تلخیص
ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے، جہاں مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں۔یہاں کی ہر علاقائی زبان کا ادب، اپنی علا حدہ شناخت رکھتا ہے۔بعض علا قوں کی بولیاں، زبان کا درجہ نہ بھی رکھتی ہو ں مگر ان کا لوک ساہتیہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے ہر ریاست کی زبان کو ایک دوسرے تک پہنچانے میں ترجمے کا اہم کردار ہے۔ زبانو ں کے آدان پردان کا یہ سلسلہ،ملک کی دوسری زبانو ں کے ادب کو سمجھنے میں کافی حد تک مدد گا ر ثابت ہو ا ہے۔ ساہتیہ اکادمی، دہلی،اور نیشنل بک ٹرسٹ،انڈیاجیسے اہم ادارے آدان پردان کے کام کو کسی حد تک بڑھا وا دے رہے ہیں۔ قومی اردو کونسل سے بھی دوسری زبانوں کے ترجمے اردو میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ کچھ ریا ستی اردو اکادمیاں بھی اپنی ریاستو ں کی زبان کے ادب کو اردو قارئین تک پہنچانے کاکام،اپنے رسائل کے توسط سے یا مترجمین کو کتابوں کی اشاعت پر مالی امداد بہم پہچا کرانجام دے رہے ہیں۔ کسی زبان کی ادبی تخلیق کو مکمل طور پردوسری کسی زبان میں منتقل کرنا مشکل عمل ہے کیو نکہ ہر زبان کی لسانی اور جمالیا تی حدیں یکساں نہیں ہوتیں۔دونو ں زبانو ں پر دسترس رکھنے والا مترجم،ان حدوں کو کم کرنے میں کسی حد تک کامیاب ضرور ہوتا ہے مگر کچھ کسر رہ ہی جاتی ہے۔ ترجمہ ایک زبان کے لفظ کو دوسری زبان کے لفظوں میں ڈھالنے کا نام نہیں ہے۔ میرے خیال سے تخلیق کی رو ح کو دوسرے قلب میں ڈھالنے کا نام ترجمہ ہے۔
مراٹھی سے اردو تراجم کی بات کریں تو مرا ٹھی میں سنت رام داس کے ’منا چے شلوک‘ کا پہلا ترجمہ ’من سمجھاون‘ کے نام سے،شاہ تراب چشتی کا کیا ہواسمجھا جاتا ہے۔اس کے بعد آنندی بائی جو شی کی خود نوشت کا ترجمہ احمد علی شوق نے کیا ہے۔ محققین کے مطابق مراٹھی اردو تراجم پر اس کے بعد کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ بدیع الزماں خا ور اور نور پرکار سے اس کی باقاعدہ طو رپر ابتدا ہو تی دکھائی دیتی ہے۔ پروفیسر عبدالستار دلوی، یونس اگاسکر، یعقوب راہی، سلام بن رزاق،رفیعہ شبنم عابدی،خالد اگاسکر، اسلم مرزا،معین الدین جینا بڑے،محمد حسین پرکار، انجم عباسی،معین الدین عثمانی رشید قاسمی وغیرہ کے نام اس سلسلے میں اہم ہیں۔
کلیدی الفاظ
اردو زبان، مراٹھی زبان، ترجمہ، فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج،ساہتیہ اکادمی، نیشنل بک ٹرسٹ، قومی اردو کونسل، سنت رام داس،شاہ تراب چشتی آنندی بائی جو شی، احمد علی شوق پروفیسر عبدالستار دلوی، یونس اگاسکر، یعقوب راہی، سلام بن رزاق، رفیعہ شبنم عابدی،خالد اگاسکر، اسلم مرزا،معین الدین جینا بڑے،محمد حسین پرکار، انجم عباسی،معین الدین عثمانی رشید قاسمی
———
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب میں یہا ں کی زبانیں اوربولیا ں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمارے ملک کی ہر علاقا ئی زبان کا ادب، اپنی علاحدہ شناخت رکھتا ہے۔بعض علا قوں کی بولیاں، زبان کا درجہ نہ بھی رکھتی ہو ں مگر ان کا لوک ساہتیہ اپنی مثال آپ ہے۔آج جب دنیا کو ایک گائو ں کہا جا رہا ہے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے ریا ستی ادب سے بڑی حد تک نا واقف ہیں۔
مہا راشٹراسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے جریدے’ امکان‘ کے مراٹھی عصری انتخاب کی پہلی جلد میں ملکی ادب کے تراجم کی اہمیت پر قاضی سلیم لکھتے ہیں :
’’بحیثیت ایک ہندوستانی قوم کے ہمارے مسائل،ہمارے دکھ ایک جیسے ہیں، ہماری تمنائیں مشترک ہیں۔ہمارے حساس ادیب ایک جیسے خواب دیکھ رہے ہیں،ایک ہی ورثے سے علم کی طاقت حاصل کرتے ہیں، (ان تراجم سے) باہمی اعتماد کی فضا ہموار ہوگی۔‘‘
بلا شبہ زبانو ں کے آدان پردان کا یہ سلسلہ،ملک کی دوسری زبانو ں کے ادب کو سمجھنے میں بڑی حد تک مدد گا ر ثابت ہو گا۔
ساہتیہ اکادمی، دہلی،اور نیشنل بک ٹرسٹ،انڈیا۔جیسے اہم ادارے آدان پردان کے کام کو کسی حد تک بڑھا وا دے رہے ہیں۔کچھ ریا ستی اردو اکادمیاں بھی اپنی ریاستو ں کی زبان کے ادب کو اردو قارئین تک پہنچانے کاکام،اپنے رسائل کے توسط سے یا مترجمین کو کتابو ں کی اشاعت پر مالی امداد بہم پہچا کرانجام دے رہی ہیں۔ مہاراشٹرا،کرنا ٹک اور مغربی بنگال کی اردو اکادمیاں اپنی ریا ستی زبانو ں کا ادب،اردو زبان میں منتقل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ باوجود اس کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترجمے کے کام کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔
کسی زبان کی ادبی تخلیق کو مکمل طور پردوسری کسی زبان میں منتقل کرنا مشکل عمل ہے کیو نکہ ہر زبان کی لسانی اور جمالیا تی حدیں یکساں نہیں ہوتیں۔دونو ں زبانو ں پر دسترس رکھنے والا مترجم،ان حدوں کو کم کرنے میں کسی حد تک کامیاب ضرور ہوتا ہے مگر کچھ کسر رہ ہی جاتی ہے۔ ترجمہ ایک زبان کے لفظ کو دوسری زبان کے لفظوں میں ڈھالنے کا نام نہیں ہے۔ میرے خیال سے تخلیق کی رو ح کو دوسرے قلب میں ڈھالنے کا نام ترجمہ ہے۔جمیل جالبی فرماتے ہیں:
’’مترجم کا فرض یہ ہے کہ وہ مصنف کے لہجے اور طرز ادا کا خیال رکھے۔لفظوں کا ترجمہ قریب معنی ادا کرنے والے الفاظ سے نہ کرے، ضرورت پڑنے پر نئے مرکبات بنائے۔نئی بندشیں تراشے اور الفاظ وضع کرے… ایسا کرنے سے ترجمے کے ذریعے ایک زبان کی تہذیب دوسری زبان کی تہذیب کے ساتھ مل کر نئے نئے گل کھلا سکتی ہے‘‘ (ایلیٹ کے مضامین ؍جمیل جالبی)
جس طرح ایک ادیب یا شاعرکا وسیع النظر اور وسیع القلب ہونے کے علاوہ انسانیت نواز ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک مترجم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک اچھے مترجم کو دونوں زبانوں کے مزاج سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ صحافتی ترجمے کے لیے لفظو ں کا ہیر پھیرمناسب ہو سکتا ہے مگر ادبی تراجم کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔اس سے ادبی ترجمے سے قاری کو عدم دلچسپی پیداہو سکتی ہے۔گوگل،چاٹ جی پی ٹی کی مدد سے ترجمہ آسان ضرور ہوگیا ہے مگرمکمل اعتماد مناسب نہیں ہے۔
ساہتیہ اکادمی اور نیشنل بک ٹرسٹ کی جانب سے کیے جانے والے تراجم زیادہ تر فلٹر زبان سے ہو تے ہیں۔کسی مجبو ری کے تحت کسی دوسری زبان یا ہندی، انگریزی سے ترجمہ کرنا ٹھیک ہے مگر جب اصل زبان سے مترجمین میسر ہو ں تو فلٹر لینگویج کا استعمال درست نہیں لگتا۔یہ اس زبان کے اصل مترجمین کے ساتھ نا انصافی بھی ہے۔
آج اردو زبا ن و ادب کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج کارول ترجمے کے فن کو فروغ دینے میں اہم رہا ہے۔فورٹ ولیم کا مقصد انگریزو ں کو اردو پڑھانا تھا اور دہلی کالج کا مقصد ہندوستا نیو ں کو مغربی تعلیم دلانایا اس سے روشناس کروانا تھا۔ترجمے کی اہمیت ہمارے یہاں پڑھے لکھے طبقے پر اب آشکار ہو چکی تھی۔یہ کمال دلی کالج کے تراجم کا ہے۔
مراٹھی سے اردو تراجم کی بات کریں تو مرا ٹھی میں سنت رام داس کے ’منا چے شلوک‘ کا پہلا ترجمہ ’من سمجھاون‘ کے نام سے،شاہ تراب چشتی کا کیا ہواسمجھا جاتا ہے۔اس کے بعد آنندی بائی جو شی کی خود نوشت کا ترجمہ احمد علی شوق نے کیا ہے۔ محققین کے مطابق مراٹھی اردو تراجم پر اس کے بعد کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ بدیع الزماں خا ور اور نور پرکار سے اس کی باقا ئدہ طورپر ابتدا ہو تی دکھائی دیتی ہے۔ پروفیسر عبدالستار دلوی، یونس اگاسکر، یعقوب راہی، سلام بن رزاق،رفیعہ شبنم عابدی،خالد اگاسکر، اسلم مرزا،معین الدین جینا بڑے،محمد حسین پرکار، انجم عباسی،معین الدین عثمانی رشید قاسمی وغیرہ کے نام اس سلسلے میں اہم ہیں۔ علاوہ ان کے مزید کئی نام ہیں مگر یہا ں ان سب کا ذکر ممکن نہیں ہے۔
اردو سے مراٹھی ترجمہ کرنے والو ں میں سیتو مادھو راو پگڑی، رابھی جو شی، شری پا د جو شی،ڈاکٹر رام پنڈت،پردیپ نپھاڑکر اور منیشا پٹوردھن کے نامو ں کا ذکر مجھے اس لیے ضروری محسوس ہو رہا ہے کہ یہ وہ مترجمین ہیں جو فارسی رسم الخط جانتے تھے یا جانتے ہیں۔انھو ں نے جو کام کیا ہے وہ براہ راست اردو ہی سے کیا ہوا ہے۔رابھی جو شی اور شری پاد جوشی نے ترقی پسند ادب خصوصاً کرشن چندر،خواجہ احمد عباس، راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی،سعادت حسن منٹو وغیرہ کی کہا نیا ں مراٹھی میں ترجمہ کی ہیں۔سیتو مادھورائو پگڑی نے اقبال کی ’بانگ درا ‘اور’ کلام غالب‘کا مرا ٹھی ترجمہ کیا ہے۔رام پنڈت نے عصری اردو کہانیوں کے ترجمہ۔1 ترجمہ 2 کے نام سے افسانوی مجمو عے شائع کیے ہیں۔مراٹھی زبان میں دیوالی کے موقع پر مراٹھی جریدو ں کے دیوالی نمبر نکلنے کی روایت پرانی ہے۔رام کی ادارت میں ’آکنٹھ‘ اور ’آیودھ‘ نامی مراٹھی جریدوں کے، اردو ادب نمبر،بھارتیہ اردو کتھا اور پاکستانی اردو کتھا کے نام سے خصوصی شمارے شائع ہوئے ہیں۔ علاوہ اس کے راہی معصوم رضا اور شہریار کی نظمو ں کے مجموعے بھی رام نے مرا ٹھی میں شائع کیے ہیں۔
منیشا پٹوردھن نے ’تچی کتھا‘(اس کی کہانی) کے نام سے مراٹھی اور اردو زمیں دونوں زبانوں کی منتخب کہانیا ں ایک ہی نام سے شائع کی ہیں۔ سلام بن رزاق کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ مجموعے ’شکستہ بتو ں کے درمیا ن‘کا مراٹھی ترجمہ بھی انھو ں نے شائع کیا ہے۔احمد وصی کی نظمو ں کا انتخاب و ترجمہ بھی مراٹھی زبان میں ان کی دین ہے۔
مراٹھی میں ہندی زبان کے توسط سے بھی(فلٹر) ترجمے ہوتے رہتے ہیں۔جو اخبارات یا دیوالی نمبروں میں دکھائی دیتے ہیں۔کچھ مراٹھی مترجمین نے غالب اور منٹو کو ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر وسودھا سہسر بدھے،رمیش چندر پا ٹکر،چندرکانت بھونجال نے منٹو کی کہانیوں کا انتخاب مراٹھی مجموعو ں کے روپ میں کیا ہے۔
اردو والے بخوبی واقف ہیں کہ ہندی، انگریزی میں غالب کی شاعری اور سعادت حسن منٹو کی کہا نیو ں کی بڑی مانگ ہے۔ دوسری ریا ستو ں کی زبانو ں میں بھی ان دو ادیبوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ہندی زبان میں اردو کا بیشتر اہم فکشن اور شاعری (کلاسیکی اور جدید)ترجمہ ہو چکے ہیں۔
اردو مترجمین میں بدیع الزماں خاور کا نام اہم ہے کہ انھو ں نے نہ صرف مراٹھی سے اردو تراجم کو مشن بنایا بلکہ مرا ٹھی زبان میں شاعری بھی کی اور مراٹھی غزل کو ایک نئی جہت عطا کرنے والے مرا ٹھی شعرا میں ان کا نام لیا جاتا ہے۔
مرا ٹھی نظمو ں کے تراجم کا پہلا انتخاب ’خوشبو‘1974میں خاور نے شائع کیا تھا۔اس مجموعے میں مرڈھیکر،وندا کرنیکر،ماڈگلکر،کسماگرج اور شانتا شیلکے جیسے شعرا کی منتخب نظمیں شامل ہیں۔
تراجم پر مشتمل دوسرا مجمو عہ ’سبیل‘1978 میں خاور نے شائع کیا۔کیشو سوت،نارائن وامن تلک، گووند اگرج،سانے گروجی،یشونت، انیل، کانیکر،کسماگرج،شنکر وید یہ،سریش بھٹ، مہا نو ر، جیسے اہم مراٹھی شعرا کی نظمیں اس میں شامل ہیں۔اسں کے علاوہ مراٹھی سنت شاعر گیانیشور،نام دیو،جنا بائی، ایکناتھ،تکارام،رام داس اور سنت شیخ محمد کے مشہور ابھنگوں کے مقفی تراجم بھی اس میں شامل ہیں۔’ مراٹھی رنگ‘ کے نام سے عصری مراٹھی نظمو ں کا انتخاب بھی خاور کے ترجم میں شامل ہے۔
نرنجن اذگرے کا شعری مجموعہ ’دینار‘ اور بابو رائو جگتاپ کا ’نیلے پہا ڑ کی نظمیں ‘ یہ مجمو عے فرمائشی تراجم ضرورتھے۔باوجود اس کے یہ نظمیں اردو والو ں کے لیے اچھوتا مو ضوع ہیں۔
خاور کا ایک اور اہم کارنا مہ ان کی نثری کتاب ’مہا راشٹرا کی تہذیبی اور ادبی قدریں‘ ہے۔ مراٹھی تہذیب اورزبان و ادب کو سمجھنے کے لیے یہ جامع تعارف اور اہم دستاویزہے۔ 246 صفحات پر پھیلی اس کتاب میںشامل چند مضامین کے عنوانات ہی سے آپ کو اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔
سنت گیانیشور حیات اور کارنامے،سنت گا ڈگے مہاراج اوران کے کارنامے،مہاراشٹر کے لوک گیت،مراٹھی شاعری 1885 سے پہلے، نئی مرا ٹھی شاعری،کیشو سوت اور ان کے ہم عصر،گیا نیشوری، ایک مختصر تعارف۔غرض اردو مراٹھی کو قریب لانے میں خاور مرحوم کا اہم یوگدان رہا ہے۔
بدیع الزماں خاور کے سبھی شعری اور تراجم کے مجمو عو ں کو یکجا کرکے،یعقوب راہی اور راقم نے،’کلیات خاور‘ کی اشاعت کی ہے۔خاور درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے اورنیشنل ہائی اسکول، داپولی (رتناگری)میں میرے استاد رہے ہیں۔مجھے ترجمے کی ترغیب انھیں سے ملی ہے۔میں نے مراٹھی دلت کہانیو ں کے تراجم ’دلت کتھا ‘ کا انتخاب انھیں کے نام انتساب کیا ہے۔
نور پرکار اردو مترجمین میں ایک اہم نام ہے۔انھو ں نے 1967 میں، لکھنؤ سے عابد سہیل کی ادارت میں شائع ہو نے وا لے جریدے ’کتا ب‘ کے لیے،عصری مراٹھی کہا نی وڈرامہ کا خصوصی شمارہ ترجمہ و ترتیب دیا تھا۔ ’ صبا آوارہ ‘ کے نام سے یہ تراجم کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔ موصوف نے نہ جانے کیو ں ترجمہ و تخلیقی ادب سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ان کی ایک کتاب ’گل نا آشنا ‘ قلم پبلی کشنز،ممبئی نے شائع کی ہے۔
پر وفیسرعبدالستار دلوی نے جو اردو تراجم کیے ہیں ان میں پرشوتم شیورام ریگے کے ناولٹ ’ساوتری ‘، ’ اولو کتا‘اور وشرام بیڈیکر کا ’رن آنگن‘ بہت اہم ہیں۔ جیونت دلوی کا سہ بابی ڈرامہ’ بیرسٹر‘ اور وجے تنڈولکر کا ڈرامہ ’خاموش عدالت جاری ہے‘ کو بھی موصوف نے اردو کے قالب میں ڈھالے ہیں۔
ڈاکٹر یو نس اگاسکر نے اپنے تراجم کی کتاب ’بے چہرہ شام‘ میں مراٹھی کی اہم چنندہ کہانیوں کا انتخاب کیا ہے، گنگا دھر گاڈگل۔اروند گوکھلے،پو،با،بھاوے،وینکٹیش ماڈگلکر،مدھو منگیش کرنک،شن نا نو رے،نارائن گنیش گورے،وسنت دیشمکھ،کی کہا نیا ں اس میں شامل ہیں۔ انھو ں نے وی وا شرواڈکر کے مشہور مراٹھی ناٹک ’نٹ سمراٹ‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔راجا جی کی را مائن : بال کانڈ ( رام جنم سے سیتا سوئمبر تک ) کا ترجمہ بھی انھو ں نے کیا ہے۔’مراٹھی ادب کا مطالعہ‘ مراٹھی ادب کو سمجھنے کے لیے ان کی ایک اہم کتاب ہے۔
سلام بن رزاق کا نام اردو فکشن میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مشہو ر مراٹھی ادیب مدھو منگیش کرنک کے ناول ’ماہم کی کھاڑی‘اور جی اے کلکرنی کی کہا نیا ں انھو ں نے اردو میں ترجمہ کی ہیں۔ان کے یہ دونوں تراجم اردو میں کافی پسند کیے گئے ہیں۔
یعقوب را ہی اردو میں بطور احتجاجی شاعرجانے جاتے ہیں۔مراٹھی مترجم کے طور پر بھی وہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔’دلت آواز‘ نامی مجموعے میں انھو ں نے مراٹھی دلت شاعروں کی نظموں کے تراجم کیے ہیں۔بابو رائو باگل، نارائن سروے،کیشو مشرام،دیا پوار،نام دیو ڈھسال، سے لے کر پردنیا لو کھنڈے وغیرہ اہم مراٹھی دلت شاعرو ں کی نظمیں ’دلت آواز ‘ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’مرا ٹھی شاعری کے اردو تراجم‘ میں انھو ں نے اردو ترجمہ نگارو ں کے تراجم کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ان کی مزید ایک کتاب ’مراٹھی شاعری کے کچھ اور تراجم‘ بھی منظر عام پر آئی ہے۔
خالد اگاسکر ترجمے کی دنیا میں اہم نام بن کر ابھرا ہے۔ ان کی کتاب ’کتھا‘ کے لیے، ساہتیہ اکادمی، دلی سے ترجمے کا انعام بھی ملا ہے۔’کتھا‘ میں راجا کدم، لکشمن لو نڈھے،سدھاکر جیونت،رام چندر منجواڈکر، ک دی سون ٹکے، مدھو منگیش کرنک، ارون سادھو، اروند گوکھلے،سانیا کی منتخب کہا نیا ں شا مل ہیں۔خالد اگاسکر نے لکھنے کی ابتدا تخلیقی ادب سے کی تھی۔بعدازاں تخلیقی ادب اورتراجم سے وہ بھی دور ہو گئے۔
رفیعہ شبنم عابدی نے نارائن سروے کے مجموعے ’مازھے ودیا پیٹھ‘ اور منگیش پا ڈگائونکر کے مجمو عے ’سلام‘ کا ترجمہ کیا ہے۔یہ تراجم شاید ضرورت وقت یعنی شعبہ اردو میں، مراٹھی زبان و ادب سے واقفیت کی شرط کی وجہ سے کیے گئے ہو ں۔سہ ماہی تکمیل بھیونڈی میں اس مو ضوع پرکچھ شماروں میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ یہ بات اسی بنیاد پر کہی جاسکتی ہے۔
معین الدین جینا بڑے، جب تک ممبئی یو نیو ر سٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے، انھو ں نے بھی، وشنو سکھارام کھانڈیکر کی منتخب کہانیو ں کے تراجم کے علاوہ چند ممتاز مراٹھی خواتین افسانہ نگارو ں کی کہا نیا ں ترجمہ کی ہیں،ان کے یہ تراجم سوغات،بنگلور،کتاب نما،دہلی اور امکان، ممبئی جیسے اہم جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔موصوف نے اہم مراٹھی فکشن نگارو ں کے جو انٹرویو زلیے تھے، وہ بھی اہم ہیں۔ان کے تراجم اور یہ انٹرویوز کتابی شکل میں شائع ہوں تو اردو کے لیے اہم اثاثہ ہوں گے۔
قاسم ندیم نے مراٹھی سے کافی تراجم کیے ہیں۔ممبئی سے شائع ہو نے والے سہ ماہی تکمیل اور اردو چینل میں ان کے تراجم پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔’اذان‘ اور ’مجھے گھر چاہیے گھر‘ نامی تراجم کے مجمو عے منظر عام پر آچکے ہیں۔’اذان‘ نامی مجموعے میں، وی، س، کھانڈیکر، گ،دی، ماڈگل کر، مدھو منگیش کرنک،گنگا دھر گا ڈگل،ارون سادھو ودیگر کہا نی کارو ں کی کہانیاں شامل ہیں۔
’مجھے گھر چاہیے گھر‘میں نما ئندہ مراٹھی خواتین کہانی کارو ں کی کہا نیا ں شامل ہیں۔وجیا راجیہ دھیکش، آشا بگے،ارملا پوار، وجیا واڈ،ثانیا،و دیگر خواتین کہا نی کارو ں کی کہا نیا ں اس میں شامل ہیں۔
انجم عبا سی نے مرا ٹھی کہا نیو ں کے تراجم ’کہکشا ں‘ کے نام سے شائع کیے ہیں۔ علاوہ اس کے ڈاکٹر یو نس اگاسکر کی ادارت میں نکلنے والے سہ ماہی ’ترسیل‘ ممبئی میں یہ بطور نائب مدیر شامل تھے۔ مراٹھی زبان و ادب پر ان کے مضامین و تراجم اس جریدے میں پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔
اسلم مرزا(چھتر پتی سمبھاجی نگر) ترجمہ نگاری میں ایک اہم نام ہے۔’مورپنکھ‘، ’فساد اور دیگر نظمیں‘، ’پیاری انو‘، اور ’مراٹھی کے تین نامورشعرا‘(کسماگرج،وندا کرندیکر،منگیش پاڈ گائوں کر ) ان کی مرا ٹھی نظمو ں کے تراجم کے مجمو عے ہیں۔
معین الدین عثمانی کا تعلق جلگائو ں سے ہے۔معاصر مراٹھی کہانیو ں کا انتخاب ’صورت حال ‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس مجموعے میں سانیا،وجیا راجیادھیکش،لکشمن لونڈھے،نیل کنٹھ مہاجن، وائے،ایم،پٹھان کی کہا نیا ں اس میں شامل ہیں۔
چھتر پتی سمبھا جی نگر(اورنگ آباد) کی سجادی موسوی نے، سانے گروجی کااہم مراٹھی ناول ’شیام کی ماں ‘ کا ا ردو ترجمہ کیا ہے۔مگر افسوس یہ ترجمہ اب نایاب ہے۔یہ ایک اہم مراٹھی ناو ل ہے جس پر مشہور مراٹھی دانشور پی کے اترے (اچاریہ اترے)نے فلم بھی بنائی ہے۔
خلیل احمد، اہلیہ نگر (احمد نگر) نے رام گنیش گڈکری کے مشہو ر ڈرا مے’ایک ہی پیالہ‘ کا اردو ترجمہ کیا ہے۔افسوس یہ ترجمہ بھی اب نایاب ہے۔مراٹھی؍اردو تراجم میں دلچسپی رکھنے والے طالب علموں کے لیے یہ تراجم اہم ہیں۔
ڈاکٹر سید یحی نشیط،اردوکے اہم اسکالرہیں۔’اردو مراٹھی کے تہذیبی رشتے‘ اور ’اردو مراٹھی کے باہمی روابط‘ ان کی اہم کتا بیں ہیں۔ اردو مراٹھی کے رشتوں کو سمجھنے میں یہ دونوں کتابیں مدد گار ثابت ہوں گی۔
مراٹھی دلت کہا نیوں کے تراجم’دلت کتھا ‘ کے نام سے راقم نے کیے ہیں۔ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی کی جانب سے اب اس کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا ہے۔ ساہتیہ اکادمی،دہلی نے اسے سنہ 2002 میں ترجمے کے انعام کے قابل سمجھا۔اس کے علاوہ وجے تندولکر کے تین مراٹھی ناٹک (سکھارام بائنڈر،ایسے پنچھی آتے ہیں اور گدھ)،مراٹھی عصری نظمو ں کے تراجم ’گفتگو بند نہ ہو‘، بچو ں کے لیے مراٹھی کہانیو ں کے تراجم ’تتلی رنگ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ملند پربھاکر سبنس کی کتاب ’کہا نی وندے ماترم کی‘ کا ترجمہ، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کی جانب سے شائع ہو چکا ہے۔ ملکہ امر شیخ کی ’مجھے منظور ہے اپنی تبا ہی‘ اور ہنسا واڈکر کی سوانح ’کہتی ہو ں سنو ‘ بھی رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔(جس پر شیام بینیگل کی فلم’ بھومیکا ‘بنی ہے)مشہور ریفارمسٹ حسین جمعدار کی مراٹھی سوانح ’جہا د‘، جیونت دلوی کا ’پروش‘ اور گو وند پرشوتم دیشپانڈے کا مراٹھی ناٹک ’ادھوست دھرم شالا‘ (تباہ شدہ دھرم شالا ) شائع ہونے کے امکانات ہیں۔
ڈاکٹر یو نس اگاسکر کی ادارت میں ممبئی سے شائع ہو نے والے سہ ماہی جریدے ’ترسیل‘، ساجد رشید مرحوم کے ’نیا ورق‘ مظہر سلیم مرحوم کے ’تکمیل ‘ بھیونڈی اور قمر صدیقی کے رسالے ’اردو چینل‘ احمد عثمانی کے بیباک،نے اردو مراٹھی تراجم کو اپنے یہا ںشائع کرنے میں ہمیشہ پہل کی ہے۔ اہم مراٹھی فکشن نگار،ولا س سارنگ کے اہم ناول ’انکی کے دیس میں‘ گوری پٹوردھن اور اجمل کمال نے ترجمہ کرکے آج کراچی میں شائع کیا ہے۔
مہاراشٹراسٹیٹ اردو اکادمی کے جریدے ’امکان‘کے شمارو ں میں بہترین مرا ٹھی شعرو ادب کا انتخاب شائع ہوتا رہا ہے۔ ریا ستی زبان مراٹھی اور اردو کو ترجمے کے ذریعے قریب لانا مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے مقاصد میں شامل ہے۔
آج نئی ہی نہیں پرانی نسل میں بھی مطالعے کا شوق کم بلکہ ناپید ہو تا جا ر ہے۔ایسے اساتذہ جو اپنے طالب علمو ں میں مطالعے کا شوق جگائے رکھنا چاہتے ہیں، (جن کی کمی نہیں ہے) و ہ پہل کریں کہ مطالعے کے ذوق ہی پر کسی زبان کی اس کے ادب کی ترویج و توسیع منحصر ہوتی ہے۔
سنت گیانیشور کے مراٹھی ابھنگو ں کے تراجم،بدیع الزماں خاور کے مجموعے ’سبیل ‘ میں شامل ہیں۔سیدھی اور سرل بھاشا میں کیے گئے یہ اردو تراجم پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کروں گا ؎
تمھیں تیرتھوں میں نہ مل پا ئے گا وہ
تمھارے ہی اندر نظر آئے گا وہ
کہے گیان دیو،ایک سب کا خدا ہے
اسی نے یہ سنسار پیدا کیا ہے
نظر ایسی ملتی ہے اس آدمی کو
کہ ہر شے میں وہ دیکھتا ہے ہری کو
کہے گیان دیو، ایک انوکھی مسرت
عطا کرتی ہے مجھ کو سنتو ں کی صحبت
Vaqar Kadri
Krishna Kamal Co-Op Hsng Society Ltd,
Geetanjali,B-I-102,
Opp-Nerul Police Station, NERUL(East),
Navi Mumbai-400070 (M.S)
Mob.: 9867798042
vaqarkadri@gmail.com