داستان گوئی ہمارا عظیم ادبی و تہذیبی سرمایہ : ڈاکٹر شمس اقبال

February 13, 2026 0 Comments 0 tags

پریس ریلیز

دہلی یونیورسٹی لٹریچر فیسٹیول 1.0میں قومی اردو کونسل کے اشتراک سے ایک خاص پروگرام میوزیکل داستان گوئی ’’کہت کبیر‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف داستان گو سید ساحل آغا اور مقبول غزل سنگر ڈاکٹر نیتا پانڈے نیگی نے کبیر داس کے متعلق داستان اور دوہے پیش کیے۔ پروگرام سے قبل قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ داستان محض ایک فن نہیں بلکہ ہماری روحانی اور تہذیبی وراثت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس نے صدیوں کی تہذیب اور تاریخ کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے ۔داستان گوئی فنِ لطافت کی وہ معراج ہے جہاں ایک تنہا شخص اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ، آنکھوں کی جنبش اور ہاتھوں کے اشاروں سے زمین پر بیٹھے بیٹھے آسمان میں قلعے اور پاتال کے جنّات کی دنیا تعمیر کر دیتا ہے۔اس فن کا آغاز تیرہویں صدی میں ہوا، جب اردو زبان انگڑائی لے رہی تھی۔ عرب و فارس سے آئے قصے جب ہندوستانی مٹی کی خوشبو میں رچے بسے تو داستان گوئی وجود میں آئی۔ اور جب ہم اس کی جڑوں کی بات کرتے ہیں تو حضرت امیر خسروؒ کا نام آفتاب کی مانند درخشاں نظر آتا ہے۔ خسروؒ نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور صوفیانہ بصیرت سے داستان گوئی کو وہ روح عطا کی جس نے اسے محلاتی درباروں سے لے کر درگاہوں اور گلی کوچوں تک پہنچا دیا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ کہانی محض وقت گزاری نہیں بلکہ دلوں کو منور کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔داستان گوئی ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے۔ جب ایک داستان گو سفید انگرکھا زیب تن کیے، سر پر ٹوپی سجائے محفل میں جلوہ گر ہوتا ہے تو وہ محض ایک فرد نہیں رہتا بلکہ گزرے ہوئے زمانے کا سفیر بن جاتا ہے۔ یہ فن ہمیں صبر سکھاتا ہے، سننے کا ہنر عطا کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اردو زبان اور ہندوستانی تہذیب کو زندہ رکھتا ہے۔داستان گوئی کی دنیا میں طلسمِ ہوش ربا جیسی عظیم داستانوں کا ذکر نہ ہو تو گفتگو ادھوری رہتی ہے۔ ان داستانوں میں طلسم اور عیاری کے ایسے پیچیدہ اور حیرت انگیز واقعات ملتے ہیں کہ سامع خود کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ لیکن ان کا اصل حسن اردو زبان کی نزاکت، محاوروں کی چاشنی اور لفظوں کی جادوگری ہے، جو آج کی جدید فینٹسی فلموں میں بھی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔عہدِ جدید میں اس فن کے احیا میں سید ساحل آغا کا ایک اہم نام ہے۔ میوزیکل داستان گوئی ’’کہت کبیر‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔موسیقی وہ زبان ہے جو براہ راست دل میں اترتی ہے۔ پروگرام ’’کہت کبیر‘‘ عصرِحاضر کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ صوفی سنت کبیر داسؔ، جن کی پوری زندگی ایک پیغام ہے۔ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے اس مصروف اور شور انگیز دور میں داستان گوئی کا فروغ نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ ہماری زبان، تخیل اور تہذیب کو جِلا بخشتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ساحل آغا، ڈاکٹر نیتا پانڈے نیگی صاحبہ اور ان جیسے فنکار جو اس قدیم مشعل کو تھامے آگے بڑھ رہے ہیں جو لائق تحسین ہے۔ ہمیں کشادہ دلی سے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ این سی پی یو ایل ہمیشہ سے اس روایت کی سرپرستی کرتا آیا ہے۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے اس اہم پروگرام کے انعقاد کے لیے دہلی یونیورسٹی اور باالخصوص پروفیسر یوگیش سنگھ (وائس چانسلر دہلی یونیورسٹی) ، پروفیسر رجنی ابی (ڈائریکٹر ساؤتھ کیمپس دہلی یونیورسٹی) پروفیسر انوپ لاتھر، پروفیسر نیرا اگنیمترا، پروفیسر روی ٹیک چندانی اور پروفیسر مشتاق عالم قادری کا شکریہ ادا کیا کہ جن کے تعاون سے یہ محفل سجائی گئی۔ اس موقع پر مذکورہ شخصیات کے علاوہ پروفیسر انوار عالم پاشا، پروفیسر عمران چودھری ، پروفیسر متھن کمار، قومی اردو کونسل کا عملہ اور بڑی تعداد میں سامعین موجود رہے۔

رابطہ عامہ سیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کےاسٹال پر ‘جتنے دور اتنے پاس’ (کتاب پر مذاکرہ)،‘مادری زبان میں قومی تعلیمی پالیسی2020’ اور اردو کے فروغ میں تھیٹر کا کردار ’ کے عنوانات سے مذاکرے

نئی دہلی: قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلے میں آج تین مذاکرے منعقد ہوئے ۔ پہلا پروگرام ‘جتنے دور اتنے پاس ’ نامی کتاب پر مذاکرہ تھا۔

عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکروں کا اہتمام

نئی دہلی: عالمی کتاب میلے کے پانچویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکرے منعقد ہوئے۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم

شعبہ اردو پٹنہ کالج و قومی اردو کونسل کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار

پریس ریلیز قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو، پٹنہ کالج، پٹنہ کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار بعنوان ’بہار کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ‘