سلطان اختر:کلاسیکی روایت کا جدت پسند شاعر،مضمون نگار:ظفر اللہ انصاری

May 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

 مجھے جن بزرگ شعرا کو قریب سے دیکھنے اور ان کی شاعری سے مستفیض ہونے کا موقع ملا ان میں ایک معتبر نام سلطان اختر کا بھی ہے۔ ان کا اصل نام سلطان اشرف تھا لیکن اردو ادب میں سلطان اختر کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ پروفیسر وہاب اشرفی اپنی تاریخ ادب اردو جلد سوم میں ان کا تعارف حسبِ ذیل انداز میں پیش کرتے ہیں:
’’ان کا اصل نام سلطان اشرف ہے لیکن اپنے قلمی نام سلطان اختر سے معروف ہوئے۔ ان کے والد محمد شرف الدین تھے اور والدہ رابعہ خاتون۔ سلطان اختر 16دسمبر1940 میں سہسرام میں پیدا ہوئے۔ یہی ان کا آبائی وطن ہے۔ انھوں نے مدرسہ خیریہ نظامیہ سے مولوی تک کی تعلیم حاصل کی، پھر انگریزی تعلیم کی طرف راجع ہوئے۔ سہسرام ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا اور یہیں کے ایس پی جین کالج سے بی اے کر رہے تھے کہ لیبر ڈپارٹمنٹ جمشیدپور میں ملازمت مل گئی اور تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ ستمبر 1968 سے ہوم (جیل) ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ہوئے اور پٹنہ میں قیام پذیر ہوگئے۔ اسی عہدے سے30ستمبر2000 میں سبکدوش ہوئے۔‘‘  1
ڈاکٹراے۔ کے۔ علوی نے اپنے مضمون ’’شہنشاہِ غزل – سلطان اختر‘‘ میں جہاں سہسرام کی ادبی تاریخ پر ایک اجمالی روشنی ڈالتے ہوئے اس شہر کی عظمت رفتہ کا ذکر کیا ہے وہیں اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ سلطان اختر ایک تعلیم یافتہ خانوادے کے چشم وچراغ تھے۔ انہی کے لفظوں میں: ’’سلطان اختر نے اسی شہر (سہسرام) کے محلہ خان بھائی کے باغ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے کے الحاج شرف الدین ورابعہ خاتون کے یہاں 16ستمبر 1940 کو آنکھیں کھولیں‘‘۔2  
اپنے شہر کی ادبی فضا اور گھر کے ماحول نے ان کے اندر شاعری کا ذوق وشوق پیدا کیا۔1957 سے باضابطہ شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے ابتدا میں محمد الطاف حسین مانوس سہسرامی سے اپنے کلام پر اصلاح لی۔ وہی مانوس سہسرامی جن کے تعلق سے اردو کے مایۂ ناز نقاد پروفیسر عبد المغنی کا خیال ہے کہ: ’’عصر حاضر میں اگر کسی شاعر کو میر کا جانشین، نمائندہ یا ترجمان کہا جاسکتا ہے تو وہ فانی بدایونی کے بعد مانوس سہسرامی ہیں، جن کے تغزل میں وہی نشتر ہیں جو میر سے منسوب کیے جاتے ہیں‘‘۔3 اور جنھوں نے عشرت لکھنوی، شفق عماد پوری، وحشت کلکتوی، سیماب اکبر آبادی اور دل شاہ جہاں آبادی جیسے اساتذۂ فن سے کسب فیض کرکے اپنی شاعری کو معتبر بنایا تھا۔ 
سلطان اختر ایک غیر معمولی صلاحیت کے حامل شاعر تھے اور ان کا یہ وصف ان کے ابتدائی زمانے ہی میں ظاہر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سردار جعفری نے ان کی ایک غزل کو1967 کے رسالے سہ ماہی گفتگو، جلد2 صفحہ 304 پر ان شعرا کے ساتھ شائع کیا جن کے تعلق سے ان کا خیال تھا کہ: ’’اس میں لکھنے والے وہ جدید تر ادیب ہیں، جو تذبذب، تشکیک اور بے دلی کی نیم تاریک، نیم روشن فضائوں سے گزر رہے ہیں، اگر وہ پرانی اقدار سے مایوس ہیں تو یقینا ان کے دل میں نئی اقدار کی روشنی موجود ہے اور ایک نہ ایک دن وہ اس روشنی کو تلاش کرلیں گے۔ اردو ادب کا مستقبل ان کے وجود سے تابناک ہے۔‘‘ (سر ورق کے پیچھے کے صفحہ سے) واضح ہو کہ مذکورہ غزل کا مطلع: شب انتظار ہے دوستو غم دوستاں کو طلب کرو- کوئی شرحِ گیسوئے خم بہ خم، کوئی مدح عارض ولب کرو۔ بطور خاص توجہ کا مرکز بنا اس غزل کے چنداشعار مندرجہ ذیل ہیں:
شب انتظار ہے دوستو غم دوستاں کو طلب کرو
کوئی شرح گیسوئے خم بہ خم کوئی مدح عارض و لب کرو
تمھیں شوق ہے توبہ شوق مجھ پہ نگاہ غیظ و غضب کرو
اگر اور بھی ہے کوئی ستم جو نہ کرسکے ہو تو اب کرو
کوئی امتحان وفا تو لو کسی قتل گہہ کا پیام دو
صف سرفروشاں ہے منتظر سر دار ان کو طلب کرو
نہ کروںگا شکوۂ بے رخی نہ شکایت غمِ عاشقی
مرے حال پر نگہ کرم تمھیں اختیار ہے جب کرو
اس غزل سے متاثر ہوکر کیفی اعظمی نے بھی اسے اپنے ہفتہ وار بلٹز (BLITZ) میں  اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔4    علاوہ ازیں1967 میں شمس الرحمن فاروقی اور حامد حسین حامد نے ’’نئے نام‘‘ کے عنوان سے، شب خون کتاب گھر الہ آباد سے، جدید شاعروں کا جو انتخاب شائع کیا اس میں بھی صفحہ79 پر سلطان اختر کی غزل شامل ہے:
سلطان اخترکی غزلیں ان رجحانات ومیلانات کی نمائندگی کرتی ہیں جو آزادی کے بعد ابھرنے والے نئے ادبی وشعری مزاج ومنہاج سے عبارت ہیں۔ خود ’نئے نام‘ کے مرتبین میں سے ایک یعنی حامد حسین حامد نے اپنے انتخاب کے تعلق سے اس امر کی وضاحت کی تھی کہ ’’نئے نام‘‘ میں ہندوستان کے ہر اس اردو شاعر کا منتخب کلام شامل ہے جس کو 1960 کے بعد جانا پہچانا گیا ہے یا جاننے پہچاننے کی کوشش کی گئی ہے اور جس کا لب ولہجہ اور سوچنے سمجھنے کا انداز نیا ہے۔ ’’نئے نام‘‘ کی رعایت سے نو واردان بساط شاعری کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔‘‘5
یہ بات درست ہے کہ سلطان اختر کی وقت شناس نظر نے اس بات کا احساس وادراک کرلیا تھا کہ اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کے جدید تقاضے کیا ہیں؟ اگرچہ ان کی تربیت غزل کے کلاسیکی اور روایتی ماحول میں ہوئی تھی لیکن انھیں اس امر کا سراغ مل گیا تھا کہ وہ اپنے فکری وفنی رویّے میں کون سی تبدیلی لائیں کہ وہ زمانے کی رفتار کے ساتھ قدم ملاکر چل سکیں۔ لہٰذا انھوں نے کلاسیکی بنیاد پر ہی اپنے جدید رنگ وآہنگ کی داغ بیل ڈالی۔ کلاسیکی شاعری کے عرفان نے انھیں نئے راستے پر چلنے میں معاونت بھی کی اور بے راہ روی کا شکار ہونے سے بھی بچایا۔ 
سلطان اختر کے تینوں مجموعہ کلام یعنی انتساب (1994)، غزلستان (2014) اور برگ خوش رنگ (2016) کے مطالعے سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچ جاتا ہے کہ سلطان اخترابتدا سے لے کر اخیر زمانے تک سنجیدگی، شائستگی اور متانت کا دامن تھامے رہے اور انھوں نے سطحی، مبتذل اور سوقیانہ خیالات سے اپنے کشکول سخن کو پر نہیں کیا۔ جدیدیت سے متاثر شعرا جب فکری وفنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہوکر تجربے کے نام پر الّم غلم بک رہے تھے۔ بلکہ غالب کے لفظوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
اس زمانے میں بھی سلطان اختر نے قلم کا تقدس اور اس کی عظمت کو قائم رکھا اور اس طرح کی شاعری سے اغماض کا رویہ اپنایا ۔
چوں کہ سلطان اختر غزل کے رمز شناس تھے، اس لیے انھوں نے وہ اسلوب اور وہ لہجہ اپنایا جو غزل کے مزاج سے مطابقت رکھتا ہو۔ وہ جدیدیت یا جدت پسندی کی دھن میں بہہ کر غزل کو اس کے اصل محاسن سے مبرّا کرنے کے قائل کبھی نہیں رہے بلکہ اس رنگ سخن کو بروے کار لانے کے خواست گار رہے جس میں روایت کے مستحسن نقوش بھی ہوں اور طرز جدید کی نیرنگی بھی۔ یعنی وہ اس حقیقت سے واقف تھے کہ:
 ’’جلتا رہا چراغ ہمیشہ چراغ سے‘‘
سلطان اختر مشرقی بلکہ ہندوستانی تہذیب کے پروردہ ہیں اور انھیں اپنی تہذیب کا تقدس ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ عموماً ان جذبات وخیالات کو شعری جامہ پہنانے سے گریز کرتے ہیں جو ہندوستانی تہذیب وروایت کی رو سے مستحسن نہیں۔ یا اگر ایسے خیالات وجذبات کو شعری قالب میں ڈھالتے بھی ہیں تو فنّی چابکدستی کے ساتھ کہ اُن کے اظہار وبیان میں عریانیت وبرہنگی کا عنصرنہ در آئے۔
نئی غزل میں جنسی معاملات ومسائل کی بھی عکاسی ہوتی رہی ہے۔ اس میں روح کے ساتھ ساتھ جسم کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھے جانے کی مثالیں ملتی ہیں، اوراس کا سبب یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد روح اورجسم دونوں کے اشتراک پر ٹکی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمد مشتاق کہتے ہیں:
زندگی معرکہ روح و بدن ہے مشتاق
عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا
سلطان اخترنے جنسی معاملات سے متعلق مضامین بڑی فنکاری کے ساتھ اپنی غزلوں میں باندھے ہیں جس سے ان کی فنی مہارت آشکار ہوتی ہے۔ 
سلطان اخترکی غزلوں کا مطالعہ کرنے سے یہ شق بھی ابھرتی ہے کہ ان کے یہاں اپنے کسی محبوب کے کھوجانے کا درد بھی ہے جو انھیں ہمہ وقت پریشان کیے رکھتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ بچھڑنے والا شخص غزل کا روایتی معشوق ہو، وہ ان کے گھر کا کوئی فرد بھی ہوسکتا ہے جس کی جدائی میں ان کا حساس دل سیماب کے مانند تڑپتا رہتا ہے اور وہ سوز وگداز میں ڈوبے ہوئے پُر اثر اشعار کہتے ہیں:
عمر بھر بیٹھ کے رونا کوئی آسان نہیں
اپنی یادیں بھی لیے جا او بچھڑنے والو
جن کی یادوں سے ہیں شاداب لہو کی شاخیں
لوٹ کر پھر نہ وہ خوش رنگ زمانے آئے
گزر سکا نہ ترے انتظار کا موسم
کہ طاق دل پہ ابھی تک چراغ جلتا ہے
میں بجھ چکا ہوں سر شام انتظار مگر
مری نگاہ میں اب تک  چراغ جل رہے ہیں
سلطان اختر کی شاعری عصری حسّیت کی شاعری ہے، اور انھوں نے اپنے نگار خانۂ فن میں حسن وعشق کی روایتی تصویریں نہ کے برابر سجائی ہیں، لیکن ان کی غزلوں میں چند اشعار ایسے بھی مل جاتے ہیں جو حدیث دل بیان کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، سلطان اختر ایک ماہر فن شاعر ہیں اور انھیں ہر طرح کے مضامین میں امتیازی واختصاصی پہلو نکالنے کا ہنر آتا ہے۔ اس لیے وہ حسن وعشق پر مبنی مضامین شعر میں بھی ایک خاص رنگ پیداکر لیتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
بہت دنوں پہ اسے آج غور سے دیکھا
پتا چلا کہ نہیں وہ بھی اپنے جیسا اب
بے تعلق رہے برسوں تو کوئی بات بھی تھی
ان دنوں تم سے نہ ملنے کا سبب کچھ بھی نہیں
آنکھوں کے آئینے میں نیا خواب آئے گا
جب روبرو وہ پیکر شب تاب آئے گا
محولہ اشعاراس امرپر دلالت کرتے ہیں کہ سلطان اخترنے تفکر وتفلسف کے دام فریب میںآکر عشق کی لطیف سرمستی سے اپنے آپ کومحروم نہیں رکھا ہے بلکہ اپنے نگار خانہ غزل میں انسان کی جبلّی صفت عشق کی نقش گری کا اہتمام کیا ہے۔ یعنی وہ اپنی شاعری میں عشقیہ مضامین کی پیش کش کو شجر ممنوعہ تصور نہیں کرتے، لیکن وہ عشق کے مختلف پہلووں کے بیان میں انفرادی طریق کار استعمال میں لاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے عشقیہ اشعار بھی اپنی مثال آپ ہوجاتے ہیں۔
سلطان اختر نے اپنی غزلوں میں ذات سے لے کر کائنات تک کے معاملات ومسائل کی ترجمانی کی ہے۔ جہاں ان کی غزلوں میں ان کے ذاتی درد وغم کا اظہار ملتا ہے وہیں ان کے عہد کے سماجی، تہذیبی اور ثقافتی آثار وکوائف بھی جلوہ ریز دکھائی دیتے ہیں۔ سلطان اختر نے خواہ ذاتی درد وغم ہوں یا معاشرے کے مسائل ان کو اس طرح اپنی غزلوں کا حصّہ بنایا ہے کہ وہ شعری محاسن سے مملو ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بعض ترقی پسند شاعروں کی طرح نہ تو شاعری کو اپنے مخصوص نظریے کے پروپیگنڈے کے ذریعے بنایا اور نہ ہی نام نہاد جدیدیوں کی طرح انفرادیت کے نام پر اس میں ایسی رمزیت واشاریت کو داخل کیا کہ شاعری پر مہمل ہونے کا گمان گزرنے لگے۔ سلطان اخترنے اس مقام پر شاعری کو برہنہ گفتاری سے بھی بچایا اور اس میں مہملیت بھی پیدا ہونے نہیں دی۔ داخلیت غزل کی روح ہوا کرتی ہے اور سلطان اختر کے یہاں یہ بدرجہ اتم پائی جاتی ہے جس کا اندازہ ان کی غزلوں کے مطالعے سے بہ خوبی ہوجاتا ہے۔ 
آزادی کے بعد ہندوستان میں معاشرتی سطح پر جو شکست وریخت اور تغیر وتبدل کا عمل شروع ہوا اور اسی کے ساتھ شہر کاری (Urbanization) کی وبا آئی جس نے انسان کے اندر سے معصومیت، سادگی اور بھولے پن کو دھیرے دھیرے معدوم کرکے اس کی جگہ عیاری، مکاری اور دغا بازی بھر دی۔ اس کی وجہ سے معاشرے کے مزاج میں بھی تبدیلی آئی اور انسان کو ایسی زندگی جینے پر مجبور ہونا پڑا جس میں حقیقت کم اور تصنع زیادہ تھا۔ اس مصنوعی ثقافت کے اثرات نے انسانی تعلقات کو کاروباری بنا دیا اور انسان کے اندر سے ہمدردی ومروت دھیرے دھیرے جاتی رہی اور ہر رشتے کو سود وزیاں کے پیمانے سے ناپا جانے لگا۔ اس صورت حال کی عکاسی سلطان اختر نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کی ہے:
سب کچھ بدل گیا ہے زمانے کے ساتھ ساتھ
اب میں بھی خاک سود و زیاں چھاننے لگا
چراغ قرب روشن ہے، نہ فرقت کی سحر قائم
تعلق اس سے پھر بھی ہے بہ انداز دگر قائم
کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا
میں بھی اکتائے ہوئے لوگوں سے اکتا کے ملا
شہر کاری کی وجہ سے بکھری ہوئی آبادی ایک جگہ سمٹنے لگی اور اس کی خانگی وعائلی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ اسی کے ساتھ روز افزوں بڑھتی ہوئی انسانوں کی تعداد نے یہ ستم ڈھایا کہ پیڑ پودے تیزی سے کاٹے جانے لگے جس کے اثرات اس ارض گیتی پر منفی انداز میں مرتب ہوئے۔ سلطان اختر نے اپنے اشعار کے ذریعے اس صورت حال کی بھی عکاسی کی ہے:
درختوں کا لہو شامل ہے شاید
ہوا کا ذائقہ بدلا ہوا ہے
ہرا شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دے
زمین کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دے
خوشنما آبی پرندے ہیں نہ کھلتے ہیں کنول
کائی جم کر رہ گئی ہے گائوں کے تالاب میں
سورج میں دھوپ پیر میں سایہ نہیں رہا
اب موسموں کا ذائقہ اپنا نہیں رہا
بہرحال شہرکاری نے جہاں ہمارے داخلی معاملات کو متاثر کیا وہیں خارجی مظاہر کو بھی۔ اشعار بالا میں جس تہذیبی زوال کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے شاعر روز نبرد آزما ہوتا ہے اور اس کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ تہذیب کی عظمت رفتہ کو از سر نو بحال کیاجائے۔ لیکن اس کی شاخِ تمنا برگ و بار نہیں لاتی، کیوں کہ زمانے کی رفتار کو روکا نہیں جاسکتا ہے، لہٰذا وہ کہہ اٹھتا ہے:
لاکھ تہذیب کے غاروں میں چھپے ہم اختر
پھر بھی عریانیت وقت سے دامن نہ بچا
سلطان اختر کے یہاں ہر بڑے فنکار کی طرح خود داری اور انانیت بھی ملتی ہے۔ اس خود داری اور انانیت کو تکبر اور خود پسندی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ خود داری اور انانیت کا جذبہ انھیں معیار انسانیت ومیزان شرافت سے گرنے نہیں دیتا اور وہ ہر حال میں کردار کی رفعت کو بحال رکھتے ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس انانیت وخودداری کا تعلق صرف شاعرانہ اظہار سے نہیں ہے، بلکہ ان کی اپنی زندگی سے بھی ہے۔ 
سلطان اختر نے اپنی غزلوں میں ایسے بھی اشعار کہے ہیں جن کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ اخلاقیات کاموضوع ہماری کلاسیکی غزل کا جزو لاینفک رہاہے اور اس کے آثار و علامات ہماری شعری روایات میں عموماً مل جاتے ہیں۔ اخلاقیات پر مبنی سلطان اختر کے اشعار ملاحظہ ہوں:
محنت بہت ضروری ہے محنت کیا کرو
چھونا ہے آسماں تو ریاضت کیا کرو
کب تک بسر کروگے مصاحب کی زندگی
حق گوئی کی بھی تھوڑی جسارت کیا کرو
دن بھر کی بھاگ دوڑ سے فرصت نکال کر
دل کو سکوں ملے گا ، عبادت کیا کرو
رزق حلال نعمت عظمیٰ سے کم نہیں
نان جویں ملے تو قناعت کیا کرو
سلطان اختر کی غزل گوئی پر شمس الرحمن فاروقی نے ایک مضمون ’’سلطان اختر کی غزل‘‘ (1987) میں یہ اعتراف کیا تھا کہ ’’سلطان اختر کی آواز جدید اردو غزل کی سب سے توانا اور نمایاں آواز ہے‘‘6
 جب1914 میں ان کا دوسرا مجموعہ کلام زیور طبع سے آراستہ ہوا تو فاروقی صاحب مرحوم اپنی رائے کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہے، اسی کے ساتھ انھوں نے یہ رائے بھی دی کہ اب جب فنی اعتبار سے قحط الرجال کا زمانہ ہے اور اکثر لوگ شاعری کی فنی باریکیوں سے نابلد ہیں تو ایسے وقت میں سلطان اختر معیاری شاعری کر رہے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کی رائے انہی کی زبان میں ملاحظہ فرمائیں:
’’بیس برس سے کچھ اوپر ہوتے ہیں، میں نے سلطان اختر کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ غزل کی دنیا میں ان کی آواز آج کی سب سے زیادہ توانا آوازوں میں شمار ہوتی ہے۔ آج جب ان کا نیا مجموعہ سامنے ہے، مجھے اپنی پرانی رائے پر نظر ثانی کرنے یااسے بدلنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ہمارا ادب کئی طرح کی افراتفری کا شکار رہا ہے۔ جگہ جگہ اچھی شاعری کا بازار اونچا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مایوسی ہی نہیں، بعض اوقات تو ڈر لگتا ہے کہ ہم پر کیا برا وقت آپڑا ہے۔ روز مرہ کی معمولی باتوں، اخباری مشاہدوں، ٹی۔وی کی خبروں اور بازار کی گپ شپ کو کمزور الفاظ میں منظوم کردینے کا نام شاعری قرار پایا ہے ۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں نے شعرا اور غیر شعر اور اخباری بیان، شعر اور منظوم خبر نامہ کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔ سلطان اختر کا دم غنیمت ہے کہ فن کی ناقدری کے اس دور میں بھی انھوں نے اپنی آواز کی قدر وقیمت برقرار رکھی ہے۔‘‘7 
یہ سچ ہے کہ سلطان اختر نے اپنی غزل گوئی میں جدت پسندی کو روا رکھا لیکن انھوں نے روایت سے کبھی غفلت نہیں برتی جس کی وجہ سے ان کے یہاں ایک قسم کا اعتدال وتوازن پایا جاتا ہے جس کا مشاہدہ ان کی ترکیب سازی کے عمل میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ وہ غزل گوئی کے مرحلے میں لفظوں کو اس طرح ترکیبی پیرہن عطا کرتے ہیں کہ ان میں حرکی توانائی پیدا ہو جاتی ہے اور جس سے ان کی غزلوں میں معنوی سطح پر وسعت اور صوتی اعتبار سے خوش آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کی غزلیں جہاں دعوتِ فکر دیتی ہیں وہیں سماعت کو بھی بھلی لگتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مستعمل تراکیب لفظی کے چند نمونے مشتے از خروارے کے طور پر ملاحظہ ہوں:
کاسۂ دل، عکس ہوس، سیل تشنگی، زخم اذیت، شہر گریاں، ابر گریزاں، روزن امکان، پیراہن غبار، لذت آزار، پیراہن جاں، گل مدعا، صحن احساس، کسب تمازت، شاخ طلب، شاخ تمنا، کشت تمنّا، حصار تمنّا، شور سگان، حصار جاں، عکس شناسائی، عکس معتبر وغیرہم۔
یہ فارسی تراکیب ہیں۔ ان کے علاوہ انھوں نے جابجا ہندی تراکیب کا بھی استعمال کیا ہے جس سے ان کی تخلیقی قوت اور زبان پر قدرت کا اندازہ ہوتا ہے، ساتھ ہی اس امر کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ انھوں نے اپنی انفرادیت قائم کرنے میں کلاسیکی اصول فن کو بجا طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت کے رجحان سے وابستہ شدت پسند شاعروں کی طرح اُن کے یہاں لسانی اعتبار سے شکست وریخت کا رویہ نہیں پایا جاتا ہے۔ 
سلطان اختر ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے چھوٹی بڑی اور متوسط ہر طرح کی بحروں میں کامیاب غزلیں کہی ہیں۔ ان کی غزلوں کے مطبوعہ کلیات ’’سرشاخ طلب‘‘ میں ایسی غزلیں مل جاتی ہیں جو میرے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔ بڑی بحر میں ان کی ایک غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
ڈوبتی ساعتوں کی طرح ایک دن سب کی آنکھوں سے روپوش ہوجائے گی/بے بسی کی کڑی دھوپ ڈھلنے تلک زندگی گرم پتھّرپہ سوجائے گی/ کچھ دنوں تشنگی کی سزا کاٹیے ، یوں ہی چاروں دشاؤں کے لب چاٹیے/ پانچویں سمت سے آنے والی گھٹا ، ریب کی خشک چادر بھِگو جائے گی
متوسط بحروں کی مثالیں ملاحظہ ہوں:
دیواریں عکس ریز ہیں ، در آئینے کا ہے
پتھر کے شہر میں مرا گھر آئینے کا ہے
خالی ہے طلب گاروں سے بازارِ تمنّا
آتا ہی نہیں کوئی خریدارِ تمنّا
فرصت میں رہا کرتے ہیں فرصت سے زیادہ
مصروف ہیں ہم لوگ ضرورت سے زیادہ
اسی طرح چھوٹی بحروں میں کہے گئے یہ اشعار بھی دیکھیے:
پچھلا موسم جب یاد آئے
سب کو سب کا سب یاد آئے
بوڑھوں کو چوپال کی رونق
بچوں کو مکتب یاد آئے
تمام دن رات پر شکستہ
سبھی کے حالات پر شکستہ
یقین چاروں طرف منور
سیاہ شبہات پر شکستہ
سلطان اختر کی اکثر غزلوں میں از اول تا آخر احساسات وکیفیات کی وحدت وہم رنگی پائی جاتی ہے۔ غزل اگرچہ ریزہ خیالی کا فن ہے اور اسی وجہ سے یہ معتوب ومغضوب بھی رہی، لیکن بعد کے زمانے کے شعرا نے اس طرف خاص طور سے توجہ دی جس کے باعث غزل کے اشعار میں احساسات وخیالات کی وحدت ہونے کے امکانات روشن ہوئے اور ایسی غزلیں کہنے کا رواج ہوا جن میں فکری نہیں توحسی وکیفیاتی وحدت ضرور پیدا ہوگئی۔ سلطان اختر کے یہاں بھی یہ وصف پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے ایسی غزلیں بھی کہیں ہیں جن کو غزل مسلسل کے زمرے میں رکھاجاسکتاہے۔ مثلاًایک غزل کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
ان کا وعدہ یاد آیا تو اپنا وعدہ بھول گیا
وقت سے پہلے دل کی باتیں دل دیوانہ بھول گیا
شب بیداری ، بزم کی رونق ، شعر و سخن کی یاد نہیں
دنیاداری میں پھنس کر میں اپنی دنیا بھول گیا
شہر تمنا کے دامن میں دشت بلا آباد ہوا
روتی آنکھیں یاد ہیں اب میں ہنستا چہرہ بھول گیا
کھیت، کنواں، شہتوت کی ڈالیں، پگڈنڈی، برگد کی چھائوں
کچھ بھی مجھ کو یاد نہیں ، میں سب کچھ اپنا بھول گیا
سلطان اخترکی غزل گوئی کے اس اجمالی جائزے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام پڑھ کر ایسا نہیں لگتا کہ انھوں نے شعر نہیں کہے ہیں بلکہ شعر گڑھے ہیں۔ یعنی شعر گوئی اور شعر سازی میں فرق ہوتاہے جس کو سلطان اختر کی غزلوں کے مطالعہ سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
المختصریہ کہ سلطان اخترکی شاعری  کلاسیکی روایت کی مستحکم بنیادوں پرکھڑی ہے۔ اس میں اصول شعر وسخن کی بجا طورپرپابندی کی گئی ہے۔ انھوں نے شعری اصول کو حتی الوسع برتتے ہوئے نئے رنگ وآہنگ اور جدید طرز واسلوب کی شاعری کی ہے۔ ان کی غزلوں میں روانی ہے۔ الفاط کے در وبست اور ترکیب سازی کے عمل میں وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ غزل کے نازک آبگینے کو ٹھیس لگنے نہ پائے۔ ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی موسیقیت وغنائیت ہے۔ اُن کی شاعری کسی مخصوص ادبی وسیاسی نظریے کی تابع نہیں۔ ان کی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کی اعلیٰ قدریں سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں معنوی وسعت اور فکری تنوع پایا جاتاہے۔ ان کی جمالیاتی حس بیدار ہے جس کے باعث ان کی غزلوں میں جمالیاتی کیفیت کا وفور ہے جو دل ودماغ کو راحت بخش فضا سے ہمکنار کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سلطان اختر کی شاعری میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کے باعث وہ صدیوں تک اپنی اہمیت ومعنویت قائم رکھے گی۔
20اپریل 2021 کو پھلواری شریف پٹنہ، بہار میں اردو کے اس مایہ ناز غزل گوکی وفات ہو گئی اور وہیں کے حاجی حرمین قبرستان میں ان کے جسد خاکی کو سپرد خاک کیا گیا۔ غزل کے علاوہ انھوں نے دیگر اصناف شاعری میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان اصناف پر مبنی ان کا سرمایہ سخن منظر عام پر نہیں آپایاہے۔ ان کے تمام سرمایہ سخن کو مدون کرکے منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے شاعرانہ عظمت میں مزید اضافہ ہو۔
حوالہ جات
1 تاریخ ادب اردو(جلدسوم) وہاب اشرفی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی، 2007 ص 57- 1758
2 سہ ماہی بھاشا سنگم جنوری تا جون 2023گوشہ سلطان اختر، اردو ڈائرکٹوریٹ، بہار پٹنہ، ص29
3 مانوس کی شاعری، مشمولہ کلیات مانوس، مرتبہ افضل حسین مانوسی، دی آرٹ پریس، سلطان گنج پٹنہ 1985 ص 13
4 شاعری کا گوہر نایاب،(مضمون)مصنفہ ارمان نجمی، مشمولہ سلطان اختر: جدید اردو غزل کی معتبر آواز، مرتبہ: ڈاکٹر یاسمین بانو، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس نئی دہلی 2016 ص 59
5 نئے نام، مرتبین: حامد حسین حامد، شمس الرحمن فاروقی، شب خون کتاب گھر، الہ آبادہ، 1967، ص30
6 معرفت شعر نو؛ شمس الرحمن فاروقی، الانصار پبلیکیشنز، حیدر آباد، 2010، ص 299
7 غزلستان، سلطان اختر، ارم پبلیکیشنز، پٹنہ 2014ص 13، 14
Dr. Zafrullah Ansari
Assistant Professor, Department of Urdu,
Allahabad University, 
Prayagraj, (U.P)
Pin- 211002
Mob.:8853579247

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

1857 کے بعد مثنوی اور نظم،مضمون نگار:تسنیم قمر

اردو دنیا، مئی 2026: انقلاب 1857 میں ناکامی کے بعد حکومت پر انگریزوں کے تسلط سے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ادب میں بھی نئے نئے خیالات اور جدید

غالب کی شاعری اور تمنا کا دوسرا قدم ،مضمون نگار:عبدالرزاق زیادی

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاں غالب (1797-1869) اردو شاعری کا وہ تابناک اور درخشاں ستارہ ہے جس نے اپنی تابانیوںسے نہ صرف انیسویں صدی کے شعری منظر نامے کو

ساحرلدھیانوی کی غزل گوئی،مضمو ن نگار:قسیم اختر

اردو دنیا،اپریل 2026: ترقی پسند شعرا میں ساحر کی شخصیت بھی مجاز کی شخصیت کی طرح ہمیشہ سے دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ جس طرح مجاز کی شخصیت کی تعمیر