ادبی ترجمہ : نظریات، تعبیر اور تخلیقی بازآفرینی،مضمون نگار:انتخاب حمید

August 28, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

زیرنظر مطالعہ اس استدلال پر استوار ہے کہ ترجمہ اپنی سرشت میں تعبیر و تخلیقی بازآفرینی سے عبارت ہے۔ ترجمہ اپنے طرز تعمل و تاثر خیزی میں ایک تہ دار تخلیقی عمل ہے نہ کہ خالص ’منتقلی‘ یا ’ نقالیـ‘،جیسے کہ اسے ترجمے کی روایت میں قرار دیا جاتا تھا۔ مختلف ترجمہ مطالعات و نظریات کی روشنی میں ان مفروضات اور تعصبات پر مبنی تصورات اور ان تحقیر و تضحیک آمیز اظہارکی نفی نظریاتی منطق و مباحث کے توسط سے کی گئی ہے۔دراصل ترجمہ اور نظریات ایک دوسرے کے لیے Complementary ہیں اور ایک دوسرے کو عملی اور دانشورانہ تاسیس فراہم کرتے ہیں۔ ترجمے کا عمل نظریاتی مباحث کے منطقی فریم ورک کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتا ہے تو نظریات ترجمے کو عملی وسعتیں فراہم کرتے ہیں۔ اگر چہ دونوں کے طریقۂ کار اور منصب و سروکار ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں مگر ایک دوسرے سے مربوط و منضبط بھی ہیں۔ دونوں کے طرزتفاعل کا منبع و محرک تہذیب و ثقافت ہے دونوں کی نشو و نما سماجی و دانشورانہ شعور کے زیرسایہ ہوتی ہے۔ آج کی عالمگیریت کے سیاق میں ترجمہ تو کجا، جو متفقہ طور پر اپنے وجود کے لیے ثانوی پوزیشن کا حامل ہوتا ہے، خود فن پارہ یا ماخذ متن بھی، اس شعور کی سایہ افگنی کے بغیر اپنے وجود کا تصور نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ بھی مسلمہ ہے کہ ترجمہ اپنی آزادی کے باوصف گرفتار ہے اپنی Definitions اور مفروضات کا۔ تاہم ترجمے کی اپنی سائیکی ہے، اپنا اور اپنے طرزِعمل کا ایک مزاج ہے۔ اس لیے اس سے توقعات بھی ویسے ہی Defined well ہونی چائیں۔
ترجمے کی اپنی خلقی وسعتیں ہیں، داخلی قوتیں ہیں۔ نظریہ ساز ترجمے کو مزید امکانات بہم پہچاتے ہیں۔ اس لیے عصر رواں کے اہم ترین ماہرین فن ترجمہ : والٹربنیامن، یوجین نائیڈا، جارج اسٹیز، برمن، انٹونیو، گڈامر، وینوتی لارنس و غیرہ کے نظریاتی مباحث کے حوالے دیے گئے ہیں کہ ترجمہ اور نظریے کے ربط و ارتباط کو واضح کیا جا سکے۔ اس کا دوسرا پہلو ماخذ متون سے متعلق ہے، وہ تمام فنکار جو متنوع متون کو عالم وجود میں لاتے ہیں اور جس کی معنوی نیرنگیاں متن کے پورپور میں بسی ہوتی ہیں اور جن کی پیچیدہ بیانیوں اور لسانی سحرکاریوں سے مترجم جوجھتا رہتا ہے ان میں سے کچھ اہم ترین فنکاروں کے متون اور ترجمے کے علمی اور عملی طریقہ ہاے کار کے مختلف مراحل اور توجہ خیز ثمرآوری واضح ہو سکے بورخیس، اتالوکالونیو، میلان کنڈیرا، فرانسیو لیوتار، فریڈریک جیمسن، ہیبرماس، رولاں بارتھ، بودیار، سیمون دی بوا، کشورناہید، لنڈاہچن، سلویاپلاتھ۔
کلیدی الفاظ
پوسٹ ماڈرنزم، پس نوآبادیات، میجک ریلزم، نظریہ۔ ثقافتی سامراج۔
———
ترجمہ، بلاشبہ تخلیق کی طرح خود مکتفی و خودکار واحدہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے وہ صنفی و جمالیاتی مقام حاصل ہے جو کسی طبع زاد فن پارے کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔ تاہم اس کی اہمیت و افادیت بلکہ عصررواں کے عالمگیر سیاق میں ترجمے کی ناگزیرت سے انکار یا انحراف کا کوئی معقول جواز کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔ ایسا رویہ اپنے منطقی انجام میں اقوام عالم کے مابین ربط، فکری و دانشورانہ ثروت مندی اور انسانی ارتقا کی کاوشوں میں سدراہ ثابت ہونے کے قوی امکانات رکھتا ہے۔ اس لیے کہ ترجمہ اپنی سرشت میں محض ایک زبان سے دوسری زبان میں ’منتقلی‘ کا عمل یا ’نقالی‘ نہیں ہے جو پچھلے زمانوں میں اس کی کارکردگی سے منسوب تھی۔ موجودہ دورمیں ترجمہ تہذیبی مکالمے کا حکم رکھتا ہے جو مترجم متن کے ساتھ وابستہ ثقافت اور ماخذ زبان کے مختلف ڈائمنشنز کو سمجھنے اور ثقافتوں کے مابین ہم آہنگی کے امکانات کی جستجو سے عبارت بھی ہے۔ ’ترجمہ‘ نہ صرف بین الثقافتی تفہیم کو ممکن بناتا ہے بلکہ تقابلی ادراکات کی اہم جہات کو بھی روشن کرتا ہے اور انہی ادراکات کے توسط سے خودشناسی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
اس تناظر میں ترجمے کے دائرہ کار اور اس کی تحدیدات کو سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ماخذ متن کی لسانی نفاستیں اور ثقافتی نزاکتیں اکثر ایسی ہوتی ہیں جو مترجمہ متن سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ کئی بار اس کی اظہاری دسترس سے بعید ہوتی ہیں۔ دراصل ترجمے کا عمل اپنی ایک مخصوص فطرت سے معنون ہوتا ہے اور اسی فطرت کے اندر اس کی کامیابی اور حدود دونوں متعین ہوتے ہیں۔ لہٰذا ترجمے سے اس کی فطری حدود سے ماورا توقعات وابستہ کرنا کہ وہ ماخذ متن کو اپنی ساختی، معنوی اورجمالیاتی کلیت کے ساتھ اپنے وجود میں سمولے، یا محض تعصبات یا مفروضات کی بنیاد پر اس کا جائزہ لینا، ایک ایسی فکری روش ہے جسے ایک قسم کا جذباتی مغالطہ (Pathetic fallacy اور جمالیاتی مغالطہ (Aesthetic fallacy) کے مترادف روش قرار دیا جاسکتا ہے جو نہ صرف ترجمے کی حقیقی قدر کو مسخ کرتی ہے بلکہ فہم و تعبیر کے عمل کو بھی گمراہ کن سمت میں لے جاتی ہے۔
ترجمہ اپنی ماہیت میں تخلیق نہیں بلکہ بازتخلیق کا عمل ہے۔ چنانچہ ترجمے کو اصل فن پارے کا متبادل، ہم پلہ یا ہم سر قرار دینا بجائے خود ایک تنقیدی مغالطہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک فکری التباس ہے جو تخلیق اور بازتخلیق کے بنیادی امتیاز کو نظرانداز کردیتا ہے۔ ترجمہ خواہ کتنا ہی کامیاب، بلیغ اور مؤثر کیوں نہ ہو، وہ اصل فن پارے کا قائم مقام نہیں بن سکتا۔ اسے ترجمہ ہی کہا جاتا ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ کوئی بھی عکس، عکسِ کامل نہیں ہوتا۔ ہر انعکاس اپنے ساتھ معانی کے متعدد رنگ اور سوالات کی ایک پوری کائنات لے کر آتا ہے جو مترجم کی منشا زاویۂ نظر اور فکری تشکیل سے عبارت ہوتی ہے۔ لہٰذا ترجمے کو اس کی مفروضہ یا واقعی کمیوں کی بنا پر سعی لاحاصل قرار دینا یا مترجم کو بے وفا اور غدار ٹھہرانا، نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی صحت مند تنقیدی رویہ۔ یہ تصور تنقید کی تاریخ میں ابتدا ہی سے غالب رہا ہے۔ ایک زمانے میں ترجمے کوسعیِ لاحاصل اور مترجم کو تضحیک و تحقیر آمیز القاب سے نوازا گیا۔ نو آبادیاتی دور میں تو اسے ’ زبان اور قوم کا دشمن‘ بلکہ’ دشمن کا آلۂ کار‘، ’’دلال‘ اور’مخبر‘ تک قرار دیا گیا۔ پس مابعد نوآبادیاتی تھیوری کسی نہ کسی سطح پر مترجم کے اس شعوری و لاشعوری انخراط (Implication) کی توثیق کرتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق استعمارزدہ معاشروں کے افراد، خواہ ارادی یا غیرارادی طور پر، شعوری یا لاشعوری سطح پر استعماریت کے مبلغ اور اس کے ایجنٹ بن جاتے ہیں۔ اطالوی محاورہ ‘Traduttore, traditore’ (مترجم، غدار) بھی طویل عرصے تک فکرترجمہ پر سایہ فگن رہا ہے۔ یہ مقولہ اس تصور کی نمائندگی کرتا ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں سوفیصد ترسیل ممکن نہیں، لہٰذا مترجم، اگرچہ غیرارادی سطح پر ہی سہی، اصل متن کے معنی میں تغیر پیدا کرتا ہے اور یوں مصنف سے ایک طرح کی ’غداری‘ کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔
تاہم ترجمے کی اہمیت مسلم رہی اور اس کی ضرورت ناگزیر اور ناقابل انکار و انحراف۔ پروفیسر محمدحسن نے اس ضمن میں کیا پتے کی بات کہی ہے :
’’اکثر ضرورت برائیوں کو اچھائیوں میں بدل دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک برائی ترجمہ بھی ہے۔ ٹرانسلیٹر (Translator) کو ٹریٹر (Traitor) یعنی غدار اور مترجم کو گندم نما جو فروش کہا گیا ہے۔ ترجمہ اگر اصل کا کام دینے لگے تو ترجمہ کیوں کہلائے۔ لازمی طور پر یہ اصل سے کم تر ہوگا اور جو کمتر ہوگا برائیوں میں کیوں نہ گنا جائے۔ مگر ضرورت کہتی ہے کہ عالمگیر آگہی کا نور اور سرور ایک دامن میں تو سمیٹنے سے رہا۔ جب تک ایک زبان کے بولنے والے دوسری زبانوں کے علم و آگہی، جذبے اور شعور، فکرواحساس تکنیک و سائنس تک پہنچنا چاہیں گے ترجمے کا سہارا لیں گے۔‘‘1؎
محولہ بالااقتباس میں دو باتیں ہیں جن پر زیرنظر عنوان کے تحت مباحث درج ہیں۔ ایک تو ہے ترجمے کے کمتر ہونے کے ضمن میں اور دوسری ہے ’’عالم گیر آگاہی کا نور و سرور ایک زبان کے دامن میں سمٹنے سے تورہا۔‘‘ پہلی سے قدرے اختلاف یا بہ الفاظ دیگر صراحت ہے اور دوسری سے راست اثبات کہ ایک زبان کے متن مین خلقی طور پر ہی کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو اسے ترجمے کی سمت ڈھکیلتے ہیں اور نتیجتاً ترجمہ باز تخلیق کی شکل میں رونما ہوتا ہے اور اس کے یہ ہونے ہی میں کمتر ہونے کا استرداد ہے۔
تاہم ترجمے کی اہمیت مسلم ہی رہی۔ علوم و فنون کے فروغ میں اس کے توسیعی کردار کے باعث برصغیر ہی نہیں ساری دنیا میں ترجمے پر بہار آئی ہوئی ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے درج ذیل سطور میں تو گویا ترجمے کی روایت کی تاریخ مرتب کردی ہے۔ لکھتے ہیں :
’’ترجمے کے ذریعے علم انسانی میں اضافہ کرنے والوں کا قافلہ بڑا شاندار ہے اور بہت طویل ہے۔ اس میں بڑے بڑے حلقے ہیں۔ اگلے سرے پر بوعلی سینا، درمیان میں والٹیر موجود ہیں توپچھلے سرے پر ڈاکٹرذاکرحسین اور پسترناک، عرب و عجم کے علما نے یونانی ہندو فلسفہ، طب، ہیئت، نجوم اور داستانوں کا عربی میں ترجمہ کر کے ان پر اپنی معلومات کے حاشیے چڑھا کر علمی دنیا سے خراج پایا۔ لاطینی و روسی کے ذریعے مشرق کو اور سنسکرت تراجم کے ذریعے مغرب کو اپنے زمانے کی تحقیقات سے باخبر کردیا۔ پھر زمانے نے کروٹ لی۔ والٹیر نے شیکسپیئر کا ترجمہ کر کے فرانسیسی زبان کے ذخیرے میں اور پسترناک نے روسی زبان کے ادب میں بیش بہا اضافے کیے اور خود اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سلسلۂ مستشرقین نے مشرق کے کلاسیکی ادب اور علمی کتابوں کو مغرب سے روشناس کرایا۔ اس دوطرفہ عمل نے مشرق و مغرب کی طنابیں کھینچ دیں اور باہمی خیروخبر کی گنگا دونوں سمت میں بہنے لگی۔‘‘2؎
عالم گیریت (Globalization) بیسویں اور اکیسویں صدی کا وہ سب سے بڑا تذنب اور فکری رجحان ہے جس نے انسانی دنیا کو ایک مربوط مگر پیچیدہ نظام میں تبدیل کردیا ہے۔ اس نظام نے نہ صرف معیشت، سیاست اور تکنالوجی کو متاثر کیا ہے بلکہ زبان، ادب اور ثقافت کے تصورات کو بھی بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ اس نئے عالمی سیاق میں ترجمہ ایک ثانوی یا تکنیکی عمل نہیں رہا بلکہ بنیادی تہذیبی ضرورت اور فکری ڈھانچے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس کے بغیر عالمی رابطہ ممکن نہیں۔
ترجمہ اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے ایک زبان میں موجود معنی، تجربہ اور نظریاتی و ثقافتی مواد دوسری زبان میں منتقل کیا جاتا ہے۔ تاہم جدید ترجمہ مطالعات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ منتقلی محض لفظی نہیں بلکہ یہ پیچیدہ بین الثقافتی (Intercultural) اور معنوی تشکیل نو (Sematic reconstruction) کا عمل ہے۔ اس لیے ترجمہ کو اب ایک تخلیقی اور نظریاتی سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔ عالمگیریت کے تناظر میں سب سے اہم تبدیلی علم کی عالمی گردش (Global circulation of knowledge) ہے۔ آج علم کسی ایک خطے یا زبان تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ مختلف لسانی اور تہذیبی نظاموں میںمسلسل منتقل ہورہا ہے۔ اس عمل میں ترجمہ محور کا درجہ رکھتا ہے۔
گلوبل تناظر میں ترجمہ کے تغیر پذیر کردار اور اس کی کثیرالجہت کارکردگی میں تھیوری کا بہت اہم رول رہا ہے۔ جہاں تک مختلف علوم و سائنسز کا تعلق ہے AI Google Translate, Chat GPT، مشین ٹرانسلیشن حیرت انگیز سرعت و لیاقت سے ترجمہ کررہے ہیں اور ان کی accuracy اکثر قابل اعتبار بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ وسائل تخلیق و ترجمہ دونوں کے لیے چلنج بھی ہیں۔ ان گلوبل تغیرات نے زبان وادب کے تصورات کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ اسی لیے اس نہج پر تھیوری ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گرچہ نہ تو ادب اور نہ ہی ترجمہ محض تھیوری کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں مگر ترجمہ اور ادب میں چولی دامن کا ساتھ ضرور ہے۔ ترجمے کی تھیوری اور عمل کا تعلق ایک دوسرے سے بہت گہرا ہے۔ ترجمے کی ایک بہترین تدوین کا نظریہ دراصل عملی تجربے سے ابھرتا ہے اور ایک کامیاب عملی ترجمہ اس کے بنیادی نظریاتی اصولوں کی روشنی میں اپنے طرزتعمل کا تعین ہی نہیں کرتا، اپنی بازتخلیقیت کو استناد بھی مہیا کرتا ہے۔ ذیل میں ترجمے کے کچھ نظریات کا ذکر ہے جو ترجمے کے دائرہ کار کی وسعت اور ماخذ متنی سروکار کے توسط سے جدید و مابعد جدید نظریات سے ترجمے کے انسلاکات کو واضح کرتا ہے جو ترجمے باز تخلیقی کردار پر دال ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک کے انقلابات میں ترجمے کا رول اب بدیہی ذکر ہوگیا ہے۔ صنفی، نسلی اور پاور ڈسکورسیز اور نزاعی نظریات نے زبان و ادب ہی نہیں سیاست، معیشت و معاشرت اور انسانی سائیکی اور اس کے رویوں میں جو انقلابی تبدیلیاں برپا کی ہیں اظہرمن الشمس ہیں۔ ادبی ترجمے کے نظری مباحث میں اس پورے فکری نظام کو ایک مربوط اکائی کے طور پر دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ ترجمہ روایتی تصورات سے پرے متن، معنی اور تہذیب کی مسلسل تشکیل نو کا عمل بھی ہے۔ اس تناظر میں ترجمہ ایک ایسا علمی و جمالیاتی مسئلہ بن جاتا ہے جس میں اصل اور نقل کی روایتی حدیں تحلیل ہونے لگی ہیں اور متن اپنی مختلف لسانی صورتوں میں ایک نئی زندگی اختیار کرتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ترجمہ کسی بھی صورت میں مکمل استحکام رکھنے والا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل حرکت میں رہنے والی تخلیقی سرگرمی ہے، جس میں ہر نئی قرأت ایک نئے ترجمے کے امکان کو جنم دیتی ہے۔ اس ضمن میں مابعد جدید ادبی و انتقادی نظریات اور ادبی متون پر ان کے اثرات پر توجہ بھی ضروری ہے، جن پر آگے کچھ مثالیں اور اشارے فراہم کیے گئے ہیں۔
یہاں چند نظریہ سازوں اور ماہرین نظریات کا ذکر خالی از دلچسپی نہیں ہوگا جن کی تحاریر ترجمے کے تغیر پذیر کردار اور اس کی بازتخلیقیت کی تصدیق کرتی ہیں۔ اور جو یہ واضح کرتی ہیں کہ ترجمہ نہ کمتر گردانا جا سکتا ہے اور نہ منتقلی محض۔
اس فکری پس منظر میں Walter Benjamin کا تصور ترجمہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ مترجمہ متن کے توسط سے ماخذ متن کی ’بعدالحیات‘ کا ایک دلچسپ تصور پیش کرتا ہے۔ بنیامین کے مطابق عظیم متن اپنی اصل زبان میں مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس میں ایک ایسی داخلی نامکملیت موجود ہوتی ہے جو اسے ترجمے کی طرف دھکیلتی ہے۔ ترجمہ اس نامکملیت کی تکمیل کا عمل ہے، لیکن یہ تکمیل حتمی نہیں بلکہ ایک ‘Afterlife’ ہے جس میں متن اپنی نئی لسانی شکل میں دوبارہ جنم لیتا ہے۔ اس تصور کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ زبانیں ایک ’خالص زبان‘ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو کسی ایک زبان میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوسکتی۔ ترجمہ اس پوشیدہ کلیت کی تلاش کا ایک مسلسل سفر ہے جس میں ہر زبان اس کلیت کی طرف ایک مختلف زاویے سے اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح ترجمہ ایک Ontological عمل بن جاتا ہے جومتن کے وجود کو وسعت دیتا بلکہ اسے جاری و ساری بھی رکھتا ہے۔ والٹر بنیامین کا مشہور مضمون “The Task of the Translator” اور بھی دوسرے معروضات اور وضاحتیں فراہم کرتا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ بنیامین کے یہاں عظیم متن ان عظمتوں کا حامل متن نہیں جو کلاسیکل معنی میں یا ’ ادب عالیہ‘ سے متصور تھا۔ بنیامین کے مطابق یہ وہ متن ہے جو اپنی زبان سے آگے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو، جس میں ترجمہ پذیری خوب ہو، جو مختلف زبانوں میں منقلب ہوکر نئے معنی پیدا کر سکے اور جس کی زندگی ترجمے کے ذریعے جاری و ساری رہ سکے۔ بہ الفاظ دیگر بنیامین کے یہاں ـ’ عظیم ‘ کا تعلق اس کی ادبی قوت اور ترجمہ پذیری ہے محض تاریخی Authenticity نہیں۔
رومن یاکوبسن کے نظریے میں ایک واضح Departure نظر آتا ہے۔ وہ انتقالِ معنی کے عمل کو تین طرح سے دیکھتے ہیں۔ ’درون لسانی ترجمہ‘، اس سے مراد ایک ہی زبان کے اندر معنی کی تشریح، توضیح یا نئی لفظی تشکیل ہے۔ جبکہ ’بین اللسانی ترجمہ‘ ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔ اس تصور کی روشنی میں ترجمہ ایک تعبیراتی عمل بن جاتا ہے، جس میں مترجم ظاہری معنی کے ساتھ اس کے علامتی، استعاراتی اور تہذیبی جہات کو بھی نئے تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔4؎ ’’بین السیمیاتی ترجمہــــ (Intersemiotic translation) زبانی (تحریرکردہ، لفظی) متن کودو سرے نظام علامات میں تبدیل کردیا جاتا ہے مثلاً ناول/افسانے کو قلم میں، کسی تصویر، شعر یا نظم کو رقص میں۔ چونکہ اس کی وجہ سے Adaptation اور ترجمے کے درمیان مباحثے کے امکانات ہیں جس کا یہاں محل ہے نہ اس مضمون کا اس بحث سے کوئی تعلق، اس لیے تفصیلات سے احتراز کیا جارہا ہے۔
یوجین نائڈا نے ترجمے کے مطالعے میں قاری کے کردار کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق کامیاب ترجمہ وہ ہے جو ہدفی زبان کے قاری میں تقریباً وہی تاثر پیدا کرے جو اصل متن اپنے اولین قاری میں پیدا کرتا ہے۔ اس نظریے نے لفظی مساوات کے بجائے معنوی اور تاثراتی مساوات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ نائڈا کے نظریے نے ادبی ترجمے میں بھی یہ سوال اٹھایا کہ مترجم کو لفظ سے وفادار ہونا چاہیے یا تجربے اور اثر سے۔5؎
ترجمہ شاہی میں تعبیر کے فلسفیانہ پہلو کو ہانس گئورگ گڈامر نے نئی معنویت عطا کی۔ ان کے نزدیک فہم کبھی غیرجانبدار نہیں ہوتی بلکہ ہر فہم ایک تعبیر ہوتی ہے۔ گڈامر کے تصور ’امتزاجِ آفاق‘ (Fusion of horizons) کے مطابق معنی اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب قاری یامترجم کا تاریخی اور ثقافتی افق متن کے افق سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ چنانچہ مترجم محض متن کے معنی دریافت نہیں کرتا بلکہ اپنے عہد، اپنے شعور اور اپنی ثقافت کی روشنی میں ان کی تعبیر بھی کرتا ہے۔ اس طرح ترجمہ ایک زندہ مکالمے کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس میں معانی ہر بار نئے سرے سے تشکیل پاتے ہیں۔6؎
جارج اسٹائنر نے گڈامر کے فلسفیانہ تصورات کو ترجمہ شناسی میں عملی صورت دی۔ ان کی کتاب’After Babel’ جدید ترجمہ شناسی کے اہم ترین متون میں شمار ہوتی ہے۔ اسٹائنر کے مطابق ترجمہ اعتماد (یہ اعتماد، اس مضمون میں مترجم کی مقصدیت سے منسوب ہے)، معنوی دراندازی، استیعاب اور تلافی کے مراحل پر مشتمل ایک ہر منیوٹک حرکت ہے۔ مترجم پہلے متن کے معنی پر اعتماد کرتا ہے، پھر اس کے معنوی نظام میں داخل ہوکر اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے بعد ان معانی کو اپنی زبان میں جذب کرتا ہے اور آخر میں اصل متن کے ساتھ توازن قائم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ اس نظریے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ترجمے کو محض لسانی سرگرمی نہیں بلکہ تخلیقی شرکت اور تعبیراتی عمل قرار دیتا ہے۔ اس اعتبار سے مترجم ایک شریک تخلیق بن جاتا ہے جو متن کو نئی زبان میں ازسرنو وجود عطا کرتا ہے۔ اسٹائنر ترجمہ کو ’ایک خطرناک فکری سفر‘ کہتے ہیں۔ اسٹائنر کا رویہ’دراندازی ـ‘میں قدرے سخت ہے۔ وہ اسے Aggression کہتے ہیں جو دوسری صورت میں مترجم کی مقصد مرکوز مداخلت یا Interpretation یا متن کی گہرائی میں اُتر کر اسی کی گرہ کشائی کرنے کے عمل سے منسوب ہے اور جس کا ذکر، اس مضمون میں کیا جا چکا ہے۔7؎
انتوان برمن نے ترجمے کے اخلاقی اور ثقافتی پہلو کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک اصل متن کی ’غیریت‘ یا ’اجنبیت‘ (Foreignness) کا احترام مترجم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ برمن اس رجحان پر تنقید کرتے ہیں، جس کے تحت مترجم غیرملکی متن کو مکمل طور پر مقامی ثقافت میں ضم کر دیتا ہے۔ (Domestication) ان کے نزدیک ادبی ترجمہ تبھی کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے جب وہ اصل متن کی تہذیبی انفرادیت، لسانی ساخت اور ثقافتی امتیاز کو محفوظ رکھتے ہوئے قاری کو ایک مختلف تجربۂ معنی سے آشنا کرے۔ آگے اس کا ذکر بھی ہے اور مثال/مثالیں بھی جو مترجم کی خودروی اور ماخذ متن سے غیرمعمولی یا بلاسبب Departure درج کرتی ہے۔ اس طرح ترجمہ مختلف ثقافتوں کے درمیان حقیقی مکالمے کا ذریعہ بنتا ہے۔8؎
لارنس وینیوٹی نے برمن کے تصور کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مترجم کی ’مرئیت‘ کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق ترجمے کی روایتی تنقید مترجم کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے اور یہ تصور پیدا کرتی ہے کہ ترجمہ گویا خودبخود وجود میں آگیا ہو۔ وینیوٹی اس تصور کو رد کرتے ہوئے مترجم کی تخلیقی اور ثقافتی موجودگی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کے تصورات ’مانوس کاری‘ اور ’اجنبی کاری‘ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ مترجم کس طرح اصل متن اور ہدفی ثقافت کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ وینیوٹی کے نزدیک ادبی ترجمہ ایک ایسا تخلیقی عمل ہے جو قاری کو دوسری ثقافت کے تجربے سے روبرو کرتا ہے اور متن کی اجنبیت کو محفوظ رکھتے ہوئے نئے معنی پیدا کرتا ہے۔9؎
بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں عالمی ادبی اور فکری منظرنامے میں دو بڑی انقلابی تبدیلیاں ہوئیں : مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی فکر۔ ان دونوں رجحانات نے ادب اور اصنافِ ادب کی ماہیئت کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ اس پس منظر میں مترجم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اسے درپیش صورت حال کے تحت وہ اپنے بازتخلیقی کردار کا تحفظ کیسے کرے گا، اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔ ترجمے کے لیے متن کا انتخاب کیسے ہو؟ اس انتخاب کا جواز اور حاصل کیا ہوگا۔ ان تغیرات کے زیراثر جو متون وجود میں آرہے ہیں، ان کا Nature اور Texuture کیسا ہے۔ ان کی تفہیم، تعبیر و ترجمے کے تقاضے کیا ہیں؟ عالمی سطح پر جس طرح کا ادب تخلیق ہورہا ہے وہ ادب اور اس کے ادب کے اصناف کا تخلیقی برتاؤ کیا ہے؟ کیا اس طرح کے متون ہمارے یہاں موجود ہیں یا نہ موجود ہونے کی صورت میں ترجمے کی شکل میں درآمد کیا جاسکتا۔ اس لیے مختصراً ہی سہی ان سے واقفیت بہت ضروری ہے۔
مابعد جدیدیت بیسویں صدی کے نصف آخر میں ابھرنے والا ایک فکری، ثقافتی، ادبی و فلسفیانہ رجحان (تحریک؟) ہے جو جدیدیت کی آفاقی سچائی، عقلیت، پیش رفت، مرکزیت اور وحدتِ معنی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ مابعدجدید مفکرین کے نزدیک حقیقت، شناخت، تاریخ اور معنی کوئی قطعی اور مستقل مظاہر نہیں ہیں بلکہ زبان، ثقافت، طاقت اور سماجی بیانیوں کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ Hans Bertens اپنی The Idea of the Postmdern A History میں لکھتے ہیں کہ مابعدجدیدیت یقین، مرکزیت اور کلی سچائیوں کے بارے میں شکوک کو فروغ دیتی ہے۔10؎ مابعدجدیدیت کی سب سے مشہور تعریف ژاں فرانسیولیوتار نے کی ہے۔ وہ اسے ’کلی بیانیوں پر عدم اعتماد‘ کا نام دیتا ہے، Incredulity towards metanarratives 11؎ اس عظیم بیانیے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مارکسزم، نظریۂ ترقی، سائنسی عقلیت یہ سب عظیم بیانیے ہیں جو انسان کو آفاقی سچائی پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مابعدجدیدیت ان دعوؤں پر یقین نہیں کرتی۔ وہ جزوی اور متنوع بیانیوں کو اہم گردانتی ہے۔ ژاک دریدہ نے براہ راست مابعدجدیدت کی کوئی تعریف پیش نہیں کی لیکن اس کا نظریہ مابعدجدید فکر کی بنیادوں میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی شہرہ آفاق کتاب Of Grammatology میں دریدا نے مغربی مابعدالطبیعات کی دوئیوں اور ’حضوری/حاضریت‘ (Metaphysics of Presence) پر تنقید کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ معانی کبھی قطعی اور مستحکم نہیں ہوتے بلکہ مسلسل التوا اور اختلاف (Differance) کے عمل میں تشکیل پاتے ہیں۔ وضاحت اور قطعیت کی جگہ ابہام اور کثیرالمعنویت دریدا کے یہاں اہم ہوگئے، نتیجتاً علامتیں، متضاد اور موقوف و محذوف نے متن کو کھلا (Open) اور Open-ended کردیا۔12؎
فوکو (Michel Foucault) اس بحث میں ایک بہت اہم مفکر ہے۔ اس کی تین کتابیں مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیاتی مباحث میں مرکزی مقام رکھتی ہیں۔ The Archaelogy of knowledge, Discipline and Punish اور History of Sexuality The فوکو کے مطابق پاور کوئی آفاقی شے نہیں بلکہ طاقت حقیقت کے نظاموں سے پیدا کی جاتی ہے۔ سچائی اسی دنیا کے طاقتوروں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ طاقت اور علم ایک دوسرے کو پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے علم غیرجانبدار نہیں اور ہر عہد اپنا نظام صداقت پیدا کرتا ہے۔ علم = طاقت۔ اس کا penepticon کا تصور اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ کوئی آزاد نہیں، مسلسل نگرانی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے فکشن میں ایسبرڈ چھایا ہوا نظر آتا ہے۔
ژاں بودریار (Jean Baudrillard) اس ضمن میں ایک اور مشہور مابعدجدید مفکر ہے جس نے عصررواں کی سائیکی اور معاشرے کے کذب و ریا اور تصنع آمیزی کی گرہ کشائی اپنے ایک مخصوص انداز میں کی۔ اس کی کتاب Simulacra and Simulation بڑی اہم سمجھی جاتی ہے۔ بودریار کے مطابق جدید میڈیا اور سرمایہ دارانہ معاشرہ ایسی تصویریں اور نمائندگیاں پیدا کرتا ہے جو اصل حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوجاتی ہیں۔Hyper reality کا تصور اسی خیال سے عبارت ہے کہ انسان حقیقت سے زیادہ اس کی مصنوعی شبیہوں (Representations) میں زندہ رہتا ہے۔ تنقید اور تخلیقی discourses میں اصطلاح بڑی گردش میں رہی۔14؎ کیونکہ یہ تصور انسانی ابتذال کا مدلل نظریہ پیش کرتا ہے کہ جدید دنیا میں نقل (Simulation) حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوگئی ہے۔ انسان نمائندگیوں میں زندہ رہتا ہے، مثلاً ٹی وی، سوشل میڈیا، ریلس، فلمیں۔ بودریار کا Simulacra کا تصور بھی دلچسپ ہے۔ Simulacra ایک ایسی نقل ہے جس کی اب کوئی اصل (Original) نہیں، یعنی پہلے اصل ہوتی تھی پھر نقل بنتی تھی، اب نقل ہی حقیقت بن گئی ہے۔ اس نظریے کے تحت فکشن میں جو تبدیلیاں آئی ہیں انھیں مختصراً یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ حقیقت اور فکشن کی سرحدیں تحلیل ہونے لگتی ہیں۔ تاریخ اور افسانہ ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں اور مابعدجدید ناول حقیقت کی بجائے حقیقت کی تشکیل کے عمل کو موضوع بناتا ہے۔ بورخیس، ایٹولو کالوینو اور میلان کنڈیرا پر یہ اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ تاریخ اور فکشن کے انضمام کا حوالہ Linda Hutcheon کے یہاں بھی نظر آتا ہے۔ فریڈرک جیمسن کا نظریہ مابعدجدیدیت کو ثقافتی منطق قرار دیتا ہے جب کہ وہ ایسی علامات سے منسوب ہے جو حقیقت کو بے دخل کرچکی ہے۔ جیمسن مابعد جدید ثقافت کی معاشی بنیادوں پر زور دیتا ہے۔ دوسری طرف بودریار اس کے علامتی اور میڈیا سے پیدا ہونے والے اثرات کی وضاحت کرتا ہے۔ دونوں نظریات ترجمے کو محض لسانی منتقلی کی بجائے ایک ثقافتی اور معنوی بازتشکیل Reconstruction/Recreation قرار دیتے ہیں۔ لنڈاہچن (Linda Hutcheon) کی ایک اصطلاح بڑی معنی خیز ثابت ہوئی۔ Historiographic Meta Fiction وہ حسیت تاریخ کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کا یہ نظریہ دو نقاط نظر پر مشتمل ہے۔ تاریخ/تاریخ نویسی اور Metafiction۔ ہچن کے اس نظریۂ تاریخ اور فکشن کے درمیان قائم روایتی امتیاز کو چیلنج کرتے ہوئے یہ واضح کرتی ہیں کہ ماضی تک رسائی ہمیشہ بیانیے اور تعبیر ہی کے ذریعے ممکن ہے کیونکہ تاریخ ماضی کی تعبیر ہوتی ہے، ماضی کا عکسِ راست نہیں ہوتی۔ اگر تاریخ ایک تعبیر ہے اور فکشن اس تعبیر کی نئی تعبیر کرتا ہے تو ناول ایک بازآفرینی یا Recreation ہے اور تاریخ ایک بازبیانی Renarration اس منطق کا انطباق ترجمے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ترجمہ بھی متن کو نئے لسانی اور ثقافتی سیاق میں ازسرنو تخلیق کرتا ہے۔ یہ تو مستزاد ہے۔ مقصودِنظر ماخذ متن کا کردار اور اس کی طرزِ گفتار کی جانب اور اِس بدلتے منظرنامے میں ادب کے طرزِتعمل کی جانب۔ اور ان فکشنل موڈز کی جانب جن کا سخت گیرمحاسبہ واجب الادا قرض ہے مترجم پر۔16؎
مغرب میں تو ان تجربات اور تغیرخیز ادراکات کے فکشن میں بے شمار مثالیں ہیں، مثلاً فکشن کے تاریخ میں اور تاریخ کے فکشن میں ضم و مدغم اور فکشن کی تاریخ میں، پھر فوق الحقیقت فکشن و بیانیہ کی Self-reflexivity، بین المتونیت اور بین العلومیت کا تصرف۔ Midnight’s Children، ـThe French Lieutenant’s, Women اور The Name of Rose کردارسازی، زبان کی کرشمہ سازی کا عجیب عالم ہے ان ناولوں میں۔ اردو میں شمس الرحمن فاروقی کا کئی چاند تھے سرآسماں، اور انتظار حسین کا بستی Historiographic Fiction کے قریب آتے ہیں کیونکہ ان میں تاریخ، یادداشت، تہذیب روایت اور افسانوی تشکیل ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں۔ مغرب میں مابعدجدید فکشن میں تجرباتی فکشن یا ادب میں Ideology کی اور خصوصاً مزاحمت کیIdeology کی شمولیت اور کچھ امتیازی اوصاف ہیں جن پر نہ صرف فکشن نگار بلکہ مترجم کو خصوصی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ مذکورہ بالا تینوں ناول، ناول بھی ہیں، تاریخ بھی ہیں اور تاریخ کی تنقید بھی ہے اور اپنی افسانوی حیثیت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ Italo Calvino، اطالوکالینو If on a winters traveler جس میں قاری ناول کا کردار بن جاتا ہے، ناول یہ یاد دلاتا رہتا ہے کہ آپ ناول پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
پس نوآدیاتی تصورات پر ایک نظر ادب اور ترجمے کے مابین Ideological پس منظر میں رشتے اور ترجمے کی تعبیری اور تخلیقی باز آفرینی کمی کے حساسی اور دانشورانہ ڈائمنشنز سمجھنے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔ پس نوآبادیاتی نظریہ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ابھرنے والا ایک تنقیدی نظریہ ہے جو نوآبادیاتی (Colonial) اقتدا کے سیاسی، ثقافتی، لسانی اور فکری اثرات کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ نظریہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ استعماری طاقتوں نے محکوم اقوام کی تاریخ، ثقافت، زبان اور شناخت کو کس طرح تشکیل دیا اور آزادی کے بعد بھی ان اثرات نے کس طرح اپنا وجود برقرار رکھا۔ Edward Said نے Orientalism میں یہ بحث کی ہے کہ مغرب کو مشرق میں غیرجانبدار Construct کے طور پر نہیں بلکہ اسے اپنے اقتدار کا استحکام مقصود تھا۔ مشرق کو پُراسرار، غیرعقلی، جامد اور پسماندہ دکھایا گیا جبکہ مغرب کو ترقی یافتہ، عقلی اور مہذب قرار دیا گیا، اس طرح شرقیت (Orientalism) باہمی تعلق کی ایک مثال بن جاتی ہے۔17؎
ایڈورڈسعید کی دوسری اہم کتاب Cultural Imperialism (ثقافتی سامراجیت) خود توجیہی عنوان ہے۔ ثقافتی سامراج سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے ایک طاقتور قوم نے اپنی تہذیب اپنی زبان، اقدار، طرززندگی، تعلیمی نظام، میڈیا اور ثقافتی تصورات کو دوسری اقوام پر مسلط کردی ہے۔ ایسی صورت میں سیاسی آزادی حاصل ہونے کے باوجود فکری اور ثقافتی انحصار برقرار رہتا ہے۔ پس نوآبادیاتی مفکرین کے نزدیک نوآبادیاتی دور کے بعد بھی مغربی ثقافت، میڈیا، زبان اور علمی تصورات تیسری دنیا کے معاشروں پر اثرانداز رہتے ہیں۔ معروف مفکر Herbert Schiller کے مطابق ثقافتی سامراج وہ عمل ہے جس کے ذریعے طاقتور معاشرے اپنی اقدار اور ارادے کمزور معاشروں پر مسلط کرتے ہیں۔
جب اس نظری فریم کو مابعدجدید فکشن کے ساتھ جوڑا جائے تو ماخذ کے تخلیقی باز آفریں تقاضے واضح ہوجاتے ہیں۔ Jorge Luis Borges کے ہاں متن ایک ایسا نظام ہے جس میں اصل اور نقل کی حدیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ان کی مشہور کہانی “Pierre Menard” اس بات کی علامت ہے کہ ایک ہی متن مختلف تاریخی سیاق میں مکمل طور پر مختلف معنی رکھ سکتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ متن خود ایک غیرمستحکم وجود ہے اور ترجمہ اس غیراستحکام کو نئی زبان میں تشکیل کرتا ہے۔
Italo Calvino کے ہاں متن اپنی تخلیق کے عمل کو خود موضوع بناتا ہے۔ قاری مسلسل ٹوٹتے ہوئے بیانیوں کے درمیان حرکت کرتا ہے اور متن ایک مکمل اکائی کے بجائے ایک مسلسل بنتا ہوا نظام دکھائی دیتا ہے۔ اس صورت حال میں ترجمہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ساخت، بیانیہ اور قاری کے تجربے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح لاطینی فکشن میں Gabriel Garcia Marquez اور Mario Vargas Llosa کے یہاں ترجمہ ایک تہذیبی مسئلہ بن جاتا ہے۔ مارکیز کے یہاں جادوئی حقیقت نگاری ایک ایسا بیانیہ نظام ہے جس میں تاریخ، اساطیر اور حقیقت ایک دوسرے میں مدغم ہیں، اس لیے اس کا ترجمہ صرف لسانی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی بازآفرینی ہے۔ یوسا کے یہاں سیاسی، نفسیاتی اور تاریخی بیانیے ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جس سے ترجمہ ایک کثیرسطحی تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔
مابعدجدیدیت میں ترجمہ تعبیراتی شکل میں نظر آتا ہے لیکن پس نوآبادیاتی نیتی نظریے نے اس کی تعبیرات کو طاقت، ثقافت اور شناخت کے سوالات سے جوڑ دیا۔ چنانچہ ترجمہ محض لسانی منتقلی نہیں بلکہ ثقافتی مذاکرات، معنی کی تشکیل نو اور محکوم آوازوں کی بازیافت کا تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں مترجم ایک ناقل نہیں بلکہ ثقافتی تعبیرکار اور تخلیق کار کا شریک کار اور ترجمہ تخلیقی بازآفرینی کا حکم رکھتا ہے۔ مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات نے متن کو ایک کھلے نظام (Open system) میں تبدیل کردیا ہے جس میں معنی مصنف کی طرف سے متعین نہیں ہوتے بلکہ قرأت، تعبیر اور ثقافتی سیاق کے ذریعے مسلسل تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ ایتالوکالوینو، بورخس اور میلان کنڈیرا کے فکشن میں یہ ادبی سطح پر ظاہر ہوتا ہے جبکہ دریدا، بارتھ، لیفیویر، اسپیوک اور بھابھا اسی عمل کی نظریاتی توضیح سیاق میں متن کو نئی معنوی زندگی عطا کرتی ہے۔
اردو کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ برصغیر میں مترجمین کی قابل لحاظ تعداد بڑی سنجیدگی سے اردومیں ترجمے کررہی ہے۔ اتنی ہی اشد ضرورت اردو سے دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے کی بھی ہے۔ اردو کو اپنے قابل رشک اوصاف کے باوصف عالمی سطح پر تقابلی ادب کے شعبوں میں ہنوز وہ مقام حاصل نہیں ہے جو بھارت کی مختلف زبانوں میں لکھے گئے دلت ادب کو انگریزی تراجم کے توسط سے حاصل ہے۔ تارکین وطن کا کنٹریبیوشن بھی لائق تحسین ہے۔ ڈاکٹرعمر مینن نے اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں جو تراجم کیے ہیں وہ گوئٹے سے متصور عالمی ادب کی سمت اردو زبان و ادب کی قابل قدر پیش رفت ہے۔ ڈاکٹرعمرمینن نے ماریوورگس یوسا کے ’نوجوان ناول نگار کے خطوط‘ پر مبنی بعنوان ’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘ ترجمہ کیا۔ اور اس پر محمد حمید شاہد نے ڈاکٹر عمرمینن سے جو ڈیجیٹل مکالمہ استوار کیا، وہ فکشن کی تخلیق، اسلوب، تکنیک، کردار اور بیانیہ سے متعلق بہت اہم ہے۔ عمرمینن کایہ ترجمہ تشکیل نو کی ایک توجہ طلب مثال ہے جو قاری ہی نہیں خود ناول نگار کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ نیویارک (امریکہ) میں مقیم پاکستانی نژاد فکشن نگار سعیدنقوی ایک کثیرالجہت مترجم ہیں۔ انہوں نے عالم ادب کے تین بڑے ناولوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے : جان اسٹائن بیک : The Grapes of Wrath ’اشتعال کی فصل‘، ٹونی موریسن : Beloved ’دلاری‘ اور میلان کنڈیرا : The Unbearable Lightness of Being ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘۔ اول الذکر دونوں امریکی ناولس ہیں۔ پہلا 1930 کی دہائی ’کسادبازاری‘ اور عظیم معاشی بحران کی المناک داستان ہے۔ جبکہ دوسرا ناول غلامی کے لرزہ خیز تجربات اور ان کے اذیت ناک نفسیاتی اثرات کا بیانیہ ہے اور تیسرا ناول محبت، سیاست، آزادی اور وجودی بے معنویت کابیانیہ ہے جو مانوس کو نامانوسیانے کی ایک توجہ خیز مثال ہے۔ ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ ناول کے فلسفیانہ اسلوب کے توسط سے برتے گئے معمولاتی مسائل ماخذ متن کے بہت قریب اور تلازماتی امکانات سے باخبر بیانیہ ہے۔ سعید نقوی ایک مشاق مترجم ہیں، زبان کے تصرف کے فن سے خوب واقف ہیں۔ ان کے ترجمہ کردہ متون کا اہم ترین وصف فضا سازی ہے جو تخلیق میں تو سہل الحصول ہوتی ہے کہ فکشن نگار خود خالق ہے اور اپنے متن و معنی کا نبض شناس بھی، لیکن ماخذ متن کی افسانوی فضا کو ہدفی زبان کی تلفیظ سے ہم آہنگ کرنا دونوں زبانوں کے Nunces پر قدرت طلب کرتا ہے۔ سعید نقوی کے یہ تینوں متون تخلیقی باز آفرینی کی قابل قدر مثالیں ہیں۔ بیداربخت (کینیڈا) کے شعری تراجم بھی بازتخلیق کا اختصاص رکھتے ہیں۔ بھارت میں بھی مترجمین کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ ارجمندآرا ایک مشاق اور متجسس مترجم ہیں۔ عصررواں کے علمی و ادبی ڈسکورسیز پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ دانشورانہ اور نظریاتی متون کے ان کے تراجم بازتخلیق کی احتیاجات اور اس کی نفاستوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ ان کے علاوہ یعقوب یاور، احسن ایوبی، تصنیف حیدر اور خورشیدعالم مسلسل ترجمے کرتے رہتے ہیں۔
ترجمہ ایک ایسا دانشورانہ عمل ہے جو تخلیق سے بھی زیادہ دقت طلب ہے۔ دو زبانوں پر یکساں عبور، زبان کو Twist کرنے کی صلاحیت، دونوں زبانوں کے ادب اور خصوصاً ماخذ اور ہدف صنف کی دہ مختلف تاریخی روایات اور معیاری تخلیقات سے کماحقہٗ واقفیت، وسیع مطالعات، تحقیق و تجسس کی طلب، گنجینہ ہائے فن سے موتی کو پر کھنے اور چن کر سجا لینے کی للک۔ عزم و حوصلہ ایساکہ راہ کو پُرخار دیکھ کر جی خوش ہوتا رہے۔ کیونکہ ترجمے کے اس ’پُرخطر سفر‘ میں اس کے پاؤں لہولہان ہوتے تو ضرور ہیں مگر اس کا سفر جاری رہتا ہے۔ اکثر ’تلاش‘ اس کے اس سفر کا محرک ہوتی ہے۔ تلاش ایسے عناصر، ایسے پہلوؤں کی جو اس کے اپنے ادب میں کمیاب یا نایاب ہیں، ’تلاش‘ جو کبھی موضوعات سے عبارت ہو، کبھی تخلیقی Perceptions کی کم مائیگی یا بے مائیگی سے، کبھی نظریات کی تہہ داریوں سے اور ان کے تہہ نشین بہیمانہ / ہمدردانہ رویوں سے جو گلوبلائزیشن کے تناظر میں تخلیقی تاسیس کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
تلاش متنوع اظہاری اسلوب سے بھی عبارت ہوتی ہے کہ کیونکر اور کیسے Indigenous اسالیب میں نئے رنگوں کی آمیزش کی جا سکتی ہے۔ اور اس سے بھی کہ موجودہ سیاق میں نزاعی نظریات کے ادب کی افہام و تفہیم اور تراجم میں، یا تخلیقیت کے نہاں خانوں میں ان کی تخم ریزی کی جا سکتی ہے۔ اور اس سے بھی کہ غیراطمینان بخش طرز تعامل یا تصرف کا سد باب کیسے ہو؟ کون سے متون ان سوالات اور ان جیسے دوسرے کئی سوالات کے عملی جوابات فراہم کر سکتے ہیں۔ اذیت ناک تلاش!، جو مترجم کا مقدر ہے، اور اس کے عزم و حوصلے کے لیے فردو سِ نگاہ بھی۔
ترجمے کے میدان عمل میں منظوم ترجمہ /غزل کا ترجمہ ایک لاینحل مسئلہ ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق تو شاعری میں کچھ عناصر تقریباً ناقابل ترجمہ ہیں۔ مثلاً صوتی آہنگ، ثقافتی اشارت، تاریخی معنوی تہیں اور غزل کی مخصوص Semantic ambiguity۔
گوپی چند نارنگ نے مختلف اصناف ادب کے تراجم کے مؤثر و باوقار ہونے کا ذکر کیا ہے تا ہم ان میں شعری متون بھی شامل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ :
’’ادبی اور شعری متون کا ترجمہ اس وقت تک باوقار اور مؤثر نہیں ہوسکتا جب تک مترجم مآخذ زبان کے تہذیبی تلازمات اور ہدف زبان کی لسانیاتی لچک پر یکساں قدرت نہ رکھتاہو۔، اس کے باطنی آہنگ کی بازآفرینی ہے۔‘‘19؎
منثورترجمے کی طرح منظوم تعبیرصرف مفہوم ومعنی کی ازسرِ نوتعمیریابازیافت ہی تک محدودنہیں رہتی،بلکہ ہیئت،پیرایۂ اظہار اورزبان وبیان کی ترنم خیزی اورمعنوی امکانات سے منسلک اورمربوط ہوتی ہے اوراسی لیے ترجمہ بازتخلیق کا حکم بھی رکھتا ہے لیکن نا تجربہ کارمترجم ایک کے حصول کے لیے دوسرے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںاورمجروح ہوتی ہے شہ پاروں کی روح، اس کی تاثراتی اکائی۔کئی بار ترجمہ ایک مضحکہ خیز ترجمانی ہو کر رہ جاتا ہے۔ ترجمہ میں خارجی اورداخلی نظام کے مابین انضباط خصوصاًمنظوم ترجمہ میں اسی وقت ممکن ہے جب اصل اورتعبیر دونوں ہی کے پس منظر اورسرمایۂ زبان و بیا ن، ان کے تلازمات، تشبیہات، استعارات، تلمیحات اور سماجی تصورات میں مطابقت وموافقت اوراقدارمشترک ہوں کیونکہ کوئی بھی فن پارہ خلائوں میں متشکل نہیں ہوتا۔اس کی جڑیں اپنی زمین میں پیوست ہوتی ہیں اورتہذیب وثقافت اس کی آبیاری کرتے ہیں۔اس کے وجود کے پس پردہ کئی عوامل کارفرماہوتے ہیںاورزیریں سطح پرتاریخ کی جدلیات طرزہائے معاشرت،منطقی واساطیری روایات اورتصوراتِ حیات وکائنات متحرک ومرتعش ہوتے ہیںجو اس فن پارہ کے مزاج اوررنگ وآہنگ کی تہذیب کرتے ہیں۔ اسی لیے لفظ کوصرف ایک لسانی اکائی سے منسوب نہیں کیاجاسکتا۔نہ اظہارومعنی کی جہت یا جہتوں کاقطعیت کے ساتھ تعین کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ متن کی تہہ داریوں اورپیچیدہ ساخت کے تحت کئی نظریات اورتھیوریزوجود میں آئیں۔
دراصل 1950 کے بعد کا دور تھیوریز اور نظریہ سازی کا دور ہے۔ لسانی،ادبی وانتقادی نظریات کی یورش اورریڈیکل تھیوریز نے قرأت اورادب کی افہام وتفہیم سے متعلق رویوں کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیاہے۔مزید برآں ثقافتی یلغار اور دانشورانہ سامراجیت کے تناظر میں ترجمے کا عمل اوربھی زیادہ مشکل مگراہم ترہوجاتاہے کہ اسے شہ پارے کی لسانی ساخت کی تہہ دارپیچیدگی اورکثیرالصوتی پہلو کوملحوظ ومحفوظ رکھنا بھی ہوتا ہے۔ تخلیق کارکی طرح مترجم بھی تہذیبی و ادبی معیار اور اعلی انسانی اقدار کے تعین و تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس نہج پر اردو میں Discourses کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عصمت جاوید شیخ نے مختلف زبانوں کی منتخبہ شاعری کے اردو تراجم کے مجموعے بعنوان ’ اور پھر بیاں اپنا‘ میں سریش بھٹ کی مراٹھی نعت کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ جسے اچھا ترجمہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ریاست مہاراشٹر میں اردومراٹھی کلچر کی تقربات اور Affinityہے۔اوردوسری وجہ یہ ہے کہ نعت بنیادی طورپرمترجم کے لاشعورکاجزولاینفک بھی ہوتی ہے۔چنانچہ وہ اس صنف کی روایات ولوازمات سے واقف اوران پرعالمانہ دسترس بھی رکھتے ہیں۔موضوع اورزبان کی مطابقت کی وجہ سے لفظی متبادلات نہایت فطری اندازمیں امڈے چلے آتے ہیں۔اس لیے ترجمہ اس قدررواں دواں ہے کہ اصل سے قطع نظر بھی یہ ترجمہ طبع زاد اوراپنے آپ میں ایک مکمل اکائی نظر آتاہے۔چونکہ مترجم نے اصل کی بحر اورمقفّیٰ ہیئت کوبھی برقراررکھاہے۔اس لیے اصل اورعکس کے درمیان امتیازی خطوط کہیں نظر نہیں آتے ؎
ہے توہی ویران وخشک صحرامیں جوئے نغمہ سرا محمدؐ
ہے تو ہی بے آسروں کادنیا میں آخری آسرا محمدؐ
بھلے بھی دیکھے،برے بھی آنکے مری نظر میں ہیں سب جہاں کے
بس ایک اچھا میرا محمدؐ، بس ایک میرا کھرا محمدؐ
ہمارے اکثر مترجمین پرصوت وآہنگ اوربحروقافیے کاایساتسلط وغلبہ ہوتا ہے کہ وہ اصل فن پارہ کے مافی الضمیرسے اتنی دورنکل جاتے ہیں کہ ترجمہ کسی اور ہی روپ میں رونما ہوتا ہے۔ ہمارے کچھ ترجمہ نگاروںنے انگریزی نظموں کے تراجم اس انداز سے کیے ہیں کہ اصل نظم پر کبھی ترقی پسند نظم اورکبھی رومانوی نظم کا گمان ہوتاہے۔اورانگریز شاعرخالص ہندوستانی نظر آنے لگتاہے۔صوتیات،ترنم وآہنگ،رمزوکنایہ اوراستعاراتی سطح پرمقفیٰ تراجم میں مطابقت فارسی سے اردوتراجم میں توممکن ہے لیکن انگریزی سے ناممکن الحصول۔فراسٹ کی مشہورِ زمانہ نظم ‘Stopping by Woods on A Snowy Eve’ کے دوسرے بندکے منظوم تراجم پیش ہیں ؎
THE WOODS ARE LOVELY, DARK AND DEEP,
BUT I HAVE PROMISES TO KEEP
AND MILES TO GO BEFORE I SLEEP
AND MILES TO GO BEFORE I SLEEP
عصمت جاویدکاراست ترجمہ ملاحظہ فرمائیے ؎
ہرے بھرے جنگل میں ہوں کتنامسرور
لیکن قول نبھانا بھی ہے ہوں مجبور
جاناہے سونے سے پہلے کوسوں دور
جانا ہے سونے سے پہلے کوسوں دور
اب دوسراترجمہ ملاحظہ فرمائیے،جسے صابرابوہری نے کیا ہے(مطبوعہ کتاب نمانمبر1987)
بہت دلکش ہیں گلشن کے نظارے
مجھے ہر پھول کرتا ہے اشارے
گھڑی بھر کے لیے آرام کرلو
مداوائے غمِ آلام کرلو
مجھے لیکن ابھی فرصت نہیں ہے
ٹھہرنے کی ذرا مہلت نہیں ہے
مجھے کچھ کام کرناہے جہاں میں
جنوں کو عام کرنا ہے جہاں میں
دراصل ماخذمتن کے اس بندکاساراحسن داخلی وخارجی نظام کے دروبست اوراستعاراتی ساخت میں پنہاں ہے۔یہاں تک کہ جانا، سونا، وعدہ، جیسے معمولات زندگی سے متعلق کھردرے اورروکھے پھیکے اسماء و افعال بھی شعری پیکروں میں ڈھل کرنظم کے سیاق میں لمحۂ آخر سے قبل فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے شدتِ احساس کے معنوی امکانات روشن کرتے ہیں۔اوراس کی عظمتوں کی قصیدہ خوانی بھی۔ اپنی لسانی ساخت میں یہ بندقدرت کی نعمتوں اورزیست کی بے پایاں مسرتوں سے محفوظ ولطف اندوزہونے کی رومانوی خواہش اورحقائق زندگی کے درمیان تنائو (Tension) کانہایت لطیف تخلیقی اظہاربھی ہے۔اکثرایساہواہے کہ اصل کے بالمقابل پرکھنے پراصل و ترجمہ دونوں کے مابین بعدوبے تعلقی واضح ہوجاتی ہے۔ڈکشن کی موسیقیت اوربحر کی روانی میں بہہ نکلے منظوم تراجم کی کئی مثالیں ہمارے ادب سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ نادرکاکوروی کاتھامس مور کی نظم کامنظوم ترجمہ’بیتے دنوں کی یاد‘اس قبیل کا ترجمہ ہے۔یہ ترجمہ بڑامشہور ہوا اور ناقدین نے اسے سراہا بھی لیکن حشووزوائد سے یہ بھی خالی نہیں۔ دراصل یہ بعدو روایت لفظی و رعایتی پابندی بحر کی وجہ سے آتے ہیں۔عصمت جاوید نے بھی مور کی اسی نظم کا ترجمہ ’اکثر رات کے سنّاٹے‘ کے عنوان سے کیا ہے۔یہ ترجمہ بھی اس خامی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم ان کی منظوم تعبیراصل سے قریب تر ہے۔اوران کے بیشتر انگریزی نظموں کے تراجم ان کمزوریوں سے مبرا ہیں۔
عصمت جاوید کے تراجم میں بھی فکروخیال، احساس وجذبے، لفظ و معنی، صوت وآہنگ اورہیئت وتکنیک کا امتزاج نمایاں ہے۔اصل کی زبان،مختلف شعراکی فنکارانہ بصیرت،ان کے وِژن اور ڈکشن، روایات وعصریت کوعصمت جاویدنے اپنے شعری تراجم سے مربوط رکھا۔
شاعرکا وژن، ڈکشن اورترجمے کی لفظیات میں تطابق کا انھوں نے بڑاخیال رکھا ہے۔ رومانی شاعروں مثلاً وڈزورتھ، شیلی، فراسٹ اوردیگر شعرا میں موروشیکسپیئر،برائوننگ کے عین مطابق جواڈکشن قائم رکھا ہے جوان تراجم کومتعلقہ شہ پاروں سے قریب تر کرتا ہے، تودوسری طرف ترنم خیز بھی۔ یہاں ایک بات خاص طور سے قابلِ ذکر ہے کہ اپنی موسیقیت کی روانی میں یہ منظوم تراجم اصل سے دور نہیں ہوتے۔نہ ہی ان کی مجموعی عکاس اکائی کو متاثر کرتے ہیں۔یہی مطابقت ومماثلت ان کے مراٹھی و فارسی سے منتخبہ کلام کے تراجم کا خاصہ بھی ہے لیکن طوالت کے پیشِ نظر حوالوں سے احتراز کیا گیا ہے۔تاہم اپنے اس بیان(Statement) کی تصدیق کے لیے اصل وتراجم کے کچھ بند پیش ہیں جو پابند ومقفیٰ نمونے ہیں ؎
CONTINUOUS AS THE STARS THAT SHINE
AND TWINKLE ON THE MILKY WAY,
THEY STRATCHED IN NEVER-ENDINGLINE
ALONG THE MARGIN OT THE BAY:
TEN THOUSAND SAW I AT A GLANCE,
TOSSING THEIR HEADS IN SPRIGHTLY DANCE.
(THE DAFFODILS)
دور تک پھیلے ہوئے تھے وہ قطار اندرقطار
کہکشاں میں جھلملائیں جیسے تارے بے شمار
ایک اچٹتی سی نظر اورسامنے آنکھوں کے تھے
جھیل کے پہلو میں لہراتے،مچلتے صد ہزار
نسائی تحریک بھی مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیات کا ایک اہم شاخسانہ ہے۔ ان تینوں انقلابی رجحانات کے امتزاج کی نہج پر ترجمہ سیاسی، صنفی اور ثقافتی تحفظ کے آلہ کار کی شکل میں سامنے آیا Homi Bhaba نے (The Location of Culture) Hybridity اور ایڈورڈ سعید نے اپنی کلاسک تصنیف Orientalism میں جس فکری تسلط کو نشان زد کیا تھا، جس طرح مقامی تاریخ مسخ کرنے کی سامراجی سازشوں کو طشت از بام کیا تھا، ماخذ اور مترجمہ متون کے مرکز میں آنے لگے۔ جب فرانزفیناں کی The Wretched of the Earth مترجمہ ’افتادگان خاک‘ اور چنوا اچبے کی Things fall Apart مترجمہ ’بکھرتی دنیا‘ اردو میں منتقل ہوئے تو Enrocentricism اور تہذیبی مرکزیت کے تصورات متزلزل ہونے لگے۔ فرانسیسی نسائی مفکر سیمون دی بو Simon de Beauvoir نے یہ انقلابی نکتہ اٹھایا کہ ’’عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ بنا دی جاتی ہے‘‘ اور اپنی شہرہ آفاق کتاب Second sex میںPatriarchy اور شادی کے ارادے کو عورت کی تخلیقی قید قرار دیا۔ اس نوعیت کی عالمی نسائی شاعری اور فکشن کے اردو تراجم نے برصغیر کی ادبی فضا کو یکسر بدل دیا۔ کشورناہید کا Sylvia Plathکی مشہور نظم Daddy کے ترجمے کے دو اقتباسات اس کی تصدیق کرتے ہیں ؎
اب نہیں، مزید اب نہیں
اس تنگ و تاریک سیاہ جوتے میں پاؤں پھنسائے
بہ مشکل سانس لیتے ہوئے
میں نے تیس برس تک
خوف زدہ زندگی گزار دی ………
ڈیڈی، ڈیڈی تم حرامی
مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔
گھر میں سخت پابندیوں کے ساتھ مقید رہنے کی شدید گھٹن کا احساس Gilman Perkis Charlotte کی کہانی The yellow paper wall میں بھی نظر آتی ہے، جس کا تخلیقی ترجمہ انوراحمد نے کیا ہے۔ یہ مردانہ عقل کل کے سامنے عورت کے اعصابی اور نفسیاتی وجود کی کچلی ہوئی تصویر ہے، جس کی بازگشت ورجیناولف کے ’’ایک کمرہ‘‘ (مترجم اجمل کمال) میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ذاتی جگہ، کوئی کو نا، جسے وہ عورت کی معاشی آزادی اور فکر آزادیٔ فکر کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ غادہ السمان کی عربی شاعری کے اردو تراجم بھی نسائی بے بسی اور باغیانہ رویہ پر دلالت کرتی ہیں، تاہم مقصد یہاں ان تراجم کے بازتخلیقی کردار کی طرف اشارے فراہم کرنا ہے۔ برصغیر میں بے شمار ایسے اردو تراجم ہیں جن میں بیشتر تخلیق نو کے زمرے میں شمار کی جاسکتی ہیں اور جو ماخذ متون سے قریب تر نظرآتی ہیں۔ ان میں rhythm بھی ہے اور روانی بھی۔ جبکہ شاعری کے ترجمے کو تقریباً ناممکن الحصول سمجھا جاتا ہے۔
لیکن جدید و مابعد جدید اردو شاعری کے تراجم میں خصوصاً نسائی شاعری میں آہنگ بھی ہے اور مزاحمتی اضطراب بھی، جن کی وضاحتیں جدید، مابعدجدید اور پس نوآبادیاتی نظریات میں ملتی ہیں بے شمار مثالیں ہیں۔ کچھ کھونا، بہت کچھ پانا اور متن کو سدا گردش میں رکھنا، ادبی ترجمے کی تعبیر اور تخلیقی باز آفرینی ترجمے کا جواز بھی ہے اور حاصل بھی۔
ان تمام نظریات کا مجموعی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادبی ترجمہ نہ تو محض لفظی منتقلی ہے اور نہ ہی مکمل آزاد تخلیق۔ والٹربنیامین متن کی نئی زندگی پر زور دیتے ہیں۔ رومن جیکبسن ترجمے کو تعبیر قرار دیتے ہیں۔ یوجین نائڈا قاری اور تاثر کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ گڈامر فہم کے فلسفیانہ ابعاد واضح کرتے ہیں۔ اسٹائنر تعبیر اور تخلیق کے باہمی رشتے کو منظم نظریاتی صورت دیتے ہیں۔ برمن اجنبیت کے تحفظ کی وکالت کرتے ہیں اور وینیوٹی مترجم کی تخلیقی موجودگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان نظریات کا مجموعی مطالعہ اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ ادبی ترجمہ ایک نظری، تعبیراتی اور تخلیقی عمل ہے، جس میں اصل متن نئی زبان اور نئے ثقافتی افق پر ازسرنو زندگی حاصل کرتا ہے۔ یہی عمل ادبی ترجمے کو تخلیقی بازآفرینی کی ایک منفرد صورت بناتا ہے۔
حواشی
1 محمد حسن، پروفیسر،’ترجمہ : نوعیت اور مقصد‘ مشمولہ ترجمہ کا فن اور روایت، مرتبہ : پروفیسر قمررئیس، تاج پبلشنگ ہاؤس، جامع مسجد، دہلی1976، ص 69
2 ایضاً
3 Benjamin, Walter, “The Task of the Translator” Illumination, Shocken Books. P-71
4 Jakobsan, Roman, “On Linguistic Aspects of translation” On Translation. ed. Reuben A. Brower (Cambridge, M.A. Harvard University Press, 1959), P.233
5 Nida,E,A, Towards a Science of Translation.E.J.Bril.
6 Gadamer.Hans-Georg. Truth and Method.
7 Steiner,G. After Babble: Aspects of Language and Translation.
8 Berman.Antoine.The Experience of the Foreign.
9 Venuti. The Translator’s Invisibility.
10 Derrida Jaques, of Grammatology G.C.
11 Lyotard, Jean Francois. The Postmodern condition: A Report on knowledge university of Minnesota Press.
12 Derrida, Jacques, of Granmatology John Hopkins University press.
13 Focault, Michel. Power/Knowledge, Pantheon Books, 1980
14 Baudlrillard, Jean, Simulacra and Simulation, University of Michigan press.
15 Jameson, Fredric, Postmodernism, or The Cultural logic of Late Capitalism. Duke university press. 1991
16 Hutcheon, Linda, Poetics of Postmoderism, Routledge – 1988
17 Said, Edivard. Orientalism, Pantheon Books.
18 …Cultural Imperialism, Pantheon book
19 نارنگ گوپی چند، ڈاکٹر، ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور2002، ص315


Intekhab Hameed Khan
Former Professor and Head, Dept. of English
and Former Professor,Maulana Abul Kalam Azad Chair (UGC)
Dr.Babasaheb Ambedkar Marathwada University,
Aurangabad-431001. (M.S.) INDIA
Mobile : 09422291825
drhameed.khan@gmail.com., shamit221@rediffmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ظفرگورکھپوری کے فلمی گیت مضمون نگار: ناظر انور

ظفرگورکھپوری کے فلمی گیت ناظر انور ظفرگورکھپوری (1935-2017) کی پوری زندگی ممبئی جیسے بڑے شہر میں گزری۔حالانکہ ان کی پیدائش گورکھپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں بیدولی بابو میں ہوئی

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اردو مضمون نگار:عرفان رشید

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اردو عرفان رشید   عہد حاضر کی بیشتر ترقیات کا انحصار ٹیکنالوجی پر ہے۔ اس انحصار کی نوعیت یہ ہے کہ اب یہ نہ صرف انسانی زندگی کے