اردو دنیا،نومبر 2025
سائنس کی کتابوں کی ایک اچھی لائبریری ہر ایک اسکول کی اولین ضرورت ہے۔ یہ ایک نزاعی مسئلہ ہے کہ سائنس کی لائبریری اسکول کی عمومی لائبریری سے الگ سائنس کے اُستاد کے تحت رہے یا جنرل لائبریری کا ایک جزو ہو۔ پہلا طریقہ بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں اُستاد کے لیے یہ آسان، سہولت بخش اور زیادہ مؤثر ہوگا کہ وہ طلبا کی توجہ کسی خاص کتاب یا کسی مخصوص موضوع کی طرف مبذول کرائے۔ وہ اس بات پر نظر رکھ سکتا ہے کہ طلبا کس حد تک غیر نصابی مطالعہ کی طرف راغب ہیں اور ان کی دلچسپی کے کسی خاص میدان کو نوٹ کر سکتا ہے۔ مزید برآں کتابی حوالہ کے لیے یا گھر پر پڑھنے کے لیے مستعار، وقت اور دلچسپی کو ضائع کیے بغیرفوراً مل جاتی ہیں تاہم عمومی دلچسپی والی سائنس کی کتابیں جنرل لائبریری میں بھی رکھی جا سکتی ہیں۔
تجربہ گاہ میں کوئی نئی سائنس کی لائبریری قائم کرنے سے پہلے سائنس کے استاد کو رقم اور جگہ کا جو میسر آسکتی ہیں، جائزہ لینا چاہیے۔ اسی کے مطابق اسے لائبریری کے قیام کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ ایک حقیقی طور پر مفید لائبریری بنانے کے لیے کتابوں کا بہت دانشمندانہ انتخاب ضروری ہے۔ سائنس کا اُستاد سائنس کی کتابوں کے انتخاب میں تقریباً 2,000 کتابوں کی ایک درجہ بند فہرست سے رجوع کر کے بہت مدد حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سائنس ماسٹرس ایسوسی ایشن، لائبریری بکس سلیکشن کمیٹی کی شائع کردہ ہے اور اسکول لائبریری کے لیے سائنس کی کتابوں کے عنوان سے جان مرے کی شائع کی ہوئی ہے۔ لائبریری کے لیے تقریباً سو کتابوں کی ایک فہرست اس کتاب کے آخر میں دی ہوئی ہے۔
اُستاد کو طلبا میں مطالعہ کی خواہش اور حوالہ کی کتابوں کے استعمال کی صلاحیت پیدا کرنا چاہیے۔ طلبا سے کہا جائے کہ وہ اپنی پڑھی ہوئی کتابوں پر مختصر تبصرہ تحریر کریں۔ طلبا کی ایک مختصر سی کمیٹی اُستاد کے ساتھ لائبریری کے کام میں تعاون کرنے کے لیے منتخب کی جائے۔ ایک ایسا با ہمی حوالہ جاتی انڈیکس رکھنا چاہیے جس میں کہ اساتذہ نے کتابوں میں دی ہوئی معلومات مختصراً نوٹ کر رکھی ہوں۔ یہ انڈیکس طلبا کو اپنے مطالعے میں مدد دے گا۔
سائنس کی لائیریری کو مختلف سیکشنوں میں تقسیم ہونا چاہیے اور ہر سیکشن میں مختلف ٹائپ کی کتابیں ہونا چاہئیں۔ سائنس لائبریری کی کتابوں کو ذیل کی شقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
.1 مجوزہ نصابی کتابیں
.2 ضمنی مطالعہ کے لیے اور تشویق پیدا کرنے والی کتابیں۔
تالاب میں پائی جانے والی حیات کے عجائبات
سمندر سے حاصل کی جانے والی پیداوار
علیم کیمیا کا رومان
سوانح حیات وغیرہ
در حقیقت ایسی کتابوں کی بہت کمی ہے اور چند جو میسر آتی ہیں وہ انگریزی زبان میں ہیں۔ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ ایسی کتابوں کا علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔
.3 پس منظر والی کتابیں:
چاند کی کہانیزمین کی کہانیانسانی (جسم کی) مشین
پنیسیلین کی کہانیدخانی انجن کی کہانی
.4 حوالہ کی کتابیں:
عام طور پر پائے جانے والے پرندےعام پیٹر پورے
سائنس کی ڈکشنری سائنس کی انسائیکلو پیڈیا
تاریخ سائنس
.5 عام پسندیدگی والے اور معیاری جرائد
اہم اور مفید جرائد سائنس کی لائبریری کا اہم جزو ہونا چاہئیں اور سائنس کے استاد کو طلبا کے ذہن میں ان کی افادیت بٹھانی چاہیے۔
سائنس کی نصابی کتابیں
پڑھنے پڑھانے کے عمل میں کتاب اہم امدادی سامان میں سے ایک ہے اور اسکول کے بچوں کی تعلیم میں اس کا محوری کردار رہا ہے۔ بھارت کے بیشتر اسکولوں میں، اور بیرونی ممالک کے بھی، تعلیم کا عمل ایک فقرے میں ادا کیا جا سکتا ہے’’ جیسی نصابی کتاب ویسی ہی تدریس اور تعلیم‘‘ لیکن بدقسمتی سے جو نصابی کتابیں ہے اس وقت لکھی جاتی ہیں معیار کے مطابق نہیں ہیں اور نصاب کی سختی سے پابند ہوتی ہیں اور اکائیاں یا اسباق کم ہی طلبا کی دلچسپیوں اور ضرورتوں کے گرد منظم اور مرتب کیے جاتے ہیں۔ سائنس کی نصابی کتاب کو طلبا کی شخصیتوں کی نشوونما میں معاون ہونا چاہیے۔ اُن میں ذہنی کشادگی، تنقیدی انداز، جو ان کے لیے نئی معلومات کے انکشاف میں معاون ہو، فطرت کی قدر شناسی اور اُس کے فہم اور اُسے اپنی ضروریات کے لیے ساتھ بنانے کے عمل کی نشو نما کرنا چاہیے نہ کہ صرف حقائق ذہن میں ٹھونسنا۔
’’ نصابی کتابوں کا سوال ہمارے ملک کے لیے سب سے اہم اور فوری ضرورت کا مسئلہ ہے۔ اسکوں کے لیے اعلیٰ درجہ کی نصابی کتابیں تیار کرنے کے لیے ریاستی اور قومی بنیاد پر موثر اقدام درکار ہے۔
ڈاکٹر ڈی ایس کوٹھاری
مقاصد
سائنس کی ایک اچھی نصابی کتاب تدریس سائنس کے مقاصد کو پورا کرنے والی ہونا چاہیے۔ ان میں سے بعض نیچے دیئے گئے ہیں:
.1 ایک اچھی نصابی کتاب کو سائنس کے بنیادی تصورات اور اصولوں کے صحیح فہم میں معاون ہونا چاہیے۔ بیشتر کتابیں جو ابتدائی، وسطانی یا فوقانی درجات کے لیے تجویز کی جاتی ہیں صرف حقائق کو بیان کر دیتی ہیں اور اگر اُستاد ایسی ہی کتابیں لفظ بلفظ پڑھتا رہے، درجے میں کسی قسم کی سرگرمی پیدا کرے اور نہ نصابی کتابوں میں دیتے ہوئے حقائق کو صحیح تصورات اور اصولوں کی شکل میں ڈھال کے پیش کرے تو نصابی کتابوں کا مقصد اس کے ہاتھوں فوت ہو رہا ہے اور وہ تعلیم کے مقصد کے حصول کے لیے بالکل کو شاں نہیں ہیں۔
.2 اسے طلبا میں سائنٹفک اندازفکر پیدا کرنا چاہیے اور سائنٹفک طریقہ کے فہم کی نشوونما کرنا چاہیے۔ اسے ذہنی کشادگی اور باہمی تعاون کا انداز پیدا کرنا چاہیے۔ کوئی بچہ جو کتاب کو سرسری طور پر دیکھے، سائنٹفک معلومات کے مال کی دُکان میں داخل ہونے پر راغب ہو جائے۔ اُسے اپنے چاروں طرف کی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی رغبت پیدا ہو جائے۔ اُسے دلچسپی کی راہیں کھولنا چاہیے، اور سائنس کے لیے مناسب انداز فکر اور اُس سے لگاؤ پیدا کرنا چاہیے۔ اُسے طلبا کو کسی مسئلہ کے حل کا طریقہ بتانا چاہیے۔ ہر بچہ کو روزمرہ کی زندگی میں کچھ مسائل پیش آتے ہیں۔ اگر بچہ، جب تک وہ اسکول میں رہتا ہے، کسی مسئلہ سے سائنٹفک انداز سے نبرد آزما ہونے کی عادت ڈال لیتا ہے تو وہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا سامنا بڑے اعتماد سے کرے گا۔ اس طرح تعلیم کا مقصد کہ نوخیز نسلوں کو زندگی کے لیے تیار کیا جائے، آپ سے آپ پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے اُستاد کو پہلے سے منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ مضمون کے مواد کو اس تکنیک کے مطابق ڈھال سکے۔
سائنس کی نصابی کتاب کو، مناسب مشقوں کے ذریعے، بچے کو سائنٹفک معلومات سے اس کے وسیع اور متنوع انطباقات کے ساتھ روشناس کرانا چاہیے۔
.3 اسے بعض مہارتوں کی نشوونما کے مواقع فراہم کرنا چاہیے۔ یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے اگر استاد طلبا کو تجربہ گاہ میں آلات سے کام لینے کے مواقع مہیا کرے۔ ان مہارتوں کی مشق کے لیے بھی انتظامات ہونا چاہئیں۔
.4 سائنس کا موجودہ نصاب اس قدر بھاری ہے کہ طلبا ہر کام تجربہ گاہ میں بالراست تجربہ سے نہیں سیکھ سکتے۔ پس یہ آج کے دور کی اولین ضرورت ہے کہ نصابی کتاب اُس بہت کم تجربی عمل کی تکمیل کرے جو درجہ میں کرنا ممکن ہے۔
.5 اُسے درجہ میں ہونے والے مذاکرات کو صحیح نتائج تک پہنچانے میں رہنمائی کرنی چاہیے، اُسے گزشتہ دور میں ہونے والے انکشافات کے بارے میں بھی معلومات دینا چاہیے اور سائنسدانوں کے بعض سنسنی خیز تجربات کی روداد بھی۔ اُسے تجربے اور مسائل کے حل کے لیے ہدایات دینی چاہئیں۔
.6 اُسے اُن اسباق کے سلسلہ میں جو طلبا ختم کر چکے ہوں اُن کے تیزی سے اور منظم انداز سے اعادہ میں معاونت کرنا چاہیے۔
سائنس کی ایک اچھی نصابی کتاب کی خصوصیات
ہم مستثنیات علاقائی زبانوں میں تمام اچھی نصابی کتابوں کی شدید ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ چند مستثنیات کے علاوہ ہمیں بہت ہی پست معیار کی کتا بیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نہ صرف میکانیکی خصوصیات جیسے تیاری و تزئین، کاغذ طباعت وغیرہ کا معیار پست ہوتاہے بلکہ مضمون سے متعلق مواد کو پیش کرنے کا اندازہ اور زبان کی روانی بھی ناقص ہوتی ہیں۔ اس سے مصنفین کی کسی قدر سرد مہری اور معاشرتی شعور کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔ بیشتر مصنفین کتابیں دولت کمانے کی غرض سے لکھتے ہیں اور بچوں کی صلا حیتوں اور دلچسپیوں کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ دوسرے کمیت کو کیفیت پر ترجیح دینے کا رحجان عام ہے۔ مزید برآں، مصنف کے پاس وقت کی بہت کمی ہوتی ہے۔ اسے بمشکل چند ماہ نصابی کتاب لکھ کر پیش کر دینے کے لیے ملتے ہیں۔ اس سے نصابی کتاب کی خوبی پر اثر پڑتا ہے۔ مصنفین ایک پیرا ایک کتاب سے چراتے ہیں اور دوسرا دوسری کسی کتاب سے۔ اُن میں اپچ اور نئی فکر کی روح بازاری مقابلے نے بالکل فنا کر دی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نصابی کتابوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بعد ہی انھیں داخل نصاب کرے۔ بہر حال سائنس کی ایک اچھی کتاب کے لیے کچھ معیارات ہیں۔ ان کی نیچے دی ہوئی شقوں کے تحت درجہ بندی کی جا سکتی ہے:
.1 مصنف: اس کی علمی لیاقت اور تجربہ
صرف اسی مصنف کو، جو مضمون کی تدریس کا کچھ تجربہ رکھتا ہے۔ کتاب شائع کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ تعلیمی صورت حال کو اُس کی حقیقی شکل میں اور طلبا کی دشواریوں کو سمجھ سکتا ہے۔ مز ید برآں وہ تدریس کے بدلتے ہوئے تصورات اور تکنیکوں سے واقف ہوتا ہے۔
مصنف کے لیے کچھ کم سے کم علمی لیاقت کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ نامور مصنفین کے نام سے کتابیں لکھنے جانے کا طریقہ ختم ہونا چاہیے۔
.2 کتاب کے میکانیکی خدو خال
(i) نصابی کتاب کی طباعت، استعمال ہونے والا کاغذ اور جلد بندی جاذب نظر ہونی چاہیے۔ حروف یا ٹائپ کا سائز طلبا کی عمر کے مطابق ہونا چاہیے۔
(ii) کتاب کو شکلوں، خاکوں اور تصویروں وغیرہ سے اچھی طرح مزین ہونا چاہیے شکلیں، خاکے، تصویریں وغیرہ نصابی کتاب کا معیار بلند کرنے، اس کو زیادہ جاذب نظر اور مفید بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جیسا کہ ایک چینی مقولہ ہے: ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر قدرو قیمت رکھتی ہے۔ لیکن اسے مطلق صداقت کی حیثیت سے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ شکل یا تصویر کتاب میں اپنی مناسب جگہ پر ہو۔ تاکہ وہ جس مقصد کے لیے بنی ہے وہ پورا ہو سکے۔
.3 مضمون کا مواد: اُس کی نوعیت اور تنظیم و ترتیب
(i) مضمون سے متعلق مواد جہاں تک ممکن ہو نفسیاتی ترتیب سے مرتب ہونا چاہیے۔ طلبا کے ذہنی نشو و نما اور ان کی دلچسپیوں کا لحاظ بہت ضروری ہے۔
(ii) مضمون کے مواد میں تضاد فکری نہ پایا جائے اور نصابی کتاب تدریس سائنس کے مقاصد کو پورا کرتی ہو۔ اس سے سائنٹفک انداز ہائے فکر، نظم و ضبط اور تمدنی اقدار حاصل ہونے چاہئیں اور طلبا کے لیے پروجیکٹ یا سرگرمیاں تجویز کرنی چاہئیں۔ جن سے اصولوں اور تصورات کے فہم میں امداد ملے۔
(iii) ایمنی ہر باب ایک مختصر تمہید سے شروع ہو اور تلخیص پر ختم ہو۔
(iv) ہر باب میں اس کے اختتام پر تفویضات ہونی چاہئیں جو نیچے دی ہوئی ضرورتوں سے مطابقت رکھتے ہوں:
(a) زندگی میں پیش آنے والی صورت حال سے انطباقات
(b) خود اپنی پیمائش قدر کے لیے نئے ٹائپ کی جانچیں۔
(c) پروجیکٹ کے تجربی عمل کے لیے تجاویز
(d) مزید مطالعہ کے لیے تجاویز
(e) جہاں مناسب ہو حسابی مثالیں۔
(v) سرخیاں اور ذیلی سرخیاں جلی حروف میں ہونا چاہئیں۔ مواد کو مناسب انداز سے اور متنوع اور میری شکل میں پیش کرنا چاہیے۔
(vi) ہر نصابی کتاب میں ایک تفصیلی فہرست مضامین اور انڈیکس (اشاریہ) ہونا چاہیے۔
(vii) کتاب صاف، سادہ اور صحیح سائنٹفک زبان میں لکھی جانی چاہیے۔ سائنٹفک اور تکنیکی اصطلاحات کے لیے معیاری اصطلاحی الفاظ استعمال ہونے چاہئیں۔ قوسین میں انگریزی کی متبادل اصطلاحات بھی دی جائیں۔ کتاب میں استعمال کردہ اصطلاحات کی ایک فرہنگ بھی اس میں دی جانی چاہیے۔ اسے زبان کی اصطلاحات اور معلومات میں سے ہر قسم کے ابہام سے چاک ہونا چاہیے۔
(viii)اس میں پڑھنے کے کچھ اچھے طریقے تجویز کیے گئے ہوں۔
(ix) اس میں سائنس کے سامان کی تیاری اور اسے بہتر بنانے کے لیے مفید اور عملی تجاویز دی گئی ہوں۔
(x) بہتر ہو کہ کتاب میں مثالیں مقامی ماحول سے دی گئی ہوں۔ زور ان طریقوں اور موادوں پر دیا گیا ہو جو سماجی ذرائع اور اسکول کی سوسائٹی کے باہمی عمل سے لیے گئے ہوں۔
(xi) اس میں جنرل سائنس کو فن اور حرفے، سماجی ماحول اور طبعی ماحول سے مربوط کرنے کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔
(xii) ہر نصابی کتاب کے ساتھ ایک تجربہ گاہ کا کتابچہ یا مینول بھی ہونا چاہیے۔
متذکرہ بالا اصولوں کے علاوہ یونیسکو منصوبہ بندی کمیشن نے روس کی سوشلسٹ جمہوریہ اور دوسرے ملکوں میں نصابی کتابیں لکھنے کے لیے کچھ اصول دئیے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں سفارشات کی ہیں کہ:
(i) اسے سب سے پہلے نصابی ضروریات معلوم ہونی چاہئیں۔ اُسے نصاب کو بہتر بنانے میں بھی معاون ہونا چاہیے۔
(ii) حقائق، تصورات وغیرہ جدید ہونا چاہئیں اور طلبا کے فہم کی حدود میں۔
(iii) اسے سائنس کو زندگی اور اس کے اعمال سے وابستہ کرنے والا ہونا چاہیے۔ طلبا کو مختلف سائنٹفک طریقوں کا عملی علم ہونا چاہیے اور روز مرہ کی زندگی میں اس علم کو استعمال کرنے کی صلاحیت۔
(iv) کتاب کے مافیہ میں نہ صرف مسلمہ حقائق ہونا چاہیے بلکہ وہ مسائل بھی جن پر تحقیق ہو رہی ہو اور اس طرح وہ طلبا میں ان مسائل کے لیے دلچسپی پیدا کرنے والی ہو۔
(V) کتاب کے مافیہ کا مقصد جدیدیک جہت سائنٹفک عالمی نقطہ نظر پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ جس سے سائنٹفک معلومات کے حصول اور انتہائی اہم مسائل کے حل میں کامیابی مل سکے۔ مافیہ سادہ، مختصر، ٹھیک ٹھیک، متعین اور پڑھنے والوں کی رسائی کی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
پس ایک اچھی نصابی کتاب کو، جہاں تک ممکن ہو، اوپر دیے ہوئے معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔ تاہم اسے اُستاد کی جگہ نہیں لینی چاہیے بلکہ وہ کم سے کم معلومات فراہم کرنا چاہیے جو بنیاد کے لیے کافی ہوں۔ گاندھی جی کی رائے تھی کہ نصابی کتابیں بالکل نہیں ہونا چاہئیں اور طلبا کو اُستاد کی مددسے نصابی کتابیں خود مرتب کرنا چا ہئیں۔ لیکن بچوں سے اس کی توقع بہت زیادہ ہوگی۔ سائنس کی اچھی نصابی کتابیں سائنس کی موثر تدریس کے لیے ناگزیر ہیں۔
نصابی کتابوں کی پوزیشن
ابھی تھوڑے دنوں پہلے تک اسکولوں میں نصابی کتابوں کی صورت حال بہت ہی حوصلہ شکن تھی— نیشنل کاؤنسل آف ایجو کیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (تعلیمی تحقیق و تربیت کی قومی مجلس) کے قیام کے ساتھ اچھی نصابی کتابیں تیار کرنے کا کام نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔ نیشنل کاؤنسل اپنی خاص ایجنسی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (قومی تعلیمی ادارہ) اور چار علاقائی تعلیمی (تربیتی) کالجوں کے ذریعہ کام انجام دیتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجو کیشن کے گیارہ شعبے ہیں جن میں سائنسی تعلیم کا شعبہ اور نصاب، طریقوں اور نصابی کتابوں کے شعبے شامل ہیں۔ یہ شعبے سائنس کی تدریس کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں عموماً اور نصابی کتابوں کے لیے خصوصاً اچھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تعلیمی لٹریچر کی مرکزی کمیٹی نے 13 اسکولی مضامین کے لیے ماہرین کی جماعتیں (پینل) اور ایڈیٹوریل بورڈ قائم کیے ہیں۔ یہ کتابیں انگریزی اور ہندی میں تیار ہوتی ہیں اور اس کے بعد ریاستی حکومتوں کے زیر اہتمام علاقائی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے ہیں۔ نیشنل کاؤنسل نے، تعلیمی لٹریچر کی مرکزی کمیٹی کے تحت، اسکولوں کے لیے نمونہ کی نصابی کتابیں اور ضمنی تعلیمی مواد تیار کرنے کے لیے ماہرین کی جماعتیں (پینل) اور ایڈیٹوریل بورڈ قائم کیے ہیں۔ بصورت موجودہ طبیعات، ریاضی اور کیمیا کے لیے تین ایڈیٹوریل بورڈ ہیں اور حیاتیات کے لیے ایک ماہرین کی جماعت۔ یہ بورڈ اور پینل اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہیں اور نامور سائنسدانوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ طبیعات، ریاضی اور کیمیا کے ایڈیٹوریل بورڈ علی الترتیب ڈاکٹر اے آر ورما، ڈائرکٹر آف نیشنل فزیکل لیبار یٹری، ڈاکٹر ٹی آر سیشاوری، ایف آر ایس پروفیسرایمریٹس دہلی یونیورسٹی اور ڈاکٹر جے این کپور، صدر شعبۂ ریاضی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کانپور کے تحت کام کرتے ہیں۔ حیاتیات کا پینل آنجہانی ڈاکٹر پی مہیشوری ایف آر ایس پروفیسر اور صدر شعبۂ نباتیات دہلی یونیورسٹی کے تحت کام کرتا تھا۔
ان ایڈیٹوریل بورڈوں اور پینلوں نے گزشتہ چند سالوں میں قابل لحاظ کام انجام دیا ہے۔ ہائر سیکنڈی درجات کے لیے حیاتیات کی نصابی کتاب انگریزی اور ہندی میں شائع کی جاچکی ہے۔ طبیعات، ریاضی اور کیمیا میں بھی کتابیں مل سکتی ہیں۔ اچھی طرح تجربہ میں آئی ہوئی کتابوں جیسے پی ایس ایس سی کی نصابی کتب، بی ایس سی ایس کی نصابی کتب اسکول میتھمیٹکس اسٹڈی گروپ (اسکولی ریاض پر غور کرنے والا گروپ) وغیرہ کی نصابی کتابوں کے سستے ہندوستانی ایڈیشن شائع کیے گئے ہیں۔ یہ کتابیں خاصی سستی بھی ہیں اور جدیدبھی، اور اس لائق ہیں کہ اُستاد اور اسکولوں کی لائیر یریاں انھیں خرید کر کاممیں لائیں۔
ماخذ: سائنس کی تدریس، مصنفین: ڈی این شرما، آر سی شرما، مترجم: غلام دستگیر، چھٹی طباعت: 2011، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی