اردو دنیا،ستمبر2026:
’ہر کامیاب انسان کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔‘ یہ جملہ آپ نے یقیناً لاکھوں مرتبہ سنا اور دہرایا ہوگامگر حقیقی کہانی کچھ یوں بھی بیان کی جاسکتی ہے: ہر کامیاب انسان کے ’سامنے‘ ایک استاذ کھڑا ہوتا ہے جس کی رہنمائی، محنت، قربانی اور مسلسل مشقت کامیاب فرد کی منزل کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ کامیابی، کامیاب انسان اور استاذ۔۔۔یہ ایک مثلث ہے۔ ظاہر ہے، مثلث میں کسی ایک زاویے کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جا سکتی لیکن معنوی اعتبار سے اگر کسی کا مقام مقدم ہے تو وہ استاذ کا ہے، کیونکہ وہی منزل سے پہلے راستہ بناتا ہے اور میدانِ کامرانی میں وہی اول، وہی آخر۔
بلاتفریق اقوام وملل استاذ کی عظمت مسلم ہے۔ ماں کے دودھ اور استاذ کے نور کا قرض کبھی نہیں چکایا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا نے اس کی خدمات، علم اور کردار کے اعتراف کے لیے ایک دن مخصوص کرلیا ہے۔اسی احساس کے تحت 5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ 5 اکتوبر 1966 کو فرانس کے شہر پیرس میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اساتذہ کی حیثیت و وقعت اور اہمیت وافادیت سے متعلق تاریخی سفارشات منظور کی گئیں۔ اس میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اساتذہ کے حقوق، پیشہ ورانہ وقار، تربیت، تقرری، مناسب تنخواہ، ملازمت کے تحفظ اور تدریسی آزادی جیسے بنیادی اصول متعین کیے گئے۔ بعد ازاں انہی سفارشات کی یاد اور اساتذہ کی عالمی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1994 سے ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جانے لگا، جو آج دنیا کے بیشتر ممالک میں علم، معلم اور تعلیم کے احترام کی ایک مشترکہ علامت بن چکا ہے۔
ہندوستان میں اساتذہ کے احترام کی روایت اورجان نثاری میں شدت کی کہانی اس سے بھی زیادہ منفرد ہے۔ ان سب کے بیان کے لیے طول طویل تاریخی حوالوں کی ضرورت ہوگی،فی الحال جس سے گریز مناسب ہے۔ سامنے کی بات کچھ یوں ہے کہ 5ستمبر کوقومی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے جو عظیم فلسفی، ماہر تعلیم اور سابق صدر ہند ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش سے منسوب ہے۔ روایت کچھ یوں ہے کہ جب ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان کی سالگرہ منانے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے کہا کہ اگر اس دن کو ان کی سالگرہ کے بجائے اساتذہ کے احترام کے دن کے طور پر منایا جائے تو انھیں زیادہ خوشی ہوگی۔ ان کی اسی خواہش کی تکمیل میں ہر سال 5 ستمبر کو پورے ہندوستان میں اساتذہ کی علمی، تعلیمی اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔1
ہم ہندوستانیوں کی خوش نصیبی دوسرے بہت سے ممالک کے باشندوں سے کچھ زیادہ ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اساتذہ کے احترام کے لیے صرف ایک دن یعنی 5اکتوبر مخصوص ہے لیکن ہمارے یہاں 5 ستمبر بھی قومی یومِ اساتذہ کے لیے مختص ہے۔ پھر یہ پہلو بیان کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ دونوں تاریخ کے درمیان فقط ایک ماہ کا دورانیہ ہوتا ہے، کیوں نہ ہم اس دورانیہ کا نام ’’یک ماسہ جشن استاذ‘‘ رکھ دیں، ہندی پکھواڑہ کی طرح۔ یوں ہم نہ صرف ’’یوم اساتذہ‘‘ پر فخر کرسکتے ہیں بلکہ ’’ ایامِ اساتذہ‘‘ کے احساس سے بھی سرشار ہوسکتے ہیں۔
ہندو روایت میں ’’ رادھا اور کرشن‘‘ گہری محبت بلکہ عقیدت کی ایک علامت ہے۔ اس لیے انھیں گہری وابستگی اور ناقابل بیان شیفتگی کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ 2شاید اسی وجہ سے عظیم ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے نام میں بھی ’’رادھا‘‘ اور ’’کرشن‘‘ کی نسبت موجود ہے۔ فطرت کا کرشمہ دیکھئے اور نام کے اثر کا فیضان سمجھیے کہ ان کے نام سے قوم کے تمام افراد کو گہری وابستگی ہوگئی ۔ وہ بھی ایسی وابستگی ، جس کے بیان کے لیے کسی نہ کسی نئے جملہ کو تراشنے کی ضرورت آن پڑتی ہے۔ اس لیے معنوی تناظر میں ہم ڈاکٹر کرشنن کو’’ٹیچروں کارادھا‘‘ کہہ سکتے ہیں۔گویا ہم سب کو ان سے ایسی ہی محبت ہے ، جیساکہ کرشن جی کو رادھا سے تھی۔ پھر رادھا کی اس معنویت کو نیاآہنگ دیتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’ اساتذہ، تعلیمی دنیا کے رادھا‘‘ ہوتے ہیں۔ کیونکہ بہت سے شاگردوں کو اپنے اساتذہ سے ویسی ہی محبت تھی ، جیسے رادھا سے کرشن جی یا کرشن جی سے رادھا کو۔ باالفاظ دیگر ، ڈاکٹر کرشنن جی ’’ ٹیچروں کے رادھا ‘‘ اور دیگر اساتذہ ’’ تعلیمی دنیا کے رادھا‘‘ کہے جاسکتے ہیں۔ سردست اس کی وضاحت بھی کیے دیتے ہیں کہ یہاں استعمال کی جانے والی علامت میں ’’ عقیدے ‘‘ یا ’’ آستھے‘‘ کاکوئی پہلو شامل نہیں ، فقط ادبی تناظر میں رادھا اور کرشن کی شیفتگی سے ’’معنویت‘‘ مستعار لی گئی ہے۔ گویا معنوی اعتبار سے استاذوں کو تعلیمی دنیا کا رادھا کہنا اخلاص، محبت اور بے غرض خدمت کو ایک نیا معنوی پیرہن عطا کرنا ہے۔
اساتذہ کی معنویت کے تناظر میں ہم بچپن میں سنتے تھے کہ ہر فرد کے تین والدین ہوتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی اس سماعت میں اتنی شدت ہوتی تھی کہ ہم اسے حدیث سمجھ بیٹھتے تھے۔ حالانکہ یہ حدیث نہیں ہے۔3
مگر اتنی بات ضرور ہے کہ یہ ایک خوب صورت تصور ہے؛ یعنی انسان کے تین والد ہوتے ہیں: پہلا وہ جس کے ذریعے کسی فرد کی پیدائش ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جو اسے علم و شعور سے آراستہ کرتا ہے، اور تیسرا وہ جو اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دیتا ہے۔الغرض استاد کو ہمیشہ ’’والد‘‘ کا درجہ حاصل رہا ہے، کیونکہ وہ صرف تعلیم نہیں دیتا بلکہ انسان کی شخصیت بھی تعمیر کرتا ہے۔ بااعتبار نمبر ، استاد دوسرے نمبر ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے سماجی اور معاشی حالات نے اس ’’دوسرے باپ‘‘ کی ذمے داری کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
اس کی تفہیم کچھ یوں ہوسکتی ہے۔ایک وقت تھا جب گھر ہی تربیت کی پہلی درسگاہ تھا۔ والدین بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے تھے۔ مشترکہ خاندانی نظام چست درست تھا۔ مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔ گویا بچوں کی ذہنی، فکری ، اخلاقی ، سماجی تربیت میں ان کا خاص حصہ شامل ہوتا تھا۔ وہ بچوں کی شخصیت سازی میں کلی طور پر شریک ہوتے تھے۔ بچے محبت، شفقت، احترام اور اخلاق کی ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کرکے اسکول پہنچتے تھے، اس لیے استاذ کی بنیادی ذمے داری علم کی آبیاری تھی تاہم آج صورتِ حال مختلف ہے۔ معاشی تقاضوں کی بنیاد پر ہماری زندگی کا روپ ریکھا تبدیل ہوگیا ہے۔ ملازمت پیشہ والدین کی وجہ سے گھر کا نظام بدل گیا ہے۔ پھر مشترکہ خاندانی نظام(جوائنٹ فیملی) سے کہیں زیادہ انفرادی خاندنی نظام(نیو کلیئر فیملی)کا رجحان عام ہے۔خود ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اس پہلو پر اچھی بحث کی ہے۔ 4
پیش نظر تین پہلوؤں کی وجہ سے بچوں کے تربیتی نظام میں خاصافرق محسوس کیا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں تعلیمی اداروں اور خصوصاً اساتذہ کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح اساتذہ نہ صرف بچوں کی تعلیم میں اہم ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی تربیت کا مسئلہ بھی اساتذہ سے جڑگیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ ’’دوسرے باپ ‘‘ کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے، آپ بھی کہہ اٹھیں گے تربیتی نظام کے پس منظرمیں اساتذہ یعنی ’’دوسراباپ‘‘ اب دوسرے نہیں بلکہ ’’دہرے باپ‘‘ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ بلاشبہ والدین کی محبت میں آج بھی کمی نہیں آئی، لیکن ان کے پاس وقت کم ہو گیا ہے۔ یہی وہ خاموش خلا ہے جسے پر کرنے کی ذمے داری اساتذہ کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔
’’تدریس‘‘کو ’’ تقدیس‘‘ سے ملاکرسمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے اساتذہ کی ذمے داریاں مزید بڑھ گئی ہیں، ساتھ ہی ساتھ پیچیدہ بھی ہوگئیں۔ پہلے بچوں کے سامنے امتحانات ہوتے تھے۔ وہ ششماہی اور سالانہ امتحانات میں شریک ہوتے تھے، اور ان امتحانات کی بنیاد پر ان کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ ساتھ ہی ان نتائج سے اساتذہ کے طرز تدریس اور ان کی محنت کا بھی اندازہ لگایا جاتا تھامگر گردشِ زمانہ نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب صرف بچوں کے امتحانات نہیں ہوتے بلکہ اساتذہ ہر روز امتحان دیتے ہیں۔ یہ امتحان نہ ششماہی ہوتا ہے، نہ سالانہ؛ بلکہ ہر کلاس اور ہر لیکچر ایک نیا امتحان بن کر سامنے آتاہے۔ پہلے بچوں کے ممتحن اساتذہ ہوتے تھے مگر آج ہر کلاس میں بیٹھا ہر بچہ خود استاذ کا ممتحن ہے۔ وہ صرف استاذ کے علم کو نہیں بلکہ اس کے لہجے، اس کے رویے، اس کی تیاری، اس کے اخلاص اور اس کی شخصیت کو بھی پرکھتا ہے۔
گویا آج تدریس کا سب سے بڑا استعارہ ’’لمحاتی امتحان‘‘ ہے، جس طرح دوسرے لفظوں کے معانیاتی نظام میں تبدیلی آئی ہے، اسی طرح ’’لمحہ‘‘ کے معنی میں بھی ، اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ یہ لمحاتی امتحان، لمحے بھر کا امتحان نہیں ہوتا۔ یہ پل پل جاری رہنے والی وہ آزمائش ہے جس سے ایک کامیاب استاذ کے لیے گزرنا لازمی ہے۔ اس لیے آج وہی استاذ حقیقی معنوں میں کامیاب ہے جو’’ لمحاتی امتحان‘‘ کو’’ لمحاتی یا وقتی‘‘ نہ سمجھے، بلکہ اسے اپنی دائمی ذمہ داری اور مسلسل خود احتسابی سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کرے۔پھر یہ امتحان غیر مرئی ہوتا ہے، اس کے سوالات بھی مبہم ہوتے ہیں، اس لیے اس میں کامیابی کوئی آسان نہیں۔ اس کے علاوہ ایسے امتحانات میں کامیاب ہونے کی فکر فقط ان اساتذہ کو ہی ہوسکتی ہے جو واقعی ’’ تدریس ‘‘ کو بہ نظر ’’ تقدیس‘‘ دیکھتے ہیں۔ ورنہ تو اقتصادی عینک میں’’محسوسات ‘‘ کو ماپنے کی سکت کہاں!
تدریس کے متعلق آج عام بیانیہ یہ ہے کہ وہ بہت آسان ہوگئی ہے مگر راقم کا خیال ہے کہ رفتہ رفتہ تدریس کا سفر یا عملِ تدریس مزید پیچیدگی سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ اس پیچیدگی کا صحیح احساس شاید اسی استاذ کو ہوسکتا ہے جس کے نزدیک تدریس واقعی تدریس ہے۔ نصابی تکمیل کی روایت سے مربوط یا ملازمت کے احساس سے سرشاراساتذہ کو اس کا قطعا ً احساس نہیں ہوگا۔ بلاشبہ آج ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ادارے ہیں، مصنوعی ذہانت کا ساتھ ہے، ڈیجیٹل لائبریریاں ہیں، اسمارٹ کلاس روم ہیں، پیش کش کے نت نئے آلات ہیں؛ ان تمام ذرائع نے معلومات تک رسائی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج استاذ کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ سہولتیں موجود ہیں۔ بلاشبہ وسائل نے معلومات تک پہنچنے کا راستہ ضرور آسان کردیا ہے، مگر تدریس کو آسان نہیں بناسکا۔ آج کا طالب علم معلومات کی کمی کا شکار نہیں بلکہ معلومات کے ہجوم میں کھڑا ہے۔ اسے صرف جواب نہیں چاہیے، بلکہ ممکنہ معتبر جواب چاہیے، کیونکہ طالب علم کے ذہن میں جو سوال پیدا ہورہا ہے، اس کا جواب وہ سکنڈوں میں حاصل کرلیتا ہے مگر حصولِ جواب ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ حصولِ جواب سے ذہن میں تشکیک کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ یہ تشکیک ایک طرح سے مناسب ضرور ہے ، مگر اس کا علاج بھی لازماً چاہیے، ظاہر ہے کہ اس کا علاج آرٹیفیشل یعنی مصنوعی آلات میں شاید نہیں ۔ گویا آج کا سوال برائے علم سے بڑھ کر برائے تشکیک ہوگیا ہے۔ گویا اس چیلنجز سے نبردآزمائی بھی آج استاذ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے ۔ اس لیے آج تدریس پہلے سے زیادہ فکری، نفسیاتی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔
زمانہ قریب میں ہی ماہر استاذ کے تعارف میں ’’چلتی پھرتی ڈکشنری‘‘ کا فقرہ استعمال کیا جاتا تھا۔ بلاشبہ حقیقی اور مجازی معنی میں ڈکشنری معلومات کا سب سے معتبر ذریعہ ہوتی ہے۔ طالب علم کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا تھا تو وہ سیدھا ایسے استاذ کے پاس جاتا تھا، جس کو ڈکشنری کہا جاتا تھا۔ لیکن وقت نے یہ منظر بدل دیا ہے۔ آج ہر طالب علم کی ہتھیلی پر ایک ایسی چلتی پھرتی لائبریری موجود ہے، جہاں چند لمحوں میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں مضامین اور دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر استاذآج بھی اپنی شناخت صرف معلومات کے ذخیرے تک محدود رکھے گا تو وہ اپنے عہد کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکے گا۔ آج کے استاذ کو محض معلومات کا امین نہیں، بلکہ ’’شعور کا جادوگر اور لاشعور کا انجینئر‘‘ بننا ہوگا جو معلومات کو فہم میں، فہم کو بصیرت میں اور بصیرت کو عمل میں تبدیل کر سکے۔
حوالے :
1. مولانا قمر الزماں ندوی، ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن، مشمولہ : سیل رواں ڈاٹ کام ، ستمبر 2022
2. شری رادھا کرشنا وہار ، پنکج پرکاشن ست گھرا متھرا، 2025 ، ص128
3. عثمانی دارالافتا، آدمی کے تین باپ ہوتے ہیں حدیث کی تحقیق ، مشمولہ ستمبر 2021
4. ایس رادھا کرشنن ، کلکی یا تمدن انسانی کا مستقبل ، مترجمہ : سید احتشام حسین، این بی ٹی دہلی، 1961، ص9
Salman Abdus Samad
Head, Department of Urdu
Khaja Bandanawaz University,
BI BI Raza P.G. Campus
Kalaburagi-585104
Mob. 9810318692
Email: salmansamadsalman@gmail.com