تحریک آزادی میں مسلم خواتین کی فکری تشکیل اور مہاتما گاندھی ،مضمون نگار:طوبیٰ ادریس

August 11, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اگست2026:

تحریکِ آزادیِ ہند ایک ہمہ گیر قومی عمل تھا، جس نے برصغیر کے سماجی، سیاسی اور فکری ڈھانچوں کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس جدوجہد کی تاریخ محض سیاسی کشمکش تک محدود نہیں بلکہ یہ اجتماعی شعور، مزاحمت اور قومی بیداری کی ایک مربوط داستان ہے۔ اس ضمن میں مہاتما گاندھی کا یہ قول کہ ’’قومی جہدِ آزادی کی تاریخ ہندوستانی خواتین کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی‘‘ ایک بنیادی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین، بالخصوص مسلم خواتین، اس تحریک کا ایک ناگزیر جزو تھیں۔
مسلم خواتین کی شرکت کو ایک منظم فکری اور سماجی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ محض وقتی یا جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک تدریجی فکری تشکیل کا مظہر تھی۔ ان خواتین کی ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی تھی، جس نے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور قومی تقاضوں کو شعوری طور پر سمجھا اور قبول کیا۔ ان کی فکری ساخت میں گاندھیائی نظریات خصوصاً عدمِ تشدد، قومی یکجہتی، عوامی خدمت اور سماجی اصلاح نے نمایاں کردار ادا کیا۔ مہاتما گاندھی نے نہ صرف نظری سطح پر رہنمائی فراہم کی بلکہ خطوط، ذاتی ملاقاتوں اور تنظیمی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی عملی تربیت بھی کی، جس کے اثرات ان کی سیاسی و سماجی فعالیت میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
مزید برآں، یہ خواتین انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے وابستہ ہو کر قومی تحریک کے مختلف پہلوؤں میں فعال رہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں عوامی جلسوں میں شرکت، ولایتی اشیاء کے بائیکاٹ، شراب کی دکانوں کے خلاف احتجاج اور عوامی رابطہ مہمات شامل تھیں۔ ان عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ انھوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو بھی برداشت کیا، جو ان کے عزم اور نظری وابستگی کی دلیل ہے۔ ان کی جدوجہد کے پس منظر میں ایک واضح فکری جہت کارفرما تھی، جس میں گاندھیائی فکر کے اثرات نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہاں چند خواتین کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو گاندھی جی اور ان کی تحریک سے متاثر تھیں اور جنہوں نے اسی اثر کے تحت تحریکِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔
آمنہ قریشی
آمنہ قریشی برصغیر کی ان ممتاز مسلم خواتین میں شمار ہوتی ہیں جن کی فکری و عملی تشکیل براہِ راست تحریکِ آزادی کے انقلابی ماحول میں گاندھی جی کے زیر سرپرستی ہوئی۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں حب الوطنی، ایثار اور قربانی زندگی کے بنیادی اصول تھے۔ ان کے والد امام عبدالقادر، جو جنوبی افریقہ میں مذہبی خدمات کے باعث امام صاحب کے نام سے معروف تھے، عربی گھوڑوں کے ایک وسیع اور کامیاب کاروبار کے مالک تھے اور ایک متمول زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن قومی جدوجہد کے تقاضے نے انھیں اس آسائش سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے نہ صرف اپنا کاروبار ترک کیا بلکہ سادگی اور خدمت پر مبنی زندگی اختیار کرتے ہوئے عملی طور پر گاندھی جی کے ساتھ تحریکِ آزادی کا حصہ بن گئے۔اسی سلسلے میں جب مہاتما گاندھی نے جوہانسبرگ چھوڑ کر فونکس آشرم میں قیام اختیار کیا تو آمنہ قریشی کے والد نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے اہلِ خانہ سمیت وہاں منتقل ہو گئے۔ اس وقت آمنہ قریشی کم عمر تھیں اور اسی سادہ، محنت طلب اور اصولی ماحول میں ان کی ابتدائی تربیت ہوئی۔ بعد ازاں 1961میں یہ خاندان کوچرب آشرم پہنچا، جہاں آمنہ کی عمر بمشکل سات برس تھی۔ اگلے سال ہی 1971میں امام صاحب اپنے خاندان سمیت سابرمتی آشرم منتقل ہو گئے، جو گاندھیائی فکر و عمل کا مرکز تھا۔
سابرمتی آشرم کی زندگی نہایت منظم، سادہ اور اصولوں کی سخت پابندی پر مبنی تھی، جہاں مذہب و ملت کی ہر تفریق سے بالاتر ہو کر سب کے لیے یکساں ضوابط نافذ تھے۔ اسی ماحول میں آمنہ قریشی کی شخصیت پروان چڑھی۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئیں، ان کی خوش مزاجی، ذہانت اور جذب خدمت نمایاں ہوتا گیا، اور وہ آشرم کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے لگیں۔ چونکہ آشرم میں ان کے خاندان کو ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی، جہاں تحریکِ آزادی کے سرکردہ رہنما اور مجاہدین آتے رہتے تھے۔ ان شخصیات سے مسلسل روابط اور ان کے خیالات سے شناسائی نے آمنہ قریشی کے ذہن کو جلا بخشی اور ان کے اندر حب الوطنی اور خدمتِ قوم کا مضبوط شعور پیدا کیا۔ اس ماحول نے نہ صرف ان کی ذہنی تربیت کی بلکہ انھیں زندگی کا ایک واضح نصب العین بھی عطا کیا۔
مہاتما گاندھی کی قربت اور براہِ راست رہنمائی نے بھی ان کی فکری تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ وہ انھیں اپنی حقیقی بیٹیوں کی مانند عزیز رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے جب مئی 1933میں ان کی شادی غلام رسول قریشی سے ہوئی تواس موقع پر شادی کا دعوت نامہ مہاتما گاندھی کی جانب سے بھیجا گیا اور ہندو رسم و رواج کے مطابق کنیا دان بھی انھوں نے ہی انجام دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ آمنہ قریشی کو ان کی سرپرستی اور قربت کس قدر حاصل تھی۔
گاندھی جی نہ صرف ان کی عمومی تربیت پر توجہ دیتے تھے بلکہ ان کی تعلیم و نشوونما کے حوالے سے بھی خاص فکر مند رہتے تھے۔ چونکہ آشرم کی مصروف اور محنت طلب زندگی کے باعث آمنہ کو باقاعدہ اسکولی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا،جس کا انھیں گہرا احساس تھا۔ انھوں نے اس محرومی کا اظہار گاندھی جی کے سامنے کیا، جس پر گاندھی جی نے نہایت شفقت، بصیرت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ان کی رہنمائی کی۔ گاندھی جی نے اپنے مکتوب میں آمنہ کی صاف گوئی کو سراہتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا کہ آشرم کے بچوں کی تعلیم پر مطلوبہ توجہ نہ دی جا سکی اور اس کمی میں اپنی ذمہ داری کو بھی تسلیم کیا۔ تاہم انھوں نے اس صورتِ حال کو اصلاح کی جانب لے جاتے ہوئے آمنہ قریشی کو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور اس کے لیے عملی امکانات بھی فراہم کیے۔ انھوں نے بھاؤ نگر اور امریلی جیسے مقامات کے تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہاں انھیں بہتر تعلیم اور خصوصی توجہ حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے خطوط میں آمنہ کو اردو سیکھنے کے انتظام پر بھی زور دیا، جو ان کی شخصیت سازی میں ان کی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
آمنہ قریشی کو اگرچہ رسمی اور باقاعدہ اسکولی تعلیم کا زیادہ موقع میسر نہ آ سکا، تاہم آشرم کی زندگی کی عملی تربیت نے ان کی شخصیت کو اس انداز میں سنوارا کہ وہ آزادیِ وطن کی جدوجہد کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ یہ تربیت محض نظری نہیں بلکہ عملی، اخلاقی اور فکری بنیادوں پر استوار تھی، جس نے ان کے اندر ایثار، صبر اور استقامت جیسی صفات کو راسخ کیا۔ چنانچہ جب ڈانڈی مارچ کے موقع پر تحریکِ آزادی ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تو یہ وہ لمحہ تھا جب اس تربیت کی حقیقی معنویت سامنے آئی۔اس دور میں مہاتما گاندھی نے اپنے رفقاء اور آشرم کے افراد سے غیر معمولی قربانیوں کی توقع رکھی اور آمنہ قریشی کا خاندانی پس منظر اس معیار پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے والد نے علالت کے باوجود ستیہ گرہ کی قیادت میں حصہ لیا اور شدید جسمانی و ذہنی اذیتوں کا پامردی سے مقابلہ کیا، جبکہ ان کے شوہر غلام رسول قریشی بھی ان ابتدائی دستوں میں شامل تھے جو اس تحریک کے آغاز سے قبل ہی روانہ کیے گئے اور بعد ازاں گرفتار ہو کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اس پس منظر میں آمنہ قریشی کے اندر بھی جذب حریت پوری شدت کے ساتھ موجزن تھا اور وہ خود بھی عملی طور پر اس جدوجہد میں شریک ہونے کی خواہاں تھیں۔ تاہم اس مرحلے میں مہاتما گاندھی نے خواتین کی شرکت کے حوالے سے ایک محتاط حکمتِ عملی اختیار کی اور آمنہ قریشی کو صبر و تحمل کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی تلقین کی۔ ان کے مکتوبات سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ وہ آمنہ کے جذبے سے بخوبی آگاہ تھے، مگر ساتھ ہی انھوں نے انھیں یہ احساس دلایا کہ قومی خدمت کا دائرہ صرف میدانِ احتجاج تک محدود نہیں بلکہ گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریوں کی انجام دہی بھی اسی جدوجہد کا حصہ ہے، خصوصاً اس زمانے میں جب وہ زچگی کے مراحل سے گزر رہی تھیں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:
CHI۔ AMINA,
I have your letter. I hear from Imam Saheb that you have become impatient to go to jail۔ That is not proper, however۔ When God wills that you should go to jail, you will get an opportunity without seeking it۔ It is enough that you yourself are ready۔ Till that time comes, look after the children۔ Preserve good health and do whatever service you from home۔ It is possible in this struggle to serve even from home۔ It is enough that you have shed fear
Blessings from BAPU
گاندھی جی کی یہ رہنمائی ایک مربی اور مدبر قائد کی حیثیت سے ان کی بصیرت کو ظاہر کرتی ہے، جو افراد کی انفرادی کیفیت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں مناسب کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے تھے۔بعد ازاں جب حالات نے اجازت دی اور خواتین کو بھی تحریک میں کھل کر حصہ لینے کا موقع ملا تو آمنہ قریشی نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ عملی میدان میں قدم رکھا۔ انھوں نے دیگر خواتین کے ساتھ مل کر شراب اور ولایتی کپڑوں کی دکانوں کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں انھیں گرفتار کیا گیا اور قید کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ ان کی یہ استقامت اور جرا?ت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آشرم کی تربیت اور گاندھیائی فکر نے ان کی شخصیت میں ایک غیر معمولی پختگی اور عزم پیدا کر دیا تھا۔
مزید برآں، بعد کے زمانے میں جب آشرم کی تنظیمِ نو کی گئی تو آمنہ قریشی کو اس کے اندرونی نظم و نسق کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے نہایت حسنِ تدبیر اور خلوص کے ساتھ انجام دیا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ دیگر بچوں کی بھی تربیت ایک شفیق ماں کی طرح کی، جو ان کی شخصیت کے تربیتی اور اخلاقی پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔
اس طرح آمنہ قریشی کی زندگی اس امر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح مہاتما گاندھی کی فکری رہنمائی، عملی تربیت اور ذاتی توجہ نے ایک ایسی باشعور، باعمل اور ثابت قدم خاتون کی تشکیل کی، جو تحریکِ آزادی کے فکری و عملی دھارے میں ایک نمایاں اور مؤثر کردار کی حامل بن کر سامنے آئی۔
بی بی امت السلام
بی بی امّتُ السلام اُن خواتین میں شمار ہوتی ہیں جو مہاتما گاندھی کی فکر سے گہرے طور پر متاثر ہوئیں اور جن کی فکری و اخلاقی تشکیل میں گاندھی جی کی براہِ راست تربیت اور رہنمائی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ وہ ریاستِ پٹیالہ کے ایک معزز، متمول اور بااثر مسلم راجپوت خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کرنل عبد الحمید خاں ریاست کے وزیرِ مالیات کے منصب پر فائز تھے، جس سے خاندان کی سماجی حیثیت اور سیاسی اثر و رسوخ کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔ ان کی ولادت موتی باغ محل جیسے شاہانہ ماحول میں ہوئی، جہاں تہذیبی شائستگی، وقار اور شعور کی فضا نے ان کی ابتدائی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی پس منظر آگے چل کر ان کے اندر خود اعتمادی، وقار اور قومی ذمہ داری کے احساس کو جِلا دینے کا سبب بنا۔
امّت السلام کی زندگی میں بنیادی تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب انھیں مہاتما گاندھی کی خودنوشت تحریر کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ مطالعہ ان کے لیے محض ایک علمی تجربہ نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور روحانی بیداری کا نقط آغاز ثابت ہوا۔ اسی بیداری نے انھیں سابرمتی آشرم تک پہنچایا، جہاں ان کی زندگی ایک نئے رخ پر گامزن ہوئی۔ یہ سفر محض مکانی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک داخلی، فکری اور تہذیبی انقلاب کی علامت تھا، جس میں ایک رئیس اور پردہ دار خاتون نے سادگی، خدمت اور قومی وابستگی کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا۔
سابرمتی آشرم میں قیام کے دوران امّتُ السلام کی شخصیت میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ مہاتما گاندھی کی قربت اور رہنمائی کا براہِ راست نتیجہ تھیں۔ گاندھی جی نے ان کی تربیت میں کردار سازی کو بنیادی حیثیت دی اور انھیں ضبطِ نفس، صبر، سادگی اور خدمتِ خلق جیسے اوصاف سے آراستہ کیا۔ ان کی فطری بے قراری کو انھوں نے تدریجاً استقامت اور توازن میں تبدیل کیا، جس سے ان کی شخصیت میں فکری پختگی اور عملی سنجیدگی پیدا ہوئی۔ ان کے مابین قائم تعلق محض ایک سیاسی یا تنظیمی رشتہ نہ تھا بلکہ اعتماد، شفقت اور فکری سرپرستی پر مبنی ایک گہرا تعلق تھا، جس میں گاندھی جی انھیں اپنی بیٹی کے طور پر مخاطب کرتے تھے۔ اس رشتے نے امّتُ السلام کی عملی زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔ خدمت اب ان کے نزدیک محض ہمدردی کا جذبہ نہ رہی بلکہ ایک شعوری اور اخلاقی ذمہ داری بن گئی۔ ہریجنوں کی فلاح، دیہی اصلاح، خواتین کی تربیت اور ہندو مسلم اتحاد کے فروغ کے لیے کام کرنا ان کے لیے وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا فریضہ تھا۔ گاندھیائی فکر نے ان کے اندر یہ شعور راسخ کیا کہ حقیقی انقلاب خارجی تبدیلی سے پہلے داخلی اصلاح سے جنم لیتا ہے، اور یہی اصول ان کی عملی زندگی کا محور بن گیا۔
گول میز کانفرنس کے بعد امّتُ السلام نے ہندو مسلم اتحاد کو اپنی زندگی کا بنیادی نصب العین بنا لیا۔ یہی نصب العین ان کے تمام فیصلوں، عملی اقدامات اور قربانیوں کی اساس قرار پایا۔ سندھ کے فسادات کے دوران ان کا جان ہتھیلی پر رکھ کر متاثرہ علاقوں میں جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ انھوں نے گاندھیائی اصولوں بالخصوص سچائی اور عدمِ تشدد کو کس حد تک اپنی عملی زندگی میں جذب کر لیا تھا۔ ان کے لیے یہ جدوجہد محض سیاسی سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک اخلاقی فریضہ تھی، جسے وہ پوری ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ نبھاتی رہیں۔ گاندھی جی نے سندھ بھیجتے وقت پیر عبداللہ ہارون رشید کو بی بی امت السلام کا تعارف کراتے ہوئے لکھا تھا:
“From her childhood she has been devoted to the cause of Hindu-Muslim unity۔ The murders that are taking place in Sind are worrying me no doubt, but Amtul Salaam also is worried۔ I am, therefore, sending her to you on the strength of our relations during the Khilafat movement۔ I think you can play a big role in stopping these murders۔ I am not thinking at the moment of the political aspect۔ It is a question of humanity۔ Behn Amtul Salaam does not know anything of politics and is not interested in it۔ She is a staunch Muslim۔ She is never irregular in reading the Koran۔ When she is not ill she observes the Ramadan strictly۔ She has been silently serving a good many Muslims۔ She is brave۔ She intends to lay down her life if these murders are not stopped, and I have fully encouraged her to do so۔ I hope that you will not misunderstand her or me in this۔ connection۔ I do not have with me a stauncher or nobler man or woman than she۔ And when she wishes to sacrifice her life to save the honour of Islam and serve the Hindus, I consider it my duty to give her my blessings۔”
گاندھی جی نے امت السلام کو بھی خط لکھا تھا کہ:
’’جیوں جیوں تیرا خیال کرتا ہوں تیری قدر بڑھتی ہے مجھے اچھا لگتا ہے۔ تجھے تیرا کام اپنی ذمہ داری پر کرنا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے تو یہی مشن لے کر میرے پاس آئی تھی ۔ اور تیرا ہی یہی مشن لے کر سندھ گئی تھی اور جائے گی۔ سندھ کے مسلمانوں کو تجھے بتانا ہے کہ سیاسی اور دوسرے معاملات میں خون خرابے، زبردستی یا جھوٹ سے انصاف نہیں ملتا ۔ تیرا سندھ جانا اور جان تک کی پروا نہ کرنا صرف قتل وغارت گری روکنے کے لئے ہے۔ یہ میرا مقصد تجھے بھیجنے میں تھا اور اب بھی ہے۔ خدا تیرا راستہ صاف کرے۔ دہی ایک رہنما ہے۔ اور تو ، میں سب اس کے بندے ہیں باقی سب جھوٹ ہے۔ باپو کی کروڑوں دعائیں‘‘
سندھ میں بی بی امّتُ السلام کی موجودگی محض علامتی نہ تھی بلکہ وہ عملی طور پر اُن دشوار گزار علاقوں تک پہنچیں جہاں عام لوگوں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ گھنے جنگلات، سنسان راستوں اور خوف زدہ بستیوں میں گھوڑوں پر سوار ہو کر جانا اور قتل و غارت کے خاتمے میں کردار ادا کرنا اس غیر معمولی اخلاقی جرات اور اعتماد کا مظہر تھا، جو انھیں مہاتما گاندھی کی صحبت اور رہنمائی سے حاصل ہوا تھا۔ اسی طرح نواکھالی فسادات کے دوران بھی وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ رہیں اور اتحادِ ملت کے فروغ کے لیے روزہ رکھ کر ان ہی کے ہاتھوں افطار کیا۔ مسلم خواتین میں ان کی تعمیری سرگرمیوں نے ایک نئے شعور کو جنم دیا اور عورت کے سماجی و اخلاقی کردار کو نمایاں کیا، جو دراصل گاندھیائی فلسفہ خدمت کا عملی اظہار تھا۔مزید برآں، مہاتما گاندھی نے امّتُ السلام کی محض حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ ان کی مسلسل تربیت کے ذریعے ان کے جوش کو ضبط، جذبات کو توازن اور قربانی کو حکمت میں ڈھالا، جس کے نتیجے میں ان کی شخصیت میں استقامت، عاجزی اور سنجیدگی پیدا ہوئی۔ گاندھی جی کی شہادت کے بعد بھی انھوں نے ان کے مشن کو جاری رکھا۔ مغویہ عورتوں کی بازیابی، سرحد پار سفر اور پاکستان تک جانا اسی فکر کا تسلسل تھا، جس میں انسانیت کو سیاست پر فوقیت حاصل ہے۔ یوں ان کی پوری زندگی اس امر کی روشن دلیل ہے کہ وہ گاندھیائی نظریات کو محض تسلیم کرنے والی نہیں بلکہ انھیں عملی طور پر جینے والی ایک باعمل شخصیت تھیں۔
یوں بی بی امّتُ السلام کی حیات اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک متمول اور روایت پسند پس منظر رکھنے والی خاتون، فکری بیداری، اخلاقی تربیت اور مہاتما گاندھی کی رہنمائی کے زیرِ اثر ایک ایسی باشعور، باعمل اور انسان دوست شخصیت میں ڈھل سکتی ہے، جس کی زندگی خدمت، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا ایک مربوط اور عملی نمونہ بن کر سامنے آتی ہے۔
امینہ طیب
امینہ طیب بھی اُن ممتاز خواتین میں شمار ہوتی ہیں جو مہاتما گاندھی کی فکر سے گہرے طور پر متاثر ہوئیں اور جن کی فکری و عملی تشکیل میں گاندھیائی تربیت کے اثرات نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ گجرات کے قومی رہنما عباس طیب کی اہلیہ اور برصغیر کے نامور سیاسی و سماجی رہنما بدرالدین طیب کی صاحبزادی تھیں۔ اس معزز اور باوقار خاندانی پس منظر نے ان کی شخصیت میں ابتدائی ہی سے قومی شعور، خدمتِ خلق اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو راسخ کر دیا۔
انھوں نے ابتدا ہی سے انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے وابستگی اختیار کی اور تحریکِ آزادی میں نہ صرف اپنے شوہر کی جدوجہد میں ثابت قدمی کے ساتھ معاونت کی بلکہ خود بھی ایک فعال اور باعمل کارکن کے طور پر سامنے آئیں۔ ان کی یہ سرگرمیاں محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ تھیں بلکہ ان میں تنظیمی فہم، سیاسی بصیرت اور عملی شرکت کا واضح امتزاج پایا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی کے مکتوبات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ انھوں نے عباس طیب کی جدوجہد کے ضمن میں ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کے کردار کو قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا، جو امینہ طیب جی کی مؤثر شرکت کا بین ثبوت ہے۔
تحریکِ آزادی کے ایک اہم مرحلے، یعنی ڈانڈی مارچ کے دوران، امینہ طیب کی خدمات کو ایک منظم اور نمایاں جہت اس وقت حاصل ہوئی جب مہاتما گاندھی نے انھیں ان کی بیٹی ریحانہ طیب کے ہمراہ گجراتی خواتین کی ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ کانفرنس دراصل خواتین کو قومی جدوجہد میں فعال اور منظم کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی، جس میں امینہ طیب نے نہایت بصیرت، سنجیدگی اور قائدانہ صلاحیت کے ساتھ شرکت کی۔اس کانفرنس میں شراب اور ولایتی کپڑوں کے بائیکاٹ کو تحریک کا بنیادی جز قرار دیا گیا ۔ مزید برآں، کھادی کے فروغ کو قومی خود انحصاری کی علامت کے طور پر اپناتے ہوئے خواتین نے سوت کاتنے، اس کی ترویج کرنے اور سماجی سطح پر اس رجحان کو عام کرنے کا عہد کیا۔خط میں مہاتما گاندھی لکھتے ہیں:
MY DEAR RAIHANA,
I have your letter۔ I would like you, Mother and others to attend here on Sunday۔ I am holding a conference of Gujarat women for the purpose of discussing the propriety and possibility of their tackling the problem of drink and foreign cloth۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے تشکیل دی گئی پانچ رکنی مجلسِ عاملہ کی صدارت امینہ طیب جی کے سپرد کی گئی، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور گاندھی جی کے اعتماد کا واضح مظہر ہے۔ بعد ازاں، جب اس تحریک کو مزید استحکام اور تنظیم درکار ہوئی تو مہاتما گاندھی نے امینہ طیب جی سے براہِ راست رجوع کیا اور انھیں اہم قومی امور میں شریک کیا۔ وائسرائے کے نام خطوط پر دستخط جیسے حساس اور ذمہ دارانہ فرائض ان کے سپرد کیے گئے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک بااعتماد، سنجیدہ اور فعال قیادت کے طور پر تسلیم کی جا چکی تھیں۔
یوں امینہ طیب جی کی حیاتِ عملی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ ایک باوقار خاندانی پس منظر، گاندھیائی فکر سے وابستگی اور عملی جدوجہد کے امتزاج نے ایک ایسی باشعور، منظم اور باعمل خاتون کو جنم دیا، جس نے تحریکِ آزادی میں خواتین کے کردار کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ اسے ایک بامعنی اور مؤثر سمت بھی عطا کی۔
بیگم سکینہ طیب
بیگم سکینہ لقمانی بھی اُن باوقار اور باہمت مسلم خواتین میں شمار ہوتی ہیں ،جو مہاتما گاندھی کی فکر سے اثرپذیر ہو کر تحریکِ آزادی کے عملی منظرنامے میں نمایاں ہوئیں، اور جن کی جدوجہد میں گاندھیائی اصولِ عدم تشدد، استقامت اور قومی یکجہتی کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ جسٹس بدرالدین طیب کی صاحبزادی تھیں اور ان کے شوہر سر لقمانی بمبئی کے معروف طبیب تھے۔ اس معزز خاندانی پس منظر نے ان کے اندر ابتدائی ہی سے قومی احساس اور جرأتِ کردار کو پروان چڑھایا۔
تحریکِ آزادی کے دوران شراب اور ولایتی کپڑوں کے بائیکاٹ کی مہم میں بیگم سکینہ لقمانی نے نہایت فعال اور مؤثر شرکت کی۔ گجراتی خواتین کی جانب سے وائسرائے کو ارسال کیے گئے خط پر ان کے دستخط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ محض تماشائی نہ تھیں بلکہ اس تحریک کی صفِ اوّل کی کارکن تھیں۔ وہ دکانوں کے قریب پُرامن دھرنا دے کر بیٹھتیں اور ان کی باوقار موجودگی ہی ایسی اثرانگیز تھی کہ خریدار آگے بڑھنے سے ہچکچاتے تھے۔ تاہم اس پُرامن احتجاج کو جواز بنا کر ان پر تشدد کا الزام عائد کیا گیا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ضلع تھانہ کے علاقہ کرلا میں ان پر مقدمہ قائم کیا گیا، جہاں انھیں چار ماہ قیدِ بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی گئی اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کا حکم دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر بھی کافی زیادہ تھی، چنانچہ اس سخت سزا نے ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ بمبئی میں خواتین نے ان کے حق میں جلوس نکالا اور مہادیو باغ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مقررین نے ان کی جرأت و استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس واقعے کو قومی بیداری کی علامت قرار دیا۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو جلد ہی ان کی سزا میں تخفیف کرنی پڑی اور قید کو نسبتاً آسان بنا دیا گیا۔
بیگم سکینہ لقمانی کی سیاسی بصیرت کا ایک نمایاں اظہار اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب مہاتما گاندھی کی گرفتاری کے بعد انھوں نے مسلم خواتین کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں گاندھی جی کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ وہ تحریکِ آزادی کو محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی فریضہ سمجھتی تھیں۔مزید برآں، مہاتما گاندھی کی شہادت کے موقع پر بمبئی میں نکالے گئے طویل جلوس کی قیادت انھوں نے اپنی ضعیف العمری کے باوجود خود سنبھالی۔ یہ عمل ان کے غیر متزلزل عزم، حوصلے اور گاندھیائی فکر سے گہری وابستگی کا بین ثبوت ہے۔
اس طرح بیگم سکینہ لقمانی کی حیاتِ عملی اس امر کی روشن مثال ہے کہ انھوں نے گاندھیائی اصولوں کو محض نظری سطح پر قبول نہیں کیا بلکہ انھیں اپنی عملی جدوجہد کا حصہ بنایا۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تحریکِ آزادی میں مسلم خواتین نے نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ اپنی استقامت، بصیرت اور جرأت کے ذریعے اس جدوجہد کو ایک ہمہ گیر قومی تحریک کی صورت دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یوں تحریکِ آزادی کے مطالعے سے یہ پہلو نمایاں طور پر ابھرتا ہے کہ مسلم خواتین نے اس جدوجہد میں محض ضمنی نہیں بلکہ ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کیا، اور ان کی اس عملی شرکت کے پسِ منظر میں ایک مضبوط فکری و اخلاقی تربیت کارفرما تھی۔ اس تناظر میں مہاتما گاندھی کی شخصیت بطور ایک اہم فکری محرک سامنے آتی ہے، جن کی رہنمائی، خطوط اور عملی اسوہ نے ان خواتین کی ذہنی تشکیل میں بنیادی اثر ڈالا۔آمنہ قریشی، بی بی امّتُ السلام، امینہ طیب اور بیگم سکینہ لقمانی کی زندگیوں سے واضح ہوتا ہے کہ گاندھیائی فکر نے ان کے اندر خدمت، قربانی، صبر اور قومی یکجہتی جیسے اوصاف کو مستحکم کیا اور انھیں ایک منظم جدوجہد کا حصہ بنایا۔ یہ خواتین محض تحریک کا حصہ ہی نہ بنیں بلکہ اپنی بصیرت اور عزم کے باعث اس کی مؤثر نمائندہ بھی ثابت ہوئیں۔ مزید برآں، زہرہ انصاری، ریحانہ طیب اور فاطمہ عریضی جیسی دیگر مسلم خواتین بھی اسی فکری دھارے سے متاثر ہو کر قومی جدوجہد میں شریک رہیں، جس سے یہ بات مزید تقویت پاتی ہے کہ یہ شرکت ایک وسیع تر فکری تحریک کا نتیجہ تھی۔ اس طرح مسلم خواتین کا کردار تحریکِ آزادی میں ایک باوقار اور مستقل حیثیت رکھتا ہے، جس کی بنیاد گاندھیائی فکر، اخلاقی تربیت اور عملی رہنمائی پر قائم تھی اور جس نے اس جدوجہد کو ایک ہمہ گیر قومی تحریک بنانے میں نمایاں حصہ ادا کیا۔

Tuba Idrees
H-20, Opposite Haji Complex
Joga Bai, Jamia Nagar, Okhla
New Delhi, 110025
Mob. 9990263581
Email: Tubaidrees687@gmail۔com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو انفارمیٹکس میں اطلاعاتی و معلوماتی ٹیکنالوجی کی اصطلاح،مضمون نگار:مکرم نیاز

اردو دنیا، مئی 2026: گذشتہ دو دہائیوں میں اردو زبان میں ایک نیا علمی و فنی شعبہ بتدریج ابھر کر سامنے آیا ہے جسے عموماً ’اردو اطلاعیات‘ یا ’اردو انفارمیٹکس‘

اردو اور کنڑا کا لسانی اور ثقافتی ارتباط،مضمون نگار:حلیمہ فردوس

اردو دنیا، اپریل 2026: عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شناخت کثیرلسانی اور کثیرثقافتی مزاج کے طورپر قائم ہے۔ یہاں سینکڑوں بولیاں اورزبانیں رائج ہیں۔ کسی مستشرق نے ’’ہندوستان کو

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ