تلخیص
ترجمہ نگاری انسانی تہذیب کا ایک اہم، نازک اور ہمہ جہت فن ہے جس کے ذریعے مختلف قوموں، زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان فکری، علمی اور تہذیبی رابطہ قائم ہوتا ہے۔ مترجم دراصل دو زبانوں اور دو تہذیبوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے جو مختلف معاشروں کے درمیان فکری اور ثقافتی فاصلے کم کرتا ہے۔ دنیا کی علمی اور ادبی ترقی میں ترجمہ نگاری نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ یونانی فلسفہ، عربی علوم، فارسی ادب اور مغربی سائنسی تحقیقات جب دوسری زبانوں میں منتقل ہوئیں تو نئی تہذیبوں اور فکری تحریکوں نے جنم لیا۔ اردو ادب نے بھی عالمی ادب کے تراجم کے ذریعے نئے خیالات، اسالیب اور ادبی رجحانات حاصل کیے۔ ایک کامیاب مترجم کے لیے دونوں زبانوں پر عبور کے ساتھ ساتھ ان کے تہذیبی پس منظر، محاورات، روزمرہ، ادبی روایت اور نفسیاتی پہلوؤں سے واقفیت ضروری ہے تاکہ اصل متن کے جذبات، اسلوب اور فکری فضا کو مطلوبہ زبان میں برقرار رکھا جا سکے۔
ترجمہ نگاری کا پہلا اہم تقاضا لسانی مہارت ہے۔ ہر زبان کی اپنی ساخت، قواعد، محاورات اور اندازِ بیان ہوتا ہے، اس لیے لفظی ترجمہ اکثر اصل مفہوم کو خراب کر دیتا ہے۔ مثلاً انگریزی محاورہ ‘Break the Ice’کا لفظی ترجمہ ’برف توڑنا‘ غیر فطری محسوس ہوگا، جب کہ اس کا درست مفہوم ’جھجک دور کرنا‘ ہے۔ اسی طرح اردو محاورات کا انگریزی میں لفظی ترجمہ اکثر اصل معنی کھو دیتا ہے۔ دوسرا اہم تقاضا تہذیبی اور ثقافتی شعور ہے، کیونکہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب، رسم و رواج اور طرزِ احساس کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔ مثلاً ’مہندی‘، ’چادر‘، ’اڈا‘ یا ’پوئیلا بویشاکھ‘ جیسے الفاظ مخصوص تہذیبی پس منظر رکھتے ہیں جنھیں دوسری زبان میں مکمل طور پر منتقل کرنا آسان نہیں۔ اسی طرح بنگلہ زبان میں ’آمی آشی‘ کا لفظی مطلب ’میں آتا ہوں‘ ہے، لیکن اس سے مراد ’میں چلتا ہوں، پھر آؤں گا‘ ہوتا ہے۔ ترجمہ نگاری میں اسلوب کی منتقلی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہر ادیب کا اپنا مخصوص اندازِ بیان، لفظیات اور فکری آہنگ ہوتا ہے جسے دوسری زبان میں اسی حسن کے ساتھ منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ غالب، اقبال، منٹو، پریم چند اور شیکسپیئر جیسے ادیبوں کے تراجم میں صرف مفہوم منتقل کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے اسلوب، جذبات اور ادبی حسن کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں مشینی ترجمے نے ترجمہ نگاری کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن کمپیوٹرائزڈ ترجمے اکثر لفظی ہوتے ہیں اور تہذیبی، جذباتی اور ادبی لطافتوں کو صحیح طور پر منتقل نہیں کر پاتے۔ محاورات، طنز، جذبات اور ثقافتی اشاروں کو سمجھنے میں انسانی مترجم اب بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ نگاری، ترجمے کا فن، لسانی تقاضے، تہذیبی اور ثقافتی تقاضے، اسلوب کی منتقلی کا تقاضہ، توازن کا تقاضہ، سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کے تقاضے، مشینی ترجمے کے تقاضے، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹرائزڈ نظام،سافٹ ویئر، صوتی آہنگ، ساخت، قواعد، محاورات، لہجہ، علامتیں، استعارے، سماجی رویے، علمی بصیرت، ادبی شعور، علوم، ادبیات، تہذیب، ثقافت۔
————
ترجمہ نگاری انسانی تہذیب کا ایک قدیم، اہم اور نازک فن ہے جو مختلف قوموں، زبانوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انسان جب سے مختلف علاقوں اور تہذیبوں میں تقسیم ہوا، اسی وقت سے خیالات، علوم اور تجربات کے تبادلے کی ضرورت پیش آنے لگی۔ یہی ضرورت بعد میں ترجمہ نگاری کی صورت میں سامنے آئی۔ ترجمہ دراصل ایک زبان میں موجود خیالات، احساسات، معلومات اور تصورات کو دوسری زبان میں اس انداز سے منتقل کرنے کا فن ہے کہ اصل متن کا مفہوم، تاثیر اور روح برقرار رہے۔ یہ صرف لفظوں کی تبدیلی نہیں یہ تو ایک فکری، تہذیبی اور ادبی عمل ہے۔ ہر زبان اپنے اندر ایک مخصوص تہذیب، ثقافت، تاریخ اور طرزِ احساس رکھتی ہے۔ جب کوئی مترجم کسی متن کا ترجمہ کرتا ہے تو وہ محض الفاظ کو منتقل نہیں کرتا، پورے معاشرے کی فکری اور تہذیبی فضا کو مطلوبہ زبان میں انڈیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے مترجم کو دو مختلف تہذیبوں کے درمیان پل کہا جاتا ہے جو قوموں کے درمیان فکری اور ثقافتی فاصلے کم کرنے میں سودمند ثابت ہوتا ہے۔
دنیا کی علمی اور ادبی ترقی میں ترجمہ نگاری نے ہمیشہ غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی اساطیر،قدیم یونانی فلسفہ، عربی علوم، فارسی ادب اور مغربی سائنسی تحقیقات جب دوسری زبانوں میں منتقل ہوئیں تو مختلف قوموں کے لیے نئے نئے علمی دروازے کھلے۔ مسلمانوں کے علمی عروج میں بھی ترجمہ نگاری کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ بغداد کے ’بیت الحکمت‘ میں یونانی اور سنسکرت علوم کے تراجم نے سائنس، فلسفہ اور طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح یورپ کی نشاۃِ ثانیہ بھی بڑی حد تک عربی علوم کے تراجم کا نتیجہ تھی۔
اردو زبان و ادب نے بھی ترجمہ نگاری کے ذریعہ بے شمار علمی و ادبی سرمائے سے استفادہ کیا۔ عالمی ادب کے تراجم نے اردو ادب کو نئے خیالات، نئے اسالیب اور نئی فکری جہتوں سے روشناس کرایا۔ ناول، افسانہ، ڈراما اور شاعری کے تراجم نے اردو ادب کی وسعت میں اضافہ کیا اور قارئین کو دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشرتوں سے آشنا کیا۔
اگرچہ بظاہر ترجمہ ایک آسان عمل معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ نہایت نازک، پیچیدہ اور ذمہ داری کا فن ہے۔ ایک کامیاب مترجم کے لیے صرف دونوں زبانوں پر عبور کافی نہیں بلکہ اسے ان زبانوں کے تہذیبی پس منظر، محاورات، روزمرہ، ادبی روایت اور نفسیاتی پہلوؤں سے بھی مکمل واقفیت ہونی ضروری ہے۔ مترجم کوخاص طور سے اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اصل متن کے جذبات، فکری فضا، اسلوب اور معنویت مطلوبہ زبان میں بھی برقرار رہیں۔ اگر مترجم ان باریکیوں کو نظر انداز کر دے تو ترجمہ بے جان، غیر مؤثر اور بعض اوقات غلط مفہوم کا حامل بن جاتا ہے۔لہٰذا ایک کامیاب ترجمے کے لیے کئی اہم تقاضے پیشِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ان تقاضوں میں لسانی مہارت، تہذیبی شعور، ادبی ذوق، فکری دیانت، تخلیقی صلاحیت اور فنی معلومات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مترجم کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اصل مصنف کے خیالات کو مطلوبہ زبان میں پوری دیانت داری کے ساتھ سمو دے اور اپنی ذاتی رائے یا غیر ضروری تبدیلیوں سے گریز کرے۔ اسی طرح تکنیکی اور سائنسی موضوعات کے ترجمے کے لیے متعلقہ اصطلاحات اور علوم سے واقفیت بھی ضروری ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں جب دنیا گلوبلائزیشن، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے، ترجمہ نگاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج علم، ادب، سائنس، تجارت، میڈیا، سفارت اور بین الاقوامی تعلقات کے ہر شعبے میں ترجمہ ایک ناگزیر جزو بن چکا ہے۔ اس لیے ترجمے کے فن اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا بے حد ضروری ہوجاتا ہے،کہ ایک معیاری اور مؤثر ترجمہ ہی مختلف زبانوں، تہذیبوں اور قوموں کے درمیان حقیقی فکری اور ثقافتی ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے۔ ذیل میں ان ہی تقاضوں پر مختلف زاویوں سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے:
(الف) لسانی تقاضے
ترجمہ نگاری میں سب سے بڑی دشواری لسانی تفاوت کی ہوتی ہے۔ ہر زبان کی اپنی الگ ساخت، قواعد، محاورات، لہجہ اور اندازِ بیان ہوتا ہے۔ ایک زبان میں جو بات نہایت فطری، مؤثر اور بامعنی محسوس ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ دوسری زبان میں بھی اسی کیفیت کے ساتھ منتقل ہو سکے۔ بعض الفاظ اور تراکیب ایسی ہوتی ہیں جن کا دوسری زبان میں مکمل یاراست متبادل موجود نہیں ہوتا، اس لیے مترجم کو محض لفظوں کی تبدیلی کے بجائے مفہوم، تاثر اور موقع و محل کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ ترجمہ نگاری میں لسانی تفریق کی دشواری کو انگریزی اور اردو کی مثالوں سے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات ایک زبان کا لفظ یا محاورہ دوسری زبان میں لفظ بہ لفظ منتقل کرنے سے اپنا اصل مفہوم کھو دیتا ہے۔ مثلاً انگریزی کا محاورہBreak the ice. اگر لفظی طور پر اردو میں’برف توڑنا‘ ترجمہ کیا جائے تو مفہوم واضح نہیں ہوتا، کیونکہ انگریزی میں اس سے مراد اجنبیت یا خاموشی کو ختم کرنا ہے۔ اسی لیے اس کا مناسب اردو ترجمہ’گفتگو کا آغاز کرنا‘ یا’جھجک دور کرنا‘ ہوگا۔اسی طرح انگریزی جملہ He has a heart of stone. اگر لفظ بہ لفظ ’اس کا دل پتھر کا ہے‘ ترجمہ کیا جائے تو کچھ حد تک مفہوم کی ترسیل تو ہوجائے گی،مگر اردو زبان میں زیادہ فطری انداز’وہ سنگ دل ہے‘ سمجھا جاتا ہے۔لہٰذا مترجم کو صرف الفاظ نہیں بلکہ زبان کے محاوروں،کہاوتوں اور اسالیب کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔اردو سے انگریزی میں ترجمے کے دوران بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو محاورہ’آسمان سر پر اٹھانا‘ کا ترجمہ اگر لفظی طور پر To lift the sky over one’s head. کیا جائے تو انگریزی قاری کے لیے یہ غیر فطری محسوس ہوگا، جب کہ اس کا درست مفہوم To create a huge commotion. یا To make a lot of noise. ہوتا ہے۔اسی طرح اردو میں احترام اور شائستگی کے اظہار کے لیے ’آپ‘ کا استعمال عام ہے، اور جمع کے طور پر بھی۔لیکن انگریزی میں’you‘ احترام، شائستگی کے ساتھ ساتھ واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اردو کے تہذیبی فرق اور احترام کے درجے کو انگریزی میں پوری طرح سمو دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب مترجم صرف لغت پر انحصار نہیں کرتا بلکہ دونوں زبانوں کے مزاج، تہذیب، محاورات اور اندازِ بیان کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجمہ کرتا ہے تاکہ اصل مفہوم اور تاثیر برقرار رہ سکے۔
اسی طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورات اور روزمرہ کی زبان ترجمہ نگاری کو مزید مشکل بنا دیتی ہے، کیونکہ ان کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، تہذیبی پس منظر، طرزِ احساس اور معاشرتی تجربات سے بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی محاورے کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اکثر اصل مفہوم ضائع ہو جانے کا امکان رہتا ہے یا عبارت غیر فطری محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں زبانوں کے محاوراتی نظام، روزمرہ کی کہاوتوں اور اندازِ اظہار سے اچھی طرح واقف ہو تاکہ اصل خیال اور تاثیر کو برقرار رکھا جا سکے۔مثلاً انگریزی محاورہ. A blessing in disguiseکا اگرلفظی طور پر’بھیس میں چھپی ہوئی نعمت‘ ترجمہ کیا جائے تو عبارت عجیب محسوس ہوگی، جبکہ اس کا درست مفہوم’بظاہر نقصان مگر درحقیقت فائدہ‘ یا’چھپی ہوئی بھلائی‘ ہے۔اسی طرح انگریزی جملہSpill the beans. کا ترجمہ اگر لفظ بہ لفظ’لوبیا گرا دینا‘ کیا جائے تو کوئی معنی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اس محاورے کا اصل مفہوم’راز فاش کرنا‘ ہے۔ ایک اچھا مترجم اسی مفہوم کو مناسب انداز میں منتقل کرے گا۔ اردو محاورات کے ترجمے میں بھی یہی دشواری سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر اردو محاورہ’اونٹ کے منھ میں زیرہ‘ کااگر لفظی طور پرCumin seed in a camel’s mouth.ترجمہ کیا جائے تو انگریزی قاری کے لیے اس کا مفہوم واضح نہیں ہوگا، جبکہ اس کا درست انگریزی مفہومTo little for a great need. ہوگا۔ اسی طرح اردو محاورہ’چور چور موسیرے بھائی‘کا مفہوم یہ ہے کہ ایک جیسے برے یا غلط کام کرنے والے لوگ آپس میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں یا ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں۔ کوئی اس کا لفظی ترجمہ یوں کرسکتا ہے: Thieves are kin to thieves. یا One thief recognises another.
لیکن اس کا سب سے زیادہ فطری اور لسانی اعتبار سے بہترترجمہ یوں ہوگا: Birds of a feather flock together. کہ اس کے لیے مطلوبہ زبان میں محاورہ پہلے سے موجود ہے۔ ان مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کامیاب ترجمہ صرف لغوی معنی کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ زبان کے محاوراتی حسن، تہذیبی فضا اور فطری اندازِ بیان کو دوسری زبان میں مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کا فن بھی ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو، فارسی اور عربی زبانوں میں جذبات، احترام اور تہذیبی شائستگی کے اظہار میں جو لطافت اور نرمی پائی جاتی ہے، اسے انگریزی یا دوسری زبانوں میں پوری طرح منتقل کرنا اکثر دشوار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو میں’تشریف رکھیے ‘،’مہربانی فرمائیے‘ یا’قبلہ‘ جیسے الفاظ صرف معنی ہی ادا نہیں کرتے بلکہ احترام، محبت اور تہذیبی رکھ رکھاؤ کی ایک خاص فضا بھی پیدا کرتے ہیں۔ اگر’تشریف رکھیے ‘ کا لفظی انگریزی ترجمہ Please place your honour کیا جائے تو جملہ مضحکہ خیز محسوس ہوگا، جبکہ اس کا قریب ترین مفہوم Please have a seat. ہوتاہے، مگر اس میں وہ تہذیبی لطافت موجود نہیں رہتی جو اردو میں پائی جاتی ہے۔ فارسی میں بھی جذباتی اور شعری اظہار کی ایک مخصوص نزاکت موجود ہے۔ مثلاً فارسی ترکیب’جانِ من‘ صرف’میری جان‘ نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور قلبی وابستگی کا ایک لطیف اظہار ہے۔ انگریزی میںMy dear یا My soul اس کے قریب تو ہیں، لیکن فارسی لفظ کی تہذیبی اور جذباتی گہرائی کی ترسیل پورے طور پر نہیں ہو پاتی۔ عربی زبان میں احترام اور مذہبی و روحانی کیفیت کے اظہار کے کئی ایسے انداز ہیں جن کا دوسری زبانوں میں صحیح متبادل مشکل سے ملتا ہے۔ مثال کے طور پر’جزاک اللہ خیراً‘ کا لفظی ترجمہ’اللہ تمھیں بہترین بدلہ دے‘ ہو سکتا ہے، لیکن عربی میں اس جملے کے اندر دعا، خلوص اور روحانی اپنائیت کی جو کیفیت ہے، وہ سادہ ترجمے میں کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح’السلام علیکم‘ صرف’تم پر سلامتی ہو‘ نہیں بلکہ دعا، خیر خواہی اور تہذیبی تعلق کا اظہار بھی ہے۔ دوسری طرف انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے بعض الفاظ اور تصورات بھی اردو میں اپنی پوری معنوی وسعت کے ساتھ منتقل نہیں ہو پاتے۔ مثال کے طور پر انگریزی لفظ Privacy کا اردو متبادل عموماً’تنہائی‘ یا’نجی زندگی‘ کیا جاتا ہے، لیکن انگریزی میں اس لفظ کے اندر شخصی آزادی، ذاتی حدود اور سماجی حق کا جو مفہوم شامل ہے، وہ مکمل طور پر اردو میں داخل نہیں ہو پاتا۔ اسی طرح فرانسیسی لفظRendezvous محض’ملاقات‘ نہیں بلکہ ایک خاص رومانی یا طے شدہ ملاقات کا تاثر بھی رکھتا ہے۔ اردو میں’ملاقات‘ یا’وعدۂ ملاقات‘ اس کے قریب تو ہیں، مگر اصل لفظ کی تہذیبی فضا اور احساس مکمل طور پر ادا نہیں ہو پاتا۔ فرانسیسی زبان کا ایک اور مشہور لفظ Déjà vu ہے، جس سے مراد وہ عجیب احساس ہے کہ کوئی منظر یا واقعہ پہلے بھی دیکھا یا محسوس کیا جا چکا ہے۔ اردو میں اس کے لیے کوئی ایک جامع لفظ موجود نہیں، اس لیے مترجم کو پورا مفہوم وضاحت کے ساتھ بیان کرنا پڑتا ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، تہذیب، جذبات، تاریخ اور طرزِ احساس کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مترجم کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ مطلوبہ زبان میں ایسے الفاظ اور اسلوب کا انتخاب کرے جو مفہوم ادا کرنے کے ساتھ ساتھ، اصل متن کی فضا، تاثیر اور تہذیبی روح کو بھی ممکن حد تک برقرار رکھ سکیں۔
(ب) تہذیبی اور ثقافتی تقاضے
تہذیبی اور ثقافتی تفریق بھی ترجمہ نگاری کے اہم مسائل ہیں۔ ہر معاشرے کے اپنے رسم و رواج، عقائد، علامتیں، استعارے اور سماجی رویّے ہوتے ہیں جو دوسری تہذیب کے لوگوں کے لیے اجنبی محسوس ہو سکتے ہیں۔چنانچہ مترجم کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ صرف الفاظ کا ترجمہ نہ کرے بلکہ اس تہذیبی پس منظر کو بھی مدنظر رکھے جس میں متن تخلیق ہوا ہے۔مثلاً اردو اور برصغیر کی تہذیب میں’مہندی‘ صرف ایک پودے یا رنگ کا نام نہیں بلکہ شادی بیاہ، خوشی اور تہذیبی روایت کی علامت بھی ہے۔ اگر کسی انگریزی قاری کے لیے صرف Henna لکھ دیا جائے تو وہ اس کے تہذیبی اور جذباتی مفہوم کو پوری طرح نہیں سمجھ پائے گا۔ اس لیے بعض اوقات مترجم کو وضاحت کرنی پڑتی ہے کہ برصغیر میں مہندی شادی کی تقریبات اور خوشی کی ایک اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح اردو میں’چادر‘ کا لفظ کئی مواقع پر صرف کپڑے کے ایک ٹکڑے کے معنی نہیں دیتا، عزت، پردے اور خاندانی وقار کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ اگر اسے صرفsheet یا cloth ترجمہ کیا جائے تو اصل تہذیبی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔دیہی زندگی سے متعلق مثالیں بھی اس فرق کو واضح کرتی ہیں۔ پنجابی یا اردو افسانوں میں ’چوپال‘ ایک خاص سماجی فضا کی علامت ہے جہاں گاؤں کے لوگ بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں۔ اگر اس کا لفظی ترجمہ صرف Village meeting place کیا جائے تو اس لفظ کے ساتھ جڑی ثقافتی فضا اور دیہی زندگی کی گرم جوشی مکمل طور پر سموئی نہیں جاسکتی۔ اسی طرح ہندی لفظ ’پنچایت‘ صرف ایک انتظامی ادارے یا مقامی کونسل کا نام نہیں،ہندوستانی دیہی تہذیب، سماجی رویات اور اجتماعی زندگی کی ایک علامت ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ محض لغوی سطح پر کرنا آسان نہیں۔اس کا ترجمہ اگر Village Council کیا جائے تو انگریزی کے قاری شاید نہ سمجھ سکیں۔ یہاں’ پنچایت‘ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ پورے گاؤں کی سماجی قوت اور روایتی اختیار کی نمائندہ ہے، جس کا فیصلہ فرد کی سماجی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتاہے۔ اس لیے ـ’ پنچایت‘ کا لفظ جوں کا توں رکھ کر ساتھ ہی اس کی مختصر وضاحت کر دیاجائے تو یہ طریقہ زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے،ـ مثلاً:
The dispute was brought before the village council.
کی جگہ The dispute was brought before Panchayat, the traditional village council لکھیںتو نہ صرف مفہوم کی ترسیل ہوگی بلکہ لفظ کے ساتھ جڑی تہذیبی اور ثقافتی معنویت بھی ادا ہو جائے گی۔
مذہبی اور تہذیبی روایات کے ترجمے میں بھی اکثریہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر عربی اسلامی روایت میں’وضو‘ کا مفہوم صرف ہاتھ منہ دھونا نہیں بلکہ عبادت سے پہلے جسمانی و روحانی پاکیزگی حاصل کرنا ہے۔ اگر اسے صرفWashing before prayer کہا جائے تو اس کی مذہبی اور روحانی اہمیت پوری طرح ادا نہیں ہو پاتی۔ ویسے بعض لوگ اسے Ablutions بھی لکھ دیتے ہیں۔لیکن Ablutions کے معنی جسم کے اعضا کو دھو کر طہارت حاصل کرنے سے ہے اور اس طرح اس میں غسل کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مترجم’درگا پوجا‘ کا ترجمہ صرفWorship of Goddess Durga کرے تو بنیادی مفہوم توادا ہو جائے گا، لیکن اس تہوار کے ساتھ وابستہ جذباتی وابستگی، تہذیبی فضا اور اجتماعی مسرت پوری طرح سامنے نہیں آسکے گی۔ اس لیے بعض اوقات مترجم کو وضاحتی انداز اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ قاری سمجھ سکے کہ یہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ بنگالی سماج کی تہذیبی شناخت اور ثقافتی زندگی کا اہم جزوہے۔اسی طرح’پوئیلا بویشاکھ‘ (Poela Boishakh) بھی صرف نئے سال کا پہلادن نہیں، بنگالی ثقافت، موسیقی، میلوں، روایتی لباس اور اجتماعی خوشی کی علامت بھی ہے۔ اگر اسے صرفBengali New Year کہا جائے تو اس کے تہذیبی رنگ اور جذباتی وابستگی کی پوری طرح سے ترسیل نہیں ہوتی۔ نیز بنگلہ زبان میں ’اڈّا‘ (Adda) بھی ایک اہم ثقافتی لفظ ہے، جس سے مراد دوستوں یا اہلِ علم کی پرلطف، غیر رسمی نشست ہے۔ اگر اسے Conversation یا Gathering کہا جائے تو اس کی سماجی اور ثقافتی روح گم ہو جائے گی۔ مزید برآں، بنگلہ زبان میں روزمرہ گفتگو کے بعض انداز بھی تہذیبی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مثلاً رخصت ہوتے وقت’آمی آشی‘ کہا جاتا ہے، جس کا لفظی معنی’میں آتا ہوں‘ ہوتا ہے حالانکہ بولنے والا جا رہا ہوتا ہے۔ دراصل اس طرزِ اظہار میں دوبارہ آنے کی امید، تعلق کی گرم جوشی اور اپنائیت کا احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر اسے صرف I am coming. ترجمہ کیا جائے تو موقع و محل کے اعتبار سے انگریزی قاری کے لیے مفہوم عجیب محسوس ہوگا، جبکہ اس کا اصل مفہوم’میں چلتا ہوں، پھر آؤں گا‘ کے قریب ہوتاہے۔ اسی طرح بنگلہ تہذیب میں بیٹی کوپیار سے ’ماں‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ یہ لفظ حقیقی معنوں میںماں کے لیے نہیں بلکہ شفقت، محبت اور جذباتی قربت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر کوئی مترجم اسے Mother ترجمہ کر دے تو اصل تہذیبی کیفیت ختم ہو جائے گی۔ یہاں مترجم کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زبان کے بعض الفاظ اپنے لغوی معنی سے زیادہ جذباتی اور تہذیبی مفہوم رکھتے ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مترجم کو صرف زبان نہیں بلکہ دونوں تہذیبوں کے مزاج، رسوم، علامتوں اور ثقافتی پس منظر کا بھی گہرا شعور ہونا چاہیے۔ ورنہ ترجمہ الفاظ کی ترسیل توکر دے گا،مگر اصل متن کی روح، فضا اور تہذیبی تاثیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔
(ج) اسلوب کی منتقلی کا تقاضہ
اسلوب کی منتقلی ترجمہ نگاری کے سب سے نازک اور مشکل مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ ہر ادیب کا اپنا ایک منفرد اندازِ بیان، لفظیات، لہجہ اور فکری آہنگ ہوتا ہے۔ ادب میں صرف خیالات اہم نہیں ہوتے، ان خیالات کو پیش کرنے کا انداز بھی غیر معمولی اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔ شاعری، افسانے، ناول اور ڈرامے میں الفاظ کے ساتھ جذبات، موسیقیت، علامتیں، استعارات اور فنی لطافتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان تمام خصوصیات کو دوسری زبان میں اسی حسن اور تاثیر کے ساتھ سمونا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ترجمہ مفہوم تو ادا کر دیتا ہے، لیکن اصل تحریر کی خوبصورتی، جذباتی کیفیت اور اسلوبیاتی اثر کم یاگم ہو جاتا ہے۔ مثلاً مرزا غالب کا یہ مشہور شعر دیکھیں ؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اگر اس شعر کاانگریزی لفظی ترجمہ یوں کیا جائے ؎
Thousands of desires, each worth dying for;
Many of my wishes were fulfilled, yet they were too few.
تو مفہوم کاتوکسی حد تک اظہار ہو جاتا ہے، لیکن شعر کی موسیقیت، روانی، جذباتی شدت اور شعری حسن پوری طرح باقی نہیں رہتا۔ اردو میں’دم نکلے‘ اور’کم نکلے‘ کی صوتی ہم آہنگی اور جذباتی تاثیر انگریزی میں قائم نہیں رہ پاتی۔
اسی طرح P. B. Shelleyکی نظم Ode to the West Wind کایہ مشہور مصرع ملاحظہ فرمائیں :
“If Winter comes, can Spring be far behind?”
اس کا لفظی ترجمہ یوں ہوسکتا ہے ؎
اگر سردی آگئی ہے تو کیا بہار دور ہو سکتی ہے؟
یہاں مفہوم تو درست ہے،لیکن شیلی کے مصرعے میں امید،ولولہ اور خطیبانہ آہنگ موجود ہے۔ اس کی تاثیر برقرار رکھنے کے لیے مترجم یوں کہہ سکتا ہے:
جب خزاں آپہنچی ہے تو بہار کی آمد اب بھلا کیسے دور رہ سکتی ہے؟
یہ ترجمہ اصل جذبے کے زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔
اس ضمن میں Robert Browningکی نظم The Last Ride Together کا یہ مصرع بھی دیکھیں:
“Who knows but the world may end tonight?”
اس کالفظی ترجمہ یوں ہوسکتا ہے:
’’کون جانتا ہے کہ شاید دنیا آج رات ختم ہو جائے؟‘‘
اگرچہ یہاں مفہوم واضح ہے،مگر براؤننگ کے لہجے میں جو بے ساختگی، فلسفیانہ انداز اور ڈرامائی کیفیت ہے، وہ کم ہوجاتی ہے۔اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے:
’’کیاخبر، شاید آج کی رات اس دنیا کی آخری رات ہو!‘‘
یہاں اصل جملے کی ڈرامائی تاثیربھی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔
اسی طرح William Shakespeare کے ڈرامے Hamlet کا مشہور جملہ:
“To be, or not to be, that is the question.”
اگر اردو میں ’ہونا (جینا)یا نہ ہونا(مرنا)، یہی سوال ہے‘ ترجمہ کیا جائے تو بنیادی مفہوم کی تو ترسیل ہو جاتی ہے، مگر اصل انگریزی جملے کی فلسفیانہ گہرائی، صوتی آہنگ اور ڈرامائی کیفیت مکمل طور پر برقرار نہیں رہتی۔
افسانے اور ناول میں بھی اسلوب کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پرسعادت حسن منٹو کے افسانوں کا اسلوب سادہ، تیز اور بے حد اثر انگیز ہے۔ ان کے جملوں میں جو تلخی، طنز اور نفسیاتی شدت پائی جاتی ہے، اسے دوسری زبان میں ارسال کرنا آسان نہیں۔ اگر’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے بعض جملوں کا صرف لفظی ترجمہ کیا جائے تو کہانی کا مفہوم تو پہنچ جاتا ہے، لیکن تقسیمِ ہند کی کرب ناک فضا اور کرداروں کی ذہنی بے چینی کی وہ شدت کم ہو جاتی ہے جو اصل اردو متن میں محسوس ہوتی ہے۔اسی طرح پریم چند کے ناول ’گئودان‘ میں دیہی ہندوستان کی تہذیب، سماجی رشتوں، معاشی استحصال اور انسانی جذبات کی جو فضا ملتی ہے، اسے دوسری زبان میں پوری تاثیر کے ساتھ منتقل کرنا آسان نہیں۔ پریم چند کی زبان بظاہر سادہ ہے، لیکن اس سادگی کے اندر دیہی زندگی کی مٹی کی خوشبو، مقامی محاورات، معاشرتی رویّے اور کرداروں کی نفسیاتی کیفیت گہرائی کے ساتھ شامل ہوتی ہے۔ مترجم کے لیے صرف کہانی کا مفہوم منتقل کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پورے تہذیبی اور جذباتی ماحول کو بھی زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً’گئودان‘ میں ’ہوری‘ کے مکالموں میں دیہی لہجہ، عاجزی اور غربت کی جھلک نمایاں ہے۔ جب وہ اپنی زندگی کے مسائل بیان کرتا ہے تو اس کی زبان میں ایک مخصوص دیہی سادگی اور درد نمایاںہوتا ہے۔ اگر ان جملوں کا صرف لفظی انگریزی ترجمہ کر دیا جائے تو مفہوم کی ترسیل تو ہو جاتی ہے، لیکن دیہی ہندوستان کی وہ فضا اور کردار کی نفسیاتی سچائی کم ہو جاتی ہے۔اسی طرح ناول میں’گائے‘ صرف ایک جانور نہیں بلکہ ہندوستانی دیہی تہذیب، مذہبی عقیدت اور کسان کی معاشی زندگی کی علامت بن جاتی ہے۔ لفظ’گئودان‘ میں خود ایک تہذیبی اور مذہبی پس منظرشامل ہے۔ اگر اسے صرفDonation Cow ترجمہ کیا جائے تو انگریزی قاری تک وہ تہذیبی اور روحانی مفہوم پوری طرح منتقل نہیں ہو پاتا جو برصغیر کے قاری کے ذہن میں فوراً ابھرتا ہے۔
پریم چند نے دیہی زندگی کے محاورات اور روزمرہ زبان کو بھی بڑی فن کاری سے استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر کرداروں کے مکالموں میں عزت، غربت، سماجی دباؤ اور خاندانی رشتوں کی جو جھلک ملتی ہے، وہ صرف لغوی ترجمے سے برقرار نہیں رہتی۔ مترجم کو ان الفاظ کے ساتھ جڑی تہذیبی فضا اور جذباتی کیفیت کو بھی مطلوبہ زبان میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح’گئودان‘ میں جاگیردارانہ نظام، طبقاتی تفاوت اور کسانوں کی محرومیوں کا جو ماحول پیش کیا گیا ہے، وہ ہندوستانی سماج کے مخصوص تاریخی اور تہذیبی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔ اگر مترجم اس پس منظر کو سمجھے بغیر صرف واقعات کا ترجمہ کرے تو ناول کی اصل معنویت اور اثر کم ہو جاتا ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ادبی ترجمے میں صرف الفاظ یا کہانی منتقل کرنا کافی نہیں، مصنف کے اسلوب، تہذیبی شعور، جذباتی فضا اور جمالیاتی کیفیت کو بھی دوسری زبان میں زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور یہی کام مترجم کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
شاعری میں وزن، قافیہ اور آہنگ کی منتقلی تو اور بھی مشکل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کایہ مصرع ؎
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
اگر انگریزی میں یوں ترجمہ کیا جائے:
There are worlds beyond the stars.
تو مفہوم تو موجود رہتاہے، لیکن اصل شعر کی ولولہ انگیزی، موسیقیت اور فکری جوش کم محسوس ہوتا ہے۔لہٰذا ترجمہ صرف معنی ارسال کرنے کا عمل نہیں یہ تو اسلوب، جذبات، فضا اور فنی حسن کو بھی دوسری زبان میں زندہ رکھنے کا فن ہے۔ یہی سبب ہے کہ اسلوب کی کامیاب منتقلی ترجمہ نگاری کا سب سے مشکل اور نازک مرحلہ بن جاتاہے۔
(د) توازن کا تقاضہ
ایک کامیاب مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ لفظی صحت اور معنوی تاثیر کے درمیان ممکنہ تناسب بحال رکھے۔ یعنی آزادی (Freedom) اور وفادراری (Fidelity) کے درمیان توازن برتے۔ یہاں Freedom سے مراد مترجم کی آزادی سے ہے یعنی وہ چاہے تو اپنی آزادی کا استعمال کر کے ترجمے کے عمل سے گزرسکتا ہے۔ اس طرح مترجم اصل متن کے لفظوں کا پابند ہونے کے بجائے مفہوم، تاثر اور روانی کو اہمیت دیتا۔ مگر Fidelity اسے ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ اسے اصل متن سے وفادار رہنے کا پاٹھ پڑھاتی ہے۔ گویا اسے مصنف کے اصل خیال، اسلوب اور مفہوم کو حتیٰ الامکان جوں کا توں برقرار رکھنا پڑتاہے۔ ترجمہ کے فن میں یہ دونوں دو مخالف قطبین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر مترجم بہت زیادہ Freedom اختیار کرے تو ترجمہ اصل متن سے دور ہو سکتا ہے، اور اگر حد سے زیادہ Fidelity پر زور دے تو ترجمہ خشک، غیر فطری اور بوجھل بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک کامیاب ترجمہ وہی سمجھا جاتا ہے جس میں آزادی اور وفاداری کے درمیان مناسب توازن قائم رکھا جائے۔ مثلاً Animal Farm میں George Orwell کا ایک جملہ ہے:
“All animals are equal, but some animals are more equal than others.”
اگر اس جملے کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو کچھ یوں ہوگا:
’’تمام جانور برابر ہیں، لیکن کچھ جانور دوسروں سے زیادہ برابر ہیں۔‘‘
یہ ترجمہ بظاہر عجیب سا لگتا ہے، کیونکہ’زیادہ برابر‘ منطقی طور پر درست ترکیب نہیں۔ لیکن اگر مترجم زبان کی فطری روانی کو ملحوظِ خاطر رکھ کر بہت زیادہ Freedom اختیار کرے اور اس کا یوں ترجمہ کرے:
’’سب جانور برابر ہیں، مگر کچھ جانور کچھ زیادہ ہی طاقتور ہیں۔‘‘
تو اصل جملے کا طنزیہ اور سیاسی مفہوم کمزور ہو جاتا ہے۔اس لیے ایک کامیاب مترجم وہ ہوگا جو لفظی وفاداری اور معنوی تاثیر کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے، اس کا ترجمہ یوں کرے تو یہ ایک بہتر ترجمہ ہو سکتا ہے:
’’تمام جانور برابر ہیں، لیکن کچھ جانور دوسروں سے زیادہ برابر بنا دیے گئے ہیں۔‘‘
یا یوں :
’’برابری کا دعویٰ سب کے لیے ہے، مگر مراعات صرف چند جانوروں کو حاصل ہیں۔‘‘
یہاں اصل طنز بھی محفوظ ہے اور اردو میں مفہوم بھی زیادہ واضح ہو گیا ہے۔اسی طرح Pride and Prejudice میں Jane Austen کا یہ جملہ ملاحظہ کریں:
“It is a truth universally acknowledged, that a single man in possession of a good fortune, must be in want of a wife.”
یہ Pride and Prejudiceکا ابتدائی جملہ ہے، جس میں Jane Austen نے ہلکے طنزیہ انداز میں اْس معاشرتی سوچ کو واضح کیا ہے کہ دولت مند کنوارے کو شادی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔اس کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو عبارت خشک محسوس ہوگی:
’’یہ ایک عالم گیر طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اچھی قسمت رکھنے والا واحد مرد لازماً بیوی چاہتا ہے۔‘‘
اس جملے سے مفہوم تو اداہوجاتا ہے، مگر ناول کے طنزیہ اور شگفتہ طرزِ بیان کو پوری طرح آشکار نہیں کرتا۔یہاںاگر مترجم اپنی آزادی کا استعمال کرے تو وہ اس کاترجمہ یوں کرسکتا ہے:
’’یہ بات سبھی مانتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی دولت مند ہو اور کنوارا بھی، تو اسے بیوی کی چاہت ضرور ہوگی۔‘‘
اور اگر آزادی اور وفاداری کے درمیان توازن برتنا چاہے تو اس کا ترجمہ وہ یوں کر سکتا ہے:
’’یہ بات گویا مسلم ہے کہ امیرزادہ اگراکیلا ہو، تو اسے بیوی کی تلاش ضرور ہوتی ہے۔‘‘
یہ ترجمہ اصل اسلوب، طنز اور روانی کے ساتھ متن سے زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔اسی طرحThe Old Man and the Sea میں Ernest Hemingway کا یہ جملہ دیکھیں :
But man is not made for defeat.
اس کا لفظی ترجمہ:’انسان شکست کے لیے نہیں بنایا گیا۔‘ یہ ترجمہ وفادار ہے اور مؤثر بھی۔ لیکن اگر مترجم بہت زیادہ آزادی لیتے ہوئے لکھ دے:’انسان کبھی ہار نہیں مانتا۔‘ تو مفہوم قریب ہونے کے باوجود اصل جملے کی فلسفیانہ گہرائی کم ہو جاتی ہے۔ گویا ترجمہ نگاری میں کامیابی صرف لفظوں کی منتقلی میں نہیں بلکہ اس توازن میں ہے جہاں مترجم اصل متن کے مفہوم، اسلوب، جذبات اور فضا کو برقرار رکھتے ہوئے مطلوبہ زبان میں فطری اور مؤثر اظہار پیدا کرے۔ اسی طرح آزاد ترجمے کی زیادتی بھی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ مرزا غالب کا یہ مصرع ملاحظہ کریں ؎
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
اگر کوئی مترجم اس کا ترجمہ صرف: Humans naturally feel pain. کر دے تو بنیادی خیال تو موجود ہے، مگر اصل شعر کی جذباتی شدت، شعری حسن اور فلسفیانہ کیفیت فوت ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر مترجم بہت زیادہ لفظی انداز اختیار کرے تو ترجمہ یوں ہوسکتا ہے ؎
It is only a heart, not stone and brick;
Why should it not fill with sorrow?
آزادی اور وفاداری کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے ؎
It is but a heart, not brick or stone;
Why should it not overflow with pain?
یہ ترجمہ پہلے کے مقابلے شعری تاثیر اور جذباتی کیفیت کو زیادہ نمایاں کرتا ہے اور متن کے قریب بھی ہے۔ اسی طرح پریم چند ’گئودان‘ کے دیہی مکالموں کا لفظ بہ لفظ ترجمہ انگریزی میں اکثر مصنوعی محسوس ہوتا ہے، جبکہ بہت زیادہ آزاد ترجمہ دیہی ہندوستان کی اصل فضا اور تہذیبی رنگ کو ضائع کر دیتا ہے۔ مترجم کو اس مقام پر ایسی زبان اختیار کرنا پڑتی ہے جو مفہوم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اصل ماحول اور کرداروں کی نفسیات کو بھی ملحوظ رکھے۔چنانچہ ترجمہ نگاری میں اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب مترجم لفظی صحت اور فکری آزادی کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرے۔ یہی توازن ترجمہ نگاری کا سب سے نازک، تخلیقی اور مشکل مرحلہ ہے۔
(ح) سائنسی اورتکنیکی اصطلاحات کے تقاضے :
سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کا ترجمہ ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر علوم میں روز بروز نئی نئی اصطلاحات سامنے آ رہی ہیں جن کے ہر زبان میں فوری اور جامع متبادل موجود نہیں ہوتے۔ اردو میں سائنسی، تکنیکی، طبی اور دیگر جدید علوم کی اصطلاحات کے تراجم کرتے وقت مترجم کو اکثر اس دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پرSoftware،Hardware،Harddisk، Database،Website، Algorithm اور Network جیسی اصطلاحات کا لفظی ترجمہ غیر فطری محسوس ہوتا ہے، اس لیے مترجم اکثر اصل الفاظ ہی استعمال کرتا ہے۔ بعض اوقات لفظی ترجمہ مفہوم کو بگاڑ دیتا ہے۔ مثلاً Mouse کمپیوٹر کی ایک ڈیوائس ہے۔ اگر اس کا ترجمہ ’چوہا‘ کیا جائے تو اصل تکنیکی مفہوم فوت ہو جائے گا۔ اسی طرح Computing Cloud کا لفظی ترجمہ ’بادلوں میں کمپیوٹنگ‘ مضحکہ خیز محسوس ہوگا، جبکہ اس سے مراد انٹرنیٹ پر ڈیٹا اسٹوریج اور کمپیوٹنگ سروسز ہیں۔ ابتدا میں Computer کے لیے اردو مترادفات’حاسب‘یا’کمپیوٹر‘ دونوں استعمال ہوئے۔’حاسب‘ عربی الاصل اور علمی اعتبار سے درست تھا، لیکن عام لوگوں میں ’کمپیوٹر‘ زیادہ رائج ہو گیا، کہ یہ زیادہ آسان اور مانوس محسوس ہوا۔ اسی طرحInternet کے لیے’بین الشبکی نظام‘ جیسی اصطلاحات وضع کی گئیں، مگر عام استعمال میں’انٹرنیٹ‘ ہی مقبول رہا۔ اسی طرح طبی اصطلاحات(Medical Terminologies) کا ترجمہ بھی ترجمہ نگاری کے اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے،کہ طب کی زبان نہایت تکنیکی، سائنسی اور مخصوص مفاہیم کی حامل ہوتی ہے۔ اکثر طبی اصطلاحات لاطینی (Latin) اور یونانی (Greek) زبانوں سے ماخوذ ہوتی ہیں، جن کا دوسری زبانوں میں عین مطابق ترجمہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر مترجم ان اصطلاحات کا غلط یا سطحی ترجمہ کرے تو مفہوم میں تبدیلی آ سکتی ہے، جو بعض اوقات خطرناک نتائج کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ مثلاً Attack Heart کا لفظی ترجمہ ’دل کا حملہ‘ہوتا ہے، لیکن طبّی اعتبار سے اس کا درست مفہوم ’ حرکتِ قلب بند ہونا‘ یا’قلبی دورہ‘ ہے۔ اسی طرح Pressure Blood کو صرف’خون کا دباؤ‘ کہنا کافی نہیں، کیونکہ طبی سیاق میں اس سے مراد شریانوں میں خون کے دباؤ کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔ بعض اصطلاحات ایسی ہوتی ہیں جن کا ترجمہ مناسب نہیں ہوتا، اس لیے مترجم اصل لفظ ہی استعمال کردیتا ہے، جیسے Diabetes،Cancer،Virus،MRI یا Operation Theatre ۔ اگر ان کا اردو ترجمہ کر نے کی کوشش کی جائے تووہ عام قاری کی سمجھ سے بالاتر ہوگا اور جمالیاتی اعتبار سے نامناسب بھی۔ تہذیبی اور لسانی فرق بھی طبی ترجمے میں مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دیہی یا کم تعلیم یافتہ معاشروں میںDepression کا طبی مفہوم سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ لوگ اسے صرف ’اداسی‘ سمجھتے ہیں، جب کہ طبّی اصطلاح میں یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔اسی طرحDNA کے لیے’حامض نووی منزوع الاکسیجن‘ ایک علمی اصطلاح تو ہے، مگر عام قاری کے لیے اسے سمجھنا دشوار ہے، اس لیے اکثر مترجم اصل انگریزی اصطلاح ہی استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح Virus کا ترجمہ’جرثومہ‘ یا’وائرس‘ دونوں صورتوں میں کیا جاتا ہے، لیکن ہر ترجمہ مکمل مفہوم ادا نہیں کرتا، کیونکہ سائنسی اعتبار سے’جرثومہ‘ اور’وائرس‘ الگ چیزیں ہیں۔اسی طرح معاشیات اور فلسفے کی بعض اصطلاحات بھی ترجمے میں دشواری پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر Globalization کے لیے ’عالمگیریت‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، لیکن اس لفظ میں وہ تمام معاشی، ثقافتی اور سیاسی پہلو پوری طرح واضح نہیں ہوتے جو انگریزی اصطلاح میں شامل ہیں۔ کبھی کبھی مترجم ضرورت سے زیادہ سادہ ترجمہ کر دیتا ہے جس سے علمی وقعت متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر Quantum Physics کو صرف’ذیلی جوہری طبیعیات‘ کہہ دیا جائے تو مفہوم محدود ہو جاتا ہے، کیونکہ کوانٹم فزکس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ دوسری طرف اگر اصطلاحات بہت زیادہ عربی یا فارسی طرز کی بنا دی جائیں تو عبارت بھاری اور غیر مانوس محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان مثالوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کے تراجم میں مترجم کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ علمی صحت، تکنیکی دقت اور عام فہم انداز کے درمیان تناسب و توازن برقرار رکھے تاکہ ترجمہ نہ صرف درست ہو بلکہ قاری کے لیے قابلِ فہم اور مؤثر بھی رہے۔
و مشینی ترجمے کے تقاضے
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹرائزڈ نظام نے ترجمے کے عمل کو تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ مختلف سافٹ ویئر اور آن لائن ذرائع فوری ترجمہ فراہم کرتے ہیں، لیکن ان میں انسانی احساس، ادبی ذوق اور تہذیبی شعور کی کمی ہوتی ہے۔ مشینی ترجمے اکثر لفظی ہوتے ہیں اور محاورات، جذبات یا ثقافتی نزاکتوں کو صحیح انداز میں آشکار نہیں کر پاتے۔ خاص طور پر ادبی تحریروں میں مشینی ترجمہ بے جان اور غیر فطری محسوس ہوتا ہے، کیونکہ کمپیوٹر الفاظ تو منتقل کر سکتا ہے مگر جذبات، طنز، رمز اور جمالیاتی کیفیت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔ اسی لیے انسانی مترجم کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ نگاری ایک نہایت وسیع اور مشکل فن ہے جس میں زبان، ثقافت، اسلوب اور فکر کے کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ تاہم ایک باصلاحیت مترجم اپنی علمی بصیرت، ادبی شعور اور فنی مہارت کے ذریعہ ان مشکلات پر قابو پا کر اصل تحریر کے جسم میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔ مثلاً انگریزی جملہ:He kicked the bucket. کا مشینی ترجمہ یوں کرے،’اس نے بالٹی کو لات ماری‘ تو مفہوم یکسر غلط ہو جائے گا، کہ انگریزی میں یہ محاورہ’مر جانا‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا درست ترجمہ ’وہ مرگیا۔‘یا ’وہ انتقال کرگیا۔‘ وغیرہ ہوگا۔ بہرکیف انسانی مترجم اس کے مفہوم کو فوراً سمجھ لیتا ہے، جبکہ مشینی نظام اکثر لفظی ترجمے تک محدود رہتا ہے۔ اسی طرح اردو محاورہ:’آنکھوں کا تارا‘ کواگر کمپیوٹرStars of the eyes ترجمہ کرے تو جملہ غیر فطری محسوس ہوگا، کیونکہ اس کا اصل مفہوم’بہت زیادہ عزیز‘ ہوتا ہے۔ اور اس کا مناسب ترجمہApple of one’s eye. ہوگا، جو محاوراتی طور پر بھی درست ہے۔نیز ادب پاروں کے مشینی تراجم مزید کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کا شعر ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Rise yourself so high that before every destiny,
God Himself asks you, “Tell me what is your will?
Google کے اس ترجمے سے الفاظ تو منتقل ہو گئے ہیں، لیکن شعر کی روحانی کیفیت، ولولہ انگیزی اور فکری گہرائی گم ہو گئی ہے۔ انسانی مترجم شعر کے جذبے اور فلسفیانہ تاثر کی زیادہ مؤثر انداز میں ترسیل کر سکتا ہے۔وہ اس کا ترجمہ یوں کرسکتا ہے ؎
Raise your selfhood to such heights
That before every destiny is written,
God Himself may ask you:
“Tell Me, what is it that you desire?”
اسی طرح طنزیہ جملوں میں بھی مشینی ترجمے اکثر ناکام رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی میں اگر کوئی کہے: Great! Another traffic jam. تو یہاںGreat حقیقت میں خوشی کے لیے نہیں بلکہ طنزیہ انداز میں بولا گیا ہے۔ مشینی ترجمہ اسے’بہت اچھا! ایک اور ٹریفک جام‘ ترجمہ کر دے گا، جبکہ اصل کیفیت جھنجھلاہٹ اور طنز کی ہے۔
ثقافتی تفریق کے تقاضے بھی مشینی ترجمے پورے نہیں کرتے، الٹے مسئلے کھڑے کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اردو لفظ’عید‘ یا ’دیوالی‘ صرف تہوار کے نام نہیں بلکہ خوشی، مذہبی وابستگی، خاندانی میل جول اور تہذیبی روایت کی علامت بھی ہیں۔ اگر اسے صرفFestival یا Holiday ترجمہ کیا جائے تو اس کی مکمل تہذیبی معنویت منتقل نہیں ہو پائے گی۔ اسی طرح جاپانی زبان کا لفظ Samurai یا عربی لفظ’حلال‘ کو صرف لغوی انداز میں سمجھنا کافی نہیں کہ ان الفاظ کے ساتھ مخصوص تاریخی، مذہبی اور تہذیبی تصورات جڑے ہوتے ہیں۔ انسانی مترجم ان پہلوؤں کو مدنظر رکھ سکتا ہے، جبکہ مشینی ترجمہ اکثر ان کی گہرائیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مشینی ترجمہ فوری اور سہل ضرور ہے، لیکن ان میں زبان کے جذباتی، ادبی اور تہذیبی پہلوؤں کا مکمل طور پر احاطہ کرنے کی صلاحیت فی الحال تو نہیں ہے۔یہ صلاحیت تو بس انسانی مترجم ہی کے پاس موجود ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ نگاری محض لفظوں کی تبدیلی کا عمل نہیں،یہ تو ایک ہمہ جہت تخلیقی، فکری اور تہذیبی فن ہے۔ مترجم کو بیک وقت دو زبانوں، دو ثقافتوں اور دو فکری نظاموں کے درمیان رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترجمہ نگاری میں لسانی فرق، تہذیبی فاصلے، اسلوب کی منتقلی، آزادی اور وفاداری کے درمیان توازن، سائنسی و فنی اصطلاحات کی دقت اور مشینی ترجمے کی محدودیت جیسے کئی پیچیدہ مسائل سامنے آتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر مسئلہ اپنے ساتھ ایک نیا تقاضہ لاتا ہے، جسے مترجم کو اپنی بصیرت اوربصارت کے بوتے پورا کرنا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب مترجم وہی ہوتا ہے جو محض لغوی معنی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اصل متن کی روح، جذباتی کیفیت، فکری فضا اور ادبی حسن کو بھی دوسری زبان میں زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دراصل معیاری ترجمہ وہی ہے جو قاری کو یہ احساس دلائے کہ متن گویا اسی کی زبان میں تخلیق ہوا ہے، مگر اس کے باوجود اصل مصنف کے فکر و اسلوب سے اپنی وابستگی برقرار رکھے۔ موجودہ دور میں، جب مختلف تہذیبیں بڑی تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، ترجمہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہی وہ فن ہے جو مختلف قوموں کے علوم، ادبیات اور تہذیبی تجربات کو انسان کی مشترکہ میراث میں تبدیل کرتا ہے۔ لہٰذا ترجمہ ایک لسانی عمل ہی نہیں، تہذیبوں کے درمیان مکالمے، فکری تبادلے اور انسانی ہم آہنگی کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ اس اعتبار سے اس کے تقاضوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Shabbir Ahmed
11B/1, K. B. Bose Lane
Kolkata-700033 (West Bengal)
Mob.: 8961491731
shabbir36@gmail.com