تلخیص
عصمت چغتائی اپنے عہد کی منفرد افسا نہ نگار رہی ہیں۔وہ ایک اچھی افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ، ناول نگار، خاکہ نگار، ڈراما نگار، مضمون نگار، فلم نگار، ڈائیلاگ نگار، فلمی کہانی نگا ر،سوانحی ناول نگار اور بچوں کی ادیبہ بھی ہیںاور ہر میدان میں انھوں نے اپنا وافر سر مایہ چھوڑا ہے۔ سو سے زائد افسا نے لکھے، دسیوں ناول ،ناولٹ لکھے۔ دو درجن سے زائد مضامین لکھے۔بیسیوں خاکے لکھے، اور تقریباً دس بارہ ڈرامے لکھے۔ ان تمام ڈراموں میں عصمت نے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔
1 ’فسادی‘ کا موضوع بزرگوں کے طے کردہ رشتوں سے متعلق ہے۔ جس پرنئی نسل معترض ہوتی ہے اور پھر ہوتی ہے بغاوت۔
2 ’ڈھیٹ ‘میں عورت کی ذات کا اظہار ہے۔ اس میں مرد عورت کے درمیان سماج نے جو امتیاز قائم کر رکھا ہے۔ اس کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
3 ’بنّے‘ کا موضوع متوسط ہندوستانی گھرانے میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کی محبت ہے۔
4 ’ پردے کے پیچھے سے‘ یہ انسانی نفسیات کی سچی کہانی ہے۔
5 ’ انتخاب‘ میں عصمت نے ہندوستان کی نئی تہذیب پیش کی ہے۔ جس میں صنفی امتیاز کی دیواریں گرادی ہیں اور مخلوط معاشرے کے ابھرتے مسائل کو پیش کیا ہے۔
6 ’ دھانی بانکیں‘ عصمت کا لافانی کہا جانے والا ڈراما ہے۔ جس نے عصمت کو بحیثیت ڈ راما نگار ادب میں شناخت دلائی۔ یہ تقسیم ملک کے واقعات پرمبنی ڈراما ہے۔ اس کا شمارفسا دات پر لکھے گیے چند اہم ڈراموں میں کیا جاتا ہے۔شامت اعمال،خواہ مخواہ اور دلہن کیسی ہے ہلکا پھلکا مزاحیہ ڈراما ہے۔عصمت کے تمام ڈرامے ، ڈراما نگاری کے فن پر پورے نہیں اترتے۔ کچھ کمزور تو، کچھ جاندار ہیں، لیکن عصمت نے اپنے ان ڈراموں میںجن مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ وہ عصمت سے پہلے اَن چھوئے تھے۔ یہ تمام سماج کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں جن کو عصمت نے اپنی تخلیق کا موضوع بنایا ہے۔
کلیدی الفاظ
عصمت چغتائی، ڈرامے، کلیاں، عورت اور مرد، ڈھیٹ، بنّے، پردے کے پیچھے سے، تصویریں، شیطان، متوسط ہندوستانی گھرانہ، صنفی تفریق، انسانی نفسیات، نئی تہذیب، مخلوط معاشرہ
عصمت کی اپنی زندگی اتنی ڈرامائی رہی ہے کہ عصمت نے جب تخلیقی سفر کی ابتدا کی تو شروعات ڈرامے سے ہی کی۔ عصمت کی یہ پہلی تخلیق ماہنامہ ساقی کے سالنامہ، جنوری 1938 میں شائع ہوئی۔ پھر ایک مکالمہ’ڈھیٹ‘، ساقی مارچ 38 میں شائع ہوا۔ پھر افسانے اور ڈرامے تخلیقی سفر میں دوش بدوش چلتے رہے اور 1939 میں ڈراما’بنّے‘،’ پردے کے پیچھے سے‘ اور’ انتخاب‘ شائع ہوئے اور ان دو سالوں میں افسانے’کافر‘،’خدمت گار‘، ’اف یہ بچے‘،’ گیندا‘،’نیرہ‘ اور’لہو‘شائع ہوئے۔ گویا ان دو سالوں میں کل پانچ ڈرامے اور چھے افسانے شائع ہوئے۔ 1941 میں مکتبہ اردو ادب، لاہور نے جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’کلیاں‘ شائع کیا تو اس میں بہ شمول چھ ڈراموں کے کل سترہ مشمولات شامل کیے گئے۔ 1942 میں ساقی بک ڈپونے جب اسی مجموعے کو شائع کیا تو اس میں بہ شمول چھے ڈرامے کے سترہ کے بجائے 16 مشمولات شامل کیے۔ 1942 ہی میں ساقی بک ڈپو اور ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ نے بہ یک وقت دوسرا افسانوی مجموعہ’ چوٹیں‘ شائع کیا توساقی بک ڈپو والوں نے افسانوں کے علاوہ ایک ڈراما ’ عورت اورمرد‘ بھی شامل کیا، جو علی گڑھ اڈیشن میں شامل نہیں ہے۔ اس کے بعد درج ذیل ڈرامے شائع ہوئے۔ تصویریں اور شیطان 1944 میں، دھانی بانکیں 1975 میں، دوزخ ، سویر ا شمارہ 24 میں شائع ہوئے۔ خواہ مخواہ، دلہن کیسی ہے، شامت اعمال کے کسی رسالے میں شائع ہونے کی شہادت نہیں مل سکی۔ ہاں ’دھانی بانکیں‘ کو کتب پبلی شرز لمیٹڈ بمبئی نے جون 1947 میں کتابی صورت میںشائع کیا۔ بقیہ ڈرامے افسانوی مجموعے میں تو شامل نہیں ہو سکے۔ ہاں 1955 میں نیاادارہ، لاہور نے ان کے چھے ڈراموں کا ایک الگ مجموعہ ’شیطان ‘کے نام سے شائع کیا تو اس میں شیطان، خواہ مخواہ، تصویریں، دلہن کیسی ہے، شامت اعمال اور دھانی بانکیں شامل کیے۔ دوزخ کے نام سے بھی ایک مجموعہ شائع ہوا ہے۔ جس میں اور مشمولات کے علاوہ ڈراما دوزخ شامل ہے، لیکن پبلشر اور سنہ اشاعت ندارد ہے۔
عصمت نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانے سے نہیں بلکہ ڈرامے سے کیا اور ان کی پہلی مطبوعہ تحریر ڈراما’فسادی‘ ہے جو ساقی، جنوری 1938 میں شائع ہوئی۔ عصمت خود فرماتی ہیں:
’’ میر ا سب سے پہلا مضمون جو چھپا وہ’ فسادی‘میرا ڈراما تھا۔‘‘1؎
ڈراما نگاری کا رجحان ان کے اندر بچپن ہی سے تھا۔ جب خاندان کے افراد جمع ہو کر گفتگو کرتے عصمت ان کے ڈائیلاگ نقل کرتیں اور پھر بعد میں سب کو سنایا کرتی تھیں ۔
اس عادت نے ان کے اس رجحان کو آگے بڑھایا۔ عصمت رقم طراز ہیں:
’’ مجھے کہانی لکھنا نہیں آتی تھی۔ ڈراما لکھنا آسان لگتا تھا۔ کیونکہ میں نے لکھنا ایسے شروع کیا تھا کہ اپنے خاندان میں جب سب جمع ہو جاتے تھے تو میں ایک کونے میں چپ بیٹھی ان کی باتیں سنا کرتی تھی اور اپنے رف بک میں جو ڈائیلاگ جو شخص بولتا اُسے لکھتی جاتی تھی۔ مجھے ڈائیلاگ لکھنے کا بڑا شوق تھا اور جب پانچ سات صفحے لکھ جاتے تھے تو میں ان سے کہتی تھی سنیے آپ لوگ کیا باتیں کر رہے تھے اور وہ ڈائیلاگ میں انھیں پڑھ کر سنایا کرتی تھی۔ گھر والے بڑے ہنستے تھے۔ ‘‘2؎
پھر دوران تعلیم نصابی ضرورتوں کے تحت یونانی اور بہت سی دوسری زبانوں کے ڈرامے پڑھے، لیکن دوسروں کی بہ نسبت برناڈ شا سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ برناڈ شا کے ڈرامے ان کی ڈرامہ نویسی کے محرک بنے اور انھوں نے اپنا پہلا ڈراما’فسادی‘ برناڈ شا سے متاثر ہو کر لکھا۔ جس کا اعتراف عصمت نے اپنی تحریروں میں خود بھی کیا ہے۔لکھتی ہیں:
’’ میٹرک کے بعد چار سال میں نے کورس کی کتابیں مجبوراً پڑھیں۔ یونانی ڈراما، پشن پلے اور شیکسپیئر سے لے کر ابسن اور برناڈ شا تک بہت کچھ پڑھ ڈالا – برناڈ شا نے میرا دل مٹھی میں لے لیا۔ میں نے اپنا پہلا مضمون یا ڈراما ’فسادی‘ برناڈ شا سے حد درجہ متاثر ہو کر لکھا۔ مواد میں نے اپنے اردگرد سے لیا اور اینٹ گارا برناڈ شا سے سیکھا۔‘‘3؎
فسادی عصمت چغتائی کا ایک ایکٹ پر مبنی ڈراما ہے۔جس میں کل آٹھ سین ہیں۔ ڈرامے کا موضوع بزرگوں کے طے کردہ رشتوں سے متعلق ہے۔ اس ڈرامے میں عزت کو ایاز کی منگیتر بنایا گیا ہے۔ الماس اور محمود کا رشتہ بچپن سے بزرگوں نے طے کر رکھا ہے، لیکن عزت نشاط کو پسند کرتی ہے اور نشاط عزت کو پسند کرتا ہے۔ نشاط اس کا اظہار بھی کرتا ہے اور بزرگوں کے فیصلے پر اعتراض بھی کرتا ہے، لیکن عزت بزرگوں کے فیصلے سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کرتی۔ نشاط، عزت کے متعلق کہتا ہے :
’’ عزت بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، لیکن خود سے نہیں۔ اس لیے تو مجھے اُس سے ہمدردی ہے۔ خواہ تم لوگ اُسے ایک ہفتہ بعد ہی ایاز کی بیوی بنا دو۔ کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہ پیدا ہوتے ہی ایاز کی بیوی بننے کے لیے مقررکر دی گئی۔ وہ عادی ہے کہ صرف ایاز کی ہی بیوی رہے۔ خواہ وہ نشاط کو چاہے۔ دنیا ڈرپوک ہے۔ اس لیے وہ بھی ڈرتی ہے۔ اعتراض سے ڈرتی ہے۔ اعتراض یہ ایک تیسرا گھناؤنا لفظ ہے۔‘‘ 4؎
نشاط، عزت کے منگیتر ایاز کا چھوٹا بھائی ہے۔ جو اپنی طرح طرح کی حرکتوں سے ہر وقت عزت کو تنگ کیا کرتا ہے۔ کبھی بھائی کے خلاف بھڑکا کر کہ وہ تم سے نفرت کرتے ہیں، ان کی چاہت کوئی اور ہے۔ وہ تو مجبوراً تمھیں چچی کا دل رکھنے کو قبولیں گے ۔تو کبھی مطالعے میں غرق نشاط کے کمرے میں پیچھے سے داخل ہوکر بلب بجھا دیتا ہے۔ غرض کہ دونوں کے درمیان ہنسی مذاق برا برہوتارہتا ہے۔ خفگی بھی ہوتی ہے، لیکن روز روز کی چھیڑ چھاڑ سے دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے جذبات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔
نشاط:( پلنگ پر اس طرح بیٹھ جاتا ہے کہ ایک ہاتھ عزت کے اوپر سے لے جاکر دوسری طرف پلنگ کی پٹی پر رکھے ہے)، بہت گال پھول چکے تھے (ہلکے سے نوچتا ہے) میں کہتا ہوں کہ اب تو مجھ سے چوگنے ہیں۔
عزت: دیکھو میں اٹھ کر چلی جاؤں گی اگر تم نے مجھے دق کیا۔ (اٹھنا چاہتی ہے)
نشاط:(نہیں اٹھنے دیتا) اور جھک کر گال پر پیار کرتا ہے۔( خاموشی سے اس کے رخسار پر رخسار رکھ دیتا ہے) عزت -میری عزت۔عزت(عزت کچھ مسحور سی آنکھیں پھاڑ کے خلا میں گھور رہی ہے) 5؎
ڈرامہ کا پلاٹ سیدھا سادا ہے اور یک رخا ہے۔ عصمت چغتائی نشاط کی محبت کو واقعات کے ذریعے آہستہ آہستہ سامنے لاتی ہیں۔ ڈرامے کا نقطہ عروج وہی ہے۔ جہاں نشاط عزت کے منگیتر ایاز کے سامنے عزت کے ساتھ اپنی محبت کا اعتراف کرتا ہے۔ جبکہ عزت بھی کمرے میں موجود ہے اور جب ایاز عزت سے اس کی تصدیق چاہتا ہے تو وہ اعتراف کے طور پر دبی سسکیوں سے رونے لگتی ہے۔ ڈرامے میں یہاں کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد ڈرامہ عزت کی، مسوری کے لیے روانگی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
ڈرامہ کے تمام کردار عام زندگی کے سیدھے سادے کردار ہیں،الماس، محمود ،ایاز اور عزت نوجوان کردار ہیں۔ زندگی سے لطف اندوزی ان کا مقصد ہے۔
مگر یہ تمام کرداربزرگوںکااحترام کرنے والے نیک صالح اور فرمانبردار قسم کے ہیں جو بزرگوں کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ نشاط سب سے چھوٹا ہے، اس کی فطرت میں چلبلاپن ہے، وہ آزاد خیال ہے اورسب سے جاندار کردار بھی ہے۔اس کی جانداری کو اس کے مکالموں کے ذریعے سامنے لایا گیا ہے۔ وہ عزت سے چار سال چھوٹا ہے، لیکن وہ عزت کو پسند کرتا ہے اور برملا اُس کا اظہار بھی کرتا ہے۔اس کی طبیعت میں شوخی ہے اس لیے وہ بزرگوں کے زبردستی کے ٹھونسے ہوئے فیصلوں کے خلاف ہے اور آزادانہ سوچ اور فیصلوں کا قائل ہے۔ فردکی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ معاشرے کی نام نہاد روایتوں اور جبر کے خلاف ہے جس کا وہ بر ملا اظہار کرتا ہے۔ معاشرے کے ذریعے گڑھے گیے معیوب، عجیب اور قابل اعتراض الفاظ اس کے نزدیک بے معنی ہیں، معاشرے کی روایتوں اور جبر کے نتیجے میں یہ الفاظ وجود میں آتے ہیں، جس کے معنی ہرکسی کے لیے الگ الگ ہیں۔
اِس ڈرامے میں کل آٹھ کردار ہیں، لیکن جن کرداروں کو اس ڈرامے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ محض دو ہیں یعنی عزت اور نشاط – پورا ڈراماہی دونوں کے گرد گھومتا ہے۔ اماں جان، مورا اور جولی کے کردار ڈرامے کے دوتین سین میں دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ کردار ڈرامے میں محض دلچسپی پیدا کرنے کے لیے شامل کیے گیے ہیں۔ مکالموں کو کردار کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جس میں عصمت کو خاص مہارت حاصل ہے۔ یہ ڈرامہ ایک گھر کی پوری زندگی کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہے کہ پورا گھر جیتا جاگتا اسٹیج بن گیا ہے۔ اس میں جذبات نگاری اپنے عروج پر ہے۔بقول صلاح الدین احمد :
’’عصمت نے اس ڈرامے میں’’جدید ہندوستانی عورت، ماڈرن انڈین گرل کی نفسیاتی نشو و نما پر بالکل نئے زاویوں سے روشنی ڈالی ہے اور اس کی زیر تعمیر فطرت کے چند ایسے گوشوں کو بے نقاب کیا ہے جو اب تک ناظر اور نقاد کی نگاہوں سے اوجھل تھے۔‘‘6؎
عصمت کا اولین ڈراما ہونے کی حیثیت سے عصمت کی غیر معمولی قوت مشاہدہ ہمیں حیرت میں غرق کر دیتی ہے۔ عزت ایک ترقی یافتہ ماڈرن گرل ہونے کے باوجود فطرت کے اعتبار سے ہندوستانی نسائیت ہی کی ایک جدید تصویر ہے۔ وہ نشاط کی سچی محبت سے بے حد متاثر ہے۔ عزت محبت کی اس نفسیاتی سرحد پر کھڑی ہے جہاں آگے پہاڑ پیچھے کھائی ہے۔جہاں سے فقط ایک قدم آگے کیف ونشاط کی جنت اور ایک قدم پیچھے محرومی وحسرت کے دوزخ ہے۔ ایک غلط فیصلہ اسے کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے عزت باہوش وشعور ہے اور وہ اگلا قدم نہیں اٹھاتی۔
عصمت کا دوسرا ڈراما ’ڈھیٹ‘ ہے۔دراصل یہ دو فرد کے بیچ مکالمہ ہے۔ اسے ڈراما کہنا درست نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ اس میں ڈرامائی عناصرنہیں ہیں، بلکہ سیدھا سادہ بیان ہے۔ ’وہ ‘کے پردے میںمرد بول رہا ہے اور’ میں‘ عورت کی ذات کا اظہار ہے۔ اس مکالمے میں ’’میں اور وہ‘‘ کردار کے ذریعے عصمت نے معاشرے کے اس فرق اور امتیاز کا مذاق اڑایا ہے جو وہ عورت اور مرد کے درمیان روا رکھتا ہے۔ ایک بات یا ایک عمل جو مرد کے لیے ٹھیک ہے، وہی عمل عورت کے لیے غیردرست اور باعث شرمندگی قرار پاتا ہے اور عورت کو کمتر سمجھ کر اس کے تمام حقوق حتیٰ کہ آزادی رائے کابھی استحصال کیا جاتا ہے۔ ایک مثال دیکھیے:
’’وہ : مرد چاہے جو کچھ کریں، مگر عورت اگر اظہارِ محبت یوں دیدہ دلیری سے کرے تو اسے معیوب سمجھتے ہیں۔
میں : اگرتمھیں میرے عشق میں دیوانہ ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے تو کسی کی مجال نہیں کہ مجھے تمھارے لیے اپنا گلا گھوٹنے سے روکے۔ میں جس طرح چاہوں اپنے خیالات کا اظہار کروں کوئی ہوتا کون ہے۔‘‘7؎
عصمت نے اپنے مخصوص انداز میں مرد اور اس کے قائم کردہ یک طرفہ نظام اخلاق کے خلاف علم بغاوت بلند ہے اور سماجی عدم مساوات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جسے مرد معاشرے نے عریانیت سے تعبیر کیا۔ جبکہ عصمت کا مقصد عورتوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ مردوں سے کسی بات میں کم نہیں ہیں۔ اگر مرد عورتوں کا اغوا کر سکتے ہیں تو عورتیں بھی ڈھیٹ کی ہیروئین کی طرح مردوں کو اڑا سکتی ہیں۔ لہٰذا یہ تفریق مناسب نہیں ہے بلکہ مرد معاشرہ سماج کا بنایا ہوا ہے۔ اس طرح کا احساس پیداکرکے عصمت عورت کو سماجی تاریخ کے اس دھارے کے خلاف اپنے منصفانہ حقوق کے حصول کے لیے بیدار کرنا چاہتی ہیں، جسے اس سوسائٹی نے جبریہ طور پر دبار کھا ہے۔عصمت عورتوں کو اس طرح آگاہ کرتی ہیں:
’’ کبھی تمھارے دل میں اپنی جنس کی بہتری کا خیال بھی آتا ہے۔ کبھی یہ بھی سوچتی ہو کہ ہم کب تک ظالم مردوں کی حکومت سہیں گے۔ کب تک وہ ہمیں لونڈیاں بنائے چہار دیواری میں قید رکھیں گے۔‘‘8؎
عصمت سماجی صداقت کو زندگی کی بے رحم روشنی میں گھسیٹ لاتی ہیں اور حق پرستی سے ہمیں انسانی فطرت کی پابندیوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ڈھیٹ کے متعلق وارث علوی کی یہ رائے مجھ سے بہت حدتک میل کھاتی ہے کہتے ہیں :
’’ڈھیٹ آٹھ صفحوں کا ایک مکالمہ ہے ’وہ اور میں‘ کے بیچ جس میں وہ ایک مرد ہے اور میں اس کی منگیتر ۔ یہ ڈراما نہیںکیونکہ اس میں کوئی عمل نہیں ہے بحث ہے تکرار ہے جھگڑا ہے۔ بات بڑھتی ، بگڑتی اورسمٹتی ہے۔یہ پورا مکالمہ اجمال، نکیلا پن اور دھار دار کٹیلی گفتگو کا جگمگاتا فن پارا ہے۔ اس میں مرد کی عورت پر برتری کے تمام مراعات عورت کی طباعی طنز اور چرب زبانی کی زدمیں ہیں۔مرد کا ہر وار خالی جاتا ہے اور عورت کے لفظی داؤ پیچ میں وہ خود کو ہمیشہ بے دست وپا پاتا ہے ۔ ڈھیٹ بھی عصمت کی بہترین مزاحیہ تحریروں میں سے ہے۔‘‘9؎
ڈراما’بنے‘ بھی اوسط درجے کا ڈراما ہے۔ اس کا موضوع متوسط ہندوستانی گھرانے میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کی محبت ہے۔ اس ڈرامے کے تین مرکزی اور اہم کردار ہیں۔ بنے، زہرہ اور الہ بی۔ بنے اور زہرہ خالہ زاد بھائی بہن ہیں جبکہ الہ بی، بنے اور زہرہ دونوں کی خالہ ہیں اور وہی ان کی پرورش کر رہی ہیں۔بنے ایک چلبلا، نٹ کھٹ ، شریر اور بلا کا ذہین نوجوان ہے، جسے پڑھنے کا بے حد شوق ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خود سر، منھ پھٹ ، لڑاکا اور بزرگوں کی باتوں میں پٹاپٹ بولنے والا نوجوان ہے اور الہ بی کا دلارا ہے ۔ اس کے بر عکس زہرہ دبلی پتلی ڈرپوک ، سادگی پسند سلیقہ مند اور سگھڑ لڑکی ہے۔ بنے اور زہرہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن اظہار نہیں کر پاتے۔ زہرہ کے لیے ڈپٹی صاحب خود اپنا رشتہ لے کر آتے ہیں جو شادی شدہ اور بچوں کے باپ ہونے کے باوجود دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن بنّے اپنی غربت کے ساتھ ساتھ زہرہ کی بد مزاجی،بد تمیزی اوراس کی بد عادات کا ایسا نقشہ پیش کرتا ہے کہ ڈپٹی صاحب گھبرا کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ دو سال بعد جب بنّے خود پی سی ایس امتحان پاس کر کے بڑا افسر بن جاتا ہے تو پھر زہرہ سے اپنی محبت کا اظہار کر دیتا ہے اور زہرہ اس کو قبول کر لیتی ہے۔
ڈرامے میں بنّے اور زہرہ روایتی ہیرو ہیروئین ہیں۔ دونوں میں چھیڑ چھاڑ ، نوک جھونک بالکل روایتی ہے۔بنّے اپنی چلبلی حرکتوں سے زہرہ کو ہروقت پریشان کرتا ہے۔ دراصل یہ نوک جھونک یہ چھیڑ چھاڑ رومانی فضا تو بناتے ہیں، لیکن اس میں شدت کی وہ گرمی نہیں جو دو جوان رشتوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ مکالمے پھسپھسے اور بے جان ہیں۔ کردار روایتی ، عام اور سپاٹ ہیں۔ کوئی چونکا دینے والی بات کسی کردار میں نہیں۔ جہاں تک انسانی جذبات نگاری کا تعلق ہے تو وہ اس ڈرامے میں بھر پور ہے، لیکن اس کی رگ وپے میں وہ تماشائیت نہیں ہے جو ڈرامے کو ڈرا ما بناتی ہے۔ ایکٹنگ ، ادا ،کر دار کا عشوہ جو ڈرامے کے مزاج پر فیصلہ کن اثر ڈالتے ہیں، وہ یہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اس کی بنت ڈرامے کے فنی اصولوں پر پوری نہیں اترتی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈرامے کی تکنیک پورے طور پر عصمت کے قابو میں نہیں آسکی ہے۔یہ ڈرامہ عصمت کے کمزور ڈراموں میں شمار کیا جائے گا ۔
’ پردے کے پیچھے سے‘ عصمت کا چوتھا ڈرامہ ہے جو چارسین پر مبنی ہے۔ یہ ڈراما ساقی میں اکتوبر 1939 میں شائع ہوا تھا۔ عصمت نے علی گڑھ سے پرائیوٹ کینڈیڈیٹ کی حیثیت سے 1936 میںبی اے پاس کیا۔ چند سال مختلف اسکولوں میں ملازمت کرنے کے بعد ملازمت کی ضرورت کے پیش نظر 1939 میں بریلی اسلامیہ گرلس کالج کے پرنسپل کے عہدے سے استعفیٰ دے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ٹی میں داخلہ لیا۔ ادبی زندگی کا آغاز جنوری 38 میں ڈرامافسادی کی تخلیق سے ہو چکا تھا اور 38 میں پانچ تحریریں شائع ہوچکی تھیں۔ 39 میں 6 تحریریں شائع ہوئیں۔’پردے کے پیچھے سے‘ ان میں سے ایک ہے۔ یہ ڈراما بی ٹی کی کلاس کے تجربات پر مبنی ہے۔ اس وقت تک وہاں مخلوط تعلیم کا رواج نہیں تھا اور بی ٹی میں صرف لڑکے پڑھتے تھے۔ عصمت نے کالج کی انتظامیہ سے مل کر لڑکیوں کے پڑھنے کے لیے پردے کاخصوصی انتظام کرایا— وہ بھی اس طرح کے آگے کی سیٹ پر لڑکے بیٹھتے تھے اور پچھلی سیٹ پرپردے کا اہتمام کیا گیا۔ پردے کے پیچھے چند لڑکیاں تھیں جن کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا۔ ان میں زہرہ ،عذرا، طفیل، زہرہ نمبر 2 اور سعیدہ تھیں۔ ’پردے کے پیچھے سے‘ کا ماحول تعلیمی سے زیادہ رومانی بن چکا تھا۔ یہاں جنس مخالف کے تئیں جو فطری جذبات ہوتے ہیں اس کی بھر پور عکاسی ہو رہی ہے۔ جذبات نگاری عروج پر ہے۔ انسانی نفسیات حقیقت سے قریب ترہے۔دل کی دھڑکنوں پر لگام لگانے کی کوشش کے باوجود جذبات پر کمندیں ڈالنا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ ان کرداروں کے ذریعے تمام تر شرارتوں کے باوجود انسانی رشتوں کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا گیا۔ شرارت لڑکیاں کرتی تھیں ڈانٹ لڑکوں کو پڑتی تھی۔ جیسا کہ سماج کا رواج تھا۔ اسے ڈرا مہ تو نہیں کہہ سکتے ۔ہاں ڈرامہ نما ایک دلچسپ تحریرضرور ہے۔ اس میں نوجوانی کے دنوں کے خواب اور اس خواب کی تعمیر کی تلاش کی ایک حسین اور دل آویز کوشش ضرور ہے۔ یہاں عصمت کی شخصیت کا چلبلا پن اور ان کی اپنی شرارتیں نت نئے انداز سے سامنے ضرورآئی ہیں۔ کشمکش اور تجسس کی کیفیت بھی ہے،لیکن ڈرامائیت نہیں ہے۔ بحیثیت ڈراما نگار عصمت یہاں بھی کامیاب نہیں ہیں۔
فضیل جعفری بھی میری رائے سے مکمل اتفاق کرتے نظر آرہے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’ پردے کے پیچھے سے‘‘ تو ایک نہایت ہی معصوم اور بے ضرر قسم کا مکالمہ ہے اس میں پردے کے پیچھے بیٹھی ہوئی طالبات پردے سے باہر موجود طالب علموں کے متعلق اپنی اپنی پسند یا یوں کہیے اپنے تخیلی شوہروں کے بارے میںا ظہارِ رائے کرتی ہیںاور ان کی سہیلیاں ایک دوسرے کے پسندیدہ لڑکوں کے بارے میں چہلیں اور چھیڑ چھاڑ کرتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ محض اوپری چھیڑ چھاڑ ہے۔‘‘ 10؎
قرۃالعین حیدرکی رائے بھی پردے کے پیچھے سے کے بارے میں کچھ اس قسم کی ہے۔ لکھتی ہیں کہ:
’’عصمت چغتائی علی گڑھ گرلس کالج میں شاید 1938میں میری چچازاد بہنوں کی ہم جماعت تھیں۔ ان ہی دنوں مسلم یونیورسٹی میں مخطوط تعلیم اس طرز پر شروع ہوئی تھی کہ کلاس میں ایک اسکرین لگادی جاتی تھی۔ اس کے پیچھے بیٹھ کر لڑکیاں لیکچر سنتی تھیں۔اس زمانے کے متعلق عصمت آپا کاایک افسانہ ’پردے کے پیچھے‘ شائع ہوا۔ یہ بہت ہی معصوم قسم کا خاکہ تھا۔جس میں انھوں نے لڑکیوں کے پس پردہ ہنسی مذاق اور فقرے بازی کا نقشہ کھینچا تھا، لیکن بہت جلد’پردے کے پیچھے‘ عصمت کے ادب کا استعارہ بن گیا۔کیونکہ انھوں نے ہندوستانی سماج کی ریاکاریوں کا پردہ فاش کرنے کی ہمت کی۔وہ ایک باغی عورت کہلائیں اور اپنی اس حیثیت سے بے حد مسرور اور لطف اندوز ہوئیں۔انھیں لوگوں کو چونکانے اور مروجہ اقدار کی مخالفت کرنے کا فن آتا تھا۔ ‘‘ 11؎
’انتخاب‘ کا شمار عصمت کے قدرے اچھے ڈراموں میں ہوتا ہے۔ یہ چارسین پر مشتمل ڈراما ہے۔ جس کے چار مرکزی کردار خالہ بی، شمیم، واجد اور عالم ہیں۔کہانی ان چاروں کے اردگرد گھومتی ہے۔ شمیم، واجد کی بہن ہے جبکہ عالم واجد کا دوست ہے۔ خالہ بھی ادھیڑ عمر کی امیر بیوہ ہیں، لیکن اپنی عمر سے کم نظر آتی ہیں۔ اس ڈرامے میں عصمت نے جدید ہندوستان کی نئی تہذیب پیش کی ہے۔ جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے آزادانہ میل جول پر کوئی پابندی نہیں ہوتی، نہ ہی اعتراض کیا جاتا ہے۔ عالم واجد کا دوست ہے وہ اس کی بہن شمیم کو پسند کرتا ہے اور شمیم بھی عالم کو پسند کرتی ہے۔ جبکہ خالہ بی خود بھی عالم کو پسندکرنے لگتی ہیں۔ اس لیے وہ شمیم اور عالم کے میل جول سے حسد کرتی ہیں۔ چونکہ تینوں جوان ہوچکے ہیں ۔اس لیے عالم کا بلا تکلف اور بے روک ٹوک گھر میں آنا خالہ بی کو ناگوار لگتا ہے۔ وہ منع بھی کرتی ہیں اور شمیم کو بھی تنبیہ کرتی ہیں کہ تمھارا اس طرح بے پردہ عالم کے سامنے آنا مناسب نہیں۔ شمیم خالہ کی بات مان کر عالم سے ملنے جلنے سے پر ہیز کرنے لگتی ہے۔ اتنی بے تکلفی کے باوجود ابھی تک عالم اور شمیم نے ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا ہے۔ خالہ بی چونکہ خود عالم کو پسند کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ موقعے کی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح عالم اور شمیم کے بیچ بد گمانی پیداکرا دیں تاکہ عالم انھیں مل جائے۔ ایسا انھوں نے کیابھی۔ ایک دن ایک خط جس میںخالہ نے اظہارِ محبت کیا ہوتا ہے۔ عالم کو بتائے بغیر اس کی جیب میں ڈال دیتی ہیں۔جوکسی طرح شمیم کے ہاتھ لگ جاتا ہے اس طرح شمیم اور واجد عالم سے بدگمان اور بد دل ہو جاتے ہیں اور خالہ کا گھر چھوڑ کر دوسرے اپنے شہر چلے جاتے ہیں۔ بعد میں انھیں خط کے پرزوں کو جوڑ کر پڑھنے سے صحیح صورت حال کا علم ہوتا ہے اور ساری کہانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ ادھر خالہ میدان صاف دیکھ کر عالم سے اپنے دل کی بات کہنے لگتی ہیں تو عالم کو ناگوار لگتا ہے اور وہ خالہ بی کہتاہے اور چلا جاتا ہے۔ خالہ نا امید اور بد دل ہو جاتی ہیں۔ اس سے یہ نصیحت ملتی ہے کہ دوسروں کے لیے برا چاہنے والوں کا بھی بھلا نہیں ہوتا۔
ڈرامے کا پلاٹ بہت گٹھا ہوا اور جاندار نہیںہے، لیکن تکونی محبت کا تجسس قاری کو ڈرامہ پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے، یہاں واقعات کا بیان اتنا سپاٹ ہے کہ یہ سسپنس پلاٹ میں کوئی جان ڈالنے سے قاصر رہتا ہے۔ ڈرامے میں کئی جگہ ابہام کی کیفیت ہے جو غیر واضح ہے۔ مثلاً خالہ بی کے خط لکھنے اور واجد کی جیب میں ڈالنے کا بیان خاصا مبہم ہے۔ خالہ بی کا ادھورا سا مکالمہ ہاں وہ خط تمھاری جیب… 12؎ بڑی مشکل سے قاری کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ خالہ بی کس خط کا ذکر کر رہی ہیں۔ جب شمیم کتاب کھول کر وہ کا غذ نکالتی ہے تو وہ مسلا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں بیان میں بے حد تضاد ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’شمیم: (خود بخود) مکار کہیں کا۔
’’ کتاب کھول کر ایک مسلا ہوا کا غذ نکالتی ہے اور پڑھ کر غصہ سے پھاڑنا چاہتی ہے، لیکن دو ٹکڑے کر کے آگے نہیں پھاڑتے واپس رکھ دیتی ہے۔ پھر چند چھوٹے پرزوں کو جوڑ کر پڑھنا چاہتی ہے۔‘‘13؎
’’دوٹکڑے اور چند چھوٹے پرزوں کے بیچ بیان میں ابہام ہے۔ جب پہلے شمیم کا غذ کے صرف دو ہی ٹکڑے کرتی ہے تو یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کہاں سے آئے۔ ڈرامہ میں کشمکش ہے اور یہ اس وقت شدت اختیار کر لیتا ہے۔(’’جب واحد اٹیچی اٹھاکر شمیم کی کمر میں پیار سے ہاتھ ڈال کر اُسے لے جاتا ہے‘‘) عالم عجیب پریشانی کے عالم میں ڈھیلا ڈھالا کھڑا رہ جاتا ہے۔ گو یاکسی نے اُسے کچل دیا ہو۔‘‘14؎
یہ کشمکش شمیم اور واجد کے عالم اور خالہ کو چھوڑ کر جانے پر ختم ہو جاتی ہے اور خالہ بی کی پیش کش کو جب عالم ٹھکرا دیتا ہے توڈرامہ اپنے اختتام پر پہنچ جاتا ہے:
خالہ بی : پژمردہ ہو کر گردن جھک جاتی ہے ، عا… آلم… 15؎
ڈرامے کے تمام کردارمتوسط طبقے کے عام اور معمولی کردار ہیں جو بالکل سپاٹ ہیں۔ ان میں زندگی کی وہ رمق نہیں ہے جو ڈرامے کو رفعت عطاکر سکے۔ نہ ہی پلاٹ میں کوئی پیچ و خم ہے ۔بلکہ وہ بھی کردار کی طرح سپاٹ ہیں۔ ہاں آخری منظر میں عصمت نے جو تشبیہات استعمال کی ہیں وہ لا جواب ہیں اور عصمت ان معنوں میں اوروں سے مختلف نظرآتی ہیں۔ یہ نادر اور پر معنی تشبیہات عصمت کے قیمتی خزانے ہیں جو انھیں سے مختص ہیں ملاحظہ فرمائیے:
’’ اس کے جاتے ہوئے پیروں کی آواز کو ایک نغمے کی طرح کان لگاکر سنتی ہیں۔ ذرا دیر میں ان کی نظر اس کی ٹوپی پر پڑتی ہے جو وہ گھبراہٹ میں بھول گیا۔ عجیب انداز میں بڑھ کر اُسے اٹھا لیتی ہیں ایک تبرک اور نازک مجسمے کی طرح اُسے دیکھتی ہیں۔ ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں پھیکی ہوکر بندہو نا شروع ہوتی ہیں اور بڑے بڑے بے رونق آنسو رخساروں پر ڈھلک آتے ہیں۔ گردن ذرا پیچھے گرجاتی ہے اور وہ ٹوپی کو آہستہ آہستہ سہلاتی ہیں۔ جیسے دل شکستہ ماں اپنے بے جان بچے کو ٹٹولتی ہے۔‘‘16؎
مذکورہ بیان میں عصمت چغتائی نے خالہ بی کی مایوسی ، دل شکستگی کا نقشہ جس تفصیل اور جزئیات کے پورے بیان کے ساتھ کھینچا ہے یہ معمولی فن کاری نہیں۔ صلاح الدین احمد اس کی داد ان لفظوں میں دیتے ہیں :
’’خالہ بی کی عمر، ان کی بے اولادی اور ان کی پہلی اور آخری محبت کی بد انجامی پر غور کریں اور پھر اس نادر تشبیہ کی داد دیجیے۔ عالم کی ٹوپی فن کاری کے جس کمال سے ’سمبل ازم‘ کی تمام منزلیں طے کر کے ادھیڑ عمر اور خوبصورت بیوہ کا بے جان بچہ بن جاتی ہے۔ وہ کچھ عصمت کا ہی حصہ ہے۔‘‘ 17؎
پطرس بخاری کی رائے اس ڈرامے کے بارے میںیہ ہے ،لکھتے ہیں:
’’ انتخاب کے واقعات پیشتر اس کے کہ سمجھ میں آسکیں بہت کچھ وضاحت کے محتاج ہیں۔ ڈرامہ نویس عدم تعاون پر مجبور ہے اور کیریکٹروں کو تعاون کا سلیقہ نہیں۔ ان حالات میں ڈرامہ کا میاب ہو تو کیونکر؟ ‘‘18؎
پطرس بخاری کی رائے سے میں اتفاق کرتا ہوں۔ یہ کمی اس ڈرامے میں اپنی بقیہ خوبیوں کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ اس ڈرامے میں نفرت و محبت کے جذبات کی خوبصورت منظرکشی کی گئی ہے اور بوڑھی عورتوں کی قدم قدم پر ٹو کاٹا کی اور رخنہ اندازی نے اس ڈرامے کو قدیم و جدید تہذیب کا سنگم بنا دیا ہے۔
عصمت کا ڈراما’ عورت اورمرد‘ ایسا ڈراما ہے جس میں معاشرے کے سفید پوش انسانوں کی عیاری ومکاری ان کی سیاسی چالوں اور منافقت پر گہرا طنز ہے۔ جس میں عصمت نے سماج کے اعلیٰ طبقے کے ان سفید پوش قوم پرستوں، مصلحت اندیشوں اور عزت دار لوگوں کو ہدف ملامت بنایاہے۔ جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتا ہے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ جیساکہ زبیدہ کے والد اور چچا اپنی سیاسی بقا کے لیے خود اپنی بیٹی کو قربان گاہ پر چڑھا دینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کے لیے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے ایک غریب لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر کے اپنی سیاسی بقاکی زمین کو مضبوطی فراہم کرتے ہے۔
جب زبیدہ کے محمود کے ساتھ بھاگ جانے کی اطلاع جج صاحب (زبیدہ کے والد)کو اخبار کے ذریعے ملتی ہے تو انھیںبیٹی کے بھاگ جانے کی ذلت سے زیادہ اپنی سیاسی زمین کے کھسک جانے کا اندیشہ ستانے لگتا ہے اور زبیدہ کے چچا نیا ز کو خاندان کی ناک کٹنے کی ذلت سے زیادہ یہ خوف ستانے لگتا ہے کہ زبیدہ کے اس اقدام کی وجہ سے ان کی بیٹیوں کے رشتے کھٹائی میں پڑ جائیں گے۔ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور اس سے سیاسی فوائد کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے واقعے کو اس سمت موڑ دینے کا سوچ لیتے ہیں۔ سیاست کی منافقانہ چالوں کے عادی ہونے کی وجہ سے وہ زبیدہ کے اس قدم اور جبر کو ایک خوبصورت موڑ دے دیتے ہیں۔ یعنی ایک غریب اور مفلوک الحال خاندان کے لڑکے سے جج صاحب کی بیٹی کی شادی اس لیے کہ جج صاحب اپنی فراست ذہنی اور وسیع القلبی سے غریبوں کے ہمدرد شمار کیے جائیں گے اس طرح الیکشن میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کر پائیںگے۔ جبکہ یہی جج صاحب پہلے رشید کا رشتہ اس کی غربت کی وجہ سے ٹھکرا چکے تھے،لیکن اب سیاسی مفاد کی خاطر اس زہر کو قند سمجھ کرہضم کر لیتے ہیں۔
عصمت اس ڈرامے میںسیاسی عیاری ومکاری سے پردہ ہٹاتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کس طرح سیاسی طبقہ میںعزت اور بے عزتی کے معیار سیاسی مفادات کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں اور وہ اپنی زندگی سے وابستہ ہر واقعے یا حادثے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں ۔
ڈرامے کے کردار رشید، جج صاحب، نیاز صاحب، بیگم صاحبہ اور زبیدہ اپنے طبقے کے نمائندہ کردار ہیں، لیکن ڈرامے کا پلاٹ جس طرح سیدھا سادھاہے، کردار میں بھی فعالیت نہیںہے ان میں کوئی ارتقائی کیفیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔
صرف محمود کے کردار میں کچھ جان ہے۔ جس طرح وہ زبیدہ کو ٹرین میں اپنے ساتھ شادی کرنے پر رضا مند کرنے کے لیے حربے استعمال کرتا ہے مثلاً زچ کرنا، دھمکی دینا وغیرہ تو اس کی ان حرکات کی وجہ سے اس کے کردار میں ایک شوخی اور جان محسوس ہوتی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پورے ڈرامے میں دلچسپی اور جوش کا اگر کوئی عنصر ہے تو وہ محمود کے کردار اور اس کی حرکات کے طور پر موجود ہے۔
ڈرامے کے مکالمے بھی سطحی اور بے جان ہیں۔ ان مکالموں سے پلاٹ کو مضبوط اور جاندار ہونے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ یہ مکالمے کرداروں کے عمل یاڈرامہ میں کوئی چونکا دینے والی حیرت انگیزی یا دلچسپی سے بھر پور کوئی تاثر پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
عصمت ڈرامے کی صنفی اور فنی خصوصیات کو اس میں کامیابی سے نہیںبرت پائی ہیں ۔ ڈرامے کا موضوع اہم ہونے کے باوجود ڈرامہ صنفی طور پر کمزور ہے۔
عصمت نے ڈراما’تصویریں‘ میں ایک ایسے ذہنی مریض’سعید‘کی کہانی پیش کی ہے جو ہمیشہ لڑکیوں کے بارے میں سوچتارہتا ہے۔ اس کی عریاں تصویریں اپنے ذہن و دل کے ساتھ اپنے کمرے کی دیواروں پر بھی چسپاں رکھتا ہے۔ لڑکیوں سے متعلق خیالی پلاؤ پکاتا ہے، لیکن جب حقیقت حال سے سامنا ہوتا ہے تو خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ سعید جیسے لوگوں کی ذہنیت اور نفسیات کو اس ڈرامے کے ذریعے پیش کر کے عصمت نے خام خیالی قسم کے لوگوں کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
ڈرامہ کے موضوع کا تعارف عصمت خود اس انداز میں کرواتی ہیں:
’’ہم سوتے جاگتے کتنے خواب دیکھتے ہیں کچھ تو ایسے بے تکے، بے ہنگم جس کا سر نہ پیر ۔ کچھ ہمارے دماغ کے عجیب و غریب واہمے مختلف صورتوں میں ہوتے ہیں۔ ہمارے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہی معمولی باتیں کی جو ہم جاگتے میں سوچتے ہیں۔ بھیس بدل کر خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ ‘‘
خواب ایک نفسیاتی عمل ہے۔ نفسیات میں خواب کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
’’ خواب دبی ہوئی خواہشات اور غیر محسوس خوف کا نتیجہ ہیں۔ جن چیزوں سے ہم جاگتے میں فرار چاہتے ہیں۔ سوتے میں ہمارے قابو سے نکل کر ہمارے اوپر قابض ہوجاتی ہیں اور ہماری قلعی کھول دیتی ہیں ۔‘‘19؎
یہ ڈرامہ تین کرداروں سعید، نیلو اور شمیم پر مشتمل ہے۔ سعیدنے نیلوفر کا ایک خیالی کرداراپنے دل میں گڑھا ہوا ہے جو اس کے خواب کی ایک ایسی لڑکی ہے جس کے وجود میں لا شعور میںچھپی ہوئی وہ اپنی خواہشات اور حسرتوں کی تکمیل دیکھتا ہے اور شمیم جو محبت کے چٹ پٹے قصے سننے کا شوقین ہے، اسے بتاتا ہے۔ نیلو فر اس کے خواب میں اس کے امیر باس کی اکلوتی بیٹی کے طور پر موجود ہے۔ امیر باس اُسے اپنا گھر داماد بنانا چاہتا ہے اور اپنی بیٹی کے ساتھ اپنی تمام دولت اس کو سونپ دینا چاہتا ہے ۔
لیکن چونکہ وہ ایک غریب کلر ک ہے اس لیے یہ حقیقت اس کے شعور اور لاشعور میں ایک خوف اور احساس کمتری بن کر ہر لمحہ موجود رہتی ہے کہ کوئی امیر لڑکی اُسے توجہ دینے یا پھر اُسے اپنانے کے قابل نہیں سمجھ سکتی اور اس احساس کمتری کووہ اپنے میں اپنی حسرتوں کی تکمیل کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے اور اس وجہ سے اس نے نیلوفر کا خیالی کردار گڑھ لیا ہے۔
پورا ڈرامہ سعید کے بیڈ روم سے شروع ہوتا ہے۔ ڈرامے کا پلاٹ سیدھا سادا ہے۔
ڈرامے کاتیسرا کردار نیلوفر کا ہے، جو سعید کی خیالی محبوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جو سعید کو اس کی حیثیت اور اوقات یاد دلاتا ہے اور وہ اس کا احساس کمتری اور ٹھکرائے جانے کا خوف ہے۔ نیلوفر مزاج کے اعتبار سے حددرجہ بے باک بہت اکھڑ ، تیز مزاج اور بے رحمی کی حد تک صاف گو ہے۔ طنز و تضحیک اس کے مزاج میں شامل ہے۔ اس کردار کو پیش کرنے میں عصمت بہت کامیاب رہی ہیں۔ کیونکہ جب لا شعور میں چھپے خوف، احساس کمتری اور حسرتوں کی تکمیل کی خواہش مجسم صورت میں تشکیل پاتی ہے تو ایک ایسا سراپا اور وجود منظر عام پر آتا ہے۔ نیلوفر کے مکالموں میں شدید بے رحمی اورطنز کی مہلک کاٹ موجود ہے۔ عصمت نے نیلوفر کے مکالموں میں جو جملے لکھے ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے ہیں۔ ایک جگہ نیلوفر، سعید سے اس طرح گفتگو کرتی ہے:
نیلوفر: ’’ڈرتے کیوں ہے۔۔۔ کیامیں تمھاری عصمت چھین لوں گی(گلے میں باہیں ڈال کر کھینچتی ہے) کتنی بار خواب میں تم نے مجھ سے لطف اٹھایا۔ اپنے بھو کے دماغ اور یتیم کی روح کو میرے خیال کی گرمی سے سنیکا ۔ آؤ آج مجھے بھی تھوڑا سا عشق لڑانے دو۔ تم نے اپنی ناداری کم مائیگی اوربزدلی کا انتقام میرے تخیل سے لیا… ‘‘20؎
سعید جیسے لوگوں کی ذہنیت اور نفسیات کو عصمت نے بڑی خوبصورتی سے اس ڈرامے میں پیش کیا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور حساسیت کے باعث اچھا ڈرامہ کہا جا سکتا ہے، لیکن یہاں بھی ڈرامے کی تکنیک مکمل طور پر عصمت کے قابو میں نہیں آسکی۔
ڈرامہ ’شیطان‘ عصمت کے ڈراموں کے مجموعہ شیطان میں شامل ہے۔ اس مجموعہ میں شیطان کے علاوہ ڈرامہ’خواہ مخواہ‘ ، ’تصویریں‘، ’دلہن کیسی ہے‘، ’ شامت اعمال‘ اور ’دھانی با نکیں‘ شامل ہیں۔ شیطان عصمت کے اچھے ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامہ میں عصمت نے انسان کی حد سے زیادہ آزاد خیالی اور اختلاط مردو زن سے پیدا نتائج کی طرف بڑے لطیف اور دلچسپ انداز میں اشارے کیے ہیں۔ یہ ڈرامہ چارسین اور چار کرداروں پر مشتمل ہے۔
ڈرامہ کا پلاٹ چاک و چوبند اور گٹھا ہوا ہے اور کہانی تیزی سے آغاز سے انجام کا سفرطے کرتی ہے۔ چاروں سین میں ایک باہمی ربط ہے آغاز ، وسط کشمکش ، نقطۂ عروج ، انجام اور اختتام کا انداز بالکل روایتی ہے۔ اس ڈرامے کے کردار سجاد ، روشن ، احمد اور صوفیہ ہیں۔ سجاد ایک روشن خیال اور ترقی پسند ذہن کا مالک ہے اور روشن اس کی بیوی ہے جو کم سخن اور زود رنج قسم کی عورت ہے۔ احمد اورصوفیہ میاں بیوی ہیں۔ احمد سجاد کا بچپن کا دوست ہے۔احمد اور سجاد کے مزاج میں کافی فرق ہے۔ اس کے باوجود دونوں کی دوستی قائم رہتی ہے۔ سجاد اپنی آزاد طبع اور روشن خیالی کے سبب اپنے ہی ہاتھوں اپنے گھر میں آگ لگا بیٹھتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ کر اپنے دوست احمد کی بیوی صوفیہ میں دلچسپی لینے لگتا ہے اور تعلقات اتنے گہرے ہو جاتے ہیں کہ سجاد اپنی بیوی روشن کو چھوڑنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے اورہر وقت لڑائی جھگڑے اور آپس میں تکرار ہونے لگتی ہے اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ احمد کو جب اس کا علم ہوتا ہے تو وہ بہت آزردہ ہوتا ہے اور جب روشن احمد کو اس کی بیوی صوفیہ کی غیر اخلاقی حرکتوں کے بارے میں بتلانے اور اسے برا بھلا کہنے جاتی ہے تو بحث و تکرار اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد احمد اپنے کو بے قصور ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ روشن کا دل بھی جیت لیتا ہے اور دونوں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انتقاماً ان دونوں کو بھی شادی کر لینی چاہیے۔ روشن اپنے شوہر سے تو بد ظن تھی ہی وہ فوراً طلاق نامہ لکھ ڈالتی ہے۔ احمد بھی اپنی بیوی صوفیہ کو طلاق نامہ لکھ بھیجتا ہے۔جب دونوں کو طلاق نامے ملتے ہیں تو ان کے ہوش اُڑ جاتے ہیں اور اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے فوراً سبھی اپنی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو معاف کر دینے کے بعد دوبارہ ایک دوسرے کو قبول کرلیتے ہیں اور اپنی پچھلی زندگی کو بھلا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ عصمت نے اس ڈرامے میں جدید تہذیب کی خرابیوں کی طرف بڑے لطیف انداز میں اشارے کیے ہیں۔
سجاد اور صوفیہ نہ صرف زیادہ آزاد خیال ہیںبلکہ بے راہ روی کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ شرافت اور پاکیزگی کے روایتی تصورات کے قائل نہیں۔ جبکہ روشن اور احمد مثبت مزاج اور سوچ کے حامل کردار ہیں۔ ظلم و زیادتی یا جواب دینے کا ہنر بھی جانتے ہے اور جن کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
ڈرامہ کے کردارجاندار ہیں۔ نشیب و فراز سے لڑنے اور ابھرنے کاہنر جانتے ہیں۔ اختلاف کو دوستی میں بدلنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔
ڈ رامے کے کرداروں کی طرح اس ڈرامے کے مکالمے بھی بہت جاندار اور دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ مکالموں میں طنز، تیزی اور چابکدستی ہے۔ کہانی کی تیز رفتاری میں مکالموں کی تیزی بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتی ہے۔
ڈرامے کے پہلے سین میں سجاد اور روشن کے درمیان مکالموں میں طنز کی کاٹ اور تندی و تیزی ملاحظہ فرمائیں:
روشن: میں، میں کچھ یقین نہیں کروں گی… میں ابھی جاکر اسے مزہ چکھاتی ہوں کہ سات پشتیں جاگ اٹھیں… بیکار کہیں کی۔
سجاد : تم صوفیہ کو نہیں سمجھتیں۔
روشن : ہاں آں… کیوں سمجھوں گی، وہ ہیں ہی ایسی بڑی اللہ والی کہ…
سجاد :(بات کاٹ کر) تم جیسی جاہل عورتیں اُسے سمجھ ہی نہیں سکتیں ۔وہ تمھارے تخیل سے بھی بالا تر ہے… اسے مجھ سے جو محبت ہے اسے تم سمجھ ہی نہیں سکتیں… یہ ایک فلسفہ ہے۔
روشن : چولہے میں جائے فلسفہ ،میں ہی اجڑی رہ گئی تھی اس فلسفہ کی بھڑا س نکا لنے کو۔
سجاد : میں نے جو کچھ کہنا تھا وہ شرافت سے (جانے لگتا ہے) میں نے کہہ دیا۔
روشن : یہ…یہ شرافت ہے۔ مجھے چھوڑ کر …
سجاد: اچھا کمینہ پن ہی سہی…خیراب تمھیں میرے اس کمینے پن کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
روشن : اوہ۔ اوہ( پھوٹ پھوٹ کرروتی ہے) خداغارت کرے میری بہن تھی کہ آستین کا سانپ بن کر مجھے ڈس لیا۔ دنیا میں مردوں کی کیا کمی تھی کہ …اوہ ،مگر مزہ نہ چکھا دیا تو۔21؎
دوسرے سین میں احمد اور روشن کے بیج مکالمہ ملاحظہ فرمائیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ طنز کی تیز دھار تلوار سے ایک دوسرے کا گلا کاٹ ڈالیں گے۔ بلکہ ان مکالموں کی تلخی اور کڑواہٹ قاری کو بھی اپنے حلق میں محسوس ہوتی ہے، لیکن مزاح کی ہلکی سی آمیزش قاری کو ایک زیر لب مسکراہٹ بھی دے جاتی ہے۔
روشن : تو پھر آپ اس چڑیل کا گلا کیوں نہیں گھونٹ دیتے۔
احمد : مگر پھر وہی…ذرا آپ ہی اس بھتنے کا…میرا مطلب ہے اپنے شوہر نامدار کا ٹیٹوا دبا دیتیں…
روشن : میں… میں بیچاری عورت…
احمد : تو میں بھی کون سا رستم ہوں
روشن: آپ مرد ہیں۔
احمد : تو اس میں میری کیا خطا ہے۔
روشن: ایں !
احمد : اور کیا ایک مرد کی حیثیت سے مجھ پر لازم آتا ہے کہ چھری لے کر بیوی کی ناک کاٹنے دوڑوں۔ میری بیوی بھاگ گئی تو غضب ہو گیا اور آپ کا میاں بھاگ گیا تو22؎
اپنے موضوع کی حساسیت، کرداروں کی جاندار اور کا میاب پیش کش اور مکالموں کی تیزی تندی اور چابکدستی کی وجہ سے یہ ڈرامہ بہت دلچسپ ہو گیا ہے اور اسے عصمت کے اچھے ڈراموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ڈراما’دھانی بانکیں‘ عصمت کا لافانی کہا جانے والا ڈراما ہے۔ جو 1944 میں شائع ہوا تھا اور اسی ڈرامے نے عصمت چغتائی کو بحیثیت ڈراما نگار ادب میں شناخت دلائی۔ یہ ڈراما اردو اسٹیج کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اسٹیج کا ایک اہم ڈراما ثابت ہوا۔ یہ تقسیم ملک کے واقعات پر مبنی ہے اور اس کا شمار فسادات کے موضوع پر لکھے گیے۔ چند اہم ڈراموں میں کیا جاتا ہے۔ عصمت کی دور رس اور دور بین نظر یہ دیکھ رہی تھی کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو کیا ہوگا اور کس طرح کے حالات پیدا ہوں گے۔ دو مختلف مذاہب کے گھرانے کو علامت بناکر چھ نسوانی اور چار مرد کردار کی مدد سے کمال فنکاری کے ساتھ عصمت نے اس زمانے کے حالات کو پیش کیا ہے۔ اس ڈرامے کو 1948 میں اسٹیج کیا گیا اور اسے کافی شہرت ملی۔
عصمت نے اس ڈرامے میں یہ دکھلانے کی کوشش کی ہے کہ آزادی سے قبل یہاں کے باشندے آپس میں خلوص و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ آخر آزادی ملتے ہی لوگ ایک دوسرے کے حریف بن کر سامنے آ گئے اور ایک دوسرے کے دشمن بن گیے۔ پھر فسا دات کا لامتناہی سلسلہ جو شروع ہوا تو اس نے لاکھوں گھروں کے چراغ گل کر دیے ۔جن میں دو خاندان وہ بھی تھے جنھیں علامت بنا کر عصمت نے ڈ رامے کا تانا بانا بنا ہے۔ ڈرامے کا عنوان بہت معنی خیز ہے۔ ’دھانی بانکیں‘ در حقیقت یہ چوڑیوں کا نام ہے۔ جو ڈرامہ میں سہاگ کی علامت ہیں اور چوڑ یوں کا ٹوٹنا سہاگ کی سلامتی کے لیے بدشگونی سمجھا جاتا ہے۔ علامت سے شروع یہ ڈرامہ زندگی کے حادثات سے جڑی ہوئی حقیقت کا سفر طے کرتا ہے۔ ایک بے جان شے کس طرح متحر ک ہوکر پورے پلاٹ کو حقیقی واقعات سے جوڑ کر منزل تک پہنچاتی ہے جن اسباب کوفسا دات کا موجب بنایا گیا ہے۔ وہ اسباب عام لوگوں میں ہرگز موجود نہیں تھے۔ بلکہ وہ تو آپس میں پیار و محبت کے گہرے رشتوں میں بندھے تھے اور دونوں دوست برج نرائن اور حامد علی ایک ساتھ رہتے تھے۔ ان کی بیویاں روپا اور عائشہ اور ان کے دونوں بچے سورج اور خورشید آپس میں گھل مل کر زندگی کے دن گزار رہے تھے کہ ایک دن ایک منہارن گھر میں داخل ہوتی ہے اور اپنی چوڑیوں کا گٹھر کھول کر بیٹھ جاتی ہے اور دھانی بانکیں نکال کر دکھاتے ہوئے ضد کرتی ہے کہ دھانی بانکیں بڑی عمدہ ہیں ۔اسے پہن لو، ٹھیک اُسی وقت دونوں دوست برج اور حامد دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ منہارن انھیں دفتر جانے سے منع کرتی ہے وہ کہتی ہے:
’’ منہارن… اے بیٹا آج تو نہ جائے تو اچھا تھا۔ برج…کیوں؟
کیا پھر چاقو تو چلو اے تم نے منہارن… اے نوج میں خاک پڑی کا ہے کو چلواتی اے وہ آپ ہی چل رہے ہیں۔ چھتے میں آج صبیرے صبیرے تین خون ہوئے۔‘‘23؎
یقین و اعتماد سے بھرے ہوئے دونوں دوست منہارن کی باتوں کو نظر اندازکر کے دفتر جاتے ہیں اور دونوں فرقہ وارانہ فساد میں مارے جاتے ہیں اور کچھ دیر بعد ان کی خون میں نہائی ہوئی لاشیں آتی ہیں۔ دونوں کی عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں اور بچے دھیرے دھیرے جوان ہو جاتے ہیں۔ ان کی شادی ہو جاتی ہے اور اس طرح دس برس بیت جاتے ہیں اور ایک روز وہی منہارن’’دھانی بانکیں‘‘لے کر آتی ہے اور کہتی ہے:
اے لو بہو کہاں ہے۔ کیا ’دھانی بانکیں‘ لائی ہوں کہ بس… اور دھانی بانکیں کے نام سے رد پا کے ہاتھ لر زنے لگتے ہیں اور عائشہ کے چہرے پر وہی پاگلوں جیسی وحشت طاری ہو جاتی ہے دونوں سناٹے میں دیکھتی ہیں۔‘‘24؎
دس برس قبل کا سین پھر دہراتا ہے۔ پہلے برج اور حامد کام پرگیے اورفسادات کی نذرہوئے اور آج ان کے لڑکے سورج اور خورشید کام پر جا رہے ہیں۔ آج پھر منہارن انھیں کام پر جانے سے روکتی ہے کہ شہر کی فضا اچھی نہیں ہے۔جگہ جگہ فسادہو رہے ہیں۔ شام کو جلد واپس آنے کا وعدہ کر کے دونوں دفتر چلے جاتے ہیں، لیکن کرفیو کی وجہ سے واپس نہیں آپاتے اور وہیں رک جاتے ہیں۔ راہ تکتے تکتے روپا، لکشمی اور عائشہ کی آنکھ لگ جاتی ہے۔ نیند میں سب برے برے خواب دیکھتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ سورج اور خورشید بھی فسادات کی نذر ہو جاتے ہیں اور پھر سب گھبرا کر جاگ جاتے ہیں، لیکن پھر لکشمی کے ہونے والے بچے کا تصور ان میں ایک نئی امید جگا دیتا ہے کہ یہ آنے والا دوبارہ سے انسانیت اور محبت کا راج دنیا میں قائم کرے گا اور اس خونی کھیل کا خاتمہ کر دے گا۔ دراصل یہ بچہ آنے والی پوری نسل کا نمائندہ بن جاتا ہے اور اس سے خیرسگالی کی امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں۔
ڈرامے کے سارے کردار اپنے طبقے، فرقے اور نسل کے نمائندے ہیں۔ سیدھے سادے عام لوگ ہیں جو خوشیوں سے بھر پور پر سکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں،لیکن فسادات نے ان کی دنیا اجاڑ دی اور ایک پر سکون زندگی میں بھونچال لا دیا۔ ڈرامے کے آخر میں لکشمی ، روپا اور عائشہ کے مکالموں میں وہ سارا خوف موجود ہے جس کا شکار اس زمانے کے تمام انسان ہوئے۔
دھانی بانکیں میں عصمت نے محض فسادات سے متاثر خاندان کی کہانی ہی بیان نہیں کی ہے بلکہ دو مختلف مذاہب کے خاندان کو علامت بناکر اس عہد کے حالات کی حقیقی عکاسی کی ہے۔ روپا اور عائشہ کے کردار کے حوالے سے فسادات میں متاثر لوگوں کی نفسیات بیان کی ہے۔
ڈرامے میں منظر نگاری اور کردار نگاری کے فن پر عصمت کی دسترس ان کو ایک کامیاب ڈرامہ نگار ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ روپا ، عائشہ اور لکشمی کے کردار ان کی فنی صلاحیت کے مظہر ہیں۔ ڈرامے کی کرافٹ سے ایسا لگتا ہے کہ عصمت نے اسے خاص اسٹیج کے لیے لکھا ہے۔ کیونکہ ہر منظر کے آخر میں پردہ کے گرنے اور لائٹ کی خاص حرکت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو کہ اسٹیج ڈرامہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
ڈ رامے کا موضوع اگرچہ ایک تاریخی المیہ پرمبنی ہے، لیکن اس کا انجام طربیہ دکھایا گیا ہے۔ ایک امن پسند، محبت سے پر نئی نسل کی امید جو اس دنیا کو امن اور بھائی چارہ کا گہوارہ بنادے گی۔ اس میں مقصد کے ساتھ ساتھ اثر آفرینی بھی ہے۔ ممتاز حسین لکھتے ہیں کہ :
’’دھانی بانکیں‘‘ اپنے مقصد اور اثر کے لحاظ سے ایک غیر معمولی ڈرامہ معلوم ہوتا ہے۔ موضوع اور فن کے لحاظ سے بھی یہ ایک کامیاب ڈراما ہے ۔‘‘25؎
’ خواہ مخواہ‘ ہلکا پھلکا ، طنزیہ و مزاحیہ ڈراما ہے جس میں کالج کی زندگی وہاں کی ہنگامہ آرائی اور عشق و عاشقی کی داستان، آپسی رقابت، جلن ، حسد کے جذبات پر مبنی ہے اور کالج کی زندگی کی بالتفصیل تصویر کشی کی گئی ہے۔ کالج کے تین نوجوان کردار ،رفیق، محمود اور طاہرہ کی زندگی پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں ایک کالج میں پڑھتے ہیں۔ رفیق ایک ذہین اور خود دار طالب علم ہے۔ اُسے لڑکیوں سے دوستی پسند نہیں۔ محمود رفیق کا دوست ہے۔ طاہرہ کالج کی سب سے تیز طرار طالبہ ہے۔ رفیق اور طاہرہ ایک دوسرے سے چڑتے ہیں۔ محمود کو شرارت سوجھتی ہے وہ ان دونوں کے بیچ دونوں کی طرف سے جھوٹا اظہارِ محبت کرکے ان دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیتا ہے اور پھر محبت کے جذبات پروان چڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دونوں کی منگنی تک ہوجاتی ہے اور شادی طے ہوجاتی ہے، لیکن ایک دن دورانِ گفتگو ان دونوں پریہ راز فاش ہو جاتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں محبت کے جذبات کوابھارنے والا محمود تھا۔ جب راز کھلتا ہے تو دونوں میں تلخ کلامی ہو جاتی ہے اور نوبت منگنی توڑ دینے تک پہنچ جاتی ہے،لیکن رفیق طاہرہ کو محبت کا حوالہ دے کر منا لیتا ہے۔
ڈرامہ رو مانوی رنگ لیے ہوئے ہے۔ پلاٹ سیدھا سادھا ہے اور واقعات میں بھی کوئی پیچ و خم نہیں ہے۔ ڈرامے کے تینوں کردار کالج کے طالب علم ہیںجو جذبات سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان میں ذہنی پختگی کی کمی ہے۔ رفیق طاہرہ کی نسبت کم جذباتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی محبت کو المیہ انجام سے بچا لیتا ہے۔ محمود ان دونوں کی بہ نسبت تیز طرار اور شرارتی کردار ہے جو اپنی چالبازی سے دونوں کو بیوقوف بناتا ہے۔ اس کی وجہ سے ڈرامہ میں دلچسپی اور جان پیدا ہو گئی ہے۔تینوں کردار چونکہ پڑھے لکھے ہیں اس لیے ان میں گفتگو کا سلیقہ ہے۔ شائستگی اور نرم گفتاری ہے۔ مکالموں میں وہ اردو ضرب المثل اورانگریزی الفاظ اور محاوروں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ڈرامہ کا عنوان’خواہ مخواہ‘ کالج کی غیر سنجیدہ زندگی کی علامت ہے۔ اس میں بے سوچے سمجھے کچھ بھی کر لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے کہ خواہ مخواہ اپنا قیمتی وقت ضائع کیا۔ اس میں تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ اس کا شمار عصمت کے ہلکے پھلکے اور معمولی ڈراموں میں کیا جائے گا۔
’ دلہن کیسی ہے‘ یہ ہلکا پھلکا مزاحیہ ڈراما ہے۔ جو چار کرداروں پر مشتمل ہے۔ چھمی خالہ ، حمیدہ، ، حمیدہ کی ماں اور شفیق۔چھمی خالہ انتہائی باتونی خاتون ہیں۔ ضروری باتوں کے بیان سے دانستہ گریز کرتے ہوئے غیرضروری باتوں کی لن ترانی ان کے مزاج کی خصوصیت ہے۔وہ رشتوںکی اگوائی بھی کرتی ہیں۔اس لیے ہر گھر میں ان کو اہمیت دی جاتی ہے۔
ڈرامے کا موضوع شفیق کے لیے دلہن کی تلاش ہے۔ حمیدہ اور اس کی ماں چھمی خالہ کو دلہن ڈھونڈھنے کی ذمے داری سونپتی ہیں۔ چھمی خالہ ایک لڑکی کو دیکھنے جاتی ہیں۔ شفیق اور حمیدہ دونوں کی شدید خواہش ہے کہ دلہن بہت خوبصورت ہو ۔جب چھمی خالہ دلہن دیکھ کر واپس آتی ہیں تو حمیدہ بے صبری سے دلہن کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔ اس نے اپنے بھائی شفیق کو بھی اس لیے روک رکھاہے کہ خالہ آجائیںتو لڑکی کے بارے میں جان کر جائیں۔اس لیے حمیدہ خالہ کے آتے ہی سوالات کی بوچھار کر دیتی ہے، لیکن خالہ دلہن کے بارے میں کچھ نہ بتا کر ادھر اُدھر کی باتوں میںالجھاتی ہیں اور اتنا وقت گزار دیتی ہیں کہ شفیق انتظار کر کے چلا جاتا ہے اور پھر حمیدہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ خالہ پر ناراض ہو جاتی ہے اور خالہ بی بغیر کچھ بتائے ناراض ہو کر چلی جاتی ہے۔ حمیدہ کی ماں روکتی رہ جاتی ہیں، لیکن وہ نہیں رکتیں اور دلہن کیسی ہے آخر تک پتہ نہیں چل پاتا اور حمیدہ رونے لگتی ہے تو اماں اسے تسلی دیتی ہیںکہ کل وہ دونوں خود لڑکی کو دیکھنے اس کے گھر جائیں گے۔
ڈرامے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا تجسس ہے جو آخر تک برقرار رہتا ہے۔ تمام کردار دلچسپی سے بھر پور ہیں۔ خالہ کا کر دار دوسرے کرداروں کے مقابل زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی گفتگوکا اندازبڑا نرالاتو ہے ہی طرزِ ادابھی بالکل فطری اندازلیے ہوئے ہے۔ حمیدہ بے چین روح ہے۔ اس کاتجسس اس کی عمر کے لحاظ سے بالکل فطری ہے۔ ڈرا ما انھیں دونوں کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ دلہن سے متعلق شفیق کی بے چینی ایک جوان لڑکے کی خواہشات اور جذبات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
چھمی خالہ کے مکالمے خالصتاً زنانہ قسم کے ہیں وہ بولتی ہیں تو بے تکان بولتی چلی جاتی ہیں، جیساکہ اس ڈرامے میں ان کا عمل رہا ہے۔ وہ بات سے بات نکالتی چلی جاتی ہیں، لیکن حرفِ مطلب زبان پر نہیں لاتیں۔ ڈرامے میں تجسس کو قائم رکھنے میں ان کا کردار بڑا اہم ہے۔ ان کی گفتگو میں حس مزاح بھی بہت ہے۔ چھمی خالہ کے بھرپورمکالمے نے ڈرامے میں جان اور دلچسپی دونوں آخر تک برقرار رکھی ہے۔ ڈرامہ تکنیک اور معیار کے اعتبار سے خاصاپھسپھساہے۔ بلکہ ڈراما کہلانے کا صحیح معنوں میں حق دار نہیں ہے۔
ڈرامہ’شامت اعمال‘،’دلہن کیسی ہے‘ ہی کی طرح کا ہلکا پھلکا مزاحیہ ڈرامہ ہے۔ جس میں اخلاقی زوال کی پستی کو دکھلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لالچ بھری دنیا میں جس طرح لوگ دوسرے کے مال کو ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، اس کا دلچسپ نظارہ کرایا گیا ہے۔اس میں ایک بٹوہ ڈرامے کے مرکزی کردار عباس کو ملتا ہے۔ عباس اسے کھول کر دیکھے بغیر اخبار میں گم شدہ بٹوے کے بارے میں اشتہار شائع کرا دیتا ہے تاکہ پرس اُس کے اصل مالک کو مل جائے۔ بس کیا تھاہر کوئی اس پر اپنا حق جتانے پہنچ جاتے ہیں۔خبر کے نتیجے میں اس کی بیوی سمیت مختلف لوگ اس بٹوے کے دعویدار بن کر آجاتے ہیں اور اس کے گھر پر ایک جم غفیر جمع ہو جاتی ہے اور انجام کار بٹوہ اس کی بوڑھی ملازمہ کا نکلتا ہے۔ اس میں محض پانچ پیسے نقد اور چند چھالیہ کے علاوہ ایک دوایسی ہی ادنیٰ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
ڈرامہ مزاحیہ ہے اور شروع سے آخر تک عصمت اس میں مزاح اورتجسس برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ڈرامے کا انجام بھی خاصا چونکا نے والا ہے کہ جس بٹوہ کے لیے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دیا گیا اور بڑے بڑے لوگ اس کے دعویدار بن کر آئے وہ اپنے ہی گھر کی ملازمہ کا نکلتا ہے۔ جبکہ اس کے لیے لوگ عباس کے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے توڑنے پر آجاتے ہیں اور عباس کو پولس بلوانی پڑتی ہے۔
ڈرامے میں کرداروں کی کثرت ڈرامہ کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ کل دس کردار ہیں۔ مثلاً سرور، عباس، بندو ، ایڈیٹر، خاتون، شاعر، بڑھیا ، شرابی ، انور اور انسپکٹر۔ یہ تمام کردار معاشرے میں موجود حقیقی کرداروں سے ہم آہنگ ہیں ان میں اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ وہ دوسرے کی چیز کو پہنچانے کے لیے نہایت ہی نچلی سطح پر اتر آتے ہیں اور کوئی بھی حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ لالچ اور ہوس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا اور آخر میں اُسے ذلیل ہونا پڑتا ہے۔جیساکہ اس ڈرامے میںہوا۔
دوسرے عباس کے کردار سے ایک ایماندار شخص کی شبیہ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ عصمت نے عباس کے کردار کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کی دنیا میں انسان کے نیک جذبے کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ ڈرامے کے کرداروں میں ایڈیٹر، خاتون اور شاعر صاحب کے کردار خاصے دلچسپ ہیں۔ یہاں عصمت نے عباس کے کردار کے ذریعے سماج کے ہر طبقے کی پول کھول کررکھ دی ہے۔ تکنیک کے اعتبار سے ڈرامے میں بہت سی کمیاں ہیں۔ اس کا شمار عصمت کے کمزور ڈراموں میں کیا جائے گا۔
عصمت کے ڈراموں میں ان کا ایک اہم ڈرامہ’دوزخ‘ ہے جو زبان وبیان کے لحاظ سے بڑا دلچسپ اور دل کو چھولینے والا ہے۔ اس ڈرامے میں یوں تو کئی کردارہیں، لیکن یہ ڈراما دوکرداروں نولاسی خانم اور عمدہ خانم کے گرد گھومتا ہے جو عمر طبعی کو پہنچ چکی ہیں۔ یہ دونوں لاوارث اوربے سہارا ہیں۔ ان کا دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یہ محلے والوں کے رحم وکرم کے سہارے زندگی کے دن گزار رہی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہونے کے باوجود رشتوں میں نوک جھونک کی عادی ہیں۔ کبھی گاڑھی چھنتی ہے تو کبھی جوتا چلتا ہے۔ دنیا کی چہل پہل، خوشی ومسرت سے کوسوں دور یہ دونوں ایک دوسرے کا دماغ چاٹا کرتی ہیں۔ تنہائی اور بے بسی کی اس داستان کو عصمت نے اپنے جادوئی قلم اور مخصوص انداز سے بالکل منفرد انداز میں پیش کیا۔ ان کی بات چیت ان کے اندازِ گفتگو، عادات و اطوار، مزاج و طبیعت کواس انداز میں پیش کیا ہے کہ سب کچھ بالکل فطری معلوم پڑتا ہے۔
عصمت کی زندگی کے یہ وہ ذاتی تجربات ہیںجو دوپہر کی محفل میں بوڑھیوں کی آپسی گفتگو کے نتیجے میں حاصل ہوئے اور اس کو انھوں نے دو کرداروں کی علامت بنا کر اس خوبصورت انداز میںسلیقے سے پیش کیا ہے کہ دل کو چھو لیتا ہے۔ وہ کس طرح آپس میں لڑتی جھگڑتی ہیں یا میل محبت کی باتیں کرتی ہیں یا ایک دوسرے کو کوسنے دیتی ہیں تو یہ انداز اتنا فطری معلوم پڑتا ہے جیسے سچ مچ ہمارے سامنے دو بڑھیائیں بیٹھی گفتگو کر رہی ہیں یا بر سر پیکارہیں ان لوگوں کی نوک جھونک میں محبت و ہمدردی کے جذبات کے سا تھ ساتھ خفگی کا ایسا اظہار ہے جس میں محبت کا آمیزہ شامل ہے۔ان دونوں کی نوک جھونک کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
نولاسی: اے بوا بس پڑی سناتی رہو۔ ہاں بھئی جوانی کی نیند جو ہوئی بوڑھے منہ مہاسے لوگ چلے تماشے۔ شرم بھی نہیں آتی کیا نوجوانوں کی طرح پھیل پھیل سوا جاوے ہے۔ (مکھی پھر آن دھمکتی ہے جل کر حملہ کرتی ہیں)ہیضہ سمیٹے۔ پیاروں پیٹی
عمدہ: (کو سنا اپنے لیے سمجھ کر خوفزدہ ہوکر بڑ بڑ کر اٹھتی ہیں) ہیضہ سمیٹے تمھیں۔ تمھارے ہوتے سوتوں کو…
نولاسی: (معصومیت سے) اوئی جڑوا جائے سے باہر ہوئی جاتی ہو۔
عمدہ: منہ بھر بھر کے کوس رہی ہو اور اوپر سے تیہہ دکھاتی ہو۔
نولاسی: اے واہ بوا! جوتیوں سمیت دیدوں میں گھسی چلی آتی ہو۔ میں نے تمھیں کب کو سا! میں تو موئی مکھی کی جان کو پیٹ رہی تھی، کب سے جان کو لگی ہے۔ کیا مجال جو گھڑی بھر کو چین لینے دے ۔‘‘26؎
اب ذرا دوسرا اقتباس بھی ملا حظہ فرمائیں جب عمدہ خانم کی جدائی نولاسی پر شاق گزرتی ہے۔ دونوں کی داخلی محبت اُبھر کر سامنے آنے لگتی ہے:
نولاسی: اداس آنکھیں بڑی حسرت سے اٹھا کر عمدہ خانم کہا سنامعاف کرنا بہن…
عمدہ:(ہل جاتی ہیں، مگر بناوٹی سختی لہجہ میں لاکر) خماخان کو میرے سرآرہی ہو۔ میں کسی کا بیر کلیجے میں نہیں پالتی۔
نولاسی: (لجاحت سے) نہیں بوا، تم کیا مجھ نصیبوں جلی سے بیر پا لو گی۔
عمدہ:( سامان باندھتے باندھے ہاتھ رکے جاتے ہیں۔ پھر ٹال جاتی ہے)
نولاسی: کیڑے پڑیں اس موئی زبان میں قابو ہی میں نہیں رہوے ہے۔
عمدہ 🙁 ترس آتا ہے) نہیں بوا، تم پھر چپکی ہو۔ اللہ ماری اس زبان کے پیچھے اللہ بخشے! اماں چار چوٹ کی مار دیا کرتی تھیں۔ اس جنم جلی زبان کے پیچھے بڑے بھیا سے چھٹم چھٹا ہوئی۔ مرتے مرتے صورت نہ دکھائی… 27؎
دیکھا دونوں میں کتنا لگاؤ ہے۔ ایسا لگتا ہے کعبہ مجھے کھینچے ہے تو رو کے ہے مجھے کفر والی کیفیت ہے۔ اس نوک جھونک میں بھی محبت کی وہ کیفیت ہے جو دلوں کے ساگر میں ہلکے ہلکے ہلکورے لے رہا ہے۔ کبھی گراف اوپر جاتا ہے، کبھی نیچے آتاہے۔ عصمت کو عورتوں کی زبان، ان کی بولیوںاور ان کے محاورے وغیرہ پر ملکہ حاصل ہے۔ جس سے مکالمے میں فطری انداز کے ساتھ ساتھ اس میںروانی اوربے پناہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔ دونوں بوڑھیوں کی گفتگو نے ڈرامے میں جان پیدا کر دی ہے۔ مکالموں کا انداز کردار کے عین مطابق ہے۔ صلاح الدین احمد کے مطابق:
’’ عصمت چغتائی نے اپنے دیگر ڈراموں کی طرح اس ڈرامہ میں بھی مکالموں کو کرداروں کی ذہنی سطح کے مطابق ڈھالا ہے اور الفاظ کے انتخاب میں ماحول کی بدلی ہوئی کیفیتوں کو مد نظر رکھا ہے۔‘‘28؎
اس لیے نولاسی اور عمدہ کے مکالمے اس قدر جاندار ہوئے ہیں۔ یہاں کردار اپناما فی الضمیر پوری طرح ادا کرنے میں قدرت رکھتا ہے۔ مکالموں میں برجستگی اور چستی پورے طور پر ہے۔ مکالموں کے ذریعے کرداروں کی نفسیات اور خصوصیات جاننے میں پوری مدد ملتی ہے۔ پلاٹ گٹھا ہوا اور جاندار ہے۔ عصمت نے دونوں بوڑھیوں کی مایوسی اور دل شکستگی کا نقشہ جس تفصیل اور جزئیات کے ساتھ کھینچا ہے وہ کسی معمولی فنکار کا کام نہیں۔ بنیادی طور پر عصمت کے اس ڈرامے کا شماران کے چند کامیاب ڈراموں میں کیاجائے گا۔
جہاں تک عصمت کی ڈرامہ نگاری کا تعلق ہے تو عصمت کے چند ڈرامے موضوع اور فن دونوں کے اعتبار سے کا میابی کے ا علیٰ پائدان پر نظر آتے ہیں جیسے: دھانی بانکیں، دوزخ، بنے، شیطان، تصویریں، خواہ مخواہ، دلہن کیسیا ہے اور ’شامت اعمال‘وہ ڈرامے ہیں جن میں فنی اعتبار سے کچک ہونے کے باوجود بعض میں مضامین کو نہایت سنجیدگی سے پیش کیے گیے ہیں تو بعض صرف زبان کی لذت کے طور پر پیش کیے گیے ہے، بعض طنز یہ رنگ لیے ہوئے ہیں ،بعض انسانی نفسیات کی نشاندہی کے طور پر لکھے گیے ہیں تو بعض میں سماج اور اس کی حقیقت کو بہترین طریقے سے پیش کیا ہے۔ عصمت کو فرسودہ سماج کے آپریشن کا ملکہ حاصل ہے اور یہ کمال فن بھی ان کے ڈراموں میں نظر آتا ہے۔ کہیں مصلحت ، اندیشوں اور عزت دار لوگوں کو ہدف علامت بنایا ہے۔ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتا ہے۔
صلاح الدین احمد کے مقابلے میں پطرس بخاری کا نظریہ انتہا پسندانہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عصمت کے سارے کے سارے ڈرامے میں ڈرامہ کر افٹ کی کمی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس وقت پطرس بخاری نے ان کے ڈراموں پر لکھنے کے لیے قلم اٹھایا ان کے پیش نظر بھی ’کلیاں‘ کے یہی چھے ڈرامے تھے۔ ان چھے ڈراموں میں کچھ خوبیاں کچھ خامیاں دونوں ہیں۔ فنی اعتبار سے ان میں کمی ضرور ہے۔ جس کی نشاندہی پلاٹ، کردار اور مکالموں کے ذیل میں پطرس بخاری نے بھی کی ہے، لیکن موضوع کی نزاکت یعنی مستور حقیقتوں کی پردہ کشائی اور اس کو اس سلیقے سے نبھانے کی حیرت انگیز قدرت پر عصمت کو داد نہ دینا عصمت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ عصمت نے جس دور میںیہ جرأت کی وہ اپنے آپ میں بہت بڑی بات تھی۔ عصمت کی ہر تحریر میں فکر کا تریاق چھپا ہوتا ہے۔ اس نے فکر و خیال کو ایک نئی ڈگر بخشی ہے۔ مردانہ سماج کے معیار و اقدار پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے۔
صلاح الدین احمد اور کرشن چندر دونوں نے عصمت کے مشاہدے، تخیل کی بلند پروازی اور طنز سے پر انداز نگارش کی نہ صرف ستائش کی ہے۔ بلکہ اسے عصمت سے منسوب کیا ہے۔ عصمت کی حس مزاح بھی ان ڈراموں میں اپنے منفرد انداز و اسلوب لیے ہوئے ہے۔ بے ساختگی، بذلہ سنجی اور طاقت زبان کا آئینہ دار ہے۔ وارث علوی کا ماننا ہے کہ یہ حس ظرافت کا وہ اعلیٰ ترین مقام ہے جہاں آج تک سوائے پطرس کے اور کوئی نہیں پہنچ سکا۔ تمام تر تجزیے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عصمت کے چند ڈرامے یقینا بے حد کمزور ہیں، لیکن بقیہ ڈرامے عصمت کی ڈراما نگاری کے فن کارانہ شعور کی گواہی دیتے ہیں اور عصمت کو ایک ڈراما نگار کی حیثیت سے شناخت دلواتے نظر آتے ہیں۔
حواشی
1 عصمت چغتائی سے گفتگو:یونس اگاسکر، ص49
2 ایضاً، ص 49
3 آپ بیتی:عصمت چغتائی، ص20
4 افسانے ڈرامے:عصمت چغتائی، ص176
5 افسانے ڈرامے:عصمت چغتائی، ص171
6 مقدمہ کلیاں (افسانے ڈرامے): صلاح الدین احمدف، ص10
7 ڈھیٹ مشمولہ، گلدان مرتبہ جمیل اختر،ص 182
8 ڈھیٹ مشمولہ: گلدان مرتبہ جمیل اختر
9 عصمت کے فن کے چند پہلو: وارث علوی، ص616
10 عصمت چغتائی کا فن: فضیل جعفری،ص 584
11 لیڈی چنگیزخاں: قرۃالعین حیدر،ص 198
12 انتخاب: عصمت چغتائی، ص84
13 ایضاً، ص 85
14 ایضا، ص 90
15 ایضاً، ص92
16 ایضاً، ص 92
17 مقدمہ کلیاں : صلاح الدین احمد، ص16
18 کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں: پطرس بخاری، ص280
19 ایک روشن خیال خاتون عصمت چغتائی: محمد حسن ، ص570
19 مجموعہ شیطان ، نیا دور، لاہور، عصمت چغتائی،ص 75
20 ایضاً، ص 88
21 ایضاً، ص 10-11
22 ایضاً، ص 13
23 ایضاً، ص 149
24 ایضاً، ص 162
25 مضمون، ممتاز حسین
26 گلدان، عصمت چغتائی، مرتبہ جمیل اختر،ص 255-56
27 ایضاً، ص گلدان، عصمت چغتائی،مرتبہ جمیل اختر،ص 271-72
28 مقدمہ کلیاں :مقدمہ کلیاں
Dr. Jameel Akhtar
B-102, Central Tower
Kela Nagar, Aligarh- 202001 (UP)
Mobile No. 9818318512
jameelakhtar786@yahoo.com