قومی اردو کونسل کی نئی مطبوعات:
گجرات میں ایک مخلوط بولی کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی سے ہو چکا تھا اور یہ گمان غالب ہے کہ بعد میں پنجاب، دہلی اور گجرات کی مخلوط بازاری بولیوں نے سیاسی، تجارتی اور سماجی اسباب کی بنا پر لوگوں کے آپس میں میل ملاپ کی وجہ سے ایک مخلوط بولی کی شکل اختیار کر لی جو ارتقائی مدارج طے کر کے اردو کے نام سے مشہور ہو گئی۔ “سخنورانِ گجرات” گجرات کے سلسلہ اردو ادب کی ایک کڑی ہے۔ بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں گجرات کی مختصر تاریخ، تاجروں اور صوفیوں کے ورود، اردو زبان سے متعلق مختلف نظریوں اردو کی ادبی تشکیل اور اردو کے قدیم نام گجری پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ سیاسی، تجارتی، معاشرتی مذہبی نقطہ نظر سے غیر زبانیں بولنے والوں کا ہند میں پہلا مرکز سندھ تھا یہ اپنی بندرگاہوں کی وجہ سے اہمیت رکھتا تھا۔ بحری اور بری راستوں سے بیرونی ممالک سے سوداگر یہاں مال لے کر آتے تھے۔ بغداد، بصرہ، ایران کی بندرگاہوں سے جہاز چلتے ہوئے سندھ ہوتے ہوئے گجرات آتے اور گجرات سے مالابار کی طرف بڑھ جاتے۔ اس کتاب میں گجرات کے چند معزز خاندانوں کے حالات اور ان کی علمی، ادبی، سیاسی، مذہبی خدمات سے متعلق معلومات ہیں۔
اس کتاب کے مصنف سید ظہیر الدین مدنی اردو کے ان گنے چنے ادیبوں میں سے تھے جن کی تحریریں افہام و تفہیم کی وضاحت کے لیے جانی جاتی تھیں۔ سلجھے ہوئے اسلوب اور تحقیقی نظر نے ان کی نگارشات کو تخلیقی آب و رنگ بخشا ہے۔ دس گیارہ سال کی عمر میں انھوں نے بانا، نبوٹ، چھری پٹا وغیرہ کی تعلیم حاصل کر کے اپنا شوق بھی پورا کیا۔ سید ظہیر صاحب نے 1939 میں ایم۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ پھر پروفیسر سید نجیب اشرف ندوی (بمبئی یونیورسٹی) کی نگرانی میں اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کیا۔ جس پر موصوف کو پی ایچ۔ ڈی کی سند تفویض ہوئی۔ تمام عمر تھکے بغیر اردو ادب کو اپنی گراں قدر تحقیق اور تنقید سے مالا مال کرتے رہے۔ امید ہے کہ اردو ادب اور تاریخ سے تعلق رکھنے والے قارئین خصوصاً طلبا کے لیے سخنورانِ گجرات، علم میں اضافے کا ذریعہ بنے گی۔