اردودنیا،جون 2026:
سماجی علوم میں اکنا مکس (اقتصادیات یا معاشیات) واحد ایسا مضمون ہے جو زبان، طرز بیان، انداز تشخیص و تشریح اور اصطلاحات کے استعمال کے اعتبار سے دیگر مضامین سے مختلف ہے۔ آپ کسی موضوع کی کتاب کا مطالعہ کیجیے پہلا تصور یہی ابھرے گا کہ موضوع سے وابستہ تمام وضاحتیں، تشریحات اور انداز بیان نامانوس، غیر دلچسپ، روکھے اور اجنبی سے ہیں۔ ان میں ایسی کشش نہیں ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن اس سے وابستہ رہے۔
اصولوں و نظریوں کے بیان میں اصطلاحات سے لدے، پھندے بھاری بھرکم جملے و تشریحات میں طرز بیان کی اجنبیت، قدم قدم پر مفروضات کے سہارے، جگہ جگہ قیاسی اعداد و شمار پر مبنی مختلف النوع چارٹس، ڈائیگر امس اور خاکے اور پھر ریاضی، الجبرا کے پرپیچ فارمولے اور جیومیٹری کی پیچیدہ شکلیں معنی و مطلب کو سمجھنے اور ذہن نشین کرنے میں ذہن کو نہ جانے کتنے جھٹکے دیتے ہیں۔ پڑھنے میں قدم قدم پر عبارت کے مفہوم اور ذہن کا ربط ٹوٹتا ہے اور بالآخر پڑھنے والا الجھ کر یہ کہتے ہوئے کتاب بند کر دیتا ہے ؎
تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر
خطوط خم دار کی نمائش! مریض و کجدار کی نمائش
(اقبال: ضرب کلیم)
تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ سماجی علوم کا ایسا مضمون جو انسانی معاشرے کے اہم پہلو جس کا تعلق مادیت سے ہے، کا احاطہ کر رہا ہو، اتنا اہم و بنیادی پہلو کہ جس پر معاشی و سماجی زندگی کا کاروبار ٹکا ہو اور اس کی تمام تہذیبی، معاشرتی اور اخلاقی قدروں کو نہ صرف متاثر کرتا ہو بلکہ بنا اور بگاڑ بھی رہا ہو، ان کی پاسبانی بھی کر رہا ہو وہ اپنے بیان انداز تشریح اور زبان کے اعتبار سے عوامی ذہنوں سے اس قدر دور کیوں ہے۔ اس قدر غیر آشنا سا کیوں ہے اور عوام کے لیے غیر پرکشش سا کیوں ہے؟
دراصل یہ مضمون انسانی معاشرے کے جس پہلو کا احاطہ کرتا ہے وہ بظاہر جتنا واضح، روشن اور زندگی کی سرگرمیوں کے قریب لگتا ہے اتنا ہی پیچیدہ، وسیع اور گہرا ہے۔ اقتصادیات نے اس کو چار طرح کے عمل میں تقسیم کیا ہے:
اول: سادہ عمل، دوم: پیداوار کا عمل، سوم: عمل تبادلہ اور چہارم: عمل تقسیم
یہ تمام عمل مربوط ہیں۔ ہم کو کسی شے کی ضرورت ہے تو عمل پیداوار وجود میں آتا ہے۔ عمل پیداوار تبادلہ پر منحصر ہے اور جو پیداوار ہوتی ہے وہ تقسیم ہو کر ہماری تسکین کا باعث بنتی ہے۔ اقتصادیات میں مخصوص قوانین و اصولوں کے تحت ہر عمل کی تشریح کی گئی ہے۔ مفکرین و مفسرین نے انسانی معاشرے کی مادی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور سلجھانے کے لیے سائنسی طرز فکر اپنایا اور پھر جیسے جیسے یہ پیچیدگیاں بڑھیں، تشخیص بھی اسی قدر سافسٹی کیٹیڈ (Sophisticated) بنتی گئی۔ اب قیاس و حقیقی اعداد و شمار اور ان پر مبنی متعدد اقسام کے ٹیبلس (Tables) یا جدولوں، نقشوں (Charts)، تصویروں (Diagrams)، ریاضی والجبرا کے فارمولوں، ٹرگنامیٹری کی مشقوں اور جیومیٹری کی پر پیچ شکلوں کی مدد سے اصول و نظریات کی تشریح کی جانے لگی۔ ماہرین نے معاشرے کے اقتصادی (مادی) پہلوؤں کو گہرائی سے واضح کرنے کے لیے جس قدر سائنسی رخ اختیار کیا اسی قدر ان کے قوانین واصول کی تشریح لفظوں و جملوں سے نکل کر اعداد و شمار اور ریاضی والجبرا کے فارمولوں اور جیومیٹری کی شکلوں میں گم ہوتی گئی اور معاشرے کے عام انسان کی فہم سے دور ہوتی گئی۔ اس مضمون کے ساتھ عوام کی غیر دلچسپی کا بنیادی سبب یہی ہے۔
چلیے ہم اس مضمون کی اجنبیت و غیرمانوسیت کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اصول معاشیات کی کوئی مستند کتاب کھولیں تو سب سے پہلے ایک تعارفی باب ملے گا جس میں اقتصادیات کی تعریف، اس موضوع کا اسکوپ (دائرہ اثر) دیگر مضامین سے اس کی نسبت، سائنس ہے یا آرٹ اور آخر میں ابواب کی تنظیم ملے گی۔ اصول معاشیات کے مواد کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ متعدد ابواب پر مشتمل ہے۔ انسانی معاشرے کے چار بنیادی مادی افعال ہیں۔ اس کی مادی ضرورتیں ہیں جن کی تکمیل کے لیے وہ جد و جہد اور کاوشیں کرتا ہے۔ یہ جدو جہد، کاوشیں پیداوار و خدمات کی شکل میں رونما ہوتی ہیں۔ وہ اپنی کاوشوں کے انعام کو تقسیم کرتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کے تعاون کے بغیر وجود میں نہیں آسکتے۔ تقسیم صَرف یعنی خرچ کے لیے ہوتی ہے اور یہی صرف آخری تسکین کا باعث بنتا ہے۔ یہ مختلف النوع مادی افعال طلب (مانگ)، پیداوار، تبادلہ (پیداوار اور خدمتوں کا) اور تقسیم میں منقسم ہو کر متعدد اصولوں اور نظریوں کے ذریعہ واضح کیے جاتے ہیں۔ آئیے پہلے صرف سے متعلق نظریہ طلب کی بات کریں۔
اصول معاشیات میں نظریہ طلب (یعنی اشیا و خدمات کی مانگ) نظریہ صارفین (یعنی صرف کرنے والے) کا ابتدائی باب ہے۔ نظریہ صارفین (Consumers Theory) کے تحت جن اصولوں کی وضاحتیں اور تشریحات ملتی ہیں ان میں نظریہ طلب و رسد (Theory of Demand & Supply)، طلب و رسد کی لچک (Elasticity of Demand & Supply)، صارفین کا نقطۂ توازن (Comsumer’s Equilibrium)، نظریہ افادہ (Utility Theory)، خط بے نیازی (Indifference Curve) اور اضافہ صارفین (Consumer’s Surplus) خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔
سب سے پہلے اس پر غور کیجیے کہ اقتصادیات میں تمام بنی نوع انسان کو ان کے عمل صرف کو نگاہ میں رکھتے ہوئے صارفین کا نام دیا گیا ہے۔ انسان نوزائیدہ بچہ ہو یا بوڑھا عمر کے کسی دور سے گزر رہا ہو، کسی پیشہ کو اختیار کیے ہو، راجہ ہو یا پر جا، صاحب اختیار ہو یا محتاج، تنہائی پسند ہو یا مجلسی، گھر میں ہو یا گھر کے باہر، وطن میں ہو یا وطن سے دور، صحت مند ہو یا بیمار، خوشحال و مطمئن ہو یا پریشان و افسردہ، اس کے افکار و خیالات اور عقائد کچھ بھی ہوں ہر حال میں اگر سانس لے کر زندگی کا ثبوت دے رہا ہے تو صارف ہے، وہ صرف کے عمل سے نہ گریز کر سکتا ہے اور نہ انحراف۔ اگر کوئی انسان یا گروہ خود اختیاری طور پر ارادتاً یا جبراً صرف کے عمل سے گریز کرتا ہے تو وہ اقتصادیات کے دائرے سے باہر ہے کیونکہ اس کا یہ فعل معقولیت کے خلاف ہوگا اور بڑی حد تک اس کی فطرت کے بھی۔
انسان کے اس عمل صرف کو ابھارنے، اکسانے اور بڑھانے والے عوامل خواہشات، ضرورتیں اور طلب ہیں۔ یہی جذبے متحرک ہو کر عمل صرف کو سرگرم رکھتے ہیں۔ اقتصادیات انسان کے ان تمام جذبوں کو قبول کرتا ہے، احترام کرتا ہے لیکن اپنی فکر و نظر طلب پر مرکوز رکھتا ہے۔ وہ اس کی منطقی دلیل و تشریح پیش کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان آرزوؤں و خواہشوں کا پتلا ہے۔ ویسے بھی ہم جانتے ہیں کہ ہر آدمی کے عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی مدعا ہوتا ہے۔ دل بے مدعا ہونا تو قریب قریب ناممکن بات ہے۔ پھر بھی بیشتر آرزوئیں و خواہشات محض آرزوئیں ہوتی ہیں جن کا سلسلہ لامتناہی ہوتا ہے۔ ان کی کوئی حد کوئی ڈسپلن کوئی طریق کار بھی معین نہیں ہوتا۔ وہ مطلق آزاد ہوتی ہیں۔ اس لیے انسان چاہے جتنا صاحب اختیار کیوں نہ ہو، ہر آرزو، ہر خواہش کو پورا کرنے پر قادر بھی نہیں ہو سکتا۔ اقتصادیات انسان کے ہر اس عمل کو اپنی فکر میں باندھتا ہے جس کے پیچھے سعی و کاوش ہو اور کاوش کرنے والا اس کا مادی شکل میں، کوئی معاوضہ بھی چاہتا ہو۔ اس لیے وہ محض ان خواہشات اور آرزوؤں کو قابل توجہ سمجھتا ہے جن کو پورا کرنے کے لیے انسان حسب اہلیت اور حسب استعداد کوشش کرتا ہے۔
اب اقتصادیات انسانی ذہن کو زیادہ جامع اور حقیقت پسندانہ فکر کی طرف موڑتا ہے۔ غور کیجیے انہی آرزوؤں و خواہشات کے کبھی نہ ٹوٹنے والے تسلسل کے درمیان چند ایسی قوی خواہشات ضرور ہوتی ہیں جو بار بار ابھرتی ہیں اور جن کا ٹالناممکن نہیں ہوتا۔ وہ جس وقت ابھرتی ہیں دیگر تمام خواہشات پیچھے ہو جاتی ہیں۔ پیاس، بھوک، انتہائی سردی میں فوری طور پر گرمی اور انتہائی گرمی میں کسی سائے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کی خواہش اس کی چند مثالیں ہیں۔ اگر انسان کسی عادت کا اسیر ہے مثلاً چائے کوفی، شراب سگریٹ وغیرہ وہ بھی اسی ضمن کی خواہشات ہیں۔ ایسی قوی خواہشات کی تسکین کے لیے ہر انسان اپنی استعداد کے بموجب سعی و کاوش کرتا ہے۔ اقتصادیات میں ایسی قوی خواہشات کو ’ضرورت‘ (Wants) کہا گیا۔ انسان کی لامتناہی خواہشات و آرزؤں کے انبوہ میں سے چھانٹ پھٹک کر ان قوی خواہشات کو الگ کرنا جو انسان کو بار بار مجبور کرتی رہیں کہ ان کو پورا کیا جائے اور انسان بھی وقتی طور پر ہی سہی، ان کو پورا کرنے کی کاوش میں سرگرداں نظر آئے، اقتصادیات میں قابل توجہ مطالعہ کا میدان بنا اور ’ضرورتوں‘ کا عنوان دے کر خواہشات کے انبار سے ان کو الگ کر لیا۔
اقتصادیات نے اپنی تشخیص کو اور آگے بڑھایا۔ اس نے واضح کیا کہ ہر انسان کے وسائل، ان پر اس کی قدرت، طبیعت، مزاج، ترجیحات یکساں نہیں ہوتیں۔ اس لیے ہر انسان اپنی ضرورتوں کو اپنی پسند، استعداد و ترجیحات کے بموجب پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر چند دوستوں کو ایک قلم کی ضرورت ہے تو ضروری نہیں کہ سبھی ایک جیسا، ایک ہی قیمت کا قلم خریدیں، کوئی قیمتی اور کوئی معمولی قلم خرید سکتا۔ یہاں جو شرط تمام دوستوں میں مشترک ہے وہ قلم کی ضرورت ہے۔ اب ہر دوست اس ضرورت کو اپنی استعداد و پسند کے مطابق پورا کرے گا۔ بس جہاں ضرورت کو استعداد، ترجیح و پسند سے منسلک کر کے پورا کیا وہیں ضرورت (Want) طلب (Demand) میں منتقل ہوگئی۔ اقتصادیات کی تمام تر توجہ اسی طلب کی طرف ہے۔
آپ نے دیکھا کہ اکنامکس نے کس طرح آرزوؤں و خواہشات کے بکھراؤ کو سمیٹا اور ایک با مقصد فعل کی طرف منتقل کر دیا۔ آپ خواہشات سے طلب کی منزل تک آتے آتے مکمل معاشی انسان بن گئے۔ انہی معاشی انسانوں کو صارفین (Consumers) کہا گیا ہے یعنی ایک فعال انسان۔ ایک معقول انسان میں آرزوئیں و خواہشات ہوتی ہیں۔ ان کو پورا کرنے کا جذبہ ہوتا ہے، خواہشات کے انبوہ میں چند قوی خواہشات ایسی ہوتی ہیں جن کو پورا کیے بغیر اس کو سکون نہیں ملتا۔ ان کو پورا کرنے کی وہ سعی و کاوش کرتا ہے اور پھر اپنی استعداد و ترجیح کے بموجب وہ ان کو پورا کرتا ہے۔ پس یہی کاوشیں کسی شے کے حصول کا باعث بنتی ہیں اور جب اس حاصل شدہ شے کا استعمال ضرورت کی تسکین کا ذریعہ بنتی ہے تو انسان کو اطمینان وسکون حاصل ہوتا ہے۔ یہی تسکینصارف کا مقصد آخر ہے اور یہیں پر انسان کی معاشی شخصیت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
بالعموم ہر انسان اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے آمدنی و دولت کو وسیلہ بناتا ہے۔ یعنی کسی ضرورت کی شے یا خدمت کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی آمدنی یا دولت کا ایک حصہ بطور معاوضہ یا قیمت ادا کرتا ہے۔ یہی آمدنی و دولت گویا اس کی استعداد کا تعین کرتی ہے۔ یعنی کسی شے یا خدمت کے حصول میں آپ جو قیمت ادا کرتے ہیں وہ آپ کی استعداد کو نا پتی ہے۔ آپ ایک جنس کو کسی دوسری جنس سے بھی بدل کر ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ آپ یہ عمل اسی وقت انجام دے سکتے ہیں جب بدلی جانے والی اشیا یا چیزیں ایک دوسرے کی ضرورت کی تکمیل کر رہی ہوں۔ پھر اس تبادلہ میں کسی فریق کو نقصان کا احساس بھی نہ ہو۔ تہذیب کے ابتدائی دور میں اور عصر حاضر میں دور دراز کے دیہی علاقوں میں یہ رواج جاری ہے لیکن آج کے مہذب سماج کا چلن یہی ہے کہ اشیا و خدمات کا حصول قیمت ادا کر کے کیا جائے۔ یہ ہمارے سب کے تجربے کی بات ہے کہ جب کسی شے یا خدمت کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے تو اس کو کم طلب کیا جاتا ہے اور جب قیمت گری ہوئی ہوتی ہے تو طلب کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
نظر یہ طلب اس حقیقت کی وضاحت و تشریح کرتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر دیگر باتیں یکساں رہیں تو قیمت اور طلب کے درمیان مخالف رشتہ پایا جاتا ہے۔ یعنی قیمت بڑھنے پر طلب کم اور قیمت گرنے پر طلب زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اصول بہت سے گوشوں کی وضاحتیں کرتا ہے۔ قیمت کے اونچے ہونے پر طلب کرنے والوں کی تعداد کم اور گرنے پر زیادہ اس لیے ہو سکتی ہے کہ اونچی قیمت کی ادائیگی کی استعداد تھوڑے لوگوں میں ہوگی اور جیسے جیسے قیمت گرے گی صارفین کی استعداد کا دائرہ وسیع ہوگا اور زیادہ سے زیادہ صارفین کا گروہ اس شے کو حاصل کرنے کے قابل ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ اصول یوں تو ہر شے یا خدمت سے وابستہ ہے لیکن چند اشیا کی طلب پر یہ اصول منطبق نہیں ہوتا بلکہ ان اشیا کے ساتھ اصول الٹا ہے۔ یعنی ان اشیا کی طلب قیمت کے بڑھنے پر بڑھتی ہے اور گھٹنے پر گھٹتی ہے۔ تاریخی نوادرات کی طلب کی یہی نوعیت ہے قیمتی تاریخی اور نادر ڈاک ٹکٹ، تاریخی عجوبے نگینے، جواہرات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔ چونکہ بیشتر عوام سے ان اشیا کا تعلق نہیں ہے بلکہ سماج کے مخصوص افراد سے ان کا تعلق ہے اس لیے عام طلب کے اصول کے دائرے میں ان کو نہیں رکھا جاتا۔ تیسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس اصول کے ابتدا میں ’’اگر دیگر باتیں یکساں ہیں‘‘ کا فقرہ معنی خیز ہے۔ یہ جملہ اس اصول کے پورا ہونے کی شرائط بتلاتا ہے۔ ’’اگر دیگر باتیں یکساں ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی طلب نارمل ہو یعنی کسی ہنگامی صورت حال کا نتیجہ نہ ہو۔ آپ کی آمدنی کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں ہو۔ اگر آمدنی اچانک بڑھ یا گھٹ جاتی ہے تو وہ مروجہ قیمتوں پر طلب کو متاثر کر سکتی ہے۔ آپ کی پسند، مذاق اور ترجیحات میں بھی کوئی نمایاں فرق نہیں آنا چاہیے۔ اشیا کی پیکنگ، کوالٹی، سائز اور رسدی خدمات بھی نارمل رہیں گی۔ اس شے کا مطلق متبادل بازار میں موجود نہیں ہوگا۔ افراد خاندان میں اچانک تخفیف یا اضافہ نہیں ہوگا۔ کوئی اچانک جغرافیائی یا سیاسی حالات میں تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ اس شے کی پیداوار، دستیابی اور قیمتوں کے سلسلے میں حکومت کی پالیسیوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام مفروضات ہیں جن کو سمیٹ کر یہ کہہ دیا گیا ’’اگر دیگر باتیں یکساں ہیں‘‘ تو اشیا کی قیمت اور اس کی طلب میں مخالف رشتہ پایا جاتا ہے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت اور ملتی ہے۔ طلب تین نوعیتوں کی بتلائی گئی ہے۔ اول طلب برائے اشیا ضروری یا مقدم (Primary)۔ دوم طلب برائے اشیا راحت و آرام یعنی (Comfort) اور سوم طلب برائے اشیا عیش و عشرت (Luxuries)۔ قیمتوں کے ساتھ ہر ایک کا رشتہ جدا گانہ ہے، جس کو طلب کی حساسیت کے بطور واضح کیا گیا ہے۔ تکنیکی اصطلاح میں Price Elasticity of Demand یا Price Responsiveness کہا گیا۔ اشیاضروری یا مقدم جیسے نمک یا لائف سیونگ ڈرگس، غذا کی بنیادی اشیا وغیرہ قیمتوں کے سلسلے میں بہت حساس نہیں ہوتیں یعنی اگر ان کی قیمتیں بڑھتی یا گھٹتی ہیں تو طلب کی سطح پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑتا۔ ایسی اشیا کی طلب بے لوچ کہلاتی ہے۔ آرام و آسائش کی تمام اشیا کی طلب لوچ دار ہوتی ہے۔ یعنی قیمتوں کے بڑھنے پر طلب گرتی ہے اور گرنے پر بڑھتی ہے۔ ان میں بھی حساسیت کے نقطہ نظر سے مختلف سطحیں ہوتی ہیں۔ بالعموم وہ اشیا جو پائدار ہوتی ہیں کم حساس ہوتی ہے، یعنی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر نسبتاً کم ہوتا ہے۔ لیکن نا پائدار اشیا کی طلب بہت حساس ہوتی ہیں۔ قیمتوں کے چڑھنے پر طلب بہت کم اور گرنے پر بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ گھر کا تمام ساز و سامان الکٹرانک سامان، فرنیچر، قیمتی ملبوسات، کاریں، موٹر سائکلیں، سجاوٹی سامان وغیرہ اسی ضمن کی اشیا ہیں۔ عیش وعشرت کے ساز و سامان کی طلب بالعموم بہت حساس ہوتی ہے۔ تھوڑی سی قیمتوں میں گراوٹ طلب کو بہت بڑھا دیتی ہے اور قیمتوں میں معمولی سا اٹھان طلب کو بہت گرادیتی ہے۔ قیمتی قالین، جھاڑ فانوس، قیمتی کاریں، ائیر کنڈیشنز، قیمتی ظروف، کپڑے اور قیمتی الکٹرانک سامان اسی ضمن میں آتے ہیں۔
ان تمام تفصیلات کو زیادہ ذی فہم حقیقت کے قریب اور سائنٹفک طور پر زیادہ واضح بنانے کے لیے مفکرین نے قیاسی اعداد و شمار پر مبنی مختلف ٹیبل اور جیومیٹری کی شکلوں کا سہارا لیا۔ قانون طلب اور خط طلب کی حساسیت برائے تغیر قیمت کو ان ٹیبلس اور شکلوں کے ذریعہ واضح کیا گیا۔ اب اگر یہ وضاحتیں ان اعداد و شمار اور شکلوں کی مدد سے زیادہ آسانی سے ذہن نشین ہو جاتی ہیں تو تشریح کا یہ انداز زیادہ موثر ہوگا۔ مزید انہی تشریحات کو ریاضی و الجبرا کے فارمولوں میں ڈھال لیا گیا اور ان کو زیادہ سائنٹفک بنا لیا گیا۔ مثلاً اگر یہ کہنا ہو کہ کسی شے کی طلب اس کی قیمت سے وابستہ ہوتی ہے یا کسی شے کی طلب کا فعل اس شے کی قیمت سے وابستہ ہے تو آپ کہیں گےD=f(p) یعنی طلب Demand عمل ہے قیمت یعنی ‘p’ کا۔ یہ انتہائی چھوٹی اور ابتدائی مثال ہے جو مخصوص فکر کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ آپ کو اصول معاشیات کی تمام وضاحتیں اس انداز سے ملیں گی۔ یہ سب تشریحات کے طریق کار ہیں، انداز ہیں، ذرائع ہیں جو وضاحتوں کو پھیلانے کے بجائے سمیٹتے ہیں اور اختصار میں سب کچھ واضح کر دیتے ہیں۔ اس اختصار کی روش کو اپنانے سے قبل اصول و نظریوں کی وضاحتیں انسانی معاشرے کے قریب رہ کر کرنا ضروری ہے تا کہ پڑھنے والا ذہنی طور پر منسلک رہے اور اگر اس کو مزید سائنٹفک طور پر سمجھنا ہو اور جس کے لیے اس کا ذہن تیار ہو تو پھر ریاضی، جیومیٹری اور ٹرگنا میٹری کی پر پیچ وادیوں کی سیر کرے اور انہی اصولوں و نظریوں کو انہی کے فریم میں سمجھے۔ اگر آپ غور کریں گے تو اکنامکس کا کوئی اصول، کوئی نظریہ آپ کی عملی زندگی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ آپ کوئی اصول، کوئی نظریہ پڑھیے اور معاشرے کی عملی زندگی کو دیکھیے، کہیں نہ کہیں وہ جگمگاتا ہوا نظر آجائے گا۔
ماخذ: اقتصادیات برائے عوام (مائیکرو اکنامکس کے منتخب اصول)، مصنف: سید اطہر رضا بلگرامی، پہلی اشاعت: 2014، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی