ماہنامہ نیا دور کا ادبی اور صحافتی سفر،مضمون نگار: رفیق احمد

January 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،نومبر 2025

مرکز علم وفن، شہر شعر و ادب اور علمی و تہذیبی تمدن کے گہوارے سر زمین لکھنؤ کو اردو زبان و ادب کے فروغ میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اس شہر سخن نے علمی وادبی دنیا میں جو شہرت و مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی ہے اس کے اعتراف سے چشم پوشی ممکن نہیں خصوصاً اردو صحافت کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں یہاں کے ادبا وشعرا اور دانشوران اردو نے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اس سے انکار کی گنجائش نہیں، خالص علمی وادبی صحافت کو پروان چڑھانے میں یہاں کے اردو صحافیوں کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، جمہوریت کا چوتھا ستون کہی جانے والی صحافت نے اردو زبان و ادب کے حوالے سے جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ ہر عہد میں قابل تعریف رہے ہیں۔ پورے ملک کی اردو صحافت اور خاص طور سے لکھنؤ کی سرزمین کی علمی وادبی صحافت نے ملک و قوم کی ترقی میں جو رول ادا کیاہے وہ بہر حال لائق تعریف ہے۔ علم وادب اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ کہی جانے والی سرزمین لکھنؤ سے جو علمی وادبی رسائل وجرائد اور مجلات شائع ہوتے رہے ہیں ان میں ماہنامہ ’نیا دور‘کو بڑی اہمیت اور انفرادی حیثیت حاصل رہی ہے غالباً یہ ہندوستان کا واحد سرکاری رسالہ ہے جو اپنے خصوصی نمبروں یا شماروں کی وجہ سے اپنی الگ ادبی شناخت رکھتا ہے۔ اس رسالے نے اردو زبان وادب کی جو قابل تعریف خدمات انجام دی ہیں اسے آسانی سے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ملک کے نامور اہل قلم اور دانشوران اردو کی تخلیقات ’نیادور‘ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ یہ رسالہ اپنے شروعاتی دور میں ’نیادور‘کے نام سے نہیں شائع ہوا کرتاتھا بلکہ حکومت اترپردیش نے آزادی کے بعد اپنی سرکاری اطلاعات منصوبے اور مقاصد کو اردو داں طبقے تک پہونچانے کے لیے جو پرچہ جاری کیا اس کا نام ’اطلاعات‘ رکھا جو پندرہ روزہ کی شکل میں شائع ہوا کرتاتھا شروعاتی دور میں اس میں صرف سرکاری پریس نوٹ اور اطلاعات وغیرہ شائع ہوا کرتی تھیں اس زمانے میں اس کے ایڈیٹر محترم علی جواد زیدی صاحب تھے جن کا شمار نامور اہل قلم میں ہوتاہے ان کی انتھک کوششوں سے ’نیا دور‘ کو جو علمی وادبی مقام ومرتبہ حاصل ہواہے وہ قابل تعریف ہے۔ جب ’اطلاعات‘ جاری ہواتھا اس زمانے میں محترم ڈاکٹر سمپورتانند صاحب اترپردیش کے وزیر اعلیٰ تھے جن کو اردو زبان وادب سے کافی دلچسپی تھی موصوف کا علمی وادبی خلوص تسلیم شدہ ہے ان کی ادب نوازی اور علم دوستی عوام میں کافی مشہور ہے علی جواد زیدی صاحب نے موصوف کے سامنے ’اطلاعات‘ نام تبدیل کرکے رسالہ کا نام’نیا دور‘ رکھنے کی تجویز پیش کی جسے منظوری بھی مل گئی اس طرح سے یہ رسالہ ’نیا دور‘کے نام سے جاری ہونے لگا۔ آزادی سے پہلے’نیادور‘ نام کا ایک رسالہ ممتاز شیریں اور صمد شاہین کی ادارت میں بنگلور سے شائع ہوا کرتا تھا۔ حکومت اترپردیش سے پندرہ روزہ ’اطلاعات‘ کی جگہ ماہنامہ’نیادور‘ کی شکل میں باقاعدہ طور سے پہلا شمارہ اپریل 1955 میں منظر عام پر آیا جو آج بھی جاری ہے،شروعاتی دور کے ماہنامہ’نیادور‘کے اہم نمبروں اور خصوصی شماروں میں ’جمہوریت نمبر‘، ’آزادی نمبر‘، ’گاندھی جینتی نمبر‘ اور’تعمیری ادب نمبر‘ جنوری 1957کو بڑی اہمیت اور شہرت و مقبولیت حاصل ہے۔
محترم علی جواد زیدی صاحب کے زمانے میں ماہنامہ’نیادور‘ پر ایک آزمائشی دور بھی گزرا جسے موصوف نے اپنی دانشوری اور فہم و فراست سے اس صبرآزما مرحلے کو طے کیا اور ’نیادور‘کی اشاعت مفلوج ہونے سے بچتی رہی۔ انھوںنے صحافتی اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیںکیا وہ اردو زبان وادب کے سچے شیدائی، بہی خواہ اور بے لوث خادم تھے جن کی یاد ہمیشہ آتی رہے گی۔ شروعاتی دور کی فائلوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف نے ’ نیادور‘ میں نامور اہل قلم کی تخلیقات کی اشاعت کے ساتھ ہی اس کے ادبی معیار و مقام کو بلند کرنے کے لیے ایک اہم اور منفرد کالم’آپ سے ملیے‘شائع کیاتھا یہ وہ مشہور زمانہ کالم ہواکرتاتھا جس میں دانشوران اردو اور مشاہیر ادبا وشعرا کے خاکے شائع ہواکرتے تھے۔
زیدی صاحب کے بعد محترم محمد فرحت اللہ انصاری ’نیا دور‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے موصوف نے اپنی کوششوں سے اس کے معیار کو بلند کرنے اور تخلیقات کے حسن انتخاب میں جو اہم رول ادا کیاہے وہ قابل تعریف ہے، آپ نے ’نیا دور‘ کا ایک خصوصی شمارہ ’جمہوریت نمبر‘ کے نام سے شائع کیاتھا۔ہر ادیب، صحافی اور مدیر کی اپنی الگ الگ ترجیحات ہوا کرتی ہیں، ’نیادور‘کی فائلوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ہر دور کے مدیر نے قلمکاروں کی عمدہ تخلیقات ہی کو ’نیادور‘ کے قیمتی صفحات پر جگہ دی ہے۔ ماہنامہ ’نیادور‘کے تیسرے ایڈیٹر جناب صباح الدین عمر صاحب تھے موصوف نے ’نیادور‘ کو صوری ومعنوی طور سے خوبصورت بنانے میں اہم رول ادا کیاہے انھوں نے کتابت وطباعت اور املا پر خصوصی توجہ صرف کی ہے۔اس سلسلے میں صلاح الدین عثمانی صاحب اپنے مضمون صباح الدین عمر مرحوم، مطبوعہ’ماہنامہ نیادور نصف صدی نمبر‘شمارہ مارچ تا مئی 1995 میں رقمطراز ہیں:
’’یہ ممکن نہ تھا کہ رسالے کی اشاعت میں کتابت کی ادنیٰ سی بھی خامی رہ جائے اخبار ورسالے کے صفحات میں مضامین سجانے Lay outمیں تو وہ ماہر تھے لکھنؤ کے اچھے کاتبوں کا کہنا ہے کہ ان کے بعد کتابت اور صفحات کے سجانے کا ہنر جاننے والا کوئی نہ رہ گیا۔‘‘
سابقہ مدیر ان نیا دور کی ادبی وثقافتی اور تہذیبی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صباح الدین عمر صاحب نے بھی چند معلوماتی اور دستاویزی نوعیت کے خصوصی شمارے شائع کیے ہیں جن میں گاندھی جی، شاستری جی اور پنڈت نہروجی کی علمی شخصیت پر تین خصوصی شمارے اسی طرح مرزا غالب اور احتشام حسین صاحب کے فکر وفن پر دو خصوصی شماروں کے علاوہ افسانہ نمبر اور جون 1969 میں ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کے بارے میں ایک خصوصی گوشہ’نذر ذاکر حسین‘کے نام سے شائع کیا۔ اردو کی علمی وادبی صحافت میں کالم نگاری کی طرح اداریہ نویسی بھی بڑی فنکاری کا کام ہے،رسالے کی پالیسی سے اداریے کا گہرا ربط ہوتاہے عمدہ اور بہترین معلوماتی اداریے رسالے کے معیار و وقار کو بلندی عطا کرتے ہیں۔
صباح الدین عمر صاحب کی اداریہ نویسی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’نیا دور کی صحافتی تاریخ میں سب سے طویل اداریہ بھی صباح الدین عمر کا لکھا ہوا ہے جو 26جنوری 1960 کے شمارے میں شائع ہوا۔ یہ اداریہ بہت باریک کتابت کے ساتھ’ نیا دور‘ کے پانچ مکمل صفحات پر مشتمل ہے جو ’نیادور‘ کی موجودہ کتابت یا کمپیوٹر کی ٹائپنگ کے لحاظ سے کم از کم بیس صفحات کے برابر ہے یہ پورا اداریہ قومی اور بین الاقوامی طور پر جمہوریت کے موضوع پر لکھاگیاہے۔‘‘
(سہ ماہی ’روح ادب‘ ویسٹ بنگال اردو اکادمی، کلکتہ، شمارہ جولائی تا ستمبر2022صفحہ15)
اردو کی ادبی صحافت میں ’نیادور‘ کے ذریعہ شہرت و مقبولیت پانے والے مدیروں میں خورشید احمد صاحب کا شمار ایک نمائندہ اور تجربہ کار صحافی کی حیثیت سے ہوتا ہے انھوں نے ’نیادور‘ کی ادارت کے دوران نامور ادبا وشعرا اور کچھ دیگر موضوعات پر کل آٹھ خصوصی شمارے اور چار ادبی گوشے شائع کیے جن میں امیر خسرو، مسعود حسن رضوی ادیب،مولانا عبدالماجد دریابادی پر خصوصی نمبر اور ڈاکٹر ذاکر حسین، علامہ اقبال، سلام مچھلی شہری اور شمیم کرہانی پر خصوصی گوشے شامل ہیں۔
ترتیب کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے توامیر احمد صدیقی ماہنامہ ’نیادور‘ کے پانچویں مدیر کی حیثیت سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں انھوں نے ’نیا دور‘ کے معیار ووقار کو اپنی انتھک کوششوں سے بلندی عطا کی ہے ان کی مدت ادارت کے وقفے؍دورانیے میں مختلف علمی و ادبی شخصیات پر خصوصی شمارے شائع کرنے کی روایت برقرار رہی بلکہ موضوعات اور فکر و خیال کے اعتبار سے کچھ ترقی بھی ہوئی موصوف نے مختلف موضوعات پر کل ایک درجن خصوصی شمارے اور دو خصوصی گوشے شائع کیے جن میں محترمہ اندرا گاندھی،بہادر شاہ ظفر،منشی دیانارائن نگم،فراق گورکھپوری،عثمان عارف،منشی نول کشور اور دیگر موضوعات پر خصوصی نمبر اور نامور شاعر نسیم انہونوی اور جمیل مہدی پر خصوصی گوشے قابل ذکر ہیں، میرے خیال میں صدیقی صاحب کی مدت ادارت کا اہم اور ادبی کارنامہ ’یادرفتگاں نمبر‘حصہ اول ہے جس میں اردو ادب کے پانچ اہم ستون خواجہ احمد عباس، راجندر سنگھ بیدی، صباح الدین عبدالرحمن،فکر تونسوی اور احمد جمال پاشا کے فکر وفن پر گراں قدر مضامین ومقالات شامل ہیں یہ تاریخی اور دستاویزی حیثیت کا حامل شمارہ اپریل تا ستمبر1988 میں شائع ہواتھا جس کے جوائنٹ ایڈیٹر محترم شاہنواز قریشی صاحب تھے یہ خصوصی شمارہ 244 صفحات پر مشتمل ہے۔راقم الحروف نے اپنے تحقیقی مقالہ ’فکر تونسوی کی ادبی وصحافتی خدمات‘ مطبوعہ اپریل 2021 کی تیاری میں مذکورہ خصوصی شمارے سے خاطر خواہ استفادہ کیاہے۔
ماہنامہ ’نیادور‘ کے ادبی اور صحافتی قافلے کو آگے بڑھانے والے مدیران کی فہرست میں ایک اہم اور نمایاں نام محترم شاہنواز قریشی صاحب کا ہے جن کی مدیرانہ صلاحیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے آپ کی ولادت16مارچ1948 میں کلکتہ میں ہوئی اور وفات لکھنؤ میں 23جون2023کو ہوئی۔آپ 1959 میں اپنے والدین کے ساتھ لکھنؤ آگئے یہیں پر آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی،صحافتی زندگی کا آغاز1969 میں ہفت روزہ ’ندائے ملت‘سے ہوا، سرکاری ملازمت کی شروعات محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ لکھنؤ میں انفارمیشن افسر کی حیثیت سے ہوئی اس اہم پوسٹ پر آپ کی تقرری 17اگست 1947 کو ہوئی۔اس جوائننگ کے ساتھ موصوف کو انفارمیشن بیورو کے علاوہ ’ماہنامہ نیادور‘کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی، انھوں نے ’نیادور‘ کے مدیر کی حیثیت سے اس عہدہ پر اگست 1990 سے جولائی1991 تک خدمات انجام دیں۔مستقل ایڈیٹر بننے سے قبل وہ جوائنٹ ایڈیٹر اور ایکٹنگ ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔قریشی صاحب 6مارچ 1995 سے نومبر1997 تک یوپی اردو اکادمی لکھنؤ میں بطور سکریٹری ڈپوٹیشن پر بھی رہ چکے ہیں یہاں سے واپسی کے بعد آپ کو دوبارہ فروری1998 میں ’نیادور‘ کے ایڈیٹر کی ذمہ داری سونپی گئی جسے انھوں نے جون 2003 تک بحسن و خوبی انجام دی انھوں نے کسی وجہ سے جولائی 2003 ہی میں V.R.Sلیتے ہوئے ملازمت سے سبکدوشی اختیار کرلی۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی صحافتی خدمات کا سلسلہ جاری رہا ر، روزنامہ ’ان دنوں‘ اور روزنامہ’صحافت‘سے وابستہ رہے اور ان میں بطور ایڈیٹر ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔
شاہنواز صاحب کے متعلق رضوی صاحب لکھتے ہیں :
’’نازک مزاجی،نفاست پسندی،وضع داری اور لکھنؤ کی زبان کی چاشنی ان کے مزاج میں رچی بسی تھی، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ عصری دور میں لکھنوی تہذیب وثقافت اور زبان وادب کی نمائندگی کرتے تھے۔‘‘
’’نیا دور کے مدیر محترم ریحان عباس صاحب لکھتے ہیں :قریشی صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ وہ سنجیدہ محفل میں بھی مزاح کا پہلو نکال لیتے تھے انھوں نے ’نیادور‘ کی ادارت کے علاوہ مختلف روزناموں، ماہناموں کی ادارت کا بھی فریضہ بخوبی انجام دیاہے، اور یہ لکھنے میں قریشی صاحب ایکسپرٹ تھے وہ جو کہنا چاہتے تھے اس کو ایسے تحریر کرتے تھے کہ گویا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اداریہ نہ لکھ رہے ہوں بلکہ سامنے بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔‘‘
ماہنامہ ’نیادور‘ کی علمی وادبی اور تہذیبی وثقافتی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جن لوگوں نے اپنی مدیرانہ صلاحیت کا لوہامنوایاہے ان میں ایک قابل ذکر اور گراں قدر نام سید امجد حسین صاحب کا ہے جن کا سب سے بڑا علمی وادبی کارنامہ ’نیا دور‘ میں لکھنے والے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی ہے موصوف نے تخلیق کاروں کو دیے جانے والے اعزازیے یا معاوضے میں خاطرخواہ اضافہ کرایاہے جو بہر حال ایک قابل تعریف اور لائق تحسین کام ہے جس سے ’نیادور‘ کے ادبی معیار میں بھی بلندی ہوئی اور اس کے لیے نامور اہل قلم حضرات کی خدمات حاصل کی گئیں۔موصوف نے کل سات مختلف موضوعات پر خصوصی شمارے شائع کیے جن میں ’او دھ نمبر، گاندھی جی نمبراور یادگار آزادی نمبر‘کو کافی شہرت و مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔آپ نے شیخ علی حزیں کے فکر و فن پر ایک گراں قدر ادبی گوشہ بھی شائع کیا ہے۔
مدیران ’نیادور‘ کی فہرست میںنجیب انصاری صاحب کا نام بھی بہ حیثیت سب ایڈیٹر اور جوائنٹ ایڈیٹر انتہائی اہم اور قابل ذکر ہے انھیں بھی صرف نصف سال کی مختصر مدت کے لیے ’نیادور‘ کی ادارت کی اہم ذمہ داری ملی جسے موصوف نے بحسن وخوبی انجام دیا۔
اردو کی ادبی صحافت خصوصاً رسائل و جرائد کی پوری علمی وادبی تاریخ میں میری ناقص معلومات اور محدود مطالعے کی حد تک شاید ہی اردو کا کوئی ایسا رسالہ یا ماہنامہ ہوگا جس نے اپنی طویل علمی وادبی اور صحافتی خدمات کے وقفے میں ماہنامہ’نیادور‘ کی طرح اتنی کثیر تعداد میں مختلف علمی وادبی اور تہذیبی وثقافتی موضوعات پر گراں قدر، قابل ذکر،لائق مطالعہ واستفادہ اور معیاری و دستاویزی نوعیت کے حامل خصوصی شمارے یا نمبر شائع کیے ہوں۔ خصوصی شماروں کی اشاعت کے لحاظ سے ملک گیر پیمانے پر شائع ہونے والے سرکاری وغیر سرکاری رسائل وجرائد کی طویل فہرست میں اس معاملے میں ماہنامہ ’نیادور‘کو سند افتخار حاصل ہے۔ اس کے لیے تمام مدیران ’نیادور‘ خصوصی مبارکباد اور شکریے کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔
اس سلسلے کی ایک اہم اور ناقابل فراموش کڑی ڈاکٹرسید وضاحت حسین رضوی کی علمی وادبی شخصیت ہے جن کی ادارت میں’نیادور‘ کو علمی وادبی حلقوں میں کافی شہرت ومقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی اور ’نیادور‘ کے خریداروں،قلم کاروں اور تخلیق کاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اس کے خصوصی شماروں کی حصولیابی کے لیے بہت سے نئے خریداروں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر وضاحت رضوی صاحب نے 2004 سے2016 تک تقریباً 13سال تک اپنی کل مدت ادارت میں پچیس خصوصی شمارے شائع کیے ہیں جو مختلف علمی وادبی موضوعات پر مشتمل ہیں جن میں خاص طور پر نامور علمی وادبی شخصیات مثلاً مولانا محمد علی جوہر، علی برادران، علی جوادزیدی،قرۃالعین حیدر،رشید حسین خان،میر تقی میر، شکیل بدایونی، عرفان صدیقی، اسرار الحق مجاز، احتشام حسین رضوی، جاں نثار اختر، محمود الٰہی، میرانیس، خمار بارہ بنکوی،منشی دواریکاپرسادافق اور وجاہت علی سندیلوی کے نام انتہائی اہم اور قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے ’نیادور‘ میں نامور اہل قلم پر خصوصے گوشے بھی شائع کیے ہیں جن میں سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور عرفان صدیقی کے علاوہ دیگر اہم نام بھی شامل ہیں، ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی صاحب نے اردو اصناف شاعری میں مرثیے کے حوالے سے ترتیب وار چار خصوصی شمارے’رثائی ادب نمبر‘ کے نام سے دسمبر2009 نومبر2013، دسمبر2014 اور اکتوبر 2015 میں شائع کیے ہیں جو موضوع اور فن کے لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں،ماہنامہ’نیادور‘ کی علمی وادبی اور تہذیبی وثقافتی خدمات کے حوالے سے ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی صاحب کی فعال اور علمی و ادبی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے۔
ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی صاحب کی جوائنگ جولائی 1990 میں محکمۂ اطلاعات و رابطہ عامہ لکھنؤ میں ہوئی، 2004 میں موصوف جب ماہنامہ ’نیادور‘ کے مدیر بنائے گئے تو انھوں نے ترجیحی طور پر تین اہم کارنامے انجام دیے۔’نیادور‘ کے صفحات کی تعداد میں مختلف اوقات میں حسب ضرورت حذف واضافے ہوتے رہے ہیں، کچھ طویل مدت تک اس کے صفحات کی مجموعی تعداد 32رہی ہے جس میں ایک خاطر خواہ اضافہ کرکے رضوی صاحب نے صفحات کی تعداد کو 48تک کردیا جو ایک اہم اور قابل ذکر کارنامہ ہے۔عام طور پر ریسرچ اسکالر اپنی تخلیقا ت کی اشاعت کے لیے ISSN نمبر والے علمی وادبی میگزین یا رسالے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے وضاحت صاحب نے ایک اہم آسانی فراہم کردی ہے۔ موصوف کی علمی کوششوں سے ایک ’نیادور‘بھی ISSNنمبر کے ساتھ اب شائع ہورہا ہے جو ایک قابل تحسین عمل ہے۔وضاحت صاحب کی ادب نوازی اور علم دوستی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے قلم کاروں کودیے جانے والے اعزازیے یا معاوضے کی رقم کو بڑھا کر دوگنا کردیا اس طرح 2015 سے موصوف نے تخلیق کاروں کا اعزازیہ بڑھا کر ایک اہم ادبی خدمات انجام دی ہے۔ ان کے زمانے میں ’نیادور‘ کے خریداروں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے جو اس اہم رسالے کے لیے ایک خوش آئندہ بات ہے،ایک کامیاب مدیر اور صحافی کی حیثیت سے رضوی صاحب کا قد کافی بلند ہے۔
ماہنامہ’نیادور‘کی علمی وادبی اور تہذیبی وثقافتی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جن مدیران’نیا دور‘ نے اس رسالے کی آبیاری کی ہے۔ ان میں رضوی صاحب کے بعد سہیل وحید کا نام بھی انفرادی حیثیت کا حامل ہے جنھوں نے اردو کے نامور طنز ومزاح نگار مجتبیٰ حسین صاحب پر خصوصی شمارہ ستمبر2018میں شائع کیاہے۔ سہیل وحید کے بعد ’نیادور‘کی ادارت کی ذمہ داری سید عاصم رضا کے سپرد ہوئی جنھوں نے اسے بحسن وخوبی انجام دیتے ہوئے اپنی ادارت کا آخری شمارہ اکتور 2019 میں شائع کیا۔ ان کے بعد دو مرتبہ محترمہ غزال ضیغم کو نیادور کا مدیر بنایاگیا، ایک مرتبہ انجم نقوی صاحب ’نیادور‘ کے مدیر منتخب ہوئے اور انھوںنے اپنے رٹائرمنٹ سے پہلے ’نیادور‘کا ایک شمارہ نومبر2019 سے اکتوبر 2020 تک عام شمارے کی حیثیت سے شائع کیا۔ موصوف کے بعد جب غزال ضیغم کو دوسری بار مدیر بنایاگیا تو ان کی ملازمت سے سبکدوشی کا وقت بالکل قریب آگیا اور اس طرح محترمہ غزال ضیغم کو ماہنامہ ’نیادور‘ کی واحد خاتون ایڈیٹر بننے کا شرف حاصل رہا،اس طرح ماہنامہ ’نیادور‘ کا ادبی سفر جو اپریل 1955 سے محترم علی جواد زیدی صاحب کی ادارت میں شروع ہوا تھا مختلف مراحل و مدارج سے گزرتے ہوئے تقریباً ستر سال کی طویل مسافت طے کرکے آج بھی بڑی آب وتاب کے ساتھ جاری ہے۔ اب اس موقر ماہنامہ کے حالیہ مدیر محترم ریحان عباس صاحب ہیں جنھوں نے ’افسانوی ادب نمبر‘ شائع کرکے ’نیادور‘ کی علمی وادبی وراثت کو جاری و باقی رکھاہے۔ امید ہے کہ موصوف کی ادارت میں یہ رسالہ آسمانِ صحافت کا درخشندہ ستارہ بن کر نکلتا رہے گا اور اس کی ضیا پاش کرنوں سے شائقین اردو اور قارئین ’نیادور‘مزید استفادہ کرتے رہیں گے۔

Dr. Rafique Ahmad
Asst Prof. Department of Urdu
D.C.S.K (Post Graduate) College
Maunath Bhanjan, Mau- 275101 (UP)
Mob.: 9236126977
rafique.mau@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

1857 سے قبل کے فارسی اخبارات اور ان کے غیرمسلم مدیران،مضمون نگار: عامر فہد

اردو دنیا،نومبر 2025 برطانوی استعمار کے زیرِ سایہ ہندوستان میں جن فکری اور تہذیبی تبدیلیوں نے جنم لیا، ان میں صحافت کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ