گمنام فلمی نغمہ نگار ،مضمون نگار: خلیق الزماں نصرت

April 24, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

1931 میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس سے پہلے کے فنکار ہی اس میں ایکٹنگ کرتے تھے اور گانے بھی گاتے تھے ہم نے اس سے قبل ایک خاص بات یہ بھی بتائی تھی کہ بولتی فلموں کے بھی ابتدائی دور میں کئی فلموں کے ہیرو اور ہیروئن ہی اپنے نغموں کو گاتے بھی تھے۔ جو بھی نغمہ نگار تھے وہ میوزک ڈائرکٹر کے ماتحت ہواکرتے تھے ان کی رقم میوزک ڈائرکٹر کو دی جاتی تھی اب یہ میوزک ڈائریکٹر کی مرضی پر ہوتا تھا کہ اس میں سے وہ شاعر کو کتنا دیتا ہے۔اس زمانے میں ان کی حالت اچھی نہیں ہوا کرتی تھی ان کو منشی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ان کا کام جز وقتی بھی ہوتا تھا اور کل وقتی بھی ۔ لیکن یہ آ ہستہ آ ہستہ بدل گیا ایک وقت ایسا بھی آ گیاجس میں ہر نغمہ نگار اپنی رقم پروڈیوسر سے خود طے کرتا تھا اگر وہ راضی ہو جائے تو ہی وہ اس میں نغمے لکھتا تھا ۔ فلمی نغموں نے لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے کچھ گانے ایسے مقبول ہوئے کہ انھیں سننے کے بعد لوگ سرشار ہو جاتے تھے اور آج بھی وہ نغمے ہر دل عزیز اور مقبول عام ہیں۔ نغمہ موسیقی کی بہار آفریں کیفیت نے لوگوں کو کئی بار فلم دیکھنے پر مجبور کیا۔فلم کے نغمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ریڈیو، ریکارڈ پلیٔر، کیسٹ اور بعد میں سی ڈی وی ڈی، ٹی۔وی نے بڑا رول ادا کیا۔اب میں اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں ۔ بولتی فلموں میں ادب کے کچھ بڑے شعرا نے بھی نغمے لکھے ہیں وہ میں کبھی آپ کے سامنے رکھوں گا۔انھی میں سے ابراہیم فیض پونہ کے رہنے والے تھے کا بھی نام آتا ہے ۔ادب میں اچھا مقام تھا لیکن فلم شاید ایک ہی مل پائی جس کا نام راستے اور منزل 1968 تھا اس فلم میں رام کدم کی میوزک سے سجے ہوئے نغمے محمد رفیع کی آواز میں تھے۔جلتے جلتے ہو گئی غم کی رات۔ اب تو میری ناکام امیدوں پل دو پل کے ساتھ۔ غم کے سہارے دن بیتے ہیں ۔آس لیے پھر بھی جیتے ہیں۔ ختم ہو اب تو دکھی چنتا ۔چلتے چلتے ہو گئی غم کی رات۔ ایک دوسرا نغمہ میں۔بہت دور بہت دور چلا آیا ہوں ۔ تیری محفل تیرے جلوے مری تقدیر کہاں۔ میری قسمت میں تری زلف کی زنجیر کہاں ۔میرے ہمدم میرے بکھرے ہوئے خوابوں کی قسم۔میری قسمت میں ترے حسن کی جاگیر کہاں۔ میں بہت دور بہت دور چلایا آیا ہوں اونچے نیچے راستے اور منزل تیری دور ۔راہ میں راہی رک نہ جانا ہو کر کے مجبور ۔اونچے نیچے راستے اور منزل تیری دور۔ یہ ہماری زندگی کا اک لمبا سفر ہی تو ہے ۔چلتے ہیں جس پہ ہم انجانی ڈگر ہی تو ہے۔ دیکھ سنبھلنا بچ کے نکلنا جو نہیں چلتے دیکھ کے آگے وہ کرتے ہیں بھول۔ایسی تخلیقات سے شعر کا لطف خوب ملتا ہے مگر ابراہیم فیض فلم میں زیادہ دن چل نہیں سکے یہ عام فہم شاعری نہیں تھی۔غالبا ان کی پہلی اور آ خری فلم تھی- فلموں میں پہلے نغمے لکھے جاتے تھے اس کے بعد میوزک بنتی تھی لیکن اب پہلے میوزک جس کو دھن کہتے ہیں اور پھر بعد میں نغمے لکھے جاتے ہیں ۔ زیادہ تر میوزک والے اردو کے نہیں رہتے ہیں اس لیے وہ زبان کی خوبیوں کو اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے تھے۔اور بیچارے نغمہ نگاروں کو ہی بدلنے پر مجبور کیا کرتے ہیں اپنی تخلیقات کی اس طرح کی تبدیلی ہر کوئی برداشت نہیں کرتا ہے، اس لیے تو علامہ جمیل مظہری، جوش ملیح آبادی اورجگرآئے لیکن فلم والوں سے سمجھوتہ نہیں کر پائے۔ اردو ادب کے ایک مشہور شاعر ساغر نظامی بھی تھے جو پونا میں رہ کر فلموں کے نغمے لکھا کرتے تھے ۔ان کے زمانے میں بہت سی فلمی کمپنیاں وہیں تھیں۔ فلموں میں ساغر کب آئے اور کب گئے فلم والوں کو پتہ نہیں چلا۔
ساغر نظامی کے چند اشعار اردو شاعری میں بہت مشہورہیں ۔
کافر گیسو والوں کی رات بسر یوں ہوتی ہے
حسن حفاظت کرتا ہے اور جوانی سوتی ہے
دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں
ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں
یہ میکدہ ہے ترا مدرسہ نہیں واعظ
یہاں شراب سے انساں بنائے جاتے ہیں
صمدیارخاں ساغر نظامی12 دسمبر1905کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ طالب علمی کے زمانے سے ایک طرف انھیں شعر و ادب سے دلچسپی تھی تو دوسری طرف سیاست سے ۔ دونوں کو ملا کر ساغر نے اپنی زندگی بسر کی، فلموں میں گیت لکھے مگر نا کامیاب رہے ۔ یہاں سے دلی گئے اور اثر و رسوخ سے آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے ۔اب ان کی فلمی شاعری دیکھ لیں رشید انجم نے اپنی کتاب میں فلم لاج کے دس گیتوں کا ذکر کیا ہے جس کے مکھڑے اس طرح کے ہیں وہ ساغر نظامی کے لکھے ہوئے ہیں
(1)اک رات محبت کرلے۔ دنیا پہ حکومت کرلے ۔ (2)سکھ کا رنگ محل ہے ، رنگ محل ہے دنیا ۔ (3)دکھ کی اس نگری میں بابا کوئی نہ پوچھو بات ۔ (4)نئی دنیا بسالے سجنی اس گھر کو بسائے سجنی ۔ (5)چھائی ہوئی دنیا پر ابھی رات ہے سوجا۔ (6)کیا ساتھ ہمارا ان کا مسرور ہے دنیا۔ (7)پی اور پلا ، دل سے مٹا غم کی نشانی۔ (8)وہ ہم سے جو روٹھے، ناراض زمانہ ہے۔ (9) جوت سے جوت جلاتی آئی ، آئی دیوالی آئی۔ (10) اب ہم سے جدا مت ہونا ، گردش کے زمانے بیتے۔ ابھی تک ان نغموں کا پورا حصہ حاصل نہیں ہوا ہے کتاب شائع ہوتے تک ممکن ہے مل جائے۔
فلم کھیل سجاد حسین کی میوزک ڈائریکشن میں لتا کا گایا ہوا یہ نغمہ ۔ جاتے ہو تو جاؤ ہم بھی یہاں وعدوں کے سہارے جی لیں گے ۔خود دے کے کسی کو دل اپنا کچھ کھیل نہیں جینا لیکن ۔گھٹ گھٹ کے سہی مرمر کے سہی ۔جیسے بھی بنے گا جی لیں گے۔ رسوا نہ کریں گے ہم تم کو سینے سے لگا لیں گے غم کو ۔ٹوٹے جو کبھی دل کے آنسو ہم دل ہی دل میں سی لیں گے۔ سینے میں لگا کر یادوں کو خاموش رہیں گے راتوں کو ۔شکوے جو زباں پر آ ئے کبھی ہونٹوں سے زباں کو سی لیں گے۔
کیف عرفانی
نام موہن مورتی تھا،شعری نام کیف عرفانی۔ ان کی پیدائش تحصیل بھالیہ پاکستان میں1914میں ہوئی۔ ان کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے ۔ ترقی پسند تحریک کا اثر ان کی شاعری میں ہے ۔ اردو کے دلدادہ تھے ۔ ان کے کئی شاگرد تھے۔ موت1ستمبر 1965کو دہلی میں ہوئی۔ فلم ملہار 1951مکیش کی آواز ، اور روشن کی میوزک میں یہ نغمہ۔
دل تجھے دے دیا تھا رکھنے کو تو نے دل کو جلا کر رکھ دیا۔ قسمت نے دے کے پیار مجھے میرا دل تڑپا کے رکھ دیا۔ بھنورے کے لبوں پر فریادیں، کلیوں کے لبوں پر مسکانیں۔ بھنورے کا کلیجہ کلیوں میں ہائے کس نے چھپا کر رکھ دیا۔
فلم ترانہ 1951 میں دلیپ کمار پر یہ نغمہ فلمایا گیا جس کو طلعت محمود نے گایا تھا اس کی موسیقی انل بسواس کی تھی۔ جلی جو شاخ چمن کے ساتھ باغبان بھی جلا ۔جلا کے میرے نشیمن کو آ سماں بھی جلا ۔ایک میں ہوں ایک میری بے کسی کی شام ہے۔ اب تو تجھ بن زندگی بھی مجھ پہ اک الزام ہے۔ فلم راگ رنگ 1952 روشن کے سنگیت میں کیف عرفانی کی یہ غزل جسے لتا اور طلعت محمود نے گایا تھا۔اس کی شعریت بھی دیکھتے چلیں۔ ہر نئی رات نیا درد لیے آتی ہے ۔ نیند آنکھوں سے بہت دور ہوئی جاتی ہے ۔مت چھیڑ زندگی کے خاموش تار سو جا ۔دل بے قرار سو جا دل بے قرار سو جا۔
ہنس راج بہل کی فلم مانونہ مانومیں مکیش کی موسیقی۔ چھپ کر نظرسے دیکھ لے۔ تم چھپ نہ سکتے کہیں۔ ہر روپ میں اک سائے کے میں ساتھ ہی لہراؤں گا۔فلم انوراگ 1956میں مکیش کی آواز میں یہ نغمہ ۔کوئی دل میں ہے کوئی ہے نظر میں۔ محبت کی سپنے میں کس پہ لٹاؤں ۔ اسی کشمکش میں جیے جا رہا ہوں۔ کسے یاد رکھوں کسے بھول جاؤں ۔ اس میں ادب کی چاشنی ہے ۔
جلال ملیح آبادی کی فلم روڈ ٹو سکم 1969 میں ایک نغمہ مکیش کی آواز میں موسیقی وجے سنگھ جی کی۔ تم جہاں ہو وہاں کیا یہ موسم نہیں۔ کیا نظارے وہاں مسکراتے نہیں۔ یہ زمانہ ہمیشہ کا بے درد ہے۔ درد دل پہ کوئی ہاتھ دھرتا نہیں۔ دل کی فطرت کبھی ایک رہتی نہیں ۔ زندگی بھر وفا کوئی کرتا نہیں ۔
دوسرا نغمہ ہے۔اندازتو اچھا ہے مگر۔۔۔۔۔ایسے شاعروں کا فلمی دنیا میں نام نہیں آتا ہے پھر بھی یہ نغمہ جب بھی دہرایا جائے گا داد حاصل کرے گا۔ایسی حالت میں صرف مکیش کا ہی نام آئے گا جلال ملیح آ بادی کا نہیں۔
اس فلم کے دوسرے گیت کار حسرت جے پوری اور اندیور تھے۔۔
نور دیواسی فلم بس کنڈکٹر 1957 میں موسیقی بپن بابو۔ محمد رفیع اور آشا کی آواز میں پریم ناتھ اور شیاما پر فلمایا گیا۔ زندگی میں رنگ بھرا ہے پیار کا ۔آیا ہے وقت اب بہار کا۔ بن کے کسک دل میں صنم آگئے۔تیر نظر دل پہ چھا گئے۔ کیا اندازہے سر کار کا 2۔ پاس ہمارے آئیے اجی دور سے نہ جائیے۔ یاد میں تیری رات رات بھر دل سے نہ نکلے ہائے۔3۔ من میں تیرے کیا ہے بتا دے گوری۔ پیار کا ایک نشہ ہے یہ سن لے گوری۔ نظریں لڑ گئیں اس رسیا سے۔ من کی کہہ من بتیا سے۔ کون وہ بہروپیا ہے4۔دل سے میں مجھ سے دل ٹکرا گیا ۔اک نیا پن زندگی میں آگیا۔ آتی جاتی سانس بھی چنچل سی ہے ۔ سر سے پاؤں تک نئی ہلچل سی ہے۔ بات کیا ہے کیوں یہ دل گھبرا گیا ۔دل سے میں مجھ سے دل ٹکرا گیا۔ اب آئیے آپ کو ایک ایسے نغمہ نگار کا نام بتائیں گے جو ہر فن مولا تھے ان کا نام کیدار شرما تھا۔فلم کے وہ ڈائرکٹر بھی تھے پوسٹر بناتے تھے ہیرو بھی تھے فلموں میں میوزک بھی دیا کرتے تھے ۔12 اپریل 1910 کو پنجاب کے نرول میں پیدا ہوئے جو ابھی پاکستان کے قبضے میں ہے ۔پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا کالج کے زمانے سے ہی ڈرامے اور شاعری کا شوق پیدا ہو گیا۔پہلے فلم میں کام کرنے کے لیے کلکتہ گئے۔ فلم میں مصنف اور گیت کار کے طور پر کام شروع کیا۔ نیو تھیٹرز کی فلم افٹر دی ارتھ کیوک 1935 ملینیٔر 1936 اناتھ آشرم 1937 بڑی دیدی دی رائز سپیرا 1939 اور کئی فلموں میں تنخواہ پہ کام کیا۔ان کی بے شمار فلمیں ہیں لیکن طوالت کے خوف سے میں سبھوں کا ذکر نہیں کر پاؤں گا۔کلکتہ سے ممبئی آگئے۔ مزاج کے بہت سخت تھے ان کے ڈھیر سارے واقعات ہم نے پڑھے ہیں آج کے زمانے میں ان واقعات کو سننے کے بعد تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں مزاج کے بہت سخت تھے اور اصول کے بڑے پابند تھے ذرا بھی کوئی غلطی کرتا تھا تو اس کو ڈانٹ دیتے تھے فلم ڈائریکشن میں راج کپور جب ان کے اسسٹنٹ تھے تو انھوں نے ایک موقع پر راج کپور کو تھپڑ مار دیا تھا فلم ہماری یاد آئے گی کہ سیٹ پر ایسا ہوا تھا۔ فلم نیل کمل میں راج کپور کو پہلی بار انھوں نے موقع دیا تھا اس فلم میں مدھوبالا ہیروئن تھی اسی طرح ہماری یاد آ ئے گی کی شوٹنگ میں تنوجہ کو بھی ایک تھپڑ رسید کر دیا تھا لیکن ان فلم اسٹار کو اپنے استاد کی مار بھی اچھی لگی کیونکہ انھیں کچھ سیکھنا تھا۔اب آ ئیے ان کے نغموں کی باتیں کریں۔ ان کا نام کیدار شرما تھا ایک کا ایک مشہور نغمہ فلم زندگی 1940 میں کا پڑھ لیں۔ میں کیا جانوں کیا جادو ہے جادو ہے۔۔ سہگل کی آواز اس فلم میں تھی۔1950 میں باورے نین بنی مکیش اور گیتا دت کی آواز کا یہ نغمہ کافی مشہور ہوا جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔۔۔ خیالوں میں کسی کے اس طرح آیانہیں کرتے۔ کسی کو بے وفا آ آ کے تڑپایا نہیں کرتے۔ ہماری یاد آ ئے گی فلم میں سنہ بھاٹکر کی میوزک تھی اس گیت کو مکیش نے گایا تھا کیدار ناتھ شرما کے نغموں نے بہت دھوم مچائی تھی۔ آج بھی ایسے نغمے کو سن کر فرحت محسوس ہوتا ہے۔آنکھوں میں تیری یاد لیے جا رہا ہوں میں ۔دل سے تمہیں دعائیں دیے جا رہا ہوں میں۔ بھولے بھی تم بھلا بھی دیا تم نے پیار کو۔ دن رات تم کو یاد کیے جا رہا ہوں میں۔فلم ٹھیس 1949 میں مکیش کا گایا ہوا یہ گیت، بی جی بھاٹکر کی میوزک سے سجایا گیا یہ نغمہ پڑھ لیں۔ بھگوان جو تیرا بھی بھگوان کوئی ہوتا۔ ہم دیکھتے پھر کیوں کر آرام سے تو سوتا۔۔۔کیا جانے مزہ درد کا بے درد بھلا تو۔ دل ہوتا تیرے پاس تو پھر درد بھی ہوتا۔۔فلم کا یہ نغمہ تیری دنیا میں جی لگتا نہیں واپس بلا لے میں سجدے میں گرا ہوں مجھ کو اے مالک اٹھا لے ۔بہارآئی تھی قسمت میں مگر یہ گل کھلایا ۔جلایا آشیاں صیاد نے پھر نوچ ڈالے ۔ مجھ کو اے مالک اٹھا لے۔۔۔۔ اسی طرح دو بند اور ہیں۔فلم بارہ دری 1951 جو اس زمانے کی کامیاب فلم تھی شنکر جے کشن کی موسیقی میں مکیش کی آواز کا یہ گیت۔ دل نے تو دیا دھوکا محبت نے سزا دی۔ روتی ہوئی آنکھوں نے ہنسی غم کی اڑا دی ۔دل نے تو دیا۔۔۔۔ برباد نشیمن ہو تو میری بلا سے۔ دنیا جو بسائی تھی وہ دنیا ہی مٹا دی۔ دل نے تو دیا دھوکا۔۔فلم بھرا 1946 سہگل کی آواز اور کھیم چند پرکاش کی موسیقی میں یہ نغمہ۔ ٹھکرا رہی ہے دنیا ہم ہیں کہ سو رہے ہیں۔1964 فلم فریاد سنہل بھاٹکر کی موسیقی اور سمن کلیان پور کی آواز میں یہ نغمہ۔۔ حال دل ان کو سنانا تھا سنایا نہ گیا جو زباں پر مجھے لانا تھا بتایا نہ گیا۔۔۔
عزیز کاشمیری فلم ایک تھی لڑکی 1950شیام سندر کی سنگیت میں لتا کی آ واز کا یہ گیت۔اک پل رک جانا سرکار نہ مارو دو نینا کی مار۔ جھوٹے تم ہو تمہارا پیار کہ ایک پل ہٹ جانا سرکار ۔کت چلے ہمیں تڑپا کے اک رنگ نیا دکھلا کے۔ اب اور سہارا ڈھونڈیں چل کر نیا دوار۔ ڈھونڈے کہ اب تو ہو گئے ہیں بے کار۔۔اس فلم میں مزاح کا انداز ہے۔ ضرورت کے مطابق اس گیت کو لکھا گیا ہوگا۔ مزاحیہ فلموں کی لسٹ میں ہے اس لیے بھی اس میں تک بندی جیسا انداز ہے۔اس کو مینا شوری نے اس زمانے کی جدیدموسیقی میں گایا تھا لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا۔جی تیا اجی لائی رکھدا بابو جی کی بات نرالی دل بھی خالی جیب بھی خالی پھر بھی اکڑ دکھائے کچھ سمجھ میں سمجھ نہ آئے۔
عیش کنول اردو کے اچھے شاعر ان کا نام سید عثمان علی تھا وہ 1940 میں بیجاپور کرناٹک میں پیدا ہوئے ان کے والدممبئی آئے اور چھوٹے موٹے کام کر کے اپنی زندگی بسر کرنے لگے پھر وہ قصائی وارہ کرلا میں آکر بس گئے۔معروف افسانہ نگاراشتیاق سعیدنے ایک مکمل مضمون عیش کنول کے بارے میں لکھا ہے۔ میں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ شاعری کے لیے بڑی محنت کی اور سماجی خدمت کے لیے بھی بہت وقت دیا کرتے تھے خاص کر جب کسی کی موت ہو جاتی تھی تو اس کے بعد کے تمام کام بڑے شوق سے کرتے تھے۔کئی سال فلموں کے چکر کا ٹنے میں لگ گئے۔ چند اردو کے شاعر جوممبئی کے تھے وہی ان کو جانتے تھے۔پہلے انھوں نے ایک چھوٹے موٹے میوزک ڈائرکٹرستارخاںکے ساتھ رہ کر گانے لکھنے کے طریقے سیکھے۔ ان کا پہلا نغمہ فلم پٹھان میں تھا جس کے بول تھے۔ چاند میرا بادلوں میں کھو گیا۔ میری دنیا میں اندھیرا ہو گیا ۔اس کے تیور کو ڈائرکٹروںاورپروڈیوسر نے بھی پسندکیا۔ فلم سنگرام 1965 میں ان کا یہ نغمہ بڑے چرچے میں رہا۔۔۔ میں تو ترے حسین خیالوں میں کھو گیا۔ دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ دیوانہ ہو گیا۔اس گانے کو محمد رفیع نے گایا تھا۔2۔ڈم ڈم ڈمرو باجے تھاپ ڈھول کی تاتھیا۔ میں تو ناچوں سجنوا۔ چاند کے رتھ پر بیٹھ کے آئی میں کرنوں کی رانی۔ میں کرنوں کی رانی اوڑھ کر آ ئی چندریا دھانی ۔ سیپ کے جیسے موتی نکلے ایسی مری جوانی ۔ اس گیت کو کمل باروٹ اور لتا منگیش کر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ۔ فلم سنگرام میں ان کے دگرنغمے کے بول اس طرح ہیں۔ مستی میں ڈولے جیا کیسا یہ جادو کیا۔۔ نکلا سیاں چال باز دے کے دغامجھ کوچلا گیا۔فلم عرب کاسونا 1979۔پھسلے نہ پاؤں تیرا چکنا ہے رستہ۔ نظریں ملاکے چل۔ میں ایک شمع ہوں سنوپتنگے ۔ نہ میری چاہت میں جل۔ دیگر گیت کے مکھڑے آپ پڑھ لیں۔1غفلت میں سونے والے رب نے تمہیں پکارا2 دیکھیے آج محفل میں ہم تو ہو کے بن داشت آئے ہوئے ہیں 3 جو تو آ ئی ہمارے گھرمیں4جانے تیری باتوں میں جادو۔۔۔اس فلم کے ڈائرکٹر تھے سی کے قادر۔ فلم ابو کالیہ 1979 عیش کنول پانچ نغمے لکھے۔جانے تیری باتوں میں کیسا یہ جادو ہے صنم۔ گیا دل ہاتھوں سے میرا بھی اللہ رے قسم۔ایک دوسرا نغمہ ۔نیکی اور بدی سب کی اک دن تولی جائے گی ۔پاپ اور پنیا کی پشتک سب کی ایک دن کھولی جائے گی۔ یہ نغمہ نتن مکیش کی آواز میں ہے۔ فلم مندر مسجد جس کے میوزک ڈائرکٹر شاردا اور اس کے ڈائرکٹر حسین تھے اس میں بھی ان کے نغمہ کو محمد رفیع اور جانی بابو نے آواز دی تھی۔۔۔ ہم تم پر مر مٹیں گے تم کو خبر نہ ہوگی۔
ایم جی حشمت کا یہ مشہور نغمہ میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہہ گیا۔۔۔ اردو والوں میں بڑا مشہور ہوا تھا اور تھوڑا بہت اخباروں میں ایم جی حشمت کا نام بھی آیا تھا۔ بناکے گیت مالا میں یہ نغمہ پہلے نمبر پہ آیا تھا۔اس فلم کا دوسرا گیت بھی بڑا مشہور ہوا تھا جو لتامنگیشکر کی آوازمیں تھا۔ روٹھے روٹھے پیا مناؤں کیسے ۔آج نہ جانے بات ہوئی کیا کیوں روٹھے مجھ سے۔ روٹھے روٹھے پیا مناؤں کیسے۔جب تک وہ نہ بولیں مجھ سے سمجھوں کیسے۔روٹھے روٹھے پیا۔
1972 سے 1988 تک انھوں نے بہت سے کامیاب گیت لکھے میں تفصیل سے اپنی کتاب میں شامل کروں گا۔ سرشار سیلانی اردو کے بہت اچھے شاعر تھے ان کا ایک شعر اردو والوں میں بڑا مشہور ہوا تھا جس کو میں نے اپنی کتاب بر محل اشعار میں شامل کیا تھا ۔چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے۔ ہمی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں تمہی تم ہو تو کیا تم ہو۔ان کا پورا نام پنڈت بھیم سین سرشار سیلانی تخلص تھا وہ ساہنیوال ضلع لدھیانہ میں 12 مارچ 1914 کو پیدا ہوئے 1947 سے فلموں میں نغمے لکھنے کا کام شروع کیا ۔ ایک ریکارڈ کے مطابق32فلموںمیں68گانے لکھے انھوں نے برسات کی رات فلم میں ڈائیلاگ بھی لکھے تھے۔55 سال کی عمر میں 10 اپریل 1969کو یہ دنیا چھوڑ دی۔ ان کے کچھ فلموں کے نغمے اس طرح ہیں۔فلم راکھی 1949 طلعت محمود کی آواز کا یہ گیت۔ تری گلی سے بہت بے قرار ہو کے چلے۔شکار کرنے کو آ ئے شکار ہو کے چلے۔ دل پر کسی کا تیر نظر کھا کے رہ گئے۔ ہم اپنے دل کو آپ ہی شرما کے رہ گئے ۔دونوں کے دل میں جوش تھا دونوں جوان تھے۔ لیکن زبان رکھتے ہوئے بے زبان تھے۔

Mr. Khaleequzzaman Nusrat
House No.1, Popessa gali
M.A. Azad Road
Opp. RAMEDI CHURCH BASSEIN Vasai West Mumbai,
Pin-401201 (Maharashtra)
Mob. 9923 257 606
Email: nusratkhalique@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

اردودنیا،جنوری 2026: کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ

اردو اور کنڑا کا لسانی اور ثقافتی ارتباط،مضمون نگار:حلیمہ فردوس

اردو دنیا، اپریل 2026: عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شناخت کثیرلسانی اور کثیرثقافتی مزاج کے طورپر قائم ہے۔ یہاں سینکڑوں بولیاں اورزبانیں رائج ہیں۔ کسی مستشرق نے ’’ہندوستان کو

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ