
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور شعبۂ تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے سماجی علوم کے اردو میڈیم اساتذہ کے لیے چار روزہ ٹیچر ٹریننگ ورکشاپ کا افتتاح آج عمل میں آیا۔ افتتاحی پروگرام کی صدارت سابق کارگزار شیخ الجامعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر محمد گلریز نے کی۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر محمد گلریز نے ورکشاپ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ورکشاپس اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور ان کی تدریسی مہارتوں میں اضافہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبۂ تعلیم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وقتاً فوقتاً ورکشاپس منعقد ہوتی رہتی ہیں، لیکن قومی اردو کونسل کے تعاون سے منعقد ہونے والی اس ورکشاپ کی نوعیت منفرد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی اردو کونسل اردو زبان و ادب کے فروغ میں نہایت اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔
ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اے ڈی اکیڈمک، این سی پی یو ایل) نے کہا کہ قومی اردو کونسل کا بنیادی مقصد اردو زبان کے فروغ کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج کے طلبہ کو اردو کی طرف متوجہ کرنا اور ان کی علمی و تدریسی رہنمائی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی کونسل سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے کہا کہ جب سے قومی اردو کونسل کی ذمے داری ڈاکٹر شمس اقبال نے سنبھالی ہے، تب سے وہ اردو زبان کے فروغ اور اسے گھر گھر پہنچانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں، جو ان کی فعالیت اور تحرک کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے یہ ورکشاپ نہایت مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔ اساتذہ کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس ورکشاپ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور یہاں حاصل ہونے والے تجربات اور معلومات کو اپنے طلبہ تک منتقل کریں۔ انہوں نے تدریسی اسلوب، طریقۂ تدریس اور اساتذہ کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر نکہت نسرین (صدر شعبۂ تعلیم، اے ایم یو، علی گڑھ) نے کہا کہ اساتذہ نسلوں کے معمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ورکشاپ میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے جذبے کے تحت جمع ہوئے ہیں، اور یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تدریسی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے موجودہ دور میں بچوں کی بہتر تربیت اور صحیح رہنمائی کے لیے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
افتتاحی پروگرام کی نظامت پروفیسر ساجد جمال (شعبۂ تعلیم، اے ایم یو، علی گڑھ) نے انجام دی۔ پروگرام کے بعد تین علمی و تربیتی سیشن منعقد ہوئے، جن میں پروفیسر نکہت نسرین، پروفیسر نسرین اور ڈاکٹر آفتاب احمد انصاری نے تدریس سے متعلق اپنے قیمتی تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین کی گفتگو شرکاء کے لیے نہایت معلوماتی اور مفید رہی، جبکہ شرکاء نے سیشنز میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔