نذیر بنارسی کی شاعری میں عصری حسیت – مضمون نگار: جاوید احمد
نذیر بنارسی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے ایک بات پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شعری تخیل کا مرکز و محور عام انسان کی
نذیر بنارسی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے ایک بات پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شعری تخیل کا مرکز و محور عام انسان کی
اکیسویں صدی کے اوائل میں شائع ہونے والے ناول ’کئی چاندتھے سرآسماں‘ نے گزشتہ دوصدیوں یعنی اٹھارہویں اورانیسویں صدی کی ہندوستانی تہذیب وثقافت اورفکری نہج کواپنے پیمانے میں سمیٹ
کرشن چندر کی پیدائش بھرت پور راجستھان میں ہوئی مگر ان کا بچپن جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں گزرا۔ وہیں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔وہ بچپن
شمس الرحمن فاروقی ناول نگار سے زیادہ نقاد کی حیثیت سے معروف ہیں لیکن ان کی ناول نگاری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کا ناول
ناول ادب کی ایک مقبول عام صنف ہے۔ اردو ادب میں اس کی تاریخ تقریباََ ڈیڑھ سوسال سے ذیادہ عرصے کو محیط ہے اورمغرب میں ناول کی تاریخ کم
ممتاز مؤرخ اور معروف آرکایولوجسٹ پروفیسر سید اکبرعلی ترمذی 8؍جون 1924 کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں بمبئی یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور انگریزی کے ساتھ
لفظ اسلوب انگریزی زبان کے لفظ(Style) کا اردو مترادف ہے۔جس کے لیے یونانی میں(Stylus)، عربی اور جدید فارسی میں ’سبک‘، سنسکرت میں ’ریتی‘ اور ہندی میں ’شیلی‘ جیسے الفاظ
ڈاکٹرحنیف ترین کو بہت قریب سے مجھے دیکھنے اورسمجھنے کاموقع ملا۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے بہت جگہ تھی، وہ لوگوں کے درد پرتڑپ اٹھتے اور اس
ظفر احمد صدیقی کا شمارعہد حاضر کے اہم محققین اوردانش وروں میں ہوتا ہے۔ عربی، فارسی ادبیات اوراردو زبان وادب پر انھیں یکساں قدرت حاصل تھی۔عالم باعمل تھے، گفتگو
ہرخود نوشت سوانح حیات کی اپنی ایک خاص ہئیت ہوتی ہے۔ مصنف اپنی داستانِ حیات مخصوص ترتیب و تسلسل کے ساتھ خود نوشت میںمربوط انداز میں رقم کرنے کی