پریم چند کی حقیقت نگاری: کفن اور پوس کی رات کے حوالے سے ،مضمون نگار:محمد انعام الحق

July 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

فرانس کے مشہور ناول نگار اور ڈرامہ نگار Honore de Balzac، امریکہ کے William dean Howellsاور روس کے Nikolai Gogolکو حقیقت نگاری کا موجد تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اردوادب کی معروف صنف مختصر افسانے میں پریم چند کو حقیقت نگاری کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ پریم چند اترپردیش کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی۔ پریم چند نے اپنی تخلیقات کے ذریعے مظلوموں ، غریبوں اور استحصال زدہ افراد کی صورت حال کو قلم بند کیا، گرچہ یورپین ادیبوں کی تخلیقات کو پیش نگاہ رکھتے ہوئے، جب ہم پریم چند کی نگارشات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تووہ ایک بڑے ناول اور افسانہ نگار کی شکل میں دنیائے ادب میں ابھرکر سامنے آتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے اردو، ہندی ادب کو ایک نیا لب ولہجہ عطا ہوا۔ تو اردو ہندی ناولوں اور مختصر افسانوں میں مزید جان پڑگئی۔ جس طرح Leo Tolstoyنے روسی ادب کو شہر کے ناخوش گوار ماحول سے نکال کردیہات کی فضا سے واقف کرایا۔ پریم چند نے بھی ہندوستانی ادب کو شہری زندگی سے نکال کر دیہات کی حقیقی زندگی سے روبروکرایا۔
پریم چند کے افسانے جو منظر عام پر آئے۔ وہ 1920سے 1936تک کے عرصہ پر محیط ہیں۔ ان میں انسانی زندگی کے حالات وکوائف اورسماجی زندگی کے حقیقی واقعات کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ ایک بیباک افسانہ نگار کی حیثیت سے منظرعام پر آئے۔ انھوں نے انگریز حکومت کے دور میں ہندوستان کی ابتر صورت حال کو اپنے فکر وخیال کی آمیزش سے افسانوی نگارشات میں ڈھال کر قارئین کی توجہ حاصل کی۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘کی 1908میں اشاعت ہوئی۔ اس میں شامل ’دنیا کا سب سے انمول رتن‘ افسانہ مشرقی کہانیوں کے طرز پر لکھا گیا ہے۔ اس کہانی کے ماحول وفضا میں مافوق الفطرت عناصر کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔ ان کی یہ نگارشات اپنے اندازِ بیان کی رو سے بہت رنگین ہونے کے باوجود حب الوطنی اور انسانی ہمدردی کے جذبہ واحساس کو ظاہر کرتی ہیں۔ان کے افسانوں میں وطن کی محبت اور آزادی کی تحریک کے جذبہ کی بیش بہا دولت کو بڑے موثر ادبی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ان کے ابتدائی دور کے مختصر افسانوں میں رومانی طرز اور حب الوطنی کے جذبے کی کارفرمائی بخوبی تسلیم کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ستیہ گرہ ، جیل ، بھاڑے کا ٹٹو وغیرہ۔ انھوں نے فرنگیوں کی حکمت عملی اور ہندوستانیوں کے جذبات واحساسات کو بڑے مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔
پریم چند جس نقطۂ نظر کے تحت افسانوی ادب سے منسلک رہے ہیں۔ وہ انسان دوستی ہے۔ وہ معاشرے میں باہم بے تعلقی وبے رغبتی کے احساس کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے خاص طور سے دبے کچلے طبقے کی زندگی کو افسانوں میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے سماج کے مظلوم اور بیکس انسانوں کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے۔جس کے ذریعے حکمران طبقے کو ایک آئینہ دکھانے کی سعی کی ہے۔ اس ضمن میں کفن ، پوس کی رات ، راہِ نجات ،سواسیر گیہوں وغیرہ کہانیاں فنی نقطۂ نظر سے اردو ادب میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔یہ سبھی کہانیاں نفسیاتی نقطۂ نظر سے انسانی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کو پیش کرتی ہیں۔ قاری ان کے مطالعہ سے حیران وششدر رہ جاتا ہے۔ مثلاً مختصر افسانہ ’پوس کی رات ‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے ’پوس کی رات‘ میں اپنی ذات کو کسان ہلکو کے وجود سے پورے طور پر ہم آہنگ کردیا ہے۔ ہلکو کے کردار میں قاری کے سامنے عام ہندوستانی کسان کی تصویر آجاتی ہے۔
کفن
پریم چند کا مختصر افسانہ ’کفن‘ آخری دور کی شہکار تخلیق ہے۔ انھوں نے اس میں دیہاتی زیست کی المناک سچائیوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کی ہے۔حقیقت میں پریم چند کے دل میں سماج کے دبے، کچلے ، غریب اور مفلس لوگوں کے لیے بے پناہ درد تھا۔ ان کی بیشتر تخلیقات، اسی جذبہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ’کفن ‘ سے پہلے کی بھی کہانیاں اسی نقطۂ نظر کوپیش کرتی ہیں۔ خاص طور سے شمالی ہندوستان کی جیتی جاگتی پریشان حال زندگی کی عکاس ہیں۔ انھوں نے اس عہد کے افسانوں میں مذہب، اخلاق، انسانیت اور انسانی فلاح وبہبود کے نظریے کو پیش نگاہ رکھاہے۔ ان کہانیوں میں اخلاقی اور سماجی اہمیت پر زور ،خیر وشر کے بیچ ایک بڑا ٹکراؤ دکھائی دیتا ہے اور ان میں مثالیت پسندی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ بہر حال’ کفن‘ اقتدار کے خلاف ایک احتجاج اور بغاوت کا احساس دلاتا ہے۔اس دور کے ان کے مختصر افسانے حقیقت نگار ی کی بہترین مثال ہیں۔ اس میں ’کفن‘ سرِفہرست ہے۔ یہاں ان کا فن و آرٹ عروج پر ہے، وہ ایک بڑے حقیقت نگار بن کر سامنے آتے ہیں ، راقم الحروف نے اس کہانی میں نفسیاتی طور سے کردار کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ معاشرے کی اچھائی اور برائی کا فیصلہ خود قاری پر چھوڑ دیا، اس کہانی میں انھوں نے دیہات کی اسی زندگی کے خدوخال کو پیش کیا ہے، جہاں افلاس ہے، بدحالی، غربت، استحصال، زمیندارانہ ماحول، محنت کرنے کے بعد بھی تنگ دستی اور فاقہ کشی ہے۔ خصوصاً اس معاشرے اور سیاسی اقتدار کے تحت پرورش وپرداخت پانے والے ماحول میں چماروں کے کنبے کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی، کہ کام کاج کے باوجود انھیں محنت کا معاوضہ نہیں مل پا تا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ گھیسو اور مادھو کس قدر کاہل سست ،لاپرواہ اور آرام پسند ہوگئے تھے۔ اس مختصر افسانے میں پریم چند نے گھیسو اور مادھو کی غربت اور فاقہ کشی کی صرف عکاسی نہیں کی ہے بلکہ اس طبقاتی ٹکراؤ کو بھی پیش کرنے کی سعی کی ہے، جس کی وجہ سے محنت و مشقت کرنے والے ہمیشہ نچلے اور پست درجہ کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔پریم چند نے ا س رکاوٹ کی جانب کئی جگہ مکمل طور پر اور معنی خیز اشارے کیے ہیں۔ اس بنا پر ان کا بیانیہ بڑا پراثر ہے۔
جس سماج میں رات دن کا م کرنے والوں کی حالت گھیسو اور مادھوکی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی۔ کسانوں کے مقابلے میں محنت مزدوری کرنے والے لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے ، کہیں زیادہ فارغ البال تھے وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ ہم تو کہیں گے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہوتے ہوئے شاطروچالاک لوگوں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہوگیا تھا۔
گھیسو کو ٹھاکر کی بارات کا بھوج یاد آنا، سرمایہ دار اور محنت کشوں کے درمیان ایک مسلسل آویزش جن کی بنیاد اگرچہ معاشی عدم مساوات پر ہے لیکن اس کا اظہار سیاسی کشمکش اور نظریاتی آویزش کی شکل میں ہوتی ہے۔ ایک جانب غریب اور پست طبقے کی محنت اور مشقت کے بعد بھی ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی تو دوسری جانب امیر اور دولت مند لوگ شادی یا بیاہ میں بے جا روپئے خرچ کرتے ہیں۔
افسانے کی کہانی نفسیات کی رو سے بڑی دلچسپ ہے۔ انھوں نے روایتی خاکہ سے گریز کیا ہے، واقعات اور حالات کے ساتھ انسانی نفسیات کی خوب مرقع کشی کی ہے۔ درحقیقت’ کفن‘ جدید افسانے کے معیار پر کھرا اترتا ہے۔ حادثات کی آراستگی میں شعور اور لاشعور دونوں کادخل ہے۔ یہ مختصر افسانہ کیفیت کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے میں اس منظر کی عکاسی کی گئی ہے جہاں جھونپڑے کے باہر دروازہ پر گھیسو اور مادھو یعنی باپ اور بیٹے بجھی ہوئی آگ کے الائو کے سامنے آلو بھون کر کھارہے ہیں۔ جھوپڑے کے اندر بیٹے کی جوان شریکِ حیات بدھیا دردزہ سے تڑپ رہی ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں پرمادھو اور گھیسو کی بے مروتی ، بے بسی ،بے فکری ،کاہلی ،لاپرواہی ، بدحالی، عریانی، مسکینی، فاقہ کشی اور بے حسی پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان کی بے نیازی ، صبر ،بھروسہ اور یا س وناامیدی کی افسانے میں خاطرخواہ عکاسی کی ہے، مزید اس میں وفا شعاربیوی بدھیا کی خوبی، وفاداری، شرافت اور جانفشانی کا بھی ذکر ہے ،وہ جب سے بیاہ کر آئی ہے تب ہی سے گھیسو اور مادھو کا اپنی محنت ومشقت کے ذریعہ دونوں کاپیٹ بھرتی تھی۔حالانکہ بدھیاکے سبب ان دونوں کی کاہلی اور بے حسی میں کس درجہ اضافہ ہوگیا ہے۔ کہ اب دونوںنہ محنت ومشقت کرتے ہیں اورحد درجہ کوتاہی برتنے لگتے ہیں، طرفہ تو یہ ہے کہ دوگنی مزدوری بھی مانگنے لگے ہیں۔افسانہ نگار نے ان حالات کو مختصر افسانے میں ڈرامائی اندازمیں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
افسانے کا دوسرا حصہ انتہائی توجہ طلب ہے۔ کیونکہ بدھیا کے کردارکادردزہ سے تڑپنا اور تڑپ تڑپ کر اس دنیا سے رخصت ہوجانا، دونوں باپ بیٹے کی بے حسی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بدھیا کی موت کے بعد دونوں کاسماجی رسم و رواج کی خاطر لکڑی اور کفن کے لیے فکر مند ہونا، لاچار گاؤں کے زمینداروں کے پاس جانا، آہ وبکا کرنا، پاس پڑوس والوں کا آکر دلاسا دینا، دیہات والوں سے کفن کے نام پر 5روپئے جمع کرنے اور کفن کی تیاری کرنے وغیرہ میں نفسیاتی کیفیت کی حقیقت کو چھپائے رکھنا قابل توجہ ہیں۔
تیسرے حصہ میں گھیسو اور مادھو 5 روپئے لے کر کفن خریدنے کے لیے بازار جاتے ہیں لیکن ان کی باطنی ونفسیاتی حقیقت رنگ لاتی ہے ، دونوں بازار جاکر خوب عیش وعشرت کرتے ہیں، پوری دنیا کو خرید لینا چاہتے ہیں، شراب پوری، گوشت، سالن اور مختلف قسم کے کھانے اوران کی ذاتی زندگی کی سب سے بڑی امید پوری ہوجاتی ہے۔ دونوں اسی دوران سماجی رسم ورواج کی بابت کفن کے موضوع پرتبصرہ کرتے ہیں۔ تاہم دونوں باہمی اتفاق رائے سے، دیرینہ خواہش کی تشنگی یعنی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ افسانہ نگار نے کمال فن سے واقعات میں منطقی ربط قائم رکھا ہے ، لیکن ان کی نفسیاتی فکر کے طور طریقے پرزیادہ زور دیا گیا ہے۔ پریم چند نے یہاں پر انسانی بے مروتی اور بے حسی کو افشاکردیا ہے۔ اس مختصر افسانے کے تینوں حصے باہم مربوط ہیں۔ جو افسانے کے وحدت تاثر کو قائم کورکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔
یہ افسانہ کردار نگاری کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ پریم چند نے حقیقت نگاری کو بروئے کار لانے کے لیے کرداروں سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ پریم چند نے دیہاتی لوگوں سے صرف درد مندی ہی نہیں بلکہ ان کے اندرسے غائب انسانیت کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے جو ان کی سرشت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس افسانے کے تین اہم کردارگھیسو، مادھو اور بدھیاہیں۔ مادھو کی بیوی بدھیا ایک بامروت شریک حیات اور خدمت گذار بہو ہے۔ گھیسو اور مادھو کے برخلاف اس کے اندر جاں فشانی ، وفاداری اور ایثار وجذبہ ہے محنت ومزدوری کرکے وہ اپنا اور اپنے خاوند اور خسر کاپیٹ کسی طرح بھرتی رہتی ہے۔ یہی عورت جب درد دزہ میں مبتلا ہوتی ہے تو گھیسو اور مادھو اپنے فرائض کی انجام دہی تو کجاوہ تو انسانیت کے اخلاقی پہلو سے بھی عاری رہتے ہیں۔وہ درد زہ کے وقت بھی بدھیا کو بے یارو مددگار تڑپتا ہوا چھوڑ ے رکھتے ہیں۔وہ دونوں کی بے اعتنائی کے سبب دنیائے فانی سے رخصت ہوجاتی ہے۔ دونوں باپ بیٹے معاشی حالت کے باعث کفن کا بندوبست کرنے میں بھی مجبور محض ہیں۔ وہ چندہ کر کے کفن کے لیے پیسہ جمع کرتے ہیں۔ مگر گھیسو اور مادھوبازار میں پہنچ کر دل ہی دل میں مسرور ہوتے ہیں۔ وہ بہت جلد ایشور کی کرپا سے مکت ہوجائیں گے اور اس پاؤں کی بیڑی سے بھی مکتی مل جائے گی۔ اگر گھیسو کو بدھیا کے درد دکھ کا گمان بھی آتا ہے تو مادھو بے توجہی اور بے رخی سے جواب دیتا ہے ، مرنا ہے تو جلدی مرکیوں نہیں جاتی ، دیکھ کر کیا آؤں؟ اس وقت بدھیا کو مادھو کی دلاسا اور سہارے کی سخت ضرورت ہے لیکن وہ اس قدر بے درد ہے کہ جیتے جی اس کی تیمارداری تو کجا مرنے پر اس کے کفن دفن کا اہتمام کرنے میں بھی غیر اخلاقی عمل کامرتکب ہوتا ہے۔
گھیسو کو آخری وقت تک اسے کفن دینے کی فکر نہیں ہے وہ کائنات کے مایا جال میں ہی پھنسا پڑا ہے وہ اپنے تجربہ ، اعتمادکی وجہ سے مادھو کو بھی ذہنی طور پر اپنا گرویدہ بنالیتا ہے۔ مادھو ایک سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے آہستہ آہستہ چل کر وہ اپنے والد کے دام فریب میں اسیر ہو جاتا ہے حالانکہ دونوں سماجی احسا س کے فرض سے بھی سبک دوش ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ کفن جیسی اہم چیزکا بھی ان کو خیال نہیں ہے۔ دونوں باپ بیٹے کا رویہ بدھیا سے رشتہ کے اعتبار سے انتہائی غیر اخلاقی اور غیر انسانی بھی ہے۔ باپ بیٹے نے یہاں پر تمام سماجی اور اخلاقی قدروں کو پاؤں تلے روند دیا ہے اور بدنامی کے خوف سے ماورا آزادانہ طور پر شراب وکباب سے لطف اندوز ہونے کو فوقیت دیتے ہیں۔پریم چند نے یہاں پر فقط خارجی ماحول اور اعدادوشمار پر ہی بس نہیں کیا بلکہ دوراندیشی سے کام لے کر گھیسو اور مادھو کی نفسیات پر ضرب لگائی ہے کہ ان کی سوچ وبچار کے عقب میں کون سا جذبہ واحساس کام کررہا ہے ؟ کیوں کر ان میں اس قدر بے حسی پیدا ہوگئی ہے ؟ کفن میں تمام زور کردار نگاری پر ہے۔ پریم چند کا افسانہ کفن ہر اعتبار سے حقیقت نگاری کے پیمانہ پر پورا کھرا اترتا ہے انھوں نے اس میں دیہات کی زندگی گزر بسر کرنے والے معمولی آدمیوں کو بھی اپنی خلاقانہ بصیرت سے غیر معمولی کردار بنادیا ہے۔
’پوس کی رات ‘اپنے عہد کے کسانوں کے حالات و کوائف کا عکاس ہے۔ افسانہ نگار نے اس میں بھی حقیقت نگاری کے تعلق سے فکر و خیال کو خوب پیش کیا ہے۔ پریم چند کے ’پوس کی رات‘ افسانہ میں ’کفن‘ کے مانند کاہلی وسستی، خود غرضی، بے رخی،بے غیرتی اور موقع پرستی دکھائی نہیں دیتی۔ حالانکہ ’پوس کی رات‘ کئی اعتبار سے مخصوص نقطۂ نظر سے حقیقت پسندی کے ادراک میںمعاونت کرتا ہے۔ انھوں نے اس میں بھی دیہات کی زندگی گزارنے والے لاچار اور مجبور کسان کی مجبوری ومظلومی ، غربت وافلاس اور مصیبت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی سعی کی ہے۔اس میں مصیبت زدہ کسانوں کی زندگی کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ملتا ہے۔
مفلوک الحال کسان ہلکو محنت ومشقت کرکے کھیت سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ مال گذاری کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اس کا مقدر بے بسی اور محرومی بن چکا ہے۔ وہ شہنا کے دن بدن تقاضوں سے تنگ آچکا ہے۔ جب کہ اس کے لیے پوس کی سرد راتوں میں کھیت کی دیکھ بھال ،صرف گاڑھے کی چادر اوڑھ کر کر نامشکل ہے۔اسی باعث وہ خواہش رکھتاہے کہ کسی طرح سردی سے بچنے کے لیے ایک کمبل خریدا جائے۔اس کی شریک حیات بہ مشکل 3 روپئے جمع کرپاتی ہے۔مگر شہنا پھر تقاضے میں زور زور سے اناپ شناپ بکنا شروع کردیتاہے، اس کی بد اخلاقی کی وجہ سے ہلکو اپنی شریک حیات سے درخواست کرتا ہے کہ جو 3 روپئے، کمبل کے لیے جمع کررکھیں ہیں، شہنا کو جلد از جلد دے دو، اسی بابت خاوند اور بیوی میں تھوڑی دیر کے لیے نوک جھونک شروع ہوجاتی ہے آخرکار اس کی بیوی شہنا کو جمع پونجی دے دیتی ہے۔ مجبور محض ہلکو کھیت کی دیکھ بھال کمبل کے بغیرہی کرتا ہے۔ جس وجہ سے وہ سردی کی تاب اور نیند کی شدت سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ اسی اثنا میں پوری فصل نیل گائیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ ہلکو اور اس کی بیوی کے سامنے لگان کا بہت بڑا مسئلہ منھ کھول کر آکھڑاہوتا ہے۔وہ ظالمانہ نظام کے آگے مجبور اور بے بس ہوجاتے ہیں۔ قاری کو ہلکو کی غریبی، بے بسی اور ناچاری سے درد مندی نہیں بلکہ معاشرے کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقتدار سے سخت نفرت ہوجاتی ہے۔ کیونکہ دوسروں کی محنت ومشقت سے زمینداروں اور ساہو کاروں کا اپنی تجوریاں بھرنا ایسا قابل نفرت عمل ہے۔ جس کو کسی بھی عہد میں قابل قبول نہیں سمجھا گیا ہے۔ موصوف نے ایسے ہی اقتدار کے خلاف لگاتار آواز بلند کی ہے۔خود ان کا رشتہ دیہات کی زندگی سے تھا۔ انھوں نے اس زندگی کا اچھی طرح سے مشاہدہ کیا تھا۔ وہ ہر اعتبار سے انسانی حالت کو پیش کرنے کی استعداد رکھتے تھے۔ ہلکو یہاں پر اپنی میانہ روی سے دولت مندوں، ساہوکاروں کی بیٹیوں کے ظلم وستم کو ظاہرکرتا ہے۔ ’پوس کی رات ‘ اس عہد کے کسان کی عام حالت کی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے اس سے معاشرے میں امیرو غریب کے حالات اور طرز عمل کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔
’پوس کی رات ‘ افسانہ چھوٹے پلاٹ میں لکھی گئی موثر اور دلچسپ کہانی ہے۔اس میں الجھاؤ نہیں بلکہ سادگی ہے۔ اس کوچار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ہر حصہ ایک دوسرے سے ربط رکھتاہے۔ جو فطری طور پرانجام کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس میں کہیں کہیں نفسیاتی کار فرمائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ افسانہ کے کرداروں کے حقیقی چہرہ مہرہ بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ مزید کہانی میں تکنیکی انضباط کے باعث وحدت ِ تاثر بھی قائم ہے۔
اس افسانہ میں بھی تین اہم کردار ہلکو، اس کی شریک حیات (منی) اور اس کا وفادار دوست جبرا کتا ہے۔ ہر کردار اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے، منی ایک بامروت شریک حیات کی طرح ہلکو کے ساتھ غربت، بے بسی ولاچاری کی زندگی ضروربسر کرتی ہے۔ مگر وہ ہلکو سے کہیں زیادہ اپنے گھر کے خیال میں لگی رہتی ہے۔ سردی سے بچائو کے لیے کمبل خریدنے کا اسے ہی گمان پیدا ہوتا ہے۔ وہ کسی طرح کفایت شعاری سے 3 روپئے بچاکر جمع کرتی ہے۔ وہ پر امید ہوتی ہے کہ اس دفعہ ماگھ پوس کے جاڑے کے لیے کمبل کا بندوبست ہوجائے گا۔ مگر شہنا جب اس کے گھر پر آتا ہے تو منی کس طرح سے تقاضا ٹالنے کے لیے عذر پیش کردیتی ہے۔ وہ قرض کی ادائیگی سے پراگندہ ہے۔وہ ہلکو سے یہی کہتی ہے کہ ایسی کھیتی سے کیا فائدہ جس میں قرض ادا ہی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے خاوند کی بے چینی اور پریشانی دیکھتے ہوئے جمع پونجی لاکر اس کے ہاتھ پر رکھ دیتی ہے۔ مگر شوہر کو یہ رائے دیتی ہے کہ وہ ایسی کھیتی سے کسی طرح چھٹکار ا حاصل کرلے۔ وہ اپنے خاوند کے تئیں بے حدہمدردی اور وفاداری رکھتی ہے۔جس کا انکشاف شہناکودیے گئے جواب سے ہوتا ہے۔
’’ تین ہی تو روپئے 3 ہیں۔ دے دوں تو کمبل کہاں سے آئے گا؟ ماگھ پوس کی رات کھیت میں کیسے کٹے گی۔ اس سے کہہ دو فصل پر روپئے دے دیں گے ابھی نہیں ہیں۔‘‘
جب ہلکو اس سے کہتا ہے کہ کمبل کے لیے بعد میں سوچ بچار کروں گا، تو اس کے سلوک و رویہ میں تھوڑی شدت آجاتی ہے لیکن درد مندی میں کمی نہیں آئی، وہ گویا سکون اور آرام کے ساتھ باعزت زندگی بسر کرنے کی تمنا رکھتی ہے وہ کھیتی چھوڑ کر کے محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔کیونکہ نیل گایوں کے ذریعہ کھیت کی فصل کوخورد بردکردیاجاتا ہے۔ تو وہ کچھ اس طرح فکر مند ہوکر عرض کرتی ہے :
’’اب مجوری کرکے مال گجاری دینی پڑے گی۔‘‘
حاصل کلام یہ ہے کہ منی آئے دن قرض خواہ کی دھونس ، بے عزتی اور بیگاری سے تنگ آگئی ہے اس کی بس یہی تمنا ہے کہ ہلکو کھیتی کا کام چھوڑ کرکے کوئی محنت مزدوری کا کام کھوج لے تا کہ آرام اور سکون سے دو وقت کی روٹی نصیب ہوسکے۔
نہ جاڑا کم ہوتا ہے اور نہ ہی کھیت کی نگرانی ہوپاتی ہے۔ہلکو کی ساری محنت خاک میں مل جاتی ہے۔ ہلکو، منی اور جبرا کی قسمت میں بے بسی اور لاچاری لکھی ہوتی ہے ، ہر ایک نامراد ہوتا ہے ، کامیابی ملتی ہے تو ساہوکار شہنا کو۔ افسانہ نگار نے ہر ایک کردار کی کارکردگی میں ربط وتوازن برقرار رکھا ہے، خاص طور سے جبراکی کردار نگاری افسانوی تناظر میں خاصی موثر، اور جاندار ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ کمبل ہوتے ہوئے بھی ہلکو کھیت کی نگرانی کرنے میں کامیاب ہوتا کوئی امکان اس بات کا تھا کہ وہ گہری نیند سوجاتا اس وقت بھی جبرا کام آتاہے۔ وہ نیل گائیوں کو کھیت میں گھسنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید ہلکو کے بس کی بات نہیں تھی۔ افسانہ نگارنے کردار نگاری میں بڑی چابکدستی سے کام لیا ہے۔
کہانی میں بیانیہ اندازکے ساتھ گفتگو کا انداز بھی دیکھنے کو ملتا ہے، مکالمے ہلکو ، منی اور جبرا کے مابین ہیں جبرا بے زباں جانور ہے لیکن وہ ہلکو کی ہر بات سمجھتا ہے اور اس کے اشارے کنائے پر اچھل کود کرتا ہے اس کہانی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز اور انجام ٹیکس کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔ وہ کہانی کے مرکزی خیال سے جڑارہتا ہے۔ اس افسانے کی زبان میں یہی خوبصورتی ہے کہ کہانی میں مقامی بولی اور لب ولہجے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔کرداروں کی طبیعت اور رہن سہن کے اعتبار ہی سے مکالمے پیش کیے گئے ہیں۔ پریم چند کے افسانوں میں’پوس کی رات‘ اس عہد کے کسانوں کے حالات کی خوب نمائندگی کرتا ہے۔ انھوں نے اس میں مصیبت زدہ کسانوں کی معاشرت کی راست تصویر کشی کرکے حقیقت نگاری کاایک اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔
حواشی
-1 اردو کے تیرہ افسانے ،اطہر پرویز، ص20,19:
-2 پریم چند کا نمائندہ افسانہ،مرتب ڈاکٹر قمر رئیس۔ ص110:

Dr. Mohd. Inamul Haque
State Urdu Dayal Singh College University Delhi
Mob: 8851062695
Email: mohdinamulhaque.urdu@dsc.du.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو ادب میں تنقیدی نظریات، مضمون نگار: محمد خواجہ مخدوم محی الدین

تنقید کا وجود عالم انسانی کے وجود کے ساتھ ہوا۔ تنقید کے عام معنی اچھے اور برے کی تمیز کرنے کے ہیں۔ انسان تنقید کا شعور لے کر پیدا ہوا۔

نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کی تنقیدی بصیرت،مضمون نگار:محمد حنیف خان

اردو دنیا،مئی 2026: اردو تنقید زبان و ادب کا ایک اہم اور وقیع سرمایہ ہے جس کا دائرہ شاعری سے لے کر افسانوی اور غیرافسانوی ادب تک پھیلا ہوا ہے۔

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر /ابولکلام قاسمی

نئے ادبی نظریہ سازوں نے ادب کے ان تمام سکّہ بند معیاروں پر سوالیہ نشانات قائم کیے ہیں جن کے سبب، بالادست فکری اور ادبی طبقات کو ماضی کے ادبی