اردو دنیا،نومبر 2025:
شیام سندر بینگل کو ان کے مداح شیام بابو کے نام سے بلاتے ہیں جنھیں متوازی سنیما (Parallel Cinema) کے پیش روکے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے ۔نیا سنیما یا متوازی سنیما جس کا سرچشمہ یاگنگوتری بنگال کی سرزمین ہے جہاں سنیما محض ایک فن یا آرٹ کے دائرے سے باہرنکل کر سماجی اقدار اور سماجی سروکار کواپنے یہاں جگہ دینے لگا۔ بنگال میں ستیہ جیت رے جس وقت سنیما سازی میں مصروف تھے ان کے ہمراہ مرنال سین، رِتوِک گھٹک،ومل رائے اور تپن سنہا جیسے ہدایت کار اور فنکار بھی اسی جانب اپنے اپنے قدم بڑھا رہے تھے۔ ان فلم سازوں نے اپنی فلموں میں انسانی اقدار کو بڑی اہمیت دی۔ متوازی سنیما فرانس کے نیو ویو سنیما (New wave Cinema)یا اٹلی کے نیو ریلزم(New Realism) کے جیسا حقیقت پسندانہ رنگ و آہنگ رکھتا ہے۔ سنیما کے متعلق بھارت رتن اورآسکر ایوارڈ یافتہ ہدایتکار ستیہ جیت رے کا خیال ان کے ہم عصر فلم سازوں سے قدرے مختلف تھا۔ان کی فلم سازی کا نظریہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ سنیما کو دولت اور شہرت کی نگاہ سے نہیں بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں، محرومیوں، ناکامیوں اور جدو جہد کی نگاہ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ستیہ جیت رے کو اگر متوازی فلموں کا بنیاد گزار شمار کر لیں تو اس کی آخری کڑی شیام بینیگل ہیں۔ ستیہ جیت رے اسکول کے پروردہ شیام بینگل کا جنم ویسے تو دکنی ریاست حیدرآباد میں 14 دسمبر 1934 کوہوا لیکن ان کی فلم سازی کے شوق اور جنون نے انھیں حیدرآباد سے نکال کر بمبئی کی چمکتی دمکتی فلم نگری میں لا کھڑا کیا۔ وہ ایک خود ساز فنکار تھے جنھوں نے ہدایت کاری یا فنکاری کے لیے کسی اسکول یا ادارے کا رخ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنی نظر اور نظریے کو اپنا رہنما یا استاد بنایا۔ جس طرح ستیہ جیت رے کے متعلق یہ مشہور ہے کہ ان کے دماغ میں کسی بھی فلم کا ایک ایک منظر، کردار، لوکیشن، کاسٹیوم، سیٹ وغیرہ سب روشن رہتا تھا اور فلم سازی سے قبل کافی ہوم ورک کر کے تب میدان میں اترتے تھے اسی طرح شیام بابو بھی فلم سازی سے قبل کی تمام باریکیوں پر بہت قریبی نگاہ رکھتے تھے۔اس قسم کے لوگ فقط اکہری صلاحیت یا فن کے ماہر نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ متعدد فنون کے پارکھ اور گوں نا گوں صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ سنیما یوں بھی متعدد فنون کا مجموعہ کہلاتا ہے جس میں فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، موسیقی، مصوری، پینٹنگ، اسکرپٹ، اسکرین پلے، کاسٹیوم ڈیزائننگ، سیٹ ڈیزائننگ اور اداکاری جیسے فنون شامل ہیں۔ان تمام فنون کو بڑی ہی باریکی سے ایک دھاگے میں پروتے ہوئے اسے جانچنا اور پرکھنا ہوتا ہے کہ سین اور سیٹ کے لحاظ سے کیا مناسب ہے اور کیا غیر مناسب۔
اپنی فلمی زندگی کی ابتدا انھوں نے اپنے والد کی فوٹوگرافی کی دوکان سے کی جس میں شیام کو بہت دلچسپی تھی۔فوٹو گرافی بھی ایک آرٹ ہے جس میں کیمرے کے ذریعہ انسان، اشیا، چرند پرند کو کسی ایک خاص لمحے میں کیپچر(Capture) کرتا ہے۔ مثلاً انسان کے موڈ جیسے خاموشی، ہنسی، درد، بے قراری جیسی کیفیات کو کیمرے کے ذریعہ گرفت میں لینا ہوتا ہے۔عثمانیہ یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کرنے کے باوجود شیام بینگل کی دلچسپیوں نے اپنی منزل کا تعین کر لیا تھا کہ آگے انھیں کیا کرنا ہے۔شیام بینگل اور مشہور ہدایت کار فنکار گرودت خالہ زاد بھائی تھے یعنی شیام بابو کی ماں اور گرودت کی ماں دونوں سگی بہنیں ہیں۔اکثر گرمیوں کی چھٹیوں میں گر ودت حیدرآباد آتے تھے تو ان سے فلمی دنیا کی باتین سن سن کر شیام کے من میں بھی فلم سازی کابھوت سوار ہوگیا اور ایک دن وہ اپنے خواب کو تعبیر بنانے کے لیے ممبئی آگئے۔
ممبئی میں شیام بینگل نے ابتدا میں چند ایک ایڈورٹائزنگ یا اشتہاری فلمیں بنائیں جس سے ان کے ہدایتکاری کے فن کو سنورنے کا موقعہ ملا۔اسی دوران شیام کو پونے میںواقع فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (Film and Television Institute of India, FTTI)میں درس و تدریس کا بھی موقعہ ملا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں متعدد اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے فنکاروں کی ایک نئی پود سے آشنائی اور روشناسی ہوئی۔شیام بینگل نے پونے میں فلم انسٹی ٹیوٹ میںاس وقت زیر تربیت طلبا جن میں نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی، اوم پوری، کلبھوشن کھربندہ، اسمتا پاٹل،دویا دتا اور امریش پوری جیسے اداکار وں کو لے کر ان پر خوب محنت کی، اپنی فلموں کی اسکرپٹ اور کہانیوں کے مطابق ان کی تراش خراش کی اورانھیں سنوارا۔
ترقی پسند تحریک اور متوازی سنیما کی تحریک میں بڑی یکسانیت نظر آتی ہے۔متوازی سنیما کی اساس جن مرکزوں اور نقطوں پر قائم کی گئی تھی ایسا لگتا ہے کہ اس کے اغراض و مقاصد میں ترقی پسندی کا خون پسینہ لگا ہے۔ ہمارے یہاں ترقی پسند تحریک کی ابتدا باضابطہ طور پر لکھنؤ میں ترقی پسند مصنّفین کی پہلی کانفرنس سے ہوئی جو کہ ’رفاہ عام کلب‘ میں 1936 میں ہوئی۔ جس میں اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی اور اس کے منشور کو عیاں کیا گیا اور ادب کے مستقبل کی سمت و رفتار معین کر دی گئی۔اس تحریک کے ایام ِشباب میں ہی بنگال میں نیو ویو سنیما یا متوازی سنیما کے لیے زمین ہموار کی جارہی تھی تاکہ سنہرے رنگ برنگے خوابوں اور دلکش خیالوں والے مین اسٹریم سنیما میں سماجی موضوعات پر بھی کم بجٹ میں سنیما سازی ہو سکے۔ ترقی میںحاشیے پر پہنچے عوام کے روزمرہ کے بنیادی مسائل پر بھی کیمرے کی نظر جائے اس لیے پچاس کی دہائی میں اس نظریے کے ہدایتکاروں نے سماجی سروکار پر مبنی فلمیں بنانا شروع کردی۔ ہماری مین اسٹریم فلمیں جن کو عرف عام میں کمرشیل سنیماکہتے ہیںان میں میلو ڈراما اورچکاچوند بہت ہوتی ہے اس کے میلو ڈرامائی ذائقے کو بدلا گیا اور چمک دمک کو مدھم کیا گیا تاکہ وہ چہرے اور وہ حقیقتیں بھی نظر آنے لگیں جن کو ہمارے مین اسٹریم سنیما نے اپنی سنیمائی چکاچوندھ کے پردے میں چھپا رکھا تھا۔ یہاںہر ایک شے کو اس کی حقیقت سے دور جاکر اس شے کو دلکش، جاندار،شاندار اور سحر آفریں بنا کر پیش کیا جاتا ہے خواہ وہ سیٹ ڈیزائن،اسٹوڈیو، انڈور لوکیشن، آؤٹ ڈور لوکیشن اورکاسٹیوم غرض کہ ہر ایک شے کے جمالیاتی پہلو کو خوب اجاگر کیا جاتا ہے۔کہانیوں میں بھی مرکزی کردار کو اکثر زندگی سے بڑا بنا کر پیش کیا جاتا ہے یعنی انسان ایسی فلموں کو دیکھ کر اپنی زندگی کی تلخیوں، محرومیوں اور ناکامیوں کو بھلا کر کچھ دیر ہی سہی خواب و خیال کی وادیوںمیں کھو جاتا ہے جسے فنطاسی کہا جاتا ہے۔ یہ بہت بڑے بجٹ کی فلمیں ہوتی ہیں جن کا اپنا تجارتی اور کاروباری رجحان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس متوازی سنیما یا الٹر نیٹیو سنیما میں ہر ایک شے کو اس کے حقیقی پس منظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے حد یہ ہے یہاں فلموں کے کردار بھی کھردرے، بے رنگ و بے کیف نظر آتے ہیںورنہ سنیما میں تو فقط حسین و جمیل اور روشن چہروں کی ہی گنجائش ہوتی ہے کیونکہ فلم کے جمالیاتی پہلو کو ہر جگہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں جب ستیہ جیت رے نے پہلی فلم’ پاتھیر پنچالی ‘ (راہ کا نغمہ) بنائی جس کا موضوع بنگال کے غربت زدہ ایک کنبے کی کہانی ہے جو نہایت ہی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے فلم میں اپّو اور اس کی بہن درگا اپنے غربت زدہ شب و روز کو کسی طرح گزر بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالات اس وقت تبدیل ہوتے ہیں جب ان کاباپ ہریہر نوکری کرنے کے لیے شہر جاتا ہے۔ اس فلم کو متوازی سنیما کی بنیاد کا پتھر تسلیم کیا جاتا ہے فلم کو نیشنل ایوارڈ ملا اور ستیہ جیت رے کو بعد میں ریلسٹک سنیما میں تعاون کی وجہ سے سنیما کا سب سے بڑا اعزاز ’آسکر ایوارڈ‘ ملا۔ وہ پہلے ایسے ہدایت کار ہیں جن کو حقیقت پسندانہ فلموں کے لیے سنیما کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا گیا۔ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ ستیہ جیت رے نے ہندوستان کی غربت اور بد حالی کو دنیا کو دکھایا ہے جس کی وجہ سے ان کے حصے میں بہت سے انٹرنیشنل ایوارڈ آئے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ بہت سارے ایسے قلم کار بھی اس الزام سے بچ نہیں پائیں گے جن کی کہانیوں اور ناولوں میں غربت، بدحالی، فاقہ کشی کی تصویر نظر آتی ہے تو کیا کہانی کار ان حقائق سے منھ موڑ لے اور صرف اور صر ف ہماری آنکھوں کے سامنے خوبصورت مناظر ہی پیش کرے۔
ومل رائے نے اس سے پیش تر1954 میں ’دو بیگھہ زمین‘ بنائی جوکہ ایک غریب حال کسان شمبھو مہتو کی کہانی ہے جو اپنی دوبیگھہ زمین بچانے کے لیے اسی طرح جدو جہد کرتا ہے جیسے پریم چند کے ناول ’گئو دان‘ کے مرکزی کردار ہوری اپنے دو بیلوں کو بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ ہوری ایک گائے کا سپنا دیکھتا ہے لیکن قرض، غربت، تنگ حالی و تنگ دستی نیز مہاجنی نظام اس کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتے ہیں۔ ہندوستان کی دیہی زندگی، زمیندارانہ اور مہاجنی نظام اور سماجی ناانصافی کی ایک جیتی جاگتی تصویر گئودان میں نظر آتی ہے۔شمبھو کی زندگی اس وقت اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتی ہے جب اس کی زمین پر ایک زمیندار قابض ہو جاتا ہے۔فلم میں شمبھو کے کردار کو اپنے زمانے کے مشہور اداکار بلراج ساہنی نے ادا کیا جب کہ اس کی بیوی پاروکا کردار اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ نروپما رائے نے ادا کیا۔یہ فلم بھی ستیہ جیت کی فلم کے مانند لیبر مائیگریشن یعنی مزدوروں کی ہجرت کے کرب کو بیان کرتی ہے۔
جس وقت شیام بینگل سن شعور کو پہنچ رہے تھے اس وقت تلنگانہ میں کسان اور مزدور تحریک اپنے شباب پر تھی۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے ملک کے کاشت کاروں کی زبوں حالی اور کسمپرسی کا مشاہدہ کیااور ان کی آواز بننے کی کوشش کی۔ان کسانوں کی زبوں حالی جو کہ زمیندارانہ نظام کے مارے ہوئے تھے اس نظام کی خامیوں اور کمیوں کو اجاگر کیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان آزادی کے بعد کافی بدل چکاہے لیکن کسان، مزدور اور محنت کش طبقے کے حالات نہیں بدلے۔ہمارا سماج ذات پات، چھواچھوت، اونچ نیچ،بے جا رسم و رواج، توہم پرستی کی زنجیروں سے ابھی تک آزاد نہیں ہو سکا ہے۔شیام بنیگل ایک ایسے سماج کی آواز بننا چاہتے تھے جس کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔اسی ادھیڑ بن میں1973 میں انھوں نے اپنے کیرئر کی پہلی فلم ’انکُربنائی‘ جس کے معنی بیج سے پھوٹی ہوئی شاخ کے ہیں۔ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ شیام بابو ایک ایسے فلم ساز ہیں جنھوں نے فلم کی تعبیر و تشریح ہی بدل ڈالی۔ ستیہ جیت رے، راج کپور اور گرودت کے بعد وہ ایک ایسے فلم ساز ہیں جنھوں نے اپنی شرطوں پر فلم بنائی، اپنی کہانی بنائی اور من پسند موضوعات کا انتخاب کیا۔’انکر ‘ کی کہانی اور اسکرپٹ انھوں نے خود تیار کی اور اس کو اپنے انداز میں ناظرین کے سامنے پیش کیا۔
دنیا بھر کا تمام ادب اورفنون لطیفہ ہمیشہ اداروں، تحریکوں اوررجحانوں کے پرچم تلے پروان چڑھتا ہے جو فن پاروں کو پرکیف، پر لطیف، پر شعوراور روح پرور بناتے ہیں۔ تحریکیں اور رجحانات ہم عصر سیاسی، سماجی، ثقافتی، معاشی، قومی، بین الاقوامی اور عالمی پیمانے پر رونما ہونے والے واقعات اور حادثات سے فیضان اور سبق حاصل کرتے ہیں اور اپنی بقا کے ساتھ ساتھ ترقی کا سفر جاری رکھتے ہیں۔ فرانس کا نشاۃ الثانیہ، فورٹ ولیم کالج، دلی کالج، علی گڑتحریک سے لے کر ترقی پسند تحریک اور جدیدیت تک کا ہمارا ادبی سفر بڑا ہی دلچسپ اور روح پروررہا ہے۔ ان سب کی رہنمائی اور مشعل برداری میں ہمارے ادب کا کاروں آگے بڑھتا رہا ہے۔ کچھ تحریکیں یا رجحانات کے اثرات فقط ادب تک ہی محدود رہے ہیں اور کچھ تحریکوں نے ادب کے ساتھ ساتھ ذریعۂ اظہار کے دیگر میڈیم یا فنونِ لطیفہ کی دیگر اقسام پر اپنا اثر ڈالا ہے۔ان میں سب سے منظم، توانا اور شعوری تحریک ترقی پسند تحریک رہی ہے جس نے نہ صرف یہ کہ ہمارے ادب کے سوچنے اور سمجھنے کی پرانی روش کو تبدیل کر ڈالا بلکہ اس تحریک کے اثرات سے فن کے دیگر شعبے جیسے ڈرامہ، تھیٹر، مصوری، پینٹنگ اور سنیما پر بھی رونما ہوئے۔ترقی پسند تحریک کے اغراض و مقاصد اور اس کے منشورکومرکزی نقطہ بناتے ہوئے ہمارے ادبا اور شعرا نے ادب کے مزاج اور ذائقہ کو بدلا۔ اس طرح ادب محض ایک تفریح طبع کا سامان نہ ہو کر ا س سے اور بھی کام اور پیغام لینے کی وکالت کی گئی۔ادب جو ابھی تک درباروں،رنگ برنگی محفلوں، خانقاہوں، جاگیرداروں، زمینداروں اور فرمارواؤں کے قصیدے پڑھنے کا عادی تھا اسے عام انسانی زندگی کی حقیقتوں، تلخیوں، ناکامیوں، محرومیوں، مجبوریوں، بغاوتوں اور انقلابوں سے روشناش کرایا گیا۔ ترقی پسند تحریک واحد ایسی تحریک رہی ہے جس نے بہ یک وقت نہ صرف یہ کہ ادب کی دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا بلکہ ہندی، انگریزی، تمل تیلگو، گجراتی، مراٹھی، بنگالی اور پنجابی سمیت دیگر زبانوں میں بھی اس کے اثرات شعوری طور پر دیکھے گئے۔ان تمام زبانوں کے ادبا و شعرا نے اس تحریک کے اغراض و مقاصد کو ادب میں اس طرح ڈھالا کہ ادب کی دنیا میں جو ایک جماد اور ٹھہراؤ کی کیفیت طاری تھی اس میں تازگی، ندرت اور شگفتگی کا احساس ہونے لگا۔ ڈرامے اور تھیئٹر کے متعلق بات کریں تو تحریک کے پرچم تلے حبیب تنویر، بھیشم ساہنی، بلراج ساہنی جیسے فنکاروں نے اس تجربے کو عام کیا وہیں پینٹنگ کے شعبے میں مقبول فدا حسین، ایف این ڈسوزا،جتن داس و دیگر نے اس تحریک کو آگے بڑھا یا۔
سنیما میں بھی اس تحریک کے بھرپوراثرات مل جاتے ہیں۔ سنیمائی اداکاروں، قلم کاروں، کہانی کاروں، ہدایت کاروں اوردیگر فن کاروں کی پوری جماعت اس تحریک کے ذریعہ فلم کی کہانی، موسیقی اور نغمگی کی دنیا میں انقلاب برپا کر رہی تھی۔ ساحر لدھیانوی،کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری،اخترالایمان، راہی معصوم رضا، عصمت چغتائی، شاہد لطیف، خواجہ احمد عباس اورکرشن چند وغیرہ نے اپنی اپنی مہارت کے شعبوں میں اس تحریک کی آبیاری کی۔ اس سے قبل ہمارا مین اسٹریم سنیما اس قسم کی لذتوںاور ذائقوں سے ناآشنا تھا۔ جس وقت ہندوستان کی آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی ایسے میں بنگال جو کہ ادب، آرٹ، کلچر، ڈرامہ،سنیما اور فنون لطیفہ کا گہوارہ تھا وہ بھی سیاسی،سماجی اور شعوری طورپر متعدد تحریکوں سے دوچار تھا۔جس وقت ہندوستان کا ایک نئے میڈیم یعنی سنیما کے سحر میں کھویا ہوا تھا اس وقت بنگالی فن کاروں نے اس طاقتوراور عمومی ذریعہء اظہار سے کچھ اور کام لینے کی ٹھان لی اور نیا تجربہ کرنے کا من بنالیا۔سیاسی اور سماجی انتشار نے بنگال کو مزید پسماندگی کی جانب ڈھکیل دیا۔یہاں ایک بات جس کی جانب اشارہ بہت ضروری ہے کہ متوازی سنیما یا نیو ویو سنیما کا مطلب قطعی ایسا نہیں ہے کہ یہاں فقط اور فقط سنجیدہ اور غور و فکر کرنے والے مسائل ہی اٹھائے جاتے ہیں اور ان میں تفریح یا انبساط کا کوئی پہلو ہی نہیں ہوتا ہے کوئی گیت، سنگیت، سر تال، لے یا موسیقی جیسی کوئی روح پرور شے کا یہاں گزر نہیں ہوتا ہے بلکہ ایسی فلموں میں اصلیت یا اوریجنیلٹی پر بہت زور دیا جاتا ہے اور یہ لو بجٹ کی فلمیں کہلاتی ہیںجن میں سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور افراد پیسے لگاتے ہیںجس کا مقصدکامرشیل نہیں ہوتا ہے۔ایسی فلموں میں شوٹنگ کے دوران برسات، بادل، پانی، ہوا، آندھی طوفان، چرند پرند کی متعدد آوازیں سب کو حتی الامکان ان کی اصلی شکل و صورت اور صوت میں کیمرے میں قید کرنا ہوتا ہے۔ کرادروںکے میک اپ، سیٹ کی خوبصورت ڈیزائننگ، دلفریب لوکیش اور ڈریس اور پہناوے پر اتنی زیادہ جمالیاتی توجہ نہیں دی جاتی ہے جتنا کہ مین اسٹریم فلموں میں دی جاتی ہے۔ اپنی فلم سازی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں متوازی سنیما کی تعریف شیام بینیگل نے ناقدین کی آرا سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اپنے انداز فکر کی وضاحت یوںکی ہے:
’’ پیرلل (Parallel Cinema)سنیماکا مطلب یہ نہیں ہے کہ مین اسٹریم سنیما ہے ہی نہیں اور ایسی فلموں میں کوئی تفریح نہیں ہو سکتی ہے لیکن میں ایسا نہیں مانتا ہوں۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ اسے Alternate Cinemaکہہ کر پکاریں۔ یعنی مین اسٹریم سنیما کا ایک متبادل۔‘‘
اس قسم کی فلموں کی پروڈکشن کاسٹ یا لاگت مین اسٹریم فلموں کے مقابلے کم ہوتی ہے۔ہماری حکومت نے سنیما کے معیاری اور امتیازی مقاصد کو نظر میں رکھتے ہوئے 1975 میں نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام کیا تاکہ ہندوستانی سنیما کے معیار کو عالمی پیمانے پر پہچان دلائی جا سکے۔اس مقصد کے تحت اس نے فلم میں مالی تعاون، پروڈکشن اور ڈسٹریبیوشن کو وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت منظم کیا۔حکومت کے اس اقدام کے سبب وہ لوگ بھی فلمیں بنانے لگے جو برسوں سے فلم سازی کے خواب سجائے ہوئے تھے کیونکہ مین اسٹریم سنیما میں فقط چند ہی لوگوں کی اجارہ داری ہے یعنی وہی ڈسٹریبوٹر، فائننسر اور ڈائریکٹر و ایکٹرکا گروہ۔ اب ایسے میں سنیما سازی میں نئے قدم رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ کوئی مقام رہ ہی نہیں جاتا ہے۔حکومت کا مقصد کسی بھی شعبہ میں کام کرنے والے خواہش مند کے لیے ایسے مواقع مہیا کرانا ہے تاکہ کسی بھی بیک گراؤنڈ کا آدمی یہاں اپنی مرضی کے مطابق کام کر سکے۔
شیام بینگل کی پہلی فلم ’ انکُر‘ 1973 میں ریلیز ہوئی ایک ایسی فلم ہے جوپچاس کی دہائی میںآندھرا پردیس میں واقع ہوئی ایک حقیقی کہانی پر مبنی ہے۔کہانی ایک زمیندار بیٹے اور ایک دلت خاتون کے درمیان عشق، محبت، ہوس،ذات پات اور جدو جہد کی کہانی ہے جس میں دلتوں کا استحصال، شراب خوری، ذات پات کی لعنت جیسے معاملوں سے اس فلم کا تانا بانا تیار کیا گیا ہے۔ دلت اور شادی شدہ عورت ’لکشمی‘کا رول شبانہ اعظمی نے کیا ہے جب کہ اننت ناگ نے’سوریا‘ نامی زمیندار بیٹے کا رول ادا کیا ہے اور سادھو مہر نے لکشمی کے گونگے بہرے شوہر کا رول ادا کیا ہے۔ شیام بینگل، شبانہ اعظمی اور اننت ناگ تینوں کی ہی یہ پہلی فیچر فلم ہے۔ ہندوستانی آرٹ فلموں کے متوازی سنیما تحریک کے ابتدائی نقش والی یہ ایک فلم جس کو عوام نے بھی پسند کیا۔ فلم تین کونیشنل فلم انعامات سے نوازا گیا۔ اور اس فلم میں شبانہ اعظمی کو بیسٹ ایکٹر کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ملک سمیت 43 انعامات سے نوازا گیا۔
1976 میں بنی’منتھن‘ فلم ہندوستان میں سفید انقلاب یعنی دودھ پروڈکشن کے انقلاب اور سہکاریتا آندولن یعنی آپسی تعان کی تحریک سے بنی پہلی کراؤڈ فنڈیڈ یعنی عوامی تعاون سے بننے والی فلم ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ایسی فلم ہے جس میں گجرات کے پانچ لاکھ کسانوں نے محض دو۔ دو روپے کا تعاون دے کرفنڈ جمع کیا اور اس فنڈ سے یہ فلم تیار کی گئی۔یہ فلم سفید انقلاب کے بانی کورین ورگیز کے مشن پر مبنی ہے۔ جیسا کہ اس کا موضوع ڈیری کواپریشن کی تحریک ہے جس میں دودھ اور اس سے بننے والی اشیا کا منافع سیدھے کسی کمپنی کو نہ مل کر کواپریٹیو سوسائیٹی کے ذریعہ بڑھایا جاتا ہے تاکہ اس کا براہ راست فائدہ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو مل سکے لہٰذا کراؤڈ فنڈ بھی ایک قسم کا تعاون ہے۔اس کہانی میںدودھ بیچنے والے کسانوں کے درمیان ایک آدرش وادی ویٹنری ڈاکٹر راؤ(گریش کرناڈ) کے ذریعہ گاؤں میں ایک سہکاری سمیتی قائم کرنے کی جد جہد کو دکھایا گیا ہے یہاں پہلے روایتی انداز میں دودھ کی تجارت ہوتی تھی اور اس منافع کا ایک بہت بڑا حصہ زمیندارمشرا جی (امریش پوری) کی تجوری میں جاتا تھا۔گجرات کے اس گاؤں میںذات پات کا بھی بڑا دبدبہ تھا اور دودھ بیچنے والوں میں بندو(اسمتا پاٹل) اور بھولا(نصیر الدین شاہ )بھی شامل ہیں جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فلم ایک ساتھ کئی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے جن میں سے ایک دیہی علاقوں میں انسانی صحت کی دیکھ بھال کے لیے انسانوں کے ڈاکٹر موجود نہیں ہیں لیکن ایک واقعہ میں ڈاکٹر راؤ کے یہ کہنے کے باوجود کہ وہ بچوں کا ڈاکٹر ہے وہ اسی سے علاج کرنے کو مجبور ہیں۔ڈاکٹر اپنے تھوڑے بہت تجربے کا استعمال کرتا ہے پھر لوگ جانوروں کے بجائے انسانوں کے علاج کے لیے اس کے پاس آنے لگتے ہیں۔ڈاکٹر راؤ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں تو پرائمری ہیلتھ سینٹر تک نہیں ہے۔اس فلم نے بھی بہترین فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ جیتا اس کے علاوہ شیام بابو کی یہ فلم اکادمی ایوارڈمیں شرکت کرنے کے لیے ہندوستان کی آفیشیل فلم بنی۔اس کا ایک گیت آج بھی امول دودھ کمپنی اپنے اشتہاروں میں استعمال کرتی ہے۔
اس کے بعد شیام بابو نے ایک اور سماجی تانے بانے کو بکھیرنے والی کہانی پر فلم بنائی جس کا نام ’ نشانت‘ ہے یہ بھی ہندوستان مین ایمرجنسی کے دنوں کی ہے مگر اس کے موضوعات دیگر ہیں۔فلم میں ایک ایسے سماجی نظام کو دکھایا گیا ہے جس میں انصاف، اخلاقیات اور تعظیم کا فقدان ہے۔اس نظام میں زمیندار اور حکمراں طبقہ اپنے سے کمتر طبقے کے لوگوں کا مالی، جسمانی اور ذہنی استحصال کرتا ہے۔یہاں چار زمیندار بھائیوں سے پورا علاقہ پریشان ہے وہ کسی کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کسی کی عورت کو اس کے گھر سے اغوا کر لیتے ہیں۔ ایک دفعہ گاؤں کے ایک استاد کی بیوی کا ہی یہ لوگ اغوا کر لیتے ہیں تبھی پورا گاؤں ان کا مخالف ہو جاتا ہے۔
1977میں شیام بینگل نے ’ بھومیکا‘ نام سے فلم بنائی جو بنیادی طور سے مراٹھی اداکارہ ہنسا واڈکرکی سر گزشت پر مبنی ہے۔ یہ ایک باصلاحیت خاتون کی کہانی ہے جس نے اپنے دم پر اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے کی ٹھانی جو خودکی تلاش مسلسل ہے۔ اس میں عورت کے معاشرے میں روایتی قسم کے بنے بنائے رول سے انحراف کی کہانی ہے۔مراٹھی زبان میں ہنسا واڈکر کی خودنوشت ’سنگتِ آئیکا‘ میں وہ ایک ایسے کرادر کے روپ میں سامنے آئی ہے جو پدرانہ برتری نظام والے معاشرے میں اپنے وجود، خودی، وقار کے لیے جدو جہد کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اس فلم کو بھی نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔
1983 میں طوائف پر مبنی فلم ’منڈی‘ میںشیام بینگل نے ہمارے سماج کی اس حقیقت سے رو بہ رو کرایا ہے جہاں معاشرہ سماج کی استحصال شدہ عورتوں سے جنسی لذت اور عیش کوشی تو کشید کرتا ہے مگر اس کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھتا ہے جس میں دوا، علاج، صحت اور مکان جیسی ضرورتیں شامل ہیں۔اردو زبان کے مشہور افسانہ نگار غلام عباس کی کہانی ’ آنندی‘ پر مبنی فلم ایک طوائف خانے سے متعلق ہے جس کو سیاسی لیڈر اپنے نجی فائدے کے لیے اسے خالی کروانا چاہتے ہیں۔ فلم بنیادی طور پر شہری ترقی اور توسیع، سماجی و معاشرتی نظام اور سیاست پر ایک طنز ہے جس کی جائے وقوع حیدرآباد کا ایک پرانا طوائف گھر ہے۔ فلم میں شبانہ اعظمی طوائفوں کی مالکن کا رول ادا کرتی ہیں اور اسمتا پاٹل، نصیر الدین شاہ، امریش پوری اور کل بھوشن کھربندا شامل ہیں۔یہ فلم اپنے موضوع اور مسائل کے اعتبار سے ایک بہت ہی بولڈ فلم ہے جس میں سماج کے ٹھکرائے ہوئے طبقے کی عورتوں کی داخلی زندگی، جدو جہد اور تمناؤں کے ساتھ ساتھ سماج اور سیاست کے کھیل کو اجاگر کرتی ہے۔ شیام بنیگل نے اس کے علاوہ مسلم معاشرے کے نچلے طبقے سے لے کر اشرافیہ طبقے تک کے گوں نا گوں مسائل پر ’ ہری بھری‘، ممو، سرداری بیگم، زبیدہ جیسی فلمیں بنائیں۔ ویلکم ٹو سجن پور اورویل ڈن ابا جیسی فلمیں بنائیں جن میں دیہی زندگی کی یہ طربیہ اور ہلکے پھلکے موضوع کی فلم ہے جس میں بے روزگاری، تعلیم کی کمی جیسے مسائل کے ارد گرد کہانی بنی گئی ہے۔اس میں جمہوریت اور سرکاری کام کاج کے طور طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جہاں ہر ایک قدم پر رشوت، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ ہیرو شریاس تالپیڈے (مہادیو) ایک ناول نگار بننا چاہتا ہے لیکن وہ قاصد اور محرر بن کر رہ جاتا ہے۔وہ سجن پورکے لوگوں کے خطوط پڑھنے اور ان کے جواب لکھنے میں اپنا وقت صرف کرتا ہے اور اس کے بدلے ان سے لکھنے اور پڑھنے کی قیمت وصول کرتا ہے۔یہ ایک ہلکی پھلکی مزاحیہ رومانی فلم ہے۔
فلم’ویل ڈ ن ابا‘(2010) سرکار کی جانب سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیموں اور منصوبوں میں بدعنوانی کو اجاگر کرتی ہے۔اس میں ارمان علی (بومن ایرانی) اور رحمان علی (بومن ایرانی) کی غربت و تنگ دستی کی داستان ہے ارمان علی پونے میں ایک امیر زادے کی گاڑی چلاتا ہے اور عزت کی زندگی جیتا ہے اس کے برعکس رحمان علی اور اس کی بیوی دن رات مرغی چوری، پانی چوری اور ادھار مانگ مانگ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ارمان علی ایک فوٹوگرافر کی دوکان میں جاتا ہے جہاں فوٹو کھنچوانے کے دوران اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانی سے جوجھ رہے گاؤں میں باولی کے لیے لون لے گا۔ فلم کی کہانی جیلانی بانو کی کہانی ’ نر سیا کی باوڑی‘ پر مبنی ہے جس میں سرکار خط افلاس کے نیچے زندگی گزار رہے لوگوں کو ایک اسکیم کے تحت باولی کے لیے یک مشت ڈیڑھ لاکھ مہیا کراتی ہے لیکن تحصیل دار، پٹواری، سرپنچ اور کلرکوں کی ملی بھگت سے وہ رقم خورد برد ہوجاتی ہے اور ارمان علی کا پانی کا خواب سرکاری کرپشن کی نذر چڑھ جاتا ہے۔لیکن ارمان علی بھی اس نظام سے لڑتا رہتا ہے جس میں اس کی بیٹی مسکان ( منیشالامبا) اس کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہتی ہے اور لڑتی ہے۔ اسی کے ساتھ فلم میں دیگر مسائل جیسے کم عمر میں عورتوں کی شادی، لڑکیوں کی تعلیم ادھوری چھوٹ جانا جیسے مسائل بھی نظر آتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ ایک پوری طرح تفریحی فلم ہے۔
وہ اپنی روایت کے آخری فلم ساز ہیں جنھوں نے ہر قسم کی کہانیوںاور کرداروں کے ساتھ نئے نئے تجربے کیے جو میل کے پتھر ہیں۔ انھیں2005 میں ہندوستانی سنیما کا سب سے بڑا اعزاز ’ داداصاحب پھالکے ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔
Dr. Muntazir Qaimi
Department (Urdu)
FAA Govt. PG College
Mahmudabad (Awadh)
Sitapur- (UP)
Mob.: 8127934734
muntazirqaimi@gmail.com