اردو دنیا،نومبر 2025

برطانوی استعمار کے زیرِ سایہ ہندوستان میں جن فکری اور تہذیبی تبدیلیوں نے جنم لیا، ان میں صحافت کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تعلیم، تمدن، اور حکومت، سب پر ایک نئے زاویے سے روشنی پڑنے لگی تھی۔ انہی عوامل نے ہندوستانی معاشرے میں ایک ایسی فکری فضا پیدا کی جہاں اظہارِ رائے، احتجاج، اور قومی شعور کے لیے صحافت ایک ناگزیر ذریعہ بن کر ابھری۔ اس صحافت میں جہاں انگریزی اور بعد ازاں اردو اخبارات نے اپنا اثر چھوڑا، وہیں فارسی صحافت بھی ایک خاموش مگر پراثر روایت کے طور پر قائم رہی۔ اس روایت میں غیر مسلم مدیران، اسکالرز کا کردار تحقیق کا ایک اہم اور نسبتاً کم دریافت شدہ باب ہے۔
جب ہندوستان میں جدید صحافت نے قدم رکھا تو اْس وقت ملک میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے گروہ ابھر رہے تھے جن کے خیالات، طرزِ زندگی، اور معاشرتی مقام میں تبدیلی آ رہی تھی۔ مغربی تعلیم اور نئے ذرائعِ ابلاغ، جیسے چھاپہ خانہ، خطوط، ریل، ڈاک اور تار نے لوگوں کو نہ صرف قریب لانا شروع کیا بلکہ اْن کے افکار کو نئے سانچوں میں ڈھالنا بھی شروع کیا۔ رفتہ رفتہ، اس باہمی ربط نے ایک ایسی ہندوستانی رائے عامہ کو جنم دیا جو منظم انداز میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے لگی۔ اس رائے عامہ کی تشکیل اور اظہار میں اخبارات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ابتدائی صحافتی سرگرمیاں بنیادی طور پر انگریزی زبان میں تھیں، جن کا مخاطب ایک مخصوص طبقہ تھا۔ تاہم، بہت جلد فارسی زبان، جو اس وقت تک ہندوستان کے علمی، عدالتی، اور ادبی حلقوں میں مستعمل تھی، بھی اس صحافتی دھارے میں شامل ہو گئی۔ فارسی اخبارات، نہ صرف عوامی شعور کی ترجمانی کرنے لگے، بلکہ انھوں نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، سماجی اصلاح، اور مذہبی رواداری جیسے موضوعات کو بھی اپنایا۔ ان فارسی مطبوعات میں کئی ایسے غیر مسلم مدیران شامل تھے جنھوں نے نہایت سنجیدگی اور جرات مندی کے ساتھ اس زبان کو صحافت کے لیے استعمال کیا۔
فارسی زبان میں نکلنے والے ابتدائی اخبارات صرف اطلاعات یا خبر رسانی کے لیے مخصوص نہ تھے، بلکہ وہ قومی شعور، تہذیبی شناخت، مذہبی رواداری، اور فکری آزادی جیسے موضوعات کا بھی احاطہ کرتے تھے۔ ان رسائل و جرائد میں جن غیر مسلم مدیروں نے خدمات انجام دیں، وہ نہ صرف زبان کے ماہر تھے، بلکہ اس تہذیبی روایت سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے جس میں فارسی ایک زندہ علمی زبان تھی۔ ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل تھے جنھوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود فارسی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور اس زبان میں وہ سماجی اور سیاسی مکالمہ قائم کیا جو وقت کی ضرورت تھا۔ برطانوی دور میں فارسی اخبارات کے غیر مسلم مدیران نے صرف ایک زبان کو زندہ نہیں رکھا، بلکہ ایک فکر، ایک تہذیب، اور ایک شعور کو بھی باقی رکھا۔ ان کی تحریریں اس دور کی نہ صرف ترجمانی کرتی ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح ہندوستانی سماج کے مختلف طبقے، زبان و مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر آزادیِ اظہار اور فکری تعمیرِ نو کے مشترکہ سفر میں شریک تھے۔ آئندہ سطور میں ہم اس خاص پہلو کا جائزہ لیں گے جس کے تحت فارسی زبان میں جاری ہونے والے ان اخبارات کا تعارف پیش کیا جائے گا جن کے مدیران کا تعلق غیر مسلم طبقے سے تھا یہی وہ گوشہ ہے جو اس تحقیقی مطالعے کا مرکزی محور ہے۔
مرآۃ الاخبار
مرآۃ الاخبار کو فارسی زبان کا پہلا ہندوستانی اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اور یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ فکری ارتقا ، تہذیبی بیداری اور صحافتی شعور کے اس سفر کا پہلا شعوری قدم ہے جو ایک ہندوستانی، راجہ رام موہن رائے جیسے مردِ آزاد خیال کے ہاتھوں اٹھایا گیا۔ اس اخبار کو فارسی زبان کا پہلا ہندوستانی اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے اور اس کی اس امتیازی حیثیت کی گواہی خود اْس زمانے کے معروف انگریزی پرچے کلکتہ جرنل میں شائع ہونے والے اشتہار سے بھی ملتی ہے۔ اس اعلان میں واضح طور پر اس کی اولیت کا دعویٰ کیا گیا، جو اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ اس سے پہلے ہندوستان میں کسی فارسی اخبار کی اشاعت کا سراغ نہیں ملتا۔ اشتہار یوں ہے:
’’اڈیٹر (مرآۃ الاخبار ) عوام کو مطلع کرتا ہے کہ اس ملک میں اخبار بیں طبقے کے لیے بہت سے اخبار شائع ہوتے ہیں لیکن اب تک فارسی کا کوئی اخبار شائع نہیں ہوا، جس سے ان لوگوں کو عموماً جو انگریزی سے ناواقف ہیں اور شمالی ہند کے رہنے والوں کو خصوصاً خبریں معلوم ہو سکیں۔ چنانچہ وہ ( اڈیٹر مرآۃ الاخبار ) ایک فارسی اخبار کے اجراکا کام شروع کر رہا ہے۔‘‘1
یہ اخبار 12 اپریل 1822(مطابق 29 شعبان 1237ھ) کو کلکتہ سے ’مرآۃ الاخبار‘ کے عنوان سے راجہ رام موہن رائے کی ادارت میں منظرِ عام پر آیا۔ راجہ رام موہن رائے نے اس اخبار کو محض ایک اشاعتی عمل نہیں بلکہ ایک تہذیبی پیغام کے طور پر بھی پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1229 بنگلہ کلینڈر کا نیا سال طلوع ہوا، تو انھوں نے ’مرآۃ الاخبار‘ کو ایک فکری تہنیت کے طور پر پیش کرتے ہوئے محبانِ وطن کو نیا سال مبارک کہا۔ مگر یہ مبارکباد عام معنوں میں نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی صدا تھی جو دلوں کو بیدار کرتی، ذہنوں کو جھنجھوڑتی اور ضمیروں کو سوال کرنے پر آمادہ کرتی تھی۔یہ اخبار محض روزمرہ خبروں یا سرکاری اعلانات تک محدود نہ تھا۔ اس میں ملکی اور بین الاقوامی حالات، مذہبی ہم آہنگی، معاشرتی اصلاحات، عقلی مکالمہ، اور آزادیِ رائے جیسے موضوعات کو بیباکی اور وقار کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ ہر شمارہ گویا ایک فکری دستاویز تھا، جو محض وقت کی خبر نہیں بلکہ تاریخ کا دھارا بدلنے کی تمنا رکھتا تھا۔ راجہ صاحب کی تحریروں میں جو حکمت، دوراندیشی اور فلسفیانہ گہرائی تھی، وہ مرآۃ الاخبار کے صفحات پر منعکس ہو کر ایک نئی صحافتی تہذیب کی بنیاد رکھتی گئی۔
مرآۃ الاخبار کی سب سے اہم اور امتیازی خصوصیت اس کا زبان و اسلوب تھا۔اخبار کا بنیادی مقصد اصلاحِ معاشرہ تھا، اور جیسا کہ مسٹر بیلی نے نشاندہی کی، وہ نہ صرف عیسائی مشنریوں کی تعلیمات پر جرات مندانہ نکتہ چینی کرتا تھا بلکہ توہم پرستی، تباہ کن رسوم و رواج، اور سماجی جمود کے خلاف ایک فکری مزاحمت کی صورت میں بھی سامنے آیا۔2 راجہ رام موہن رائے نے اپنے پہلے اداریے میں جس وضاحت سے مقاصد بیان کیے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اخبار صرف خبروں کا مجموعہ نہ تھا بلکہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں ہندوستانی سماج اپنی کمزوریوں، امیدوں اور ممکنات کو دیکھ سکتا تھا۔ اپنے اداریہ میں وہ لکھتے ہیں:
’’خدا کا شکر ہے کہ انگریزوں کی سلطنت میں کلکتے کے رہنے والوں کو وہ آزادی اور تحفظ حاصل ہے جس کو معقولیت پسند اور مدنی الطبع انسان مذہبی اور مدنی اداروں کا مقصد وحید قرار دیتے ہیں۔ افراد اور ان کی ملکیت کی حفاظت کے لیے قانون انگلستان کے مطابق اس شہر میں بھی ان گنت قوانین بنائے گئے ہیں جن کے مطابق انصاف کیا جاتا ہے اور سزائیں دی جاتی ہیں۔ یہ اس کا نتیجہ ہے کہ معمولی حیثیت کا آدمی اپنے حقوق کے مطالبے میں نہ صرف اونچے درجے کے کسی بھی آدمی کے برابر سمجھا جاتا ہے بلکہ بڑے سے بڑے سرکاری افسر کے مقابلے میں بھی اس کو وہی برابری کی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ ہر شخص کو اپنے جذبات ہی کے اظہار کی آزادی نہیں ہے بلکہ دوسروں کے افعال پر بھی نکتہ چینی کی جاسکتی ہے اگر اس سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔ ان حالات کے ماتحت اس قوم (انگریز) کے کچھ افراد عوام کے فائدے کے لیے اس ملک کی اور دوسرے ملکوں کی خبر میں چھاپتے ہیں۔ لیکن ان سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جو انگریزی سے نابلد ہیں وہ یا تو انگریزی دانوں سے اخبار پڑھوا کر سنتے ہیں یا خبروں سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ اس خیال کے پیش نظر مجھ حقیر ترین انسان کو فارسی میں ایک ہفتے وار اخبار جاری کرنے کی خواہش ہوئی ہے۔ دیسی برادری کے سب باعزت افراد اس زبان سے واقف نہیں۔ یہ اخباران سب لوگوں تک پہنچے گا جو اس کے خواہش مند ہوں گے۔اخبار جاری کرنے سے میری غرض نہ تو امیروں کی یا اپنے دوستوں کی مدح سرائی کرنا ہے اور نہ عزت و جاہ اور سلطنت و عنایت کا حصول ہی میرے پیش نظر ہے۔مختصر یہ کہ اس اخبار کی ذمہ داری لینے سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کے سامنے ایسی چیزیں پیش کی جائیں جن سے ان کے تجربوں میں اضافہ اوران کی سماجی ترقی ہو سکے۔ارباب حکومت کو بھی رعایا کا صحیح حال بتلایا جائے اور رعایا کو ان کے حکمرانوں کے قانون اور رسم ورواج سے آگاہ کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو اپنی رعایا کی تکلیفیں دور کرنے کا موقع ملے اور رعایا کی دادرسی ہو سکے۔‘‘3
مرآۃ الاخبار نے اپنی قلیل اشاعتی مدت میں غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اخبار نہ صرف ہندوستان بلکہ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک میں بھی ارسال کیا جاتا تھا۔4 داخلی خبروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مسائل پر بھی مساویانہ توجہ دی جاتی تھی، جس کا ثبوت پہلے شمارے میں شائع شدہ خبروں، تبصروں اور مضامین کے عنوانات سے ملتا ہے۔
راجہ رام موہن رائے آزادیِ اظہار کے پرجوش علمبردار تھے اور برطانوی استبداد کے زیرِ سایہ سخت صحافتی پابندیوں کے باوجود اپنے خیالات کا اظہار بے باکی، حکمت اور فکری استقامت کے ساتھ کرتے رہتے تھے۔ مرآۃ الاخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں آئرلینڈ کی سیاسی بے چینی اور وہاں برطانوی ظلم و استبداد پر کھل کر تنقید کی گئی تھی۔ یورپ میں برطانیہ کی پالیسیوں پر راجہ رام موہن رائے کی بے باکانہ رائے نے بعض انگریزوں کو ناخوش کیا، مگر اس وقت ہندوستان میں پریس کو جزوی آزادی حاصل تھی، جس کے باعث حکومت براہِ راست مداخلت نہ کر سکی۔تاہم 1823 میں جب جان ایڈمز (John Adams) نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا، تو اس نے فوری طور پر پریس آرڈیننس (Press Ordinance) جاری کیا۔ اس حکم نامے کا مقصد ایسے مضامین اور اخبارات کو کچلنا تھا جو حکومت کے خلاف نفرت، تنقید یا بدظنی پیدا کرتے ہوں یا جن سے امن عامہ کے متاثر ہونے کا خطرہ ہو۔ اس آرڈیننس کے تحت ہر اخبار کے لیے سرکاری لائسنس لازمی قرار دیا گیا، اور حکومت کو کسی بھی اخبار کو بند کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گیا۔5 اس اقدام نے ہندوستانی پریس کی آزادی پر پہلی بڑی کاری ضرب لگائی اور مرآۃ الاخبار جیسے جرات مند صحافتی ادارے شدید دباؤ کا شکار ہو گئے۔چنانچہ اس فیصلہ پر اظہار رنج کرتے ہوئے راجہ رام موہن نے 14اپریل 1823کے خصوصی شمارے کے ساتھ اس اخبار کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ راجہ رام موہن رائے نے مرآۃ الاخبار کے ذریعے جو فکری و صحافتی تحریک محض ایک سال کی قلیل مدت میں اٹھائی، اس کے اثرات وقتی نہ تھے بلکہ دیرپا اور گہرے ثابت ہوئے۔ اس اخبار نے جس جرات، بصیرت اور اصلاحی جذبے کے ساتھ قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی، وہ بعد کی فارسی صحافت کے لیے سنگِ بنیاد بنی۔ مرآۃ الاخبار کی مقبولیت اور اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں سے دیگر فارسی اخبارات کا اجرا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ راجہ رام موہن رائے کی یہ صحافتی کاوش محض وقتی ردِعمل نہ تھی، بلکہ ایک فکری روایت کی ابتداتھی جس نے ہندوستانی فارسی صحافت کی تاریخ کو ایک نئی سمت دی۔
جام جہاں نما
مرآۃ الاخبار کی بندش کے بعد اگرچہ ہندوستانی فارسی صحافت کو شدید دھچکا پہنچا، تاہم یہ روایت یہاں ختم نہ ہوئی۔ صحافت کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے والا اگلا اہم سنگِ میل جامِ جہاں نما تھا، جو کلکتہ سے شائع ہونے والا دوسرا باقاعدہ فارسی اخبار قرار پاتا ہے۔ اس کی اشاعت نہ صرف فارسی صحافت کی بقا کی علامت تھی، بلکہ ایک نئے صحافتی مزاج کی ابتدا تھی جس میں معلومات، ترجمہ اور خبروں کی ترسیل کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔جامِ جہاںنما کے اجراکا بنیادی مقصد انگریزی اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں کو فارسی زبان میں منتقل کرنا تھا تاکہ وہ وسیع حلقہ قارئین، جو انگریزی زبان سے ناآشنا تھا، ملکی و بین الاقوامی حالات سے باخبر رہ سکے۔ اس کے علاوہ یہ اخبار کمپنی کے زیرِ انتظام علاقوں سمیت ہندوستان کے دیگر خطوں کی خبریں بھی قارئین تک پہنچانے کی سعی کرتا تھا، جو اس کے مشمولاتی دائرے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جامِ جہاں نما کی ادارت غیر مسلم افراد کے ہاتھوں میں تھی۔ اخبار کے اجرا سے متعلق جو سرکاری دستاویزات نیشنل آرکائیوز آف انڈیا میں محفوظ ہیں، ان سے ہمیں اس اشاعتی منصوبے کی مکمل تصویر ملتی ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق، جامِ جہاں نما کی اشاعت کے لیے 20 مارچ 1822کو باقاعدہ درخواست دی گئی، جس پر ہری ہر دت بنگو کے دستخط ثبت ہیں۔ اس ابتدائی درخواست سے ہمیں ایڈیٹوریل اور ادارتی انتظامیہ کا بھی علم ہوتا ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر منشی سدا سکھ تھے، جو اس وقت کے ایک موقر فارسی نویس اور معتبر اہلِ قلم مانے جاتے تھے۔اخبار کا ناشر کلکتہ کی معروف انگریزی تجارتی کمپنی ولیم پیئرس ہاپ کنس اینڈ کمپنی تھی، 6 جو اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس دور کی صحافت صرف فکری یا اصلاحی مقصد تک محدود نہ تھی، بلکہ اس میں تجارتی مفادات اور ادارہ جاتی سرپرستی بھی شامل ہونے لگی تھی۔ یہ پہلو فارسی صحافت کے ارتقائی سفر میں ایک نئی جہت کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں زبان، ترجمہ، تجارت اور خبر کا امتزاج ایک نیا صحافتی چہرہ سامنے لاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ پہلو بھی اس بات کا مظہر ہے کہ فارسی زبان اس دور میں محض مذہبی اظہار کا ذریعہ نہ تھی، بلکہ ایک مشترکہ تہذیبی سرمایہ تھی جس میں ہندو، مسلم، پارسی، اور دیگر طبقات نے یکساں دلچسپی لی۔ غیر مسلم مدیران کا فارسی صحافت میں نمایاں کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ فارسی زبان نے ہندوستان میں ایک بین المذاہب علمی و فکری پل کا کام کیا، جس پر تمام قوموں اور عقائد کے افراد نے اعتماد کے ساتھ سفر کیا۔
اخبار کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی اشاعت کسی محدود طبقے یا صرف ہندوستانی قارئین کے لیے مخصوص نہ تھی، بلکہ اسے یورپی حلقوں تک رسائی کے پیشِ نظر سوچ سمجھ کر ترتیب دیا جاتا تھا۔ ہر شمارے کے پہلے صفحے پر، دونوں جانب ایسٹ انڈیا کمپنی کے شاہی نشانات یعنی تاجِ برطانیہ کی تصویری علامتیں نہایت نمایاں انداز میں چھاپی جاتی تھیں، جن کے درمیان اخبار کا نام جامِ جہاں نما درج ہوتا تھا۔ اس کے نیچے شمارہ نمبر، تاریخ اور دن واضح کیے جاتے، اور ان کے نیچے ایک مختصر انگریزی اپیل درج کی جاتی تھی جو اخبار کی قیمت سے متعلق معلومات فراہم کرتی تھی۔7 یہ انگریزی اپیل درحقیقت اخبار کا اشتہاری بیان بھی تھا، جو ہر شمارے میں شامل رہتا تھا۔ اس بات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اخبار کے مخاطب صرف مقامی قارئین نہ تھے بلکہ یورپی ناظرین بھی اس کے اہم قاری تھے۔ یہ بات مزید پختگی اختیار کر جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اخبار کی زبان فارسی ہونے کے باوجود یورپی طبقہ اس سے واقفیت رکھتا تھا، بلکہ اسے باقاعدگی سے پڑھتا بھی تھا۔ یورپی قارئین کی اس دلچسپی کا ذکر اس وقت کے برطانوی اعلیٰ حکام کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔
1827میں جب لارڈ ولیم بینٹک نے ہندوستانی اخبارات کے اثرات اور دائرۂ اثر کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی، تو مسٹر اے۔ اسٹرلنگ نے 1824 سے 1827تک کی تمام قابلِ ذکر تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جس میں جامِ جہاں نما کا بھی خصوصی تذکرہ کیا گیا۔8 یہ اقدام اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یہ اخبار نوآبادیاتی حکومت کی نظروں میں بھی اہمیت رکھتا تھا اور اس کے اثرات کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا تھا۔
اخبار کے پہلے صفحے پر نہ صرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی علامات چھاپی جاتی تھیں بلکہ کمپنی کی داخلی سرگرمیوں، پالیسیوں، اشتہارات اور عہدیداروں کی حرکات و سکنات کو بھی بڑی وضاحت اور اہتمام کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا۔ اس امر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اخبار کو سرکاری پشت پناہی حاصل تھی اور غالب امکان یہی ہے کہ اس کا اجراکمپنی کی مصلحتوں کے تحت کیا گیا تھا۔9 اس کے ذریعے کمپنی ایک طرف مقامی طبقے کو اپنی سرگرمیوں سے واقف رکھنا چاہتی تھی، تو دوسری جانب فارسی خواں طبقے پر نرم اقتدار کا نفسیاتی اثر بھی قائم رکھنا چاہتی تھی۔یہی نہیں، بلکہ اخبار میں کمپنی کے وفادار امرا ، جاگیرداروں اور انگریز افسران کی سرگرمیوں کو خاص طور پر نمایاں کیا جاتا تھا، جس سے اس کی سیاسی وابستگی اور ادارتی جھکاؤ مزید عیاں ہوتا ہے۔
اس اخبار کی ہیئت میں 27 اگست 1828کے بعد ایک قابلِ ذکر تبدیلی رونما ہوئی۔ 3 دسمبر 1828 کے شمارے سے کمپنی کا سرکاری نشان اچانک غائب ہو گیا، اور اس کے ساتھ ساتھ ان خبروں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا جن میں صاحبانِ والا شان کی تقرری و تبدیلیوں کی اطلاع گزٹ کے انداز میں دی جاتی تھی۔اخبار نے اس اچانک تبدیلی کی کوئی باضابطہ وضاحت تو فراہم نہیں کی، لیکن دستیاب تاریخی شواہد سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ جامِ جہاں نما نے اپنے چھٹے سال میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف ایک تنقیدی مضمون شائع کیا، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے حکام کو سخت ناگوار گزرا۔ اس مضمون کی اشاعت کے نتیجے میں اخبار کی مالی امداد بند کر دی گئی گویا کمپنی بہادر نے اس ادارتی خودمختاری کی ہلکی سی جھلک پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔10 یہ واقعہ اگرچہ اخبار کے مالی وسائل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، مگر صحافتی آزادی کے لیے ایک مثبت موڑ بن گیا۔ اخبار پر اب وہ دباؤ نہ رہا جو پہلے تھا، اور اس کے اداریے نیم سرکاری روش سے ہٹ کر ایک خالص اخباری رنگ اختیار کرنے لگے۔ خبروں کے انتخاب میں جو سرکاری احتیاط جھلکتی تھی، وہ رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی، اور جامِ جہاںنما نے ایک آزاد شناخت کی جانب قدم بڑھایا۔
اخبار سیرام پور
فارسی صحافت کی تاریخ میں سیرام پور کے مسیحی مبلغین کا کردار بھی بہت نمایاں ہے، جنھوں نے انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں نہ صرف فارسی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا بلکہ ہندوستان میں اخباری اشاعت کے تجربے کو بھی نئی جہت بخشی۔سی رام پور وہ خطہ ہے جہاں مشنریوں نے تعلیمی و مذہبی خدمات کے تحت ایک مرکزِ تبلیغ اور بعد ازاں سی رام پور کالج کی بنیاد رکھی۔
اس منصوبے کے روحِ رواں ڈاکٹر جوشا مارش مین تھے، جو اس سے قبل ڈگ درشن (1818) نامی بنگالی و انگریزی زبان کے دو لسانی رسالے اور فرینڈ آف انڈیا جیسے مذہبی رسالے کے اجرا کا تجربہ رکھتے تھے۔ فارسی زبان کے اس اخباری منصوبے سے قبل مارش مین نے حکومتِ برطانیہ سے باقاعدہ مالی تعاون کی درخواست کی۔ گورنر جنرل لارڈ امہرسٹ کے چیف سکریٹری نے یہ درخواست فارسی شعبہ کے افسر مسٹر اسٹرلنگ کے حوالے کی، جو فارسی ادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔11 اسٹرلنگ کی ہمدردانہ رائے کے نتیجے میں حکومت نے اخبارسیرام پور کے اجرا کی منظوری دی۔ ابتدا میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اخبار کے نسخے دہلی، آگرہ، بنارس اور کلکتہ کے اہم تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں ارسال کیے جائیں گے تاکہ اس کی رسائی علمی اور افسرانہ طبقے تک ہو۔
تاہم، یہ صحافتی سلسلہ صرف دو سال جاری رہ سکا۔ مئی 1828میں حکومت نے مالی معاونت بند کر دی، جس کی سرکاری توجیہ مالی تنگی تھی، مگر درپردہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت فارسی زبان میں شائع ہونے والے ایک غیر سرکاری اور مذہبی رنگ رکھنے والے اخبار کی اعانت جاری رکھنے سے گریزاں تھی۔ اس کے برعکس، مشنریوں نے اپنی توجہ بنگالی زبان پر مرکوز کر دی اور سماچار درپن جیسے اخبارات کو کامیابی سے جاری رکھا ،12 جو زیادہ وسیع دائرہ اثر رکھتے تھے اور عوامی زبان ہونے کے ناتے اْن کے تبلیغی مقاصد کے لیے زیادہ موزوں تھے۔
اخبارسیرام پور کی اشاعت کی بندش لارڈ اَمہرسٹ کے دورِ اقتدار کے آخری ایام میں ہوئی۔ جب لارڈ ولیم بینٹک جولائی 1828میں گورنر جنرل بنے، تو مارش مین نے دوبارہ اخبار کی اشاعت کے لیے درخواست دی، لیکن سابقہ حکومتی موقف برقرار رکھا گیا۔ نہ مالی تعاون بحال کیا گیا اور نہ ہی ڈاک محصول میں نرمی دی گئی۔
بنگال ہیرالڈ
گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا کہ ہندوستانی صحافت کی بنیاد اور اس کے ارتقائی سفر میں راجہ رام موہن رائے کا کردار سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1821 میں بنگالی ہفت روزہ سمبد کمودی کے اجرا سے لے کر 1822 میں فارسی اخبار مرآۃ الاخبار کی اشاعت تک، انھوں نے اخباری صحافت کو ہندوستانی عوام کی آواز بنانے کی کوشش کی۔ لیکن اس زمانے میں انگریز حکومت کی معاندانہ پالیسیوں، سنسر شپ، اور دباؤ کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر ان کے جیسا مردِ میدان بھی وقتی طور پر دل برداشتہ ہو کر صحافت سے کنارہ کش ہو گیا۔تاہم، جب لارڈ ولیم بینٹک کا نسبتاً اعتدال پسندانہ رویہ سامنے آیا، تو رام موہن رائے کو ایک بار پھر امید بندھی کہ شاید اظہار کی آزادی کا دائرہ کچھ وسیع ہو۔ اسی امید پر انہوں نے دوبارہ صحافت کی دنیا میں قدم رکھا اور ایک نئے طرز کا اخبار شائع کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اس نئی کاوش کا نتیجہ 19 مئی 1829 کو بنگال ہیرالڈ کی اشاعت کی صورت میں سامنے آیا، جو نہ صرف ایک سیاسی، ادبی اور تجارتی نوعیت کا اخبار تھا بلکہ اپنے طرز کا منفرد تجربہ بھی تھا۔ یہ پہلا ایسا اخبار تھا جو تین زبانوں بنگالی، فارسی اور انگریزی میں بیک وقت شائع ہوتا تھا،13 اور جس کی ادارت ایک ہندوستانی (نیل رتن ہلدر) اور ایک انگریز (رابرٹ گمری مارٹن) کی مشترکہ نگرانی میں انجام دی جاتی تھی۔14
بنگال ہیرالڈ کو ابتدا ہی سے کلکتہ کے با اثر اور روشن خیال حلقوں کی حمایت حاصل رہی۔ اس کے اجراسے قبل مختلف مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا، جس پر شہر کے چھ معزز شہریوں کے دستخط ثبت تھے۔ ان ناموں میں دوارکا ناتھ ٹیگور، پرسنا کمار ٹیگور، راجہ رام موہن رائے اور راج کشن سنگھ جیسے نامور افراد شامل تھے۔ ان شخصیات کی وابستگی نہ صرف اخبار کی فکری ساکھ کو مستحکم کرتی تھی بلکہ اس امر کی بھی علامت تھی کہ یہ اخبار محض خبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کا پرچم بردار ہے۔ اخبار کے ابتدائی شماروں سے جو نیشنل لائبریری کلکتہ میں محفوظ ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ساخت دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلے حصے میں یورپ کی خبریں شامل کی جاتی تھیں اور دوسرے میں ایشیائی دنیا کی اطلاعات، جس پر واضح طور پر ایشیا ڈپارٹمنٹ درج ہوتا تھا۔ اسی اخبار میں ہم کو اْس وقت کے مختلف سالناموں اور اشاعتی اداروں کے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جن میں بنگال اینول اور آرمی لسٹ نمایاں ہیں۔ یہ اشہارات اس بات کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ اخبار نہ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ تھا بلکہ علمی، ادبی اور تجارتی سرگرمیوں کا مظہر بھی تھا۔
اس اخبار کا بنیادی مقصد نہ صرف خبریں دینا تھا بلکہ قومی سطح پر ایک فکری بیداری پیدا کرنا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اخبار میں ان مسائل پر بھی توجہ دی گئی جو براہِ راست ہندوستانی عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتے تھے۔ تاہم، افسوس کا مقام ہے کہ یہ روشن خیال تحریک زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکی۔ 6 اگست 1829کے شمارے میں ایک نوٹس کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ رام موہن رائے، دوارکا ناتھ ٹیگور، پرسنہ کمار ٹیگور اور نیل رتن ہلدر اب اخبار کی ملکیت سے دست بردار ہو چکے ہیں۔ اس اعلان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان افراد نے اپنے اصولوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور جب محسوس کیا کہ اخبار ان کی فکری ترجمانی سے ہٹ رہا ہے، تو انھوں نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔اس علیحدگی کے بعد اخبار کا زوال تقریباً یقینی ہو گیا۔ رابرٹ گری مارٹن کی انگلستان واپسی کے بعد جب کیپٹن ڈی ایل رچرڈسن کو ادارت سونپی گئی، تو اخبار کے مشن اور اس کی روح میں وہ حرارت باقی نہ رہی۔ بالآخر 1843میں یہ اخبار بنگال ہرکارو اینڈ کرانیکل میں ضم ہو کر محض ایک ضمیمہ بن کر رہ گیا۔ 15
بنگودت
فارسی اور بنگلہ کے امتزاج سے وجود میں آنے والا اخبار بنگو دت صرف ایک لسانی تجربہ نہ تھا، بلکہ نوآبادیاتی ہندوستان میں فکر و آگہی کی ایک ایسی شعاع تھی جو وقت کی گرد میں بھی مدھم نہ ہوئی۔ اس کی اشاعت کے لیے 10 اپریل 1830کو باقاعدہ درخواست دی گئی تھی، یہ وہ زمانہ تھا جب صحافت کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ بیداریِ شعور، اصلاحِ معاشرہ اور فکری آزادی کا ایک موثر ہتھیار سمجھا جانے لگا تھا۔اس اخبار کی ادارت ایک ایسے شخص نے سنبھالی جس کا نام پہلے ہی صحافتی دنیا میں معتبر حیثیت اختیار کر چکا تھا—نیل رتن ہلدر، جو بنگال ہیرالڈ کے شریک مدیر رہ چکے تھے۔ بعد ازاں، بھولا ناتھ سین اور مہیش چندر رائے جیسے اہلِ قلم نے بھی اس اخبار کی ادارت کا فریضہ انجام دیا۔16 یہ محض چند نام نہیں، بلکہ ان ناموں کے پیچھے وہ فکری و تہذیبی منظرنامہ ہے جس میں غیر مسلم اہلِ دانش نے فارسی زبان کی خدمت کو اپنی تمدنی ذمہ داری سمجھا، اور اپنی فکری وابستگیوں کو صحافتی اظہار کی صورت میں مجسم کیا۔
آگرہ اخبار
فارسی صحافت کے غیر مسلم مدیران میں ڈاکٹر ہنڈرسن کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے، جنھوں نے 1832 میں آگرہ اخبار کے اجرا کے ذریعے نہ صرف شمالی ہندوستان بلکہ پورے ہندوستان میں فارسی صحافت کی ایک نئی راہ ہموار کی۔17 آگرہ اخبار محض فارسی زبان کا ایک اخبار نہیں تھا، بلکہ یہ شمالی ہند کا پہلا اخبار تھا جس نے دیسی زبان میں منظم صحافت کی بنیاد رکھی۔اس اخبار کا اجرا ڈاکٹر ہنڈرسن کے قائم کردہ آگرہ پریس سے ہوا، جو مطابع ہند کی تاریخ میں کان پور پریس اور میرٹھ پریس کے بعد تیسرا معروف چھاپہ خانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہاں سے شائع ہونے والا آگرہ اخبار دراصل ایک ایسی جرأت مندانہ علمی کاوش تھی جس کا مقصد فارسی زبان میں جاری صحافت کو نئی جہت دینا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فارسی اپنی سرکاری حیثیت کھو چکی تھی اور اردو اور انگریزی تیزی سے زبانِ اقتدار بنتی جا رہی تھیں، ایسے میں ایک غیر مسلم یورپی دانشور کی جانب سے فارسی اخبار کا اجرا نہ صرف حیرت انگیز تھا بلکہ اس امر کا ثبوت بھی تھا کہ فارسی کو محض مسلم طبقے تک محدود زبان تصور کرنا علمی تنگ نظری ہوگی۔
ڈاکٹر ہنڈرسن نے ابتدائی ایک سال تک یہ اخبار فارسی رسم الخط میں جاری رکھا۔ تاہم، جب انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ فارسی رسم الخط میں قارئین کی تعداد محدود ہے اور اخبار کے پھیلاؤ میں رکاوٹ آ رہی ہے، تو نومبر 1832میں اسے انگریزی زبان میں منتقل کر دیا۔18 یہ تبدیلی صرف زبان کی نہیں تھی، بلکہ صحافت کی پیشہ ورانہ سمت کا تعین بھی تھا۔آگرہ اخبار کے انگریزی ایڈیشن نے ابتدا میں اگرچہ کوئی خاص معیار پیش نہ کیا، مگر حالات اس وقت یکسر بدل گئے جب مسٹر ہنری ٹانڈے اس کے مدیر مقرر ہوئے۔ ان کے زیر ادارت اخبار کی ظاہری ساخت، ادارتی معیار، اور مواد کا تنوع اس حد تک بہتر ہوا کہ یہ اخبار جلد ہی ہندوستان کے ممتاز جرائد میں شمار ہونے لگا۔ مسٹر ٹانڈے کی وفات کے بعد اخبار کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی، اور ان کے دو اعزہ مسٹر اے سانڈرس اور پی سانڈرس نے ادارت کی باگ ڈور سنبھالی، لیکن وہ بھی زیادہ دیر اس میدان میں نہ رہ سکے۔بالآخر آگرہ اخبار بند ہو گیا، اور کچھ عرصہ بعد اسی چھاپہ خانے سے آگرہ کرانیکل کے نام سے ایک نیا اخبار شائع ہونے لگا۔ رفتہ رفتہ یہ مطبع دہلی گزٹ کے مدیران کے قبضے میں آ گیا، یوں ایک صحافتی ورثہ ایک اور بڑے ادارے کا حصہ بن گیا۔19
بہرکیف برطانوی ہندوستان میں فارسی زبان کی صحافت ایک ایسی فکری روایت تھی جس کی بنیاد صرف مسلمانوں کے قلمی اور ادبی ذوق پر قائم نہیں تھی، بلکہ اس کی تشکیل میں غیر مسلم دانشوروں، مصلحین، اور مدیران نے بھی ایک فعال، مؤثر اور قابلِ اعتراف کردار ادا کیا۔ یہ وہ عہد تھا جب فارسی، جو کبھی درباروں اور عدالتوں کی زبان تھی، آہستہ آہستہ صحافت کے شعبے میں داخل ہو کر عوامی مکالمے کا وسیلہ بننے لگی، اور اس تبدیلی میں مختلف مذاہب و طبقات کے اہلِ علم نے حصہ لیا۔ غیر مسلم مدیران کی خدمات کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ان شخصیات نے صرف صحافت کو بطور پیشہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اسے ایک تہذیبی فریضہ، تعلیمی وسیلہ، اور اصلاحی ہتھیار کے طور پر برتا۔ ڈاکٹر جوشا مارش مین، ڈاکٹر ہنڈرسن، نیل رتن ہلدر، بھولا ناتھ سین، مہیش چندر رائے اور مسٹر ہنری ٹانڈے جیسے افراد نے نہ صرف اخبارات کی ادارت کی بلکہ زبان، مواد، اسلوب، اور اشاعتی معیار میں بھی ایسی جہتیں متعارف کرائیں جو اس وقت کے مسلم مدیران سے کسی طرح کم نہ تھیں۔ اخبارسیر ام پور، آگرہ اخبار، بنگودت اور بنگال ہیرالڈ جیسے اخبارات غیر مسلم مدیران کی فکری وسعت، لسانی مہارت، اور صحافتی بصیرت کے زندہ شواہد ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف مذہبی، تعلیمی اور اصلاحی پیغامات کو عام کیا گیا بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کو بھی مہمیز دی گئی۔ بعض اخبارات نے اپنی اشاعت کے لیے فارسی کو ترجیح دی، تو بعض نے اسے بنگلہ اور انگریزی کے ساتھ جوڑ کر سہ لسانی صحافت کو فروغ دیا۔ ان مدیران کی کوششوں سے فارسی صحافت کو جو وقار، وسعت اور معنویت ملی، وہ برصغیر کی صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی عہد کی فارسی صحافت کی تاریخ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے غیر مسلم مدیران کے کردار کا اعتراف محض تحقیقی انصاف نہیں بلکہ تہذیبی دیانت داری کی علامت بھی ہے۔
حواشی
- گربچن چندن، جام جہاں نما، اردو صحافت کی ابتدا ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دلی، 1992، ص 141
- محمد عتیق صدیقی، ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، 1957، ص 150 ایضا، ص 151
- سچندر لال گھوش، راجہ رام موہن رائے، اردو ترجمہ انعام الحق، ترقی اردو بیورو، نئی دلی،1973، ص 69
- ڈاکٹر تارا چند، تاریخ تحریک آزادی ہند، جلد دوم، اردو ترجمہ غلام ربانی تاباں، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2001، ص 190
- محمد عتیق صدیقی، ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، 1957، ص 154
- J Natrajan, History of Indian journalism, Publication Division, 1955, P 48
- انور علی دہلوی، اردو صحافت، اردو اکادمی دلی، ص 144
- محمد عتیق صدیقی، ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، 1957، ص 158
- ایضاً، ص 122
- ایضاً، ص 170
- امداد صابری، تاریخ صحافت اردو، جلد اول، حسن زماں کلکتہ، 1967، ص54
- محمد عتیق صدیقی، ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، 1957، ص 200,201
- Mrinal Kanti Chanda, Hiatory of English Press of Bengal 1780 to 1857, Calcutta, 1987, P 35
- Samarjit Chakrabarti, The Bengal Press(1818-1868) Firma KLM Pvt.Ltd, Calcutta, 1976, P 192
- محمد عتیق صدیقی، ہندوستانی اخبار نوتسی کمپنی کے عہد میں، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، 1957، ص 229
- ایضاً، ص 229
- ایضاً، ص 229
Amir Fahad
H-20, Flat No: 103
Jogabai, Jamia Nagar, Okhla
New Delhi- 110025
Mob.: 8376027216
fahadamiramu@gmail.com