عابد پشاوری کی غزل گوئی – مضمون نگار: محمد رفیع
اردو ادب کی دنیا میں وقتا فوقتا ایسی ہستیاں پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے اپنی علمی صلاحیت اور فنی بصیرت کے طفیل اپنے اکابرین سے بھی اپنے فن کا
اردو ادب کی دنیا میں وقتا فوقتا ایسی ہستیاں پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے اپنی علمی صلاحیت اور فنی بصیرت کے طفیل اپنے اکابرین سے بھی اپنے فن کا
دنیا میں اب تک لا تعداد انسان پیدا ہو چکے ہیں جن کا کوئی شمار نہیں لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اوراق لیل و نہار پر نقش
اردو طنزو مزاح کی تاریخ میں جن ابتدائی انفرادی کاوشوں کی نشاندہی کی جاتی ہے،ان میں جعفر زٹلّی کے بعد نظیر اکبر آبادی کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔نظیر
کچھ بچوں میں تخلیقی قوت زیادہ ہوتی ہے کچھ میں کم۔ لیکن ہوتی تمام بچوں میں ہے۔ بچے چونکہ کائنات کی تخلیق نو اور تسلسل کا دائمی حصہ ہوتے
اردو میں تحقیق کا آغاز تذکروں سے ہوتا ہے۔ تذکروں میں اولیت کا شرف میر تقی میر کی کتاب ’نکات الشعرا‘ کو حاصل ہے۔ ’نکات الشعرا‘در اصل اردو شعرا
اکیسویں صدی کے اس زمانے میں، کسی بھی ملک کی نشوو نما و ترقی میں تعلیم ایک انتہائی اہم کردار اداکرتی ہے۔ سوامی وی ویکانند سے لے کر آج تک
انسانی زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جو اس میں ہلچل مچادیتے اور سکون وچین کو غارت کر دیتے ہیں۔آ ج سے تقریباً 70 سال قبل بھی
جبر دراصل مقتدر طبقات یا صاحب اختیار کی جانب سے طاقت کا بے جا، غیرمنصفانہ اور کبھی کبھی ظالمانہ استعمال ہوتا ہے۔جبر کی اس تعریف میں عوام کے مصائب
عصر حاضر کے ممتاز ادیب، نقاد، دانشور اور شاعر پروفیسر فضل امام رضوی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ عرصۂ دراز سے صاحب فراش تھے اور
نیر مسعود اردو کے ایک ممتاز افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوی امتیازکی بہت سی وجوہات ہیں جو انھیں ان کے تمام معاصرین سے منفرد بناتی ہیں۔ نیر مسعود