یوگا کی عصری معنویت ،مضمون نگار:عبدالحافظ فاروقی علیگ

June 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

اکیسویں صدی کا انسان بظاہر ترقی کی معراج پر فائز ہے، مگر اس کی داخلی دنیا ایک اضطراب، بے اطمینانی اور فکری انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی برق رفتار پیش رفت، شہری زندگی کی ہنگامہ خیزی، اور معاشی و سماجی تقاضوں کی پیچیدگی نے انسان کے ظاہر کو تو آسودہ کیا، مگر باطن کو ایک خاموش خلش میں مبتلا کر دیا۔ زندگی کی اس تیز رو میں سکونِ قلب، توازنِ فکر اور ہم آہنگیِ وجود جیسے قیمتی جوہر کہیں دھندلا سے گئے ہیں، اور انسان اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں ایک انجانی تھکن کا مسافر بن گیا ہے۔
ایسے میں جب انسان اپنی ذات سے دور اور فطرت سے بیگانہ ہوتا جا رہا ہے، یوگا ایک روشن مینار کی مانند ابھرتا ہے، جو نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی و روحانی سکون کا بھی ضامن ہے۔ یوگا محض چند جسمانی حرکات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فلسفۂ حیات ہے جو انسان کو اپنے باطن کی گہرائیوں سے روشناس کراتا اور اسے کائنات کے وسیع تر نظام سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ گویا یوگا وہ خاموش زبان ہے جو انسان کو اس کے اندر کے شور سے نکال کر ایک ایسی داخلی خاموشی سے ہم کلام کرتی ہے جہاں سکون اپنی اصل صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
لفظ ’یوگا‘ سنسکرت کے’یُج‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ’جوڑنا‘ یا ’ملانا‘۔ یہ جوڑ محض جسم اور ذہن کا نہیں بلکہ انسان کے وجودِ کامل کا اس کے حقیقی جوہر سے اتصال ہے۔ یوگا انسان کو اس کے منتشر خیالات، بے قابو جذبات اور تھکی ہوئی روح کو یکجا کر کے ایک ایسی کیفیتِ توازن عطا کرتا ہے جہاں سکون، شعور اور آگہی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اسی توازن کی تلاش دراصل جدید انسان کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔
یہی سبب ہے کہ دنیا بھر میں یوگا کو نہ صرف ایک صحت بخش عمل بلکہ ایک بامعنی طرزِ زندگی کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے، جہاں جسمانی تندرستی کے ساتھ ساتھ ذہنی آسودگی اور روحانی بالیدگی بھی حاصل ہوتی ہے۔
اسی عالمی اہمیت کے پیشِ نظر، اقوامِ متحدہ نے21 جون کو’عالمی یومِ یوگا‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ 11دسمبر2014کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد (131/Resolution 69) کے تحت منظور کیا گیا، جسے دنیا کے170 سے زائد ممالک کی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی۔ اس قرارداد کی پیشکش میں ہندوستان کے وزیرِ اعظم عزت مآب نریندر مودی کا کردار نمایاں رہا، جنھوں نے 27ستمبر2014 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران یوگا کو انسانیت کے لیے ایک بیش بہا تحفہ قرار دیتے ہوئے اس کے عالمی دن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کے مطابق یوگا نہ صرف جسمانی صحت کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔
21 جون کو اس دن کے لیے منتخب کیے جانے کی ایک معنوی اہمیت بھی ہے۔ یہ سال کا طویل ترین دن (Summer Solstice) ہوتا ہے، جو روشنی، توانائی اور تجدیدِ حیات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ قدیم روایات میں بھی اس دن کو روحانی بیداری اور فکری ارتقا سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، اس لیے یوگا جیسے باطنی و روحانی عمل کے لیے اس تاریخ کا انتخاب نہایت بامعنی اور علامتی حیثیت رکھتا ہے۔
2015میں پہلی بار عالمی یومِ یوگا منایا گیا، جس میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے شرکت کی۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں راج پتھ پر منعقد ہونے والی تقریب میں ہزاروں افراد نے اجتماعی طور پر یوگا کی مشق کر کے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے بعد سے ہر سال دنیا کے مختلف ممالک امریکہ، برطانیہ، چین، جاپان، جرمنی اور دیگرممالک میں یہ دن بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے، جہاں عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، پارکوں اور کمیونٹی سینٹروں میں یوگا سیشنز، سمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
عالمی یومِ یوگا کا مقصد صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ صحت مند اور متوازن زندگی کے لیے یوگا کو مستقل بنیادوں پر اختیار کرنا ضروری ہے۔ یہ دن دراصل ایک علامت ہے،یاد دہانی کی کہ انسان اپنی مصروف زندگی میں کچھ لمحے اپنے لیے نکالے، اپنی سانسوں کی لے کو محسوس کرے، اور اپنے اندر کے سکون کو دریافت کرے۔
یوگا دراصل انسان کے اندر بکھری ہوئی کائنات کو سمیٹنے کا ہنربھی ہے۔ یہ اس خاموش جستجو کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اپنے باطن کی تہوں میں اتر کر اپنی اصل حقیقت سے آشنا ہوتا ہے۔ یوگا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی سکون باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ انسان کے اپنے اندر پوشیدہ ہے پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تک رسائی کا سلیقہ آ جائے۔
قدیم ہندوستانی حکمت میں یوگا کی بنیادیں ویدوں، اپنشدوں اور بھگوت گیتا جیسے مقدس متون میں پیوست ہیں، جب کہ مہارشی پتنجلی نے اپنے شہرۂ آفاق ’یوگ سوتروں‘ میں اس علم کو باقاعدہ ایک منظم شکل عطا کی۔ ان کے نزدیک یوگا ’چِتّ کی ورتیوں کے نیردھ‘ کا نام ہے، یعنی ذہن میں اٹھنے والے خیالات اور اضطرابات کو قابو میں لا کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرنا جہاں سکون اور یکسوئی غالب آ جائے۔
یوگا کا فلسفہ انسان کو محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک تدریجی سفر پر لے جاتا ہے، جہاں ہر قدم خود شناسی کی ایک نئی منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پتنجلی کے بیان کردہ’اشٹانگ یوگا‘ کے آٹھ مراحل-یام، نیام، آسن، پرانایام، پرتیہار، دھرنا، دھیان اور سمادھی -درحقیقت اسی روحانی ارتقا کی مختلف منازل ہیں۔ یہ مراحل انسان کو ضبطِ نفس، طہارتِ باطن، جسمانی توازن، سانس کی ہم آہنگی، حواس پر قابو، ذہنی یکسوئی، مراقبہ اور بالآخر خودی کی معراج تک پہنچاتے ہیں۔
مزیدبرآں، یوگا کے مختلف راستے-راج یوگا، کرما یوگا، بھکتی یوگا اور گیان یوگا -انسانی مزاجوں کے تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے گئے ہیں، تاکہ ہر فرد اپنی فطرت کے مطابق اس راستے پر گامزن ہو سکے۔ کوئی مراقبے کے ذریعے سکون پاتا ہے، کوئی خدمتِ خلق میں اپنی تکمیل ڈھونڈتا ہے، کوئی محبت و عقیدت کے راستے پر چلتا ہے، اور کوئی علم و آگہی کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے۔یوگا ان سب کو ایک ہی مرکز پر لا کر جمع کر دیتا ہے۔
یہی وہ جامعیت ہے جو یوگا کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہ نہ کسی خاص مذہب کی ملکیت ہے اور نہ کسی مخصوص تہذیب تک محدود، بلکہ ایک آفاقی صداقت ہے جو ہر اس انسان کے لیے ہے جو اپنی ذات میں سکون، توازن اور معنویت کی تلاش میں ہے۔
یوں یوگا کا فلسفہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان اگر اپنے باطن سے جڑ جائے تو بیرونی دنیا کے تمام انتشار کے باوجود وہ ایک ایسی داخلی روشنی پا سکتا ہے جو اس کے وجود کو منور کر دے۔ یہی روشنی دراصل یوگا کا اصل جوہر ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی معنویت۔
یوگا کے فلسفیانہ پس منظر اور اس کی داخلی معنویت کو سمجھنے کے بعد یہ سوال فطری طور پر ابھرتا ہے کہ آیا یہ قدیم حکمت آج کے تیز رفتار اور پیچیدہ دور میں کس حد تک کارآمد ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یوگا محض ایک فکری یا روحانی تصور نہیں، بلکہ ایک عملی نظامِ حیات ہے جو جدید زندگی کے سلگتے ہوئے مسائل کا نہایت مؤثر اور دیرپا حل پیش کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کا انسان بظاہر سہولتوں میں گھرا ہوا ہے، مگر اس کا باطن اضطراب، تھکن اور بے اطمینانی سے معمور ہے۔ طویل اوقاتِ کار، ڈیجیٹل دنیا کا غیر متوازن استعمال، سماجی رشتوں میں فاصلہ اور جسمانی سرگرمی کی کمی نے انسان کو ایک ایسے دائرے میں مقید کر دیا ہے جہاں ذہنی دباؤ، بے خوابی، موٹاپا، ذیابیطس اور قلبی امراض عام ہو چکے ہیں۔ ایسے میں یوگا ایک خاموش مگر طاقتور نسخۂ کیمیا بن کر سامنے آتا ہے، جو انسان کے وجود کے ہر پہلو کو چھو کر اسے توازن اور سکون کی نئی جہت عطا کرتا ہے۔
جسمانی سطح پر یوگا کے آسن نہ صرف جسم کو لچکدار اور مضبوط بناتے ہیں بلکہ نظامِ تنفس اور خون کی گردش کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔ یہ مشقیں کسی شدید جسمانی دباؤ کے بغیر جسم کو فعال اور صحت مند بناتی ہیں، جس کے باعث ہر عمر کا فرد اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پرانایام، یعنی سانس کی منظم مشقیں، پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں اور جسم میں توانائی کے بہاؤ کو متوازن کرتی ہیں، جس سے جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ذہنی سطح پر یوگا ایک ایسی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے جہاں انسان وقتی ہنگاموں سے نکل کر اپنے اندر کی خاموشی سے ہم کلام ہوتا ہے۔ مراقبہ، دھیان اور یکسوئی کی مشقیں ذہن کو منتشر خیالات سے نجات دلا کر اسے سکون اور وضاحت عطا کرتی ہیں۔ جدید سائنسی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یوگا ذہنی دباؤ کو کم کر کے دماغی کیمیائی توازن کو بہتر بناتا ہے، جس سے انسان میں برداشت، توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
جذباتی سطح پر یوگا انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور اپنے احساسات کو سمجھنے کا شعور دیتا ہے۔ یہ غصہ، خوف اور بے چینی جیسے منفی جذبات کو کم کر کے انسان میں صبر، شکر اور اطمینان جیسی مثبت کیفیات کو فروغ دیتا ہے۔ اس طرح انسان نہ صرف اپنے آپ سے بلکہ دوسروں سے بھی بہتر تعلق قائم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
سماجی سطح پر یوگا کے اخلاقی اصول جیسے عدمِ تشدد، سچائی، ضبطِ نفس اور قناعت ایک مہذب اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب فرد اپنی ذات میں توازن پیدا کرتا ہے تو اس کا اثر لازماً اس کے اردگرد کے ماحول پر بھی پڑتا ہے، اور یوں ایک صحت مند اور مثبت معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو یوگا جدید زندگی کے ہنگاموں میں ایک ایسا پُرسکون جزیرہ ہے جہاں انسان اپنے وجود کی بازیافت کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف بیماریوں کا علاج ہے بلکہ ایک ایسا طرزِ حیات ہے جو انسان کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے، ایسا سلیقہ جو توازن، شعور اور ہم آہنگی سے عبارت ہے۔
یوگا کی عملی افادیت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے بعد یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یوگا محض وقتی سکون یا جسمانی صحت کا وسیلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر طرزِ حیات ہے جو انسان کے وجود کے ہر گوشے کو منور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں یوگا اپنی اصل معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے، یعنی ایک ایسا نظامِ زندگی جو نہ صرف فرد کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کو بھی توازن اور ہم آہنگی کی راہ دکھاتا ہے۔
عصرِ حاضر کے ماحول میں، جہاں انسان مادّی ترقی کے باوجود داخلی خلا کا شکار ہے، یوگا ایک ایسی روشنی بن کر ابھرتا ہے جو اسے سادہ، متوازن اور بامقصد زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں محض آسن اور پرانایام تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سچائی، ضبطِ نفس، قناعت اور شعوری طرزِ زندگی جیسے اوصاف اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ یوں یوگا ایک ایسی داخلی تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے جو انسان کے فکر و عمل دونوں پر یکساں انداز میں اثرانداز ہوتا ہے۔
مزید برآں، جدید سائنسی تحقیقات نے بھی یوگا کی افادیت کو مدلل انداز میں تسلیم کیا ہے۔ عالمی ادارے اور تحقیقی مراکز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یوگا ذہنی دباؤ، اضطراب، ذیابیطس، قلبی امراض اور دیگر طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کے علاج اور تدارک میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور کارپوریٹ تنظیموں میں یوگا کو ایک باقاعدہ نظام کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم یوگا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر انسان روزانہ چند لمحے بھی اپنے لیے نکال کر یوگا کی مشق کرے تو وہ نہ صرف جسمانی طور پر توانا رہ سکتا ہے بلکہ ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی ایک نئی تازگی محسوس کر سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں یوگا کو نصاب کا حصہ بنانا، عوامی سطح پر آگاہی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کی ترویج یہ تمام اقدامات یوگا کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
مآخذ و مصادر
1. بھونانی، اے بی (2010)، یوگا کا مفہوم: ایک ہمہ گیر مطالعہ۔ یوگا میماسا، 42(3)،124-130۔
2. فیلڈ، ٹی۔ (2011)۔ یوگا پر طبی تحقیق کا جائزہ۔ کمپلیمنٹری تھیراپیز اِن کلینیکل پریکٹس، 17(1)، 1-8۔
3. آئینگر، بی کے ایس (2001)، لائٹ آن یوگا، ہارپر کولنز۔
4. خالصہ، ایس بی ایس (2004)، یوگا بطورِ علاج: تحقیقی مطالعات کا تجزیہ، انڈین جرنل آف فزیالوجی اینڈ فارماکولوجی، 48(3)، 269-285۔
5. نیشنل سینٹر فار کمپلیمنٹری اینڈ انٹیگریٹو ہیلتھ (2022)۔ یوگا: بنیادی معلومات۔
6. راس، اے اور تھامس، ایس۔ (2010)۔ یوگا اور ورزش کے صحت پر اثرات کا تقابلی جائزہ۔

Abdul Hafiz Farooqui Alig.
230/7, Begam Ganj Rajabazar Chowk
Lucknow- 226003 (UP)
Mob.: 8738010996
abdulhafizfarooqui@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

اردودنیا،فروری 2026:  ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب

گمنام فلمی نغمہ نگار ،مضمون نگار: خلیق الزماں نصرت

اردو دنیا،اپریل 2026: 1931 میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس سے پہلے کے فنکار ہی اس میں ایکٹنگ کرتے تھے اور گانے بھی گاتے تھے ہم

شیام بینےگل اورہندوستان کا متوازی سنےما ،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردو دنیا،نومبر 2025: شیام سندر بینےگل کو ان کے مداح شیام بابو کے نام سے بلاتے ہیں جنھیں متوازی سنیما (Parallel Cinema) کے پیش روکے نام سے جانا اور پہچانا