فلسفۂ مو ت کی شعری تشریحات – مضمون نگار: صابر علی سیوانی
زندگی اور موت کے فلسفے کو شعرائے اردو نے نہایت مؤثر اور بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ یوں تو اس موضوع پر شعرا کے کلیات و دواوین میں
زندگی اور موت کے فلسفے کو شعرائے اردو نے نہایت مؤثر اور بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ یوں تو اس موضوع پر شعرا کے کلیات و دواوین میں
اردو ناول نگاری کی ابتدا نذیر احمد کے ناول سے ہو تی ہے۔ کسی نئی صنف کی شروعات یا پھر اس میں ایک بڑی تبدیلی کا تعلق زمانہ ماضی
کبھی کبھی کسی کام میں بے جا تاخیر کے سبب کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں، جس کا خمیازہ بھی
عالمگیریت ایک ایسا حقیقی اور لا محدود عمل ہے جس نے اس دنیا میں موجود ہر شخص اورہر فرد یہاں تک کہ دنیاکے مادّ ی اور غیر مادّ ی
ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ اور
مرثیہ ایک زمانے تک مذہبی شاعری تک محدود رہا۔ اُنیسویںصدی تک آتے آتے اس کی ایک ادبی شکل بن گئی۔ اِس سلسلے میں میر ضمیر اور میر خلیق کی
سر زمینِ پنجاب ازل سے ہی مختلف نسلوں کے افراد سے آباد ہے اور مختلف مذاہب و عقائد یہاں کی رنگارنگ زندگی کا جزو ہیں۔یہاں تھوڑے فاصلے سے یا
ہندوستان مختلف مذاہب کی آماجگاہ رہا ہے،جہاں مذہبی عقائد کا عمل دخل دیکھا جا تارہا ہے، مذہب وہ شے ہے جس کی بنیاد پر حکومتیں تشکیل پاتی ہیں
علمِ ماحولیات کی حیثیت ایک لازمی اور ناگزیر علم کی ہے۔ ایک مستقل سائنس کے طور پر متعارف ہونے سے قبل اور قومی تعلیمی پالیسی1986 کے نفاذ سے پہلے
انسانی دماغ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتناخود انسان۔ اس طرح وہ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا۔ اس سفر میں اسے مختلف ادوار اور ذہانتوں کا