اردو دنیا،اگست 2026:
ادب اور سائنس بظاہر دو متضاد دنیائیں معلوم ہوتی ہیں، لیکن گہرائی میں جائیں تو یہ دونوں انسانی شعور کی ہی دو تکمیلیں ہیں۔ ادب جذبات و احساسات کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ سائنس عقل، تجربے اور مشاہدے سے۔ دونوں کا مقصد دراصل حقیقت کی کھوج ہے،ادب انسانی وجود کی اندرونی سچائی تلاش کرتا ہے اور سائنس خارجی کائنات کی۔ انیسویں صدی کے اواخر سے جب سائنسی انقلاب نے انسانی سوچ کو بدلنا شروع کیا، تو ادب نے بھی اپنی تعبیرات میں سائنسی فکر کی جھلک دکھانی شروع کر دی۔ ڈارون، نیوٹن، گلیلیو، آئن اسٹائن، میکس پلانک جیسے سائنس دانوں کی دریافتیں صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہ رہیں؛ ان کے اثرات انسانی ذہن اور تخلیقی رویوں تک پہنچے۔ انسانی علوم و فنون کے درمیان فاصلے کم ہونا شروع ہوئے اور ادب نے سائنس کو موضوع، علامت، مزاج اور اسلوب کے طور پر اپنانا شروع کر دیا۔ اسی نکتے سے ایک نئے ادبی رجحان کی ابتدا ہوئی جس نے آگے چل کر اردو ادب سمیت دنیا کی تمام ادبیات کو متاثر کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’ادب کی اساس ’’تخیل‘‘ ہے جس میں احساس و جذبہ اثر و تاثیر کے رنگ بکھرتے ہیں۔ سائنس کی بنیاد ’’تجربہ ‘‘ ہے۔ تخیل سے ’’خیال‘‘ وجود میں آتا ہے جس پر سائنس اپنے تجربے کی بنیاد رکھتی ہے اور دریافت کی منزل سر کرتی ہے۔ اگر خیال نہ ہو تو ’’ تجربہ‘‘ بھی عمل کی روشنی نہ دیکھے۔ پرندوں کی طرح اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے۔ اس خواہش نے تخیل کے پروں پر اڑ کر تخت سلیمانی ، اڑن کھٹولا اور مثنوی سحر البیان کا ’’کل کا گھوڑا‘‘ تلاش کیا۔ دیو پریاں بھی اسی خواہش اور اسی خیال کا ایک روپ ہیں۔سائنس نے قدم قدم پر تجربے کے عمل سے گزر کر کل کے گھوڑے کے تصور سے ہوائی جہاز ایجاد کیا۔ یاد آیا امریکہ کے ایک سائنس دان ہیں جو ادب بالخصوص فکشن، بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ ان سے کسی نے وجہ دریافت کی تو کہا کہ ادب پڑھنے سے بہت سے ایسے نئے خیالات ہاتھ آتے ہیں جن پر سائنسی تجربات کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اگر سمجھ لیا جائے تو ادب اور سائنس کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے۔‘‘
(بحوالہ: ڈاکٹر جمیل جالبی، مشمولہ : ادب اور سائنس، مرتب جمال نقوی،سنہ1998، ص:9)
سائنس نے انسان کو کائنات میں اپنی حیثیت سے آگاہ کیا۔ جہاں پہلے عقائد اور مابعد الطبیعی تصورات غالب تھے، وہاں اب تجربہ اور دلیل کو ترجیح دی جانے لگی۔ اس تبدیلی نے انسان کے اندازِ فکر کو بدل ڈالا۔ جب انسان نے زمین کو کائنات کے مرکز کی حیثیت سے ہٹ کر ایک معمولی سی گردش کرتے ہوئے سیارے کے طور پر دیکھا، تو اس کی خودی کا مفہوم بھی بدلنے لگا۔ ادب چونکہ انسانی شعور کی آئینہ داری کرتا ہے، اس لیے اس تبدیلی نے اس پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ شعر و نثر دونوں میں محسوسات کے ساتھ ساتھ منطقی سوچ اور مشاہداتی وضاحت کی جھلک ابھرنے لگی۔ ادب میں اب صرف تقدیر اور احساس نہیں بلکہ تلاش، سوال، تجسس اور دریافت کے جذبات بھی شامل ہو گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنسی طرزِ فکر اور ادبی تخلیقیت کا سنگم وجود میں آیا۔ قاسم پیر زادہ اپنے مضمون ’’ادب اور سائنس کی مشترک قدریں‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’نہ سائنس ادب ہے اور نہ ادب سائنس مگر ان میں جو قدر مشترک ہے وہ انسان ہے کیونکہ اس کائنات میں جتنے بھی مظاہر ہیں ان کا تعلق سائنس اور انسان سے ہے اوریہی تعلق ادب کا بھی ہے جبکہ ایک روایت ادب کی ہے اور ایک سائنس کی۔ ان کی زبانیں بھی الگ الگ ہیں، سائنس جذبات سے عاری ہے جبکہ ادب سارے کا سارا جذبات سے تعلق رکھتا ہے۔ ادب میں الفاظ کی رنگینی ہے جبکہ سائنس میں مناسب الفاظ کا استعمال ہے۔ ہاں سائنس اور ادب میں کوئی تصادم نہیں ہے بلکہ سائنسی شعور رکھنے والا بہت گہری نظر رکھتا ہے۔ وہ اگر ادب کی طرف توجہ کرے تو اس کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ ادب چونکہ زندگی سے زیادہ قریب ہے اس لیے اس نے سائنس کو سینے سے لگایا ہے۔ موضوعات کے اعتبار سے اس کا استعمال سائنس میں کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(بحوالہ: قاسم پیر زادہ، مشمولہ : ادب اور سائنس، مرتب جمال نقوی،سنہ1998، ص:16)
اردو ادب کی تاریخ میں سائنسی تصور سب سے نمایاں طور پر سر سید احمد خاں کی تحریکِ علی گڑھ سے وابستہ ہے۔ انھوں نے مذہب، عقل اور سائنس کو ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ سر سید نے یہ باور کرایا کہ جدید دنیا کو سمجھنے کے لیے سائنس کی معرفت لازمی ہے۔ ان کے مضامین اور بیانات میں سائنسی مشاہدے اور عقلی استدلال کا رنگ نمایاں ہے۔ اسی تحریک کے زیرِ اثر اردو ادب میں ایک نئی فکری سمت پیدا ہوئی جہاں شاعری اور نثر دونوں میں انسان، فطرت اور علم کے باہمی رشتے پر بحث ہونے لگی۔ حالی، شبلی،ڈپٹی نذیر احمد اور بعد میں اقبال، جوش ملیح آبادی جیسے مفکرین نے سائنسی حس کو اپنی تخلیقات میں جذب کیا۔ اقبال کی شاعری میں محض فلسفہ نہیں بلکہ طبیعیات، فلکیات اور حیاتیاتی اشارے بھی ملتے ہیں۔ ان کے ہاں کائنات جامد نہیں بلکہ حرکت پذیر اور توانائی سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔
جب بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں ترقی پسند تحریک ابھری، تو ادب میں سائنس اور عقل پسندی کا رجحان مزید گہرا ہوگیا۔ ترقی پسند ادب نے سماج، سیاست اور معیشت کو سائنسی نتائج کی بنیاد پر سمجھنے اور بدلنے کی کوشش کی۔ فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، کرشن چندر، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، اور احمد ندیم قاسمی جیسے ادیب اس فکر کے نمائندہ ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ادب کو جذباتی یا خوابناک دائرے سے نکال کر حقیقت پسندانہ اور سائنسی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے۔ ان کہانیوں اور شاعری میں انسان کو حالات کا محکوم نہیں بلکہ بدلنے والا عامل تصور کیا گیا۔ یہ تصور دراصل سائنسی منطق، یعنی علّت و معلول کے رشتے کو انسانی زندگی پر منطبق کرنے کی ایک ادبی صورت تھی۔ ترقی پسند تحریک نے ادب کو نہ صرف سماجی ادارے کے طور پر مضبوط کیا بلکہ اس میں استدلال، تجزیہ اور مشاہدے کی زبان کو بھی شامل کیا۔
جدیدیت کے دور میں سائنس محض مظاہرِ قدرت کے بیان تک محدود نہ رہی بلکہ انسانی وجود اور شعور کے اندر تک پہنچ گئی۔ مابعد جدیدیت نے اس فکری رشتے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا۔ اب سائنس کے ذریعے پیدا ہونے والی غیر یقینی، لامرکزیت اور تجریدی حقائق نے ادب کو نئے ابعاد عطا کیے۔ غالب، اقبال، ن م راشد، فیض، انتظار حسین، شمس الرحمٰن فاروقی اور وزیر آغا جیسے شعرا و نقادوں نے اس فکری تغیر کو ادب میں دریافت کی نئی جہت دی۔ سائنسی تصورات مثلاً ’’وقت کا نسبتی ہونا‘‘، ’’عالمِ ذرات کی غیر یقینی حرکت‘‘، اور ’’انسانی شعور کی نفسیاتی پرتیں‘‘ ادب کے علامتی اور فکری پیکروں میں شامل ہو گئیں۔ اس طرح علمِ سائنس نے ادب کی زبان اور اس کے تاثر کو محض خارجی مظاہر سے نکال کر باطنی تجربات اور فکری گہرائیوں تک پھیلایا۔
آج جب پوری دنیا گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل علم کے دور میں داخل ہے، اردو زبان بھی اپنے تاریخی دائرے سے باہر نکل کر ایک عالمی زبان بن رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے علاوہ خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ، کینیڈا، اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں اردو پڑھائی اور سمجھی جا رہی ہے۔ آن لائن یونیورسٹیاں، یوٹیوب چینلز، اور جدید تحقیقاتی جرائد اردو زبان میں سائنسی مباحث کو عام کر رہے ہیں۔ ہندوستان، پاکستان، برطانیہ اور خلیج کے اردو ادبا اب سائنسی اصطلاحات، مصنوعی ذہانت، ماحولیات اور بایوایتھکس جیسے موضوعات پر تخلیق کر رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو ادب میں جمود نہیں، بلکہ علم و سائنس کی حرکت کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اردو میں سائنس کی زبان ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے، مگر کوششیں جاری ہیں کہ علمی مضامین، ناول، شاعری اور تنقید میں سائنسی زاویوں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے۔
ادب ہمیشہ استعارات، علامتوں اور تمثیلات کے ذریعے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب سائنس نے انسانی فہم کو بدل دیا، تو ان علامتوں کی ساخت بھی بدل گئی۔ پرانے وقتوں میں شاعر آفتاب، مہتاب، طوفان اور بجلی کو محض فطری مظاہر کے طور پر استعمال کرتے تھے، مگر جدید شاعر کے لیے یہ مظاہر توانائی، حرکت اور ارتقا کی علامت بن گئے۔ مثلاً روشنی اب صرف حسن کی دلیل نہیں بلکہ بصیرت اور دریافت کی علامت بھی ہے۔ اسی طرح ’’ایٹم‘‘ یا ’’ذرہ‘‘ جدید شاعری میں محض مادی اکائی نہیں بلکہ کائناتی وحدت کی تمثیل بن جاتا ہے۔ اقبال کے یہاں ذرہ اور کائنات کا تعلق ایک سائنسی اور روحانی فلسفے کے امتزاج کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جہاں کائنات مسلسل ’’حرکت‘‘ میں ہے۔ ن م راشد کی نظموں میں روشنی، توانائی اور زمان و مکاں کے تصورات سائنسی اور علامتی دونوں سطحوں پر کام کرتے ہیں۔ یوں علمِ سائنس نے ادبی اظہار کی علامتی ساخت کو نہ صرف وسعت دی بلکہ اسے فکری گہرائی بھی عطا کی۔
ادب اور سائنس کا تعلق محض عقل و احساس کے درمیان فاصلہ مٹانے کا نہیںبلکہ ایک توازن پیدا کرنے کا ہے۔ سائنس انسان کو کائنات کے قوانین سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ ادب ان قوانین کے درمیان انسانی تجربے کی معنویت تلاش کرتا ہے۔ سائنس میں حقائق جامد نہیں بلکہ تجرباتی ہوتے ہیں، اور ادب انھیں انسانی احساس کے قالب میں ڈھالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا اشتراک انسانی تمدن کی روح ہے۔ اردو ادب میں یہ توازن سر سید، اقبال، حالی، اور فیض جیسے ادیبوں کے ہاں جاندار شکل میں دکھائی دیتا ہے ۔وہ سائنس کو محض آلات اور تجربے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اخلاقی اور جمالیاتی قدر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آج بھی ادب کو سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے، مگر اپنی جمالیاتی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے؛ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ادب اپنا کردار ادا کرتا ہے اور سائنس اپنا۔
سائنس نے فلسفے اور ادب کو یہ سکھایا کہ انسانی شعور جامد نہیں بلکہ ارتقائی ہے۔ آج علمِ حیاتیات سے لے کر نفسیات تک، ہر شاخ یہ اشارہ دیتی ہے کہ انسان اپنے رویوں، احساسات اور فکر میں مسلسل تغیر کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ادب اسی تغیر کی تخلیقی زبان ہے۔ مثلاً جہاں سائنس انسان کے دماغ کو ایک حیاتیاتی نظام کے طور پر دیکھتی ہے، ادب اس شعور سے پیدا ہونے والے تصورات کو معنی دیتا ہے۔ اردو ادب نے اس تجربے کو بڑی گہرائی سے محسوس کیا ہے۔ فیض، اقبال، اور راشد جیسے شعرا نے انسانی شعور کو مادی دنیا کے ساتھ باندھ کر ایک ایسا فہم پیدا کیا جو نہ صرف فکری بلکہ روحانی توازن رکھتا ہے۔ یہ فہم آج کے دور میں احیائے انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ جدید سائنس نے اگرچہ ترقی دی ہے مگر انسان کے اندر پھیلتی خالی جگہ کو ادب ہی بھر سکتا ہے۔
سائنس کی تیزی سے بڑھتی ترقی نے اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایٹم بم کی تخلیق، مصنوعی ذہانت کی خودمختاری، جینیاتی ترمیم، اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے مسائل نے انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ علم اگر ضمیر کے بغیر ہو تو تباہی بھی لا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں ادب کا کردار ایک اخلاقی رہنما کا ہے۔ اردو ادب نے ہمیشہ سماجی انصاف، انسان دوستی، مساوات اور انسانی قدروں کی پاسداری کا درس دیا ہے۔ اب یہی قدریں سائنسی ترقی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ادب سائنس سے یہ سوال پوچھنے کی جرأت رکھتا ہے کہ ’’کیا علم انسان کے حق میں ہے؟‘‘، اور یہی سوال علم کی سمت متعین کرتا ہے۔ جب سائنس اخلاق کے تابع ہوگی اور ادب عقل کے ساتھ شریکِ گفتگو، تب ایک متوازن انسانی تہذیب ممکن ہوگی۔ اردو ادب اس فکری ہم آہنگی کا بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ہی انسانی مساوات اور روحانیت پر ہے۔
اردو زبان کی وسعت اور تاریخ اسے ایک زندہ علمی زبان بناتی ہے۔یہ زبان فارسی اور عربی فلسفے، ہندی تہذیب اور مغربی سائنسی شعور کے تجربات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج جب دنیا ایک کثیر لسانی اور بین الثقافتی علم کے دور میں داخل ہو چکی ہے، اردو کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ ہندوستان، پاکستان، خلیج، برطانیہ اور امریکہ میں اردو بولنے والوں کے علمی و ادبی ادارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اردو محض ماضی کی زبان نہیں، بلکہ مستقبل کی بھی زبان ہے۔ سائنسی محفلوں، کانفرنسوں اور تعلیمی نصاب میں اردو کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ زبان علم کو جذب کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ترجمہ، تدریس اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے اردو میں سائنسی اصطلاحات کا فروغ تیزی سے جاری ہے۔ اس عمل نے ادب اور سائنس دونوں کو ایک دوسرے کا ہم نوا بنا دیا ہے۔
آنے والے زمانے میں ادب اور سائنس کا اتحاد محض خیال نہیں بلکہ ضرورت بن جائے گا۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اور بایو سائنس انسانی وجود کے سوالات بدل رہے ہیں۔ اردو ادب اس تغیر کے ساتھ چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے تخلیقی شعور کو سائنسی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ مستقبل کے ادیب کو لیبارٹری کے سائنس دان کی طرح دنیا کے رازوں کی کھوج میں مصروف ہونا ہوگا، اور سائنس دان کو شاعر کی طرح اپنے علم کی اخلاقی و انسانی معنویت پر غور کرنا ہوگا۔ اس میل جول سے ہی ایک ایسا فکری نظام وجود میں آئے گا جس میں دلیل، تخیل، اخلاق اور تخلیق سب ایک ساتھ سانس لیتے ہوں گے۔ اردو زبان چونکہ جذب و اظہار دونوں کی استعداد رکھتی ہے، اس لیے یہ نئے انسانی تہذیبی دور کی نمائندہ زبان بن سکتی ہے۔
اردو زبان آج دنیا کے مختلف حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، امریکہ، افریقہ، اور وسطی ایشیا میں اردو زبان کے ادارے، ریڈیو اسٹیشن، اور تحقیقی مراکز قائم ہیں۔ ان اداروں میں سائنسی مباحث کے ساتھ اردو ادب کو پڑھایا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور کینیڈا کی جامعات میں ’’اردو لسانیات اور سائنسی ترجمہ‘‘ کے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔ یہ رجحان ثابت کرتا ہے کہ اردو اب محض تہذیبی روایت نہیں بلکہ عالمی علمی گفتگو کا حصہ ہے۔ سوشل میڈیا اور اردو ویب سائٹس نے علم و ادب کے درمیان حائل فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اردو بولنے والی کمیونٹیاں سائنسی مکالمہ اردو میں کر رہی ہیں گویا اردو زبان علمِ سائنس کے لیے ایک قابلِ عمل اظہار بن چکی ہے۔ یہ ادبی و سائنسی میل جول ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک کثیر لسانی دنیا کی تشکیل میں معاون ہے۔
مستقبل میں اردو ادب کے لیے سائنس صرف ایک موضوع نہیں رہے گی، بلکہ اظہار اور تخلیق کا ایک نیا زاویہ بنے گی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انسان، بایو اخلاقیات، اور ماحولیات کی بحرانی صورتیں اردو کے ادیب کے لیے نئے علامتی ذرائع فراہم کر سکتی ہیں۔ ادب کا مقصد ہمیشہ انسان کو خود اس کے آئینے میں دیکھنا رہا ہے، اور اب سائنس نے یہ آئینہ ٹیکنالوجی کی صورت میں مزید واضح کر دیا ہے۔ اردو شاعر اور افسانہ نگار اب ’’علمی تخیل‘‘ کے ذریعے سائنس کو انسانی قدروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مستقبل کا اردو ادب شاید لیبارٹری اور تخلیق کے سنگم پر کھڑا ہوگا، جہاں ’’شاعر‘‘ اور ’’سائنس دان‘‘ دونوں ایک ہی سوال کے دو زاویے ہوں گے: انسان آخر ہے کیا؟ اردو کی لچک دار ساخت اور فلسفیانہ روایت اسے اس گفتگو کے لیے نہایت موزوں بناتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ ادب اور سائنس ایک ہی انسانی ذہن کی دو متوازن جہتیں ہیں ۔ ایک مشاہدے کی قوت دیتی ہے، دوسری معنی کی۔ اگر سائنس انسانی بدن کو سمجھنے کا علم ہے تو ادب اس بدن میں روح کے معنی تلاش کرتا ہے۔ اردو ادب نے ہمیشہ علم و دانش، احساس و وجدان، اور عقل و تخیل کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ آج جب دنیا تیز رفتاری، مشینی ترقی اور مادی ترجیحات میں الجھ چکی ہے، اردو ادب اپنی فکری وسعت اور جذباتی صداقت کے ذریعے انسان کو پھر یاد دلا سکتا ہے کہ علم کا اصل مقصد انسان کی فلاح ہے، تباہی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادب اور سائنس ایک دوسرے کے مددگار بنتے ہیں۔ چنانچہ اردو ادب میں سائنسی تصورات کی پیشکش محض ایک ادبی رجحان نہیں بلکہ ایک فکری جہت ہے جو آنے والے زمانوں میں انسانی شعور کی نئی منزلوں کی سمت رہنمائی کرے گی۔
مآخذ و مصادر
٭ ادب اور سائنس، مرتب جمال نقوی،سنہ1998
٭ اردو میں سائنسی و تکنیکی ادب،محمد شکیل خاں،سنہ1988
٭ اردو میں سائنس ادب قدیم ترین کارنامے،خواجہ حمید الدین شاہد،سنہ1957
٭ اردومیں بچوں کاسائنسی ادب ایک مطالعہ، محمد رضا،مشمولہ: اردوریسرچ جرنل، شمارہ مارچ 2017
٭ اردو میں سائنسی ادب اور عصری تقاضے: محمد افروز عالم، مشمولہ اردو دنیا، ستمبر 2022
٭ سائنس اور ادب کے باہمی روابط و اشتراکات،ڈاکٹر قاضی عابد،عمران اختر، مشمولہ: ششماہی خیابان، سنہ2010
Dr. Syed Naziya Fatema
Dr. Babasaheb Ambedkar Marathwada University, Bhasha Bhawan, Department of Urdu, Maharashtra Aurangabad 431001
Mob.: 7385664697
Email: naziyafatema789@gmail.com