تلخیص:
مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر اور باصلاحیت افراد کی صحبتیں اٹھائیں اور زندگی گزارنے کا قدرے مختلف طور اپنایا۔ان سب نے مل کر ان کی شخصیت کی تعمیر اور مزاج کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیے۔ تخلیق چونکہ بالعموم مزاج و شخصیت کا اظہار اور عہد و معاشرے کی عکاس ہوتی ہے سو، سودا کی شاعری بھی ان کی افتاد طبع اور ان کے فکر ومزاج کی آئینہ دار ہے۔سودا نے گوکہ شاعری کی ابتدا فارسی زبان میں کی تھی لیکن جلد ہی اردو کی طرف لوٹ آئے۔ انھوں نے بیشتر اصناف سخن میں طبع آزمائی کی، جن پر انھیں مکمل دسترس حاصل تھی اور وضع اسالیب میں مہارت، جس کا اظہاران کی شاعری کی مشکل زمینوں، موضوعات کے تنوع اور جدت فکر سے ہوتا ہے۔ لیکن وہ مقبولیت کی مسند استناد و افتخار پر قصیدہ نگار اور غزل گو کی حیثیت سے فائز ہوئے۔
غزل گوئی میں انھوں نے اپنے ہم عصروں کے پسندیدہ داخلی احساسات کے عام رجحان سے انحراف کیااوراس میں خارجی مظاہرکی بہتات سے اپنے لیے ایک نئی راہ نکالی۔ سوداکی غزلیںبالعموم تصنع سے پاک، شگفتہ اور روز مرہ کے بول چال سے قریب ہیں، جن میں فارسی ترکیبوں کا استعمال کم ہوا ہے اور ابہام و پیچیدگی نا کے برابر ہے۔ہمارے تقریباً سبھی ناقدوں نے سودا کے فن پر جب بھی گفتگو کی، لازماً میر کے تقابل وموازنے کے ساتھ کی ہے، جسے کسی بھی طرح منطقی، معقول اور درست نہیں کہا جا سکتا۔ اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ سودا نے شعری اظہار کے مختلف النوع طریقے اختیار کر کے غزلیہ بیان کے حسن کو تکمیل ِفن کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ مجموعی اعتبار سے ا ردو غزل پر سودا کا اسلوب حاوی رہا ہے اور موجودہ زمانے تک بھی اس کی پیروی کی جارہی ہے۔
سودا نے مذہبی اور مدحیہ قصیدے تحریر کیے ہیںاورخاصی تعداد میں ہجویں بھی لکھی ہیںجو اُن کے غصے،تعصب اور ناراضگی کا نتیجۂ فکر ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہجو کو ہمارے شعرا، ناقدین، محققین اورتذکرہ نویسوں نے قصیدہ ہی قصیدہ کہا ہے۔ مثلاً ’قصیدہ ‘ کو قصیدہ، اور ’ہجو‘ کو’ ہجویہ قصیدہ‘۔لیکن اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ’ہجویہ قصیدہ‘ کی اصطلاح قطعاً درست نہیں ہے۔قصیدہ نگاری میںسودا کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے موضوعات کی تلاش، تشبیب کے انتخاب، گریز میںہنرمندی اور مدح کی پیشکش میں تخیل کی بلندی کا جو معیار قائم کیا ہے وہاں تک اردو کا کوئی اور قصیدہ نگار نہیں پہنچ پایا ہے۔ ان کے بیشتر قصیدوں کی تشبیب بہت ہی پُر شکوہ،بلندآہنگ اور مطلع تجسس آمیز اور حیرت افزا ہے۔
ہجویاتِ سودا میںشوخی اور طنز و ظرافت بھی ہے اور بعض جگہوں پرابتذال و رکاکت بھی۔سماجی اور معاشرتی بے اعتدالیوں، اخلاقی خامیوں، حکومت و انتظامیہ کی بدعنوانیوںاور اشخاص و افراد کی کم ظرفیوں اور دشمنیوں کو انھوں نے اپنی ہجویات کا موضوع بنایاہے۔ کہنے کی اجازت دیجیے کہ یہی عیوب بیانی بسا اوقات قصیدے کے مہتم بالشان کرداروں کے مقابلے میں ہجو کے کم اہم کرداروں کو شہرت و جاودانی عطاکرجاتی ہے۔ چاہیں تو ہجویاتِ سودا میں شیدی فولاد خاں، میرزا فیضواورفوقی جیسے کرداروں کو یاد کر لیجیے۔غزل اور قصیدے کے علاوہ سودا نے شہر آشوب، مثنوی،مرثیے اور سلام بھی لکھے ہیں۔ان تمام اصناف میں ان کا اپنا رنگ نمایاں اور کسی حد تک تیز ہے۔
کلیدی الفاظ
سودا، سراج الدین علی خاں آرزو،غزل گوئی، مخصوص رنگ،بلبل، صبا، غنچہ، رند، ساقی،زاہد،سنگلاخ زمینیں، لہجہ،شعر و ادب، تصوف،اصناف، اظہار،تجربات و مشاہدات، واقعاتی بیان،بلند آہنگی، اسلوب، قصیدہ، ہجو، مخاصمت،بد نظمی، شاہکار،منقبت، مغلوب الغضب۔فصاحت و بلاغت،مدح۔
————
ہمارے ناقدین ومحققین نے شواہد و قیاسات کی بنیادپر سودا کی پیدائش 1106ہجری سے لے کر 1128ہجری تک کے مختلف سنین کو قرار دیاہے۔ خلیق انجم نے اپنی کتاب ’ مرزا محمد رفیع سودا‘ میں 1118ہجری مطابق 1706-7عیسوی کی پیدائش کے دلائل پیش کیے ہیں۔جب کہ پروفیسر حنیف نقوی نے متعدداسناد و حوالے سے سودا کاسنہ پیدائش 1125ہجری مطابق 1713عیسوی بتایاہے۔
سودا مغل زادے تھے۔ ان کی پیدائش دہلی میں ہوئی،اور بقول پروفیسر محمد حسن ’’سودا نے مغلوں کا احساس جمال،نفاست طبع، حسن کے مادی روپ سے لگاؤاور ارضیت پائی تھی۔انھیں مغلوں کا نسلی افتخار، انفرادیت اور بانکپن بھی ورثے میںملا تھا۔‘‘ ایک روایت کے مطابق ان کے اجداد کا تعلق میرزایان کابل سے تھا، اور دوسری روایت کے مطابق بخارا سے،جہاں سے ان کے اجداد ہندوستان آکر آباد ہوئے۔ نقش علی نے اپنے فارسی تذکرے ’ باغ معانی‘ میںبخارا کو سودا کے اجدادکا وطن اصلی لکھاہے۔ سودا کے ایک اور معاصر بھگوان داس ہندی نے بھی اپنے تذکرے ’سفینۂ ہندی‘میں بخارا کو ہی سوداکے اجداد کا اصل وطن قرار دیا ہے۔ خود سودا کے بعض ہجویہ اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کابل کے مغلوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا نسلی تعلق کابل سے نہیں،بخارا سے ہی رہا ہوگا۔ قیاس ہے کہ سودا کے اجداد سپاہی پیشہ تھے، مگر ان کے والد مرزامحمد شفیع نے تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا۔ بیشتر تذکرہ نگاروں اور محققوں نے لکھا ہے کہ سودا کی والدہ اورنگزیب عالمگیر کے مشہور وقائع نگار اور مصاحب نعمت خان عالی کی صاحبزادی تھیں۔نعمت خان عالی کا شمار اپنے عہد کے اہم امرا میں ہوتا تھا، اور وہ اورنگزیب کے آخری زمانے سے شاہ عالم کے عہد تک قلعہ معلیٰ سے منسلک رہے تھے۔لیکن قاضی عبدالودودنے نعمت خان عالی کے بجائے سودا کی والدہ کا خاندان مرشد قلی خان سے ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مرشد قلی خان شاہجہاں سے وابستہ تھے،اور ان کے دربارمیں نہایت جری اوراعلیٰ صلاحیتوں کے منصب دار تھے۔
سودا نے نوجوانی کے دنوں سے ہی فارسی میں اشعار کہنے شروع کیے تھے،ابتدأًسراج الدین علی خاں آرزو سے اصلاح لیا کرتے تھے، پھر ان کے مشورے سے ہی اردو میں شاعری کی طرف مائل ہوئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ پہلے سلیمان قلی خاں وداد اور بعد میں شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے۔ انھوں نے غزلیں، قصیدے اور ہجویں ہی نہیں کہیں،بلکہ مرثیے، مثنوی، رباعی، قطعے، واسوخت، شہر آشوب اور سلام جیسی شعری اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔
سودا کی تعلیم وتربیت پر بطور خاص توجہ دی گئی تھی،جس کا اظہار ان کی فارسی اور اردو شاعری کے دیوان اوران کے رسالے’عبرت الغافلین‘ اور ’سبیل ہدایت ‘ سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قصائد اور ہجویات میں جو مختلف علوم و فنون کی اصطلاحیں آئی ہیںاُن سے بھی ان کی اعلیٰ علمیت کی شہادت ملتی ہے۔لیکن مصحفی نے اپنے تذکرے میں سودا کو کم علم بتایاہے جس کا دفاع کرتے ہوئے قاضی عبدالودود لکھتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ سودا نے باقاعدہ تعلیم زیادہ نہ پائی ہو، لیکن ’عبرت الغافلین‘ کے مصنف کو جاہل کہنا بڑی ناانصافی ہے۔‘‘ واقعہ یہ ہے کہ مصحفی سودا سے عمر میں کافی چھوٹے تھے، مصحفی جب پہلی بار چند دنوں کے لیے لکھنؤ گئے تو سودا سے ان کی صرف ایک ملاقات ہوئی تھی اور بس۔ دونوں کے ذاتی یا قریبی تعلقات کی شہادت بھی نہیں ملتی،اس کے باوجود مصحفی نے سودا کے انتقال کے بعد شائع ہونے والے اپنے تذکرے ’عقد ثریا‘ میں سودا کے بارے میں لکھا کہ:(1) سودا کم علم ہیں(2)ان کی شہرت صرف بازاریوں میں ہے (3) ہر جاہل اور اُمّی کی زبان پر ان کے اشعار ہیں۔ سودا کے انتقال کے چودہ برس بعد جب مصحفی کا دوسرا تذکرہ ’ تذکرہ ہندی ‘ شائع ہوا تو اس میںبھی اس طرح کی باتیں لکھیں کہ : بعض لوگ سودا کے کلام میں واضح اغلاط اور تواردِ وصاف کو سودا کے جہل اور سرقے سے نسبت دیتے ہیں۔معاملہ صرف تذکروںتک نہیں رہا، بلکہ مصحفی نے اپنے متعدد اشعار میں بھی سودا کی شہرت و شاعری پر حملے کیے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ میر تقی میر جیسے انا پسند شاعر اپنے علاوہ صرف سودا کو پورا شاعر تسلیم کرتے تھے، انھیں بھلا جاہل اور بازاریوں کا شاعر کہنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے ؟ پھر یہ کہ میر نے اپنے تذکرے ’نکات الشعرا‘ میں سودا کی تعریف ایسے لفظوں میں کی ہے: سودا خوش خلق، خوش گو، گرم جوش، یار باش اور شگفتہ رو نوجوان ہے۔ وہ غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی،قطعہ اور مخمس خوب کہتا ہے۔سو، اغلب ہے کہ مصحفی کو یا تو سودا سے کوئی بغض و عناد تھایاپھر ان کی علمیت و شہرت پر وہ خود کو ترجیح دینا چاہتے تھے۔(ترجمہ)
والد کے انتقال کے بعد سودا اُن کی جائیداد کے تنہا وارث تھے، چنانچہ خوب داد عیش دی۔اس کا ذکر میر قائم نے اپنے تذکرے ’مخزن نکات‘ میں کیاہے۔ سودا کا یہ شعر بھی اس کی شہادت دیتا ہے ؎
صحبت شعرو بکف جام صراحی دردست
اس سوا سودا کو کچھ کام نہیں دنیا میں
جب سودا کی آسائش کا زمانہ ختم ہوا تو انھوں نے تجارت کا پیشہ اپنانے کے بجائے اورنگزیب کے جانشیں بہادر شاہ کے لشکر میں فوجی ملازمت کو ترجیح دی، گو کہ انھوں نے یہ ملازمت زیادہ دنوں تک نہیں کی۔ دلچسپ بات ہے کہ سودا کے ہم عصروں میں خواجہ میر درد نے بھی چند روز فوج میں ملازمت کی تھی۔ فوجی ماحول نے سودا کی شخصیت میں جرأت، بے خوفی اور ایک نوع کی مہم جوئی کو جنم دیا تھا، جس کا نتیجہ ان کی شاعری میںاس طور برآمد ہوا کہ وہ اپنے زمانے کے عام رجحان مثلاً حد درجہ داخلیت پسندی، انکشاف ذات کے شوق اور حزن و یاسیت جیسے مضامین سے حتی الامکان احتراز کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں جو زندگی نظر آتی ہے وہ نہ تو حسن و عشق کے رومان انگیز اور غم آگیں خواب کی سی ہے،نہ صوفی و فلسفی جیسی اور نہ ہی ان کے یہاں زندگی بے رحم اور ناقابل فتح ہے۔معاشی آسودہ حالی،نوابین و امرا کی مصاحبت،متنوع قسم کے لوگوں سے دوستیاں اورمختلف شہروں کی سیر نے سوداکو داخلی دنیا کے جذبات ومعاملات کے مفسرسے زیادہ خارجی زندگی کے مظاہر و مشاہدات کامصور بنایا۔ وہ زندگی کو ایک معقول اونچائی سے دیکھتے اور اس کے نشاطیہ پہلو ؤں کوبطور خاص اپنی غزلیہ شاعری میں پینٹ کرتے ہیں۔ انھیںاپنی ذات کے گرد کسی نوع کا حصار کھینچنے یادرد و غم کاماتم خانہ روشن کرکے بیٹھ رہنے کے بجائے شوق و جستجو کی خاطر جہد و کشاکش کے عملی میدان میں پھرنازیادہ پسند تھا۔ کچھ مضائقہ نہیں کہ ان کے قصیدوں میں رزمیہ و بزمیہ عناصر،شہر آشوب میںدلیری وبے باکی،ہجویات میںطنز و ابتذال اور جارحیت اور غزلوں میںوالہانہ پن اسی آزاد منشی اور متنوع مزاجی کا زائیدہ ہوں۔
ملازمت ترک کرنے کے بعد سودا نے بسنت خاں خواجہ سرا کو اپنا مربی بنایا۔اس کے بعدوہ عمادالملک غازی الدین خاںکی مصاحبت میں چلے گئے۔خود عمادالملک غازی الدین،صفدر جنگ کی کوششوں اور سفارش سے پہلے 1753میںمیر بخشی اور پھر 1754 میں وزیر بنے تھے۔ معاشی اعتبار سے سودا کا یہ بہترین زمانہ تھا۔ ان کاایک شعر ہے ؎
سنا نہیں ہے کہ غازی دین عماد الملک
جو میر بخشی تھا واں کا سو ہوا ہے وزیر
عمادالملک کی شخصیت اس اعتبار سے حیرت انگیز تھی کہ وہ حافظ قرآن تھا،درس نظامیہ کافارغ التحصیل عالم،فارسی زبان کاصاحب دیوان شاعر جو نظام تخلص کرتا تھا، کئی کتابوں کا مصنف،حضرت فخرالدین ابن حضرت مولانا نظام الدین اورنگ آباد ی کامریداورمشائخ و صوفیا کااراد تمند تھا، تو دوسری جانب وہ حد درجہ ظالم،سنگ دل اور سیاسی چالبازیوں کاماہرتھا۔اس نے وزیر بننے کے بعد اپنے محسن احمد شاہ کو اندھا کیا، بعد ازاں 1756میںانھیں قتل کروادیا۔احمد شاہ کے بعد اس نے عالمگیر ثانی کو تخت پر بٹھایا اور پھر انھیں بھی قتل کروادیا۔اس نے اپنے سگے ماموں انتظام الدولہ کو بھی نہیں بخشا۔
عالمگیر ثانی کے قتل کے بعد جب دہلی میں احمد شاہ ابدالی کے دوبارہ آنے کی خبر گرم ہوئی تو عمادالملک شہر چھوڑ کرفرخ آبادچلے گئے سودا بھی ان کے ساتھ رہے۔ کچھ دنوں بعد جب محمد شاہ کا فرخ آباد سے گزر ہوا تو عمادالملک اس خوف سے کہ کہیں محمد شاہ اس سے اپنے والد کے قتل کا بدلہ نہ لے وہ فرخ آباد چھوڑنے پر مجبور ہوئے، مگرسودا فرخ آباد کے نواب احمد خاں بنگش کے دیوان مہربان خان رند کی خواہش اور ان کے مشورے پر عمادالملک کے ساتھ جانے کے بجائے ان سے اجازت لے کر فرخ آباد میں ہی ٹھہر گئے، اور مہربان خاں رندکے دربار سے وابستہ ہوئے۔
سودا فرخ آباد میںتقریباً دس برس تک رہے، پھر مہربان خان سے اجازت لے کر اودھ کے لیے روانہ ہوئے اور1769سے 1771کے درمیانی عرصے میں اودھ کے دارالسلطنت فیض آباد پہنچے۔ فیض آباد میں نواب شجاع الدولہ نے ان کی خاطر خواہ پذیرائی کی اور انھیں دربار سے وابستہ کرلیا۔ یہاں سودا نے شجاع الدولہ کی شان میں پانچ قصیدے لکھے۔ چار سال بعد جب شجاع الدولہ کا انتقال ہوگیا تو نواب آصف الدولہ نے لکھنؤ کو اپنا دارالسلطنت بنایا،چنانچہ سودا بھی لکھنؤ آگئے۔ آصف الدولہ نے سودا کا دربار سے تعلق بحال رکھااور انھیں چھہ ہزار روپے کی سالانہ جاگیر عطا کی، بعض لوگوںنے دوسو روپے ماہوار تنخواہ کا مقرر ہونا لکھاہے۔سودا نے یہاں حسن رضاخاں جو آصف الدولہ کے نائب تھے ان کی مدح میںبعض قصائد اور کچھ قطعات کہے، جن میںانھوں نے اپنی تنگ دستی کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایک قصیدہ لکھنؤ کے ریزیڈنٹ کے نائب رچرڈ جانسن کی مدح میںبھی کہا جو شاعروں کے قدردان اور ہندوستانی علوم کے خیر خواہ تھے۔لکھنؤ میں سودا کو دہلی اور فرخ آباد جیسی آسودگی اور آسائش تو حاصل نہ تھی، تاہم زندگی عزت و اطمینان سے گزر رہی تھی۔اور بالآخر چھہ برس بعد 2 جون 1781 کو چوہتربرس کی عمر میںان کا وہیں انتقال ہوا، اور مرزا آغا باقر کے امام باڑے میں مدفون ہوئے۔
سودااپنی خوش خلقی، آزاد مزاجی اور احباب پروری کے باوجود ایک زود رنج انسان تھے۔ان میں قوت برداشت کم تھی،اپنے خلاف کہی گئی باتوں کا بہت جلد برا مان جاتے تھے۔ناراضگی کااظہار بالعموم ہجو کی صورت میں کرتے اوراس میں اعتدال قائم نہیں رکھ پاتے،بلکہ بسا اوقات ابتذال کی نچلی سطح تک اتر آتے تھے۔وہ جہاں رہے کسی نہ کسی سے دشمنی مول لی اور اپنے غصے کے اظہار کے لیے اس کی ہجو ضرور لکھی۔ چنانچہ دہلی میں جب وہ فارسی کے اہم شاعر ندرت کاشمیری سے خفا ہوئے تو ان کی ہجو لکھی، جی نہ بھرا تو ان کی بے قصور بیٹی کی بھی ہجو کہہ ڈالی۔اپنے شاگرد قائم سے ناراض ہوئے تو اسے بھی نہیں بخشا، اس کی ایسی ہجو کہی کہ بیچارے قائم کو معافی مانگنی پڑی، چنانچہ سودا نے شاگرد کو معاف کردیا اور ان کے خلاف لکھی ہوئی ہجو میں قائم کی جگہ ایک فرضی نام ’فوقی‘ لکھ دیا۔ نو اشعار پر مشتمل میر تقی میر کی بھی ہجو لکھی جس کا آخری شعر ہے ؎
ہر ورق پر ہے میر کی اصلاح
لوگ کہتے ہیں سہوِ کاتب ہے
ان کے علاوہ سودا نے دہلی کے زمانہ قیام میں راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کی ہجو،ایک حکیم صاحب کی ہجو،اور ایک عالمی شہرت یافتہ بے حد محترم عالم دین کی بھی ہجو لکھی تھی۔فرخ آباد میںفدوی نے سودا کے کسی شاگرد کے سامنے سودا کے اشعار میں خامی نکالی تو سودا نے فدوی کی ہجویں لکھنی شروع کردیںجس کی وجہ سے فدوی کا بازاروں میں نکلنا مشکل ہوگیااور بالآخر انھیں فرخ آباد چھوڑنا پڑا۔ فیض آباد میں وہ میر غلام حسین ضاحک سے اس لیے الجھ پڑے کہ ضاحک بلا وجہ دوسروں کی ہجویں لکھا کرتے تھے، لہٰذا سودا نے میر ضاحک کی ہجویں کہنی شروع کردیں۔غصہ کم نہ ہوا تو ان کی بیوی کی بھی ہجو لکھ دی۔ لکھنؤ پہنچنے کے بعدقادر الکلام شاعر مرزا فاخر مکیںکے خلاف صف آرا ہوگئے۔سودا کی مکیں سے اس لیے ناراضگی تھی کہ مکیں خود کو شیخ علی حزیں کے برابر کا شاعر کہتے اور سعدی و رومی کے اشعار میں خامیاں نکالتے تھے، لہٰذا سودا نے ان کی بھی ہجو لکھی مگر یہ احتیاط رکھی کہ ان کے لیے فحش یاغیر معیاری الفاظ استعمال نہیں کیے۔ سودا اور مکیں کے درمیان معاملہ یہاں تک بڑھا کہ مکیں کے حامیوں کا گروہ ایک روز سودا کو زبردستی ان کے گھر سے نکال کر انھیں چوک پر لایا اور ان کی بے عزتی کرنی چاہی، حسن اتفاق کہ اسی وقت وہاں سے نواب سعادت علی خاں کی سواری گزری اور انھوں نے سودا کو ان لوگوں سے نجات دلوائی۔ سودا اور مکیں کے معارضے کا انجام یہ ہوا کہ بالآخر مکیں کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ واضح رہے کہ سودا نظریاتی؎ اور فنی اختلاف کے قائل اور ہجویاتی جنگ کے تو ماہر تھے، لیکن فتنہ و فساد اور جسمانی ایذا و تشددکے وہ سخت خلاف تھے۔ انھیںشاعروں کا عام لوگوں کے درمیان،یا شاہراہوں پر لڑنا جھگڑنا قطعاً پسند نہ تھا۔ ان کے یہ اشعار اسی طرف اشارہ کرتے ہیں ؎
میں تو ہوں حیران اب ان شاعروں کی وضع پر
کرتے پھرتے ہیں جو پڑھ پڑھ شعر بے تاثیر جنگ
ایک ان میں سے لگا سودا کے آگے پڑھنے شعر
واسطے اتنے کہ تا کیجے بایںتذویر جنگ
سن کے یہ بولا خدا کے واسطے کیجیے معاف
میں تو ہوں شاعر غریب اور آپ ہیں شمشیر جنگ
یہاں یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ سودا نے جن لوگوںکی براہ راست یا بالواسطہ ہجویں لکھی ہیں وہ کوئی معمولی انسان یا محض شاعر نہ تھے، سب باعزت، محترم اور ذی حیثیت اصحاب تھے، جن کی ہجویں کہنا عام شاعروں کے لیے ممکن نہ تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ سودااپنے ہم عصروں میں خاصے جاہ و مرتبت کے حامل، خود اعتماد،بے باک اور جری شاعر تھے۔
سودا کافارسی رسالہ ’عبرت الغافلین‘فاخر مکیں کے ذریعے خسرو، سعدی ، مولانا روم، صائب اور خان آرزو وغیرہ کے اشعار پر کیے گئے اعتراضات کے جواب اور خود فاخر مکیں کی شاعری میں غلطیوں کی نشاندہی پر محمول ہے۔ ’عبرت الغافلین‘ کے مطالعے کے نتیجے میںشاعری کے حوالے سے سودا کے خیالات و ترجیحات، یا یوں کہیے کہ ان کے متوازن اور گہرے شعری تصورات کا علم ہوتا ہے۔ سوداکی خوبی یہ ہے کہ اس رسالے میں انھوں نے جہاں جہاں فاخر مکیںکے اعتراضات کے جواب دیے ہیں، یا خود انھوں نے مکیں کے اشعار پر اعتراضات کیے ہیںوہاں دلائل پیش کیے ہیں اور بطور سند اساتذہ کے اشعار کے حوالے بھی دیے ہیں۔ اس رسالے میں سودا نے جس طرح فاخر مکیں کے فہم و فن کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے نقص کو نمایاں کیا ہے اس سے سوداکے تنقیدی شعور کی بالیدگی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ سو، ’عبرت الغافلین‘کو اُس زمانے میں شاعری کی تنقید کاایک اہم نمونہ کہیے تو بجا ہے۔ انھوں نے فارسی زبان میں ایک اور رسالہ ’سبیل ہدایت‘ بھی لکھا جو در اصل میرتقی مرثیہ گو کے ایک سلام اور ایک مرثیے پر بشکل مثنوی منظوم اعتراض نامہ ہے۔ اس رسالے کی اہمیت یہ ہے کہ سودا نے اس کا دیباچہ اردو نثرمیں تحریر کیاہے۔اب چونکہ سودا کے زمانے میں نثری تحریر اردو زبان میں لکھنے کا رواج نہ تھا، اور اب تک کی دریافت کے مطابق اُس عہد کی نثری تحریروں کایہ واحد نمونہ ہے اس لیے یہ رسالہ تاریخی اہمیت کا حامل قرار پاتاہے۔
سودا کو مختلف علوم وفنون اور زبانوں سے واقفیت کے ساتھ ساتھ فن موسیقی میں مہارت حاصل تھی اور کئی موسیقاروں سے ان کی دوستی بھی تھی جن کا ذکر انھوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے، مثلاًمصاحب خان اور ہسو خان کا۔شیخ چاند نے دہلی کے مشہورگویّے مرزا صادق علی سے ان کی دوستی کی بات لکھی ہے۔ فرخ آباد میں ان کے مربی اور دوست دیوان مہربان خاں بھی موسیقی کے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ میر ضاحک کی ہجو میں ان کے بے سرے پن کااور راگوں اور ان کے اوقات کاذکربھی موسیقی سے ان کی واقفیت کی دلیل ہے۔ ذوقِ موسیقی کے علاوہ سوداکو عمدہ قسم کے کتے پالنے کابھی بے حد شوق تھا۔ ان کے اس شوق کا ذکر ان کے بیشتر سوانح نگاروں نے کیا ہے۔ مصحفی اور میر حسن نے بھی ان کے اس شوق کی شہادت دی ہے۔ مصحفی نے لکھا ہے کہ : ’’انھیں(سوداکو) لمبے ابریشم والے بالوں کے کتے پالنے کا شوق تھا۔ ‘‘ (بحوالہ، مرزا محمد رفیع سودا،قاضی افضال حسین،ص،16) میر نے سودا کی جو ہجو کہی ہے اس میں انھوں نے سودا کی تین کتیوں کے نام لیے ہیں۔
ہماری روایتی تنقید میں ایک زمانے، بلکہ آج تک نرگسیت پسندمیر تقی میر اور ہمہ گیر مزاج کے حامل مرزا محمد رفیع سودا کے حوالے سے اس مفروضے کو کہ ’’ میر ’آہ‘ کا شاعر ہے اور سودا’واہ‘ کا شاعر ہے‘‘ اس لیے درست نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں کے،مزاج، خاندانی ماحول، معاشی حالات، ذاتی دلچسپیوں، مشاہدات و تجربات اورمرکز توجہ اصناف میں یا تو کوئی نہیں، یا بہت ہی کم مطابقت رہی ہے۔کہ میر جذبات و احساسات سے لبریز دل کی اتھاہ گہرائیوں کے غواص ہیں، اور سودامشاہدات و تجربات کی وادی کے سیاح۔میر معاملات کو بالعموم دل کی آنکھوں سے دیکھتے اور گداز لہجے میں سناتے ہیں،جب کہ سودا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعدانھیں بلند آہنگی سے بیان کرتے ہیں۔ نتیجتاً میر کے یہاں آپ بیتی کا رنگ اور خود کلامی کی کیفیت غالب ہے۔ سودا کی غزلوں پر جگ بیتی کا گمان اور واقعہ بیانی کا احساس ہوتاہے۔ ہمارے تقریباً سبھی ناقدوں نے سودا کے فن پر جب بھی گفتگو کی، لازماً میر کے تقابل وموازنے کے ساتھ کی ہے، جسے کسی بھی طرح منطقی، معقول اور درست نہیں کہا جا سکتا ؛ کہ دونوں شاعروں کے مزاج، ان کی پسندو ناپسند،ان کے افکار و خیالات، تجربات و مشاہدات اور اسالیب بیان الگ الگ ہیں۔ یوں بھی سودا عیش و آرام کے پروردہ تھے، میر انتشار و بد حالی کے شکار۔سودا کو تصوف سے دور کا واسطہ نہ تھا، میر گہوارۂ تصوف کے پرداختہ تھے۔ میر کو عوام الناس سے کافی حد تک پرہیز اور نوابین و امرا سے گریز تھا،جب کہ سودا کو عوام الناس سے گھلنے ملنے میں عار نہ تھااور نوابین و امرا کی مصاحبت ان کی زندگی اور مزاج کا حصہ تھی۔ میربنیادی طور پر غزل کے مغنی تھے، سودا قصیدہ و ہجو کے مرد میدان۔سو،پہلے پہل سوداکے تجزیاتی مطالعے کے ساتھ لازمی طور پر میر کے تقابل و توازن کی بنیاد کس نقاد نے کس بنیا د پر رکھی، اور بعد کے ہمارے تمام صغیر و کبیر ناقدینِ شعر وادب اس مفروضے کی پیروی کیوں کرتے آرہے ہیں؟ممکن ہے اس کاکوئی معقول جواب ان حضرات کے ذہن میں ہو، یا رہا ہوجس کا اظہاران کی تحریروں میں کبھی روشن نہیں ہوا۔
غزل گوئی میں میر،درد،داغ اور غالب کی طرح سودا کا کوئی مخصوص رنگ نہیں ہے۔ شاید اس لیے کہ انھوں نے کسی ایک ہی صنف میں بطور خاص نہیں،بلکہ تمام اصناف میںیکساں طورپر طبع آزمائی کی ہے۔ پھر سودا نے ولی دکنی اور دوسرے اردو شعرا کا نہیں،بلکہ نظیری، صائب اور کلیم جیسے صاحب طرز فارسی اساتذہ کا تتبع کیاتھا۔ یہ بھی کہ سودا کی شاعری میںروایتی غزل کی سی معصومیت، نزاکت اور سوز وگداز جیسے اوصاف کے مقابلے قصیدے کا سا شکوہ،اس کی سی بلند آہنگی، سنگلاخ زمینیں، اور اسی کا سا بیانیہ لہجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں عربی وفارسی کی ترکیبیں کم اور ایک نوع کا شکوہ اور مخاطبت کاانداز نسبتاًزیادہ ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سودا کی غزلوں کے بیشتر مضامین روایتی رسومیات کے حامل ہیں۔مگر تسلیم کرنا چاہیے کہ ان میں نجی جذبات اور قلبی واردات کی داستان کے مقابلے تجربات و مشاہدات کا بیان نمایاں طورپر اور کثرت سے ہے۔یہ بھی کہ انھوں نے اپنے ہم عصروں کے پسندیدہ داخلی احساسات کے عام رجحان سے انحراف کیااوراس میں خارجی مظاہرکی بہتات سے اپنے لیے ایک نئی راہ نکالی۔ یوں انھوں نے غزل کی شاعری میںجذبات و احساسات اور مظاہر و مشاہدات کے خوبصورت امتزاج سے دیوانگی و ہوشیاری پیدا کی، واردات قلبی اور حکایت لب و رخسار کو قدرے نیا رنگ دیا، اور دھنک رنگ بصارتوں کے ذریعے قاری کو اثر انگیز بصیرت کی منزل تک پہنچانے کی نرالی کوششیں کیں۔ فراق گورکھپوری کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’سودا کے کلام میں داخلیت کی چاشنی ہوتے ہوئے بھی خارجیت نمایاں ہے، لیکن اس کے یہاں خارجیت سوز و گدازاور درد و غم کا رنگ اختیار کرنے کے بجائے شگفتگی، البیلاپن، سرمستیِ نشاط اور رنگینی اختیار کرتی ہے، کیونکہ جب داخلیت نشاط کی طرف متوجہ ہوتی ہے تونشاط کی فطری وسعت شاعر کے دل کو دنیا کی رنگا رنگ بزم آرائیوں کی طرف لے جاتی ہے اور صحیح معنوں میں خارجی شاعری کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔‘‘(ماہنامہ نگار، لکھنؤ، مصحفی نمبر)
یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
جادو بھرے ہیں چشم میں مت آئینے کو دیکھ
دھڑکا ہے دل مرا کہ نہ پلٹے نظر کہیں
بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے
اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے
فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا،کیا کرے
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کوجن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
ہے رنگ تماشائے جہاںصورت خورشید
جو صبح کو دیکھاوہ نظر شام نہ آیا
سودا جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی
شیخی تھی جام کی، سو گئی جانِ جم کے ساتھ
وابستہ ہے طلسم جہاں اپنے دم کے ساتھ
سوداکی غزلیںبالعموم تصنع سے پاک، شگفتہ اور روز مرہ کے بول چال سے قریب ہیں، جن میں فارسی ترکیبوں کا استعمال کم ہوا ہے اور ابہام و پیچیدگی نا کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کو ان کے اشعار میں معنی کی دریافت کے لیے محذوفات کو ڈھونڈنے،خالی جگہیں اپنی فہم سے پُر کرنے، یاکسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے بے جا تعبیر کی مشقت نہیں اٹھانی پڑتی ہے۔ سودا کے اشعار میں اخذ معنی سے متعلق جعفر علی خاںاثر کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’مطلب کی تکمیل میں سودا میر سے نسبتاً زیادہ کامیاب تھا۔ مشکل سے اس کا کوئی شعر ملے گا جس میں اپنی طرف سے کسی لفظ کے بڑھانے کی ضرورت ہو۔ برخلاف اس کے میر صاحب کے اشعار میںخلو پایاجاتا ہے۔‘‘
(بحوالہ، مرزا محمد رفیع سودا، قاضی افضال حسین، ساہتیہ اکادمی، 1990،ص،29 )
ہمارے قدیم شعرا نے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے بہت سے پیرایۂ بیان اختیار کیے ہیں،ظاہر ہے سودا اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں، لیکن سودا نے جن پیرایوں کو اپنایاہے ان میں گل و گلشن، جام و شراب اور ان کے متعلقات بطور خاص اہم اور بکثرت ہیں۔ موضوعات خواہ جوبھی ہوں، بات جیسی ہو،گفتگو تصوف کی ہو، اخلاق کی، یا عام زندگی کے مختلف النوع تجربات و مشاہدات کی، ان کا استعاراتی اور تشبیہاتی محور بالعموم باغ، چمن، گل،غنچہ، ثمر،بلبل،صبا، بہار،نسیم ہوتے ہیں، یا پھر مے و میخانہ اور ان سے متعلق تلازمات۔کہ بقول غالب ؎
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغرکہے بغیر
باغ، میخانے اور ان کے تلازمات کے حوالے سے سودا کے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
ٹوٹے تری نگہ سے اگر دل حباب کا
پانی بھی پھر پئیں تو مزہ ہے شراب کا
ساقی! کئی بار، رہی دل میں یہ ہوس
تو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بس
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف،بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی
گرم جوشی نہ کرو مجھ سے کہ مانند ِچنار
اپنی ہی آگ میں میں آپ جلاجاتا ہوں
صبا سے ہر سحر مجھ کو لہو کی باس آتی ہے
چمن میں آہ گل چیں نے یہ کس بلبل کا دل توڑا
کیا اس چمن میں آن کے لے جائے گی صبا
دامن کو میرے سامنے گل جھاڑ کر چلا
بلبل کو کیا تڑپتے میں دیکھا چمن سے دور
یارب نہ کیجیو تو، کسی کو چمن سے دور
نسیم بھی ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
ہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے
بلبلِ تصویر ہوں جوں نقش ِ دیوارِ چمن
نے قفس کے کام کا ہرگز، نہ درکارِچمن
اس مرغ ناتواں کی صیاد کچھ خبر ہے
جوچھوٹ کر قفس سے گلزار تک نہ پہنچا
سودا کی غزلوں میں مکالماتی زبان نسبتاً کم اور واقعاتی بیان زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیان واقعہ کی صورت میں شعر کا سیاق و سباق داخلی اور موضوعی ہونے کے بجائے خارجی اور معروضی ہوتا ہے، اور انداز حکائی کے بجائے داستانی۔انھوں نے شعری اظہار کے مختلف النوع طریقے اختیار کر کے غزلیہ بیان کے حسن کو تکمیل ِفن کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔یہی وجہ ہے ان کے یہاں غزل کے روایتی اور مانوس مضامین بھی نئے اور انوکھے شعری پیکرمیں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
شیخ نے اس بت کو جس کوچے میں دیکھا شام کو
لے چراغ اب ڈھونڈے ہے واں تا سحر اسلام کو
کیا جانیے یہ کس گل و بلبل کا راز ہے
غنچہ کے رک رہی ہے دہن پر جو آئی بات
جس سے پوچھا کہ دل خوش ہے کہیں دنیا میں
رودیا اُن نے اور اتنا ہی کہا، کہتے ہیں
لالۂ خود رُو نہیں ہے،خون نے فرہاد کے
جوش میں آکر لگادی کوہ کے دامن میں آگ
بلبل چمن میںتیغِ نگہ کس کی چل گئی
جس گل کو دیکھتا ہوں سو زخموں سے چور ہے
یارو! وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہوا
نظروں میں سو طرح کی حکایات ہوگئی
سودانے خود کلامی کا لہجہ بھی بہت ہی کم استعمال کیا ہے۔ اور جہاں ایسی صورت حال ہوتی ہے وہاںوہ بالعموم دو کرداروں کی گفتگو کا انداز اختیار کرتے ہیں، اور اظہار تخاطب والے اشعار میںوہ عام شاعروں کی مانندغزل کے روایتی کرداروں سے ہی مخاطب ہوتے ہیں، مثلاً محبوب، شیخ، ناصح، صیاد،باغ اور باغ کے متعلقات جیسے گل، بلبل، صبا،بہار وغیرہ۔البتہ مقطعوں میں بطور خاص خود سے یا کہیے شاعر سے تخاطب کرتے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے ؎
سودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ
کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں
کہوں کیا تجھ سے اے سودا خرام ناز میں اس کا
دلوں کو ڈھونڈتی اک آفت ناگاہ پھرتی ہے
طلب نہ چرخ سے کر نانِ راحت اے سودا
پھرے ہے آپ یہ کاسہ لیے گدائی کا
سودا چونکہ مزاجاًخارجیت پسند، قصیدہ گو اور ہجو نگارشاعرتھے اس لیے ان کی غزلیہ شاعری میں بھی ان کے مزاج کا عکس اور ہجو و قصیدے کے رنگ و انداز جا بہ جا نظر آتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے توان کی بعض مسلسل اور بیانیہ نوع کی غزلوں میں، یا پھرجہاں ان کی ذات واحد متکلم،یاشعری محور کی حیثیت اختیار کرتی ہے وہاں قصیدے کا عکس واضح طور پر دکھائی دیتاہے۔ اور جب جب وہ شیخ، زاہد، ناصح یا محتسب سے تخاطب کرتے ہیں تو ہجو کے رنگوں کی چھینٹ سی پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،اور ایسے موقعوں پر غزل کے روایتی ’ظریفانہ طرز ‘ کے مقابلے میں انداز کافی حد تک طنزیہ اور استہزائیہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے ؎
پھرے ہے شیخ یہ کہتا کہ میں دنیا سے منھ موڑا
الٰہی ان نے اب داڑھی سوا کس چیز کو چھوڑا
عمّامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخ
سجدے سے ورنہ سر کو اٹھایانہ جائے گا
ترا مقال رہِ دیں سے دور ہے اے شیخ
مرید گو اسے قول پیمبری جانے
اعمال دیکھ تیرے، مے شرم سے عرق ہے
اے محتسب! تجھے بھی کچھ انفعال آیا
جنوبی ہند کی اردو غزل میں ہندی الفاظ و تلمیحات کثرت سے استعمال ہوئے ہیں، بالخصوص قلی قطب شاہ اور ولی دکنی کے یہاں۔ البتہ فارسی کے زیر اثر شمالی ہند میںاس کا رواج ذرا کم رہا ہے۔ پھر بھی ہندی کے چند ایک الفاظ میر، کچھ انشا اور مصحفی نے بھی استعمال کیے ہیں،سودا کے یہاں بھی ہندی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور بہت ہی خوب ہوئے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے ؎
نکل نہ چوکھٹ سے گھر کی پیارے جو پٹ کے اوجھل ٹھٹھک رہا ہے
سمٹ کے گھٹ سے ترے درس کو نَیَن میں جیرا اٹک رہا ہے
جنھوں کی چھاتی سے پار برچھی ہوئی ہے رن میں وہ سورما ہیں
پڑا وہ ساونت من میں جس کے برہ کا کانٹا کھٹک رہا ہے
جو باٹ ملنے کی ہووے اس کا پتا بتا دو مجھے سری جن
تمھاری بٹیوں میں آج برسوں سے یہ بٹوہی بھٹک رہا ہے
ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے
یہ وہ نین ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے
پہلے ذکر آچکا ہے کہ سودا اپنے غزلیہ اشعار میںکسی بھی طرح کے ابہام، پیچیدگی،دور ازکار تشبیہوں اور نا مانوس استعاروںسے احتراز کرتے ہیں۔ الفاظ کے درو بست بھی بالعموم وہ اس طور رکھتے ہیں کہ معنی برآمد کرنے میں دور کی کوڑی نہ لانی پڑے، اور نہ ہی شرح و توضیح میںبے جا تعبیرات و تاویلات کا سہارا لینا پڑے۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں کثرت سے ایسے اشعار بھی ہیں جو سہل ممتنع کی خوبیوں سے آراستہ ہیں۔اس نوع کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
نہ تلطف، نہ محبت،نہ مروت، نہ وفا
سادگی دیکھ کے اس پر بھی ملا جاتا ہوں
ہر دم جو مجھ سے پوچھے ہے تو،کیا ہے دکھ تجھے
کہنے کا تجھ سے فائدہ، بے درد! ہے سو ہے
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے
سو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو الطاف
جھوٹی بھی تسلی ہو تو، جیتا تو رہوں میں
گوہر کو جوہری اور صراف زر کو پرکھے
ایسا کوئی نہ دیکھا وہ جو بشر کو پرکھے
انصاف کس کو سونپیے اپنا بہ جز خدا
منصف جو بولتے ہیں، سو تجھ سے ڈرے ہوئے
اس میں شک نہیں کہ سودا کی طبیعت صد رنگ تھی اورمشاہدہ ہمہ گیر۔ غالباًاسی بنا پر ان کے خیالات روشن اور متنوع تھے اور زبان واضح، ثروت مند اور ہنر مندانہ۔انھیں تمام اصناف سخن پرمکمل دسترس حاصل تھی اور وضع اسالیب میں مہارت، جس کا اظہاران کی شاعری کی مشکل زمینوں، موضوعات کے تنوع اور جدت فکر سے ہوتا ہے۔ وہ لفظوں کے تخلیقی استعمال اور انھیں نئی معنویت دینے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف تھے۔ عربی، اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ وہ ملکی زبانوں میں ہندی، پنجابی، پوربی اور دکھنی زبانوں سے خاصے آگاہ تھے، اور ان سب کوانھوں نے اپنے اشعار میںموقع و محل کی رعایت سے بڑی ہی خوبی اور فنکاری کے ساتھ برتا ہے۔ وہ اپنے عہد میں مروجہ زبان،الفاظ اور تراکیب کے نرے مقلد نہیںبلکہ ایک اجتہادی شان کے حامل تھے اور الفاظ سازی اور وضعِ تراکیب کا تخلیقی شعور رکھتے تھے، جس کا انھیں احساس تھا اور اس پر وہ فخر بھی کرتے تھے۔ یہ اشعار دیکھیے ؎
کہے تھا ریختہ کہنے کو عیب ناداں بھی
سویوں کہا میںکہ دانا ہنر لگا کہنے
مری زبان ہے ملک ِ سخن میں یک خیاط
عروس معنی کا ہو ٹھیک پیرہن مجھ سے
سخن تراش میں وہ ہوں، یہ سنگلاخ زمیں
چھوئے نہ تیشے کو بن پوچھے کوہکن مجھ سے
کب اس کو گوش کرے تھا جہاں میں اہل ِکمال
یہ سنگ ریزہ ہوا ہے درّ ِ عدن مجھ سے
تسلیم کرنا چاہیے کہ سودا نے اپنے ہم عصروں سے الگ طرزِ اظہاراختیارکی تھی اور جداگانہ اسلوب اپنایاتھا۔ یہ شعر دیکھیے جو دراصل میر کے اُس شعر کا جواب ہے، جس میں میر نے سودا کو جاہل کہا تھا ؎
نہ پڑھیو یہ غزل سودا تو ہرگز میر کے آگے
وہ ان طرزوں سے کیا واقف، وہ یہ انداز کیا جانے
میر کا شعر جس میں انھوں نے سودا پر سخت طنز کیا تھا یہ ہے ؎
طرف ہونا مرا مشکل ہے میر اس شعر کے فن میں
یوں ہی سودا کبھی ہوتا ہے،سو جاہل ہے کیا جانے
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سودا کا اسلوب میرجیسا مانوس اور مخصوص نہ سہی،لیکن رائج الوقت اسلوب سے منفرد اور ممتاز ضرور تھا۔ تسلیم کیجیے کہ سودا کے اسالیب نے اپنی منطقی،متنوع اورنشاطیہ ساخت اور پُر قوت بیانیہ کے باعث مستقبل میںشعری اسالیب کی تشکیل کے لیے اہم بنیادیںفراہم کیں، جن کی بنا پر غزل نے خالص جذبات نگاری کے ساتھ فکری اظہار کی عکاسی سے آشنا ئی حاصل کی، اور ندرت و رنگینی بھی۔ چنانچہ یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بعد کے شاعروں میں اوروں کے مقابلے سب سے زیادہ سودا کے شعری اسالیب کی پیروی کی گئی۔پروفیسر محمد حسن صاحب نے بہت صحیح لکھا ہے کہ :
’’سودا کی جامعیت اور ذہانت کا ثبوت ہے کہ اس نے اردو غزل میں تقریباً وہ تمام اسالیب استعمال کیے جو بعد کو دہلویت اور لکھنویت کے نام سے مانوس ہوئے۔‘‘
(مطالعہ سودا، لکھنؤ، 1965،ص، 55-56)
اور گو کہ سودا نے خود تو تصوف کے اشعار کم کہے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ غالب اور اقبال نے صوفیانہ اشعار کے لیے کافی حد تک سودا کا لہجہ اپنایاہے۔ غالب نے فکری، اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر مرزا بیدل کے بعدسب سے زیادہ اثر مرزا محمد رفیع سودا کا قبول کیا ہے۔اس مضمون میں مختلف حوالوں سے مثال میں پیش کیے گئے اشعار سے اس بات کی تصدیق بہ آسانی کی جا سکتی ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ مجموعی اعتبار سے ا ردو غزل پر سودا کا اسلوب حاوی رہا ہے، اور موجودہ زمانے میں بھی اس کی پیروی کی جارہی ہے۔
غزل کی شاعری کے مقابلے قصیدے کے فن میںسودا کا قد زیادہ عظیم اور ان کا کارنامہ بیش بہا ہے۔ تسلیم کیجیے کہ قصیدے کی صنف نے ایران و ہندوستان کی حد تک عقیدت و احترام کی زمین سے نمو کیا اور جاگیردارانہ ماحول میں پھلی پھولی۔اردو شاعروں نے اس صنف کا استعمال یا تو عقیدت کے اظہار یا روحانی تسکین کے لیے کیا ہے، یا پھر شاہوں، نوابوں، امیروں، رئیسوںاور والیانِ سلطنت و علاقے کی انا کی آسودگی کی خاطر،ان کی خوشنودی کے حصول،یا ان سے طلبِ مال و منفعت کے پیش نظرکیا ہے۔سودا سے پہلے شمالی ہند میںتمام اصناف شاعری کے ساتھ قصیدہ بھی نمایاں طورپر نظر آتا ہے، مگر کسی شاعرنے بنیادی طور پر قصیدہ نگار کے حیثیت سے اپنی مستحکم اور منفرد شناخت نہیں بنائی۔ شیخ ظہورالدین حاتم اور شاہ مبارک آبرو کے زمانے میں کچھ قصیدے کہے گئے لیکن غزل کے نور و نکہت کے آگے ان کی دمک بس جگنو کی سی ہی رہی۔سو، پہلی بار سودانے شمالی ہندمیںاردو قصیدہ نگارکی حیثیت سے اپنی ایک مستحکم اور ممتاز شناخت قائم کی،اور اردو قصیدہ نگاری کو فارسی قصائد کے مقابل لا کھڑا کیا،گو کہ مصحفی اور ذوق نے بھی اس صنف کی آرائش و آراستگی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
سودا نے دو طرح کے قصیدے کہے ہیں۔ اول :مذہبی قصیدے جنھیں انھوں نے جذبات و عقیدت سے لبریز ہوکر محسن انسانیت یعنی پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں تحریر کیے ہیں۔دوم :مدحیہ قصیدے جوسرپرستوں، نوابین و امرا، یا یوں کہیے کہ صاحبانِ اقتدار و اختیار کی تعریف و توصیف میںانعام و اکرام کے حصول یاشکرانے کے لیے لکھے ہیں۔اورخاصی تعداد میں ہجویں بھی لکھی ہیںجو اُن کے غصے،تعصب اور ناراضگی کا نتیجۂ فکر ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہجو کو ہمارے شعرا، ناقدین، محققین اورتذکرہ نویسوں نے قصیدہ ہی کہا ہے۔ مثلاً ’قصیدہ ‘ کو قصیدہ، اور ’ہجو‘ کو’ ہجویہ قصیدہ‘۔ لیکن اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ’ہجویہ قصیدہ‘ کی اصطلاح قطعاً درست نہیں ہے۔کہ اردو میں قصیدہ الگ صنف ہے جس کی ہیئت متعین ہے۔قصیدے کی صنفی شناخت کے لیے موضوع اور ہیئت کو مساوی حیثیت حاصل ہے۔ جب کہ ’ہجو ‘ قصیدہ سے الگ اور خود مختار صنف ہے جس کی کوئی مخصوص و متعین ہیئت نہیں ہے۔ اور اس کی صنفی شناخت محض موضوع سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ہجو‘غزل، مثنوی، قطعہ،رباعی اور ترجیع بند کی تمام ہیئتوں میں لکھی جاتی ہیں۔ پھر دلچسپ بات یہ کہ’ قصیدہ ‘اور’ ہجو ‘کے اصطلاحی اور لغوی معنی بھی متضاد ہیں۔
سودا نے قصیدے کے تمام عناصر کو بڑی ہی خوبی، مہارت اور سلیقے سے برتا ہے۔سودا کاامتیاز یہ ہے کہ انھوں نے موضوعات کی تلاش، تشبیب کے انتخاب، گریز کی ہنرمندی اور مدح کی پیش کش میں تخیل کی بلندی کا جو معیار قائم کیا ہے وہاں تک اردو کا کوئی اور قصیدہ نگار نہیں پہنچ پایا ہے۔ان کے بیشتر قصیدوں کی تشبیب بہت ہی پُر شکوہ،بلندآہنگ اور مطلع تجسس آمیز اور حیرت افزا ہے۔وہ اپنی تشبیبوں میں مدح کے موضوع کے مطابق کہیں موسموں کابیان کرتے ہیں، کسی میں زمانۂ شباب کا ذکرہے، کسی میں محبوب کانقشہ کھینچتے ہیں،کسی تشبیب کو تمثیل سے آراستہ کیا ہے اور بعض میں اپنی شاعرانہ تعلّی کو جگہ دی ہے۔عمادالملک کے ایک قصیدے کی تشبیب میںحرص اورخوشی کے مکالمے کوبے حد دلچسپ انداز میںبیان کیا ہے، جس میں چالیس اشعار پر مشتمل خوشی کے سراپاکو نظم کیا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
آنکھیں مل کر کے جو دیکھوں ہوں تو اک بادلہ پوش
سر سے لے غرق جواہر میں وہ ہے پانوتلک
حسن ایسا کہ جسے ماہ شب چار دہم
یک بہ یک دیکھ کے یک چند تو رہ جائے بھچک
چہرے میں ایسی ہے گرمی کہ شب و روز جسے
یاد کرتی ہی رہے دامن مژگاں کی جھپک
مسی آلود لب اخگر تھے تہہ خاکستر
کہ ہوا سے وہ سخن کرنے میںجاتے تھے دہک
ساعد دست حنا بستہ کی ایسی حرکات
شاخ میں گل کی پون بہنے سے جوں آئے لچک
گریز کے معاملے میں سودا نے ماہر مصور اور سلیقہ مند مرصع ساز جیسی ہنرمندی سے کام لیا ہے۔ تشبیب سے مدح کے لیے وہ اس طرح گریز کرتے ہیں کہ بیان کاتسلسل اور فطری پن پوری طرح قائم رہتا ہے اورموضوع کی تبدیلی کااحساس تک نہیں ہونے پاتا۔مثال کے لیے حضرت علیؓ کی منقبت میں ان کے مشہور لامیہ قصیدے،رسول اکرم کی شان میں کہے گئے نعتیہ قصیدے، نواب عمادالملک کی مدح میں لکھے ہوئے کافیہ اورشجاع الدولہ کی مدح میں لامیہ قصیدے وغیرہ کو دیکھا جانا چاہیے۔
اردو اور فارسی کی حد تک قصیدے کا مقصد و منہاج مدح ہے۔قدامہ ابن جعفر کے مطابق قصیدہ نگار کو ممدوح کے چاربنیادی اوصاف یعنی عقل،عفت، عدل اور شجاعت کی تعریف کرنی چاہیے۔وقار رضوی نے ان چاروں اوصاف کے ضمن میںآنے والی صفات کی درجہ بندی یوں کی ہے:
.1 عقل: ذکاوت، حس،حیا،بیان، سیاست، کفایت،حق و باطل کی تمیز،جاہلوں کی سفاہت سے در گزر،علم اور تدبر۔
.2 عفت : قناعت، حرص کی کمی،پاک دامنی، وفاداری۔
.3 عدل : سخاوت،عطا، مہمان نوازی،جود و سخا اور عطا کے وقت خندہ پیشانی،ظلم برداشت کرنا۔
.4 شجاعت : دشمنوں کو دفع کرنا، انتقام اور بدلہ لینا،ہیبت و دبدبہ،گردن خم نہ کرنا۔
ظاہر ہے ان چار اوصاف کے ضمن میں بیان کی گئی صفات کے علاوہ قصیدہ نگار اور بھی بہت سی چیزوں کی تعریفیں کرتا ہے، مثلاً شجاعت کے ضمن میںممدوح کے گھوڑے کے حسن، اس کی برق رفتاری، تلوار کی تیزی کی تعریف، اور ممدوح کی قوت اور فن حرب سے اس کی واقفیت کی تعریف وغیرہ۔اسی طرح عدل کے ضمن میںممدوح کے داد و دہش اور اس کے باورچی خانے وغیرہ کی تعریف۔ سودا کے قصیدوں کے مطالعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انھوںنے ممدوح کے ان تمام اوصاف اور دوسری خوبیوں کا بکمال احاطہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنی مدحوں میں نادر خیال،انوکھے مبالغے اور الفاظ کے زور سے ایسی جدت و شان پیدا کی ہے کہ اردو کا کوئی اورقصیدہ نگار فن کی اس معراج تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ عدل کے حوالے سے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
پیش خس تاب نہ آتش کو بجز خاموشی
نہ یہ طاقت کہ زباں اپنی کرے شعلہ دراز
گر معدلت پہ آوے وہ گلشن جہاں میں
آنکھوں میں باغباں کی بلبل کا آشیاں ہو
ٹانک دے عدل دیدۂ شاہین
بھر نظر دیکھے گر سوئے عصفور
کہ تار و پو دسے اس کے بھی دیوے ہے لٹکا
بہ جرم خون مگس عنکبوت کو ایام
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سودا نے عدالت و شجاعت کے روایتی مضامین میںنئے نئے پہلو نکالے ہیں،اور استعارے کے مقابلے میں تمثیل اور تشبیہ جیسے شعری طریقہ ٔ کار کا استعمال زیادہ کیا ہے۔نادر خیالات، مبالغے کی شدت، نزاکت مضمون، زور بیان اور تخلیقی جدت ان کے قصیدوں کی وہ نمایاں خوبیاں ہیں جو انھیں دوسرے قصیدہ نگاروں سے ممتاز مقام پر فائز کرتی ہیں۔
ممدوح کے چار اوصاف کے علاوہ قصیدے میں شوکت الفاظ اور مبالغے کو لازمی شعری وسائل سمجھنا چاہیے۔ پروفیسر قاضی افضال حسین ’شوکت الفاظ ‘ کی تعبیر یوں کرتے ہیں :
’’الفاظ کی شوکت سے مراد یہ کہ الفاظ تلفظ کی سطح پر بلند آہنگ اور معنی کی سطح پر ان مظاہر و تصورات سے منسلک ہوں جو مقتدر، نفیس، ارفع و اعلیٰ ہیں۔ گویا تلفظ اور معنی دونوں سطحوں پر ’’غیر عمومیت‘‘ اور ’’اشرفیت‘‘ لفظ کی شوکت کے بنیادی جز ہیں۔ مزید یہ کہ مصرعے کی ساخت بھی شوکت الفاظ کو نمایاں کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ شاعر باوزن ترتیب کی تعمیر میںالفاظ کو اس طرح مرتب کرتا ہے کہ ان کا مجموعی آہنگ بلند ہوجاتا ہے۔‘‘(مرزا محمد رفیع سودا،ساہتیہ اکادمی، 19 90، ص،44 )
یوں تو سودا کے تمام قصیدوںمیں شوکت الفاظ کی یہ شان پائی جاتی ہے مگر اس کی بہترین مثالیں دیکھنی ہوں تو ان کے قصائد ’ در نعت حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم‘، ’باب الجنت ‘، در مدح نواب سیف الدولہ احمد علی خاں‘ اور ’ بحر بے کراں‘ کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے کہ قصیدے میں باشاہ یا ممدوح کے ذاتی یا واقعی اوصاف کا نہیں بلکہ ان سے منسوب منصب یاعہدے کے مثالی اوصاف کا بیان ہوتا ہے۔لہٰذا اسے بہر صورت اصلیت نہیں مثالیت سمجھنا چاہیے۔
قصیدوں کے حوالے سے سودا کے تخیلات میں کوہستانی سلسلے کی سی رفعت و بو قلمونی اورالفاظ میںآبشار جیسی پُر شور روانی ہے۔فصاحت و بلاغت کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے جو الفاظ جہاں رکھے ہیں، گویا وہ انھی مقامات کے لیے خلق ہوئے تھے۔ممکن نہیں کہ الفاظ کی جگہ بدلی جا سکے،یا ان جگہوں کے الفاظ تبدیل کیے جاسکیں،کہ ایسا کرنے سے نہ صرف قصیدے کا شکوہ بلکہ شعر کا لطف بھی جاتا رہے گا۔ ذخیرۂ الفاظ پر ایسی قدرت اور زبان کے استعمال میں سودا جیسی مہارت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ سودا کے ذرا بعد یہ خوبی نظیر اکبر آبادی کو ملی اور عرصے بعد یہ وراثت جوش ملیح آبادی کے حصے میں آئی۔
جس طرح عقیدت و احترام اور تحسین و پسندیدگی کا بیان قصیدہ کے بنیادی محرک ہیں،اسی طرح غصہ، نفرت اور ناراضگی کا بے باکانہ اور بے محابہ اظہار’ہجو‘ کی بنیاد ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ قصیدہ ایک مخصوص ہیئت کا پابند ہوتا ہے،جب کہ ہجو کے لیے کوئی ہیئت متعین نہیں ہے۔ اس کی شناخت کا تمام تر دار ومدارشعری مواد اور موضوع کے حوالے سے شاعر کے رویے پر منحصر ہے۔ زمانۂ قدیم سے ہی قصیدے کی ہیئت میںہجو کہنے کی روایت رہی ہے، مگر عربی اور فارسی زبانوں میںکثرت سے ہجویہ قصائد کی موجودگی کے باوجوداردو شعرا نے اس جانب توجہ نہیں دی تھی۔ہمارے یہاں ہجو گوئی کا آغاز سودا سے ہوتا ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ اس صنف کے فنی معیار، کثرت تخلیق اور شدت اثر کے اعتبار سے سودا ہی اس کے خاتم ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ہجو میں شخصی اور سماجی عیوب کو انتہائی مبالغے کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔سودا کی ہجووں میںشوخی اور طنز و ظرافت بھی ہے اور بعض جگہوں پرابتذال و رکاکت بھی۔سماجی اور معاشرتی بے اعتدالیوں،اخلاقی خامیوں، حکومت و انتظامیہ کی بدعنوانیوںاور اشخاص و افراد کی کم ظرفیوں اور دشمنیوں کو انھوں نے اپنی ہجویات کا موضوع بنایا ہے۔ اشخاص کے حوالے سے انھوں نے فاخر مکیں، ضاحک،قیام الدین قائم اور میر محمد تقی کی ذاتیات پر حملے کیے ہیں۔سودا کے بارے میں ہمارے ناقدین یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ اپنی ہجویات میں ابتذال اور رکاکت پر اتر آتے ہیں۔جب کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ شخصی ہجو ہمیشہ بغض، بدلے، عناد اور تعصب کی زائیدہ ہوتی ہے۔اور اس کے اظہار کے لیے وجود میں آئی ہوئی صنف یعنی ’ہجو‘ کی خوبی ہی یہ ہے کہ باتوں میں حد درجہ مبالغہ پیدا کرکے شدت اثر کو انتہا تک پہنچایاجائے۔بعنیہ یہی رویہ عالمی شاعری کی کم از کم دو زبانوں عربی اور انگریزی میں بدرجہ اتم موجود ہے۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان دونوں زبانوں میںذاتی بغض و عناد پر مبنی شاعری میں رکاکت و ابتذال سودا کی ہجووںسے منزلوں آگے ہے۔مذہب و اخلاق میں کسی کا مذاق اڑانا، اس کے عیوب کو بڑھا چڑھاکر بیان کرنامعیوب و ممنوع سہی مگر ہجو کی شریعت میں یہ سب مباح و مقبول قرار دیے گئے ہیں۔ یہی عیوب بیانی بسا اوقات قصیدے کے مہتم بالشان کرداروں کے مقابلے میں ہجو کے کم اہم کرداروں کو شہرت و جاودانی عطاکرجاتی ہے۔ چاہیں تو سودا کی ہجووں میں شیدی فولاد خاں، میرزا فیضواورفوقی جیسے کرداروں کو یاد کر لیجیے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ مذہبی عقیدے اور اشخاص کو احتراماً ہجو کے حدود سے باہر رکھا گیا ہے، اور انھیں رکاکت وابتذال کے بیانیے سے آلودہ کرنا محمود نہیں سمجھا گیا ہے،لیکن سودا نے اس پابندی کا بھی پاس نہیں رکھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے متعلق ا ن کی ہجو ان کی شاعری کے جسم پر ناسور کی صورت معلوم ہوتی ہے۔
یوں تو سودا کے سپاہیانہ مزاج سے کچھ بعید نہ تھا کہ انھیں کس کی بات ناگوار لگ جائے اور وہ کس سے، اور کب ناراض ہوکر اس کی ہجو لکھنے بیٹھ جائیں۔ لیکن ان کی ہجووں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بالعموم وہ متکبر، مغرور اور حاسدوں کو برداشت نہیں کرپاتے تھے۔ سودا نے تقریباً چھتیس ہجویں لکھی ہیں جن میں سے سترہ ہجویں ذاتی مخاصمت کی بنا پرمختلف اور اہم افراد کی ہیں۔ چھہ ہجویں اخلاقی برائیوں سے متعلق ہیں، جن میں سے تین عمر دراز افراد کے شادی کرنے،دو بخالت کے، اور ایک امرد پرستی کے خلاف ہے۔ چار ہجویں مذہبی اختلاف کے پیش نظر ہیں، جن میںسے تین شیعیت کے مخالفین کی ہیں، اورایک ’حلت غراب‘کے خلاف۔ دو ہجویںاپنے عہد کی بد نظمی کے خلاف لکھی ہیں، ایک ’مثنوی در ہجو شیدی فولاد خاں کوتوال ‘ اور دوسری ’در بیان پہرہ‘۔تین ہجویں جانوروں اور پرندے کی بھی ہیں۔ایک راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کی،ایک تضحیک روزگار میں گھوڑے کی، اورایک ہجومحض دو اشعار پر مشتمل’قطع در ہجو مرغ سبز واری‘ کے عنوان سے ہے۔ یہ ہجویں مسدس، مثنوی، قطعہ اور ترجیع بند کی ہیئتوں میں لکھی گئی ہیں۔
غزل اور قصیدے کے علاوہ سودا نے شہر آشوب، مثنوی،مرثیے اور سلام بھی لکھے ہیں۔ظاہر ان تمام اصناف میں ان کا اپنا رنگ نمایاں اور کسی حد تک تیز ہے۔ ان کاڈکشن، ان کا تیور، ان کا مزاج اور ان کا ذاتی مشاہدہ و مطالعہ انھیں اپنے ہم عصروں میںمنفردمقام کا حامل بناتا ہے جن سے ان کی ایک مخصوص پہچان بنتی اور سب سے الگ شناخت قائم ہوتی ہے۔
کتابیات
.1 مرزا محمد رفیع سودا، قاضی افضال حسین، ساہتیہ اکادمی،دہلی، 1990
.2 کلیات سودا، منشی نول کشور، کانپور،1873
.3 انتخاب غزلیات سودا، مرتبہ ڈاکٹر شارب ردولوی، دہلی،1992
.4 مرزا محمد رفیع سودا، مرتبہ پروفیسر نذیر احمد، غالب انسٹی ٹیوٹ،دہلی،2001
.5 دیوان سودا،مرتبہ ڈاکٹر ہاجرہ ولی الحق،لکھنؤ، 1985
.6 انتخاب سودا، تصحیح و ترتیب رشید حسن خاں،مکتبہ جامعہ دہلی،1972
Abu Bakar Abbad
HOD, Dept of Urdu
Delhi University
Delhi- 110007
Mob: 9810532735
bakarabbad@yahoo.co.in