جنگل میں منگل،افسانہ نگار: منشی پریم چند

July 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جولائی 2026:

دیبی پانڈے موضع مادھو گنج کے ایک غریب برہمن تھے۔ اس پر مصیبت یہ کہ شادی بھی کر چکے تھے۔ بڑی مشکلوں سے روٹیاں نصیب ہوئیں۔ نہ گھر میں اثاثا تھا نہ کھیتی باڑی کرتے۔ نہ علم کا سرمایہ تھا۔ کہ پوتھی پیترے دیکھ کر تباہ کر لیتے۔ مزدوری ہی ایک ذریعہ تھی اور دیہات میں وہ بھی آسانی سے نہیں ملتی تھی۔ چاہتے تو بھیک مانگ سکتے تھے۔ مگر موٹے تازے آدمی کو بھیک بھی کون دیتا ہے؟ اس پر جہاں جاؤ وہیں پھٹکار۔ بیچاروں کو اکثر فاقے کرنے پڑتے تھے۔ صرف پتر پکش کے دن چین سے کٹتے تھے۔ کبھی پوریاں مل جاتیں کبھی دہی پیڑے۔ سال بھر انہی دنوں کا انتظار کرتے اور دل میں کہتے کہ کاش ایسے دن مہینہ میں دس پانچ بار تو آتے۔ نوکری کی بہت تلاش تھی۔ مگر گھر بار چھوڑ کر باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہ سہی تھا مگر دھرم کرم کو ہاتھ سے نہیں دیتے تھے۔ کبھی بلا نہائے منھ میں پانی نہ ڈالتے تھے اور روز شیوجی کو جل چڑہاتے۔
ہارے نصیب جاگے۔ مادھرو گنج کے علاقہ میں ایک چھوٹا سا جنگل تھا۔ زمیندار ایک متمول سیٹھ تھا جو شہر میں رہتا تھا۔ ایک بار وہ دیہات کی سیر کرنے آیا۔ دیکھا تو جنگل صاف ہوتا جاتا تھا۔ گاؤں کے ہی نہیں آس پاس کے دیگر مواضعات سے لوگ آ آکر لکڑیاں کاٹ لے جاتے تھے۔ سوکھی لکڑیاں بٹور لے جانے کی تو انھوں نے عام اجازت دے رکھی تھی۔ مگر لوگ ہرے درخت بھی کاٹ لے جاتے تھے۔ سوچے کہ اگر یہی کیفیت رہی تو تھوڑے دنوں میں جنگل کا نام بھی نہ رہے گا۔ اس کی حفاظت کیے بغیر کام نہ چلے گا کسی ہٹے کٹے آدمی کی تلاش ہوئی۔ نظر انتخاب دیبی پانڈے پر پڑی۔ 5روپیہ تنخواہ مقرر کی اور حکم دیا کہ جسے لکڑیاں کاٹتے دیکھو۔ فوراً گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دو۔
دیبی پانڈے کے دن پھرے۔ مونچھوں پر تاؤ دے کر بولے۔ اب دیکھوں کون میرے پنجے سے نکل جاتا ہے۔ ایک ایک کو دھر کے بندھوا نہ دیا تو نام نہیں۔ یہ بھر اور پاسی اور چمار جن کو چھونا بھی پاپ ہے۔ مجھ سے سیدھے منھ بات نہیں کرتے تھے۔ اب ایک ایک کی خبر لوں گا۔ اسی گاؤں میں میں دانہ دانہ کو ترستا رہا اور لوگ چین سے کھا کھا کر میٹھی نیند سوتے رہے۔ اب دیکھتا ہوں۔ کون مائی کا لال میرے سامنے اکڑ کر چلتا ہے۔
پانڈے جی اپنے ارادوں کے مضبوط آدمی تھے۔
دوسرے ہی دن وہ صبح سے کندھے پر لٹھ رکھے جنگل میں کسی بھوکے گیدڑ کی طرح منڈلاتے نظر آنے لگے۔ مجال نہ تھی کوئی ان کی خوشنودی حاصل کرلے بغیر ایک پتا بھی توڑ سکے۔ شام کو وہ خوش خوش گھر لوٹتے اور بھنگ گھوٹنے میں مصروف ہو جاتے۔ جو کسل و ماندگی کے دفعیہ کا ایک نہایت مجرب نسخہ ہے۔
چاروں طرف ہائے وائے کا شور مچ گیا۔ جنگل آپ اجڑتا ہے پر گاؤں کو بساتا ہے۔ اس جنگل سے لوگوں کے کتنے کام نکلتے تھے۔ وہ مویشیوں کا ان داتا تھا۔ وہ ہرے بھرے کھیتوں کو اپنی گود میں لیتا اور انھیں جنگلی جانوروں سے بچاتا۔ گاؤں کے در و دیوار اسی کے سایہ حمایت میں باد و باراں کا مقابلہ کرتے تھے۔ اسی کے فیض عام سے چولھے جلتے تھے۔
برسات کے دن تھے۔ لیکن آسمان پر برکت اور زندگی کی کالی گھٹاؤں کو دیکھ کر لوگوں کے دل سہم جاتے عورتیں لکڑی کے لکڑ ہارے بنا بنا کر آنگن میں کھڑے کرتیں۔ ہرن اور سور لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں اس طرح آزادی سے اینڈنے لگے۔ جیسے کسی فاسق کی آنکھیں حسینوں کی صورتوں پر پھرا کرتی ہیں ہمارے منصوبوں کی طرح گھر کرنے لگے۔
گاؤں کا تو یہ حال تھا۔ لیکن دیبی پانڈے کے گھر روز عید کے جشن ہوتے۔ زمیندار کی یہ ممانعت ان کے لیے دیوتا کا بردان ثابت ہوئی۔ ان کے دروازہ پر ہر دم سائلوں کا ایک میلہ سا لگا رہتا۔ لوگ ان کی بڑائی کرتے۔ مہاراج! نارائن نے آپ کو اتنا درجہ دیا ہے۔ تو ہماری بھی پرورش ہوتی رہے۔ اب آپ ہی کی نگاہ ہوگی تو گاؤں میں بسیں گے۔ آپ ہی ہمارے مالک ہو۔ کوئی گھر کے لیے لکڑی کا سوال کرتا۔ کوئی ہل اور چولہے کے لیے۔ پانڈے جی متکبرانہ انداز سے کہتے بھئی ایک بار تو کہہ دیا کہ لکڑی کاٹنے کا سرکاری حکم نہیں۔ اب کیوں پیچھے پڑے ہو۔ جان کھائے جاتے ہو۔ لکڑی کے بغیر کام نہیں چلتا تو جاکر شہر سے مول لاؤ۔ یہاں ایک پتا بھی نہیں مل سکتا۔ اس پر لوگ اور بھی عاجزی سے منت سماجت کرتے۔ رفتہ رفتہ پانڈے جی کچھ نرم پڑتے پھر کچھ سائیں سائیں باتیں ہوتیں۔ سائل کمر میں ہاتھ لے جاکر کچھ نکالتا۔ تب بادل سے نکل آنے والے آفتاب کی طرح پانڈے جی کا چہرہ کھل جاتا۔ لکڑی کاٹنے کی پروانگی مل جاتی۔
پنڈائن کا دربار الگ لگتا۔ وہاں بھی عورتوں کا میلہ رہتا۔ چاروں طرف سے دعاؤں کی بارش ہوتی۔ کوئی ان کے سہاگہ کی داعی تھی۔ کوئی ان کی اولاد کی صورت دیکھنے کے لیے بیقرار۔ اب انھیں چکی پیسنے یا برتن مانجھنے کی ضرورت نہ تھی۔ جس پر ان کی شفقت ہوتی اسے یہ خدمت سپرد ہوتی تھی۔ معمولی کاشتکاروں کی عورتیں دودھ اور دہی لاتیں اور گھنٹوں بیٹھ کر ٹھکرسہاتی کیا کرتیں۔ جس کے بچے کو وہ گود میں لے لیتیں وہ نہاں ہو جاتی۔
پنڈائن اب نت نئے روپ بدلتیں۔ ان کے دروازہ پر ہر دم سنار کے ہتھوڑوں کی آواز سنائی دیتی، نئی نئی چال کے گہنے بنتے اور گاؤں کے بزاز کی دکان کے کپڑے پسند نہ آتے۔
پانڈے جی پہلے کسی مجلس احباب میں شریک ہوتے تو خنجری یا کرتاں بجایا کرتے تھے۔ اب روز شام کے وقت اپنے چند بے تکلف اور ارادت مند مداحوں کے حلقے میں انداز پر غرور سے بیٹھے ہوئے ہار مونیم کی مشق کیا کرتے۔ اس وقت ایک جم غفیر لگ جاتا۔ لوگ کبھی باجے کی طرف حیرت سے دیکھتے کبھی دیبی پانڈے کی طرف اور آپس میں آنکھیں ملا ملا کر سر ہلاتے۔
دولت حرص کی آگ کا ایندھن ہے۔ جتنا زیادہ ایندھن لگاؤ اتنی ہی دہکتی ہے۔ وہ پانڈے جی جنھیں نان جو بھی ایک نعمت تھی۔ اب بے چپڑی چپاتیاں نہ کھا سکتے تھے صبح اٹھتے ہی کچھ ناشتہ کر کے جنگل کا ایک چکر لگاتے وہاں سے دو چار مجرموں کو پکڑے ہوئے اپنے دروازہ پر آ بیٹھتے۔ ان سے من مانا جرمانہ وصول کرتے۔ پہلے کوئی غریب دکھیا سوال کرتا تو انھیں درد آجاتا تھا۔ پر اب وہ کسی سے بغیر اپنی نذر و نیاز لیے بات نہ کرتے تھے۔ یہ نشہ یہاں تک بڑھا کہ اکثر وہ رات کو جنگل کی طرف چوروں کی تاک میں نکل جاتے۔ یہ کام اب مالک کا نہیں ان کا اپنا تھا۔ جو لوگ رات کو چوری چھپے لکڑیاں کاٹ لے جاتے تھے انھیں بھی اب پانڈے جی کی آستاں بوسی کرنا پڑی۔ بلی تو چاہے چوہے پر رحم بھی کر جائے پر پانڈے جی کو اپنے شکار پر مطلق رحم نہیں آتا تھا۔ وہ مارتے پیٹتے تھانہ کی دھمکی دیتے اور بغیر جرمانہ لیے گلا نہ چھوڑتے۔ ہاں آن میں ایک وصف یہ تھا۔ کہ اپنے گاؤں والوں پر زیادہ سختی نہ کرتے تھے۔ مگر اس تمام چوکسی اور تندہی اور جان فشانی کا اثر جو کچھ تھا۔ وہ ان کی ذات پر تھا۔ جنگل کی حالت بدستور تھی یا کچھ اور بھی ابتر۔ گو اس کی احتیاط کی گئی تھی کہ جنگل کے بیرونی حصوں پر کلہاڑے نہ چلیں مگر اندر کی طرف قطعے کے قطعے صاف ہو گئے۔ پہلے اس سے ہر خاص و عام کو براہ راست فیض پہنچتا تھا اب پانڈے جی کی معرفت، اس کے سوا اور کوئی فرق نہ تھا۔
اس طرح ایک سال گذر گیا۔ پانڈے جی ہر مہینے سیٹھ چندن داس کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنی کار گذاریوں کی داستان سنا آتے سیٹھ جی کو اول تو اپنے کاروبار سے فرصت نہ ملتی تھی دوسرے پانڈے جی پر ایسا یقین آ گیا تھا کہ وہ سال بھر تک نہ آئے مگر چیت کے مہینہ میں تحصیل وصول کا حساب کتاب سمجھنے کے لیے آنا لازمی تھا اور وہ آئے۔ پانڈے جی نے خوب پیش بندیاں کر رکھی تھیں۔ سوچا تھا پہلے تو انھیں ایسی باتوں میں لگاوں گا۔ کہ وہ جنگل کا رخ ہی نہ کریں اور اگر جائیں گے بھی تو صرف ادھر اُدھر دکھا کے ٹوٹا دوں گا۔ اندر جانے کی نوبت ہی نہ آئے گی سیٹھ جی کے مختار عام اور ان کے چپراسیوں کو پہلے ہی سے ملا رکھا تھا۔ اس وقت سیٹھ جی کے خدمتگار اور رسویں پکانے والے مہراج اور ان کی پوجا پاٹ کے سامان جمع کرنے والے مالی کی خاطر و مدارات کی خوب تیاریاں کر رکھی تھیں۔ پانڈے جی کی اہلیہ نے اپنے ہاتھوں سے خوب دبیز پوریان پکائی تھیں۔ گجھیاں اور سموسے، سیو بنائے تھے۔ ساری کیسریے رنگ میں رنگائی تھی۔ بھلا جب وہ گہنے پاتے پہن کر زعفرانی ساری میں چمکتی ہوئی تقال میں جیونار لیے ہوئے ان بن بلائے مہمانوں کے سامنے آئیں گی اور گھونگھٹ کی آڑ سے جھانک کر مسکرائیں گی تو کیا وہ بن داموں غلام نہ ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ پانڈے جی نے گاؤں کے دو تین معززین کو سکھا رکھا تھا۔ کہ جب موقع ملے۔ ان کی دیانت اور مشقت کی تعریف کے پل باندھ دیں۔ اس طرح پانڈے جی نے اپنی محافظت کا پورا انتظام کر لیا تھا۔
مگر ’’کرم لیکھ نہیں مٹتے کرے کوئی لاکھوں چترائی‘‘ سیٹھ چندن داس شام کو ہوا خوری کرنے چلے۔ انھیں صعف ہاضمہ کی شکایت تھی اور معمولاً ٹہلا کرتے تھے۔ پانڈے جی کے ہوا خواہوں نے کہا یہاں حضور کے سیر کرنے کے قابل جگہ کہاں چاروں طرف کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہے۔ مگر جب یہ عذر بار بار پیش کیا گیا۔ تو سیٹھ جی کو شبہ ہو گیا۔ گھومنے نکل پڑے۔ کھیتوں اور باغوں میں گھومتے گھامتے کھلہانوں میں کسانوں سے بات چیت کرتے وہ جنگل کی طرف چلے۔ پانڈے جی اور ان کے ہوا خواہ ساتھ ساتھ تھے۔ جنگل کے قریب جا کر دیکھا۔ تو سارے درخت ہرے بھرے نظر آئے۔ سبز پوش تناور سپاہیوں کی لمبی قطار شانوں سے شانے ملائے کھڑی تھی پامالی کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ سمجھا کہ پانڈے کارگذار آدمی ہے اور خوب نگرانی کی ہے۔ قریب تھا کہ دل میں یہ رائے قائم کیے ہوئے وہ اپنے فرودگاہ کی طرف چلیں کہ پانڈے جی کی شومی تقدیر نے زور کیا۔ جنگل میں سے بھیڑوں اور بکریوں کا ایک جھنڈ نکلتا ہوا نظر آیا۔ سیٹھ جی کو تعجب ہوا کہ ایسے گنجان درختوں میں اس گلہ کو چرنے کی جگہ کہاں مل گئی۔ جہاں سے یہ گلہ نکل رہا تھا۔ اُدھر لپکے اور قریب جا کر اندر کی طرف گھسے تو باوجود شام ہو جانے کے روشنی نظر آئی اور اندر داخل ہوئے تو جابجا کٹے ہوئے درختوں کے ٹھونٹھ نظر آئے۔ ذرا اورگھسے تو قطار کی قطار صاف دکھائی دی۔ پانڈے جی دم بخود سٹ پٹائے ہوئے ذرا دور کھڑے تھے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اپنی قسمت کو کوس رہے تھے اور اس گڈریے کو دل میں ہزاروں گالیاں دے رہے تھے۔ کیسی آسانی سے بلا ٹلی جاتی تھی۔ مگر اس پاپی دشٹ نے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ مجھے بھی پہلے نہ سوجھا نہیں تو آج منع کر دیا ہوتا کہ جنگل میں بکریاں نہ لانا۔ پر اب تو پھنس گئے۔ بھگوان، دیناناتھ، دین بندھو اس وقت میری مدد کرو۔ مہابیر سوامی! پار لگاؤ۔
دفعتاً سیٹھ جی نے ان کی طرف غصے کی نگاہ سے دیکھ کر سخت لہجہ میں کہا ’’یہ درخت کیونکرکٹ گئے؟‘‘
ہوا خواہوں نے یہ نقشہ دیکھا تو اور دبک گئے۔ شاعر کہہ گیا ہے۔ مصیبت میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ بھرے ہوئے گھڑے پر پھول چڑھتا ہے۔ خالی گھڑے کی طرف دیکھنا منع ہے۔ پانڈے جی کو جواب دینا پڑا کا نپتے ہوئے بولے ’’ہجور! نارائن جانتے ہیں کہ میں نے کیسی چوکسی کی ہے۔ لیکن سرکار! دھرماوتار! یہاں کے لوگ بڑے چور ہیں۔ معلوم ہوتا ہے۔ رات کو ا ٓکر کاٹ لے گئے ہیں۔‘‘
سیٹھ جی نے ڈپٹ کر کہا ’’تم کس مرض کی دوا ہو؟ کیا تمھیں دروازے پر آرام سے تکیہ لگائے بیٹھے رہنے کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ رات کو اس طرح جنگل میں گھس کر کوئی لکڑی نہیں کاٹ سکتا۔ یا تو تم بھنگ کھا کر مست پڑے رہتے ہو۔ یا یہ سب تمھارے ہی کرتوت ہیں۔ تم نے مجھے لوٹ کر اپنا گھر بھرا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر سیٹھ جی نے جنگل کے پامال قطعوں کی طرف نگاہ ڈالی۔ پھر پارہ چڑھا۔ گرج کر بولے ’’تم نے مجھے بالکل بدھو سمجھ لیا کیوں؟ میں نے تمھارا اعتبار کیا۔ اس کا تم نے مجھے یہ بدلہ دیا ہے۔ میری آنکھوں میں خاک ڈالنے کے لیے سامنے ٹٹی کھڑی کر دی ہے۔ اور اس کی آڑ میں یہ شکار کھیلے ہیں۔ اسی دو تین بیگھہ میں کم سے کم 100درخت کٹے ہوئے ہیں سارے جنگل میں معلوم نہیں کتنے کٹ گئے ہوں گے۔ یہ سب تمھاری شرارت اور بے ایمانی ہے۔ کہاں گیا مختار! ادھر آؤ کل سویرے تم سارے کٹے ہوئے پیڑوں کا شمار کرو۔ کتنے ساکھو کے ہیں، کتنے مہوئے کے، کتنے جامن کے۔ بے ایمان کا سر کچلنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اپنے سپاہیوں کو حکم دو کہ وہ اس گاؤں میں اور قریب کے دوسرے گاؤں میں جا کر سب کو اطلاع دے دیں کہ جس نے جنگل سے لکڑی کاٹی ہو۔ وہ میرے سامنے حاضر ہو کر صاف صاف بتلائے۔ ورنہ بری طرح پیش آؤں گا۔‘‘
یہ کہہ کر سیٹھ جی غصے میں بھرے ہوئے ڈیرے کی طرف چلے۔ ان کے پیچھے مختار صاحب تھے۔ پانڈے جی کے ہوا خواہوں میں کسی کو پتہ نہ تھا۔ وہ اکیلے بادل بریال و چشم گریاں اپنی غلطی اور حماقت پر کف افسوس ملتے۔ فکر عمیق میں غوطے کھاتے چلے آتے تھے۔
گاؤں میں تہلکہ پڑ گیا۔ پنڈائن نے یہ کیفیت سنی تو رونے لگیں۔ کتنی محنت سے سموسے اور پوریاں بنائی تھیں۔ دیوی کی مانتا کی۔ مہابیر سوامی کو لڈو چڑھانے کی دعوت دی۔ رات بھر میاں بیوی جاگتے رہے کہاں روز چین سے بھنگ کے نشہ میں مست ہارمونیم بجایا کرتے تھے۔ کہاں آج یوں، رونی صورت بنائے پڑے ہیں۔ بار بار یہی پچھتاوا ہوتا ہے کہ گڈریے کو منع کیوں نہ کر دیا تھا۔ ہوا خواہوں میں کسی کی صورت نہ نظر آتی تھی۔
صبح ہوتے ہی سپاہی دوڑے اور سیٹھ جی کا حکم سنایا۔ دس بارہ گاؤں ملحق تھے۔ ہر ایک گاؤں سے خطاواروں کی قطاریں آنا شروع ہوئیں سیٹھ جی پر بلا کسی تردد کے ساری حقیقت روشن ہو گئی۔ اس وقت لوگوں کو اپنی جان کی پڑی تھی۔ پانڈے جی کی حمایت کون کرتا۔ اسی اثناء میں مختار صاحب نے آکر کٹے ہوئے درختوں کی تعداد بتائی۔ سیٹھ جی سکتے میں آگئے۔ ایک ہزار! لمبی سانس لی۔ اور اٹھ کر کمرہ میں ٹہلنے لگے۔ تب متانت سے بولے۔ ’’اس شخص نے تو مجھے تباہ کر دیا۔ کم سے کم 5000کا چرکا دیا۔ اچھا کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
لکڑی کاٹنے والوں کے بیانات موجود تھے۔ فوراً بگھی تیار کروائی۔ پانڈے جی دروازہ پر کھڑے رو رہے تھے۔ سمجھ گئے۔ کہ گلے پر چھری چلنے والی ہے۔ دوڑے اور سیٹھ جی کے پاؤں پر گر پڑے۔ پنڈائن بھی ایک بوسیدہ ساری پہنے دست بستہ کھڑی تھیں۔ رو کر سیٹھ جی سے بولیں۔ دھرماوتار! ہم گریپ بامھن مر جائیں گے۔ ہمارے اوپر دیا کی جائے۔ سیٹھ جی غصہ سے لال ہو رہے تھے ایک نہ سنی۔ دم کی دم میں بگھی ہوا ہو گئی اور اسی کے ساتھ پانڈے جی کی امیدیں بھی ہوا ہوئیں۔
دوسرے ہی دن مقدمہ دائر ہو گیا۔ گاؤں میں داروغہ آ گئے۔ بیانات لیے۔ تلاشیاں لیں۔ گواہ لیے۔ پانڈے جی کو حراست میں لے لیا اور جو کچھ نقد ملا وہ بھی لے کر رخصت ہوئے۔ کتنا دردناک نظارہ تھا۔ پانڈے جی ہائے ہائے کرتے تھے۔ پنڈائن پچھاڑیں کھا کھا گرتی تھیں۔ بوڑھی عورتیں جابجا بیٹھی ہوئی سائیں سائیں باتیں کر رہی تھیں۔ بہوئیں جھرو کے سے یہ نظارہ دیکھتی تھیں۔ گاؤں کے ذی وقار لوگ ازراہ ہمدردی پانڈے جی کو سمجھا رہے تھے۔ چار دن کی چاندنی آ گئی اور چلی گئی۔ پھر وہی اندھیرا پاکھ آیا۔ پہلے سے کہیں زیادہ اندھیرا! کہیں زیادہ خوف ناک خوشحالی کی چند روزہ جھلک نے مصیبت کی سیاہی کو اور بھی زیادہ سیاہ کر دیا۔
معینہ تاریخ کو پانڈے جی کا مقدمہ پیش ہوا۔ مجسٹریٹ صاحب کٹگھروں کے بیچ میں اس طرح اکڑے بیٹھے ہوئے تھے۔ جیسے شیر پنجرے میں۔ سامنے پانڈے جی بہت کڑیاں پہنے رونق افروز تھے استغاثہ کی طرف سے پیروی کے لیے وکیلوں کا ایک قافلہ تھا۔ پانڈے جی کی طرف سے ایک بوڑھے مختار صاحب کھڑے تھے۔ استغاثہ کی طرف سے شہادتیں گذریں۔ کسی نے کہا میں نے جنگل سے دو ساکھو کے پیڑ پانڈے جی کے حکم سے کاٹے اور انھیں 5روپیہ نذرانہ دیا۔ کسی نے ایک ہی درخت کاٹنا تسلیم کیا۔ ایک صاحب نے اپنا گھر بنانے کے لیے 50 رخت کاٹے اور پورے 100روپے پانڈے جی کی نذر کیے۔ پانڈے جی کے چند ہمدم و ہمنشیں حضرات بھی شہادت میں طلب ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا۔ صاحب ہم نے پانڈے جی کو اپنی آنکھوں سے روپیہ لیتے تو دیکھا نہیں پر سنا ہے کہ لیتے تھے۔ بوڑھے مختار صاحب ہر ایک گواہ سے جرح کے سوالات کر کے پانڈے جی سے اس کی مخالفت اور معاندت اور سیٹھ جی سے غرضمندانہ تعلق ثابت کرنا چاہتے تھے۔ پر ان کی مساعی جمیالہ کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا۔ ایک گواہ بھی نہ بگڑا۔
ان گواہوں کے بیانات ختم ہو گئے۔ تو مجسٹریٹ نے پانڈے جی سے اپنی صفائی پیش کرنے کا حکم دیا۔ مگر وہاں صفائی کہاں تھی۔ پنڈائن جی گھر کا سب اثاثا لے کر میکے جا چکی تھیں۔ پانڈے جی بڑے زور سے رو کر بولے ’’دھرماوتار! سرکار کے ہاتھ میں کلم ہے جو چاہیں کریں۔ گریب بامھن ہیں۔ چھوٹ جائیں گے تو کہیں مانگ کھائیں گے کید ہوگئے۔ تو ہجور ہمارے بال بچے سب بھوکوں مر جائیں گے۔ دین بندھو! ہمارے اوپر دیا کی جائے۔ ہم اناتھ ہیں۔ ہم سے بڑا کسور ہوا۔ اب کی جان بکسی ہو جاوے اب ہم کبھی بے ایمانی کے کنارے نہ جائیں گے۔ سرکار ہمارے اوپر اتنی نگاہ ہو جائے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ بآواز بلند رونے لگے۔
مجسٹریٹ نے دل میں سوچا۔ اس غریب پر سختی کیوں کی جائے۔ میں ہزاروں تعلیم یافتہ بڑی بڑی تنخواہ والوں کو جانتا ہوں وہ رشوتیں لیتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں کرتا۔ ان پر بڑی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے بڑے بڑے اختیارات ہیں۔ مگر ان میں ایسے کتنے ہیں۔ جو اپنی ذمہ داریوں اور اختیاروں کے دیانت مندانہ استعمال پر قانع ہوںگے شاید بہت کم! جب وہ اپنی اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ اخلاقی احساس کے باوجود ڈگمگاتے ہیں اور منھ کے بل گر پڑتے ہیں تو ایک لٹھ گنوار کریا اچھر بھینس برا بر دہقان کے ساتھ قانونی برتاؤ کرنا سراسر بے انصافی اور بے رحمی ہے۔ ہمارے عمال بھی گلا دباتے ہیں اور خون چوستے ہیں۔ پر کلوروفارم دے کر عیب کو ہنر کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ ان کی اعلیٰ تعلیم کی برکت ہے۔ اس غریب نے عیب کیا پر کرنا نہ جانا۔ اگر وہ اس فن میں ہمارے عمال کی چند روز شاگردی کر لیتا تو آج کون تھا۔ جو اسے قانون کے پنجہ ہیں پھنسا سکتا۔
سیٹھ جی اجلاس کے قریب کھڑے تھے۔ مجسٹریٹ نے ان سے پوچھا۔
’’آپ چاہتے ہیں۔ کہ ملزم کے ساتھ قانون کا پورا برتاؤ کیا جائے؟‘‘
سیٹھ جی نے عرض کی ’’جیسی حضور کی منشا ہو۔ مجھے حضور کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔‘‘
مجسٹریٹ صاحب نے زیادہ گفتگو نہ کی۔ فیصلہ سنانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ کمرہ میں بے جان خموشی چھا گئی۔ پانڈے جی کا دل اس طرح دھڑک رہا تھا۔ گویا ہونٹوں تک آجائے گا۔ صاحب بہادر نے فیصلہ سنایا۔
’’میں ملزم کو رہا کرتا ہوں اور اسے تاکید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس قسم کا موقع نہ دے۔ ورنہ کوئی رعایت نہ کی جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے سرقہ اور غبن اور بیجا تصرف سب کچھ کیا۔ پر وہ نا خواندہ جاہل گنوار ہے اور ایسی حالت میں سزا کی بجائے ہمدردی کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘
ترجمان لاہور، نومبر 1916، صفحہ 219 تا 225

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شمس الرحمن فاروقی کے افسانے : ہند ایرانی تہذیب کابیانیہ ، مضمون نگار: محمد ارشد

اردو دنیا،نومبر 2025 شمس الرحمن فاروقی نے ادبی دنیا میں نقاد اور جدیدیت کے بنیاد گزار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ افسانے اور ناول کی شکل میں

جیلانی بانو: بحیثیت افسانہ نگار،مضمون نگار: فیضان الحق

اردو دنیا،اپریل2026: جیلانی بانو اردو ادب کی تخلیقی دنیا کاایسا نام ہے جس نے ایک لمبا سفر طے کیا۔ 14جولائی 1926کو بدایوں میں پیدا ہونے والی یہ تخلیق کار 1

اقبال مجید کی افسانہ نگاری کا تخلیقی تجزیہ،مضمون نگار: ریاض توحیدی کشمیری

اردو دنیا،دسمبر 2025: ’’تخلیقی عمل کی طرح تخلیقی مطالعہ بھی ہوتا ہے۔‘‘ (آرڈبلیو ایمرسن) تخلیقی کام جتنا معیاری ہوگا اتنا ہی اس کا تجزیہ تخلیقی نوعیت کا ہونا چاہیے کیونکہ