اردو دنیا،ستمبر2026:
ہندوستان میں ڈرامے کی اپنی ایک قدیم، مستحکم اور فلسفیانہ روایت پہلے سے موجود تھی، جس کی عمر مغربی ڈرامے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس روایت کا شاکلہ بھرت منی کے مرتب کردہ صحیفے ’’ناٹیہ شاستر‘‘ پر رکھی گئی، جو غالباً دوسری صدی قبل مسیح اور دوسری صدی عیسوی کے درمیان مرتب ہوا۔ اس صحیفے میں رقص، موسیقی اور اداکاری کے اصول، اداکاروں کے چار انداز یعنی جسمانی حرکات، صوتی اظہار، لباس و بناؤ سنگار اور جذباتی اظہار تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس صحیفے کا مرکزی تصور ’’رَس‘‘ کا فلسفہ ہے جس کے مطابق کسی بھی ڈرامائی پیشکش کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا وہ تماشائی کے دل میں ایک خاص قسم کی جمالیاتی و روحانی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی یا نہیں۔ بھرت منی نے نو بنیادی رسوں کی نشان دہی کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستانی جمالیات میں فن اور روحانیت کبھی الگ نہیں سمجھے گئے۔
اس فلسفے کی سب سے شاندار مثال کالیداس کا شاہکار ڈراما ’’ابھِگیان شکنتلا‘‘ ہے، جسے سنسکرت ادب کا تاج قرار دیا گیا ہے۔
اس کے بالکل برعکس مغربی ڈرامے کی روح خواہ وہ یونانی سانحاتی روایت ہو یانشاۃ ثانیہ کے بعد پروان چڑھنے والے ڈرامے ہوں، دونوں کی بنیاد تصادم یعنی کانفلکٹ پر استوار ہے۔ چاہے وہ دیوتاؤں اور انسانوں کے درمیان تصادم ہو، انسان اور انسان کے درمیان جدوجہد، یا فرد کے اندرونی جذبات اور خواہشات کی کشمکش،۔ ارسطو نے ’’بوطیقا‘‘ میں سانحے کے چھ لازمی اجزا بیان کیے، جن میں پلاٹ، کردار، فکر، اسلوب کلام، نغمگی اور منظر نگاری شامل ہیں۔ ان میں سے پلاٹ کو سب سے اہم قرار دیا، کیونکہ کہانی ہی ڈرامے کا محور ہے ۔
یہ دونوں نظام قرنوں تک ایک دوسرے سے آنکھیں ملانے سے قاصر رہے ۔ پھر اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب برطانوی حکومت نے ہندوستان میں اپنے پاؤں مضبوطی سے جما لیے، اسی تصادم اور بعد میں پیدا ہونے والے طویل تعامل نے ہندوستانی ڈرامے کی تاریخ میں ایک نیا اور فیصلہ کن باب رقم کیا۔
1775 کے قریب برطانوی ہند کا انتظامی، تجارتی اور ثقافتی مرکز کلکتہ میں یورپی باشندوں نے اپنی ذاتی تفریح کے لیے تھیٹر تعمیر کرنا شروع کیے۔ کلکتہ پلے ہاؤس جسے نیو پلے ہاؤس بھی کہا جاتا ہے کی تعمیر اس سلسلے کی ایک اہم اور ابتدائی کڑی تھی۔ ان تھیٹروں میں بنیادی طور پر شیکسپیئر اور دیگر انگریزی ڈراما نگاروں کے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے، اور ان کے سامعین بھی زیادہ تر برطانوی تاجر، فوجی افسر اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے اہل کار تھے۔ اس ابتدائی دور میں عام ہندوستانی ان تھیٹروں کی چہل پہل سے تقریباً بالکل بے خبر تھا، انیسویں صدی میں انگریزی تعلیم کے منظم فروغ کے ساتھ دور رس اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے۔ 1817 میں قائم ہونے والا ہندو کالج کلکتہ اس سلسلے کا ایک نہایت اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کے بعد قائم ہونے والے دیگر مشنری و سرکاری اداروں میں شیکسپیئر اور دیگر مغربی کلاسیکی ادب کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ مگر تاریخ کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ رہی کہ اسی نصاب سے ایک ایسی نئی، انگریزی خواں بنگالی اشرافیہ نے جنم لیا جو مغربی ڈرامائی روایت سے گہری اور غیر معمولی واقفیت رکھتی تھی۔ یہی وہ طبقہ تھا جس نے بنگالی زبان میں مغربی طرز کے ڈرامے تخلیق کرنے کی راہ ہموار کی اور نوآبادیاتی نظام تعلیم کو اس کے اپنے مقاصد کے برخلاف ایک تخلیقی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔
بنگالی ڈرامے میں مغربی اثر کی نمایاں ترین مثال مائیکل مدھوسودھن دت (1824-1873) کی ہے۔ انھوں نے 1843 میں عیسائیت قبول کی وہ بائرن جیسے رومانوی شاعروں اور شیکسپیئر جیسے ڈراما نگاروں سے شدید متاثر تھے۔ کچھ عرصہ برطانیہ اور فرانس میں گزارنے اور مغربی زندگی کو نہایت قریب سے دیکھنے کے بعد جب وہ 1856 میں کلکتہ واپس لوٹے تو انھیں محسوس ہوا کہ بنگالی زبان میں اچھے اور معیاری ڈراموں کی شدید کمی ہے۔ بیلگاچھیا تھیٹر سے وابستگی کے دوران انھوں نے 1859 میں اپنا ڈراما ’’شرمشٹھا’’ تحریر کیا۔اس ڈرامے کو بنگالی زبان کا پہلا مکمل مغربی طرز کا ڈراما تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ ڈراما مہابھارت کے ایک قصے پر مبنی ہے۔ اس میں راجا یایاتی، اس کی بیوی دیوینی اور اسورراج کی بیٹی شرمشٹھا کے درمیان ایک پیچیدہ محبت کے مثلث کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ڈرامے کی ہیئت مکمل طور پر مغربی ہے۔ مدھوسودھن دت نے اسے پابند نظم کی بجائے بلینک ورس (بلا قافیہ آزاد نظم) میں لکھا، جو اس وقت تک بنگالی ادب کے لیے ایک نرالی بات تھی۔ اسی سال انھوں نے ’’پدماوتی‘‘ بھی لکھا، اور اس سے اگلے سال ایک اور اہم المیہ ڈراما ’’کرشنا کماری‘‘ (1860) تخلیق کیا۔ کرشنا کماری کو آج بھی بنگالی ادب کے کامیاب ترین سانحاتی ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں کی خاص اور انقلابی بات یہ تھی کہ ان میں پہلی بار خواتین کرداروں، خصوصاً شرمشٹھا اور دیوینی، کو ایک پیچیدہ، خود مختار اور فیصلہ ساز انسانی وجود کے طور پر پیش کیا گیا، جو روایتی بنگالی ڈرامائی اسلوب سے یکسر مختلف تھا اور جس نے مدھوسودھن دت کو ادبی حلقوں میں پہلا ’’باغی شاعر‘‘ کا خطاب دلوایا۔
اس تناظر میں کرشن کرپلانی نے اپنی معروف کتاب “Modern Indian Literature: A Panoramic Glionpse” میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جدید ہندوستانی ادب کی تشکیل مغربی ادب کے ساتھ ایک طویل اور پیچیدہ مکالمے کا نتیجہ ہے، جس میں مغربی ہیئتیں مقامی موضوعات اور احساسات کے ساتھ گھل مل کر ایک بالکل نئے پیکر میں ڈھل گئیں۔ اک ایسا پیکر جو نہ خالص مغربی ہے نہ خالص مقامی۔ کرپلانی کے مطابق یہی عمل ڈرامے کے میدان میں بھی نہایت واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مغربی طرز نے ابتدا میں راہ دکھائی، مگر رفتہ رفتہ ہندوستانی تخلیق کاروں نے اپنی فطری تخلیقی جبلت کے تحت اسے اپنے مزاج اور اپنی ثقافتی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیا۔
بنگال کے رنگ منچ کی تاریخ میں رابندر ناتھ ٹیگور (1861-1941) کا مقام سب سے بلند، سب سے پیچیدہ اور سب سے زیادہ فکر انگیز ہے۔ ٹیگور کا رشتہ مغربی ڈرامے سے دو مختلف اور بالکل متضاد مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی دور میں ان کے ڈرامے واضح طور پر مغربی طرز پر لکھے گئے: مثلاً ’’راجہ او رانی‘‘ ایک بھرپور میلوڈرامہ تھا، اور ’’چراکمار سبھا‘‘ جیسے مزاحیہ ڈرامے مغربی مزاحیہ روایت، خاص طور پر شناخت کی غلط فہمی پر مبنی کامیڈی سے متاثر تھے۔ ناقدین، خصوصاً موہن لال شرما نے، اس بات کی نشان دہی بھی کی ہے کہ ان کے بعض ڈرامے یورپی علامتی (سمبلسٹ) ڈرامہ نگاروں، خصوصاً موریس میٹرلنک کے اسلوب سے قریبی مناسبت رکھتے ہیں، جن میں تجریدی خیال آرائی اور علامتی زبان کا استعمال نمایاں ہے۔
مگر ٹیگور کا اصل اور تاریخی اہمیت کا حامل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے رفتہ رفتہ، ایک بالکل شعوری اور دانستہ عمل کے تحت، اس مغربی اثر سے انحراف کیا۔ انھوں نے تجارتی بنگالی رنگ منچ پر کھلے عام تنقید کی، جو ان کے بقول بھاری بھرکم سیٹوں اور حقیقت نگارانہ سجاوٹ کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور جس نے تماشائیوں کو ’’حقیقت نگاری کی حرص‘‘ میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس کے بجائے انھوں نے ایک ایسا شاعرانہ، تخیلاتی اور کم سے کم وسائل پر مبنی تھیٹر تخلیق کیا جو نہ کسی مغربی روایت کا مقلد تھا اور نہ کسی خالص مشرقی سانچے کا اسیر۔ ٹیگور نے اپنے نظریات میں کلاسیکی سنسکرت رنگ منچ اور بنگال کی لوک روایت، خصوصاً ’’جاترا‘‘، سے رہنمائی لینے کی تجویز دی، جس میں علامت نگاری، خیال آفرینی اور کم سے کم سیٹ کا استعمال شامل تھا۔
پارسی تھیٹر کی تاریخ کا باضابطہ آغاز 1853 میں ہوتا ہے، جس کو اس دور کی معروف پارسی شخصیات، دادا بھائی نوروجی، کے آر کاما اور ڈاکٹر بھاؤ داجی کی سرپرستی حاصل تھی۔
پارسی تھیٹر کی اصل اور غیر معمولی خوبی یہ تھی کہ اس نے مغربی اسٹیج کرافٹ، یعنی منظر آرائی، مصنوعی پردے، روشنی کا حساب کتاب سے استعمال اور ڈرامائی ساخت بندی کو ہندوستانی، فارسی اور اردو داستانوں، لوک موسیقی، رقص اور کلاسیکی شاعری کے ساتھ اس مہارت اور توازن سے ملایا کہ یہ فن نہ خالص مغربی رہا اور نہ خالص مقامی، بلکہ ایک بالکل نئی ہائبرڈ صنف بن گیا۔
اسی روایت میں سب سے نمایاں اور دیرپا نام آغا حشر کاشمیری (1879-1935) کا ہے، جنھیں ان کے ہم عصر بجا طور پر ’’شیکسپیئر ہند‘‘ کے خطاب سے یاد کرتے تھے۔ آغا حشر نے شیکسپیئر کے کئی ڈراموں کو نہایت فنکارانہ مہارت کے ساتھ اردو اور ہندی کے پیرائے میں ڈھال کر پیش کیا، جن میں ان کا ڈراما ’’خواب ہستی‘‘، جو شیکسپیئر کے المیہ ’’میکبتھ‘‘ سے ماخوذ ہے، خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ان کے ہاں شیکسپیئر کا پلاٹ، کردار نگاری کی گہرائی اور المیہ کا تصور تو مغرب سے آیا، مگر مکالمے کی شاعرانہ زبان، گیت اور محاورہ خالصتاً ہندوستانی مزاج کا عکاس تھا، اور یہی امتزاج آغا حشر کی سب سے بڑی فنی کامیابی تھی۔ محققین نے یہ نشان دہی بھی کی ہے کہ پارسی ڈراموں میں کرداروں کی زبان بھی ان کے سماجی مرتبے کے مطابق طے کی جاتی تھی، جو خود شیکسپیئر کے اسلوب سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ بلند طبقے کے کردار شاعرانہ اور مرصع زبان بولتے، جب کہ عام طبقے کے کردار نثری اور بول چال کی زبان استعمال کرتے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان میں ایک نئی اور طاقتور ادبی و ثقافتی تحریک، یعنی ترقی پسند تحریک، نے جنم لیا جس نے ڈرامے کو بھی گہرائی سے متاثر کیا۔ اس دور کے ڈراما نگاروں نے مذہبی اور اساطیری موضوعات کی بجائے سماجی حقیقتوں، غربت، طبقاتی نابرابری اور استحصال کو اپنے فن کا مرکزی موضوع بنایا۔ یہ رجحان مغرب کی حقیقت پسندانہ اور فطرت پسندانہ (نیچرلسٹ) ڈرامائی تحریک سے متاثر تھا، جس نے نارویجین ڈراما نگار ہینرک ابسن اور دیگر یورپی ڈراما نگاروں کے ذریعے ہندوستان تک اپنی رسائی حاصل کی۔
اسی تناظر میں 1943 میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن، جسے مختصراً اپٹا کہا جاتا ہے، کا قیام عمل میں آیا۔ اس تنظیم سے پرتھوی راج کپور، بلراج ساہنی، رتوک گھٹک، اتپل دت، خواجہ احمد عباس اور پنڈت روی شنکر جیسی نامور شخصیات وابستہ رہیں۔ اپٹا کا سب سے اہم اور تاریخی ڈراما ’’نبانہ‘‘ (فصل کی کٹائی) تھا، جو بیجن بھٹاچاریہ نے تحریر کیا اور شمبھو مترا اس کے ہدایت کار رہے۔ یہ ڈراما بنگال کے قحط کی ہولناکیوں اور برطانوی حکمرانوں کی مبینہ بے حسی کو بے نقاب کرتا تھا، اور اس نے حقیقت نگارانہ سماجی تھیٹر کی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔
آزادی کے بعد کے دور میں مغربی اثرات کی نوعیت بھی بنیادی طور پر بدل گئی۔ اب صرف شیکسپیئر یا رومانوی مغربی ڈرامہ نگار ہی نہیں، بلکہ بیسویں صدی کے جدید یورپی رنگ منچی نظریات، خصوصاً جرمن ڈراما نگار برتولت بریخت کا ’’ایپک تھیٹر‘‘ اور ’’الگاؤ کا اثر‘‘ (ایلی نیشن ایفیکٹ) ہندوستانی ڈراما نگاروں کے لیے تحریک اور تجربے کا باعث بنے۔
اس تناظر میں حبیب تنویر (1923-2009) کا نام سب سے نمایاں اور سب سے زیادہ بااثر ہے۔ 1954 میں اپنا مشہور ڈراما ’’آگرہ بازار‘‘ تخلیق کیا، 1959 میں حبیب تنویر نے ’’نیا تھیٹر‘‘ کے نام سے اپنا ادارہ قائم کیا، جو مکمل طور پر لوک اداکاروں کی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا۔ اپنے ناخواندہ اداکاروں کو فطری انداز میں کام کرنے کی آزادی دینے کے لیے انھوں نے باقاعدہ اسکرپٹ کی بجائے تصنع سازی (امپرو ویزیشن) کا طریقہ اپنایا اور معیاری ہندی کی بجائے چھتیس گڑھی بولی کا استعمال کیا۔ حبیب تنویر کا سب سے اہم اور مقبول ترین ڈراما ’’چرن داس چور‘‘ (1975) ہے، جسے چھتیس گڑھ کے لوک فن ’’نچا‘‘ کے ساتھ ملا کر تخلیق کیا گیا، اور جس میں ایک بہتّر رکنی سازدینے والا آرکسٹرا اسٹیج پر شریک ہوتا تھا۔ اس ڈرامے کو 1982 میں ایڈنبرا انٹرنیشنل ڈراما فیسٹیول میں ’’فرنج فرسٹس ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا، اور بعد میں ہندوستان کے چھیاسٹھ برسوں کے بہترین فنی کاموں میں شمار کیا گیا، جس کی تعریف ایک ایسی جدت طرازی کے طور پر کی گئی جو یکساں طور پر بریخت اور لوک محاوروں سے متاثر تھی۔ حبیب تنویر خود کہتے تھے کہ انھوں نے بریخت سے یہ سیکھا کہ رنگ منچ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی اور انقلاب کا ایک نہایت مؤثر ہتھیار بھی ہو سکتا ہے۔
مراٹھی ڈراما نگار وجے تندولکر (1928-2008)، جو کولہاپور کے ایک سرسوت برہمن خاندان میں پیدا ہوئے اور جنھوں نے چھ برس کی عمر میں اپنی پہلی کہانی لکھی ان کا ڈراما ’’شانتتا! کورٹ چالو آہے‘‘ (انگریزی میں ’’Silence! The Court is in Session‘‘)، جو 1967 میں پہلی بار اسٹیج ہوا، جدید ہندوستانی ڈرامے کا ایک نہایت اہم موڑ تصور کیا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی تندولکر نے ایک ٹرین کے سفر کے دوران سنے گئے ایک مکالمے سے اخذ کی، اور اس میں ’’ڈرامے کے اندر ڈرامہ‘‘ کی مغربی تکنیک نہایت مہارت سے استعمال کی گئی: ایک نقلی مقدمے کی مشق، جو دراصل ایک تفریحی کھیل کے طور پر شروع ہوتی ہے، آہستہ آہستہ ایک حقیقی نفسیاتی و سماجی تشدد میں بدل جاتی ہے، جس کا نشانہ ایک غیر شادی شدہ حاملہ خاتون اساتذہ لیلا بینارے بنتی ہے۔ اس کے مرد ساتھی، اداکاری کی آڑ میں، اس کی ذاتی زندگی کو بے دردی سے نوچنا شروع کر دیتے ہیں اور اسے ایک جھوٹے قتل کے الزام میں مجرم ٹھہراتے ہیں۔ اس ڈرامے میں مغربی حقیقت نگاری اور نفسیاتی گہرائی کا امتزاج ملتا ہے، مگر اس کا موضوع، یعنی ہندوستانی متوسط طبقے کی مصلحت پسندی پر مبنی اخلاقیات اور صنفی امتیاز، خالصتاً مقامی اور اپنے دور کے سماج کا آئینہ دار ہے۔
کنڑ زبان کے ڈراما نگار گریش کرناڈ (1938- 2019) نے مغربی اور ہندوستانی روایت دونوں سے یکساں اور نہایت متوازن طریقے سے استفادہ کیا۔ ان کا پہلا ڈراما ’’یایاتی‘‘ (1961) مہابھارت کے ایک مشہور قصے کی نئی تعبیر تھا، جس میں باپ بیٹے کے درمیان جوانی کے تبادلے کی کہانی کے ذریعے ذمہ داری اور انسانی کمزوری کے موضوعات کو اٹھایا گیا۔ ان کا دوسرا اہم ڈراما ’’تغلق‘‘ (1964) انیسویں صدی کے پارسی تھیٹر کے تاریخی ڈرامائی اسلوب میں لکھا گیا، جس میں سلطان محمد بن تغلق کے آدرشوں اور ان کے تباہ کن نتائج کو موضوع بنایا گیا۔ اس کے بعد ’’ہیاوَدانہ‘‘ (1971) میں انھوں نے مغربی ناول نگار تھامس مان کے افسانے ’’دی ٹرانسپوزڈ ہیڈز‘‘ سے تحریک لی، جو خود ایک قدیم ہندوستانی داستان ’’کتھا سرت ساگر‘‘ کی کہانی پر مبنی تھا۔ کرناڈ نے اس مغربی ماخذ کو یکشگانہ جیسے کرناٹکی لوک تھیٹر کی تکنیکوں، ماسک اور مصور راوی ’’بھاگوت‘‘ کے کردار سے ملا کر ایک بالکل نیا اور دنیا بھر میں سراہا جانے والا ڈراما تخلیق کیا۔ اسی سلسلے میں ان کا ڈراما ’’ناگ منڈلہ‘‘ (1988) کرناٹک کی دو لوک کہانیوں پر مبنی ہے، جو انھوں نے استاد اے کے رامانوجن سے سنی تھیں۔ کرناڈ خود ایک انٹرویو میں اعتراف کرتے تھے کہ انھوں نے یونانی ڈرامے، شیکسپیئر، برنارڈ شا، یوجین اونیل، آنوئی، بریخت، سارتر اور کامیو جیسے مغربی ادیبوں کا نہایت گہرا اور باقاعدہ مطالعہ کیا تھا،
بنگالی ڈراما نگار بادل سرکار (1925-2011) نے ایک اور اور نہایت جسورانہ راستہ اختیار کیا۔ 1963 میں لکھے گئے اور 1965 میں اسٹیج ہونے والے ڈرامے ’’ایوم اندرجیت‘‘ نے، جو آزادی کے بعد کے شہری نوجوانوں کی تنہائی اور بے مقصدیت کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے، انھیں فوری طور پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس ڈرامے کو بی وی کرانتھ، ستیہ دیو دوبے اور گریش کرناڈ جیسے فن کاروں نے یکساں طور پر سراہا، اور کرناڈ نے خود اعتراف کیا کہ اس ڈرامے نے انھیں ڈرامائی ساخت کی روانی کے بارے میں بہت کچھ سکھایا۔ بادل سرکار نے مغربی ’’تھیٹر آف دی ابسرڈ‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے روایتی اسٹیج کی حدود کو توڑا، اور 1972 میں اپنے ڈرامے ’’ساگینا ماہاتو‘‘ کے ذریعے ’’تھرڈ تھیٹر‘‘ یا ’’تیسرے تھیٹر‘‘ کے نام سے ایک ایسی تحریک کی داغ بیل ڈالی جس میں پیشہ ورانہ اسٹیج، مہنگے ٹکٹ اور فاصلاتی تماشائی کے مغربی تصور کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا۔
مغربی ڈرامے کے اثرات کو محض ایک طرفہ اور خوش کن کہانی کے طور پر پیش کرنا کسی بھی سنجیدہ علمی مطالعے کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ اس موضوع پر کافی سنجیدہ علمی بحث بھی ہوئی ہے، اور کئی نامور اسکالرز نے اس یک طرفہ بیانیے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ رستم بھروچا اپنی معروف کتاب “Theatre and the World Performance and the polit ics of Culture” میں یہ اہم نکتہ اٹھاتے ہیں کہ مغربی ڈرامہ نگاروں اور ناقدین نے اکثر ہندوستانی رنگ منچ کو اپنی ہی مغربی نظر اور تعصبات کے ذریعے دیکھا اور اسے حقیقت سے زیادہ عجیب و غریب یا محض روحانی رنگ میں پیش کیا، حالانکہ ہندوستانی ڈرامہ اصل میں گہرے سیاسی اور سماجی مسائل سے بھرپور رہا ہے اور کبھی بھی محض روحانی تجربے تک محدود نہیں رہا۔ بھروچا کے مطابق یہ رویہ ایک نوآبادیاتی نظر کا تسلسل ہے، جس میں مشرق کو دیکھنے کا انداز ہمیشہ مغربی معیارات اور مغربی توقعات سے متعین ہوتا رہا ہے۔
اسی طرح ایرن مِی نے اپنی کتاب “Theatre of Rooots-Redirecting the Modern Indian Stage” میں اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ آزادی کے بعد کے ڈراما نگاروں نے شعوری طور پر مغربی نوآبادیاتی رنگ منچ سے علیحدگی اختیار کر کے مقامی روایات کی طرف رجوع کیا، اور یہ عمل خود ایک ثقافتی سیاست کا حصہ تھا، محض ایک فنی انتخاب نہیں۔ نندی بھاٹیہ نے بھی اپنی تصنیف “Acts of Authority/Acts of Resistance” میں اسی نکتے کو تفصیل سے اجاگر کیا ہے کہ نوآبادیاتی دور کا رنگ منچ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت اور مزاحمت کی کشمکش کا میدان بھی رہا ہے، جہاں ہر ڈرامائی انتخاب کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی معنویت پوشیدہ تھی۔
آج ہندوستانی ڈرامہ نہ مکمل طور پر مغربی ہے اور نہ مکمل طور پراپنی قدیم روایت کا پرستار۔ یہ دونوں عظیم روایتوں کے بہترین اور توانا عناصرسے مرکب بدن ہے جس میں تخلیقی حرارت بھی ہے اور فنی گیرائی بھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہندوستانی رنگ منچ کو دنیا کے دیگر ما بعد نوآبادیاتی معاشروں کے فنی تجربوں کی فہرست میں امتیازی مقام دلاتی ہے۔
Shariq Mohammad Aziz
Urdu Scholar, Department of Urdu
Jamia Millia Islamia
Add.: E238/B Dolphin House, 2nd Floor, Shaheen Bagh, Okhla, 110025
Email: shariquema07@gmail.com