بنیادی تعلیم

January 14, 2026 0 Comments 0 tags

مضمون نگار: : ڈی ایس گورڈن، مترجم: خلیل الرحمن سیفی پریمی

اردو دنیا،نومبر 2025

 

منصوبی طریقے کی قدرو قیمت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس میں بامقصد عمل پر زور دیا جاتا ہے۔ اس میں ہاتھ کے عمل یا حرفہ کے کام کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس کے گرد تمام علم وقوع میں آتا ہے۔ یہی تصور گاندھی جی کے حرفہ مرکز تعلیمی نظام میں پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ۔جب کہ منصوبی طریقہ بعض مضامین مدرسہ کے علم تک محض رسائی کا ایک طریقہ ہے۔ گاندھی جی کی اسکیم ایک قطعی تعلیمی نظام ہے۔ مزید برآں گاندھی جی نے کسی تعلیمی نظریے یا عمل کا مطالعہ کرکے یا واقفیت حاصل کرکے اپنی اسکیم تیار نہیں کی۔ انھوںنے اپنی فکر اور تجربے اور اپنے ملک کے پیدا شدہ حالات کے مخصوص حوالہ سے اس اسکیم کو بنایا۔ جس کو اب بنیادی تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس کو اپنے ہی تعلیمی فلسفے کی حمایت حاصل ہے اور اسی سے پہلے کے تعلیمی مفکرین کے بیانات سے کوئی چیز نہیں لی گئی ہے۔ گاندھی جی نے جو کچھ تجویز کیا ہے اور دوسروں نے جو کچھ کہا ہے اور عمل کیاہے اس میں اگر کہیں کوئی مماثلت ملتی ہے تو وہ قطعی اتفاقی ہے۔
نظریۂ بنیادی تعلیم کی اہم خصوصیات
بنیادی تعلیم کی اہم خصوصیات کو اس طور پر بیان کیاگیا ہے:
.1 کم سے کم معیار تک تمام شہریوں، مردوں اور عورتوں کے لیے تعلیم عام ہونی چاہیے۔ شروع میں اس کو لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن جیسے ہی سہولتیں میسر آئیں اس کو لازمی قرار دے دیا جائے۔اس عام کم از کم تعلیم کو گاندھی جی بنیادی تعلیم کہتے ہیں۔
.2 اس تعلیم کا نصاب سات برس کا ہے۔ اور سات برس کی عمر سے تعلیم شروع ہوتی ہے۔
.3 فی الحال بنیادی تعلیم کا تعلق اسکول سے پہلے کی سطح یا بعد کی بنیادی سطح سے نہیں ہے۔
.4 بنیادی تعلیم مادری زبان کے ذریعہ ہونی چاہیے۔
.5 اس کا مرکز کوئی آرٹ یا دست کاری ہوناچاہیے۔ جس آرٹ یا حرفہ کا انتخاب کیا جائے۔ تمام تدریس اسی کے ذریعہ ہوناچاہیے۔
.6 آرٹ یا حرفہ کو لیاقت اور عملی نتائج کے پیش نظر سیکھنا چاہیے۔
.7 مصنوعات کو اقتصادی طور پر نفع بخش ہونا چاہیے۔
.8 اس امر کی کوشش ہونی چاہیے کہ استاد کی تنخواہ کام کے معاوضہ سے پوری ہو سکے۔
.9 اسکول کی عمارت اور سازو سامان کا بقیہ صرفہ ریاست کو مہیا کرنا چاہیے۔
.10 حرفے کی مصنوعات کو ریاست اپنی ضروریات اور اسی کے تحت جو مقامی انجمنیں ہیں ان کے کام میںلائے۔ مصنوعات با افراط ہونے کی صورت میں ریاست کو بازاروں میں فروخت کرنے کی سہولتیں فراہم کرنا چاہئیں۔
گاندھی جی کو ان خطوط پر سوچنے کے لیے کس چیز نے آمادہ کیا؟ تعلیم کے میدان میں اپنے چاروں طرف نقائص پر نظر کرنے سے غوروفکر کا آغاز ہوا۔ انھوںنے محسوس کیا کہ انگریزوں کے رائج کیے ہوئے تعلیمی نظام میں درج ذیل خامیاں تھیں۔
.1 اس تعلیمی نظام میں مرکزیت کتابوں کو حاصل تھی اور وہ قطعی ادبی تھی۔
.2 اس میں واقعات کو زندگی سے ہم رشتہ ہوئے بغیر سکھایا جاتا تھا۔ یعنی اس سے علم حاصل ہوتا تھا، تفہیم کا مادہ پیدا نہیں ہوتاتھا۔
.3 اس میں علم کو غیر متعلق اور منفصل مضامین میں تقسیم کرکے مصنوعی انداز میں تعلیم دی جاتی تھی۔
.4 اس میں عملی فن کو نظر انداز کر دیا گیا اور وہ سماجی کارکردگی کو بڑھاوا دینے میں ناکام رہا۔
.5 اس نے رقابت اور مقابلہ کا جذبہ ابھارا اور تعاون و رفاقت کا نہیں۔
.6 اس میں اہم ترین مقام انگریزی کو ملا اور مادری زبان کو نظر انداز کیا گیا۔
.7 اس نے معدودے چند تعلیم یافتہ افراد اور بقیہ عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا کردی۔
.8 اس میں بڑی جنس رائگاں شامل تھی کیونکہ پرائمری اسکول کی پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک چند طلبہ ہی پہنچ پاتے ہیں۔
بر خلاف اس کے بنیادی تعلیم میں:
.1 تعلیم کا مرکز بچہ ہوتاہے۔
.2 علم کو ایک مربوط کل تصور کیا جاتا ہے۔
.3 بچے کام کر کے سیکھتے ہیں یعنی عمل کے ذریعہ۔
.4 یہ عمل ایک حرفہ ہوتا ہے جو کہ بار آور ہے اور بامقصد ہوتا ہے۔
.5 بچوں میں ہاتھ کی محنت کا احترام پیدا ہوتا ہے۔
.6 استاد اور شاگرد دونوں سماجی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں۔
بنیادی تعلیم کا فلسفہ
بنیادی تعلیم طفل مرکز تعلیم ہوتی ہے۔ اس لیے یہ روسو سے جان ڈوئی تک جدید تعلیمی فکر سے ہم آہنگ ہے۔ لیکن بنیادی تعلیم کو حرفۂ مرکز تعلیم بھی سمجھا جاتا ہے۔ بہر حال اصطلاح کے فرق سے کوئی انتشار پیدا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بنیادی تعلیم کا بچے سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اس حرفہ سے جس میں بچہ مصروف ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بنیادی تعلیم دو باہمی عملی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے یعنی بچہ اور اس کا حرفہ۔ لیکن جب ہر ایک چیز حرفے کے ذریعہ سکھائی جاتی ہے اور جب بچوں کی تیار کی ہوئی چیزیں اسکول کے اخراجات کی کفایت کے لیے فروخت کی جاتی ہیں تو فطری طور پر یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں کیا بچوں کی دلچسپیوں اور ہنر کو مالی منفعت کے تحت نہیں رکھا جا رہا ہے۔ اس بنیاد پر بنیادی تعلیم پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اس تنقید کے نتیجے میں اب عام اتفاق ہو گیا ہے کہ بنیادی تعلیم پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اس تنقید کے نتیجے میں اب عام اتفاق ہو گیا ہے کہ بنیادی تعلیم کے معاوضہ کے پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسکیم اصل میں تعلیم کی اور پیداوار کی نہیں اور یہ کہ اس کے تحت دست کار تیار کرنے کی نیت نہیں ہے۔ پس ظاہر ہے کہ یہ خیال کہ حرفہ مرکز تعلیم کو اسکول کے جزوی اخراجات کا کفیل ہونا چاہیے ، اسکیم کا لازمی حصہ قطعی نہیں ہے۔ پھر ابتدا میں انسان نے علم کو تجربہ کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔ وہ کسی الفاظ میں علم ہمیشہ زندگی کے موقع و محل میں حاصل کیاگیا۔ اس کا زندگی سے قریبی تعلق تھا اور اس نے زندگی کی ضروریات کو پورا کیا۔ لیکن رفتاروقت کے ساتھ اس علم کو متعدد شعبوں میں مرتب کیاگیا۔ اور اسکول میں اس کو مضامین میں تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن بنیادی تعلیم، علم کی اصل روح گرفت کے لیے ایک کوشش ہے یعنی زندگی کے مقاصد اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعات کی دریافت کرنا۔ اس لیے بنیادی تعلیم میں مضامین کی مصنوعی حدیں قائم رکھنے کا کوئی محل نہیں۔ نام نہاد مضامین بالغ ذہنوں کی جانب سے علم کی درجہ بندی کرنے کو در اصل منطق کا اطلاق ہیں لیکن بنیادی نصاب مدرسہ مضامین کی اس تقسیم کو اہمیت نہیں دیتا۔ وہ تمام علم کو ایک مربوط کل تصور کرتا ہے۔
دوسرے، بنیادی تعلیم میں بچے کام کرکے سیکھتے ہیں۔ وہ ایک نصاب عمل سے گذرتے ہیں۔ ان کی تعلیم کتاب مرکز نہیں ہوتی جیسا کہ غیر بنیادی اسکولوں میں ہوتا ہے بلکہ وہ حرفہ مرکز ہوتی ہے۔ جب بچے کتابوں سے سیکھتے ہیں تو وہ کسی اندرونی تقاضے کے جوابی عمل کی صورت میں مجبور ہو کر نہیں سیکھتے بلکہ محض اس لیے کہ استاد سے سیکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن بنیادی تعلیم سیکھنے کی ضرورت اس حرفہ سے ابھرتی ہے جس حرفہ میں بچے مشغول رکھے جاتے ہیں اور علم کی جب بھی ضرورت ہوتی ہے اسی وقت اس کا حصول ہوتاہے۔ بچے خوش اسلوبی سے چیزوں کو انجام دینے اور کام میں لانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ چیزوں کی نوعیت کے بارے میں سیکھتے ہیں ۔ بعد میں بچے اس قابل ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ چیزوں کی نوعیت کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ بعد میں بچے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ ان چیزوں سے کچھ بنا سکیں جن سے وہ کھیل چکے ہیں۔ بنیادی تعلیم بچوں میں تعلیمی مقاصد کے لیے اس اصول عمل کا استعمال کراتی ہے۔
تیسرے، بنیادی تعلیم بچوں کا عمل بامقصد ہوتا ہے۔ شروع ہی سے بچہ اپنے ہاتھوں سے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ یہ معمولی سی چیز بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ ’پتنگ بنانا‘ لیکن وہ ایک مکمل پیداوار ہے اور وہ اس پیداوار کو بہترین صورت میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ کاغذ کاٹتا ہے ۔ تیلیوں کو ترتیب دیتا ہے۔ جہاں ضرورت ہو ان کو چپکاتا ہے۔ مکمل چیز بنانے کی کوشش کرتا ہے اگر وہ خاطر خواہ نہیں ہے تو اس کو چھیلتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے یہ عمل شروع ہی سے بامقصد ہے۔ اس مقصد کے پورا کرنے میں ہر قدم بچے کو نصب العین سے قریب تر لے جاتا ہے۔
مالی پہلو
بنیادی تعلیم کو مالی اعتبار سے منفعت بخش ہونا چاہیے۔بالفاظ دیگر جب کوئی چیز تیار کی جائے تو وہ قابل فروخت ہونی چاہیے اور فروخت کی آمدنی سے اسکول چلانے کے اخراجات کا جزوی حصہ پورا ہونا چاہیے۔ اس سوال کے بعض پہلوؤں کا ہم مختصر طور پر پہلے ہی حوالہ دے چکے ہیں۔ اس تجویز نے تعلیمی دنیا کو چونکا دیا خاص طور پر اس لیے کہ یہ بات گاندھی جی کی زبان سے نکلی تھی جو ایک مثالیت پسند انسان کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ لیکن اس تجویز میں مثالیت پسند کے عملی پہلو کا بذات خود اظہار ہوتا ہے اور اگرچہ یہ کام و دہن میں تلخی پیدا کرتی ہے سوال یہ ہے کہ اصول اخلاق کے مطابق کیا بچوں کی بنائی ہوئی چیزوں کو فروخت کرنے اور جزوی طور پر اسکول کے اخراجات اس سے پورا کرنے میں کوئی عیب ہے؟ اخلاقی طور پر اس طریق عمل میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ صرف ایک خطرہ ہے یعنی کاروباری مقصد کی دھن میں سچی تعلیم کے نظر انداز ہونے کا امکان ہے لیکن بہت سے بڑی عمر والے یقینا کماتے ہیں اور اسی کے ساتھ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ امریکہ میں یہ بات بالکل عام ہے۔ بچوں کے ایسا کرنے میں در اصل کوئی نقصان نہیں ہے بشرطیکہ کسب زر کے پہلو پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔
لیکن ہندوستان میں تعلیم کے حرفہ کا سوال اتنی آسانی سے رد نہیں کیاجا سکتا۔ گاندھی جی اپنی اسکیم میں اس سوال کا حوالہ نہ دیتے اگر وہ ایسا کرنے کی فوری اور شدید ضرورت محسوس نہ کرتے۔وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ہندوستانی تعلیم کا جہاز ہمیشہ مالیت کی چٹان پر تباہ ہوتا رہا ہے۔ برطانوی حکومت ہمیشہ ملک کے لیے عام تعلیم کی حمایت کا اظہار کرتی رہی تھی لیکن جب خرچ کے سوال پر غور کیا جاتا تھا تو ناممکن نظر آتا تھا۔ جب گوکھلے کا پیش کردہ 1911کا ابتدائی تعلیم کابل ناکام ہو گیا تو وہ زیادہ تر مالیات کی بنیاد پر ہی ہوا۔ عموماً اس زمانے میں برطانوی حکومت کو فوج پر زیادہ اور تعلیم پر بہت کم روپیہ خرچ کا الزام دینا ایک رواج بن گیا تھا۔ لیکن آج آزاد ہندوستان میں ہم دفاعی ملازموں پر کچھ کم خرچ نہیں کر رہے ہیں اور تعلیم میں اپنا سرمایہ لگانا ہنوز ہمارے لیے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پنڈت روی شنکر شکلا نے برسوں پہلے ودیا مندر اسکیم پیش کی تھی۔ اس میں انھوںنے اظہار کیا تھا کہ ہندوستان کی مذہبی بنیادیں عہد قدیم سے کار فرما رہی ہیں۔ حکمرانوں اور دیندار لوگوں نے زمینوں کے عطیات سے مدد کی ہے۔ اسی طرح انھوںنے تجویز رکھی تھی کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی مستقل طور پر مدد زمین کے عطیات سے ہو سکتی ہے اور خاص مقاصد کے لیے کبھی کبھی حکومت سے بھی امداد مل سکتی ہے۔ آج بھی اس اسکیم کا جائزہ لینا اور اس کے امکانات کو دریافت کرنا خاطر خواہ ہوگا۔ دستور ہند کی دفعہ 45میں درج ذیل رہنمایانہ بنیادی اصول شامل کیاگیا ہے۔
’’اس دستور کے اعلان سے دس برس کی مدت میں چودہ برس تک کے تمام بچوں کو ریاست مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے گی۔‘‘ دس برس کی مدت پوری ہو رہی ہے لیکن کیا ہم کہیں بھی منزل کے قریب ہیں؟ ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ آزادی کے آغاز سے ہمارے ملک میں خواندگی اوسطاً محض 12فیصد سے 20فیصد ہوئی ہے۔ مفت اور لازمی تعلیم کا مسئلہ سب کے لیے اب بھی مالیات پر ٹکا ہوا ہے۔ اس لیے جب گاندھی جی نے یہ تجویز کیا تھا کہ بنیادی تعلیم سے کسی حد تک پڑھائی کا صرفہ پورا ہونا چاہیے تو ان کی تجویز پر خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہ تھی۔
اس کے علاوہ اس باب میں کسی یقینی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی دوسرے امور قابل غور ہیں۔ پہلی بات یہ کہ بنیادی اسکولوں کو سختی کے ساتھ بنیادی تعلیم کے اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ دوسرے، اساتذہ کو بنیادی تعلیم میں یقین رکھنے والا پر جوش اور پورے طور پر با لیاقت کارکن ہونا چاہیے۔ اگر انھوںنے اپنی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اسکول چھوڑ دیا تو پیدا وار پر اثر پڑے گا۔ چوتھے، نہایت عقلمندی سے اور خصوصاً علاقہ کا لحاظ رکھتے ہوئے حرفے کا انتخاب کرنا چاہیے اور معقول قیمت پر افراط کے ساتھ سازو سامان فراہم کرنا چاہیے۔ پانچویں یہ کہ بازاروں میں مال فروخت ہونے کا باقاعدہ اہتمام ہونا چاہیے۔
بنیادی تعلیم اور حرفہ کا کام
ہم اب اگلی مد پر غور کرتے ہیں یعنی بنیادی تعلیم کسی حرفے یا منفعت بخش کام کے ذریعہ دی جاتی ہے۔ اسکول کے عام مضامین مثلاً زبانیں، سماجی علوم، ریاضی، سائنس وغیرہ سب کو کسی حرفے سے مربوط کر دیا جاتا ہے۔ اور اس کے قریبی تعلق سے پڑھائی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے معمولاً منتخب حرفوں میں کتائی اور بنائی، باغبانی اور زراعت، جلد سازی اور لکڑی اور دھات کا کام، چمڑے کا کام ، مٹی کے برتن بنانا، مچھلی پکڑنا اور لڑکیوں کے لیے گھریلو امور خانہ داری ہیں۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ بعض حلقوں میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسکول کے تمام مضامین کا حرفے کے کام سے فطری طور پر ربط پیداہونا ممکن نہیں۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ’’بعض حرفوں کے ذریعہ ہی یہ ہوتا ہے کہ انسان خام اشیا قدرت سے حاصل کرتا ہے اور اس کو انسانی سماج کے استعمال کی چیزوں میں منتقل کر دیتا ہے اور یہ نام نہاد مضامین، علم کی شاخیں ہیں جن کو انسان نے فطرت کی تسخیر کرکے ان سے نفع حاصل کیا ہے۔ اس لیے تاریخ اور جغرافیہ کو کتائی کے ذریعہ سکھانا دور از کار ہونے کی بجائے فطری طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ کپاس کی بڑھو ار اور کاشت۔ ممالک اور آب وہوا، زمین اور موسم جن میں کپاس بڑھتی ہے۔ اس کے مختلف ٹائپ، انسانی لباس کا ارتقا اور ہمارے کپڑوں میں جو تبدیلیاں تاریخی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں یہ تمام علم کتائی اور بنائی سے ہم رشتہ کرنا تاریخ اور جغرافیہ کی گہری اور زیادہ واقفیت ثابت ہوگا یہ بہ نسبت اس کے کہ درسی کتب سے بے روح واقعات پڑھائے جائیں۔‘‘1
بچے کتائی کے دوران حساب کو اپنی کٹیاں گن کر سیکھتے ہیں۔ کتے ہوئے ڈورے کو ناپ کر سیکھتے ہیں نیز کل کے مقابلے میں آج کتنا زیادہ یا کم بُنا اور ایک ہفتے یا مہینے میں وہ کتنا بُن لیںگے وغیرہ۔ ’’جب نصاب مدرسہ کو عام چیزوں سے اس طرح مربوط کر دیاجاتا ہے تو بچے صرف علم اور عملی ہنر ہی حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی کامیابیوں میں بڑی مسرت محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح تجربہ کے تمام پہلو، ذہنی عملی اور جذباتی یکساں طور پر ذاتی مہم کے سہارے ترقی پاتے ہیں۔‘‘2
بنیادی تعلیم کے نتائج
یہ اعتراض کہ بنیادی تعلیم بچوں سے کام کرالیتی ہے لیکن خیال انگیزی پیدا نہیں کرتی اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ’’خیال اور استدلال مجرد طور پر ترقی نہیں پاتے بلکہ مسائل کا حل کرنے اور صورت حال کا مقابلہ کرنے سے فروغ پاتے ہیں اور حرفے کے کام میں بچوں سے مسائل کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیاجاتا ہے جو ٹھوس اور ضروری موقع محل میں واقع ہوتے ہیں اور ان کے حل کرنے میں بچوں کو موثر طریقہ سے سوچ بچار پر مائل کیا جاتا ہے۔‘‘ 3
آخر میں بعض دوسرے اوصاف کا بنیادی تعلیم میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس میں اساتذہ اور طلبہ دونوں کو زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔ بچے اپنی سرگرمی کی خود رہنمائی کرتے ہیں۔ امتحان قریب ہونے پر متعینہ نصاب تعلیم کو پورا کرنے یا منظور شدہ درسی کتب کو ختم کرنے کے لیے اساتذہ اور طلبہ میں سے کوئی پریشان نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ بنیادی اسکولوں میں بھی نصاب مضامین ہوتا ہے۔ وہ کتابیں بھی استعمال کرتے ہیں لیکن یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ پھر بھی کام کے پروگرام کی انجام دہی میں زیادہ لچک ہوتی ہے۔
بنیادی اسکول ہاتھ کی محنت کی عظمت کا نقش بٹھاتے ہیں۔ ہمارے سماج میں سب سے بڑی ایک خامی یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقات ہاتھ کی محنت کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو وہ ہاتھ کے کام سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان خطوط پر سوچنے کے بعد اس تجویز کی طرف رہنمائی ہوئی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو دیہات میں جانا چاہیے اور وہاں بودوباش کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہاتھ کا کام کرنا چاہیے۔ ہندوستان کے بہت سے حصوں میں اس پر پہلے سے عمل ہو رہا ہے اور اسے لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ پہلے ہی سے یہ تجویز ہے کہ یونیورسٹی کسی امیدوار کو ڈگری عطا نہ کرے جب تک وہ کمیونٹی کی ایک خاص مدت تک لائق تحسین سماجی خدمت نہ کرے۔
بنیادی تعلیم اور سماجی مقصد
پھر، فی الحال اسکول ہی ایسی جگہ ہے جہاں بچوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن کس مقصد کے لیے ان کو تربیت دی جاتی ہے ؟ دنیا میں بہتر زندگی گذارنے کے پیش نظر ان کو تربیت دی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے ذاتی مفاد کی خاطر سماج میں اعلیٰ مطابقت پیدا کرنے کے خیال سے ان کو تربیت دی جاتی ہے۔ ایسے تعلیمی سسٹم میں انفرادی مفاد ظاہر ہے لیکن سماج کا مفاد اتنا واضح نہیں ہے۔ جب ایڈم اسمتھ نے اپنے اقتصادی نظریہ اصول عدم مداخلت کی وکالت کی تھی تو اس کی دلیل یہی تھی کہ جب ایک فرد تعبیر پابندی کے اپنے کاروبار میں کامیاب ہو گیا تو تمام سماج بھی خوش حال ہو گیا۔ تجربہ سے اس نظریہ کی غلطی جلد ہی واضح ہو گئی۔ چند افراد، اکثریت کی قیمت پر دولت مند ہو گئے۔ اسی طرح تعلیم میں انفرادی بہبود ایک قطعی مناسب مقصد نہیں ہو سکتی۔ اگر تعلیم کو کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے تو تعلیم کا سماجی مقصد بھی ہونا چاہیے۔
سماج اپنے نوجوان کی تعلیم پر بڑی رقم صرف کرتا ہے۔ سماج کو اس قربانی کا براہ راست کیا معاوضہ ملتاہے؟ در اصل نہایت حقیر۔ اسکول کو افراد کے لیے اپنا مستقبل سنوارنے کی محض تربیت گاہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو سماجی مفاد کا ایک ادارہ بھی ہونا چاہیے۔ وہ جو تعلیم دیتا ہے اس کی بنیاد سماجی ضروریات پر ہونا چاہیے۔ ہر ایک تعلیم یافتہ فرد کو صرف اپنا بوجھ ہی نہیں اٹھانا چاہیے بلکہ سماج کی بہبود میں بھی اس کو کچھ حصہ لینا چاہیے۔ سردست اسکول کا کام سماج کی ضروریات سے گہرے طور پر متعلق نہیں ہے۔ بنیادی تعلیم کا دعویٰ ہے کہ اس کا پروگرام اور طریقے اسی چیز پر مبنی ہیں جس کی سماج کو ضرورت ہے۔
بنیادی تعلیم کی اسکیم
جب گاندھی جی نے تعلیم کے حرفہ مرکز نظام کا تصور قائم کیا اور 1937 میں اس کے بارے میں ’ہریجن‘ میں لکھا تو انھوںنے اسی نظام کے تحت تعلیم کی مدت سات برس تجویز کی تھی۔ دوسرے برس کانگریس اور ذاکر حسین کمیٹی نے اس تجویز کو قبول کرلیا۔ اس کو واردھا سنٹرل صوبہ جات میں نافذ کیاگیا جہاں گاندھی جی رہتے تھے۔ اور یہ واردھا اسکیم معروف ہو گئی۔ سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن نے اسکیم کو ایک کمیٹی کے حوالہ کر دیا۔ بی ، جی، کھیر صاحب کمیٹی کے صدر تھے۔ کھیر کمیٹی نے سفارش کی کہ حرفہ مرکز تعلیم معمولاً 6برس سے 14برس کے بچوں کے لیے شروع کی جا سکتی ہے۔ بلکہ وہ ایسے اسکولوں میں 5برس کی عمر میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی اثنا میں مجوزہ حرفہ مرکز تعلیم، بنیادی تعلیم کہلانے لگی۔ کھیر کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ پانچویں جماعت کے بعد بنیادی اسکولوں سے بچوں کو دوسرے اسکولوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے یعنی تقریباً 11برس کی عمر میں ۔ بنیادی تعلیم کا اعلیٰ سطحوں سے تال میل رکھنے کو ایک دوسری کمیٹی اسی چیرمین کے تحت قائم کی گئی۔ اس کمیٹی نے یہ سفارش کی کہ بنیادی تعلیم کا نصاب 6برس کی عمر سے 14برس کے بچوں کے لیے 8برس کا ہونا چاہیے۔ نصاب کے دو مرحلے ہوں۔ یعنی ایک جونیئر مرحلہ جو کہ پہلے پانچ سال پر مشتمل ہو 6برس سے 11برس تک کے بچوں کے لیے اورسینئر مرحلہ بقیہ تین برس کا نصاب پورا کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ 3-5کی تنظیم جنوبی ہند میں رائج نصاب یعنی پانچ برس پرائمری اسکول اور تین برس مڈل اسکول نصاب سے مطابقت رکھتی ہے۔ اگر بنیادی اسکول کے تصور کو تین برس اور آگے بڑھا دیاجائے تو اس سے ہائی اسکول کی تعلیم بھی پوری ہو جاتی ہے۔ فی الحال ہائی اسکول کی تعلیم کو مابعد بنیادی تعلیم (پوسٹ بیک ایجوکیشن) کہا گیا ہے۔
بنیادی تعلیم کی ما بعد بنیادی تعلیم سے مناسب ہم آہنگی ایک ضروری معاملہ ہے،  چونکہ ہائی اسکول میں طریق تعلیم اس سے مختلف ہوتا ہے جو اس سے پہلے تھا اس لیے یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ بنیادی نظام کے تحت تعلیم یافتہ طلبہ اگر اعلیٰ نہ ہوں تو کم سے کم عام طور پر تعلیم یافتہ طلبہ کے برابر تو ہوں۔ صرف تجربہ ہی ظاہر کر سکے گا کہ بنیادی مدرسے کس خوبی سے انجام دہی کر رہے ہیں۔ اسی دوران تقابلی جائزے لیے گئے ہیں اور یہ رپورٹ ملی ہے کہ بنیادی مدرسوں کے عملی پروگرام بچوں کی نشوو نما کی تمام ضروری مدّات میں عام اسکولوں کی روایتی روش سے اعلیٰ پائے گئے ہیں۔ یہ حوصلہ افزا بات ہے۔ لیکن بنیادی تعلیم اب بھی طفلی کے مرحلے میں ہے اور بہت سے اساتذہ اور دیگر افراد اس کے موثر ہونے کے متعلق ہنوز مشکوک ہیں۔ اس لیے اس سمت میں جو کوششیں پہلے سے ہوئی ہیں ان میں ڈھیل کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تجربہ کی روشنی میں اس نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانا ضروری ہے۔
تعلیم بطور مطابقت
حرفے کے ذریعہ تعلیم کو فرد کی سماج کے ساتھ ایک قسم کی مطابقت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ خیال کہ طالب علم جس کمیونٹی میں زندگی گذار تا ہے تو تمام تعلیم بنیادی طور پر اس کمیونٹی کی ضروریات سے مطابقت کا نام ہے۔ یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ اس کی تشکیل چند دہائی قبل ہوئی تھی۔ ہندوستانی تعلیم پر اس نقطۂ نظر سے غور کرنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی بڑی اکثریت 1951کی مردم شماری کے مطابق 82فیصد دیہات میں بستی ہے اور اپنی روزی کے لیے کچھ زراعت اور کچھ دیہی دست کاری پر اس کا انحصار ہے۔ گاندھی جی نے اس صورت حال کا مطالعہ کیاتھا۔ اور اس حقیقت پر زور دیا تھا کہ گاؤں والوں کا مکمل یاپورے برس کا دھندہ زراعت نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کو ذیلی پیشے خاص طور پر کتائی اور بنائی کو اختیار کرنا چاہیے۔ انھوںنے جس وقت یہ تجویز پیش کی تھی تو یہ سمجھا گیا تھا کہ ا نھوںنے ایسا زیادہ تر سیاسی مقصد کے تحت کیاہے۔ اس کا مقصد یہ سمجھا گیا کہ گاندھی جی اپنے ہم وطنوں کو لنکا شائر کے سوتی سامان کی دست نگری سے نجات دلانے اور اس سامان کی ادائیگی کے عوض انگلینڈ میں ہندوستانی دولت کے بہائو کو روکنے اور ہندوستان کی دیہی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ لیکن انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی گاندھی جی نے اس باب میں اپنا خیال تبدیل نہیں کیا۔ برخلاف اس کے انھوںنے اپنی بنیادی تعلیم کے پروگرام میں اس کو مرکزی عامل کی حیثیت سے شامل کر لیا اور اس کی حمایت جاری رکھی۔
اگر سماج کی بدلتی ہوئی ضروریات سے فرد کی مطابقت کا نام تعلیم ہے تو ایسے سماج میں جہاں گھریلو صنعتیں اب بھی بڑا عمل دخل رکھتی ہیں وہاں اگر تعلیم دینی ہے تو اس کو حرفہ مرکز تعلیم ہونا چاہیے۔ لیکن ہندوستان تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس میں متعدد صنعتوں کی ترقی ہو رہی ہے اور متعدد پن بجلی طاقت منصوبے (ہائڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس) شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان سے گھریلو صنعتوں کے لیے سستی بجلی کی طاقت دستیاب ہوگی۔ اس لیے تعلیمی نمونے کو ان بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنی ہوگی۔ یہ مطابقتیں سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی ہو سکتی ہیں۔
.1 سیاسی
ہندوستان ایک جمہوریہ ہے۔ اس میں جمہوری نظام حکومت ہے یعنی ایسی حکومت جس میں فیصلہ کن رائے عوام کی ہوتی ہے۔ ایسی حکومت کی کامیابی کا انحصار خود عوام کی مناسب طور پر سوچنے کی صلاحیت اور خود غرض جماعتوں کی گمراہ کن رہنمائی سے گریز کرنے پر ہوتا ہے۔ چونکہ دونوں جنس کے ہر بالغ کو رائے دینے کاحق ہوتا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس رائے کا استعمال مناسب طور پر ہو۔ صحیح طور پر سوچنے کی کلید، تعلیم ہے اور دوسروں کی صحیح رہنمائی کرنا تعلیم یافتہ شخص کی خاص ذمہ داری ہے۔ ’’اس کو چاہیے کہ ہر پرانی چیز کو محض پرانا پن کے باعث رد نہ کرے اور نئی چیز کو صرف نیا پن دیکھ کر قبول نہ کرے بلکہ ٹھنڈے دل سے دونوں کا جائزہ لینا چاہیے اور جسارت کے ساتھ اس چیز کو رد کردینا چاہیے جو انصاف اور ترقی کو روکنے والی ہو۔‘‘4 اس میں رواداری، ضبط، تعاون اور سچی وطن پرستی کا احساس ہونا چاہیے یہ سیاسی مطابقت ہے۔
(ب) اقتصادی
اقتصادی مطابقت میں ایک فرد کے فطری میلان خاطر کے مطابق سماج کی سرگرمیوں میں اس کے کھپ جانے کی تربیت شامل ہے۔ ہماری تعلیم اتنی عالمانہ اور نظریاتی رہی ہے اور اب بھی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے ملک کے قدرتی وسائل کی ترقی میں کوئی قابل لحاظ حصہ لینے یا قومی دولت کے اضافہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ بڑی حد تک ملک کی اقتصادی زندگی میں غیر موزوں تھے اور اب بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متنوع نصابات مثلاً زراعتی، صنعتی، تجارتی اور دوسرے عملی نصابات کو ثانوی مدارس میں جاری کیاگیا ہے۔ اس کا بہرحال یہ مطلب نہیں کہ ہم تعلیم کو پیشہ ورانہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بر خلاف اس کے ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ ایسی بنیادی لبرل ایجوکیشن ہے جس میں پیشہ ورانہ رجحان ہو۔
(ج) تہذیبی
در اصل تہذیبی مطابقت کا مطلب طالب علم کی شخصیت کا بھرپور فروغ ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے تہذیبی ورثہ کی وقعت کرنے کا اہل بن سکے اور بعد کو زندگی میں اس کی ترقی میں حصہ لے سکے۔ سردست تعلیم کا زیادہ تر تعلق مدرسہ کے بعض مضامین کا صرف علم حاصل کرنے اور امتحانات پاس کرنے سے ہے۔ لیکن حقیقی تعلیم، طالب علم کی شخصیت، اس کی جذباتی زندگی، اس کے سماجی رجحانات، اس کی تعمیری ذہانت اور اس کے افکارانہ ذوق کو تیز تر کرتی ہے۔ وہ مشاغل اختیار کرے گا اور فرصت کے وقت کو عقلمندی سے اور کارآمد طور پر گذارے گا۔ اس لیے تو تنظیم تعلیمی نصاب میں فنون لطیفہ اور حرفے، موسیقی اور رقص اور مشاغل کو اہم مقام دیا گیا ہے۔
https://www.urducouncil.nic.in/flipbook/viewer/3975
حوالے
.1 ایچ آر بھاٹیا، بنیادی تعلیم کسے کہتے ہیں۔What Basic Education means. ص،  40
.2 ایضاً
.3 ایضاً
.4 رپورٹ ثانوی تعلیم کمیشن ص  23
The Report of Secondary Education Commission.
ماخذ: اصولِ تعلیم اور عمل تعلیم، مصنف: ڈی ایس گورڈن، مترجم: ڈاکٹر خلیل الرحمن سیفی پریمی، تیسری اشاعت: 2016، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو کی تدریس اور ٹکنالوجی کا استعمال،مضمون نگار:محمد مشہور احمد

اردودنیا،فروری 2026: اکیسویں صدی زندگی کے تمام شعبوں میں نت نئی اختراعات و ایجادات کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس صدی میں حیات انسانی کے تمام پہلو جس برق رفتاری

انڈین نالج سسٹم اور موجودہ تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: کے ایم عظمت النساء

اردو دنیا،دسمبر 2025 ہندوستان دنیا کی ان قدیم ترین اور ہمہ گیر تہذیبوں میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف انسانی فکر و شعور کی تشکیل میں اہم کردار

زبان کی تدریس میں پہیلیوں کی اہمیت امیر خسرو کے حوالے سے،مضمون نگار: بی بی رضا خاتون

اردودنیا،فروری 2026: پہیلیاں صدیوں سے انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ رہی ہیں۔ تفنن طبع کے لیے کہی جانے والی پہیلیاں ہمیں تفکرو تفہم کی طرف لے جاتی ہیں۔