ہندوستان اور مغرب کا تصور یوگ ،مضمون نگار: راکیش کمار

June 17, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

ہندوستان میں یوگا کا تصور محض ایک عملی مشق یا جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر روحانی، فکری اور اخلاقی نظام ہے جو انسانی وجود کے ہر پہلو کو اپنے دائرے میں سمیٹتا ہے۔ اس کی بنیاد اس قدیم احساس پر ہے کہ انسان صرف جسم نہیں بلکہ ایک باطنی حقیقت کا حامل ہے اور اس حقیقت تک رسائی کے لیے ایک باقاعدہ راستہ درکار ہے۔ یوگا اسی راستے کا نام ہے۔ ایک ایسا سفر جو انسان کو اس کے ظاہری وجود سے اٹھا کر اس کے اندر پوشیدہ اصل تک پہنچاتا ہے۔ ہندوستانی روایت میں یوگا کا آغاز کسی ایک لمحے یا شخصیت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ صدیوں کے تجربات، مشاہدات اور روحانی انکشافات کا نتیجہ ہے۔ رشیوں اور منیوں نے جنگلوں اور آشرموں میں بیٹھ کر زندگی، کائنات اور انسان کے باطنی ربط پر غور کیا اور ان کے یہی تجربات رفتہ رفتہ یوگا کی صورت میں سامنے آئے۔ ان کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد محض مادی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا ادراک ہے جسے کبھی آتما، کبھی برہمن اور کبھی پرماتما کے نام سے تعبیر کیا گیا۔
یوگا کو اگر محض ایک مشق یا طریقہ حیات سمجھا جائے تو اس کی معنوی وسعت کم ہو جاتی ہے؛ درحقیقت یہ کائنات کی قدامت جتنا قدیم ایک ایسا تجربہ ہے جو بیک وقت سفر بھی ہے اور اس سفر کی آخری منزل بھی۔ یہ منزل دراصل اس ازلی حقیقت کے ادراک کا نام ہے جسے مختلف روایتیں مختلف ناموں سے پکارتی ہیں،آتما، پرش، شو، دیوی یا ستہ مگر سب کا اشارہ ایک ہی اعلیٰ ترین وجود کی طرف ہوتا ہے۔ سانکھیا اور یوگا کے فلسفے میں اسی مطلق حقیقت کو’’پرش‘‘Purusha کہا گیا ہے جب کہ اس کا وہ روپ جو مادی اور حسی دنیا میں جلوہ گر ہوتا ہے ’’پراکرتی‘‘ Prakrithiکہلاتا ہے۔ انسان، جو اپنی انفرادی حیثیت میں ’’جیو‘‘ ہے ،اسی پراکرتی کے تجربات سے گزرتے ہوئے بتدریج اپنی اصل، یعنی’’پرماتما‘‘ کی طرف لوٹتا ہے۔ گویا پرش اور پراکرتی دو الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی وجود کے دو رخ ہیں۔ایک منتہا، دوسرا اس تک پہنچنے کا وسیلہ۔
سنسکرت کا لفظ’’یُج‘‘ Yuj جس سے ’’یوگا‘‘ نکلا ہے، جوڑنے اور ملانے کے معنی رکھتا ہے اور اسی نسبت سے اسے ایک ایسے عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو بکھرے ہوئے وجود کو پھر سے یکجا کر دیتا ہے۔ لفظ ’’یوگا‘‘ کو عام طور پر اتحاد یا وصال کے مفہوم میں بھی لیا جاتا ہے مگر اس کے اندر ایک گہرا روحانی اشارہ مضمر ہے یعنی فرد کا اپنی اصل سے دوبارہ جڑ جانا، اپنی محدود شناخت کو کائناتی کلیت میں تحلیل کر دینا۔ اپنشدوں کی تعلیم کے مطابق جو حقیقت ابتدا میں واحد تھی، وہی کثرت میں ظاہر ہوئی اور یوگا کا عمل اسی کثرت کو پھر وحدت میں ڈھالنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ یوں یہ نہ صرف اس منزل کا نام ہے جہاں انسان اپنے اصل سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے بلکہ وہ راستہ بھی ہے جو اسے اس ہم آہنگی تک لے جاتا ہے۔ در اصل یہ تصور اس بنیاد پر قائم ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ ایک ہی حقیقت کا اظہار ہے اور انسان اسی حقیقت کا ایک جزو ہے۔ مگر انسان اپنی محدود شعوری حالت اور حسی وابستگیوں کی وجہ سے اس وحدت کو بھول جاتا ہے۔ یوگا کا مقصد اسی بھولی ہوئی وحدت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ اس لیے اس کے لیے ’’اتحاد‘‘ یا ’’وصال‘‘ کے الفاظ بھی استعمال میں لائے گئے ہیں۔ ایک ایسا عمل جس میں فرد اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر کلی حقیقت سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ ہندوستانی فلسفے میں یوگا کا تعلق صرف مراقبے یا خاموش بیٹھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرززندگی ہے۔ اس میں اخلاقی اصول، ضبط نفس، ذہنی یکسوئی، روحانی تفکر اور عملی توازن سب شامل ہیں۔ یوگا کی ابتدا انسان کے کردار کی اصلاح سے ہوتی ہے، جہاں سچائی، عدمِ تشدد، قناعت، ضبط اور ایمان جیسے اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اصول محض نظری نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ ہیں کیونکہ یوگی کے نزدیک اندرونی پاکیزگی کے بغیر اعلیٰ شعور تک پہنچنا ممکن نہیں۔رام اوتار شرما اپنی کتاب یوگ اور صحت میں لکھتے ہیں:
’’یوگ ہمیں وہ درخشاں بصیرت عطا کرتا ہے جس کے سہارے ہم دنیا کی بیرونی مشکلوں ،اندرونی اندیشوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ اس فن کے ذریعہ حقیقت ابدی معلوم ہو جانے پر آپسی اختلاف اور جھگڑے طمانت و سکون میں بدل جاتے ہیں۔جسمانی اور غیر جسمانی اشیا کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر فطرت کے راز آشکار ہو جاتے ہیں اور دکھوں کے بندھن سے چھوٹ کر پر سکون نجات حاصل ہو سکتی ہے‘‘ 1
ہندوستانی روایت میں یوگا کی تفہیم ایک ایسے کاسمولوجیکل اور اینتھروپولوجیکل فریم میں ہوتی ہے جہاں وجود کو محض مادی سطح پر نہیں بلکہ ایک کثیر سطحی حقیقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہاں انسان کو ایک ایسے وجود کے طور پر سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف جسمانی سطح پر متحرک ہے بلکہ ذہنی اور روحانی سطحوں پر بھی مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ یوگا اسی ارتقائی عمل کو منظم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ فرح فاروقی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’یوگا جسم کو خوبصورت بنانے ،جسمانی حسن کو بر قرار رکھنے اور بہترین تفریح کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ نہ تو صرف لڑکیوں اور خواتین کے لیے مخصوص ہے اور نہ مردوں سے۔ بچے ،جوان اور بوڑھے مرد و زن کی قید سے بے نیاز ہو کرکسی بھی وقت یوگا کی مشقوں کو باقاعدگی سے شروع کر کے اپنے حسن و جمال کی حفاظت کر سکتے ہیں۔۔۔یوگا مغرب سے درآمد کردہ کوئی دوا نہیں بلکہ برصغیر کے اپنے کلچر کی پیداوار ہے اوراسی سرزمین سے نکل کر چین، جاپان اور یورپ کے کئی ممالک میں اس نے اپنے لیے ساز گار فضاپیدا کی ہے اور وہاں جدید سائنسی اندازمیں اس پر ریسرچ ہورہی ہے۔‘‘ 2
پاتنجلی کے پیش کردہ آٹھ مدارج یم، نیام، آسن، پرانایام، پرتیہار، دھارنا، دھیان اور سمادھی درحقیقت ایک ایسے تدریجی سفر کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں انسان اپنے اندرونی انتشار کو نظم میں بدلتا ہے اور اپنی شعوری سطح کو بلند کرتا ہے۔ آسن کا مقصد جسم کو مضبوط یا لچکدار بنانا نہیں بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ انسان طویل عرصے تک سکون اور استحکام کے ساتھ بیٹھ سکے۔ پرانایام محض سانس کی مشق نہیں بلکہ زندگی کی توانائی پر قابو پانے کا ایک ذریعہ ہے۔ دھیان ذہن کو یکسو کرنے کا عمل ہے اور سمادھی وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنی محدود انا سے آزاد ہو کر ایک وسیع تر شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔یہی سبب ہے کہ ہندوستانی روایت میں یوگا ہمیشہ گرو اور شاگرد کے تعلق کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ یہ علم کتابوں سے زیادہ تجربے اور رہنمائی کے ذریعے منتقل ہوتا رہا ہے۔ گرو نہ صرف ایک استاد ہوتا ہے بلکہ ایک رہنما، ایک رہبر اور ایک قائد ہوتا ہے جس کی قیادت میں شاگرد اپنے اندر کی حقیقت کو پہچانتا ہے۔
لفظ یوگا کا اولین ذکر رگ وید(Rig Ved)میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی موجودگی دیگر تین ویدوں، 108 اپنشدوں، بدھ مت اور جین مت کے متون، درشنوں، اور رزمیہ کتب جیسے مہابھارت اور رامائن میں بھی پائی جاتی ہے۔ مزید برآں ،یوگا واششتہ VASHISHTA) (YOGA اور بھگوت گیتا GITA) (BHAGAVAD سب اس امر پر متفق ہیں کہ مادی دنیا کی غیر حقیقت کا گہرا شعور حاصل کیا جائے، دنیاوی اشیا سے دل کو بے نیاز رکھا جائے، حواس کو ضبط میں لایا جائے اور ذہنی توازن کو برقرار رکھا جائے۔ یہ متون انسان کو مظاہر عالم کی ناپائیداری کا ادراک عطا کرتے ہیں، ذہن کی یکسوئی کی تلقین کرتے ہیںاور روحانی ارتقا کے لیے خلوت کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ اسی بنا پر اخلاقی و روحانی اوصاف کو ہر سادھنا کی اساس قرار دیا گیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یوگا واششتہ میں رشی واششتہ کی جانب سے نوجوان رام کو دی گئی تعلیمات (جیسا کہ Valmiki نے بیان کیا) اور بھگوت گیتا میں (جیسا کہ Ved Vyasa نے روایت کیا) دونوں میں انتہا درجے کی ریاضت(Extreme asceticism)کو نہ صرف ناپسند کیا گیا ہے بلکہ بعض مواقع پر اس پر طنز بھی کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، رشی واششتہ اور Krishna دونوں اعتدال کی راہ کو اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں اور افراط و تفریط سے گریز کی تلقین کرتے ہیں۔ان تعلیمات میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ اگرچہ دھیان کے لیے تنہائی ناگزیر ہے، تاہم یوگا کے توازن میں قائم رہتے ہوئے دنیا کے اندر اپنے فرائض کی ادائیگی بھی اسی قدر ضروری ہے۔ روشن ضمیر حکمرانوں کی مثالیں، خصوصاً راجا جنکJanaka) (Raja ایک ایسے یوگی-بادشاہ کی صورت میں پیش کی جاتی ہیں جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس سے بے تعلق رہتا تھا۔یوں قدیم ہندوستانی فکر کی ایک مضبوط آواز یہی رہی ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کا اسیر نہ بنے۔ کنول (lotus) کا پھول اسی حقیقت کی علامت ہے کہ کیچڑ میں جڑیں رکھنے کے باوجود وہ اپنی پاکیزگی اور جمال کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے بلند رہتا ہے۔
ہندوستانی فکر میں یوگا کا تعلق وقت کے ایک وسیع تصور سے بھی ہے، جہاں زندگی کو ایک مسلسل سفر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ سفر صرف ایک زندگی تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل روحانی ارتقا کا حصہ ہے۔ اس تصور میں انسان کے اعمال، اس کی نیت اور اس کا شعور اس کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔ یوگا اس شعور کو بیدار کرنے کا ایک ذریعہ ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو زیادہ بامعنی اور بامقصد بنا سکے۔یوگا کا بنیادی مقصد خود شناسی (Self-realization) اور نجات (Moksha) کا حصول ہے۔
مغربی دنیا میں یوگا کا تصور ایک تدریجی ارتقا کا نتیجہ ہے، جہاں یہ اپنی اصل روحانی بنیادوں سے نکل کر ایک عملی اور روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا نظام بن گیا ہے۔ جدید مغربی تناظر میں یوگا کو زیادہ تر ایک ایسی مشق کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو جسمانی صحت، ذہنی سکون اور داخلی توازن کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں آسنوں اور جسمانی حرکات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جب کہ وہ گہری روحانی جہت، جو کلاسیکی یوگا کا خاصہ تھی، نسبتاً پس منظر میں چلی گئی ہے۔ یوں یوگا اب مغرب میں ایک مکمل روحانی تجربہ کم اور ایک صحت بخش طرز زندگی کا حصہ زیادہ بن کر سامنے آتا ہے۔
انیسویں صدی میں جب یورپ اور امریکہ کے اہل علم نے یوگا سے واقفیت حاصل کی تو ابتدا میں ان کی توجہ اس کے فلسفیانہ پہلوؤں پر مرکوز رہی۔ تاہم یہ علمی دلچسپی زیادہ دیر تک عوامی سطح پر اثر انداز نہ ہو سکی۔ بیسویں صدی کے وسط تک مغربی تعلیمی اداروں میں یوگا، خصوصاً اس کی جسمانی شکل، زیادہ معروف نہ تھی۔ اس صورتحال میں تبدیلی اس وقت آئی جب Mircea Eliadeکی تصنیف (Le Yoga : Immortalite’et Liberte )نے یوگاکو ایک منظم فکری اور عملی نظام کے طور پر پیش کیا، جس میں جسمانی مشقوں کو ذہنی اور روحانی تیاری کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
مغرب میں یوگا کے تعارف اور اس کی فکری بنیادوں کے استحکام میں Vivekananda Swami کا کردار نہایت اہم ہے۔ انھوں نے یوگا کو محض ایک مذہبی یا ثقافتی روایت کے بجائے ایک آفاقی فلسفے کے طور پر پیش کیا, جسے ہر انسان سمجھ اور اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے بعد Paramahansa Yogananda نے امریکہ میں کریا یوگا کو فروغ دیا اور اسے ایک عملی روحانی تجربہ بنا کر پیش کیا، جس کی جڑیں Mahasaya Sri Lahiri کی تعلیمات میں پیوست تھیں۔ایک اہم نام Shivapuri Babaکا بھی ہے جو ملکہ وکٹوریا کی فرمائش پر انگلینڈ گئے اور بڑے پیمانے پر یوگا کو استحکام بخشا۔بعد ازاںان کی امریکہ میں موجودگی نے بہت سے امریکیوں کو یوگا کی طرف مائل کیا ۔ ان میں ایک بڑی شخصیت Theos Casimir Bernard ہیں جو بعد میں ہندوستان تشریف لائے اور یہاں سے یوگا کی تعلیم حاصل کرکے واپس اپنے ملک جاکر ہٹھ(Hatha Yoga) یوگا پر ایک کتاب تصنیف دی جسے خاصی شہرت حاصل ہوئی۔
اسی تسلسل میں Swami Sivananda نے یوگا کو ایک جامع طرزحیات کے طور پر پیش کیا، جس میں خدمت، محبت، تزکیہ اور مراقبہ کو یکجا کیا گیا۔ اگرچہ وہ خود مغرب نہیں گئے مگر ان کی تعلیمات نے عالمی سطح پر اثر ڈالا۔ بعد کے دور میں B.K.S. Iyengar, Tirumalai Krishnamacharya, Sri Pattabhi Jois, Mahesh Yogi, Swami Vishnu Devananda, اور Selvaranjan Yesudian جیسے اساتذہ نے یوگا کو ایک منظم جسمانی نظام کی صورت میں پیش کیا، جس نے مغربی معاشروں میں اسے تیزی سے مقبول بنایا۔ Devi Indra (جن کا اصل نامEugenie Peterson تھا)نے ایک دہائی تک ہالی ووڈ اور میکسیکو کے درمیان سفر کرتے ہوئے یوگا کی تعلیم دی اور اسے جدید شہری زندگی کا حصہ بنانے میں اہم کردار اداکیا۔ یوں مغربی دنیا میں یوگا ایک ایسی عملی مشق میں ڈھل گیا جو نہ صرف جسمانی فٹنس بلکہ ذہنی سکون اور توازن کے حصول کا بھی ذریعہ بن گیا ۔
مغرب میں یوگا کی نئی تعبیرات نے اسے ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے نہ صرف یوگا کے فوائد کو ثابت کیا بلکہ اسے ایک ایسے عالمی مکالمے کا حصہ بنایا جس میں مختلف ثقافتیں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتی ہیں۔ اس طرح یوگا ایک ’’بین الثقافتی مظہر‘‘(Intercultural Phenomenon) بن گیا ہے جس میں مشرق اور مغرب دونوں کا اشتراک شامل ہے۔ اس تناظر میں یوگا کو ایک ایسے متحرک تصور کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو مختلف تہذیبوں میں مختلف معانی اختیار کرتا ہے مگر اپنی بنیادی روح یعنی داخلی سکون اور ہم آہنگی کی تلاش کو برقرار رکھتا ہے۔
اگر اس پورے تقابل کو ایک فکری زاویے سے دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں یوگا کا تصور’’وجودی‘‘ (existential) ہے جب کہ مغرب میں یہ ’’عملی‘‘ (pragmatic) بن جاتا ہے۔ بھارت میں یوگا انسان کو اپنی ذات سے ماورا لے جا کر ایک کائناتی حقیقت کے ساتھ جوڑتا ہے جب کہ مغرب میں یہ انسان کو اس کی روزمرہ زندگی کے مسائل سے نمٹنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ ایک میں یوگا کا مقصد’’خودی کی نفی‘‘ہے جب کہ دوسرے میں’’خودی کی بہتری‘‘۔ یہ فرق دراصل دو مختلف تہذیبی اور فکری رویوں کا عکاس ہے۔ایک میں حقیقت کو باطنی تجربے کے ذریعے سمجھا جاتا ہے اور دوسرے میں حقیقت کو تجرباتی اور سائنسی طریقوں سے پرکھا جاتا ہے۔اس کے باوجود دونوں تصورات میں ایک گہری مماثلت بھی موجود ہے اور وہ ہے انسان کا داخلی سکون اور توازن کی جستجو۔ یہی وہ مشترک بنیاد ہے جو یوگا کو ایک عالمی اور ہمہ گیر عمل بناتی ہے۔ یوگا دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر تہذیب اپنی ترجیحات، اپنے مسائل اور اپنی امیدوں کو منعکس دیکھتی ہے۔ بھارت میں یہ آئینہ روحانیت کی روشنی سے منور ہے جب کہ مغرب میں یہ عقل اور سائنس کی روشنی میں چمکتا ہے۔ ان دونوں زاویوں کے درمیان یوگا کی اصل وسعت اور معنویت پوشیدہ ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ یوگا نہ تو صرف ایک قدیم روایت ہے اور نہ ہی محض ایک جدید رجحان بلکہ یہ ایک ایسا زندہ اور متحرک تصور ہے جو مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ اس کی اصل قوت اسی میں ہے کہ یہ مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ قائم کرتا ہے اور انسان کو اپنے باطن کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو یوگا کو نہ صرف ایک علمی موضوع بناتا ہے بلکہ ایک ایسے انسانی تجربے کی صورت بھی دیتا ہے جو ہر زمانے اور ہر معاشرے میں اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔
حواشی:
1۔ شرما، رام اوتار، یوگ اور صحت،مترجم حسان عتیق،لیتھو کلر پرنٹرس، علی گڑھ،۱۹۸۸، ص: ۱۱
2۔ جاوید، اسماء،یوگا اور حسن، ایس کے آفسیٹ، دہلی، ۱۹۹۷، ص:۴،۳
3۔ D.G White Yoga in Practice, Princeton NJ: Princeton University Press, 2012c
4۔ Syman. S. The Story of Yoga in America, New York: Farrar Straus and Giroux, 2010
5۔ رگ ویدThe Reg Veda ، ۲۰۲۲،

Dr Rakesh Kumar
Assistant Professor
Department of urdu Kashmir University, Srinagar
Email: rakeshjnu000@gmail.com,
Mob: 9103975270

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

گمنام فلمی نغمہ نگار ،مضمون نگار: خلیق الزماں نصرت

اردو دنیا،اپریل 2026: 1931 میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس سے پہلے کے فنکار ہی اس میں ایکٹنگ کرتے تھے اور گانے بھی گاتے تھے ہم

دھرم جی کی یاد میں،مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی

اردودنیا،جنوری 2026: مجھےجوانی میں بالی ووڈ کے جن اداکاروں نے اپنی خوبصورتی اور اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، ان میںدھرمیندر کا نام سرفہرست ہے۔دھرم پاجی مجھے اس قدر پسند تھے

ڈراما ’انار کلی ‘ اور فلم ’مغل اعظم‘ کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: وسیم احمد

اردودنیا،جنوری 2026: ناٹک اور ڈرامہ بنیادی طور پر ایک سکے کے دو پہلو ہیں یعنی ایسی کہانیاں یا قصے جو اداکاری کے ذریعہ پیش کیے جائیں۔ انھیں پیش کرنے کی