رضا نقوی واہی: اب جارہا ہوں یاس کی دنیا لیے ہوئے،مضمون نگار:عبدالحئی

April 8, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

اردومیں طنزومزاح کی روایات زبان کے ارتقاکے ساتھ ہی نموپانے لگی تھی۔ ولی دکنی اور جعفر زٹلی کے کلام میں مزاح نظر آجاتا ہے۔ جعفر زٹلی کے یہاں مزاح نے فحش گوئی کی صورت اختیار کرلی تھی لیکن ان کی شاعری میں طنز اس قدر بھرا ہوا ہے کہ اس میں نشتریت اور زہرناکی کے عناصر شامل ہیں۔ شمالی ہندوستان میں شاکر ناجی اور سودا سے اس کی شروعات ہوتی ہے۔ انشا، رنگین سے ہوتے ہوئے طنز و مزاح نظیر اور اکبر الہ آبادی تک پہنچتا ہے۔ نظیر اور اکبر الٰہ آبادی نے عوامی روایتوں، رسموں اور مغربیت پر بھرپور طنز کیا ہے۔ غالب کے خطوط طنز و مزاح کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انھوں نے اپنی ذات کو نشانہ بناتے ہوئے مزاح و ظرافت کی ایک زبردست مثال قائم کی۔ مکتوبات کے علاوہ ان کی شاعری میں بھی طنز و مزاح کے عناصر موجود ہیں۔ اودھ پنج اور منشی سجاد حسین نے ظرافت نگاری کو نیا مقام عطا کیا۔ بعد میں فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری، خواجہ حسن نظامی، شوکت تھانوی، کنہیا لال کپور اور ظفر علی خاں نے طنز و مزاح کو مزید استحکام دیا اور اردو ادب میں اسے باقاعدہ ایک صنف کے طور پر قبول کر لیا گیا۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان میں شفیق الرحمن، مشتاق احمد یوسفی، کرنل محمد خاں، ابن انشاء وغیرہ اور ہندوستان میں فرحت کاکوروی، فکر تونسوی، کوثر چاندپوری، وجاہت علی سندیلوی، مجتبیٰ حسین، یوسف ناظم، شفیقہ فرحت اور نصرت ظہیر کے نام قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح شاعری میں رضا نقوی واہی،سلمان خطیب، دلاور فگار، شوکت تھانوی،ہلال رضوی، ماچس لکھنوی اور شہباز امروہوی ،ساغر خیامی، پاپولر میرٹھی وغیرہ نے مزاحیہ شاعری کو مزید استحکام بخشا۔ مزاح اور دل بستگی انسانی فطرت کا ایک لازمی جز ہے۔ کوئی بھی انسان جو ان سے محظوظ نہیں ہوتا اسے مغرور، بدمزاج جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے جب کہ ہمیشہ خوش رہنے والے اور ہنسنے مسکرانے والے کو خوش خلق اور خوش مزاج کہتے ہیں۔ شاعری میں اپنی ذات کو نشانہ بناتے ہوئے اور معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ پیش کرنا بہت مشکل کام ہے اور رضا نقوی واہی اس مشکل کام کو نہایت آسانی سے کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہدف علامت بناناایک بڑے فنکارکی نشانی ہے اورواہی اس فن میں طاق ہیں۔
دبستان بہارنے اردوزبان ادب کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ شاد،، امداد امام اثر، رمز عظیم آبادی، راسخ عظیم آبادی، سہیل عظیم آبادی، بسمل عظیم آبادی، کلیم الدین احمد، کیف عظیم آبادی، قاضی عبدالودود، کلیم عاجز، عبدالمغنی، وہاب اشرفی، الیاس احمد گدی، کلام حیدری،سید محمد حسنین، شکیلہ اختر ،اختر اورینوی ، انجم مانپوری جیسے ادیبوں و ناقدین کی سرزمین عظیم آباد اردو زبان و ادب کے آغاز اور ارتقا سے ہی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ یہاں کے ادیبوں اور شاعروں کی ادبی خدمات کے ذکر کے بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔
رضا نقوی واہی اردو ادب میں طنز و مزاح کے ان منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے قہقہے کے پسِ پردہ ایک سنجیدہ، درد مند اور بیدار ذہن چھپا رکھا تھا۔ واہی کے ہاں طنزمحض ظرافت برائے ظرافت نہیں بلکہ فکروشعور کی بیداری کاذریعہ ہے۔ وہ ایسے شاعر ہیں جن کے یہاں مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ سماج کی تلخ حقیقتیں بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واہی کا طنز سطحی نہیں، نہ ہی ان کا مزاح محض وقتی دل لگی تک محدود رہتا ہے، بلکہ وہ قاری کو ہنساتے ہنساتے آئینہ دکھا دیتے ہیں۔اس حوالے سے معروف مزاح نگار کنھیا لال کپور کا یہ قول دیکھیں:
میرا تب بھی عقیدہ تھا اور اب بھی ہے کہ اکبر الہ آبادی اور ظریف لکھنوی کے بعد مزاحیہ اور طنزیہ شاعری میں تیسرا بڑا نام آپ کا ہے۔ خدا آپ کو اپنی اور اغیار کی نظر سے بچائے۔ آپ کو طنزومزاح کی جملہ اقسام پر یکساں قدرت حاصل ہے۔ خاص کر پیروڈی اور طنز میں آپ کا کوئی رقیب نہیں۔ شعرستان آپ کی امر تخلیق ہے۔
(بحوالہ: ادب نکھار، رضا نقوی واہی نمبر، سرورق،مئی جون 1983 ،مئو ناتھ بھنجن )
شعرستان واہی کی ایسی منفرد شعری تخلیق ہے جس کی مثال پورے اردو ادب میں ملنی مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں دو کروڑ اکسٹھ ہزار شاعروں کو بسایا گیاہے اور شاعروں کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ شاعروں کی اس خیالی دنیا کو ایک جزیرے پربسایا گیا ہے جہاں ان کا کام مچھلی مارنا اور تاڑی سے پیاس بجھانا ہے۔ شعر و سخن کی ایک ایسی محفل اس طویل نظمیہ سیریز میں سجائی گئی جو صرف واہی ہی سجا سکتے تھے۔ اس نظم کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور کنہیا لال کپور نے اسے امر تخلیق سے تعبیر کیا۔ کچھ اشعار ملاحظہ کریں:
مغویہ شاعر کا خط نقاد کے نام
کیا بودوباش پوچھوہو اے ناقد سخن
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دوچار چھوٹے چھوٹے جزیرے جنوب میں
تھے متصل کو انڈمن و نیکوبار کے
بہر سخن گری تھے جو عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہان روزگار کے
واللہ کیا زمانہ تھا بے روک ٹوک ہم
دن رات شعر کہتے تھے ٹانگیں پسارکے
گھر والیوں کا خوف نہ نقادہی کا ڈر
راتیں شب برات تھیں دن تھے بہار کے
مچھلی پکڑ کے کھاتے تھے لگتی تھی بھوک جب
بجھتی تھی پیاس تاڑ سے لنبنی اتارکے
اسمگلروں سے کرکے تمہی لوگ سازباز
قصاب گھر میں لائے ہمیں گھیرگھار کے
اب پھر ہے ناقدوں کی چھری اور گلوئے شعر
اب پھر ہدف ہیں ہم قلم بے مہار کے
صد حیف کیا خبر تھی کہ پھر ایک بار ہم
ہوں گے اسیر گردش لیل و نہار کے
ناقد نے جس کو لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
(بحوالہ شعرستان واہی۔ص۔38 )
اس طویل نظم میں واہی نے جس طرح کے الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کیا ہے وہ واہی کی شناخت ہیں۔کچھ الفاظ تو ایسے ہیں جو مقامی اور دیہی رنگ لیے ہوئے ہیں جنھیں بہار والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً، پسارنا،لنبنی، تاڑی،اٹنگا، اکارت جیسے درجنوں الفاظ اس طویل نظم میں ملتے ہیں۔اسی طرح غزل گوئی کا چکہ جام، شاعران تاڑی باز،ماہر ہوٹنگ جرگہ،شاعران نکسلی،الٹرا موڈرن شاعر،قوم بیکاراں،وائرس طنز وظرافت اور نیم وحشی شاعران جیسی اصطلاحات بھی ہیں جو واہی کے بیدارمغز شاعرانہ ذہن کی پیداوار ہیں۔
واہی کا تعلق بہار کے اس خطے سے تھا جہاں اردو تہذیب، زبان اور ثقافت کی جڑیں گہری رہی ہیں۔ ان کا شعری مزاج اسی تہذیبی پس منظر میں پروان چڑھا، مگر ان کی نظر صرف مقامی مسائل تک محدود نہیں رہی۔ انھوں نے اپنے عہد کی سیاسی، سماجی، اخلاقی اور تہذیبی گراوٹ کو نہایت باریک بینی سے دیکھا اور اس پر طنز کے نشتر چلائے۔ ان کا طنز کبھی چیختا نہیں، بلکہ آہستہ سے دل میں اتر جاتا ہے اور دیر تک اثر قائم رکھتا ہے۔ان کے طنز کی خوبی یہ ہے کہ آپ کے ہونٹو ں پر خود بخود مسکراہٹ رینگ جاتی ہے اور آپ اس مسکراہٹ کے ساتھ واہی کے رنگ میں رنگتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی اردو ادب تو کبھی ناقد تو کبھی شاعرہر کوئی ان کے تیر ونشتر کا نشانہ بنتا ہے۔فاروقی ہوں کہ کلیم الدین ہوں یا کہ سلطان اختر سب کو انھوں نے اپنی شاعری میں شامل کیا ۔ رضا نقوی واہی کی شاعری اپنے عہد کی ایک منفرد آواز تھی جس نے نامور ناقدین اور ہم عصر طنز ومزاح نگاروں کو بھی قلم اٹھانے اور نئے نئے انداز میں سوچنے پر مجبور کردیا۔ معروف طنزو مزاح نگار نصرت ظہیر واہی کی شاعری پر کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں:
شگفتگی، شائستگی اور برجستگی طنزومزاح میں بنیادی عناصرکی حیثیت رکھتے ہیں۔ واہی نے اپنے شعری اسلوب میں شائستگی کو سب سے اوپر رکھا اور اس کے لیے کئی بار فنکارانہ برجستگی اور تبسم ریز شگفتگی کو بھی قربان کردیا، لیکن ابتذال کی پرچھائیں تک اپنے سخن پر نہیں پڑنے دی۔ کل ملاکر یہی وجہ ہے کہ ان کے اسلوب میں مزاح پر طنز حاوی نظر آتا ہے۔ ان کا طنز محض جلی کٹی سنانے اور قصاب کی طرح چھری سے کاٹنے پیٹنے جیسا طنز نہیں بلکہ گہری سماجی بصیرت رکھنے اور شعور کی رگوں میں اتر جانے والا طنز ہے جس میں کاٹ نہیں گدگداہٹ ہے اور یہی گدگداہٹ پھول کی پتی سے تراشنے کا ہنر بن جاتی ہے۔ واہی نے انسان، سماج اور اس کے اندر باہر چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات کے ہر معاملے کو موضوع سخن بنایا اور فکری وتخلیقی وسعت کا یہ وصف انھیں اکبر اور دلاور دونوں سے کسی قدر مختلف بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کے خالص ادبی موضوعات کو بھی انھوں نے بڑی پرلطف سنجیدگی سے سخن کا حصہ بنایا ہے جس کی سب سے اہم مثال ان کی طویل نظم شعرستان ہے۔
(بحوالہ۔ اردو دنیا،نئی دہلی،ص۔16, ،مئی 2015 )
جس طرح شاد نے دبستان عظیم آباد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اسی طرح واہی نے دبستان عظیم آباد کی طنز وظرافت کی روایت کو پختہ اور مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رضا نقوی واہی کی شاعری کاایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ انسانی کمزوریوں کو ہدف بناتے ہیں، مگر انسان کی توہین نہیں کرتے۔ وہ افراد سے زیادہ رویوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تلخی کے باوجود شائستگی برقرار رہتی ہے۔ ان کا طنز اصلاحی ہے، تخریبی نہیں۔ وہ سماج کو توڑنے کے بجائے سنوارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس اعتبارسے وہ اکبر الٰہ آبادی کی روایت سے جڑے نظر آتے ہیں، مگر ان کا لب و لہجہ اپنے عہد کے مطابق ہے۔
واہی کے یہاں مزاح اکثر خود احتسابی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ خود کو بھی طنز کی زد میں لے آتے ہیں، جو بڑے فنکار کی علامت ہے۔ ان کی شاعری میں ’’میں‘‘ کا حوالہ آتے ہی ایک عام انسان سامنے آ جاتا ہے، جو کمزور بھی ہے، مضحکہ خیز بھی، اور قابلِ رحم بھی۔ یہی انسانی پہلو ان کی شاعری کو مشینی ہونے سے بچاتا ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ اشعار کسی زندہ دل انسان کے تجربات سے نکلے ہیں۔
ان کے طنزیہ اشعار میں زبان کی سادگی قابلِ توجہ ہے۔ وہ بھاری بھرکم تراکیب، مشکل استعارات اور ثقیل لفظیات سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کا کمال یہی ہے کہ عام بول چال کی زبان میں غیر معمولی بات کہہ جاتے ہیں۔ یہی سادگی ان کی شاعری کو عام قاری تک پہنچاتی ہے اور اسے محض خواص تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ تاہم، یہی سادگی بعض ناقدین کے نزدیک ان کی شاعری کی ایک کمزوری بھی سمجھی گئی ہے، کیونکہ کہیں کہیں یہ انداز بہت زیادہ عام بن جاتا ہے۔رضا نقوی واہی کی شاعری میں طنز کے ساتھ ساتھ مزاح کی کئی سطحیں ہیں۔ کہیں ہلکی سی شرارت ہے، کہیں گہری کاٹ، کہیں نرم سی چوٹ اور کہیں زہر میں بجھا ہوا تیر۔ وہ موقع اور موضوع کے مطابق لہجہ بدلنے پر قادر ہیں۔ ان کی یہی لسانی اور فکری لچک انھیں یک رنگی سے بچاتی ہے۔ وہ ایک ہی ڈھب پر اشعار نہیں کہتے بلکہ ہر موضوع کے لیے الگ فضا قائم کرتے ہیں۔ان کے ہاں سیاست پربھی طنز ملتا ہے لیکن وہ نعرہ بازی سے دور رہتے ہیں۔ وہ سیاست دانوں کی وعدہ خلافیوں، مفاد پرستی اور موقع پرستی کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری ہنس بھی لیتا ہے اور شرمندہ بھی محسوس کرتا ہے۔ ان کا طنز چیخ کر الزام نہیں لگاتا بلکہ مسکرا کر سچ کہہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری وقتی سیاسی حالات سے بندھ کر نہیں رہتی بلکہ ایک عمومی انسانی تجربہ بن جاتی ہے۔
واہی کی شاعری میں سماجی تضادات کا بیان بھی نہایت دلچسپ ہے۔ امیر و غریب، عالم و جاہل، حاکم و محکوم سب ان کے طنز کی زد میں آتے ہیں۔ مگر وہ طبقاتی نفرت نہیں پھیلاتے، بلکہ طبقاتی شعور بیدار کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ہمدردی کا مرکز ہمیشہ عام انسان رہتا ہے، وہی انسان جو نظام کی چکی میں پس رہا ہے اور پھر بھی مسکرانے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر واہی کی شاعری کی خامیوں پر بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض اوقات ان کے اشعار میں فوری تاثر تو بہت مضبوط ہوتا ہے، مگر دیرپا فکری گہرائی کم محسوس ہوتی ہے۔ کچھ اشعار محض وقتی حالات کے ردِعمل کے طور پر سامنے آتے ہیں، جن کی معنویت وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بعض نظموں یا قطعات میں تکرار کا احساس بھی ہوتا ہے، گویا ایک ہی خیال مختلف انداز میں دہرایا جا رہا ہو۔ ایک اور تنقیدی نکتہ یہ ہے کہ واہی کی شاعری میں تخیل کی بلند پروازی کم اور مشاہدے کی گرفت زیادہ ہے۔ یہ وصف جہاں ان کے طنز کو زمینی حقیقتوں سے جوڑتا ہے، وہیں بعض اوقات شاعرانہ جمالیات کو محدود بھی کر دیتا ہے۔ وہ فلسفیانہ تجرید یا علامتی پیچیدگی کی طرف کم مائل ہوتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ طنز و مزاح کی صنف میں یہی سادگی اور براہِ راست انداز ان کی انفرادیت قرار پاتا ہے اور طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں ان کی مستحکم شناخت بن جاتا ہے۔ واہی کی شاعری کا ایک اہم پہلو ان کا اخلاقی شعور ہے۔ وہ اقدار کے زوال پر کڑھتے ہیں، مگر واعظ نہیں بنتے۔ وہ نصیحت کو لطیفے میں چھپا دیتے ہیں۔ یہی فنی چابک دستی انھیں خطیبانہ انداز سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اس کے برابر بیٹھ کر بات کر رہا ہے، اوپر کھڑے ہو کر درس نہیں دے رہا۔
رضانقوی واہی کی شاعری کاایک اختصاصی پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس صنف کومحض وقتی تفریح کے حصار سے نکال کر فکر ونظر کی وسعت عطاکی۔ ان کے کلام میں معاشرتی زوال، اخلاقی اقدار کی پامالی اورانسانی رویوں کے تضادات پرجوگہری چوٹ ملتی ہے، وہ انھیں اپنے عہد کے دیگرمزاح نگاروں سے ممتازکرتی ہے۔ واہی نے نصیحت کولطیفے کے پیرائے میں کچھ اس طرح بیان کیاہے کہ قاری کومحسوس ہوتاہے جیسے شاعراس کے برابر بیٹھ کرمحوگفتگو ہے، نہ کہ کسی بلندمنبرپرکھڑاہوکر درس دے رہاہو۔
واہی صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فعال ادیب اورمحقق بھی تھے۔ ان کے نثری کارنامے، جن میں کالم نگاری، تنقیدی مضامین اورشعری مجموعوں کی ترتیب شامل ہے، ان کی ہمہ جہت شخصیت کاثبوت ہیں۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ انھوں نے دبستان بہار کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے میں بھی اہم کردار اداکیاہے۔ ان کی تصانیف آج بھی اس لیے پڑھی جاتی ہیں کہ ان کا طنزماضی کاقصہ نہیں بلکہ آج کے انسانی رویوں پربھی پوری طرح صادق آتاہے۔روزنامہ ساتھی کے مزاحیہ کالم ، کتابوں پر تبصرے،کئی تنقیدی مقالات اور مقدمے بھی انھوں نے لکھے ہیں۔ بہار کے نظم گو شعرا پر ایک انتھولوجی بعنوان اشارہ ترتیب دی۔ جمیل مظہری کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ترتیب دیے۔ اختر اورینوی کی حیات و خدمات پر رسالہ ساغر نو مرتبہ قمر اعظم ہاشمی میں بطور مشیر شامل رہے۔ مجلس مشاورت میں تین لوگوں کے نام تھے، عبدالمغنی،رضا نقوی اور لطف الرحمٰن۔ ڈاکٹرہمایوں اشرف نے واہی کی حیات وخدمات پر مبنی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اپنے نوجوان دوستوں کے ساتھ مل کر ایک رسالے کا 600صفحات پر مشتمل اختر اورینوی نمبر نکالا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔کیونکہ یہ رسالہ ساغر نو میری نظر سے گذرا ہے جس کی ترتیب قمر اعظم ہاشمی صاحب نے کی تھی۔ہاں ایک دوسرا رسالہ مجھے ملا جس کی مکمل ترتیب رضا نقوی واہی صاحب نے کی تھی۔انھوں نے اپنے قصبے کھجوا کے مدرسہ اسلامیہ پر 1987 میں ایک رسالہ ترتیب دیا تھا جس میں بطور مدیر ان کا نام لکھا ہوا ہے۔ یہ رسالہ مجھے ملا تو میں دیکھ کر حیران ہوا کہ واہی صاحب کو صحافت کے بھی سارے گر آتے تھے اور انھوں نے ماہر صحافی کے انداز میں اس رسالے کو ترتیب دیا ہے۔ اس رسالے میں کھجوا کی تاریخ، وہاں کی مسجدوں، امام باڑے، کربلا اور دیگر تفصیلات موجود ہیں۔ 84صفحات پر مشتمل اس رسالے میں انھوں نے تعارف کے تحت لکھا ہے کہ پروفیسر سمیع عسکری نے واہی صاحب سے کھجوہ سے متعلق ایک رسالہ چھپوانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے واہی صاحب نے پورا کیا۔ اس میں اہل کھجوہ کا شجرہ،کھجوہ کی تاریخی حیثیت،صحافتی روایت اور وہاں کے اہم افراد پر مضامین شامل ہیں۔ اس رسالے کے زیادہ تر مضامین رضا نقوی واہی نے ہی لکھے ہیں۔اس طرح یہ رسالہ ان کی ایک نثری تصنیف قرار پاتا ہے۔اس رسالے کا ذکر مجھے ہمایوں اشرف صاحب کی کتاب آئینہ در آئینہ اور فردنامہ میں بھی نہیں ملا اور نہ ہی ادب نکھار کے واہی پر چھپے خاص شمارے میں۔
واہی کے فن پر مزید گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن میں ان کے کچھ اشعار پر اپنی باتیں ختم کرتا ہوں:
دل کے ٹوٹے ساز پر رکھ دی ہیں کس نے انگلیاں
زندگی خودمحو حیرت ہے سراپا گوش ہے
زندہ رہنا ہے تو موجوں سے گلے مل کر چلو
زندگی ساحل نہیں طوفان کا آغوش ہے
تیرے ہرہرشعر پر اٹھتی ہے محفل کی نگاہ
جان محفل کی نظر لیکن رضا خاموش ہے
کانٹو بجھا لو پیاس کہ راہ دراز سے
آیا ہوں جام آبلہ پا لیے ہوئے
آیا تھا لے کے عالم امید دہر میں
اب جارہا ہوں یاس کی دنیا لیے ہوئے

Dr. Abdul Hai
Gaya College, Gayaji,
Bihar.823001
Mob.:
E-mail: ahaijnu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

داغ دہلوی کی شاعری میں عاشق و معشوق کا کردار،مضمون نگار:طریق العابدین

اردو دنیا،مارچ 2026: اردوغزل کی روایت میں عاشق و معشوق محض دو کردار ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مکمل شعری کائنات کی تشکیل کرتے ہیں۔ عاشق غزل میں جذبات

کبیر اجمل کا شعری اظہار،مضمون نگار: فہمینہ علی

اردو دنیا،اپریل 2026: اردو تہذیب کے دبستانوں میں بنارس اپنی شہرہ آفاق گہرائی،تنوع اورروحانی معنویت کے سبب ایک منفرد مقام رکھتاہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں، بلکہ ایک ایسا

مثنوی عکس کوکن ایک ادبی اور تاریخی کارنامہ،مضمون نگار: محمد دانش غنی

اردودنیا،فروری 2026: اردوشاعری کے ضمن میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی بڑا رزمیہ وجود میں نہیں آیا جس کو ہم عالمی زبانوں کے ادب