پروقار افسانہ نگار: آنجہانی رتن سنگھ – مضمون نگار: نارائن پاٹیدار
آزادی کے بعد جن معتبرافسانہ نگاروں نے پریم چند کی روایت کو آگے بڑھایا ہے اور دیہی زندگی کی تصویر کشی کی ہے ان میں خواجہ احمد عباس، قاضی
آزادی کے بعد جن معتبرافسانہ نگاروں نے پریم چند کی روایت کو آگے بڑھایا ہے اور دیہی زندگی کی تصویر کشی کی ہے ان میں خواجہ احمد عباس، قاضی
اردو فکشن کی ایک نوزائیدہ اور جدید صنفـــــــ ’ افسانچہ ‘ ہے۔ افسانچہ، کہانی کی مختصرترین اورجدیدترین صورت ہے۔ اسے ’ منی افسانہ ‘ اور ’منی کہانی‘ بھی
دہلی اور اس کے قرب وجوارمیں بولی جانے والی کھڑی بولی سے نکلنے والی زبان جس نے خالص ہندوستانی ماحول میں فروغ پایا اور جو ہر خاص و
امداد امام اثر کے مطابق شاعری رضائے الٰہی کی صحیح نقل ہے جو الفاظ با معنی کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا
عموماً دنیا کی ہر بڑی شاعری میں شعرا نے عظیم شخصیتوں پر طبع آزمائی کی ہے۔ ہندوستان میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم رام کی شخصیت اور رام
انسانی زندگی میں ترسیل وابلاغ کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے۔ اسی کی بناپر ہمارا سماجی ڈھانچہ قائم ہے۔ انسان نے جب تہذیبی وتمدنی زندگی بسر کرنا شروع کی
ہر عہد اپنے فکری رحجان، معاشرتی طرز زندگی، معاشی نظام، تہذیبی و ثقافتی خصوصیات، سیاسی تحریکات کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے، انہی خصوصیات کی بنا پر و ہ
ماحول اپنے آپ میں ایک مکمل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جس میں نامیاتی اور غیر نامیاتی اجزا تشکیل پاتے ہیں۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو ماحولیاتی نظام قائم
سید سلیمان ندوی(1884-1953) کا شمارممتاز علمی وادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔انھوں نے علم وتحقیق کے مختلف موضوعات پرکتابیں تصنیف کیں۔تاریخ و سیرت کے علاوہ ادب و تحقیق کے
2000کے بعد معاصر اردو افسانہ اپنے اندر نہ صرف اصلا حی پہلو لیے ہوئے ہے بلکہ اس کے اندر بیا نیہ پن بھی ہے، علامتوں اور استعاروں کا استعمال