اُردو میں نسوانی شاعری کی روایت،مضمون نگار: وجئے کمار

September 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،ستمبر 2026:

نسوانی شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جو عورت کے وجود، اُس کے سماجی جبر، نفسیاتی دباؤ، جسمانی و جذباتی تجربات، صنفی امتیاز اور مردانہ بالا دستی کو موضوع بناتی ہے۔ یہ شاعری صرف ’’عورتوں کی لکھی ہوئی شاعری‘‘ نہیں، بلکہ ایک شعوری ،سیاسی اور سماجی موقف ہے جو عورت کو خاموش مظلوم یا رومانوی شئے کے بجائے خود مختار انسان، مزاحمت کرنے والی آواز اور اپنی کہانی خود لکھنے والی تخلیق کار کے طور پر پیش کرتی ہے۔
نسوانی شاعری میں عورت کی عکاسی کا سبق یہ ہے کہ جب تک وہ خود نہ بولے، تب تک اُس کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔
اُردو شاعری کی تاریخ میں طویل عرصے تک عورت صرف موضوع تھی، شاعرہ نہیں تھی۔ وہ یا تو محبوبہ تھی، یا ماں، یا بہن، یا بیٹی، لیکن اپنی آواز سے محروم تھی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی سے عورت نے نہ صرف قلم اُٹھایا بلکہ اس قلم سے سماج کی دیواروں پر اپنا درد، اپنی بغاوت اور اپنی شناخت لکھنا شروع کی۔ آج اُردو میں نسوانی شاعری ایک مضبوط، زندہ اور مسلسل پھیلتی ہوئی روایت ہے جو نہ صرف ادب بلکہ معاشرت، سیاست، نفسیات اور ثقافت کو بھی بدل رہی ہے۔
اُردو کی نسوانی شاعری کا سفر لطف النسا امتیاز کے دیوان سے شروع ہوا، ماہ لقا چندا کی آواز سے گلیوں میں اُترا، پروین شاکر کی خوشبو سے گھروں میں داخل ہوا، فہمیدہ ریاض اور کشورناہید نے اسے بغاوت بنایا، روپ کنور کماری نے تصوف کی زبان بخشی ترنم ریاض نے کشمیر کی خوبصورت وادیوں سے متعارف کرایا۔ سنیتا رینا نے ہجرت کا کرب، اور اپنے ہی وطن میں اجنبیت کے احساس سے روبرو کرایا۔ شفق فاطمہ شعریٰ نے اکیسویں صدی کی عورت کے مسائل کو بہتر طور پر پیش کیا یہ روایت محض ادب نہیں، ایک مسلسل تحریک ہے آج جب کوئی لڑکی اپنا کلام لکھتی ہے اور شائع کرتی ہے تواُس کو ادبی حلقوں میں جو پزیرائی ملتی ہے وہ اُسی عظیم سلسلے کی نئی کڑی ہے جوتین صدیوں پہلے لطف النسا امتیاز نے شروع کی تھی۔ اگر ہم اُردو شاعرات کی فہرست دیکھیں توایک بڑی تعداد سامنے آتی ہے۔ لطف النساء امتیاز، ماہ لقا ابائی چندا، بیگم مرزا ہادی رسوا،امراؤ بیگم ،بیگم حسرت موہانی ،بیگم لکھنوی، ادا جعفری،پروین شاکر ،فہمیدہ ریاض،کشور ناہید ،زہدہ زیدی ،ترنم ریاض ، شفق فاطمہ شعریٰ، نوشی گیلانی، روپا بھوانی ،سنیتا رینا، بلقیس ظفر الحسن، ادیب، عنبرین عنبر،کنول ،انا دہلوی ، انجلی بنگا، انجم رہبر ،فوزیہ ارباب، شبینہ فرحانقوی، کوثر رسول، روبینا میر ،بشریٰ مسعود، سنتوش شاہ نادان، شمع بھلیسی ،شہناز نبی ،فوزیہ مغل، جیوتی آزاد کھتری، کومل جوئیہ وغیرہ ،جیسے نام اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔
ابتدائی دور
دکنی دور میں چند ریختہ گو خواتین کا ذکر ملتا ہے، لیکن اُن کی شاعری محفوظ نہ ہو سکی۔ البتہ لطف النسا امتیاز اور ماہ لقا بائی چندا کا کلام دستیاب ہے۔ یہ دونوں اولین صاحب دیوان شاعرات ہیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں چند گمنام خواتین غزلیں لکھتی تھیں، مثلاً غالب کی اہلیہ امراؤ بیگم، جو غزلیں لکھتی تھیں مگر کبھی شائع نہ ہوئیں۔ مرزا ہادی رسوا کی بیگم ، جن کی چند غزلیں رسوا ؔنے اپنے رسالے میں چھاپیں۔ لکھنؤ کی تہذیب میں کئی طوائف شاعرات تھیں، لیکن انھیں معاشرے نے شاعرہ تسلیم نہیں کیا۔یہ سب شاعری عشقیہ تھی اور سماجی مسائل سے براہِ راست متاثر نہ تھی۔
دکن، جو اُردو ادب کی جڑوں کا مرکز رہا ہے، میں ابتدائی شاعرات کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ کیونکہ اس دور میں مرد شاعروں کا غلبہ تھا۔ تاہم18ویں صدی کے آخر اور 19ویں صدی کے آغاز میں کئی نمایاں خاتون شاعرات ابھریں جنھوں نے دکنی اُردو شاعری کو تقویت بخشی ۔ یہ شاعرات قطب شاہی، عادل شاہی اور آصفیہ سلطنتوں کے دور سے وابستہ تھیں۔
لطف النساء بیگم امتیاز:1761تعلق اورنگ آباد مہاراشٹر، دکن سے تھا، جو آصفیہ سلطنت کا حصہ تھی۔ وہ شاعر اسد علی خان تمنا کی بیگم تھیں ۔ 1797 میں اُن کا دیوان مرتب ہوا۔اُن کی ادبی اہمیت یہ ہے کہ اُردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ سمجھی جاتی ہیں۔ اُن کا کلام ’’دیوانِ امتیاز‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ جس میں غزلیں، قصائد، مسدسات، رباعیات اور مثنویاں شامل ہیں۔ اُن کی شاعری دکنی لہجے کی مہک لیے ہوئے ہے اور عشقیہ وصوفیانہ موضوعات پر مشتمل ہے۔ نمونہ کلام:
جنوں کے شاہ نے جب سے لیا ہے قلعہ دل کو
یہ ملک عقل ویراں ہو گیا کس کس خرابی سے
پند سے ناصح کے دوزخ کا مجھے کچھ خوف نئیں
مغفرت بے شک ہوئی جس کا علی والی ہوا
عشق کے گھاٹ پر سنبھل کر چڑھ
کیوں کہ اوس کا چڑھاؤ مشکل ہے
ہے دل عشاق تیرے جام و مینا بن خراب
رحم کر اس وقت پر ساقی پیالہ دے شتاب
ماہ لقاء بائی چندا: 1768-1824تعلق حیدر آباد دکن سے تھا ۔میر تقی میر اور مرزا محمد رفیع سودا کی ہمعصر تھیں۔اصل نام چندا بی بی تھا ۔ اُن کا دیوان گلزارِ ماہ ِلقا1324ھ مطابق 1906 میں نظام المطابع ،حیدر آباد، دکن سے شائع ہوا۔ شفقت رضوی نے بھی ’’دیوانِ مہ لقا بائی چندا ‘‘مجلس ترقی ِادب لاہور سے شائع کیا ہے۔ ماہ لقا چندا بائی اُردو کی دوسری صاحب دیوان شاعرہ ہیں۔ وہ مشاعروں میں شرکت کرنے والی پہلی خاتون شاعرہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی غزلیں گل، بلبل، ساقی جیسے روایتی موضوعات پر ہیں، جو دکنی اُردو کی فارسی سے متاثر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ابتدا میں انھیں پہلی صاحبِ دیوا ن شاعرہ سمجھا جاتا تھا، مگر دیوانِ امتیاز کی دریافت کے بعد امتیاز کو ترجیح دی گئی۔وہ سلطنت آصفیہ سے وابستہ ایک مشہور طوائف تھیں۔اپنے کلام کی اصلاح استاد شیر محمد خان ایمان سے لیتی تھیں۔ اُن کی فرمائش پر ہی دکن کی ایک تاریخ ’’تاریخ دِل افراز‘‘ مرتب ہوئی تھی۔ ارسطو جاہ کے حکم سے ان کا دیوان مرتب ہوا تھا ۔ ذیل میں اُن کا نمونہ کلام ملاحظہ ہے:
گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم
کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو
تیر و تلوار سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگہ
سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے
بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
اُردو کے نامور محقق اوردکنیات کے ماہر نصیر الدین ہاشمی نے اپنی کتاب ’’دکن میں اُردو‘‘ میں جن دکنی شاعرات کا ذکر کیا ہے اُن کے نام ہیں۔ ماہ لقاء بائی چندا، شرف النساء بیگم ،صغرا بیگم ہمایو مرزا،رحمت بیگم اسی انیسہ بیگم شیروانی ،صغرا بیگم حیا، رابعہ بیگم رابعہ، سارہ بیگم سارہ ،بشیر النساء بیگم بشیر، منظور فاطمہ بیگم ،قیصری بیگم، احمد النساء بیگم ،نوشابہ خاتون،لطیف النساء بیگم، صفیہ بیگم قمر ،وحیدہ نسیم ،سعیدہ مظہر ، شیل بالاصاحب، مسز برکت رائے نذیر ناہید، رفعت راحت، تہنت النساء بیگم النساء بیگم روحی ،بانو طاہرہ اور نازنین بیگم ناز۔ یہ وہ نام ہیں جن کی وجہ سے اُردو میں نسوانی شاعری کا سلسلہ چل پڑا۔ اِن شاعرات نے اُردو میں ایک نئی روایت شروع کی۔ جہاں عورت کو موضوع بنایا جاتا تھا وہیں اِن شاعرات نے اپنی آواز میں شاعری کی اور حقیقی آواز میں عورت کے جذبات، احساسات اور نفسیات کو عوامی سطح پر پیش کرنے کا کام کیا ۔
ریختی یا بارہ ماسہ کے ذریعے بھی اگرچہ مرد شعرا نے عورت کے جذبات کو پیش کرنے کی کوشش کی مگر اُس کا دائرہ موضوع محدود تھا۔حالی نے ایک نظم ’’بیوہ‘‘ لکھ کر بیوہ عورتوں کے دُکھ درد،احساسات و جذبات اور سماج میں جن مسائل سے وہ دوچار ہوتی ہیں اُس کی بہترین عکاسی کی ۔جب ہم ترقی پسند تحریک کے دور پر نظر دوڑاتے ہیں تو اِس دوران بہت کم خواتین شاعرات کا تذکرہ ملتا ہے ۔ حجاب امداد حسین، صفیہ اختر اور رشیدہ اختروغیرہ اِس دور سے وابستہ ہیں۔ یہ شاعرات بھی زیادہ تررومانی اور ترقی پسند نعروں تک ہی محدود رہیں۔
تقسیم کے بعد
1947 کی تقسیم نے لاکھوں خواتین کو گھر، خاندان اور عزت سے محروم کیا۔ اس درد نے انھیں لکھنے پر مجبور کیا۔ بہت سی شاعرات ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان سے ہندوستان اور کچھ دُنیا کے دیگر ممالک میں بس گئیں مگر جڑوں سے کٹنے کے بعد بھی اُنھوں نے اپنے کلام کے ذریعے یادِماضی کو کسی نہ کسی روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی ۔اِس ضمن میں چند شاعرات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جن میں ادا جعفری،زہرہ نگاہ، داراب بانو وفا،بیگم ممتاز مرزا،حمیرہ رحمان، ساجدہ زیدی، سارہ شگفتہ،عادلہ زار،کشورنا ہید، فہمیدہ یاض، پروین شاکر اور نصرت جبیں جیسے نام اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔
ادا جعفری 1924-2015:جدید شعر و ادب کے معماروں میں ادا جعفری ایک امتیازی مقام کی مالک ہیں۔بعض ناقدین نے اُن کو اُردو شاعری کی خاتون اوّل بھی کہاہے کیونکہ اُن کی شاعری نے بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں میں بہ اعتبار رہنمائی اور اثر پذیری سے اُردو کی خاتون شعرا کے حق میں وہی کردار ادا کیا جو اٹھارہویں صدی میں ولی دکنی نے عام شعرا کے حق میں ادا کیا تھا۔ اُنھوں نے اپنے بعد آنے والی شاعرات کشور ناہید،پروین شاکر اور فہمیدہ ریاض وغیرہ کے لیے شاعری کا وہ راستہ ہموار کیا جس پر چل کر اُن لوگوں نے اُردو میں خواتین کی شاعری کو عالمی معیارات تک پہنچایا۔
ادا جعفری کا اصل نام عزیز جہاں تھا، شادی کے بعد انھوں نے ادا جعفری کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ وہ 1924 میں بدایوں کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی ابتدائی غزلیں اور نظمیں 1940 کے آس پاس اختر شیرانی کے رسالہ ’’رومان‘‘ کے علاوہ اُس وقت کے معیاری ادبی رسالوں ’’شاہکار‘‘ اور ’’ادب لطیف‘‘ وغیرہ میں شائع ہونے لگیں اور ادبی دنیا اُن کے نام سے متعارف ہو گئی۔ اُس وقت بھی اُن کی شاعری میں عام نسائی شاعری سے انحراف موجود تھا۔ اُن سے پہلے کی شاعرات نے فکری یا ہیئتی اجتہاد کا حوصلہ نہیں دکھایا تھا۔وہ محض ایک جدید یا نسوانی لہجہ کی شاعرہ نہیں ہیں۔ وہ اپنے تخلیقی عمل میں اپنے ماحول اور گردو پیش سے غافل نہیں رہیں ان کی نظمیں ان کے سیاسی اور معاشرتی شعور کی عکاس ہیں۔ ان نظموں میں دردمندی اور حب الوطنی نمایاں ہے۔ جبکہ غزلوں میں تازگی،شعور کی پختگی اور فن پر مضبوط گرفت نمایاں ہے۔ وہ ذاتی اور نجی مسائل کو مجموعی انسانی مسائل کے ایک پرتو کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کی شاعری شخصی سے زیادہ سماجی ہے۔ اُن کی آواز میں رنج و الم، خواب و حقیقت، نشاط و مسرت، کی ایک اپنی دنیا بھی ہے وہ ہر پیرایہ اظہار میں سر تا سر شاعرہ رہی ہیں زندگی کے اثبات کا احساس اور خوابوں کو حقائق کے آئینہ میں سنوارنے کا طور ادا جعفرؔی کا طور ہے اور اُن کا فن نئی اُردو شاعری کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔اُن کے شعری مجموعے ’’غزالاں تم تو واقف ہو، شہر درد،حرف شناسائی، سازِ سخن،غزل نما وغیرہ اہم ہیں۔اُن کی خود نوشت’’ جورہی سو بے خبری رہی‘‘ نے بھی ادبی حلقوں میں خوب پزیرائی حاصل کی۔
نمونہ کلام
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں
تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
سنہری دور:نسوانی شاعری کا سب سے بہترین دور ستر اور اسّی کی دہائیاں ہیں۔ اس دوران خواتین شاعرات کی کثیر تعداد اُبھر کر سامنے آتی ہے جنھوں نے پرجوش اور بے باک انداز میں نسوانی معاملات، جذبات، احساسات، افکار و نظریات کو اپنے کلام کے ذریعے پیش کیا۔ اس عہد میں جو اہم شاعرات اُبھر کر سامنے آئیں اُن میں فہمیدہ ریاض، پروین شاکر، کشور ناہید، زاہدہ زیدی ،ترنم ریاض، شفق فاطمہ شعریٰ، بلقیس ظفر الحسن وغیرہ اہم ہیں۔
جموں و کشمیر میں اُردونسوانی شاعری:
اگر ہم جموں و کشمیر کی بات کریں تو یہاںلل دید اور حبہ خاتون جیسی عظیم شاعرات نے جِس نسوانی شاعری کی بنیاد ڈالی تھی اُردو میں اُس روایت کو آگے لے جانے میں روپ کنور کماری ،روپابھوانی ، ترنم ریاض، سنیتا رینا، سنتوش شاہ نادان، فوزیہ مغل، شمع بھلیسی، رخسانہ جبین وغیرہ نے اہم رول ادا کیا۔ آج بھی کُچھ نئی لڑکیاں لکھ رہی ہیں جو اپنی شعوری کاوشوں سے نہ صرف دبستانِ جموں و کشمیر کو رونق بخش رہی ہیں بلکہ اُردو شاعری کی روایت میں بھی اپنا حق ادا کر رہی ہیں ۔بعض شاعرات مشاعروں کی رونق بننے کے ساتھ ساتھ شعر فہمی ، شعر شناسی اور شعر گوئی میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔جموں و کشمیر کی شاعرات میں سب سے نمایاں مقام ترنم ریاض کو حاصل ہوا۔
جموں و کشمیر کی ادبی تاریخ میں نسوانی شاعری کی روایت نہ صرف صوفیانہ جذبے اور رومانی لہجے کی عکاس ہے بلکہ وادی کی درد بھری جدوجہد، ہجرت، تنہائی اور عورت کی نفسیاتی گہرائیوں کی بھی گواہی دیتی ہے۔ یہاں کی شاعرات نے اُردو، کشمیری اور ہندی کے امتزاج میں کلام کہا، جو پہاڑوں کی خاموشی، چناروں کی نوسٹلجیا اور خون آلود نہروں کی داستان کو شاعرانہ لہجے میں بیان کرتا ہے۔ روپ کنور کماری جیسی قدیم آوازیں مذہبی عقیدت کی علامت ہیں، ترنم ریاض جیسی جدید شاعرہ سماجی مسائل کی بے باک ترجمان، جبکہ سنیتا رینا جیسی معاصر شاعرہ ہجرت اور وادی کی جدائی کو دلچسپ غزل کی صورت میں پیش کرتی ہیں اور شمع بھلیسی نے اپنی غزلوں کے ذریعے عورت کی عظمت اور تقدس کو پیش کیا ہے ۔
روپ کنورکماری ایک کشمیری پنڈت خاتون تھیں۔ جو بچپن سے ہی رسول ؐو آل رسول ؐ کی محبت و عقیدت میں سرشار تھیں۔ عصر حاضر کے محقق تقی عابدی کے مطابق روپ کماری نے سولہ سال کی عمر میں شاعری کرناشروع کی۔ اُن کے کلام کی اصلاح کرنے والے دو عظیم شعرا تھے۔ فضل رسول فضل اور نجم آفندی۔ انھوں نے روپ کماری کو ’’کنیزِ فاطمہ زہرا‘‘ کا خطاب دیا ۔روپ کنور کماری نے مرثیہ،نعت،منقبت اور سلام لکھے ہیں ۔جو کہ اعلیٰ پائے کے ہیں ۔ روپ کماری کے مرثیوں میں منظر نگاری، جذبات نگاری، فضائل و مصائب اور بین سب کچھ ہے ۔اُن کے ہر مر ثیہ میں فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے ۔روپ کماری نے ایک سو باون بند کا مرثیہ حضرت عباس ؓکے حال میں کہا ہے۔ مرثیہ کے آغاز میں عشق مجازی کا ذکر کرکے حضرت عباس کی محبت اور وفا کا تذکرہ کیا ہے اور بعد میں اُن کی شہادت پُرسوز انداز میں بیان کی ہے۔ ایک بند مذکور مرثیہ سے بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے:
لکھ رہی ہوںمیں حقیقت میں مجازی کا جو حال
یہ بلا جانِ حزیں کے لیے ہردم ہے وبال
اختلاجِ دِلِ مضطر ہے محبت کا مآل
ہوں بیانِ عشق حقیقی کا ہے دشوار و محال
سچ تو یہ ہے راہِ تسلیم و رضا مشکل ہے
سہل ہے عشق بشر عشق خدا مشکل ہے
تقی عابدی نے روپ کماری کا کلام جمع کیا اور 2006 میں اس کتاب کو چھپوایا۔ جس کا نام اُنھوں نے ’’روپ کنور کماری: شخصیت فن اور مجموعہ کلام‘‘ رکھا۔ تقی عابدی نے بطورِ سند کئی سلام و مراثی بخطِ روپ کنور کماری پیش کیے ہیں ۔اس کے علاوہ مکتوب،فضل رسول فضل، اور قلمی نسخہ مع اصلاح بھی شامل کیا ہے۔
رخسانہ جبیں یکم مئی 1955سرینگرمیں پیدا ہوئیں۔ ان کا شمار آزادی کے بعد اُبھرنے والی اہم شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ ایک سنجیدہ اور منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ کشمیر کا سیاسی منظر نامہ، پاکستانی حملے اور جموں کشمیر کے آدھے سے زیادہ حصہ قبضہ کرنے کے بعد کے نتائج اور برصغیر کی سیاست کے مختلف رنگ اُن کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ کشمیر کی سیاسی کشمکش اور مادر وطن سے ہمدردی اُن کے کلام میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہے ۔نمونہ کلام:
یہ ہماری زمیں وہ تمہاری زمیں
سرحدیں کھاگئی ہیں یہ ساری زمیں
تیری خاطر ہی کٹوائے سر بے شمار
قیمت ایسی چکادی ہے بھاری زمیں
غیر کوئی قدم رکھ نہ پائے یہاں
ندیاں خوں کی کردیں جاری زمیں
یا ان کے یہ دو شعر بطورِ خاص جن میں عورت کا تقدس اور ماں کی عظمت فن کارانہ طریقے سے پیش کی گئی ہے۔ رخسانہ جبیں کے یہ دو نوں شعر آفاقیت کا درجہ رکھتے ہیں۔
میں پھوٹی اُس کی پسلی سے تو ٹیڑھی
وہ سیدھا تیر جیسا میں کماں ہوں
یہ دُنیا دار بچے جانتے ہیں
مرے قدموں میں جنت ہے کہ ماں ہوں
ترنم ریاض -2021 1960 اصل نام فریدہ ترنم ۔ 9 اگست 1960 کو سری نگر کشمیرمیں پیدا ہوئیں۔ پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کرنے کے بعد ’’ترنم ریاض‘‘ کا تخلص اختیار کیا۔ وہ افسانہ نگار، ناول نگار اور شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری میں کشمیری معاشرے کی عکاسی، عورت کی مظلومیت، جنگ کے زخم اور نفسیاتی بصیرت جھلکتی ہے۔ ان کے شعری مجموعے جیسے ’’پرانی کتابوں کی خوشبو، بھادوں کے چاندتلے اور ’’زیرسبزہ محوخواب‘‘ میں نسائی مسائل اور انسانی کرب کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اُن کی شاعری متصوفانہ رنگ اور سماجی احتجاج سے بھی بھری ہے۔20 مئی 2021 میں اُن کی وفات ہوئی ۔ وہ کشمیر کی جدید نسوانی ادب کی ایک روشن ستارہ مانی جاتی ہیں۔اُن کی شعری کا ئنات مناظر فطرت سے لے کر انسانی مسائل اور انسانی رشتوں کی گوناگوں کیفیات کی فنکارانہ تجسیم سے وابستہ ہے ۔لیکن اس عمل میں نہ تو وہ موضوعات کی میزان سازی کرتی ہیں اور نہ ہی کوئی اشتہاری اعلان نامہ تیار کر تی ہیں اُن کی نظمیں اور غزلیں اپنے متنوع دائرۂ کار میں انسانی ردِعمل کی انتہائی نرم و نازک مثال ہیں ۔نمونہ کلام:
وہ پتھر دِل مجھے محفل میں ہنستے دیکھ حیراں تھا
میں دانستہ ہی رکھ آئی تھی اُس دِن اپنے گھر آنسو
ہوا تھی ایسی غصیلی کہ بادل لے اُڑی سارے
یہ غم سہنے میں سوکھے ہیںزمیں کے کِس قدر آنسو
شب تنہائی میں نظر آتا ہے تجھ میں عکس یہ کس کا
مری آنکھو ں میں رہتا ہے تو میری فکر کر آنسو
سنیتا ریناؔ :جموں و کشمیر کی نسوانی شاعری کی معاصر آواز ہیں، جو ہجرت، وادی کی جدائی اور کشمیرکی خوبصورتی کو غزل اور نظم میں سمیٹتی ہیں۔ اُن کا تعلق کشمیری پنڈت خاندان سے ہے، اور وہ اُردو، کشمیری دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’آنسوؤں کے چناب‘‘ 2017 میںچھپ کر ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا ۔ اُن کی شاعری میں ماضی کا کرب اور درد کی آمیزش ہے جو 1989-90 کشمیری ہندوؤں کی ہجرت کے زخموں کو زندہ کرتی ہے۔ اُن کی غزلیں مشاعروں میں ہی نہیں ادبی حلقوں میں بھی مقبول ہیں اس لیے کہ وہ کشمیر کی مشترکہ تہذیب کی آخری جھلکیوں کو بیان کرتی ہیں۔ اُن کا کلام سادگی اور گہرائی کا امتزاج ہے، جو پروین شاکر کی یاد دلاتی ہے۔اُن کی شاعری میں غمِ ذات غالب ہے البتہ کہیں کہیں یہ غم ِ جہاں میں ڈھل جاتا ہے ۔وہ گھریلو ،سماجی اور سیاسی حالات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہے ۔جائے پیدائش سے بچھڑنے کا غم، دوست و احباب سے جدائی، زندگی کی پر اگندگی، انجان نگروں میں اجنبی چہروں سے محاسبہ،احساس بے گھری، جلا وطنی ،شہروں کی بھیڑ میں جان لیوا اکیلا پن اور رِشتوں کی شکست و ریخت جیسے موضوعات سنیتاریناؔ کی شاعری میں آہ و فغاں کی صورت اختیار کر تے ہیں۔ نمونہ کلام :
سلسلہ یادوں کا اکثر توڑ جاتی ہے ہوا
میرے دروازے پہ دستک چھوڑ جاتی ہے ہوا
تیرے سانسوں کی مہک تیرے تبسم کی بہار
کتنے رشتے غم سے میرے جوڑ جاتی ہے ہوا
آنکھوں کو اشک دِل کو وہی درد دے گیا
دِل جس کی دوستی کا بڑا طلب گار تھا
سورن ریکھا کوتوال المعروف شمع بھلیسی 1972 میں جموں کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے ایک زرخیز علاقے بھلیسہ میں پیدا ہوئی اُن کے شعری مجموعے ریشمی، الفاظِ غزل، ہواؤں کا آنچل اورمہکتی واٹیکا شائع ہوچکے ہیں۔ اُن کا ایک مجموعہ ’’دوستی‘‘ ابھی زیر تالیف ہے۔ اُن کا کلام عصر حاضر کی شاعرات میں منفرد درجہ رکھتا ہے۔ وہ سنجیدہ شاعری کرتی ہیں۔اُن کا لب و لہجہ اور اسلوب جدید تقاضوں کے عین موافق ہے ۔وہ اپنے اظہار خیالات کے لیے اُردو ہندی دونوں رسم الخط کو استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اُردو سے زیادہ ہندی کے ادبی حلقوں میں مقبول ہیں۔ حالانکہ اُن کی زبان ششتہ اُردو ہوتی ہے۔ اُن کے موضوعات معاملات عشق کے علاوہ عورت کا تقدس، سیاسی و سماجی مسائل اور آپسی بھائی چارہ کی اپیل زیادہ تر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ذیل میں اُن کے کچھ اشعار بطور نمونہ پیش کر رہا ہوں :
سپارہ پاک ہوں اک میں خدا کی پاک آیت ہوں
بلا کی خوبصورت ہوں میں عورت ہوں میں عورت ہوں
میں تتلی کی شرارت ہوں گلوں کی میں نظارت ہوں
خدا کی بخشی نعمت ہوں زمیں کی ایک جنت ہوں
بہو ہوں میں کہیں پر ماں ،کہیں پر ہوں بہن بیٹی
میں شفقت ایک گھر، دوسرے کی کرتی خدمت ہوں
اُردو کی شاعرات نے جس انداز سے روایت، جدت اور عصریت کے گوناگوں پہلوؤں کو اپنے کلام کے ذریعے پیش کیا وہ واقعی قابل تعریف ہے ۔اِن میں سے بعض نے بدلتی ہوئی دنیا اور اس کے سماجی و جذباتی تقاضوں کو اپنی روایت کے مثبت اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ بعض ایسی شاعرات بھی ہیں جنھوں نے تہذیب کی شائستگی کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ شائستگی، دلآویزی اور صدا آفرینی کی مرکب خصوصیت ان کے شعری اور تخلیقی جوہر کو منفرد بناتی ہے۔ یہ شاعرات شعور و کیفیت کے اک نئے سلسلہ کو پیش کرتی ہیں۔ احتجاج کی راہوں میں بڑھتے ہوئے بھی وہ ہوا کی ان خوشبوؤں کی اسیر رہی ہیں جن میں موسم بہار کے پھولوں کی مہک باقی ہے۔ اِن شاعرات نے انسان کی بعض ایسی نفسیاتی اور جذباتی کیفیا ت کی نقاب کشائی کی ہے جو کسی مرد شاعر سے ممکن نہیں تھا۔ اس کے ساتھ انھوں نے نسوانی فضا سے آگے بڑھ کر اور ذات کے حصار سے باہر نکل کرعام انسانوں کے مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔یہ شاعرات معیارات ِفکر سے زیادہ نجی تجربے سے حاصل کیے گئے شعور پر بھروسہ کرتی ہیں۔ شخصیت کی کلیت اور سالمیت کے ساتھ ساتھ احساس کی نزاکت اور اس میں دکھ کی دھیمی دھیمی آنچ نسوانی شاعری کی انفرادیت ہے۔
اُردو کی نسوانی شاعری محض ادبی روایت نہیں، ایک زندہ تحریک ہے۔ اس نے عورت کو موضوع سے شاعر بنایا، خاموشی سے آواز بنایا، اور درد سے طاقت بنایا۔ جب تک معاشرے میں عورت ہے ۔یہ شاعری جاری رہے گی، کیونکہ اب قلم عورت کے ہاتھ میں ہے اور وہ جان چکی ہے کہ۔ ’’میں خاموش نہیں، میری خاموشی بھی ایک شور ہے‘‘۔
یہ روایت نہ صرف اُردو ادب کی سب سے خوبصورت اور طاقتور روایت ہے بلکہ برصغیر اور خاص کرہندستانی معاشرے میں تبدیلی کی سب سے بڑی امید بھی ہے۔
ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آرہی ہے
مآخذ ومصادر
نصیر الدین ہاشمی :دکن میں اُردو
ڈاکٹر سلیم اختر: اردو شاعری میں عورت کی آواز
فاطمہ حسن: پاکستانی خواتین شاعرات: ایک جائزہ
ڈاکٹر عارفہ سیدہ: اردو نسوانی شاعری: تاریخ و تنقید
تنزیلہ خان: نئی نسوانی شاعری اور سوشل میڈیا:تحقیقی مقالہ
سنبل نگار:اُردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ

Vijay Kumar
Phd Scholar
Deptt. of University of Jammu, Jammu – 180006
Mob. 7889315716
Email: dharvijay1994@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

فضا ابن فیضی: مجھ کو میرے سخن سے پہچانو!،مضمون نگار:رضیہ پروین

اردو دنیا،دسمبر 2025: ٹونس ندی کے لب ساحل پر آباد شہر مئو ناتھ بھنجن کو شہر سخن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ علمی اور صنعتی اعتبار سے یہ

نند لعل گویا کی فارسی شاعری اور متقدمین شعرا ،مضمون نگار:امیر عباس خان

اردو دنیا، مئی 2026: سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے ممتاز عالم، مفکر، ادیب، انشا پرداز اور صوفی شاعرمنشی نند لعل متخلص بہ گویا 1633 میں پیدا ہوئے۔ عہد شاہجہانی میں

ساحرلدھیانوی کی غزل گوئی،مضمو ن نگار:قسیم اختر

اردو دنیا،اپریل 2026: ترقی پسند شعرا میں ساحر کی شخصیت بھی مجاز کی شخصیت کی طرح ہمیشہ سے دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ جس طرح مجاز کی شخصیت کی تعمیر