادہ تر شاعری یا پھر دادی نانی کی کہانیوں کی نثری شکل میں موجود تھا۔ گھریلو ماحول میں سنائی جانے والی لوک کہانیاں، جنات، پریوں اور دیووں کی داستانیں بچوں کے تخیل کو مہمیز دیتی تھیں۔ ان کہانیوں کا بڑا حصہ زبانی روایات کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان داستانوں کو تحریری شکل دی گئی اور ادب اطفال کا ایک باقاعدہ ذخیرہ وجود میں آیا۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اردو ادب اطفال کی تشکیل میں دیگر زبانوں کی روایات کا بھی خاصا اثر رہا ہے۔ اگرچہ انگریزی اور چینی زبان میں بچوں کے ادب کی روایت زیادہ قدیم ہے، تاہم روسی اور اطالوی ادب میں بھی بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں اور ناولوں کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ ہند آریائی زبانوں میں بھی ادب اطفال کی روایت زمانہ قدیم سے پرانوں اور لوک کہانیوں میں موجود رہی ہے۔ پنچ تنتر اور ہتوپدیش جیسی کہانیاں دراصل اخلاقی حکایات کا ایسا ذخیرہ ہیں جو صدیوں سے بچوں کی تربیت کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔
اگر دیگر زبانوں کے ادب اطفال کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اگرچہ بنیادی موضوعات مثلاً اخلاقی تربیت، علم دوستی، سچائی اور محنت کی اہمیت تقریباً تمام زبانوں میں مشترک ہیں، لیکن ہر زبان نے اپنے سماجی اور تہذیبی پس منظر کے مطابق اس صنف کو مختلف انداز میں فروغ دیا ہے۔ اردو ادب اطفال میں جہاں مقامی ثقافتی اقدار کو بڑی مہارت سے شامل کیا گیا ہے وہیں دیگر زبانوں کے اثرات بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی کی اخلاقی حکایات، ہندی ادب کی حقیقت نگاری اور انگریزی ادب کی مہم جوئی ، سائنسی رجحان ، ایجادات اور تخیلاتی فضا نے اردو ادب اطفال کو رنگا رنگ جہت عطا کی ہے ۔ دیگر زبانوں سے تراجم نے اس کے دامن کو اور وسیع کیا ہے ۔
اردو ادب اطفال کی ترقی میں بچوں کے رسائل نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ بیسویں صدی کے آغاز میں کئی رسائل منظرعام پر آئے جنہوں نے بچوں کے ادب کی تخلیق اور اشاعت کو فروغ دیا ۔ لاہور سے شائع ہونے والا ’’بچوں کا اخبار‘‘ 1902ء بچوں کے ابتدائی رسائل میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد رسالہ ’’پھول‘‘ (1909، لاہور) اور ’’کھلونا‘‘ (دہلی) کو اردو ادب اطفال کے فروغ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ماہنامہ ’’بچوں کا اخبار‘‘ کو بعض ناقدین بچوں کا پہلا باقاعدہ رسالہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم امداد صابری نے اپنی کتاب تاریخ صحافت اردو میں ہفتہ وار اخبار ’’خیر خواہ اطفال‘‘ کے یکم اپریل 1872 کو لکھنؤ سے شائع ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اس اعتبار سے خیر خواہ اطفال کو اردو کا پہلا بچوں کا اخبار یا رسالہ کہا جا سکتا ہے۔ ان رسائل میں دلچسپ کہانیاں ، نظمیں اورنئی نئی معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ رسائل اطفال نے نہ صرف بچوں کے ادبی ذوق کو پروان چڑھایا بلکہ انہیں تعلیمی اور سماجی شعور سے بھی آشنا کیا۔ ان رسائل نے ادیبوں اور شاعروں کو بچوں کے لیے لکھنے کی تحریک دی اور نئی نسل کے لکھنے والوں کو بھی سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اردو کے بہت سے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے کسی نہ کسی مرحلے پر بچوں کے لیے ضرور لکھا۔ ان میں مولوی اسماعیل میرٹھی، علامہ اقبال، افسر میرٹھی، حکیم فصیح الدین فصیح، امام بخش صہبائی، ذکاء اللہ، برج نرائن چکبست، تلوک چند محروم، سرور جہاں آبادی، حفیظ جالندھری، صوفی غلام مصطفی تبسم، رضیہ سجاد ظہیر، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عبدالحسین، شفیع الدین نیر، کرشن چندر، صالحہ عابد حسین، قدسیہ زیدی، عبدالغفار مدھولی، امتیاز علی تاج، حسین حسان، لیلیٰ خواجہ بانو، خسرو متین، متین طارق باغپتی، یوسف پاپا، سراج انور، خوشحال زیدی، احمد ندیم قاسمی، مظفر حنفی، پرکاش پنڈت، آصفہ مجیب، ظفر پیامی، مائل خیرآبادی اور ابوالمجاہد زاہد وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
ان ادیبوں کی تحریروں میں بچوں کو سچائی، محنت، ایمانداری، ہمدردی، انسان دوستی اور حب الوطنی جیسے اوصاف سکھانے پر زور دیا گیا ہے۔ بعد کے دور میں شمس الرحمن فاروقی، غلام حیدر، مرتضیٰ ساحل تسلیمی، رئیس صدیقی، سراج عظیم، فاروق سید، انیس اعظمی، نعیمہ جعفری پاشا، انور مرزا اور رخشندہ روحی جیسے ادیبوں نے ادب اطفال کو نئے اسلوب اور نئے موضوعات کے ساتھ آگے بڑھایا۔
انگریزی ادب اطفال کا اثر
انگریزی ادب اطفال نے دنیا بھر میں بچوں کی تخلیقی اور فکری دنیا کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ لیوس کیرول کی مشہور تصنیف Alice in Wonderland (1865)، مارک ٹوین کی Adventures of Tom Sawyer (1876) اور جے کے رولنگ کی Harry Potter سیریز (1997–2007) بچوں کے تخیل، مہم جوئی اور حیرت انگیز واقعات سے بھرپور ادب کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرح کارٹون سیریز Tom & Jerry نے بھی بچوں کی تفریح اور تخیل کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
انگریزی ادب کے ان اثرات کی جھلک اردو ادب اطفال میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اردو کے کئی ادیبوں نے مہم جوئی، فنتاسی اور سائنسی فکشن کو اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ مثال کے طور پر شفیع الدین نیر کی کہانی ننھی پری کی دنیا، سراج انور کی خوفناک جزیرہ اور کالی دنیا نیلی دنیا، ظفر پیامی کی ستاروں کے قیدی، ڈاکٹرشمس الرحمن فاروقی کی سائنسی کہانیوں کی سیریز اور ڈاکٹر سلیم خان کی مختلف تحریریں اس روایت کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ان کہانیوں میں دوستی، جستجو، سائنسی شعور اور امید کے عناصر نمایاں ہیں جو جدید انگریزی ادب کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
ہندی ادب اطفال کا اثر
ہندی ادب میں بچوں کے ادب کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ پریم چند اس میدان کے نمایاں ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر ہری کرشن دیوسرے، جے پرکاش بھارتی، مہادیوی ورما، سوہن لال دویدی، رام دھاری سنگھ دنکر، دواریکا پرساد مہیشوری، ڈاکٹر ناگیش پانڈے، نرنکار دیو سیوک، اننت پئی اور شکنتلا کالرا جیسے ادیبوں نے بچوں کے ادب کو فروغ دیا۔ہندی رسائل مثلاً لوٹ پوٹ، چمپک، نندن، بال بھارتی اور بال ہنس نے ادب اطفال کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ہندی کی مشہور مزاحیہ سیریز چاچا چودھری اور موٹو پتلو بچوں میں بے حد مقبول رہی ہیں۔
پریم چند کی کہانیاں اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی مشہور کہانی عیدگاہ بچوں کے ادب کی ایک لازوال مثال ہے۔ اس کہانی میں نہ صرف اخلاقی سبق موجود ہے بلکہ طبقاتی مساوات، قربانی اور انسانی ہمدردی جیسے جذبات بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیے گئے ہیں۔ اردو ادب میں اس روایت کی جھلک عصمت چغتائی کی نانی کی کہانیاں اور کرشن چندر کی بعض تحریریں اور پنچ تنتر کی کہانیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں حقیقت نگاری اور سماجی شعور کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔
عربی اور فارسی ادب کا اثر
اردو ادب کی طرح ادب اطفال بھی عربی اور فارسی ادبی روایات سے متاثر ہے۔ عربی کی کلاسیکی کتابیں جیسے کلیلہ و دمنہ اور الف لیلہ نے اردو کہانیوں میں تمثیل، حکایت اور اخلاقی سبق کو نہایت دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ۔ ان کہانیوں میں جانوروں اور خیالی کرداروں کے ذریعے انسانی صفات اور اخلاقی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے ۔
فارسی ادب میں سعدی کی گلستان اور بوستان ایسی تصانیف ہیں جن میں اخلاقی حکایات کے ذریعے انسان کی تربیت پر زور دیا گیا ہے۔ یہی طرزِ بیان بعد میں اردو ادب میں بھی اختیار کیا گیا۔ اردو کی مشہور توتا کہانیاں دراصل فارسی اور عربی روایات کا تسلسل ہیں جن میں تمثیلی اور اخلاقی انداز نمایاں ہے۔
عصری منظرنامہ
جدید دور میں ادب اطفال کے موضوعات کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ اب یہ ادب صرف اصلاحی یا مذہبی نوعیت تک محدود نہیں بلکہ سائنسی، تفریحی، معلوماتی، ماحولیاتی تحفظ اور عالمی مسائل پر بھی گفتگو کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، ماحولیات، انسانی حقوق اور عالمی امن جیسے موضوعات بھی بچوں کے ادب میں شامل ہو رہے ہیں۔
آج کے ادیب بچوں کے ادب میں صنفی مساوات، ثقافتی ہم آہنگی، امن، رواداری اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے ادب کی نئی شکلیں سامنے آ رہی ہیں، جن میں آن لائن کہانیاں، آڈیو بکس اور اینی میشن بھی شامل ہیں۔آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور انٹر نیٹ اپنی بات پہنچانے کا انتہائی موثر ذریعہ ہے ۔ کووڈ کے دوران جب سب کچھ ٹھپ ہو گیا تھا تب بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کا یہی واحد ذریعہ تھا ۔ اس وقت کتاب پڑھنے کے بجائے بچوں کا زیادہ وقت اسکرین پر گزر رہا ہے ۔ اس کے منفی اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اس مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو ادب اطفال عالمی ادب سے کسی طور کم نہیں۔ اس نے عربی اور فارسی کی اخلاقی روایت، ہندی ادب کی حقیقت نگاری اور انگریزی ادب کے تخیل و مہم جوئی کے عناصر کو اپنی تہذیبی روح کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب اطفال نہ صرف بچوں کی تعلیم و تربیت کا موثر ذریعہ ہے بلکہ اردو زبان کی ثقافتی بقا ، فروغ اور ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مستقبل میں ضروری ہے کہ بچوں کے ادب میں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے موضوعات اور نئے اسالیب کو شامل کیا جائے۔ایسے انوویٹو Innovativeپروگرام بنائے جائیں جو بچوں کو اسکرین پر وقت صرف کرنے کے بجائے کتابوں کی طرف متوجہ کریں ۔ کیونکہ کتابیں علم و فن سے جوڑنے کا موثر اور بنیادی ذریعہ ہیں ۔ ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی وسائل نے نئی نسل کو زیادہ حساس ، جذباتی ، تیز رفتار اور باریک بیں بنا دیا ہے ۔ اس لیے بچوں کے ادیبوں کو ایسا مواد تیار کرنا ہو گا جو ان کی ذہنی آسودگی اور دلچسپی کا ذریعہ بنے ۔ تبھی بچوں کے کتاب کی طرف مائل ہونے کا امکان ہے ۔ اگر اس سمت میں ادیب، ناشر اور تعلیمی ادارے سنجیدگی سے کام کریں تو اردو ادب اطفال نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے نیز وہ کتاب او راسکرین کے درمیان توازن بھی قائم کر سکتا ہے۔

Dr. M H Ghazali
Sr. Journalist & columnist
Mob. 9810371907

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ہندوستانی تہذیب وثقافت اورمراثی ٔ انیس کے خواتین کردار،مضمون نگار: شبیب نجمی

اردودنیا،جنوری 2026: میرانیس کا شماراردوزبان وادب کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے صنف مرثیہ کو وہ بلندی عطا کی کہ انیس اورمرثیہ

اردو ادب وسط انیسویں صدی تک/سید احتشام حسین

تیرہویں صدی کے اختتام تک بابا فرید گنج شکر اور ہمہ گیر شاعر امیر خسرو کی نظمیں اردو ادب کی داغ بیل ڈال چکی تھیں۔ امیر خسرو کی زبان دہلی

قاضی سجاد حسین اور دیوانِ حافظ کا اردو ترجمہ،مضمون نگار: فیصل نذیر

اردو دنیا،دسمبر 2025: جب ہم فارسی ادب،شاعری اور ان کے تراجم کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جن کتابوں کے نام آتے ہیں ان میں