اردو مسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے: خواجہ افتخار احمد

February 8, 2026 0 Comments 0 tags

پریس ریلیز:

اردو ہندوستان کی زندہ زبان ہے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

نئی دہلی: کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کے عنوان سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن تین اہم تکنیکی سیشنز اور مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ ان تینوں سیشنز میں اردو زبان کے دیگر زبانوں سے لسانی، ثقافتی، ادبی اور تہذیبی انسلاکات پر مختلف دانشوروں کی جانب سے اظہار خیال کیا گیا۔ صدور اجلاس نے عالمی اردو کانفرنس کے اس موضوع کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی اردو کونسل اور اس کے ڈائرکٹر کو مبارکباد پیش کی اور اسے اردو کی ترویج و اشاعت کا ایک سنگ میل قرار دیا۔ پہلے سیشن میں ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد بطور صدر، پروفیسر شافع قدوائی اور پروفیسر روی ٹیک چندانی بطور مہمانان اعزازی شریک ہوئے۔ جبکہ پروفیسر شمبھوناتھ تیواری، پروفیسر انتخاب حمید، جناب خاور نقیب، جناب شبیر احمد اور محترمہ اسما امروز نے مقالات پیش کیے۔ اس سیشن کی نظامت محترمہ نہاں رباب نے کی۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد نے کہا کہ ہندوستان جڑ کا نام ہے اور اس کی بہت سی شاخیں ہیں۔ اس کی ہر شاخ کو ہرا رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نیز اردو کو عام فہم اور دور رس بنانے کے لیے آسان الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔ اردو مسلمان کا نام نہیں، ہندوستان کا نام ہے۔ اس طرح کی کانفرنس ملک میں ہر طرح کی ہم آہنگی کا باعث ہوتی ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی میں زبان بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس اعتبار سے بھی یہ کانفرنس بے حد خاص ہے۔ پہلے مہمان اعزازی پروفیسر روی ٹیک چندانی نے سندھی و اردو کے لسانی روابط پر اظہار خیال کیا اور زبانوں کے فروغ پانے کے اصول و ضوابط پر بھی روشنی ڈالی۔ دوسرے مہمان اعزازی پروفیسر شافع قدوائی نے کانفرنس کے عنوان کے مختلف پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا اور ملٹی لنگولزم کی افادیت اور اس کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے پاننی، آنند وردھن اور ابھینو گپت کا ذکر کرتے ہوئے اردو زبان و ادب پر ان کے افکار و نظریات کے اثرات کی بھی نشاندھی کی۔ محترمہ اسما امروز نے تیلگو اور اردو زبان کے لسانی روابط پر اپنا مقالہ پیش کیا اور مثالوں کے ذریعہ ایسے کئی الفاظ کی نشان دہی کی جو دونوں زبانوں میں معمولی تبدیلی کے ساتھ رائج ہیں۔ دوسرے مقالہ نگار جناب خاور نقیب نے انڈین نالج سسٹم کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا اور مختلف تہذیبوں سے جوڑنے میں اردو تراجم کو اہم قرار دیا۔ جناب شبیر احمد نے قومی وراثت و ثقافت اردو تراجم کے آئینے میں کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اور کئی اہم نکات کی جانب توجہ دلائی۔ پروفیسر انتخاب حمید نے زبان کی معاملاتی منطق اور نتائج کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا اور کانفرنس کے موضوعات کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے عین مطابق قرار دیا۔پروفیسر شمبھوناتھ تیواری نے اردو میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقالہ پیش کیا اور مختلف تہذیبوں کی آمیزش کو ہندوستان کی سب سے بڑی خوبصورتی بتایا۔
دوسرے سیشن میں بطور صدر پروفیسر سید عین الحسن اور مہمان اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل اختر شریک ہوئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر مشتاق عالم قادری، پروفیسر جلال الحفناوی، ڈاکٹر تاشیانہ شمتلی، ڈاکٹر ایلن ڈسولیرلیس اور ڈاکٹر سفینہ بیگم کے نام شامل ہیں۔ اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر نثار احمد خان نے انجام دی۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر عین الحسن نے تمام مقالہ نگاروں کے مقالات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اردو کو کم آنکنے کی ضرورت نہیں، اس نے مختلف علوم و فنون کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔ انھون نے مختلف زبانوں کے لسانی روابط سے اردو کے فروغ کی جانب بھی اشارہ کیا۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر جمیل اختر نے لسانی روابط کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نے دوسری زبانوں پر جو اثرات مرتب کیے ان پر گفتگو ہونی ضروری ہے۔ ڈاکٹر سفینہ بیگم نے رویندر ناتھ ٹیگور کی کہانیوں کے دو تراجم کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ ماریشس سے تشریف لائیں ڈاکٹر تاشیانہ شمتلی نے اردو اور ماریشی زبان کے لسانی روابط سے متعلق خیالات کا اظہار کیا اور ان دونوں کے مابین ہم آہنگی کے پہلو تلاش کیے۔ پروفیسر مشتاق عالم قادری نے گوجری غزل پر اردو زبان کے اثرات کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہوئے اس کی متعدد مثالیں پیش کیں۔ پروفیسر جلال الحفناوی(مصر) کے مقالے کا موضوع اردو اور عربی زبان کے لسانی روابط سے متعلق رہا۔ انھوں نے اردو میں رائج عربی کے مرکبات اور محاورات پر بھی اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر ایلن ڈسولیرلیس (فرانس) نے ” تصوف اور تصور، ہسپانوی اور اردو” کے موضوع پر اظہار خیال کیا اور کچھ مترجم نمونے بھی پیش کیے۔
تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسر قدوس جاوید نے کی اور مہمانان اعزازی کے طور پر پروفیسر اعجاز علی ارشد اور پروفیسر ارتضیٰ کریم شریک ہوئے۔ پروفیسر ہیننز ورنر، اور جناب محمد سیفی عمری نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسن ایوبی نے انجام دیے۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ ہندوستان محض جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ کثیر الجہات تہذیبوں کا نام ہے۔ ہماری مشترکہ تہذیب کی جڑیں ویدک کال میں پیوست ہیں۔ آپ نے کہا کہ اردو کی شناخت اس کی علامات، استعارات اور کنایوں سے قائم ہوتی ہے۔ لفظ محض لفظ نہیں بلکہ ایک تصویر، آواز اور طویل تاریخ و تہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ دیگر زبانوں کے جاننے والوں کو بھی اردو زبان و تہذیب کی نمائندگی کے متعلق غور کرنا چاہیے اس سے زبان کے فروغ کا دو طرفہ عمل سامنے آئے گا۔ دوسرے مہمان اعزازی پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کہا کہ دیگر زبانوں کے الفاظ اور اثرات قبول کرنا کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔ انھوں ںے اردو زبان کو لسانی جمہوریت کا بہترین نمونہ قرار دیا۔
مقالہ نگاروں میں جناب محمد سیفی عمری نے اردو اور تمل زبان کا ادبی ارتباط اور اشتراک کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور ان کے مابین صرفی اور ہیئتی مطابقت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ہینز ورنر(سویڈن) نے کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف زبانوں کے آپسی میل جول اور اثرات کی نشاندہی کی۔
اس سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا اختتام قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کے کلمات پر ہوا۔ انھوں نے کانفرنس کے متعلق وزیر اعظم عزت مآب شری نریندر مودی کا پیغام سنایا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مختلف علاقوں کی نمائندگی ہوئی ہے۔ کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کے متعلق انھوں نے کہا کہ ہمیں کسی ایک دائرے میں محدود رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف علاقوں سے اس کی نمائندگی ہونا یہ بتاتا ہے کہ اردو میں مختلف تہذیبوں کی شمولیت ہے۔ زبانوں کی ادبیات کا لین دین ہوتے رہنا چاہئے۔ اردو ہر صوبہ، ہر ضلع اور ہر مقام پر ہے۔ اردو کو دور رس بنانے کے لیے تلفظ اور ادائیگی کی گرفت سے باہر نکلنا ہوگا۔ یہ ہندوستان کی زندہ زبان ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہم اردو کے الفاظ دیگر زبانوں میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح اردو میں دیگر زبانوں کے الفاظ استعمال کرنے پر بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ قومی اردو کونسل نے حالیہ سرگرمیوں میں قریب سات سو افراد کو شامل کیا ہے اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے عالمی اردو کانفرنس کے لیے منتخب ہونے والے تین نوجوان اسکالرس محمد فیروز احمد (لداخ) اسما امروز(تلنگانہ)، محمد سیفی عمری(تامل ناڈو) کو مبارکباد پیش کی اور ملک و بیرون ملک کے تمام مہمانوں، مقالہ نگاروں، اراکین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک خوبصورت مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا جس کی صدارت بزرگ شاعر محترم چندربھان خیال نے کی۔اس مشاعرے میں پروفیسر شہپر رسول، ڈاکٹر پاپولر میرٹھی، جناب شکیل جمالی، پروفیسر سراج اجملی، جناب نعمان شوق، جناب افضل منگلوری، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، جناب مظفر ابدالی، جناب منیش شکلا اور ڈاکٹر قمر سرور نے بطور شاعر شرکت کی اور اپنے کلام سے نوازا۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض جناب معین شاداب نے انجام دیے اور تعارف و استقبال جناب محمد اکرام نے پیش کیا۔

(رابطہ عامہ سیل)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کےاسٹال پر ‘جتنے دور اتنے پاس’ (کتاب پر مذاکرہ)،‘مادری زبان میں قومی تعلیمی پالیسی2020’ اور اردو کے فروغ میں تھیٹر کا کردار ’ کے عنوانات سے مذاکرے

نئی دہلی: قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلے میں آج تین مذاکرے منعقد ہوئے ۔ پہلا پروگرام ‘جتنے دور اتنے پاس ’ نامی کتاب پر مذاکرہ تھا۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی جانب سے تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس

پریس ریلیز: نئی دہلی: آج وزیراعظم میوزیم، تین مورتی مارگ،دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے منعقد کیے جانے والے عظیم الشان تین روزہ عالمی اردو

عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکروں کا اہتمام

نئی دہلی: عالمی کتاب میلے کے پانچویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکرے منعقد ہوئے۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم