تلخیص
زبان قدرت کی لامحدود اور انمول نعمتوں میں سے ایک ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ہر قوم کی ایک الگ پہچان، ایک الگ زبان، الگ تلفظ، الگ گرامر، الگ لب و لہجہ اور الگ رسم الخط ہوتا ہے، جسے اس قوم کا ہر فرد جانتا ہے اور اسی کے استعمال سے روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔
لفظ، زبان اور ادب کے مسلسل ارتقا کے نتیجے میں ہی ترجمہ وجود میں آیا، جس کا تعارف دانشوروں نے اپنے اپنے انداز سے کرایا ہے۔ یہ ایک فن ہے، جسے اب سائنس کا درجہ بھی دیا جا رہا ہے۔ افہام و تفہیم کے اس ذریعے سے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری زبان کے مافی الضمیر میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں لسانی تفہیم کے ساتھ ساتھ تمدنی افہام و تفہیم کا کام بھی انجام دیا جاتا ہے۔
ترجمے کے کچھ بنیادی اصول ، مبادیات، مسائل اور مترجم کے بارے میں کچھ عرض کرنا بہتر لگتا ہے۔ایک کامیاب مترجم کے پاس اپنے ذاتی ذخیرۂ علم کے ساتھ ساتھ ایک مستند، معتبر اور ضخیم ذو لسانی یا سہ لسانی لغت کا ہونا بھی ضروری ہے، خواہ وہ اردو، انگریزی، ہندی، کنڑ، بنگالی، تمل، پنجابی، تیلگو وغیرہ زبانوں پر مشتمل ہو۔ غلط ترجمہ نہ صرف مترجم کے معیار و منصب کو گھٹا دیتا ہے بلکہ مصنف کو بھی شک کے دائرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
مترجم کو قاری کی شعوری استطاعت، ادراک، مزاج اور لہجے کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اس معاشرے کی واضح ثقافتی خصوصیات، تہذیبی و تمدنی لوازمات، مترادفات، صرف و نحو، روایات اور اصطلاحات کا علم بھی ناگزیر ہے۔
کلیدی الفاظ
زبان، انگریزی، ہندی، کنڑ، بنگالی، تمل، پنجابی، تیلگو ، ترجمہ، لفظی ترجمہ، آزاد ترجمہ، ادبی یا تخلیقی ترجمہ، صرف و نحو، روایات اور اصطلاحات ،وضع اصطلاحات، رموزِ اوقاف، نفسِ مضمون، پنچ تنتر، کلیلہ دمنہ، تمہیداتِ ہمدانی، بوداسف و بلویر، دارالترجمہ عثمانیہ، ترقی اردو بورڈ۔
زبان الفاظ کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔ ایک بھرپور، پیداوار دینے والا، سرسبز و شاداب جنگل، لق و دق صحرا اور نخلستان بھی ہے، اور ہر لفظ اپنے اندر ایک عجیب و غریب دنیا پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک پیاز کی مانند بھی ہوتی ہے، جس کی کئی پرتیں ہوتی ہیں۔ ان پرتوں کو کھولنے پر معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
زبان قدرت کی لامحدود اور انمول نعمتوں میں سے ایک ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ ایک سرچشمۂ حیات ہے جس میں مسیحائی کی قوتیں موجود ہیں۔ ہر قوم کی ایک الگ پہچان، ایک الگ زبان، الگ تلفظ، الگ گرامر، الگ لب و لہجہ اور الگ رسم الخط ہوتا ہے، جسے اس قوم کا ہر فرد جانتا ہے اور اسی کے استعمال سے روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔
اس معاشرے کی تہذیب الگ، اس کی لطافت و شیرینی الگ، جس کی قدر و قیمت وہی جان سکتا ہے جو گونگا یا بہرا ہو۔ اس کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی سرحد۔
جس معاشرے کی یہ زبان ہے، اس کی عکاسی ادب کرتا ہے جو نثری اور شعری شکلوں میں افراد کے ذہن و قلم سے وجود میں آتا ہے۔ لہٰذا یہ فن اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان۔
لفظ، زبان اور ادب کے مسلسل ارتقا کے نتیجے میں ہی ترجمہ وجود میں آیا، جس کا تعارف دانشوروں نے اپنے اپنے انداز سے کرایا ہے، جن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
Of all the activities, the most insane is Translation. (Goethe)
It is an attempt to make the impossible, possible. (Goethe)
Translation is like a magical window through which one sees, the outer and the inner worlds. (Unknown)
Translation in prose is understandable and impossible. (Victor Hugo)
It is a means to convert, global facts into concrete facts. (American Professor)
In translation we translate culture, not language. (Unknown)
Translation is like a transferred kiss. (Unknown)
Translation is undoubtedly like a foundation stone of a language and also its main pillar of strength. (Unknown)
ترجمہ ایک فن ہے، جسے اب سائنس کا درجہ بھی دیا جا رہا ہے۔ افہام و تفہیم کے اس ذریعے سے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری زبان کے مافی الضمیر میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں لسانی تفہیم کے ساتھ ساتھ تمدنی افہام و تفہیم کا کام بھی انجام دیا جاتا ہے۔
زبانِ مبدا ‘Source Language’ اور زبان ہدف ‘Target Language’ کہلاتی ہیں۔
انسانی سماج کی اس لسانی اور علمی ضرورت کے پیشِ نظر یہ بات عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے کہ ترجمہ دراصل کسی بھی زبان کے حق میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ جتنی یہ مضبوط ہوگی، زبان بھی اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ یہ کھڑکی جتنی شفاف ہوگی، نظارہ بھی اتنا ہی شفاف ہوگا۔
ترجمے کے کچھ بنیادی اصول ، مبادیات، مسائل اور مترجم کے بارے میں کچھ عرض کرنا بہتر لگتا ہے۔ایک کامیاب مترجم کے پاس اپنے ذاتی ذخیرۂ علم کے ساتھ ساتھ ایک مستند، معتبر اور ضخیم ذو لسانی یا سہ لسانی لغت کا ہونا بھی ضروری ہے، خواہ وہ اردو، انگریزی، ہندی، کنڑ، بنگالی، تمل، پنجابی، تیلگو وغیرہ زبانوں پر مشتمل ہو، ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔
غلط ترجمہ نہ صرف مترجم کے معیار و منصب کو گھٹا دیتا ہے بلکہ مصنف کو بھی شک کے دائرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ لغت کے ساتھ زبانِ ہدف کے مبادیات، اس کے استعمال کرنے والوں کی تہذیب، روزمرہ زندگی اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے خاطر خواہ واقفیت بھی ضروری ہے۔
مترجم کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ قاری کی شعوری استطاعت، ادراک، مزاج اور لہجے کا پتہ ہو۔ اس معاشرے کی واضح ثقافتی خصوصیات، تہذیبی و تمدنی لوازمات، مترادفات، صرف و نحو، روایات اور اصطلاحات کا علم بھی ناگزیر ہے۔
زبانِ ہدف میں:
l. ہر لفظ کے لیے ایک ہی مترادف لفظ کا استعمال کیا جائے۔
2. متبادل نہ ملنے کی صورت میں اصل متن کا لفظ ہی برقرار رکھا جائے۔
3 مستند ذو لسانی اور سہ لسانی لغات پاس رکھی جائیں۔
4. سائنسی لغت الگ سے مرتب کی جائے، اس کی تالیف ضروری ہے۔
5. ترجمہ پڑھنے میں ترجمہ محسوس نہ ہو بلکہ وہ اصل سے بہت قریب ہو۔
6. ترجمے کا اسلوب فطری ہو۔
7. ترجمہ اصل تحریر کا ہم عصر نظر آنا چاہیے۔
8. ترجمہ غیر فطری نہ لگے۔
9. ترجمے میں بنیادی متن کا مفہوم تبدیل نہ کیا جائے۔
رموزِ اوقاف (Punctuations) کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ شخصیات کے اسمائے گرامی، اشیا کے نام، تہوار، رسم و رواج کے صحیح تلفظ بعینہٖ برقرار رکھنا اشد ضروری ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ فنِ ترجمہ میں پسندیدہ نہیں۔
نفسِ مضمون سمجھنے کے لیے زبانِ مبدا اور زبانِ ہدف دونوں معاشروں کے مزاج، تہذیب، تلفظ، ادائیگی، محاوروں، تلمیحات، تشبیہات، گرامر وغیرہ سے واقفیت ضروری ہے، ورنہ ترجمہ، پھیکا، نامکمل، بے اثر اور مضحکہ خیز لگے گا۔ اس لیے مترجم کو ہمیشہ بہت چوکس رہنا ہوگا، اور وہ یہ سمجھے کہ گویا وہ دو گھوڑوں کی پیٹھ پر بیک وقت سوار ہے جو سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ اگر وہ گھڑسواری کے آداب سے واقف نہیں تو بہت جلد منھ کی کھائے گا، مجروح ہوگا اور رسوا بھی۔
تراجم بے شمار معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیبی لین دین کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں۔ یہ ایک تہذیب کے افکار و نظریات کو دوسری تہذیب کے افکار و نظریات سے ہم آہنگ کرکے انسانی تہذیب کا ایک آفاقی منظر تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کی اہمیت و ضرورت اس لیے ہے کہ یہ وسیع و عریض دنیا آئے دن سمٹتی جا رہی ہے اور اس کی ضروریات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ترجمے کی ضرورت، اہمیت کا مناسب استعمال بھی بہت بڑھ گیا ہے، اس لیے ادبی حلقوں میں ترجمے کو فروغ دینے کے لیے نت نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
زبانِ ہدف میں اپنے تبحرِ علمی سے جاذبیت پیدا کرنا مترجم کی اہم ذمہ داری ہے۔ تبھی ایک معیاری ترجمہ وجود میں آتا ہے۔
جہاں کہیں اصل متن کو سمجھنے میں مترجم کو دشواری محسوس ہو، وہاں اسے چاہیے کہ مستند لغات سے رجوع کرے، اور اگر وہاں بھی مناسب مترادفات نہ ملیں (ایسے بہت سے مواقع ہوتے ہیں جہاں لغات بھی تسلی بخش مترادفات پیش کرنے سے قاصر ہوتی ہیں) تو اصل لفظ کے قریب ترین معنی والا لفظ منتخب کرے یا اہلِ علم سے مشورہ کرے۔
مترجم کو قواعدِ زبان کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ تذکیر و تانیث، واحد و جمع اور دیگر صرفی و نحوی اصول مختلف زبانوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ مقصد ہمیشہ مقدم ہونا چاہیے اور غیر ضروری لفاظی سے گریز کرنا چاہیے۔ ثقیل اور دشوار الفاظ، فہم و ادراک میں فاصلے پیدا کرتے ہیں، جس سے ترجمے کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
سائنسی مضامین کے ترجمے کے دوران کئی انگریزی الفاظ ایسے ملتے ہیں جن کے مترادفات اردو میں دستیاب نہیں ہوتے یا اگر ہوتے بھی ہیں تو موقع و محل کے اعتبار سے اطمینان بخش نہیں ہوتے، مثلاً:کمشنر، آکسیجن، ہائیڈروجن، سٹرک ایسڈ، الکلائن، ڈائرکٹر، ڈرون، ریستوران، ٹیلی ویژن، موبائل، ریفریجریٹر، انجکشن، ایمرجنسی، ٹیک آف وغیرہ۔
دورِ حاضر میں وقت کی اضافی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں کے علوم و فنون کے ترجمے کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس رفتار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے، بالخصوص اردو زبان میں، اس لیے کہ اردو بولنے والوں کی تعداد تشویش ناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی ذمہ داری کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اردو زبان کو نہ صرف زندہ رکھنے بلکہ اس کی اطمینان بخش ترویج و بقا کے لیے کمر کس لیں۔
اس سلسلے میں چند تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں:
l. ترجمہ شدہ کتابوں کی اشاعت اور اشاعتِ نو پر بھرپور توجہ ضروری ہے، جس کے لیے ملک کی سرکاری و غیر سرکاری کتب خانوں، کالجوں،مدارس دانش گاہوں سے منظم طریقے سے رجوع کرنا ہوگا تاکہ کتب خانوں کے لیے مختص شدہ فنڈز کا صحیح استعمال ہو سکے۔
2. اردو طلبہ کی تعداد مقررہ تناسب سے کم ہونے پر بھی اردو مدارس بند نہ کیے جائیں۔
3. اردو اشاعتی اداروں، اردو اکادمیوں، اردو تنظیموں، طلبہ و طالبات اور اخبارات کو سرکاری سطح پر مناسب مالی امداد دی جائے۔
4.جگہ جگہ اردو تعلیمِ بالغان کا انتظام کیا جائے۔
5. مدارس، کالجوں اور جامعات میں اردو ترجمے کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔
6. اردو اکادمیوں کو چاہیے کہ مرکزی ساہتیہ اکادمی کی طرز پر ملک بھر میں ترجمہ ورکشاپس منعقد کریں۔
7 .ایسے اردو داں افراد کو ترجمے کی تربیت دی جائے جو انگریزی، ہندی اور علاقائی زبانوں سے بھی واقف ہوں۔
8 .درس گاہوں، دفاتر اور بالخصوص اخبارات کے دفاتر میں ذو لسانی اور سہ لسانی لغات کی فراہمی لازمی قرار دی جائے۔
بہرحال، ترجمے کو فروغ دینے کے لیے اردو علما، دانشوروں اور ماہرینِ زبان سے وقتاً فوقتاً تبادلۂ خیال کرکے ان کے قابلِ عمل مشوروں کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔
اگر ہمیں اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نبھانے میں دلچسپی ہے اور ایک اچھا شہری بننے کا ثبوت دینا ہے تو ضروری ہے کہ ہم ترجمے کی اہمیت اور ضرورت کو شدت سے محسوس کریں اور بلا تاخیر دنیا میں مسلسل پیدا ہونے والے علوم و فنون سے مستفید ہوں، ورنہ دوسری زبانوں والے اردو والوں کو دھکیل کر مزید آگے نکل جائیں گے اور ہم انھیں دیکھتے رہ جائیں گے، جب چڑیا چگ گئی کھیت۔
ترجمے کی اہمیت و ضرورت کے بارے میں پروفیسر عبد الستار دلوی فرماتے ہیں:
’’ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس میں متعدد زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کا ادب بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اردو ہندوستان کی ایک ایسی زبان ہے جو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک بولی اور سمجھی جاتی ہے، لیکن دیگر زبانیں اپنے محدود علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔‘‘
تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہماری یہ ساری زبانیں ادبی اعتبار سے نہ صرف بہت اہم ہیں بلکہ ان زبانوں کے مختلف شعرا و ادبا ادبی اعتبار سے ایک مثالی حیثیت اور اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں آپس میں لین دین اور ایک دوسرے سے تعارف بہت ضروری ہے تاکہ لسانی تنگ نظری سے دور رہیں اور دوسری زبانوں کے ادب کو خاطر خواہ سمجھ سکیں۔
اردو میں دوسری زبانوں سے ترجمے عرصۂ دراز سے ہوتے آئے ہیں۔ اس کی ابتدا سنسکرت، عربی اور فارسی تراجم سے ہوئی، لیکن آج کے ماحول میں اس کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ یہ کافی نہیں ہے اور علاقائی زبانوں کے ترجمے اردو میں کثیر تعداد میں ہونے چاہئیں۔
’’یہ ترجمے اگر براہِ راست ہوں تو ان کا حسن بڑھ جاتا ہے اور اس سے زبان و ادب کے ساتھ ساتھ شعرا و ادبا کے خیالات کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔‘‘
ہندوستان میں ترجمے کے ارتقا کی تاریخ
دوسری ہجری کے وسط میں برصغیر اور عرب مسلمانوں کے تعلقات قائم ہو چکے تھے اور 771عیسوی میں سندھ کا ایک وفد خلیفہ منصور عباسی کے دربار میں پہنچا تھا۔ اس وفد میں ایک پنڈت بھی تھا جو ریاضیات اور ہیئت کا ماہر تھا۔ اس کے ساتھ ’سدھانت‘ نامی ایک کتاب تھی جو سنسکرت میں لکھی گئی تھی۔ خلیفہ نے اسے پڑھوا کر عربی میں اس کا ترجمہ کروایا۔
بعد ازاں یعقوب بن طارق نے اسی پنڈت کی شاگردی میں رہ کر سنسکرت کی مشہور کتاب ’پنچ تنتر‘ کا عربی میں ترجمہ ’کلیلہ و دمنہ‘ کے نام سے کیا، جس کا اردو ترجمہ بعد ازاں منظرِ عام پر آیا اور جس کی مقبولیت آج تک برقرار ہے۔
اسی دوران ’بوداسف و بلویر‘ کا ترجمہ بھی عربی میں کیا گیا جس میں گوتم بدھ کے حالاتِ زندگی درج ہیں۔ اس کے علاوہ سنسکرت کہانیوں، منتروں، بھجنوں، کیمیا، حکومت کے انتظامی امور اور جنگی فنون پر مشتمل متعدد کتابیں عربی میں منتقل ہوئیں اور بعد میں انہی ذرائع سے اردو میں آئیں۔
سترہویں صدی عیسوی میں اردو میں شعری و نثری ادب کا آغاز ہوا جو فارسی کے زیرِ اثر تھا۔ اس دور میں تشبیہات، استعارات، تلمیحات، الفاظ اور فارسی اصنافِ سخن ہی نہیں بلکہ ہزاروں فارسی اشعار کے اردو تراجم بھی منظرِ عام پر آئے۔
تصوف، داستان اور فلسفے کی کتابوں کی اشاعت ہوئی۔ شاہ میرانجی خدا نما نے ابو الفضائل عبداللہ بن محمد تحسین الفیضی ہمدانی کی تصنیف ’تمہیداتِ ہمدانی‘ کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا، جسے اردو کا اولین ترجمہ قرار دیا جاتا ہے۔
مغلوں کے دور میں فارسی سرکاری زبان تھی۔ شہنشاہوں نے بہتر انتظامی امور اور قوانین کی بہتر تشہیر اور عوام الناس تک معلومات کی فراہمی کے پیشِ نظر عوامی زبان کی ضرورت محسوس کی تو نتیجتاً فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کا بھی فروغ ہونے لگا۔ گو کہ اردو ایک نوخیز زبان تھی، مگر پورے برصغیر میں اسے بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد حوصلہ افزا تھی۔
جب انگریز ہندوستان آئے اور کلکتہ میں ان کی جڑیں مضبوط ہو گئیں تو انھوں نے عیسائیت کی تبلیغ کے لیے انجیلِ مقدس کا اردو ترجمہ کروایا، جس کا سہرا فورٹ ولیم کالج، کلکتہ کے سر جاتا ہے۔ بعد ازاں جب ان کی حکومت ہندوستان میں قائم ہوگئی تو انھوں نے مختلف علوم و فنون پراردو میں ترجمہ شدہ کتابوں کو نصاب میں شامل کروایا۔
1835 میں دہلی کالج میں پہلی بار ہیئت، فلسفہ، ریاضی اور تاریخ جیسے مغربی علوم کی تعلیم اردو کے ذریعے شروع کی گئی۔ اس کے لیے نصابی کتابوں کی فراہمی ضروری تھی، جسے ایک خصوصی کمیٹی نے بخوبی انجام دیا اور 128 کتابیں شائع کیں۔ اس سلسلے میں بابائے اردو مولوی عبدالحق کا تاریخی کردار رہا ہے۔
1903 میں ’انجمنِ اردو‘ کی تشکیل عمل میں آئی، جس کا مقصد اردو ادب کی ترویج و بقا تھا۔ پروفیسر آرنلڈ اس کے صدر تھے اور علامہ شبلی نعمانی پہلے معتمد تھے۔ بعد ازاں مولوی عبدالحق نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔
1961 میں مولوی سید وحید الدین سلیم نے ’وضعِ اصطلاحات‘ نامی کتاب شائع کی جو مختلف موضوعات پر اردو کی ایک اہم کتاب تھی، تاہم اس کے دوسرے ایڈیشن کے بارے میں کوئی مستند اطلاع دستیاب نہیں۔
نظام حیدرآباد دکن نے 14 اگست 1917 کو ’دارالترجمہ عثمانیہ‘ قائم کیا۔ اس ادارے کے شعبۂ تالیف و ترجمہ کے تحت آرٹس اور سائنس کے مختلف مضامین میں ماہر مترجمین مقرر کیے گئے۔
قاضی محمد حسین، محمد الیاس برنی، سید ہاشمی فریدآبادی، چودھری برکت علی، عبداللہ عمادی، عبدالحلیم شرر، وحید الدین سلیم، مولوی عنایت اللہ، حبیب الرحمن خان، خلیفہ عبدالحکیم، مولوی احسن احمد، مولوی عبدالباری، مرزا محمد ہادی رسوا اور پروفیسر ضیاء الدین انصاری سمیت متعدد اہلِ علم نے تقریباً 450 کتابوں کے اردو تراجم کیے، جن میں انگریزی، فارسی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں سے تراجم شامل تھے۔
آزادیِ ہند کے بعد حکومتِ ہند نے ترقیِ اردو بورڈ کی تشکیل کی، جس کے زیرِ اہتمام نصابی کتابوں کے تراجم، اشاعت اور تعلیمی اداروں میں فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
سر سید احمد خان نے علی گڑھ میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور اپنے تاریخی رسالے ’تہذیب الاخلاق‘ کے ذریعے سائنسی مضامین کے اردو تراجم شائع کروائے۔ اردو زبان اس خدمت کے لیے ان کی احسان مند ہے۔
اگر تراجم کا سلسلہ آگے نہ بڑھتا تو قرآنِ کریم، احادیثِ نبویؐ، قصص الانبیا، بزرگوں کے حالاتِ زندگی، سلاطین، شہنشاہوں، راجہ مہاراجاؤں، فلسفیوں، سائنس دانوں، دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں وغیرہ کے افکار کے ساتھ ساتھ شیکسپیئر، دانتے، گوئٹے، رومی، شیخ سعدی، عمر خیام، ابنِ رُشْد ، بو علی سینا، ابو نصر فارابی، ہومر، دوستووسکی، ورڈز ورتھ، غالب، میر، اقبال، کالیداس، رابندر ناتھ ٹیگور، برنارڈ شا، برٹرینڈ رسل، پریم چند، انتظار حسین، قرۃ العین حیدر، پروین شاکر، سلویا پلاتھ، ایملی ڈکنسن، بسونّا، بھرتری ہری، ساحر لدھیانوی، راجندر سنگھ بیدی، مولانا حالی، شبلی نعمانی اور ابوالکلام آزاد جیسی عظیم شخصیات کی فکر انگیز اور انقلاب آفریں تحریروں سے انسانی دنیا محروم رہ جاتی۔
شکر ہے کہ ترجمے نے یہ تاریخی ذمہ داری اپنے سر لے کر انسانی آبادی کو علم و آگہی سے سرفراز کیا۔
یہاں شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ‘The Merchant of Venice’ کا یہ قول یاد آتا ہے:
Mercy is blessed twice
Him that gives and him that takes
میرا خیال ہے کہ اس کا اطلاق ترجمے پر بھی پوری طرح ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
ترجمہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اصل متن کی روح اس میں سما جائے تاکہ مصنف کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ زبانِ مبدا اور زبانِ ہدف دونوں کے ساتھ پورے اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ضروری ہے۔ایک ذمہ دار مترجم کو چاہیے کہ وہ اصل مصنف کے منشا کا پابند رہے۔
ترجمے کی اقسام
ترجمے کی تین اقسام عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہیں:
لفظی ترجمہ، آزاد ترجمہ، ادبی یا تخلیقی ترجمہ
ان تینوں میں نسبتاً آسان ترین ترجمہ دوسری قسم، یعنی آزاد ترجمہ ہے، جب کہ پہلی قسم کا ترجمہ مترجم کی علمی قابلیت پر زیادہ مبنی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے حافظے پر زور دے کر یا مشکل الفاظ کے لیے لغت سے رجوع کرکے اپنی پریشانی سے چھٹکارا پا سکتا ہے، مگر ایسے ترجمے میں جاذبیت نہیں ہوتی۔
آزاد ترجمے میں اصل متن کی روح توآ جاتی ہے، مگر لطف اندوزی کے عناصر کم ہی ملتے ہیں۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ آزاد ترجمے میں اصل متن کی روح قارئین کی سمجھ میں آ جاتی ہے۔
جہاں تک ادبی ترجمے کا تعلق ہے، یہ بڑے جان جوکھم کا کام ہے۔ یہاں مترجم اپنے وسیع مطالعے، بھرپور علم اور زبان دانی کو بروئے کار لا کر ترجمے میں حسن پیدا کرتا ہے اور ایسا ترجمہ قارئین کے ذہن و دل میں گھر کر جاتا ہے۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ادبی ترجمہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ ایک خصوصی نوعیت کا کام ہے۔
بسا اوقات مترجم کو غیر مانوس اصطلاحی الفاظ سے نمٹنا پڑتا ہے۔ مشہور صحافی اور انگریزی، پنجابی و اردو کے مترجم خشونت سنگھ نے جب علامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ طویل نظموں ’شکوہ‘ اور ’جوابِ شکوہ‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا تو کہتے ہیں کہ ’درِ خیبر‘ اور ’درۂ خیبر‘ (پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع مقام) کا فرق آسانی سے معلوم نہیں ہوا۔
اسی طرح ’بحرِ ظلمات‘ اور بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے مفہوم کو سمجھنے میں بھی انھیں دقت ہوئی۔
ایک اور مثال انگریزی سے اردو ترجمے میں پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں، جہاں بہتر صورتِ حال زبانِ ہدف میں نظر آتی ہے۔ حفیظ جالندھری نے اپنی نظم ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ میں ‘A Thousand Melodies’کا ترجمہ ’تَرَنُّم ہزار‘ لکھا ہے، جو اس مقام پر ’ہزار بلبلوں کے نغمے‘ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
چند صحافتی مثالیں ملاحظہ فرمائیں ؎
She said, “She would put an end to power politics in drawing rooms.”
غلط ترجمہ:
’’محترمہ نے کہا کہ وہ اقتدار کی سیاست کو ڈرائنگ روموں میں ختم کر دیں گی۔‘‘
صحیح ترجمہ:
’’وہ پسِ پردہ ہونے والی اقتدار کی سیاست کا خاتمہ کر دیں گی۔‘‘
”He held himself out as a potential candidate for the ensuing election.”
صحیح ترجمہ:
’’اس نے خود کو آئندہ انتخابات کے ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کیا۔‘‘
Revolution is round the corner.
غلط ترجمہ:
’’انقلاب کونے میں کھڑا ہے۔‘‘
صحیح ترجمہ:
’’انقلاب بہت قریب ہے۔‘‘
He observed the thief running away.
یہاں Observed کا ترجمہ ’ملاحظہ کیا‘ کیا گیا تھا، جب کہ:
’’اس نے چور کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔‘‘
زیادہ مناسب ہے۔
I solemnly dedicate myself for the service of the nation.
غلط ترجمہ:
’’میں انتساب سے قوم کی خدمت کا عہد کرتا ہوں۔‘‘
صحیح ترجمہ:
’’میں خود کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کرتا ہوں۔‘‘
Visibility was poor at the airport.
غلط ترجمہ:
’’ہوائی اڈے میں نظر کمزور تھی۔‘‘
صحیح ترجمہ:
’’ہوائی اڈے پر حدِ نگاہ کم تھی۔‘‘ یا ’’ہوائی اڈے پر صاف نظر نہیں آ رہا تھا:
A Muslim is required to perform Hajj without causing distress to his family.
غلط ترجمہ:
’’ایک مسلمان خاندان کو تنگ کیے بغیر حج کو جا سکتا ہے۔‘‘
صحیح ترجمہ:
’’مسلمان پر لازم ہے کہ حج ادا کرنے سے قبل اپنے اہلِ خانہ کو مالی یا دیگر مشکلات میں مبتلا نہ کرے۔‘‘
مزید مختصر مثالیں
Outstanding Scientist
غلط ترجمہ: ’باہر کھڑا سائنس دان‘ صحیح ترجمہ: ’ممتاز سائنس دان‘ یا ’فائق سائنس دان‘
Figment of Imagination
غلط ترجمہ: ’تخیل کی اڑان‘ صحیح ترجمہ: ’من گھڑت بات‘
اردو محاورہ ’میرا دل باغ باغ ہو گیا‘ کا مضحکہ خیز انگریزی ترجمہ “My heart became garden garden” اکثر مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ اس کا صحیح ترجمہ:
“My heart is overjoyed” / “I am delighted”
A degree was conferred .
غلط ترجمہ: ’’ڈگری تجویز کی گئی/ صحیح ترجمہ: ’ڈگری تفویض کی گئی۔‘‘
Near Futureغلط ترجمہ: ’مستقبل‘ / صحیح ترجمہ: ’قریب المستقبل‘ یا ’جلد ہی‘
Security Environment
غلط ترجمہ: ’سلامتی کا ماحول‘ صحیح ترجمہ: ’سلامتی کی صورتِ حال‘ یا ’دفاعی ماحول‘
Memorandum of Understanding
غلط ترجمہ:’یادداشتِ مفاہمت‘ بہتر ترجمہ: ’مفاہمتی دستاویز‘ یا ’باہمی مفاہمت کی دستاویز‘
Courted Arrest
غلط ترجمہ: ’خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔‘ بہتر ترجمہ: ’رضاکارانہ طور پر گرفتاری دی۔‘ یا ’خود کو گرفتار کروایا۔‘
Communication کو اکثر ’مراسلات‘ لکھا جاتا ہے، جب کہ مناسب لفظ ’مواصلات‘ ہے۔
ترجمے میں بعض الفاظ کا تلفظ بھی غلط لکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ASEAN کا اردو تلفظ اکثر ’ایشین‘ لکھ دیا جاتا ہے، جب کہ صحیح تلفظ ’آسیان‘ ہے۔
ایک اہم بات صحافتی ادب کے ترجمے کے بارے میں یہ بھی کہنا مناسب ہوگا کہ اردو اخبارات عموماً اس مسئلے کا شکار رہے ہیں۔ اردو اخبارات کے ابتدائی دور میں اخبار کے دفتر میں خبروں کا ترجمہ انگریزی سے اردو میں باقاعدہ مترجمین کے ذریعے کروایا جاتا تھا۔ مدیر کی نظرِ ثانی ہوتی، زبان درست کی جاتی، اطمینان بخش پروف ریڈنگ کی جاتی، اور ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اخبار طباعت کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
مگر اب جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت کافی مواد کا تیار شدہ ترجمہ فوراً دستیاب ہو جاتا ہے، جس پر کبھی کبھار ذمہ داران کی نظرِ ثانی نہیں ہوتی۔ غلط زبان، غلط مترادفات، رموزِ اوقاف سے غفلت اور عملے کی غلطیاں اردو اخبارات میں دیکھی جاتی ہیں۔
جب ایسا ترجمہ شائع ہو جاتا ہے اور قارئین کے تاثرات دفتر پہنچتے ہیں تو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا اثر اخبار کی مقبولیت اور خریداری پر بھی پڑتا ہے۔
میں نے کچھ مثالیں پیش کی ہیں جن سے اندازہ ہوا ہوگا کہ زبانِ ہدف کا ترجمہ کس قدر غلط، مضحکہ خیز، قابلِ اعتراض اور ناپسندیدہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث مترجم کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ مذکورہ بالا چند مثالیں میں نے اردو صحافی سید ضیاء اللہ صاحب کی اردو کتاب ’اردو صحافت: ادارت و ترجمہ‘ سے مستعار لی ہیں۔
خیال رہے کہ اصل متن یعنی مصنف کے متن سے نہ چھیڑ چھاڑ ہو اور نہ اسے مسخ کیا جائے، لہٰذا ترجمے کو میں ’بانگِ درا‘ کہتا ہوں۔
کامیاب تراجم کی چند مثالیں
پہلا:
Full many a gem of purest ray serene,
The dark unfathomed caves of ocean bear;
Full many a flower is born to blush unseen,
And waste its sweetness on the desert air.
Thomas Gray
اس بند کا اردو ترجمہ مترجم نے یوں کیا ہے ؎
بہت سے گوہرِ شہوار باقی رہ گئے ہوں گے
کہ جن کی خوبیاں سب مٹ گئیں سمندر میں
ہزاروں پھول دشتِ دور میں ایسے کھلے ہوں گے
کہ جن کے مسکرانے میں ہے خوشبو مشک و عنبر کی
یہاں منظوم ترجمے میں مترجم نے اصل متن کے کئی الفاظ کو نظر انداز کرکے اپنے طور پر اردو اور فارسی کے مناسب ترین الفاظ کے استعمال سے ترجمے کے حسن کو بلندی پر پہنچا دیا ہے، جہاں لفظ ’شہوار‘ نے کمال ہی کر دیا ہے۔
ایک انگریزی نظم میں ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے دودھ پلا رہی ہے۔ اصل شاعر نے اس عورت کو Darling کہا ہے مگر مترجم عظمت اللہ خاں نے ’ڈارلنگ‘ کے بجائے ’دیوی‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، جو ہندوستانی تہذیب و تمدن کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے ماں کا درجہ بلند کر دیتا ہے۔
تھامس مور (Thomas Moore) کی ایک نظم کا ایک بند ملاحظہ فرمائیے، جس کے دو اردو مترجم ہیں:
The Last Rose of Summer
So soon may I follow, when friendships decay
And from love’s shining circle the gems drop away
مترجم: حسرت موہانی کا ترجمہ یوں ہے
’موسمِ بہار کا آخری پھول‘
جن سے آباد تھی بزمِ الفت، ایسے احباب کا جلسہ نہ رہا
اب نہیں نامِ محبت باقی، مل گئے خاک میں اربابِ وفا
اب مترجم سرور جہان آبادی کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
کیا لے کے آہ کوئی کرے عمر جاوداں
سلکِ وفا ہی جب نہ رہے، دُرِّ آبدار
یارانِ رفتہ کا ہے زیرِ تربت کدۂ جہاں
میری بھی ہے، کسی کا بنے گا وہیں مزار
اب آیئے اس آسان اور مشکل تراجم کے مسئلوں کے بعد مشہور انگریز شاعر شیلی (Shelley) کی نظمLove Philosophyکے دو الگ الگ تراجم پیشِ خدمت ہیں:
Nothing in the world is single;
All things by a law divine
In one spirit meet and mingle.
Why not I with thine?
’فلسفۂ محبت‘
کائنات کی کوئی شے تنہا نہیں ہے۔
دنیا کی تمام اشیا فطرت کے اصول پر ہمکناری کی خواہش مند ہیں۔
پھر میں کیوں نہ اپنی ذات کو تیری ہستی میں فنا کر دوں؟
(مترجم: ناظر کاکوروی)
اس آزاد ترجمے کے بعد اسی نظم کا ایک نامعلوم شاعر کا منظوم ترجمہ یوں ہے:
جگ بھر میں کوئی نہیں ہے خالی
ہر چیز کو ہے لگن کسی کی
قدرت کا ہو، مری جاں! یہ قانون
ہو مجھ سے نفور، تو ہے ناموزوں
اب ہندوستان کے سابق صدرِ جمہوریہ مرحوم ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی ایک متاثر کن نظم ملاحظہ فرمائیں ؎
CLOUD
If
like the cloud, I had freedom
to fly and reach
beyond the infinite horizon,
I would then pray
to the Greatest Benefactor:
Do put an end
to our lust for wealth and power;
grace us instead
with goodwill and peace.
Teach man
to love man.
بادل
اگر
بادل
کی طرح مجھے نصیب ہوتی
اڑنے اور لامحدود افق سے
پرے پہنچنے کی
تب میں عظیم داتا سے
دعا مانگتا کہ دولت و اقتدار کی
ہماری ہوس کو ختم کر دے
اور ہمیں عطا کرے
امن و آشتی
انسان کو سبق دے
انسان سے پیار کرنے کا
(مترجم: ماہر منصور)
امریکی شاعرہ Sylvia Plath کی نظم کے ایک بند کا اردو ترجمہ کسی نامعلوم مترجم نے یوں کیا ہے ؎
کسی دیوتا نے میرے بالوں کو جڑوں تک
گرفت میں لے کر مجھ پر قابو پا لیا
اور میں صحرا میں کسی سنت سادھو کی طرح
اس کے برقی شکنجے میں بھنتی رہی
اب فرانسیسی شاعر ملارمے کی ایک مختصر نظم کا ترجمہ مشہور مترجم، شاعر اور مدیر صلاح الدین پرویز نے یوں کیا ہے ؎
عنوان: نظم
جب وہ مر گیا
تو اس کے سارے خواب جاگتے تھے
جو جانے کب سے سو رہے تھے
اس کے خوابوں کے اوپر جتنی دیواریں کھڑی تھیں
وہ بھی ایک ایک کرکے گر گئیں
وہ سمے تھا
سمے کو کوئی نہیں روک سکتا
سمے تو بہتا ہی رہتا ہے
جیسے خدا کا وجود
رابندر ناتھ ٹیگور کی نظموں کے تراجم
عنوان: حمد
داتا! تو ہمارا پالنہار ہے
اس بات کے ماننے میں
ہماری مدد فرما کہ تو ہمارا پالنہار ہے
تو ہمارا اجالا ہے
ہمارے اندھیرے دور کر دے
ہم میں جو بھلا ہے اسے روشن کر دے
تو خوشی ہے، خیر ہے
خوشی اور خیر کے مالک
ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں۔
عنوان: سنہرا بنگال
مجھے تجھ سے پریم ہے، میرے دیس بنگال!
تیرا آکاش، اے ماتا!
تیری یاد میرے لیے ایک انتھک سنگیت کی
بنسی بجا رہی ہے۔
بہاریں تیری،
مہکتی امرائیاں مجھے دیوانہ کر دیتی ہیں۔
خزاں میں تیرے ہریالے کھیتوں کی
لہلہاتی مسکان
مجھے ایسے ریجھاتی ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔
ٹیگور کی دو مختصر نظمیں
عنوان: موت
موت آنے والی زندگی کا
ایک دروازہ ہے۔
موت ایک نئی زندگی ہے۔
موت سنسار کو کھوجنے کے لیے ایک سفر ہے۔
عنوان: ڈراما ’ڈاک گھر‘ کا ایک گیت
سامنے سمندر ہے،
امن و آشتی کا سمندر۔
ملاح! نَیّا ڈال دے۔
اچھا ہو کہ فانی بندشیں ٹوٹ جائیں۔
اچھا ہو کہ وسعتِ سنسار تجھے آغوش میں لے لے۔
یہ نامعلوم عظیم و اعلیٰ ہے۔
ایک ادبی نکتہ
میرے مطالعے کے دوران مندرجہ ذیل دو مثالوں میں کچھ بات کھٹکتی محسوس ہوتی ہے۔
مشہور ادبی رسالہ ’استعارہ‘ شمارہ نمبر 12-13 میں ’اساس‘ کے عنوان کے تحت ایک ترجمہ ہے جس کا عنوان ہے ’سورۂ بقر پڑھو‘۔
میرا خیال ہے کہ چونکہ قرآنِ مجید میں لفظ ’بقرہ‘ استعمال ہوا ہے، اس لیے ’بقر‘ کے عوض ’بقرہ‘ استعمال ہونا چاہیے تھا، حالانکہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔
اس نظم کا اختتام یوں ہوتا ہے:
’’ممکن ہو تو، سورۂ بقر پڑھو، میرے بھائی۔‘‘
ایک اور اردو کتاب میری نظروں سے گزری جس میں بھارت کے قومی ترانے میں الفاظ ’جن گن من‘، ’بھارت‘، ’پنجاب‘، ’سندھ‘، ’دراوڑ‘، ’اتکل‘، ’اچل‘ اور ’جل‘ وغیرہ درج تھے، جب کہ بنگلہ کے صحیح متن میں ’جنا گنا منا ادھینائک‘، ’پنجابا‘، ’سندھو‘، ’گجراتا‘، ’دراوڑا‘، ’اتکلا‘، ’اچچلا‘ اور ’جلا دھی ترتا‘ وغیرہ صحیح تلفظ کے ساتھ شائع ہونا چاہیے تھے۔
(ہو سکتا ہے مصنف اور اشاعتی ادارے کو اس غلطی کا احساس ہو گیا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔)
ایسے غلط املے پڑھنے اور سننے والوں میں غلط تلفظ کی تشہیر کا باعث بنتے ہیں۔
جہاں NCPUL، مرکزی ساہتیہ اکادمی، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، ریاستی اردو اکادمیوں، ڈاکٹر کوویمپو بھاشا بھارتی پرادھیکارا، بنگلورو اور ہندوستان کے مختلف اشاعتی اداروں نے اردو ترجمہ شدہ کتابیں شائع کی ہیں، جن کی صحیح تعداد کا اندازہ مشکل ہے، وہیں ان کے اشاعتی پروگرام بھی جاری و ساری ہیں۔ انفرادی طور پر بھی کئی اردو مترجمین نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی فن پاروں کے تراجم بھی کیے ہیں۔
اختصار سے کام لیتے ہوئے میں بتانا چاہوں گا کہ:
گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، سعید الظفر چغتائی، چودھری محمد نعیم، محمود ایاز، خلیل مامون، پروفیسر انیس الرحمن، بیدار بخت، بلراج کومل، داؤد کمال، خورشید الاسلام، احمد علی، کے کے کھلّر، ایم آر حبیب، کے سی کندا، محمد ذاکر اور اسد الدین وغیرہ نے اس میدان میں کافی دلچسپی لی ہے۔
جہاں خشونت سنگھ نے اقبال کے ’شکوہ‘ اور ’جوابِ شکوہ‘ کا اور حفیظ جالندھری کے کلام کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، وہیں متعدد دیگر مترجمین نے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔
چند نمایاں نام
1. امر سنگھ — اقبال کے شعری سرمایے کے مترجم
2. سردار اقبال شاہ — اقبال کی غزلوں کے مترجم
3 .اے- آر-طارق — اقبال کی رباعیات کے مترجم
4 .جی۔ کرنان — اقبال کی منتخب نظموں کے مترجم
5. محمد ذاکر، ایم ایچ کے قریشی، غلام علی، بیدار بخت، کیتھلین گرانٹ، کے سی کندا، انیس ناگی اور خواجہ وقاص احمد وغیرہ — ن۔ م۔ راشد کے مترجم
6. غلام علی، اجیت کمار، عالمگیر ہاشمی اور وارث اقبال حیدر — جوش ملیح آبادی کے مترجم
7. کیتھلین گرانٹ، ایم ایچ کے قریشی، گوپی چند نارنگ، پرتیش نندی، محمود جمال اور عادل جسوال — اختر الایمان کے مترجم
8 .سی ایم نعیم اور صالحہ بھٹی — منیر نیازی کے مترجم
9. وزیر احمد، انیس ناگی، عالمگیر ہاشمی اور رخسانہ احمد — پروین شاکر کے مترجم
10. جمیل آزر — وزیر آغا کے مترجم
11. پرتیش نندی — کیفی اعظمی کے مترجم
12. رفعت حسن، خواجہ احمد عباس، کرمو کوپلا، محمود جمال اور ایم ایچ کے قریشی — ساحر لدھیانوی کے مترجم
13. گوپی چند نارنگ، سی۔ ایم۔ نعیم، بیدار بخت، کیتھلین گرانٹ، رضا میر اور علی حسین — علی سردار جعفری کے مترجم
14. رخسانہ احمد — زہرہ نگاہ کی مترجم
15. داؤد کمال، کے سی کندا، محمود جمال، بیدار بخت اور لیسلی لوئیس — احمد فراز کے مترجم (جاری)
اس کا بھی ذکر ضروری ہے کہ کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور افتخار عارف کی شعری تخلیقات کا بھی انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔
16 .ماہر منصور نے خلیل مامون کے انعام یافتہ اردو شعری مجموعے ’آفاق کی طرف‘ کنڈ کے ساتھ ساتھ ان کی کئی دیگر نظموں کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جسے اپنے دوست پروفیسر ایچ ایس شو پرکاش کے اشتراک سے Whispers of Saraswathi کے نام سے شائع کیا گیا۔
نامور مترجمین
انفرادی طور پر جن نامور اردو مترجمین کے نام قابلِ تحسین ہیں، ان میں:
محمود ایاز نے اردو میں Philop Rao، Stephen Spender، John Lehmann، James Joyece، J.B. Priestley،ـ C.M. Bora، Franz Kafka اور Ono Monoکی نامور تصانیف کے اردو تراجم اپنے مشہورِ زمانہ ادبی رسالے ’سوغات‘ میں شائع کیے۔
میراجی
حیرت کی بات ہے کہ اس ناقابلِ فراموش اردو شاعر نے یورپی زبانوں کے پندرہ سے زیادہ شاہکاروں کا اردو میں ترجمہ کیا۔
سعید الظفر چغتائی
انھوں نے اردو میں Zach، Pierre Albrew، Andre Ercal، Jean Perier، George Battle، Louis Aragon، paul Willery، Baron اور Susan Aibak وغیرہ کے تراجم کیے۔
ساتھ ہی Victor Hugo کی نظموں، ’ریت کے ٹیلے‘، ’ایک قدیم تراشیدہ سنگ دیکھ کر‘، ’ہمارے شب و روز’، ’پیام مشرق‘ اور ’وحدت‘ جیسی نظموں کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔
سید امین اشرف انھوں نے ژاں پال سارتر کے ڈرامے کا ’کھیل تمام ہوئے‘ کے نام سے اردو ترجمہ کیا ہے ۔
دیگر اہم تراجم
غالب و میر کا انگریزی ترجمہ رالف رسل اور خورشید الاسلام نے کیا۔
’آگ کا دریا‘ کا انگریزی ترجمہ خود قرۃ العین حیدر نے کیا۔
چند اور نامور مترجمین بھی اس صف میں شامل ہیں:
پرکاش فکری، رضیہ سجاد ظہیر، عبد المنان طرزی، حیدر جعفری، انجم عثمانی، خورشید عالم، انور کمال اور شہزاد انجم۔
مراٹھی سے اردو تراجم
جہاں تک مراٹھی زبان کا تعلق ہے، ذیل کے مترجمین نے اردو ترجمے کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں:
عبد الستار دلوی، انیس چشتی، خلیل ظفر، ڈاکٹر یحییٰ نشیط، جینت پرمار، معین الدین جینابڑے، سلام بن رزاق، اصغر علی انجینئر، مشتاق رضا، یونس اگاسکر، فیاض رفعت، سید جعفر، حمیدہ ریاض،شرف النہار بیگم وغیرہ ہیں ۔
کشمیری اردو مترجمین
کشمیری اردو مترجمین میں:شاکر شکیب (آئینہ خانہ)،منصور بانہالی (کورا کاغذ) اور پروفیسر زماں آزردہ (غبارِ فکر) شامل ہیں۔
تیلگو سے اردو تراجم
صوبۂ آندھرا پردیش کی تیلگو زبان سے اردو میں ترجمہ کرنے والوں کی فہرست میں قطب شرشار کی ترجمہ شدہ تصنیف ’انحراف‘ قابلِ ذکر ہے۔
پروفیسر نارہری گووند سرو نے ’عمر خیام‘ کا اردو ترجمہ کیا۔
ڈاکٹر محمد عبدالغنی نے مشہور تیلگو شاعر نارائن ریڈی کی تصنیف ’پانچ سطری نظمیں‘ کا اردو ترجمہ کیا، جسے کافی شہرت ملی۔
تیلگو سے اردو مترجمین کی نمایاں صف میں نان ہری، اقبال خسرو قادری، ساغر جیدی، حسینہ بیگم، محمد سرور ابنِ محمد عبد الکریم، ابوالفوزان،افضل احمد، مجیب الرحمن، رحمت یوسف زئی، سکندر محسن،گوپال کرشنا راؤ اور ڈاکٹر قاسم علی خان کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
تمل سے اردو تراجم
تمل سے اردو میں ترجمہ کرنے والے نامور پروفیسر مظفر شہمیری نے کے وی عبدالرحمن کی غزلوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر عبدالحق نے تمل شاعری کا ترجمہ کیا، جب کہ فیض نے تمل اور اردو کے باہمی تراجم میں حصہ لیا۔ خدیجہ عظیم بھی ایک مترجمہ رہی ہیں۔
ہندی سے اردو تراجم
ہندی شعرا اور ادبا میں اشوک واجپئی،سرویشور دیال سکسینہ،کسم اگرج،اروند کماراور سدھیپ بنرجی کے تراجم اردو میں کیے گئے۔
ان کے مترجمین میں: صادق،گلزار،امام اعظم،کملیشور،بھیشم ساہنی،نرمل ورمااور رام کرشن بینی پوری شامل ہیں۔
آپ کے متن کی املا، قواعد اور اسلوبی اصلاح کے بعد ایک زیادہ شستہ اور ادبی صورت یوں ہوگی:
اب دکنی اردو کے ترجمے سے متعلق چند باتیں عرض ہیں۔
دکن کے سلاطین کے دور کے شعرا نے اپنی غزلوں میں دکنی کے ایسے الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں جو آج بھی جنوبی ہند میں رائج اور مستعمل ہیں۔ اس ضمن میں قدیم شعرائے دکن، مثلاً غواصی، ولی دکنی، ملا وجہی، حسن شوقی، علی عادل شاہ، ہاشمی بیجاپوری، عبد اللہ قطب شاہ اور نصرتی وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔
کچ = کچھ / سنگاتی = ساتھی / نیی = نہیں / تریچ = تیرے ہی / میریچ = میرے ہی/ چمن =چومنا / دھن = عورت / نس = رات / انجو = انسو / سری جن = محبوب / لالن = محبوب / ناککو = نہیں چاہیے / ہور = اور / سٹ دے = پھینک دے / کتے= کہتے ہیں کہ / مدن=موحبّت / تماری = تمھاری / تجے = تجھے / چھب = شبیب/ حمنہ = ہمیں/ بھوت = بہت/ کاڈھہ = نکال / اور اکثر جمع کے صیغے کے لیے واحد کے ساتھ ان لگا دیا جاتا ہے جیسے لوگوں کو لوگاں ، مسجدوں کو مسجداں، کتابوں کو کتاباں ، گھروں کو گھراں، کرسیوں کو کرسیاں ، نصیبوں کو نصیباں، وغیرہ وغیرہ اب کنّڈا ، جو کہ میری علاقائی زبان ہے، کے بارے میں عرض کروں کہ اس دراوڑی زبان کی عمر تقریباً دو ہزار سال بتائی جاتی ہے، جس پر ایک عرصۂ دراز تک سنسکرت زبان کا غلبہ رہا۔ مگر سلاطینِ جنوبی ہند کے ادوار میں چونکہ فارسی سرکاری زبان تھی، اس لیے رابطہ? عامہ کی زبان اردو کو بے پناہ تقویت اس وقت ملی جب صوفیائے کرام کی آمد دکن میں ہوئی۔ انھوں نے اپنے اوصافِ حمیدہ سے عوام کو بہت متاثر کیا اور زبانِ اردو کو پروان چڑھایا، جس کا اثر جنوبی ہند میں اب تک جاری و ساری ہے، جہاں اردو پر فارسی کا اثر بہ نسبت عربی کچھ زیادہ ہی ہے۔
بارہویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک کنڑ ادب میں ایک غیر معمولی تبدیلی آئی۔ وہ یہ کہ کنڑ ادب پر صدیوں سے غالب سنسکرت کا اثر بتدریج کم ہوگیا۔ نتیجتاً جو سماجی، مذہبی اور روحانی انقلاب بالخصوص کرناٹک میں برپا ہوا، وہ عام فہم کنڑ زبان میں ظاہر ہوا، جس کا سہرا روحانی پیشوا اور انقلابی شخصیت ’شری بسویشور‘ (بسونّا) اور ان کے ہم خیال قلمکاروں، جیسے اللّمہ پرابھو، اکّا مہادیوی وغیرہ کے سر جاتا ہے۔ ان کی مختصر نظموں (وچنوں) کے ذریعے پیامِ انسانیت دیا گیا اور ظاہر و باطن کی پاکیزگی، اکلِ حلال، عزتِ نفس، خواتین کے احترام، مساوات اور ہر پیشے کے احترام کا مؤثر درس دیا گیا۔ نتیجتاً ہزاروں وچن قلم بند ہوئے، جن میں سے چند وچنوں کا اردو ترجمہ ’فرمودات‘ کے نام سے حمید الماس نے کیا، جب کہ ماہر منصور نے قریب تین ہزار وچنوں کا اردو ترجمہ کیا، جسے ساہتیہ اکادمی اور بسوا سمیتی نے شائع کیا۔
یکم نومبر 1956 میں ریاستِ کرناٹک کی لسانی بنیاد پر تشکیلِ نو کے عمل میں شامل شدہ اضلاع سے بہت سے کنڑ اور اردو فنکار کرناٹک کے فنکار بن گئے، جنھوں نے ادب کی بیش بہا خدمت انجام دیں۔ اس قدر کہ بھارت کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز ’گیان پیٹھ ایوارڈ‘ حاصل کرنے والوں میں کرناٹک کا حصہ سب سے نمایاں رہا ہے۔ ان عالی وقار ادیبوں اور فنکاروں میں کوومپو، ڈی آر بیندرے، وی کے گوکاک، ماستی وینکٹیش ایینگر، شیورام کارنتھ، یو آر اننت مورتی، گریش کرناڈ اور چندر شیکھر کمبار شامل ہیں۔
پروفیسر محمود حسین نے ’کنڑادب کی تاریخ‘ کا اردو میں ترجمہ کیا، پروفیسر قطبائی نے ’داتو‘ کا، پروفیسر شہاب الدین نے ’ونشا رکشا‘ کا ترجمہ کیا، جب کہ ماہر منصور نے ’چوما کا ڈھول‘، ’سنسکار‘، ’جنگل‘، ’وڈلالہ‘ اور ’بدکو‘ جیسے ناولوں کے اردو تراجم کیے۔ اسی طرح ’سری سمپگے‘، ’للکار‘، ’خودی‘، ’وارث دارا‘ممود گنوا ، کالا سورج اور ’سلطان ٹیپو‘ وغیرہ ڈرامہ کا بھی کنڑ سے اردو میں ترجمہ کیا۔
کنڑ کی طویل نظموں کے اردو تراجم میں ’صرف تمھارے لیے’، ’چارو واسنتا کے ساتھ‘، ’میرا اندازِ بیان اور’، ’میرے اپنے‘ اور ’گم شدہ آواز‘ شامل ہیں۔ کوومپو، بیندرے، ادیگا، ناڈیگ، اننت مورتی، چندر شیکھر کمبار، ایچ۔ ایس۔ شیو پرکاش، بی آر لکشمن راؤ اور ایچ ایس وینکٹیش مورتی کے علاوہ شاعرات ڈاکٹر شریفہ، شروتی، پشپا، شوبھا نائک، ایم آر کملا، چترا شویوگی، ویدیہی اور سرو منگلا کی شعری تخلیقات بھی ماہر منصور نے اردو میں ترجمہ کیا ہیں۔ قدیم کنڑ شعرا جیسے پرندر داس، سروگنا، کانک داس اور ششونال شریف کے شعری مجموعوں کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ ساتھ ہی رام چندر شرما، دیونور مہادیوا، بولوار محمد کنہی اور اگرہار کرشن مورتی وغیرہ کی کنڑ کہانیوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔ حال ہی میں ماہر منصور نے سابق صدر جمہوریہ ہند عالی وقار APJ عبدالکلام کے شعری مجموعے کا ’میری زندگی‘ کے نام سے اردو ترجمہ کیا۔
کنڑ سے اردو میں ترجمہ کرنے والوں کے چند نام قابلِ ذکر ہیں: خلیل مامون، حسن نعیم سرکوڈ، بوڈے ریاض احمد، شاد بگلکوٹی، شکیلہ گوری خان، منیر احمد جامی ,شاکرا خانم اور شائستہ یوسف وغیرہ۔ مگر صرف یک طرفہ ترجمہ کنڑ میں زیادہ تعداد میں ہوتا آیا ہے، نسبتاً اردو سے کنڑ میں۔ ریاست میں اردو مترجمین کی کمی بری طرح محسوس کی جاتی ہے۔ مجھے تو دور دور تک اس کارِ خیر پر آمادہ افراد نظر نہیں آتے، جس کے لیے منصوبہ بندی اور تربیت گاہوں کا اہتمام وقت کی اشد ضرورت ہے۔
ایک اہم بات جو قابلِ ذکر ہے، وہ یہ کہ پروفیسر کے ایس نثار احمد، پرنسپل عارف راجہ، پروفیسر اکبر علی، افسانہ نگار سارہ ابوبکر، محمد کنہی، بانو مشتاق، فقیر محمد کاٹپدی، رضیہ ، رمضان درگاہ اور رحمت تاریکیرے جیسے مسلم کنڑفنکاروں نے اپنی تخلیقات میں فارسی، عربی، اردو اور مسلم تہذیب سے جڑے بے شمار الفاظ کا بڑی فراخ دلی سے استعمال کیا ہے، جس کا کنڑ داں طبقے نے دل کھول کر استقبال کیا ہے۔ یہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے۔
کچھ فرض شناس، غیر متعصب اور علم دوست افراد ریاستِ کرناٹک میں کنڑ اور اردو ادب کے باہمی تراجم کی اہمیت و ضرورت پر زور دینے لگے ہیں۔ حال ہی میں مضمون نگار کی کنڑ سے اردو میں ترجمہ شدہ کنک داس کی چار تصانیف ’موہن ترنگنی‘، ’ہری بھکتی سارا‘، ’رام چرتر‘ اور ’نر چرتر‘، نیز کیرتنوں اور پہیلیوں پر مشتمل کتابوں کی رونمائی ہوتی ہے۔
Mahir Mansoor
71, 3rd Cross, Ranka Nagar
R.T. Nagar Post
Bengaluru- 560032 (Karnataka)
Mob.: 9901025513
sharejameel@gmail.com