قطب اللہ ندوی کی افسانہ نگاری’’ویزا‘‘ کے حوالے سے،مضمون نگار: ایس ایم حسینی

August 17, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،اگست 2026:

قطب اللہ بنیادی طور پر صحافی تھے اور اسی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ البتہ ان کے قلم اور مزاج میں ادبی ذوق بھی کار فرما نظر آتا ہے، قطب اللہ کا تحریری سفر پانچ دہائیوں پر محیط ہے اور اس عرصہ میں انھوں نے سینکڑوں سیاسی کالم، اداریے، مضامین، فیچر اور خبریں لکھیں، روزنامہ سالار بنگلور کے لیے ’آداب عرض ہے‘ اور روزنامہ آگ لکھنؤ کے لیے ’مغربی ایشیا کی ڈائری‘ کے عنوان سے ہفتہ واری کالم لکھتے رہے۔ دوران تعلیم ہی قومی آواز کے ادارتی عملہ سے 1974 میں منسلک ہوئے اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی و صحافتی سرگرمی کی ابتدا کی، راشٹریہ سہارا، انقلاب نیز متعدد اخبارات میں مختلف عہدوں پر رہے، اس دوران لکھنؤ سے دوسرے شہروں کا بھی رخ کیا لیکن یہ مدت عارضی رہی، اخبار مشرق، لکھنؤ اور عوامی سالار کا آغاز بھی آپ کی سرپرستی اور نگرانی میں ہوا۔صحافت کے موضوع پر ان کی دو کتابیں منظر عام پر آئیں۔ اردو زبان وادب سے لگاؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ گونگی توپ کے نام سے13فلسطینی افسانوں کا ترجمہ کیا۔
قطب اللہ 23 مارچ 1951کو مشرقی اترپردیش کے گاؤں بڑھنی ضلع گورکھپور کے ایک معروف علمی ودینی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد مولانا محبت اللہ اردو کے صحافی، محقق، مترجم اور مصنف تھے، ابتدائی تعلیم جامعہ سلفیہ جھنڈا نگر نیپال سے حاصل کی اور 1970 میں دارالعلوم ندوۃ العلما سے فراغت کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے اردو مضمون میں بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی، 1978 میں ایل ایل بی کے بعد 1980 میں عربی سے ماسٹر کیا، بعد ازاں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور’ہندوستان میں آزادی کے بعد اردو صحافت‘ کے موضوع پر پروفیسر شبیہ الحسن نونہروی کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ لکھا جو کسی سبب سے شائع نہ ہوسکا۔
قطب اللہ ندوی نے افسانوں کے مجموعے ’ویزا‘ 1984کی اشاعت سے افسانہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا، جو نامی پریس لکھنؤ سے 1984 میں فخر الدین علی احمد میموریل ارود اکیڈمی کے مالی تعاون سے منظر عام پر آیا۔ ان کے افسانے ذاتی مشاہدات، تجربات اور احساسات کے ترجمان ہیں، جن میں حقیقت نگاری کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ دیہی زندگی کے مسائل، زمین، کھیت، جاگیر داری، کسان اور عورتیں ان کے افسانوں کے موضوعات ہیں، قطب اللہ صاحب کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے عہد کے ممتاز اردو ادیبوں اور صحافیوں کی صحبت اٹھائی جس میں حیات اللہ انصاری، ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی، عابد سہیل، عشرت علی صدیقی، عثمان غنی، اردو ہندی صحافی مشتاق پردیسی، ڈاکٹر سعادت علی صدیقی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
قطب اللہ کی پہلی کہانی 1969 میں شائع ہوئی۔ ’ویزا‘ میں کل 13کہانیاں شامل ہیں، اس مجموعے کے بہت سے افسانے کئی رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اور بعض آل انڈیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن لکھنؤ سے نشر ہوئے۔ دیباچہ ’کہانی کی بات میں‘ ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی افسانے کے فن اور خصوصیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے قطب اللہ کی افسانہ نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اس مجموعہ کا ہر افسانہ کسی نہ کسی گہرے مشاہدے کا ترجمان ہے اور کوئی نہ کوئی سبق پڑھنے والا اس سے حاصل کر لیتا ہے۔ دلچسپی اس لیے اور زیادہ ہے کہ تمام افسانے حقیقت پر مبنی معلوم ہوتے ہیں اور پڑھنے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا، مجموعی طور پر ان افسانوں میں عصری رجحان ہونے کے باوجود زبان وبیان کی چاشنی موجود ہے اور پڑھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔‘‘
(’ویزا‘از قطب اللہ، مطبع نامی پریس، لکھنؤ،1984، ص 8)
اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور صحافی عابد سہیل ’کہانی کی کہانی‘ میں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’قطب اللہ اپنی ان پہلی کہانیوں کو اعتماد کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اور ان کا یہ اعتماد کچھ ایسا بلا وجہ بھی نہیں۔ واقعات کا فطری بہاؤ سیدھی سادی زبان، شہر اور دیہات کو ایک بڑے کل کے طور پر دیکھنے اور پیش کرنے کی کوشش اور سخن کو پردہ الفاظ میں چھپانے سے احتراز، ان کی افسانہ نگاری کے ایسے پہلو ہیں جن سے وہ پہچانے جائیں گے۔ ان کے افسانوں میں تاثر صدق وصفا کی جھلکیاں موجود ہیں اور یہ توقع بیجانہ ہوگی کہ زبان و بیان اور تکنیک پر انھوں نے اگر زیادہ توجہ دی تو ان کے افسانے زیادہ گہرائی اور گیرائی سے مالا مال ہو جائیں گے۔‘‘ (ایضاًص12 )
قطب اللہ مجموعہ کا انتساب ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’مرحومہ چچی جان جنھیں ہم سب پیار سے دیدی کہا کرتے تھے اور جنھوں نے مجھے ڈھیر ساری کہانیاں بچپن میں سنائیں۔‘‘
’’جناب شفاعت علی صدیقی اور بھائی رفیق احمد خان جنھوں نے مجھے بے مقصد کہانی لکھنے سے روکا۔‘‘
انھوں نے ’اپنی شناخت‘ کے عنوان سے کہانی سننے سے کہانی گڑھنے اور پھر چھپنے تک کے سفر کو اپنے خاص اسلوب میں لفظوں کے سپرد کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’میری امی جو کبھی پوری کہانی نہیں سنا پائیں انھوں نے مجھے کہانی گڑھنے پر مجبور کیا۔ کہانی سناتے سناتے جب وہ سوجاتیں تو اپنے بھائی بہنوں کی تسلی کے لیے میں خود کہانی سنانے لگتا جسے سن کر سب یک زبان ہوکر کہہ اٹھتے، نہیں۔۔۔نہیں یہ کہانی نہیں ہے یہ تو آپ کی گڑھی ہوئی ہے۔ ویسی کہانی سنائیے جیسی پیاری دیدی سناتی ہیں یا وہ کہانی پوری کیجیے جسے امی جان ادھوری چھوڑ کر سوجاتی ہیں۔‘‘ (ایضاًص 14 )
قطب اللہ کے افسانوں کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ زمین سے اور اس کے باسیوں سے بہت گہرا ہے، وہ شہر سے زیادہ دیہات اور مناظر فطرت سے قربت محسوس کرتے ہیں، شہر ان کے یہاں سمٹا سمٹایا محسوس ہوتا ہے، وہ روایتی افسانہ نگار نہیں ہے بلکہ انھوں نے دیہاتی ماحول اور گاؤں کی زبوں حالی، افلاس، تنگ دستی، ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کا احساس، کسانوں کی مظلومیت، زمینداروں کی چیرہ دستی کو خوبصورتی کے ساتھ اپنی کہانیوں میں جگہ دی ہے اور قاری اس بات کو محسوس کرسکتا ہے کہ ہر کہانی ایک سبق، مقصد اور پیغام سے بھرپور ہے۔
قطب اللہ نے اپنے افسانوں میں بے جا طوالت، گھماؤ پھراؤ اور پیچیدگی سے دامن بچاتے ہوئے سیدھے سادے انداز میں اپنی بات کہنے کی کوشش کی اور کامیاب ہوئے، ان کے افسانوں کے کردار ماورائی مخلوق معلوم نہیں ہوتے بلکہ وہ عام انسان، اس کی پریشانیوں نیز ذہنی وفکری کرب واحساس کو لفظوں کے پیکر میں تراشتے ہیں، یہ وہ کردار ہیں جنھیں یونیورسٹی کے کیمپس، شہر کے پر رونق علاقوں، مہیب سناٹوں، چوک چوراہے، گاؤں کے کچے گھروں، کھیت، کھلیان اور کسی دیہات میں پگڈنڈی کے کنارے سائے دار درخت کے نیچے آرام کرنے والے کسان کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں، اس سلسلے میں وہ خود لکھتے ہیں:
’’میری تخلیق عوام کے لیے ہے، شہر کا آدمی اسے پڑھ کر سمجھ سکتا ہے تو گاؤں کا کسان بھی آسانی سے اس کی گہرائی میں اتر سکتا ہے، میں نے اسی لیے ابہام سے دامن بچاکر ابلاغ کی کوشش کی ہے، علامتوں کے چکر میں پڑ کر میں ہر قاری کو شرح نہیں مہیا کرسکتا تھا۔‘‘ (ایضاًص: 15)
کتاب میں شامل پہلا افسانہ ’گیدڑ‘ کے نام سے ہے، یہ کہانی ہے ہمارے ہندوستان کی، جس میں پیش کردہ حالات اور واقعات کا انطباق موجودہ زمانہ پر بخوبی کیا جاسکتا ہے، اس افسانہ کی خاص بات یہ ہے کہ موجودہ دور کے مطابق اس میں بآسانی معنویت تلاش کی جاسکتی ہے۔
دوسری کہانی ’کتا کتا‘ میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ شہر کس طرح گاؤں کو کھا جاتا ہے، جو چیزیں بچپن میں ہمیں عزیز ہوتی ہیں وہی بڑے ہوکر کچھ کتابیں پڑھ لینے کے بعد موہوم اور بے معنی لگتی ہیں، ہم ان سے صرف نظر کرلیتے ہیں اور ان کی اہمیت ہمارے نزدیک کھوٹے سکہ سے زیادہ نہیں ہوتی، یہ کہانی ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اپنے اقدار، تہذیب، رہن سہن، طرز معاشرت، اپنی اصل اور اپنی مٹی سے ہمیشہ وابستہ رہنا چاہیے، نہ کہ انھیں شہر کی ہوا لگنے کے بعد کسی جھوٹن کی طرح اٹھا کر دور کردینا چاہیے کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو ہمیں ہمارے زندہ ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔
’گم شدہ پسلی‘ دیہاتی عناصر اور مناظر فطرت کی عکاسی سے وجود میں آنے والا ایک رومانوی افسانہ ہے جس میں معصومیت اور الہڑ پن کے جیتے جاگتے دلکش مرقعے ہیں، افسانہ کا مرکزی کردار ایک لڑکا واحد متکلم راوی کے طور پر موجود ہے جو کہانی سنا رہا ہے، جس میں دیہی زندگی کے مسائل، وہاں کے سادہ لوح، غم شناس، احسان مند افراد کی منظر کشی کی گئی ہے، خیرن کا معصوم، سادہ لوح کردار قاری پر اچھا تاثر قائم کرتا ہے اور کردار کی ذہنی اور نفسیاتی کوائف کی بھرپور عکاسی ملتی ہے، افسانہ کا اختتام راوی اور قاری دونوں کو ایک کھوئے ہوئے احساس سے دو چار کرتا ہے، انھیں کے الفاظ میں چند سطور ملاحظہ فرمائیں:
’’میرے قدم رک نہ سکے اور میں بھی گاؤں سے باہر آ کر دور تک خیرن کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا دھانی کھیتوں کے درمیان چوڑی چکلی منڈیر پر لال چنریا اوڑھے سر پر گٹھری رکھے وہ بڑے غرور سے سر اٹھائے اپنے گھر کی جانب رواں تھی اور پھر جب وہ باغ کے اس پار چلی گئی تو میری نظریں تھک کر واپس آگئیں۔‘‘
’’آج بھی میری آنکھیں دھان کے جوان پودوں کے درمیان لال چنریا اوڑھے سر پر گٹھری رکھے کسی کو تلاش کرتی ہیں۔ دور تک نگاہیں دوڑ لگاتی ہیں پھر کسی کو نہ پاکر سامنے باغ کے تناور درختوں کو چھو کر واپس آجاتی ہیں۔ میں پریشان ہو جاتا ہوں۔ مجھے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا کچھ کھو گیا ہے۔ اپنے اندر کچھ۔۔۔کمی محسوس کرتا ہوں۔ جائزہ لیتا ہوں تو پہلو سے ایک پسلی غائب ملتی ہے مجھے یاد آتا ہے۔ ارے ہاں۔۔۔میری ایک پی ابھی ابھی تو یہیں کہیں دھان کے کھیتوں میں کھو گئی ہے۔‘‘(ایضاًص47-48)
چوتھی کہانی ’بہادر‘ کی ہے جو خود داری، دوستی، خلوص اور وفا کی علامت ہے، یہ افسانہ زمین داروں کے ذریعہ کسانوں کے استحصال اور ناحق انھیں پریشان کرنے کی کہانی بیان کرتا ہے، جس میں گاؤں اپنی مکمل آب وتاب کے ساتھ نظر آتا ہے، افسانہ نگار نے کردار کے جغرافیہ کے اعتبار سے زبان، بولی، لہجہ اور انداز کا خاص خیال رکھا ہے۔
قطب اللہ کے افسانوں میں مقامی رنگ واضح نظر آتا ہے، چونکہ ان کا گاؤں بڑھنی ہند نیپال سرحد سے قریب ہے لہذا ایک ملک سے دوسرے ملک ہونے والی غیر قانونی درآمد اور برآمد، منشیات کی سپلائی، اسمگلنگ اور چور بازاری کو افسانہ ’دلدل‘ کا موضوع بناکر ایک نیا زوایہ نظر عطا کیا ہے۔
’وفادار‘ گاؤں سے شہر آنے والے ایک چور کی کہانی ہے جس میں ہم ہر اس شخص کو تصور کرسکتے ہیں جو تعلیم، روزگار یا کسی مجبوری کے تحت شہر کا رخ کرتے ہیں اور وہاں انھیں جس قسم کے تصادم اور کش مکش کا سامنا کرنا ہوتا ہے وہ بہت صبر آزما ہے۔
قطب اللہ کے افسانوں کے موضوع گاؤں، دیہات، بھوک اور کسان کے مسائل ہیں، جو دو وقت کی روٹی کے لیے محنت ومشقت کرتے ہیں اور اپنی جان ہلاکت میں ڈالتے ہیں لیکن دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا ٹھیک سے جٹا نہیں پاتے۔
’وہ ہاتھ سمندر سورج‘ ایک علامتی افسانہ ہے جس میں اپنے ملک کی افرادی قوت کا المیہ پیش کیا ہے جو دوسرے ممالک کو برآمد کی جارہی ہے۔
’سجدہ‘ مذہبی ٹھیکیداروں کی تعصب پسندی اور معاشرہ کی المناک صورت حال کی عکاسی نیز فرسودہ روایات پر ضرب لگاتا ہے، افسانہ کی اختتامی سطریں چونکانے والی ہیں جو حساس قاری کو حزن وفکر میں مبتلا کردیتی ہے۔
کتاب میں شامل نواں افسانہ ’ویزا‘ ہے اور اسی کو مصنف نے مجموعہ کا عنوان بنایا ہے، کہانی کے ہیرو نیاز کو جب دوبارہ سعودی جانے کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنا پاسپورٹ اس لیے پھاڑ دیتا ہے کہ وہ وہاں اپنے گھر بار، دوست احباب نیز ان رسوم ورواج کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا جہاں اس کا سب کچھ بستا ہے۔ روزگار کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنے کا دکھ وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو تہوار کے موقعوں پر بھی اپنے چاہنے والوں سے دور اجنبی شہر اور کاٹ کھانے والی اجنبی فضا میں سانس لیتا ہے، یہ کہانی روزگار کی تلاش میں عرب ممالک ہجرت کرنے والوں کے احساسات کی ترجمان ہے، جہاں نہ عید کی خوشی ہے نہ بقرعید کی مسرت، مشینی زندگی، آفس سے روم، روم سے آفس، نہ زندگی، نہ خواب، نہ حسرتوں کی تکمیل کی خواہش، سب کچھ مال ودولت اور نوکری کے درمیان الجھ کر رہ جاتا ہے، جتنا کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ قیمتی لمحوں کو کھو بیٹھتے ہیں، لیکن وہیں ہندوستان میں روزگار کے مسائل، پڑھنے اور ڈگریاں لینے کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا اور برسوں کی محنت پر پانی پھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے، مختلف اقتباس سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:
’’اس نے پہلی بار سعودی عرب میں عید کا تہوار دیکھا۔ عجیب عید تھی نہ کوئی چہل پہل نہ دھوم دھام – فجر کی نماز کے بعد لوگ مسجدوں میں اپنی جگہوں پر بیٹھے رہے سورج ذرا بلند ہوا کہ عید کی نماز ادا کی گئی اس کے بعد لوگ چپ چاپ اپنے گھروں میں جا کر قید ہو گئے نیاز یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا تھا یہ کیسی عید ہے۔۔۔‘‘ ( ایضاًص 105)
’’دسہرہ، عید، دیوالی، رکشا بندھن سب خواب سے لگ رہے تھے اس کے ایک دوست کی لڑکی شوبھا اسے راکھی باندھا کرتی تھی اس بار کوئی نہیں تھا جوا سے راکھی باندھتا۔۔۔‘‘
’’مہیش کے گھر ہولی اور دیوالی میں مٹھائیاں اور گوجھیاں کھانے کو ملتی تھیں عید کے دن اس کے یہاں سارے دوست انل، اروند، مہیش وغیرہ جمگھٹ لگائے رہتے، سویوں کی بہار۔ مبارکباد کی بھر مار، گلے ملنے کی فرصت نہیں ملتی۔ اف پیسے کے پیچھے۔ اس نے کیا کیا کھو دیا تھا؟‘‘ (ایضاًص 106)
’حسنو ماما‘ میں احسان فراموشی، لالچ اور حرص کو افسانہ نگار نے بنیادی موضوع بنایا ہے، ایک دلسوز افسانہ ہے جو نہ جانے کتنے گھروں کی حقیقت ہے۔
قطب اللہ بہت سیدھی سادی کہانیاں لکھتے ہیں لیکن قصوں اور جملوں میں ایک تسلسل اور کشش ہوتی ہے، مناسب الفاظ کا استعمال اور مربوط جملے قاری کے ذہن کو کسی الجھن میں مبتلا نہیں کرتے، سب کچھ پرسکون ندی میں بہنے والے پانی کی طرح روح پرور ہوتا ہے، ایک سطر کے بعد دوسری سطر، ایک اقتباس کے بعد دوسرا اقتباس پڑھتے جائیے، کہانی کا سرا ہاتھ کی انگلیوں میں دھاگے کی طرح لپٹتا جاتا ہے، نہایت مسرت آمیز اور راحت آفریں انداز میں جیسے دادی کے گرد بچے گھیرا ڈال کر بیٹھے ہوں اور وہ مزے مزے سے کہانی کہتی جارہی ہیں۔
’آٹھواں دن‘ افسانہ نگار نے اسے قرار دیا ہے جب دو بچھڑے مل بیٹھیں۔ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رشتوں اور محبت میں ’انا‘ اور’میں‘کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔
’ترتیب دیا ہوا کل‘ ایک خوبصورت علامتی افسانہ ہے جو قاری کو چونکاتا بھی ہے اور مضطرب بھی کرتا ہے، یہ نیوکلیئر جنگ کی بھیانک تصویر پیش کرتا ہے جس میں سانپ، بندر وغیرہ تباہی اور بربادی کے استعارے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔
’گم شدہ پسلی‘، ’دلدل‘، ’حسنو ماما‘،’بہادر‘ دیہی مناظر کی عکاسی کے تناظر میں قطب اللہ کے نمائندہ افسانے قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ’گم شدہ پسلی‘ اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے کہ ان کی افسانہ نگاری کی بیشتر خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ قطب اللہ نے گاؤں، دیہات کے رہن سہن، انداز گفتگو، بیباکی، سادہ لوحی اور عادات واطوار کے حوالہ سے اس وقت کے معاشرہ کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔
’وہ ہاتھ سمندر سورج‘ اور’ترتیب یا ہوا کل‘ مجموعہ میں شامل دو علامتی افسانے ہیں لیکن پیش لفظ میں اس کے متعلق وہ پہلے ہی لکھ دیتے ہیں:
’’میں نے کہیں کہیں علامت کا بھی سہارا لیا ہے لیکن بغیر سوچے سمجھے فیشن کے طور پر نہیں‘‘(ایضاًص 17)
مصنف نے پیش لفظ میں اپنی کتاب کے بارے میں جو دعوی کیا ہے اس میں وہ سچے ہیں اور کتاب کی ایک ایک سطر، ایک ایک کہانی اس کی گواہی دیتی ہے۔ قطب اللہ کسی تحریک اور دبستان سے خود کو لازم نہیں کرتے، وہ آزادانہ طور پر مقصدی فکر کے تحت ادب کی تخلیق کرتے ہیں، کسی خاص سیاسی اور فکری نظام کے پابند نہیں ہیں۔ ان کے یہاں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان کی کوئی چیز دیکھنے کو ملتی ہے، وہ حقیقت نگاری کے نام پر تہذیب، اخلاق ومعاشرتی اقدار کو ہدف ملامت نہیں بناتے اور نہ ہی علامتوں اور مبہم استعاروں کے چکر میں پڑ کر کہانی کے لطف کو ختم کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں انسانی زندگی اور ان مظاہر کی عکاسی کی ہے جس سے واسطہ پڑا۔
قطب اللہ کی کہانیوں میں زندگی ہے، وہ زندگی جو ہم سب الگ الگ انداز میں جیتے ہیں۔ ان افسانوں میں کہانی پن بھی ہے اور زبان وبیان کی دلکشی و رعنائی بھی۔ لیکن یہ کہانیاں قاری کو قدم قدم پر استعجاب اور تحیر میں نہیں ڈالتیں بلکہ قاری کو اپنے ارد گرد نظر ڈالنے اور محسوس کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں گاؤں اور شہر کی آویزش کا مطالعہ بچشم خود کیا ہے، اور افسانے میں دیہاتی عناصر کو قصے اور منظر نگاری کے ذریعہ ابھارا ہے، نیز گاؤں کی مظلومیت کے ساتھ شہر کے ظلم کو بھی آشکار کیا ہے، یہ افسانے پردہ کے پیچھے کا حال نہیں بیان کرتے بلکہ اس زندگی کے آئینہ دار ہیں جس کو تفہیم کی سطح پر کسی تشریح اور وضاحت کی ضرورت نہیں، انھوں نے ان افسانوں کی مدد سے اپنی زمین سے رشتہ جوڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

S. M. Husaini
Research Scholar, Dept. of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi – 110025
Mobile: 8960512979
Email: hamzahusaini0981@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

رابندر ناتھ ٹیگورکی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:سراج انور محمد میراں

اردو دنیا،مارچ 2026: ہندوستانی ادبیات میں اردو اور بنگلہ ادب کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ زبان تقریباً سوسے زیادہ بولیوں کوملاکرایک زبان کی شکل میں وجودمیں آئی۔ اسی طرح

پریم ناتھ در کے افسانوں کا علامتی و سماجی مطالعہ،مضمون نگار:سریش کمار

اردو دنیا، مئی 2026: کشمیروہ سرزمین ہے جہاں پہاڑ خاموشی سے آنسو بہاتے ہیں، اور جھیلوں کی لہریں صدیوں پرانے دکھ درد کی کہانیاں سناتی ہیں۔ یہ صرف خوبصورت نظاروں

دورِ حاضر میں پریم چند کی معنویت وافادیت،مضمون نگار:صغیر افراہیم

اردو دنیا، جولائی 2026: پریم چندکی افسانوی شخصیت قدیم و جدید افکار و نظریات کا سنگم تھی۔ ایک طرف وہ ان صحت مند روایات و اقدار اور تہذیب و تمدن