قمر اقبال قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں- مضمون نگار۔ عظیم راہی
یادش بخیر! بات1977 کی ہے جب میں گورنمنٹ کالج اورنگ آباد میں پی یو سی سائنس کا طالب علم تھا۔ اس وقت میں بڈی لین میں رہا کرتا تھا۔
یادش بخیر! بات1977 کی ہے جب میں گورنمنٹ کالج اورنگ آباد میں پی یو سی سائنس کا طالب علم تھا۔ اس وقت میں بڈی لین میں رہا کرتا تھا۔
تلوک چند محروم بیسویں صدی کے شعری و ادبی منظر نامے پرایک ایسا نام ہے جن کی تعریف اقبال جیسے شاعر نے بھی کی۔ لالہ کرم چند مدیر ’پارس‘
سید محی الدین قادری زور ایک درویش صفت انسان تھے۔ زور بحیثیت محقق، ماہر لسانیات، ماہر دکنیات، ماہر مخطوطات، نقاد، افسانہ نگار کے تعلق سے کسی بھی تعارف کے
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ غزل دور حاضر میںمقبولیت کی نئی نئی منزلوں کو طے کر تی جا رہی ہے۔صدیوں سے یہ اردو شاعری کی
مولانا احمدرضا خاں نے شاعری کے تمام اصناف میں باکمال شاعری کی ہے۔ آپ کی شاعری میں تغزل کا رنگ زیادہ گہرا نظر آتا ہے۔ غزل کے انداز میں
اکیسویں صدی اردو فکشن کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے۔قلم کاروںاور قارئین دونوںکونثری اصناف میں سب سے زیادہ اردو فکشن نے ہی متوجہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے
ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ
آزادی کے بعد جب اردو زبان پر افتاد آن پڑی تو ایسی نا گفتہ بہ صورت حال میں بر گزیدہ اساتذۂ کرام نے ہی اس شکستہ کشتی کی نا
شام مکمل طور پر رات میں تبدیل ہوچکی تھی یا ہوا چاہتی تھی،پتہ نہیں! ایسے ہی کسی لمحے میں موبائل کی گھنٹی بجی… میں نے لپک کے موبائل اُٹھایا۔رشید
جہاں اردو صحافت نے جنگ آزادی میں ناقابل فراموش اہم کردار ادا کیا وہاں دوسری جانب اردو ادب کی مختلف اصناف کے فروغ میں بھی اپنی سرگرمی کو تاہنوز