قومی اردو کونسل کی نئی مطبوعات:
ادب کسی بھی زبان کا ہو، اس کا مطالعہ زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مولوی محمد ذکاء اللہ کی کتاب “سوانح عمری حاجی محمد سمیع اللہ خاں بہادر سی۔ آئی۔ ای” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کتاب محمد سمیع اللہ خاں کے بارے میں جامع معلومات فراہم کرتی ہے تاکہ اردو کے قارئین محمد سمیع اللہ خاں کی شخصیت کے تمام اہم گوشوں سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ محمد سمیع اللہ خاں عرف میاں محمود جان جو 1834 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بچپن سے ہی ذکی اور ذہین تھے۔ ان کے خاندان میں علومِ مشرقیہ کے ساتھ ساتھ قانونی تعلیم کا بھی چرچا تھا۔ نومبر 1856 میں امتحان وکالت و منصفی میں جو زیر نگرانی مسٹر مارگن جج دہلی منعقد ہوا تھا شریک ہو کر انھوں نے شاندار کامیابی حاصل کی اور سب امیدواروں میں اول رہے۔ وہ ایک ہوشیار منصف اور ایک عمدہ جج تھے۔ تقریباً چار سال عہدہ منصفی پر کارفرما رہنے کے بعد انھیں وکالت کرنے کا شوق ہوا اور انھوں نے وکالت شروع کی۔ وکالت میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر لوگ اپنے معرکہ کے مقدمات میں انھیں وکیل کرتے تھے۔ بہر حال یہ خاندان صرف سلطنت مغلیہ ہی کے دور میں ذی وقعت و مرتبت اور رسوخ یافتہ نہیں رہا ہے بلکہ انگریزی عملداری ہونے پر بھی اس خاندان کی وہی عظمت قائم رہی اور وہی رسوخ و اثر بحال رہا۔ امید کی جانی چاہیے کہ مذکورہ کتاب علم میں اضافے کا سبب بنے گی۔
مولوی محمد ذکاء اللہ مورخ اور مترجم تھے۔ ان کی پیدائش دہلی میں یکم اپریل 1832 کو ہوئی۔ وہ بارہ برس کی عمر میں قدیم دہلی کالج میں داخل ہوئے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں درس و تدریس سے وابستہ ہوئے۔ پھر ڈپٹی کمشنر مدارس ہوئے۔ 1872 میں میو سینٹرل کالج الہ آباد میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہو گئے۔ انھوں نے بے شمار کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں تاریخِ ہند دس جلدوں میں ہے۔ علمی اور تاریخی خدمات کی وجہ سے خان بہادر شمس العلماء کا خطاب ملا۔ عربی فارسی کے علاوہ ریاضی میں بھی بڑی دسترس رکھنے والے شمس العلماء خان بہادر مولوی محمد ذکاء اللہ 7 نومبر 1910 میں وفات پاگئے۔