سائنس اور ادب کے امتیازات – مضمون نگار : معیدالرحمن
ایک ایسے دور میں جب کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے تمام مظاہر حیات کے ساتھ ساتھ انسان کے داخلی شعور پر بھی غلبہ حاصل کرلیا ہے، ادب کے وجود
ایک ایسے دور میں جب کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے تمام مظاہر حیات کے ساتھ ساتھ انسان کے داخلی شعور پر بھی غلبہ حاصل کرلیا ہے، ادب کے وجود
بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جموں وکشمیر بطور شاہی ریاست” “Princely State ڈوگرہ حکومت 1846ٗٗٗٗٗٗٗٗٗ تا1947 کے تحت تھی۔ اس دور میں یہاں صحافت کو کوئی آزادی نہیں
خورشید الاسلام بیسویں صدی کے اہم ناقد ہیں۔ یہ دور اس اعتبار سے بھی اردو تنقید کے لیے عہد زریں کہے جانے کے لائق ہے کہ اس دور کو
خط لکھنا، خیریت کا لین دین ہے۔ اس کی ضرورت اُس وقت پڑی ہوگئی، جب انسان لکھنے پڑھنے لائق ہوا ہوگا اور اپنوں سے دور بغرضِ ملازمت، تجارت یا
شاعری، مرصع سازی، لفظوں کی متناسب ہم آہنگی، محسنات ِلفظیہ و معنویہ یعنی صنائع و بدائع کاصحیح و درست اور بر وقت استعمال ہے۔شاعری جذباتی کیفیات کی عکاس اوراظہار خیال
ایک زمانہ تھا جب مشرقی تہذیب کی پروردہ خواتین بعض رسوم و قیود کے سبب گھر کی چہاردیواری ہی میں محسور ہو
راجستھان کے شعر و ادب میں خواتین نے بھی وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ صالحہ بیگم پروین (جے پور، 1866۔ 1944)راجستھان کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ ہیں۔ان
ہندوستانی معاشرے کا نا م آتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے ممتاز ملی جلی تہذیب و ثقافت کا ایک رنگین چمن کھلتا اور خندۂ گل کی طرح مہکتا
عربی تاریخ میں حکومتِ بنو عباس کا دور (750-1258) مختلف نیرنگیوں،ترقی و تنزل، اتھل پتھل، نشیب و فراز اور قیامت خیز تغیرات سے عبارت رہا ہے۔ اس عہد میں
ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں 1857کا سال ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب صدیوں سے دبے کچلے عوام نے انگریزوں کے غاصبانہ اور جابرانہ