تلخیص
زبان انسان کے مافی الضمیر کی ادائیگی کا بنیادی وسیلہ ہے۔ انسانوں کی بنیادی ضروریات اور یومیہ معمولات میں یکسانیت کے باوجود ہر زبان کا طرزِ اظہار، تاریخی ماخذ، تہذیبی ہیئت اور جغرافیائی خطے کے اثرات کی وجہ سے دوسری زبان سے مختلف اور جداگانہ ہوتا ہے۔ مخاطب، ماحول اور موضوع کے بدلنے سے پیرایۂ بیان بدل جاتا ہے۔ علمی تحریریں جہاں علم و فن کی ترقی اور بولنے والوں کے علمی مرتبے کی عکاس ہوتی ہیں، وہیں ادبی تحریریں تخیل اور جمالیاتی کیفیات کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ ترجمے کے دوران دو زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کے مابین تعامل ہوتا ہے، جس میں لسانی و تہذیبی سطح پر تبدیلیاں آنا ایک لازمی اور فطری امر ہے۔ ان تغیرات کا سب سے اساسی سبب قارئین کا ’وقوفی ماحول‘ہے۔ وقوفی ماحول سے مراد وہ عناصر، علم، ادراک، احساس اور آگاہی ہیں جن کے ذریعے انسان ذہنی سطح پر امتیاز قائم کرتا ہے اور کسی شے کا ادراک ہوتاہے۔
کامیاب ترسیل میں مترجم کا اپنا وقوفی ماحول کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہر زبان کا اپنا ایک مخصوص مزاج، اساطیر، نشانات اور اشارات ہوتے ہیں جو دوسری زبان والوں کے لیے اجنبی ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ترقی یافتہ اقوام کا طرزِ فکر زیادہ علمی، سائنسی اور منطقی ہوتا ہے، اس لیے وہاں جدید موضوعات کی تفہیم آسان ہوتی ہے؛ جبکہ اردو کا مزاج زیادہ تر ادبی، شاعرانہ اور مذہبی رہا ہے۔ چنانچہ انگریزی سے سائنسی متون کو اردو میں منتقل کرتے وقت مترجم کو تفہیم کے لیے تشریحی طرز اختیار کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے ادب کے ترجمے میں بھی بچوں کے مخصوص وقوفی ماحول کے مطابق کرداروں اور محاوروں کی تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔کامیاب ترجمہ وہی ہے جس میں ہدفی قارئین کے وقوفی ماحول کی رعایت اس انداز سے برتی گئی ہو کہ اصل متن کی خوبو بھی قائم رہے۔
کلیدی الفاظ
ترجمہ نگاری،مترجم، مداخلت، وقوفی ماحول، سیاقی اثرات، اصل زبان، اصل متن، ہدفی زبان، ہدفی متن، ہدفی قارئین، لسانی تعامل، لسانی نظام، تفہیم و ترسیل، یکسانیت، تسہیل، تہذیبی روایت، ادراک۔
————
زبان ما فی الضمیر کی ادائیگی کابنیادی وسیلہ ہے۔ دنیا کی تمام زبانیں اسی مقصد کو پورا کرتی ہیں۔ بیشتر بنیادی ضروریات تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ عام یومیہ معمولات یکساں ہی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ہر زبان کا طرز اظہار مختلف ہے۔ ہر زبان دوسری زبان سے ممتاز و جداگانہ شناخت کی حامل ہوتی ہے۔ تاریخی ماخذ، تہذیبی ہیئت، جغرافیائی خطہ، آب و ہوااور گرد و پیش کے احوال سب مل کر زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ عوامل ہر زبان کے ساتھ لاحق ہوتے ہیں، اسی وجہ سے زبانیں ایک ہی کیفیت کے اظہار میں جداپیرایہ رکھتی ہیں۔ مزید برآں یہ کہ صورت حال کے اختلاف سے انداز تبدیل ہوجاتا ہے۔ مخاطب، ماحول، موضوع، اہمیت وغیرہ کے تبدیل ہونے سے طرز اظہار و طلب بدل جاتا ہے۔
جب معمولی اور عام زندگی کی ضروریات کے بیان میں زبان کے اندر تبدیلی رونما ہوتی ہے تو علمی ، فکری اور ادبی تحریروں میں اس کے تغیر کی کیفیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علمی تحریریں اس زبان کے اندر علم و فن کی اہمیت، اس کے فروغ و ترقی کی صورت حال، زبان بولنے والے افراد کا علمی مرتبہ ، شغف و دلچسپی کی عکاس ہوتی ہے۔ ادبی تحریریں تخیل و تدبر کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ اس میں حقیقت پسندی کے بجائے حس جمال کی پرکاری ہوتی ہے، تصوراتی و جذباتی کیفیات کی عکس بندی کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہر زبان کا علمی و ادبی ذوق و مزاج علاحدہ ہوتاہے۔
ترجمہ میں لفظ سے اکائی نہیں بنتی بلکہ لفظ، جملوں کے ساتھ، جملے، پیراگراف کے ساتھ اور پیراگراف پوری تحریر کے ساتھ مل کر ایک متحدہ اکائی بنتے ہیں ۔پورا متن ایک مبسوط نظام کا سلسلہ ہوتا ہے جن کے درمیان گہری نسبت قائم ہوتی ہے۔ یہی نسبت سیاقی اثرات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر سیاقی اثرات کا لحاظ کیے بغیرمحض جملے یا پیراگراف کو تنہا اکائی مان کرترجمہ کردیا جائے تو وہ ترجمہ مطلوبہ زبان میں توضیح لفظی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے مترجم کا کام صرف لفظ کی جگہ لفظ رکھنا نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ترجمہ کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔اگر ترجمہ معنی کے ابلاغ اور مفہوم کی ترسیل میں ہی ناکام ہو تو ہدفی زبان میں ایسا متن بہر اعتبار غیر مفید اور غیر ضروری ہو گا۔
کسی بھی تحریر کا ترجمہ ہو اور کوئی بھی مترجم اس عمل کو انجام دے رہا ہو یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ ترجمہ کس کے لیے کیا جارہا ہے۔جب ترجمہ کا عمل انجام دیا جاتا ہے تو اس کے ممکنہ قاری کو ضرور مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی سطح پر ہونے والے تراجم میں ان چیزوں کو بطور خاص ملحوظ رکھا جا تا ہے۔انفرادی سطح پر بھی مترجم کے ذہن میں ہدفی قارئین کا خاکہ موجودہوتا ہے۔ یہ معاملہ بالکل تصنیف ہی کی مانند ہے۔جس طرح مصنف اپنے ہدفی قارئین کو مد نظر رکھ کر اپنا تحریری سفر طے کرتا ہے، الفاظ کا انتخاب، جملوں کی ساخت، مضامین و مواد کی ترتیب، بیانیہ، طرزاظہار ، تہذیبی، سماجی، ثقافتی حدود ہر پہلو کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح مترجم کو بھی ان ساری باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔بلکہ مترجم کے سامنے تویہ مرحلہ اصل مصنف کے مقابلے میں کئی اعتبار سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ مصنف اس ضمن میں آزاد ہوتا ہے وہ ہدفی قارئین کو پیش نظر رکھ کر سارے راستے اختیار کر لیتا ہے جب کہ عمل ترجمہ میں قارئین کے کسی مخصوص گروہ کے لیے تیارکردہ تحریر کو نئی زبان میں نئے قارئین سے ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔ مترجم کو اصل زبان کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے ہدفی قارئین کے تقاضوں کوبھی ملحوظ رکھنا پڑتا ہے ۔ ان مراحل کو طے کرنے کے دوران ترجمے میں کئی طرح کے تغیرات واقع ہونا لازمی ہیں۔ بدیہی بات ہے کہ دو الگ سمتوں کا خیال رکھنے میں تبدیلی تو ہوگی ہی۔
ترجمے کے ذریعے دو زبانوں کے درمیان تعامل ہوتا ہے۔ ایک زبان کے متن کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالا جاتا ہے۔ ایک زبان میں پروردہ خیالات جس میں اس کی تہذیب، ثقافت، تاریخ سب پیوست ہے اس کو دوسری تہذیب و ثقافت کی پروردہ زبان میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تبدیلی کا یہ عمل بہت سارے مشکل مراحل کو طے کرنے کے بعدا نجام پاتا ہے۔ اس دوران اصل زبان اور اصل متن کے کئی محاسن و تلازمات ہدفی زبان میں نیا روپ دھار لیتے ہیں نیز لسانی و تہذیبی سطح پر کئی فرق در آتے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ تغیر وتبدل کا واقع ہونافی نفسہ کوئی قبیح عمل نہیں ہے؛ بلکہ یہ ترجمے کا جزو لاینفک ہے۔ اس کے بغیر کسی ترجمے کا تصور محال ہے۔ البتہ اہم سوال یہ ہے کہ ان تغیرات کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب کیا ہیں۔ ہدفی قارئین کا وقوفی ماحول،ترجمہ شدہ متن کی تفہیم میں تسہیل، ڈسکورس اور ثقافت وغیرہ اسباب خاص طور پر قابل ذکر ہیں؛ البتہ اول الذکر کو تمام اسباب میں اساسی حیثیت حاصل ہے اور درحقیقت بقیہ تمام اسباب اس بنیادی مقصدکی تکمیل میں معاون کادرجہ رکھتے ہیں۔
وقوفی ماحول دراصل انگریزی اصطلاح Cognitive Environment کا اردو متبادل ہے۔ Cognitive مشتق ہے Cognition سے اور آکسفورڈ ڈکشنری میں اس کا معنی ہے:
Cognition: the process by which knowledge and understanding is developed in the mind.
(وہ مرحلہ جس کے ذریعہ ذہن ، علم وفہم کا ادراک کرتاہے)
جامع انگریزی ۔ اردو لغت میں Cognitive کا معنی ہے:باوقوف، گن گیان والا، علم رکھنے والا، واقف، شناسا، دانش مند، عارف ، وقوفی ، اور بابائے اردو مولوی عبدا لحق کی مرتب کردہ مشہور انگریزی اردو لغت میں بھی تقریباًیہی معانی باوقوف، گیان، گن گیان والا، علم رکھنے والا، واقف، شناسا، دانش مند، عارف کے دیے گئے ہیں۔
مذکورہ تمام معانی ہی تقریباًیکساں اور قریب المعنی ہیں۔ علم، ادراک، احساس، آگاہی اور وقوف ہی اصل معانی ہیں جن کو مختلف متبادلات سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ان تمام معانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ وہ عناصر یا صفات ہیں جن کے ذریعہ انسانوں کے درمیان ذہنی سطح پر امتیاز قائم ہوتا ہے اور ان کو جداگانہ ادراکی شناخت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے ذریعہ انسان کسی شے کے متعلق واقفیت حاصل کرتا ہے، نامعلوم سے معلوم کا سفر کرتا ہے نیز انہی کے ذریعے اس کی ذہنی سطح کا معیار متغیر ہوتا ہے۔
ہر انسان کے اندر اس کی سطح مختلف ہوتی ہے جس سے اس کی انفرادی شناخت بنتی ہے جو اس کے علم ، آگہی اورعرفان سے وجود میں آتی ہے۔ کوئی بھی لفظ ہو جملہ ہویا کوئی کہانی، کوئی شعرہویا مظاہر قدرت کا کوئی منظر جب کسی شخص کے حواس سے یہ چیزیں گزرتی ہیں تو جو کیفیت یا حالت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے عموماً وہ اسی مرتبہ ومعیار کے دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے۔ البتہ ایک خاص حلقے اور مخصوص ماحول میں رہنے والے یا مخصوص میدان میں کام کرنے والے افراد کے مجموعے میں یہ کیفیت کسی قدر یکساں و مشترک ہوتی یا ہوسکتی ہے جس کا اثر افراد کے اس مجموعے کے تمام اجتماعی اعمال و افعال پر نظر آتا ہے ۔ ان اثرات کا سب سے واضح او ر اہم مظہر وہاں مروجہ زبان ہوتی ہے اور ایک خاص مرحلہ میں زبان اور اس زبان کو بولنے والے افراد کے طرز فکر دونوں ایک دوسرے کے پرتو بن جاتے ہیں کیونکہ زبان اورفکر کا انتہائی مربوط رشتہ ہے۔ انسان جو زبان بولتا ہے وہ اس کے سوچنے کے طریقے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اس کی وضاحت یو ں کی جاسکتی ہے کہ انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی بولتا ہے، اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان وہی سوچتا یا سوچ سکتا ہے جس کا وہ اظہار کر سکتا ہے۔
One logical possibility is that the way people think influences the language they use, another possibility is that language influences how people think. Or it may be impossible to separate the two. Thinking and language are essentially the same thing.؎1
’’ایک منطقی امکان یہ ہے کہ لوگوں کا طرز فکر اس زبان پر اثرانداز ہوتا ہے جسے وہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ زبان لوگوں کے طرز فکر سے متاثر ہوتی ہے۔ یا یہ کہ دونوںکو علاحدہ کرنا ناممکن ہے۔ فکر اور زبان لازمی طور پر ایک ہی چیز ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ کسی زبان کا مطالعہ اس کے بولنے والوں سے الگ کرکے ، اس جغرافیائی خطے اور اس ماحول و معاشرے سے کاٹ کرجامع و مستند اندازمیں نہیں کیا جاسکتا ہے۔زبان وقوفی ماحول اور سطح ادراک کی نمائندہ ہوتی ہے۔ درحقیقت زبان کا مطالعہ اس ماحول کے ساتھ ہوناچاہیے جس کی وہ زبان پروردہ ہے۔ کیونکہ زبان بے شمار وقوفی اتفاقات کا مظہر ہوتی ہے۔ کسی زبان کے لفظ کا معنی یا یہ کہہ لیں کہ قرار واقعی درست معنی محض لسانی نظام کے تحت دریافت نہیں کیا جاسکتا ہے؛بلکہ الفاظ کو معنی کا لبادہ زبان استعمال کرنے والے افراد کے عقائد، خیالات، نظریات، طور طریقے، تہذیب و معاشرتی نظام جیسے عناصرپہناتے ہیں۔ زبان معروضی دنیا کے متعلق انسانی وقوف کی پیداوار اور نتیجہ ہے۔ لسانی استعداد دیگر وقوفی صلاحتیوں سے آزاد ہوکر خود مختار علامتی نظام کے طورپر قائم نہیں رہ سکتی۔وقوفی ماحول میں انسان کی تمام تر فکری اور تصوراتی سطحیں شامل ہیں۔ جس میں اس کے شعور اور غیر شعور کو بھی دخل ہے۔ چنانچہ وقوفی ماحول پر گفتگو کرتے ہوئے Change Zixia اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے:
The total cognitive environment of an individual is the set of all the facts that he can perceive or infer. It is a function of his physical environment and his cognitive abilities. It consists of not only all the facts he is aware of, but also all the facts he is capable of becoming aware of. ؎2
’’کسی فرد کا مجموعی وقوفی ماحول ان تمام حقائق کا مجموعہ ہوتاہے جس کا وہ ادراک یااستخراج کر سکتا ہے۔ یہ اس کے جسمانی ماحول اور اس کی وقوفی صلاحیتوں کاعمل ہے۔ اس میں صرف وہ حقائق شامل نہیں ہیں جن سے واقف ہے بلکہ وہ حقائق بھی شامل ہیں جن سے واقف ہونے کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہے۔‘‘
زبان اپنے استعمال کنندگان کی آئینہ دار اور عکاس ہوتی ہے۔کسی فرد کا شعور، اس کی بصیرت، اس کی علمی قابلیت، ماحول، مزاج، طرزفکر، اطراف و اکناف کے حالات، زمانہ،مجموعی تاثرات، احساسات وغیرہ کیفیات اس کے وقوفی ماحول کا حصہ ہیں۔کوئی فرد کسی بھی بات کو ان ہی عناصر کی روشنی میں یا ان ہی کی مدد سے سمجھتا ہے۔ یہ کیفیت اصل اور ہدفی دونوں زبانوں کے قارئین کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں مترجم در اصل دو زبانوں کے درمیان کی کڑی ہے۔ اس کی حیثیت مصنف اور قارئین کے درمیان ایک پل کی ہے۔ ترجمہ شدہ تحریر دراصل تین فریق (مصنف، مترجم، ہدفی قارئین)کے تعامل کی پیداوار ہوتی ہے۔
جن مختلف عناصر کے ملاپ سے ایک مخصوص و ممتاز معاشرہ وجود میں آتا ہے اور اسے ایک علاحدہ شناخت ملتی ہے تقریباً وہ تمام صفات یا کیفیات اس معاشرے کے بیشترافراد میں بھی کم و بیش پائی جاتی ہیں جس سے اس سماج میں رہنے والے انسانوں کا مجموعی مزاج تشکیل پاتا ہے اور اس مجموعی مزاج کی سب سے واضح عکاسی زبان کے ذریعہ ہوتی ہے اوراسی سے اس زبان کا مخصوص مزاج نمایاں ہوتا ہے:
’’ہر زبان کااپناایک مزاج ہوتا ہے ۔یہ مزاج پالینا ترجموں کے معاملے میں بہت اہم چیز ہے……(یہاںمزاج سے مراد زبان کی وقوفی اور تہذیبی روایت ہے ) یہ مزاج جغرافیائی ، تاریخی، معاشی اور سماجی اختلاط سے بنتا ہے۔‘‘3؎
یہ بالکل مسلمہ امر اور فطری حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص کچھ تحریر کرنے کا ارادہ کرتا ہے خواہ کوئی ادبی صنف ہو یا علمی مقالہ ہو ، اشتہار ہو یاخط اس کے ذہن میں ان لوگوں کاایک خاکہ ضرور ہوتا جن کے سامنے اسے پیش کرنا ہے۔وہ اس بات کا لحاظ رکھتا ہے کہ کس طبقہ اور کس معیار کے لوگ اس کے مخاطب ہیں۔ اپنے مخاطب یا ہدفی قارئین کو ذہن میں رکھ کر ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی تحریر کو ضبط میں لاتا ہے۔ قارئین کو مد نظر رکھنے کا خیال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر قاری کو ذہن میں رکھ کر متن کی تیاری کی جائے گی تو متن ان کی ضروریات کوپوری کرے گا اور ان کی توقعات پر بھی پورا اترے گا ۔
ضروریات اور توقعات کی تکمیل بہت ہی معنی خیز ہے۔ ایک شخص کسی موضو ع کے تحت متعینہ عنوان پر گفتگو کررہا ہے۔ اس کو یہ گفتگو مختلف اوقات میں مختلف گروپ کے لوگوں کے سامنے کرنی ہے۔ اولاً اسے کالج سطح کے طلباسے خطاب کرنا ہے، اس کے بعد اسکالرس سے مخاطب ہونا ہے، بعدازاں اسے اساتذہ اور پروفیسرز کے سامنے گفتگو کرنی ہے۔ اسے ان سب کے سامنے چاہے ایک ہی عنوان پر بات کرنی ہے لیکن تینوں گروپ کے سامنے پیش کش کے دوران اس کی گفتگو میں واضح فرق محسوس کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ کا انتخاب مختلف ہوگا، جملوں کی ساخت میں تبدیلی ہوگی، معیار کی تبدیلی کے ساتھ توضیحات و تشریحات میں کمی آتی جائے گی، حتیٰ کہ گفتگو کا لہجہ تک مختلف ہوجائے گا۔ یہی تمام مدارج دوران تحریر بھی طے کرنے پڑتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے اور کسی ایک مخصوص طرز ہی کی پابندی کی جائے تو گفتگو و تحریر کی افادیت انتہائی کم یا محدود ہوجائے گی۔ مواد کی یکسانیت کے باوجود تفہیم و ترسیل کی سطح مختلف ہوجائے گی۔ اگر گفتگو میں توضیحات و تشریحات کی کثرت ہوگی توکالج سطح کے طلباکے لیے تووہ مفید ہوگی لیکن اسکالرس اور اساتذہ کے لیے کم توجہ طلب ہوگی خواہ معلومات سب کے لیے نئی ہوں۔اگر تشریحات تو کم ہوں لیکن الفاظ کے استعمال اور جملوں کی بندش کا خاص خیال نہ رکھا گیا ہوتو اسکالرس کے لیے کسی حد تک قابل استفادہ ہوسکتی ہے لیکن پروفیسر حضرات کے لیے باعث کشش نہیں ہوگی اور اگر ان حضرات کے علمی معیار کا لحاظ رکھا گیا تو بقیہ دو گروپ کے لیے قابل تسکین نہیں ہوگی۔ ایسااس لیے ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک گروپ کی وقوفی سطح دوسرے سے مختلف ہے۔ اس لیے ان سب کے لیے الگ الگ طرز اختیار کرنا پڑے گا تاکہ ان کی ضرورت کی تکمیل بھی ہوسکے اور توقعات بھی پوری ہوسکیں۔
وقوفی ماحول تفریق کی ہی دین ہے کہ ایک ہی متن کو مختلف افراد الگ الگ انداز سے سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں شعر کی معنوی تہہ داری بہت معنی خیز ہے۔ یہ تہہ داری در اصل سامعین یا قارئین کے وقوفی ماحول کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر فرد اپنے علم و آگہی اور تجربہ کے اعتبار سے اس کے معانی طے کرتا ہے۔
جب ایک مصنف کے لیے اپنی تحریر کو قابل استفادہ بنانے کے لیے اپنے وقوفی ماحول کا لحاظ کرنا ضروری ہے تو مترجم کو اس کا خیال کس قدر کرنا ہوگا؛ کیونکہ مصنف اور اس کے ہدفی قارئین کے درمیان تو بہر حال کسی نہ کسی حد تک وقوفی یکسانیت کا امکان موجود ہے لیکن مترجم کے ہدفی قارئین کا وقوفی ماحول تو عموماً اس سے یکسر مختلف ہوتا ہے جس کے لیے متن تیار کیا گیا تھا۔ مترجم کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اصل زبان میں جو متن تیار کیا گیا تھا ا س کے ہدفی قارئین کون تھے۔ مصنف نے کس گروپ یا طبقہ کو مد نظر رکھ کر متن تیار کیا تھا۔ دوسری انتہائی اہم بات یہ ہے کہ مترجم اگر یہ بھی معلوم کرلے کہ مصنف نے جس وقوفی ماحول کے سامنے متن پیش کیا تھا ان کے اندر اس کا رد عمل کیا تھا۔ اس کے بعد مترجم ترجمہ شدہ متن کے ہدفی قارئین کے تعین کا اہم مرحلہ طے کرتا ہے۔ مصنف اور مترجم کے وقوفی ماحول میں کس حد تک تفاوت ہے۔ جس قدر فاصلہ زیادہ ہوگا اسی قدر مترجم کو مداخلت سے کام لینا پڑتا ہے۔
مترجم کی مثال ایک سرجن کی ہے جو جسم کے کسی مخصوص حصے کا آپریشن کرتا ہے لیکن وہ جسم کے تمام اعضا کا خیال رکھتا ہے۔ ان کے تقاضے کو ملحوظ رکھتا ہے کیونکہ اگر ایسانہ کیا جائے تو آپریشن کامیاب ہوتے ہوئے بھی فائدہ مند نہیں ہوگایا یہ کہ نہایت تکلیف دہ ہوجائے گا۔ٹھیک یہی کام مترجم بھی کرتا ہے ترجمہ کی کامیابی کا انحصار، ترجمہ کے کامیاب ہونے کے ساتھ بڑی حد تک اس کے تمام تقاضوں کا لحاظ رکھنے پر بھی ہے جس میں سب سے اہم قارئین کا وقوفی ماحول ہے۔
قارئین کا انداز فکر یا چیزوں کے دیکھنے سمجھنے کا مزاج جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ اسی ماحول کی مدد سے چیزوں کو سمجھتے ہیں جو ان کے اطراف میں موجود ہوتا ہے یا جن سے ان کو سابقہ پڑچکا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پرجب تک کسی نے پنیر نہ دیکھا ہو پنیر کے لفظ کو نہیں سمجھ سکتا۔
یہ صورت حال دونوں طرف یعنی اصل اور ہدفی دونوں زبانوں کو لاحق ہوتی ہے۔ ہر زبان میں اس کے اپنے مخصوص درخت، پھل، مرغزار، پھول، چرند، پرند، ندیاں، کتابیں، اصنام، شخصیات، پہاڑ، وادیاں، مقامات، بستیاں، عشاق، معشوق، اساطیر، حکایات، رموزاور اشارات ہوتے ہیں جو اسی کے ساتھ خاص ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو اس زبان کے بولنے والے افراد بہ آسانی سمجھتے ہیں ؛ لیکن ان کے علاوہ افراد کے لیے یہ چیزیں واقفیت نہ ہونے کی صورت میں بالکل اجنبی ہوتی ہیں۔ مصنف دوران تحریر بڑی آسانی کے ساتھ انھیں استعمال کرتا اور برتتا ہے اسے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کے قارئین بھی اس سے واقف ہیں۔ لیکن ترجمہ کرتے وقت صورت حال یکسر مختلف ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ ہدفی قارئین کے لیے یہ چیزیں جس قدر اجنبی ہوں گی مترجم کی ذمہ داری اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ Chang Zixia نے مترجم کے وقوفی ماحول کو نہایت اہم گردانا ہے ۔ وہ لکھتا ہے:
“translator’s cognitive environment plays a key role in successful communication between the writer and target reader.” ؎4
’’مصنف اور (ترجمہ کے) ہدفی قارئین کے ما بین کامیاب ترسیل میں مترجم کا وقوفی ماحول کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
مترجم کا کردار کلیدی اس لیے ہے کہ وہ پہلے تو اصل متن میں موجود ان عناصر کومنشائے مصنف کے مطابق سمجھتا ہے ۔ اس مرحلہ میں اس کااپنا وقوفی ماحول بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مترجم کا وقوفی ماحول اس کے ہدفی قارئین کے وقوفی ماحول سے بایں طور قدرے مختلف ہوتا ہے کہ وہ دونوں وقوفی ماحول سے آشنا ہوتا ہے۔ دونوں زبانوں سے واقف ہونے کی وجہ سے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مترجم کا رچاؤ اصل زبان میں ہوتا ہے جس کے نتیجے میں غیر شعوری طور پر اسے یہ بھرم ہوتا ہے کہ اس کے قارئین بھی ان باتوں اور چیزوں سے واقف ہیں جب کہ در حقیقت وہ اس سے نابلد ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ خود مترجم اصل زبان کے ان عناصر کو خاطر خواہ انداز میں سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے جس سے مرحلہ تفہیم میں اسے دشواری کا سامنا کرناپڑتا ہے۔
اردو زبان بولنے والے افراد کے سامنے اگر’تلسی ‘ لفظ آئے توجس انداز سے ان کی ذہنی روچلے گی ویسے ہی غیر اردو داں کے لیے ممکن ہے۔ گنگا، جمنا، سرسوتی ، جہلم کا لفظ ا ٓتے ہی ہم سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ندیوں کے نام ہیں۔ یہ فلاں علاقوں میں بہتی ہیں۔ اسی طرح ہر زبان میں کچھ کتابیں بالکل عام ہوتی ہیں ہر کس و ناکس ان کے ناموں سے واقف ہوتا ہے لیکن دوسرے افراد کے لیے یہ نام نامانوس ہوتے ہیں۔ یہی حال مقامات اوربستیوں کا بھی ہوتا ہے۔ ہم جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا جاتا ہے واقفیت کا دائرہ چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ لکھنؤ ہندوستان کا تقریباًہر فرد جانتا ہوگا لیکن پڑوس کے ہی ملک نیپال میں اس کے جاننے والوں کی تعداد محدود ہوگی۔ اسی طرح شیریں فرہاد، ہیر رانجھاہمارے یہاں زبان زد عام ہے لیکن جولیس سیزر سے واقفین کا دائرہ تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدودہے۔ اسی طرح ہرزبان بولنے والے افراد کے اشارات مخصوص ہوتے ہیں۔ محض اشارے سے ہی لوگ پوری بات سمجھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے واقف نہ ہوتو وضاحت کے لیے کئی جملے ناکافی ہوجائیں گے۔
اسی طرح ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ یہ معانی قریب المعنی بھی ہوسکتے ہیں اور ان کے درمیان بون بعید بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی نظیریں قریب کی زبانوں میں زیادہ دیکھنے کو ملیں گی۔ لفظ کے معنوی فرق کاایک اہم سبب یہ ہوتا کہ کسی ز بان سے کوئی لفظ مستعار لیا جاتا ہے اور پھر اس کو اپنی زبان کے اعتبار سے معنی کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے جو کہ بسا اوقات اس معنی سے بالکل مختلف ہوتا ہے جس میں اہل زبان اسے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندی میں لفظ ’خلافت‘ کو مخالفت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ اردو میں اس کا معنی’ایک قسم کی طرز حکومت‘یا ’جانشینی‘ ہے ۔ بہت سے الفاظ ذو معنی ہوتے ہیں مثلاً عربی میں ’قصد‘ کا معنی ’میانہ روی‘ اور’ارادہ‘ دونوں ہے جب کہ ارد ومیں صرف ’عزم و ارادہ‘ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عربی سے اردو میں مستعار ایک لفظ ’شعار ‘ہے ، جس کا عمومی معنی ’چلن، طور، طریقہ‘ کے ہیں۔ اردو میں یہی معنی مروج و مستعمل ہے البتہ بعض اوقات اسے شعائر کے معنی بھی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب کہ عربی زبان میں اس کا ایک اور معنی بھی ہے ’بدن سے لگا ہوا کپڑا‘لیکن اس معنی سے بہت کم اردو داں ہی واقف ہوں گے ۔
’’الأنصار شعاروالناس دثار۔‘‘ 5؎
’مختارات‘ کا ایک ترجمہ ’لمعات الذہب‘ کے نام سے عتیق الرحمن سیف نے کیا ہے ۔ انھوں نے اس عبارت کا ترجمہ کچھ اس انداز سے کیا ہے:
’’انصار تو شعار ہیں(یعنی مجھ سے ان کا اتصال بہت ہی قوی اور مستحکم ہے)اور دیگر لوگ دثار ہیں(یعنی ان کا اتصال مجھ سے اتنا مستحکم نہیں ہے)۔‘‘6؎
مترجم نے اصل متن میں موجود لفظ کو ہو بہو ترجمے میں استعمال کرکے قوسین میں اس کی تشریح کی ہے۔ اگر عام اردو داں کی نظر سے ترجمے کا مطالعہ کیا جائے تو بایں معنی پیچیدگی پیدا ہوگی کہ اس کے ذہن میں شعار کا جومعنی ہے تشریح اس سے میل نہیں کھاتی ہے۔ وہ اس وقت تک تذبذب کا شکار ہوگا ، جب تک کہ اس کو دوسرے معنی یعنی ’بدن سے لگا ہوا کپڑا‘ کا علم نہ ہوجائے۔ یہ دشواری ایک ہی لفظ کے دو زبانوں میں الگ الگ معنی میں مستعمل ہونے کی وجہ سے پید اہوئی۔
یہی حال موضوعات کا بھی ہے ۔ ان کی افہام و تفہیم میں بھی وقوفی ماحول کو خاص دخل ہے۔ کوئی موضوع یا بات ایک زبان میں بہت ہی اہم ہوتی ہے جب کہ دوسری زبان میں اسے اتنی اہمیت نہیں حاصل ہوتی ہے۔ حسن الدین احمد لکھتے ہیں:
’’بہت سی باتیں جو ایک زبان میں اس کی خصوصیات کے لحاظ سے معمولی ہوتی ہیں وہی دوسری زبانیں بالکل نئی یابعید الفہم ہوتی ہیں۔‘‘
مختلف اقوام میں علم و فکر کی سطحیں مختلف ہوتی ہیں؛ کیونکہ علمی ترقی مختلف اقوام میں الگ الگ مدارج میں ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام میں اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے جب کہ کم ترقی یافتہ اقوام یا ترقی پذیر اقوام علمی ترقی کے میدان میں بڑی حد تک ترقی یافتہ اقوام کے دست نگر ہوتی ہیں۔ ان کی علمی کاوشوں سے خوشہ چینی کرتے ہوئے اپنے ذخیرۂ علم کو ثروت مندبناتی ہیں۔علم و فن کی ترقی کاافراد کے طرز و رویہ پر گہرا اور واضح اثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے افراد کا طرز فکر نسبتاً زیادہ علمی و منطقی ہوتا ہے ۔
ہر زبان کی فکری رسائی، اس کا علمی و تحقیقی مزاج جداہوتا ہے۔ ترقی یافتہ زبانوں میں اس کی سطح بہت بلند جب کہ کم ترقی یافتہ زبانوں میں پست ہوتی ہے۔مثال کے طورپر انگریزی یا بیشتر یورپی زبانوں میں سائنسی موضوعات پر لکھی جانے والی تحریروں کی تفہیم قدرے آسان ہوتی ہے جب کہ اس کے بالمقابل اردو میں جدید سائنسی وتکنیکی موضوعات پر مشتمل تحریریں اہل اردو کے لیے مشکل معلوم ہوتی ہیں۔ ان کی تفہیم کے لیے تشریح ضروری ہوتی ہے۔فکری معیار کے اختلاف سے ترجمہ کے دوران مترجم کو خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسی خان کلیم اس بابت لکھتے ہیں:
’’ایک زبان میں علمی تحقیق کا سلسلہ ایک عرصہ دراز سے جاری ہے اور اس میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں اصطلاحات داخل ہوتی رہتی ہیں۔ دوسری زبان میں تلاش و تحقیق کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ایسی حالت میں جب پہلی زبان سے کوئی ادب پارہ ترجمہ کیا جائے تو دوسری زبان اس کے فکری معیار کی متحمل نہ ہووے گی۔‘‘8؎
زبان کا فکری معیار دراصل قارئین کے وقوفی ماحول سے ہی بنتا ہے۔فکری معیار کی تعیین میں موضوعات ومضامین کو خاصا دخل ہے۔ ہر خطہ و علاقہ میں کچھ موضوعات نسبتاً زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔ کسی قوم یا علاقے میں فلسفیانہ رجحان ہوتا ہے، کہیں ادبی، فکری مضامین کا چرچا ہوتا ہے تو کہیں عملی اور اطلاقی اوراس وقوفی ماحول کابھر پور اثر وہاں رائج زبان پر ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اردو زبان کا مزاج ادبی و شاعرانہ ہے۔ ادب کے علاوہ مذہبی رجحان پایاجاتا ہے۔ اردو زبان میں بے شمار موضوعات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ کثرت سے انہی دونوں موضوعات پرتحریریں ملیں گی۔اردو کے بر عکس عہد حاضر میں انگریزی زبان کو علم وفکر کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ تمام تر علمی تحریریں اسی میں منظر عام پر آرہی ہیں ۔اس کے زیر اثر وہاں کا وقوفی ماحول بھی تیار ہوا ہے۔ انگریزی میں علمی کتابیں لکھی جائیں تو وہاں کے لوگوں کے لیے ان کا سمجھناقدرے آسان ہوگا ۔ اردو میں ادبی تحریریں تو آسانی سے منتقل کی جاسکتی ہیں لیکن علمی وفکری تحریروں کی منتقلی کے وقت مترجم کو بہت سی مشکلات سے گزرنا ہوگا۔مرزا حامد بیگ لکھتے ہیں:
’’بعض قوموں کا رویہ جذباتی ہونے کے سبب ان کی زبان بھی اسی نوع کے اثرات قبول کرتی ہے، جس کے سبب ایسی زبانوں میں جذبات و احساسات کی لفظی پیکر تراشی آسان ہوتی ہے؛ لیکن علمی اور سائنسی موضوعات کا حق ادا کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس بعض قوموں کا رویہ سائنسی یا منطقی ہوتا ہے جس کے سبب ان کے نثری اظہار میں صلابت ، متانت، سنجیدگی، ربط اور استدلال کا ترجمہ تو آسان ہے لیکن تخیل کی کارفرمائی کو اپنے اندر سمونا خاصا مشکل کام ہے۔‘‘9؎
ایسے مقامات پرمترجم کی ذمہ داری دوہری ہوجاتی ہے۔مترجم کو دونوں متون کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف اسے اس بات کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے کہ اصل متن میں موجود مضمون اور مطلب ہاتھ سے نہ جائے اور دوسری طرف اس کو اس انداز سے پیش کیا جائے کہ اس کے وقوفی ماحول کے لیے قابل فہم اور قابل استفادہ ہو۔ ایسی صورت میں مترجم ہدفی قارئین کے وقوفی ماحول میں اس کی مماثلت تلاش کرتا ہے اور اصل متن کو اس سے تبدیل کرتے ہوئے منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مماثلت کا امکان موجود نہیں ہوتا ہے تو تشریحی طرز اختیار کرناپڑتا ہے۔ اس قسم کے کئی راستے اسے اختیار کرنے پڑتے ہیں جو مداخلت کی مثال ہیں ۔ بطور نمونہ ایک عربی عبارت کے دوترجموں کو دیکھیے:
’’أتیتنا مکذباً فصدقناک، ومخذولاً فنصرناک، وطریداً فأویناک، وعاء لاً فواسیناک۔‘‘ 10؎
’’اے محمدؐ تو ہمارے پاس اس حال میں آیا کہ لوگوں نے تیری تکذیب کی اور ہم نے تیری تصدیق کی اور تو بے سہارا و بے یارو ومددگار تھا ہم نے تیری امداد کی اور تو دھتکارا ہوا تھا ہم نے تجھے ٹھکانہ دیا اور تو فقیر تھا ہم نے تیری غم خواری کی۔‘‘11؎
’’آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپکی تکذیب کی گئی تھی ہم نے آپ کی تصدیق کی، آپ کی قو م نے آپ کو بے یارومددگار چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کی مددونصرت کی، آپ دھتکار دیے گئے تھے ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس مفلس ہوکر آئے تھے ہم نے آپ کے ساتھ ہمدردی کی۔‘‘
دونوں ترجموں کا جائزہ لیا جائے تو پہلا ترجمہ میں اصل متن کی اتباع میں واحد مذکر حاضر کے صیغہ و ضمیر کو اردو کے معروف متبادل سے تبدیل کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود جب ہم اس کی قرأت کرتے ہیں تو طبیعت پے یک گونہ گرانی محسوس ہوتی ہے اور زبان رکنے لگتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مترجم نے ہدفی زبان و قارئین کے وقوفی ماحول کی رعایت نہیں کی اس کے مقابل میں دوسرے ترجمہ میں مترجم نے ہدفی زبان کے اس متبادل کا استعمال کیا ہے جو واحد حاضر کے لیے بغرض احترام اور بہ اعتبار شخصیت استعمال کیا جاتا ہے۔ ہدفی قارئین کے وقوفی ماحول سے ہم آہنگ اس تبدیلی کی وجہ سے ترجمہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
مترجم اپنے وقوفی ماحول کا لحاظ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے کہ اس نے ترجمہ کس کے لیے کیا ہے۔مترجم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کون سا وقوفی ماحول اس کے ترجمہ سے استفادہ کرسکتا ہے۔ ترجمہ وقوفی قارئین کا کس طبقہ کی توقعات کے مطابق اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کریم کاجب فارسی زبان میں ترجمہ کیا تو اپنے مقدمہ میں اس بات کی وضاحت کی کہ’’ یہ ترجمہ ان لوگوں کے لیے ہے جو شرعی علوم حاصل نہیں کرسکتے یا عصری علوم کی تحصیل میں مشغول ہونے کی وجہ سے ان کے پاس اتنا موقع نہیں ہے۔‘‘13؎
وقوفی ماحول کی رعایت کی وجہ سے ترجمہ میں مداخلت کی ضرورتوں میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ اول یہ کہ زبانوں میں عہد کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ہر عہد کی زبان کا مخصوص مزاج ہوتا ہے۔ لفظیات سے لے کر زبان کی ساخت تک بہت کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ زبان کی سطحوں پر گفتگو کرتے ہوئے مرزاحامد بیگ نے اس کی طرف اشارہ کیاہے:
’’زبان کے اندر زبانوں کی دوسری سطح زبان کی قدامت اور جدت کے سبب پیدا ہوتی ہے جیسے میر تقی میر کے زمانے کی اردو اور آج بیسویں صدی کی آٹھویں یا نویں دہائی کی اردو میں فرق ہے۔‘‘14؎
اس قسم کی تبدیلی زبان کی فطرت بلکہ جبلت میں شامل ہے۔ دنیا کی کوئی زبان اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔زندہ زبانوں میں تغیر و تبدل اور تعمیر و ترمیم کا یہ قدرتی سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔بدلتے وقت کے ساتھ زبان بھی بدلتی رہتی ہے۔ زبان کی تبدیلی کے ساتھ وقوفی ماحول کا تبدیل ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اسی تبدیلی کی بنا پر ایک ہی زبان میں موجود متن کو ازسر نو لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بعض ترجموں اورا ہم ترجموں کے جوازمیں بھی یہ بہت اہم علت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعد کے زمانوں میں وقوفی ماحول اس قابل نہیں رہتا کہ اس قدیم متن سے کما حقہ استفادہ کرسکے جو سالوں پہلے تیار کیا گیا تھا۔اس قسم کا متن خود اسی زبان میں دوبارہ لکھاجا رہا ہوتب بھی بہت سی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں تاکہ متن موجودہ وقوفی ماحول سے ہم آہنگ ہوسکے۔ اسی طرح قدیم زمانے میں لکھی گئی کسی تحریر کو جب بعد کے ایام میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس وقت بھی مترجم کو وقوفی ماحول کی رعایت سے بہت کچھ مداخلت کرنی ضروری ہوتی ہے۔
وقوفی ماحول کی وجہ سے ہونے والی مداخلتوں کا ایک اہم میدان تراجم ادب اطفال کی وہ شاخ بھی ہے جس میں ایک ایسے متن کو ترجمہ کیا جا تا ہے جو بنیادی طورپر بالغوں یا بڑوں کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے بچوں کے لیے تیار کیاجا تا ہے۔ یہ کام اصل زبان میں بھی ہوتا ہے یعنی بڑوں کے لیے لکھی گئی تحریر کو بعد میں بچوں کے لیے پیش کیا جاتا ہے اوریہ عمل ترجمے میں بھی انجام دیا جاتا ہے جو ادب اطفال کی تیاری کے ضمن میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس موضوع پر Zoher Shavit نے اپنے مضمون Translation children’s Literature 15؎ میں بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ اس نے اپنے مضمون میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات بتائی ہے کہ اس قسم کے متن کی تیاری میں کردار، ماحول، لفظیات، محاورے اور متن کے مزاج کو کس طرح اور کس حد تک تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ در اصل یہ تبدیلی بھی وقوفی ماحول کی رعایت کے زمرہ میں شامل ہے؛ کیونکہ بڑوں کا وقوفی ماحول کچھ اور ہوتا ہے اور بچوں کا وقوفی ماحول اس سے جدا ہوتا ہے۔
تغیر و تبدل(علم ترجمہ کی اصطلاح میں مداخلت) ترجمہ کا ناگزیر حصہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جو ترجمہ کو ناپسندیدہ یاناقابل اعتماد بناتا ہے؛ بلکہ حقیقی بات تو یہ ہے کہ اسی عمل کی وجہ سے ترجمہ کی روایت زندہ ہے۔اسی گنجائش کی وجہ سے زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ اگر اصل متن کا ہو بہو عکس ہدفی زبان میں پیش کردیاجائے (اگر ایسا کرنا ممکن ہو)تو ہدفی زبان کے لیے ناقابل قبول ہوگا اور اگر صرف ہدفی زبان کے ہی تقاضوں کو پورا کیا جائے تو ترجمہ کا فائدہ ہی کیا ہوگا،اس سے بہتر تو تخلیق ہے۔Bassnett Mc Gurice لکھتا ہے:
“Equivalence in translation should not be approached as a search for sameness, since sameness can not even exist between two TL versions of the same text, let alone between the SL and TL version.” ؎16
’’ترجمہ میں مماثلت کو یکسانیت کی تلاش کے طورپر نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ یکسانیت تو ہدفی زبان کے اندر موجود ایک ہی متن کے دو ورژن میں نہیں پائی جاتی تو اصل زبان اور ہدفی زبان کے ورژن کے مابین یکسانیت کیسے پائی جائے گی۔‘‘
تبدیلی اورمداخلت ایک درمیانی اور متوسط راستہ اور صورت حال پیدا کرتی ہے۔ جس سے آہستہ آہستہ ہدفی زبان شہد کی مکھی کی مانند رس چوستی ہے اور پھر ایک وقت وہ آتا ہے کہ شہد کا ایک چھتہ تیار ہوجاتا ہے۔ ہدفی زبان ثروت مندی کے اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے وہ دوسروں کے لیے باعث استفادہ بن جاتی ہے۔
حواشی
- Vivian Cook and Benedetta Bassetti. (2011).Language and Bilingual Cognition. 131
- CHANG, Z. (2009). A Cognitive-Pragmatic Model for Translation Studies Based on Relevance and Adaptation. Canadian Social Science
.3 ظ انصاری، ترجمہ کے بنیادی مسائل، مشمولہ: ترجمہ کا فن اور روایت، مرتب: قمر رئیس، ص 72 - CHANG, Z. (2009). A Cognitive-Pragmatic Model for Translation Studies Based on Relevance and Adaptation. Canadian Social Science.
.5 ابوالحسن علی ندوی (1991)، مختارات، مجلس نشریات اسلام، کراچی، ص 30
.6 عتیق الرحمن سیف، لمعات الذہب، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص 94
.7 حسن الدین احمد، انگریزی شاعری کے منظوم اردو ترجموں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ص 33
.8 محمد موسیٰ خاں کلیم، ترجمہ کی اہمیت اور دشواریاں، ماہ نو، فروری 1955، کراچی، محولہ: حسن الدین احمد، انگریزی شاعری کے منظوم اردو ترجموں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ص 33-34
.9 مرزا حامد بیگ (1988) مغرب سے نثری تراجم، مقتدرہ قومی زبان، ص 32
.10 ابوالحسن علی ندوی (1991)، مختارات، مجلس نشریات اسلام، کراچی، ص 30
.11 ابواسامہ عبدالرحمن، مبشرات، مکتبہ امدادیہ، ملتان، ص 110
.12 عتیق الرحمن سیف، لمعات الذہب، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص 93
.13 مصباح اللہ عبدالباقی، الامام ولی اللہ الدہلوی و ترجمۃ القرآن، مجلہ البحوث والدراسات الاسلامیہ، عدد6، سال 3، ص 180
.14 مرزا حامد بیگ (1988) مغرب سے نثری تراجم، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ص 31 - Zoher Shavit. (1986). Politics of Children Literature. The University of Geargia press, Athens and London
- Bassnett McGurie, S. (1980). Translation Studies,London Methuen
Mohammad Tariq
Asst. Teacher
Jamia Mazharul Uloom
Varanasi- 221001 (UP)
tariqueanzar@gmail.com