لغت نویسی، یعنی الفاظ کے تحفظ اور ان کی تشریح و توضیح کے پس پشت کبھی مذہب کار فرما رہا ہے تو کبھی سیاست! اس سلسلے میں کبھی کبھی ادب نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ چنانچہ وہ علاقے جہاں ایک سے زائد زبانیں اس طرح چلن میں رہیں کہکسی ایک زبان کو دوسری زبانوں پر برتری حاصل نہیں ہو پائی ، یا جہاں کبھی عظیم مذہب نے جنم نہیں لیا یا جہاں عظیم ادب تخلیق نہیں ہوا ، وہاں لغت نویسی کا بھی فقدان نظر آتا ہے۔ لغت نویسی1 ؎کی ابتدا کے ان تینوں عوامل ، یعنی مذہب، سیاست اور ادب میں مذہب کو سب سے زیادہ اہمیت اس لیے حاصل رہی کہ یہ ایک ناگزیر طاقت کی صورت میں کسی خاص زبان یا بولی کو اپنی ترجمان کی حیثیت میں ایک محدود دائرے سے باہر نکال کر ایک وسیع تر علاقے پر مسلط کر تا رہا ہے۔ چنا نچہ بدھ تعلیمات سے متعلق کتابوں کی تفہیم کے لیے چینی لغت نویسی کا آغاز ہوا تو ویدک کتابوں کی تفہیم کے لیے ہندوستان میں سنسکرت لغت نویسی کا! یونانی اور سنسکرت زبانوں میں قواعد نگاری کو لغت نویسی پر تقدم زمانی حاصل رہا ہے۔ دونوں زبانوں میں زبان کے صوتیاتی تجزیے کا مقصد یہی تھا کہ مقدس قومی ادب کو پورے تقدس اور وضاحت کے ساتھ سمجھا اور سمجھایا جا سکے۔2؎ چنا نچہ ان دونوں زبانوں میں لغت نویسی کی ابتدا کے لیے ان کا کلاسیکی (بلکہ مذہبی) ادب زبر دست محرک ثابت ہوا۔3؎ بعد میں یہی روایت عربی زبان میں بھی کار فرما ہوئی جہاں قرآن و حدیث میں آئے غریب یا دخیل (غیر عربی) الفاظ کی تشریح و صراحت کے لیے لکھی جانے والی فرہنگوں نے باقاعدہ لغت نویسی کا ڈول ڈالا۔ اس طرح ابتدائی لغت نویسی کے پس پشت کارفرما سب سے اہم مقصد یہی رہا تھا کہ مذہبی تحریروں یا کلام کو زیادہ بہتر طریقے پر اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھا اور سمجھایا جا سکے۔
انگریزی زبان میں نعت نویسی کی داغ بیل لاطینی الفاظ کی حاشیائی لغات (Glossaries) کی شکل میں پڑی۔4؎ یہ حاشیائی لغات ، انجیل کے اصل ماخذات ، یعنی عبرانی، یونانی، لاطینی اور سریانی وغیرہ تک پہنچنے کی کوشش کے نتیجے میں انگریزی کی دو لسانی لغات کی بنیاد بنیں، جو بعد میں نشاۃ ثانیہ نیز مذہی اور سماجی اصلاحات کے طفیل میں اور یونانی علوم کی بازیافت کے طور پر باقاعدہ لغت نویسی کی شکل اختیار کرگئیں۔
ہندوستان میں بھی اسی قسم کے سیاسی حالات اور تہذیبی عوامل ، یعنی اولاً مسلمانوں کی اور پھر یوروپی اقوام کی آمد، اردو لغت نویسی کی ابتدا اور ارتقا کا سبب بنے۔ چنانچہ ایک طرف تو عربی اور فارسی لغت نویسی کی روایت نے اردو لغت نویسی کے لیے بنیاد کا کام کیا اور دوسری طرف مستشرقین (یورپینوں) کی ہندوستانی لغت نویسی نے اسے جدید ، سائنسی اور منطقی انداز سے ہم کنار کیا۔
اردو لغت نویسی کے اولین نقوش کی تلاش کی ابتداعربی میں قبل ظہور اسلام کی شاعری اور ظہورِ اسلام کے بعد کے ابتدائی عہد کے عربی ادب میں خاصی تعداد میں پائے جانے والے ہندوی الفاظ یا ان کی معرب شکلوں سے کی جاسکتی ہے۔ اس طرح قرآن میں مسک، زنجبیل اور کافور جیسے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ صرف ایرانی بلکہ عرب سیاحوں، مثلاً تاجر (237ھ) اور ابوزید حسن البرانی (264ھ) کے سفرناموں اور دیگر عربی تحریروں میں ناریل، دیپ، جزر (گجر)، طاقن (دکن)، صندل (چندن) جیسے الفاظ بکثرت ملتے ہیں۔5؎
خود ہندوستان میں بھی فارسی اور ہندی کے اختلاط کے زیر اثر ہندی الفاظ اولاً مفرد شکلوں میں فارسی کتابوں میں داخل ہو نا شروع ہوئے، پھر ہندی محاورات بعینہٖ یا ترجمے کی شکل میں فارسی تحریروں کا جزو بننے لگے۔ ان الفاظ کی فارسی تشریحوں کے ساتھ ساتھ بعض ہندی الفاظ بھی مترادفات کے طور پر لائے جانے لگے تاکہ ہندوستان کے عام خواندہ لوگ ان ہندی مترادفات کی مدد سے فارسی الفاظ کے صحیح معنوں سے واقف ہو سکیں۔6؎ اس طرح کے الفاظ کی طرف سب سے پہلے توجہ حافظ محمود شیرانی نے دلائی تھی اور ’فرہنگ نامہ قواس‘ اُدات الفضلا، زفانِ گویا ، قینتہ الطالبین، شرف نامۂ منیری، موید الفضلا ، ریاض الدویہ ، وغیرہ میں شامل اس طرح کے الفاظ کا ذکر کیا۔ اس کے بعد محمد بن قوام کی مرتب کردہ لغت بحرالفضائل فی منافع الافاضل‘ میں شامل ہندوستانی الفاظ و فقرات کی مکمل نشان دہی کی۔7؎ بعد میں اس طرح کے الفاظ کی جامع نشان دہی ڈاکٹر نذیر احمد نے کی۔موصوف نے اس سلسلے میں ’فرہنگ نامہ قو اس‘، ’دستور الافاضل‘ مولفہ رفیع معروف بحاجب خیرات دہلوی (743ھ مطابق 1332ء)، اُدات الفضلا (مولف بدرالدین دہلوی، دھاروال: 822ھ مطابق 1419ء) اور ’زفانِ گویا‘ (مولف بدرابراہیم) شامل ہندی الفاظ کی نشاندہی پوری چھان پھٹک کے ساتھ کی ہے۔ نذیرا حمد صاحب ’زفان گویا‘ میں ہندی (اردو) الفاظ کی نشان دہی اس سے پہلے بھی کر چکے تھے۔ اس کے بعد ایک دوسرے تفصیلی مقالے میں اس لغت میں شامل ہندی الفاظ کی فہرست بھی پیش کی۔ چوں کہ ’زفان گویا‘ کے مولف بدر ا براھیم کا پوتا اور’ شرف نامہ‘ کا مولف، ابراہیم بن قوام جو نپور کا رہنے والا تھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ’زفان گویا‘ کے مولف کا تعلق بھی دیارِ مشرق سے ہی رہا ہوگا۔ اس میں متعدد ہندوستانی الفاظ ایسے آتے ہیں جو یوپی کے مشرقی اضلاع اور بہار میں بولے جاتے ہیں۔8؎
پروفیسر نذیر احمد نے اس لغت میں شامل تقریباً ڈھائی سو ہندی الفاظ کی تہجی وار فہرست بھی پیش کی ہے۔9؎ اس کے بعد کی ایک دوسری لغت ’بحرالفضائل فی منافع الافاضل‘ مولفہ محمد بن قوام الدین بن رستم بلخی (837ھ مطابق 1434ء) میں باقاعدہ طور پر ’’باب چہارم در بعض الفاظ ہندی کے در نظم ہندوی وغیرہ استعمال کنند‘‘ بھی قائم کیا گیا۔10؎
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فارسی فرہنگوں میں مترادفات کے طور پر ہندی (اردو) الفاظ شامل کرنے کا جو سلسلہ ’فرہنگ نامۂ قواس‘ سے ساتویں صدی ہجری کے اواخر (695ھ) یا آٹھویں صدی ہجری کے اوائل (715ھ) میں شروع ہوا تھا اس نے نویں صدی ہجری (837ھ) میں ’بحر الفضائل فی منافع الا فاضل‘ میں ایک باقاعدہ باب کی شکل اختیار کرلی۔ اردو لغت نویسی کے ان ابتدائی نقوش کے بعد اس کے خدوخال، لغت کی اس شکل میں اور زیادہ واضح ہوئے جنھیں ہم اردو۔ فارسی منظوم نصاب ناموں کے نام سے جانتے ہیں۔ آئندہ صفحات میں ان منظوم لغاتی نصاب ناموں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
نصاب نامے
اردو کی ان ابتدائی اور منظوم لغات کے بارے میں تاحال ان امور پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ہے کہ’ خالق باری‘ یا ’حفظ اللسان‘ امیر خسرو کی تصنیف ہے یا عہد جہانگیر کے ایک شخص ضیاء الدین خسرو کی؟ اور یہ کہ پہلی لغت ’ خالق باری‘ قرار دی جائے یا ’لغات گجری‘ ؟ خالق باری کا اصل مصنف امیر خسرو کو قرار دینے کے سلسلے میں سید سلیمان ندوی کی تشکیک11؎ سے اور داخلی نیز لسانیاتی بنیاد پر حافظ محمد شیرانی کی تحقیق12؎ ’خالق باری‘ کو امیر خسرو کی تخلیق کی بجائے عہد جہانگیری کے ایک شخص ضیاء الدین خسرو کی تصنیف ماننے پر مجبور کر دیتی ہے ۔13؎ جب کہ گیارہویں صدی ہجری (1060) میں تالیف شدہ ایک دوسرے نصاب نامے ’ اللہ خدائی‘ کے مصنف تجلی کی امیر خسرو سے طلب امداد ہے اور ’خالق باری‘ کو امیر خسرو کی تصنیف مان کر اپنی لغت ’نوادر الالفاظ‘ میں خان آزر کا امیر خسرو سے استناد کی بنیاد پر ڈاکٹر صفد رآہ اسے امیر خسرو کی ہی تصنیف تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ 14؎ اسی طرح اگر چہ اب تک ’خالق باری‘ یا ’حفظ اللسان‘ ہی پہلا نصاب نامہ مانی جاتی تھی مگر گجرات میں تالیف کی گئی ایک دوسری لغت ’لغات گجری‘ کو پر و فیسر نجیب اشرف ندوی اس بنیاد پر خالق باری سے قدیم مانتے ہیں کہ اس میں شامل ہندی (ارد و) الفاظ کی وہ شکلیں ملتی ہیں جو ’خالق باری‘ کی شکلوں سے زیادہ قدیم ہیں۔ 15؎ تاہم ’خالق باری‘ کا سنہ تالیف 16؎ 1041ھ متعین ہو جانے کی صورت میں شمالی ہند میں لکھے گئے اس قسم کے نصاب ناموں میں ’ قصیدہ در لغات ہندی‘ مولفہ حکیم یوسف ہروی (ہراتی) کو تقدم زمانی حاصل ہو جاتا ہے جو دسویں صدی ہجری کے نصف اول (950ھ مطابق 1542ء) میں عہدِ ہمایونی کی تصنیف مانی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرا لغاتی نصاب نامہ اجے چند ولد و نے چند (ساکن سکندرآباد ضلع بلند شہر) نے 960ھ (1553ء) میں لکھا۔ نصاب نامے میں اس کا نام کہیں بھی مذکور نہ ہونے اور اس کے ’خالق باری‘ کی طرز پر ہونے کی بنا پر ڈاکٹر عبد الحق نے اس کا ذکر ’مثل خالق باری‘ کے نام سے کیا ہے اور اسے سب سے قدیم نصاب نامہ قرار دیا ہے، جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’ قصیدہ در لغات ہندی‘ دسویں صدی ہجری کے نصف اول (عہدِ ہمایونی) اور ’مثل خالق باری ‘دسویں صدی ہجری کے نصف آخر (960ھ، عہد شیر شاہ سوری) کی تصنیف ہونے کی وجہ سے تقدم زمانی سابق الذکر کو ہی حاصل ہے۔ خالق باری کا نمبر ان دونوں نصاب ناموں کے بعد آتا ہے جسے گیارہویں صدی ہجری(1301) کی تصنیف مانا گیا ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ اس کے مصنف کے تعین کا معاملہ کافی اختلافی چلا آرہا ہے۔ کیونکہ ابھی بھی بعض مورخینِ ادب کے نزدیک ’’ خالق باری‘ ایک ایسی کتاب ہے جسے صدیوں کی دھوپ چھاؤں نے اضافوں اور ملحقات سے اس کی شکل ہی بدل کر رکھ دی ہے اور پر و فیسر شیرانی جیسے فاضل اجل کو یہ شبہ پیدا ہوا کہ یہ امیر خسرو کی تصنیف نہیں ہے ۔‘‘ 17؎
غرض یہ کہ ’خالق باری‘ کے بعد اس طرح کے لغاتی نصاب ناموں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ ایک ہی نام کے مختلف نصاب نامے مختلف ادوار میں مختلف مصنّفین نے لکھے۔ راقم کو ’خالق باری‘ کے نام سے کم از کم چار نسخے ایسے ملے ہیں جو ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہونے کے علاوہ مختلف لوگوں کی تالیف ہیں۔ کچھ میں خالق باری کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور کچھ میں اشعار کم یا زیادہ کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح ’صمدباری‘ کے نام سے بھی مختلف مصنفوں کے لکھے ہوئے ایک سے زائد نصاب نامے ملتے ہیں۔ اس بات سے ان نصاب ناموں کی اہمیت اور مقبولیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ’اللہ خدائی‘ (1060ھ) مولفہ تجلی، جو دہلی یا نواحِ دہلی میں لکھی گئی تھی بار بار چھپی۔ اسی طرح 1071ھ میں اسماعیل نے ’رازق باری‘ اور 1105ھ میں کھتری مل پسر سامل داس نے ’ایزدباری‘ کے نام سے ایک نصاب نامہ لکھا۔18؎ اسی زمانے میں ’صمد باری‘ یا ’رسالۂ جان پہچان‘ کے نام سے میر عبد الواسع ہانسوی نے ایک سہ لسانی نصاب لکھا جس میں ادویہ ، میوے ، انسانی اعضاء، اور الفاظ قرابت وغیرہ عربی ، فارسی اور ہندی، تینوں ہی زبانوں میں دیے گئے تھے۔19؎
تیر ہویں صدی ہجری میں تقریباً تمام موضوعات پر مشتمل بکثرت نصاب نامے لکھے گئے۔ ان میں خالق باری اکرم (1205ھ) ’صفت باری‘ (1220ھ مولفہ گنیش داس قانون گو)، ’واسع باری‘، ’اللہ باری‘، ’ناصرباری‘، ’اعظم باری‘، ’صادق باری‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
نصاب ناموں کی تالیف کا یہ سلسلہ تقریباً بیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک جاری رہا اور غالب کے ’قادر نامہ‘ کے علاوہ ایسے دوسرے بہت سے نصاب ناموں کی تالیف کا سبب بھی بنا جن کا مقصد صرف تدریسی یا نصابی نہ رہ کر ہمہ جہتی ہو گیا۔ چنانچہ اس دوران ایسے نصاب نامے بھی تالیف کیے گئے جن کا بنیادی مقصد ایک سے زائد زبانوں کے مترادفات کی تعلیم کی بجائے نہ صرف یہ رہا کہ بیت بازی کے شائقین کوٹ، ڑ، ڈ یاٹھ پر ختم ہونے والے اشعار فراہم کر دیے جائیں۔ بلکہ عام زندگی میں استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ ساتھ ایسی اصطلاحوں کو بھی شامل کیا گیا جن کی اس قسم کے تدریسی یا لغاتی نصاب ناموں میں قطعاً گنجائش نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اغلام بازی کی اصطلاحات بھی بعض اہم نصاب ناموں میں شامل کردی گئیں۔20؎
اگرچہ شمالی ہند میں اردو لغت نویسی کی ابتدا ان نصاب ناموں کی صورت میں دسویں صدی ہجری کے نصف اول (قصیدہ در لغات ہندی 950ھ) سے ہوئی مگر جنوبی ہند اور گجرات میں یہ عمل اس سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا۔ چنانچہ سید سلیمان ندوی را ندیر میں اور ڈاکٹر نجیب اشرف ندوی گجرات میں تدوین شدہ دو ایسی لغات پر روشنی ڈالتے ہیں جن کا نام ، سن تالیف اور جن کے مصنف کے نام بھی نامعلوم ہونے کے باوجود ان میں شامل الفاظ کی قدیم شکلوں کی بنیاد پر انھیں شمالی ہند کے نصاب ناموں خصوصاً ’خالق باری‘ سے زیادہ قدیم قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اشرف ندوی اپنی دریافت کردہ ’لغات گجری‘گو نہ صرف یہ کہ ’خالق باری‘ سے مقدم قرار دیتے ہیں بلکہ داخلی شواہدکی بنیاد پریہ نتیجہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ ’’یہ لغت نہ صرف یہ کہ گجرات میں لکھا گیا ہے بلکہ ’ خالق باری ‘کے مرتب کے پیش نظر بھی رہا ہے۔ اس میں الفاظ کی وہ شکلیں ملتی ہیں جو خالق باری کی شکلوں سے قدیم تر ہیں۔‘‘21؎
سید سلیمان ندوی راندیر میں دریافت کردہ لغت کو اگرچہ سب سے قدیم قرار نہیںدیتے مگر اس میں شامل الفاظ کی شکلیں بھی ’لغات گجری‘ سے کسی طرح بھی کم قدیم نہیں۔ ان دونوں لغات کو شمالی ہند کے نصاب ناموں سے زیادہ قدیم قرار دینے کے سلسلے میں ان دونو ںحضرات کی طرف سے دی گئی دلیلوں کے علاوہ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ سیاسی اسباب کے نتیجے میں شمالی ہند کی چیزوں (خصوصاً فارسی) سے اہل دکن کا اجتناب، نہ صرف یہ کہ دکن میں شمالی ہند سے صدیوں قبل اردو زبان و ادب کی تخلیق کا سب سے بڑا محرک ثابت ہوا تھا بلکہ شمالی ہند میں اس زبان (اردو) کی شکل متعین ہونے یا اس میں ادبی تخلیق کا عمل شروع ہونے تک دکنی ادب بہت آگے تک جاچکا تھا۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ ان دونوں لغات کو بھی شمالی ہند کے نصاب ناموں پر تقدمِ زمانی حاصل ہے تو نادرست نہیں ہے۔
شمالی ہند کی طرح ہی جنوبی ہند میں بھی ان دونوں لغات کے بعد متعدد نصاب نامے لکھے گئے جن سے جنوبی ہند میں بھی ان کی مقبولیت کا پتہ چلتا ہے۔
’لغات گجری‘ کو مکمل لغت اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں ترتیبِ اندراج کا التزام ملتا ہے؛ عربی لفظ عربی کے کالم میں، فارسی لفظ فارسی کے کالم میں اور اردو لفظ اردو کے کالم میں لکھا گیا ہے۔ حاشیہ میں مختلف لغات کے حوالے سے ہر لفظ کی عربی یا فارسی میں توضیح کی گئی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس لغت کے مخطوطے سے اس باب کا قطعاً اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اس کا مولف اور محشی ایک ہی شخص ہے یا دو مختلف افراد؟ اسی طرح یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ اصل لغت اور حاشیہ ایک ساتھ ہی لکھے گئے یا آگے پیچھے؟ اس کے برخلاف سید سلیمان ندوی کی دریافت کردہ لغت کو لغت کی بجائے نصاب نامہ کہنا اس لیے مناسب ہوگا کہ اس میں ترتیبِ اندراج نہیں ہے اور منظوم ہونے کی وجہ سے الفاظ بھی ترتیب کے ساتھ نہیں لائے جاسکے ہیں۔ پہلے مصرعے میں بیان کردہ مترادفات دوسرے مصرعے میں بیان کردہ مترادفات سے اس لیے جوڑ نہیں کھاتے کہ ان الفاظ کی آمد یا آورد کے پس پشت معنی کی بجائے ضرورتِ شعری (وزن، قافیہ) ہی کارفرما رہی ہے۔
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے، ان دونوں لغات کے بعد دکن میں بھی لغاتی نصاب ناموں کی تدوین کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان میں ’گنج نامہ‘22؎ سید طاہر شاہ کرنولی (وفات 1115ھٌ کی مختصر لغت ’خوان یغما‘ اور سید محمد والہ (وفات 1184ھ) کی ’رازق باری‘، ’رسالہ در لغت عروض‘ اور فیاض عسکری کی ’قادر باری‘ (1210ھ) قابل ذکر ہیں۔ اس زمانے میں ایک لغت بھی ’فرہنگ اصطلاحات سائنس‘ (1200ھ) کے نام سے لکھی گئی۔ اسے نصاب نامہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس میں سائنسی اصطلاحات کو اردو میں وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے؛ اور اصل انگریزی الفاظ بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ اس کی اس لیے زیادہ اہمیت ہے کہ اس کے اندراجات میں ہجائی ترتیب کا پورا پورا لتزام رکھا گیا ہے۔
جنوبی ہند میں لکھے گئے ان نصاب ناموں کے تعلق سے ایک بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ’گنج نامہ‘ کے سن تالیف اور مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اسے دیگر نصاب ناموں سے مقدم مانا جاتا ہے۔ اور یہ بات قابل توجہ ہے۔ جیسا کہ شمالی ہند کے نصاب ناموں کے سرسری جائزے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نصاب ناموں کی تشریحی زبان پہلے فارسی رہی جو کہ امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ قدیم اردو اور پھر اردو ہوگئی ہے جیسا کہ ’قصیدہ در لغات ہندی‘ کی تشریحی زبان فارسی ہے اور مثل ’خالق باری‘ کی زبان صرف مترادفاتی اور بعد کے نصاب ناموں کی زبان اردوئے خالص ہے۔ چونکہ سید طاہر شاہ کرنولی کی مختصر لغت ’خوان یغما‘ کی تشریحی زبان فارسی، سید سلیمان ندوی کی دریافت کردہ لغت کی زبان مترادفاتی اور بعد کے نصاب ناموں کی تشریحی زبان اردو ہے۔ اس لیے میرے خیال میں سید طاہر شاہ کرنولی کی ’خوان یغما‘ کی تشریحی زبان فارسی اور گنج نامہ کی زبان نیم اردو ہونے کی بنا پر ’خوان یغما‘ کو گنج نامہ سے مقدم مانا جاتا ہے۔
شمالی اور جنوبی ہند کے ان نصابوں اور ابتدائی لغات کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شمالی ہندمیں اردو لغت نویسی کی بنیاد ان نصاب ناموں کی شکل میں سولہویں صدی عیسوی کے وسط (قصیدہ در لغات ہندی 950ھ مطابق 1543ء) میں پڑی جن کو لغات کی بجائے اردو لغت نویسی کے ابتدائی نقوش سے ہی موسوم کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ان میں لغت نویسی کی بنیادی شرائط مفقود ہیں جب کہ دوسری طرف جنوبی ہند میںا ردو لغت نویسی اپنی ابتدا سے ہی مکمل شکل میں سامنے آئی۔ جنوبی ہند کی ابتدائی لغت یعنی ’لغاتِ گجری‘ اس لیے مکمل لغت کہی جاسکتی ہے کہ اس میں تو ترتیبِ اندراج کا ایک منطقی طریقۂ کار بھی اختیار کیا گیا ہے۔ باقاعدہ فصلیں اور ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ’لغاتِ گجری‘ اور سید سلیمان ندوی کی دریافت کردہ لغت کے بعد کوئی ایسی لغت نہیں لکھی گئی (یا الآن تحقیق نہیں کی گئی) جس کو ان دونوں لغات کی ترقی یافہ شکل کہا جاسکے؛ جب کہ شمالی ہند کے اتباع میں جنوبی ہند میں بھی سترہویں صدی عیسوی (’خوان یغما‘ سید طاہر شاہ کرنولی، وفات 1115ھ مطابق 1703ء) اواخر میں منظوم نصاب ناموں کی تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
دوسری بات یہ کہ شمالی ہند کے ان نصاب ناموں کے نہ جانے کن شواہد کی بنیاد پر پروفیسر محمود شیرانی،23؎ ڈاکٹر عبدالحق، ‘24؎ ڈاکٹر سید عبداللہ25؎ ، اور پروفیسر نجیب اشرف ندوی26؎ ، ان نصاب ناموں کی تصنیف و تالیف کا مقصد ’ہندی یا اردو کے ذریعے اور مدد سے فارسی یا عربی الفاظ‘ کی تعلیم قرار دیتے ہیں جب کہ ان نصاب ناموں کی زبان اور انداز سے اس سے مختلف نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ ’خالق باری‘ بعد کی تصنیف ہے اس لیے اس کی تشریحی زبان فارسی اور اردو دونوں ہی ملواں شکل میں ہے۔ اس سے پہلے کے نصاب ناموں ’قصیدہ در لغات ہندی‘ اور ’صمد باری‘ کی تشریحی زبان فارسی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ نصاب نامہ لکھنے کا مقصد عربی یا فارسی کی بجائے اردو (ہندی) الفاظ کی تعلیم دینا تھا۔ اس کے علاوہ ’قصیدہ در لغات ہندی‘ کے اس پہلے شعر ؎
نامِ ہر چیزے بہ ہندی بشنواز من اے پسر
خاصۂ نام ہر دوائے نفع برداری مگر
میں فارسی داں کو ہندی (اردو) الفاظ سکھانے یا بتانے کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح مذکورہ نصاب نامے کے فوراً بعد تالیف کیے گئے ایک دوسرے نصاب نامے ’مثلِ خالق باری‘ کی تشریحی زبان اگرچہ اردو ہے مگر اس کے اس شعر ’خالق جن جگ پیدا کیا رازق سب کو بھوجن دیا‘ میں تشریح عربی الفاظ ’خالق‘ اور ’رازق‘ کی گئی ہے۔ اس لیے ان نصاب ناموں کی تالیف کا مقصد کسی ایک زبان کے الفاظ کی تعلیم تک ہی محدود نہ رہ کر مختلف اوقات میں مختلف رہا ہے۔ یعنی کبھی فارسی کے ذریعے اردو الفاظ کی تعلیم اور کبھی اردو کے ذریعے عربی اور فارسی الفاظ کی تعلی!
اردو- فارسی لغات
سابق الذکر نصاب ناموں یا ابتدائی لغات کی تدوین کے ساتھ ساتھ اردو لغت نویسی کا دوسرا مرحلہ، اردو-فارسی لغت نویسی کی شکل میں عہدِ عالم گیری کے ملا عبدالواسع ہانسوی کی ’غرائب اللغات‘ سے شروع ہوا۔ ’غرائب اللغات‘ سے پہلے فارسی لغات میں کہیں کہیں فارسی الفاظ کے اردو مترادفات بھی دے دیے جاتے تھے۔ جیسا کہ آٹھویں صدی ہجری 790 کی فارسی لغت ’بحرالفضائل فی منافع الافاضل‘ کے بارے میں سابقہ اوراق میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ اس کا چوتھا باب اردو کے ایسے الفاظ پر مشتمل ہے جو اس وقت ہندی شاعری میں مستعمل تھے۔ اس طرح نویں صدی ہجری کی دو لغات ’ادات الفضلا‘ مولفہ قاضی خان ملا بدر محمد دہلوی اور ’شرف نامہ‘ مولفہ قوام الدین ابراہیم فاروقی، میں عربی اور فارسی الفاظ کے معنی بیان کرتے ہوئے بعض مقامات پر ہندی (اردو) مترادف بھی دے دیے گئے ہیں۔ یہی صورت حال ایک دوسری لغت ’موید الفضلا‘ میں بھی ملتی ہے۔ مترادفات کی صورت میں اردو الفاظ چونکہ ان لغات میں کسی اصول یا باقاعدگی سے نہیں دیے گئے ہیں اس لیے ان کو اردو لغت نویسی کے باقاعدہ سلسلے سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ ان سے تو صرف ان مولفین لغات کی ہندی دانی کا ہی علم ہوتا ہے۔ اس لیے غرائب اللغات کو ہی اردو-فارسی کی باقاعدہ لغت نویسی کے سلسلے کی سب سے پہلی کڑی اور اس کے مولف ملا عبدالواسع ہانسوی کو ڈاکٹر عبدالحق27؎ اور ڈاکٹر سید عبداللہ28؎ کے رائے کے مطابق اردو کا پہلا لغت نویس کہا جاسکتا ہے۔
غرائب اللغات
عبدالواسع ہانسوی کی تالیف کردہ یہ پہلی باقاعدہ اردو-فارسی لغت عہدِ عالم گیری (11ویں صدی ہجری کے اواخر یا 12ویں صدی ہجری کے اوائل) میں مدون ہوئی جسے بعد کو 1750 (1165ھ) میں سراج الدین علی خان آرزو نے ’نوادرالالفاظ‘ کے نام سے تصحیح اور ترمیم کے ساتھ مرتب کیا۔ اس لغت میں صرف ہندی الاصل اردو الفاظ کو ’بنیادی اندراج کی حیثیت دے کر فارسی زبان میں تشریح کی گئی ہے اور ان کے عربی اور فارسی مترادفات بھی دیے گئے ہیں۔ اگرچہ اندراجات کی ترتیب ہجائی ہے مگر اس کا التزام صرف پہلے حرف تک ہی رکھا گیا ہے یعنی باب الف میں لفظ ’آپ‘ کے فوراً بعد ’الٹنا‘ اور پھر ’اپاہج‘ درج کیا گیا ہے۔29؎ اس طرح باب الباء العربیہ (ب) میں پہلے ’بیگار‘ کا اندراج ملتا ہے۔ اس کے بعد ’پناہ‘ کا اور پھر ’پٹرا‘ یا ’پٹری‘ کا۔30؎
’صمد باری‘ یا ’رسالہ جان پہچان‘ (مولفہ میرعبدالواسع ہانسوی) چونکہ تدریسی مقصد کے تحت صرف بچوں کے لیے لکھی گئی تھی اس لیے اس کا تدریسی انداز سمجھ میں آتا ہے لیکن مولف نے اس لغت میں بھی مدرسانہ انداز ہی اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ’غرائب اللغات‘ میں بھی تشریحی اندازِ سطحی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس لغت کی تالیف کے وقت ان کے مدنظر متوسط درجے اور عام ذہن کے طالب علم ہی تھے۔ اس لغت کی تالیف کا مقصد تنقیح و تنقید ہرگز نہیں تھا۔ اگرچہ اس لغت کے حاشیے سے پتہ چلتا ہے کہ مولف نے متعدد فارسی لغات کی ورق گردانی بڑی چابکدستی سے کی ہے مگر اس سلسلے میں بھی ان کی ’سطحیت‘ برقرار رہی ہے۔ چنانچہ اردو کے اکثر عربی و فارسی مترادفات کے سلسلے میں وہ ان کے باریک امتیازات میں فرق قائم نہیں کرسکے؛ یہ سقم صرف مترادفات کی حد تک ہی محدود نہ رہ کر ان کی تشریحات میں بھی پایا جاتا ہے،31؎ لیکن اس سلسلے میں مولف لغت کا یہ اعتراف ہے کہ اس نے اس لغت میں صرف ’’اسمائے غیرمشہور و اشیائے مدخورہ و الفاظ غیرمانوسہ و معانی بین الانام مذکورہ‘‘ کو ’یہ عباراتِ واضح و اشاراتِ لائحہ‘ بیان کیا ہے تاکہ ’فائدۂ آن عام و نفع آں تمام باشد‘32؎ اس بات کے لیے مجبور کردیتا ہے کہ اس لغت کی بعض کمیوں کے باوجود بھی اسے تقدمِ زمانی کی مکمل اہمیت دی جائے کیونکہ اس لغت میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو کسی فن کے موسس اور ابتدا کرنے والے کی تخلیق میں ہوا کرتی ہیں۔
نوادرالالفاظ
جیسا کہ سابق میں ذکر کیا گیا ہے۔ ہانسوی کی ’غرائب اللغات‘ کو کافی مدت کے بعد 1165ھ سراج الدین علی خاں آرزو نے تصحیح اور ترمیم کے ساتھ ’نوادرالالفاظ‘ کے نام سے مرتب کیا اور اس میں ’غرائب اللغات‘ کے تمام اندراجات کو شامل رکھا۔
آرزو نے ’غرائب اللغات‘ کے اندراجات کی ترتیبی نوعیت کو پہلے حرف سے آگے بڑھا کر دوسرے حرف تک وسیع کیا، اور تنقیدی نظر سے کام لیتے ہوئے جابجا ہانسوی کی تشریحوں یا اردو مترادفات کے طور پر دیے گئے عربی اور فارسی الفاظ کی صحت یا غلطی پر بھی روشنی ڈالی۔ یہاں پر ڈاکٹر سید عبداللہ کی یہ رائے قدرے وضاحت طلب ہے کہ ’’آرزو نے ’غرائب اللغات‘ کے سب الفاظ کو نوادر میں لے لیا ہے (ہر چند کہ ان الفاظ کے تلفظ اور املا وغیرہ کے سلسلے میں اعتراضات بھی کیے ہیں)33؎ — ’’قوسین میں درج عبارت خاص طور پر اس لیے توجہ لب ہوجاتی ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تلفظ کا یا املا کا معاملہ اندراجی لفظ سے ہی متعلق ہوگا جب کہ صورت واقعہ یہ نہیں ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ڈاکٹر سیدعبداللہ سے یہ تسامح کیوں کر ہوا۔ کیونکہ ’غرائب اللغات‘ یا ’نوادرالالفاظ‘ کا مطالعہ کرتے وقت یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس میں اندراجی لفظ (Entry) کا تلفظ یا املا دینے کی بجائے اندراجی لفظ کے لیے لائے گئے عربی یا فارسی کے مترادفاتی الفاظ کے تلفظ یا املا کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک اندراجی لفظ— ایڑی لیجیے جس کا مکمل اندراج اس طرح ہے:
’’ایڑی: …پاشند، ببائے فارسی و تبازی عقب، بفتح عین و کسر قاف و بائے موحدہ۔‘‘34؎ اس میں پاشند و عقب کا املا و تلفظ بتایا گیا ہے جو کہ ایڑی کے، جو کہ اندراجی لفظ ہے، عربی فارسی مترادفات کے طور پر دیے گئے ہیں۔
ایک دوسری مثال: دائی جنائی۔ لیجیے۔ اس کا مکمل اندراج اس طرح ہے:
دائی جنائی: پازاج ببائے فارسی وزائے معجمہ بالف کشیدہ و جیم فارسی و بفارسی ماماچہ و بتازی قابلہ، بقاف و بائے موحدہ گویند—‘‘35؎
اس اندراج میں بھی ’دائی جنائی‘ کی بجائے اس کے فارسی مترادف پازاج اور عربی مترادف قابلہ کے ہی املا پر روشنی ڈائی گئی ہے۔ وکذا۔
یہاں پر غرائب اللغات مع نوادر الالفاظ کے سلسلے میں ایک بنیادی بات عرض کردینا ضروری ہے جس کی طرف ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنے طویل مقدمے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔ اس لغت سے پہلے کی دو لغات— یعنی ڈاکٹر نجیب اشرف کی دریافت کردہ ’لغات گجری‘ اور سید سلیمان ندوی کی دریافت کردہ نامعلوم الاسم لغت میں بنیادی اندراج کے طور پر صرف ہندی الاصل الفاظ ہی شامل کیے گئے تھے اور ابواب کا قیام بھی ہندی حروف تہجی کی ترتیب سے ہی کیا تھا۔ ’غرائب اللغات مع نوادرالالفاظ‘ میں اس کے برخلاف ہندی حروف تہجی (ا ب پ ت ٹ ج چ) کے ابواب میں صرف ہندی الاصل الفاظ ہی شامل کیے گئے ہیں (ث کا باب قائم ہی نہیں کیا گیا ہے) فارسی یا عربی حروف تہجی (مثلاب خ ش وغیرہ) کے ابواب میں بہت کم الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔ ث، ص، ط ظ ع غ کے نہ تو ابواب ہی ہیں اور نہ ہی ان سے شروع ہونے والے الفاظ! آرزو نے ’غرائب اللغات‘ میں ف ق کے ابواب کا اضافہ کرکے اپنی نوادرالالفاظ میں ان سے شروع ہونے والے الفاظ بھی شامل کیے مگر اس اختصار کے ساتھ کہ باب الفاء میں صرف تین الفاظ اور باب القاء میں صرف ایک لفظ (قرقرہ) شامل کیا۔ صرف باب المیم ایسا باب ہے جس میں ہندی الاصل الفاظ کے ساتھ ساتھ کچھ عربی اور فارسی الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں۔
شمس البیان فی مصطلحات ہندوستان
’نوادرالالفاظ‘ کی تدوین (1165ھ مطابق 1750ء کے تقریباً چالیس سال بعد (1207ھ مطابق 1792 ء) مرزا جان طپش دہلوی نے اپنے قیامِ ڈھاکہ کے دوران 96 صفحات کی ایک مختصر لغت مدون کی جو تقریباً پچاس سال بعد (1265ھ مطابق 1848ء) مرشدآباد سے شائع ہوئی۔ اس کے ٹائٹل صفحے پر یہ عبارت درج تھی:
’’شمس البیان در علم لغت مشتمل برلغات و محاورات اردو و باسند اشعار فصحا و بلغا ہندوستان از مصنفات مرزا طپش جان مرحوم در مطبع آفتاب عالم تاب واقع بلدۂ مرشدآباد و محلہ قطب پور طبع شد۔‘‘36؎
یہ اگرچہ ایک مختصر لغت ہے مگر اس اعتبار سے کافی اہمیت رکھتی ہے کہ ایک تو اس میں اندراجات (Entries) کے تلفط کی نشان دہی توضیحی طریقے پر کی گئی ہے اور دوسرے یہ کہ ان اندراجات کے معنی بھی وضاحت کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مترادفات سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ چند مثالیں:
.1 ادھیڑنابننا: ہمۃ بواؤ مجہول و دال وہائی ہندی و بیائی مجہول رسیدہ و سکونِ رائے ہندی، تلفظ کی اس وضاحت کے بعد اس کے معنی اس طرح دیے گئے ہیں— ’’کنایہ ازانواعِ تخیل کہ در عالم تنہائی حضور کنند‘ اس وضاحت کے بعد سند کا سلسلہ اس طرح شروع ہوتا ہے— استادی و مولائی حضرت درد می فرماید، رباعی—
کیا کیا کچھ ادھیڑنا اور بننا ہے‘‘37؎
.2 ادھیڑبن: مخفف اول است و نیز بہمیں معنی۔
مرزا علی تقی محشر گوید (رباعی)
کس کس ڈھب کی ادھیڑ بن ہے‘‘ 38؎
.3 تل: بکسر اول و سکون ثانی، نام کنجد کہ قسمیست از اقسام حبوب، در اصطلاح عرصۂ یک دم، بل ازاں ہم کم، معتبر خاں گوید—
تل میں دل لے کے یوں بگڑتے ہو
کہ گویا ان تلوں میں تیل نہیں 39؎
ایک چوتھی مثال:
.4 جگ: بضم اول و سکونِ کاف عجمی، در ہندی بمعنی قرن، عہد، در اصطلاح آنکہ دو نردِ چوسر کہ دریک خانہ باشند، فضائل علی خاں در مثنوی زبانیِ معشوقہ گوید… 40؎
یا
قرآن کرنا: بالکسر، بعمل آوردنِ امریست کہ وقوعش کمال تعجب بخشد، میرتقی میر گوید ؎
شرمندہ ہوئیں طالعِ خورشید و ماہ دونوں
خوبی نے ترے منھ کی ظالم قرآن کیا ہے41؎
آخرالذکر مثال کے غور طلب معنی سے قطع نظر، یہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا طپش جان دہلوی نے اپنی اس لغت میں تلفظ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ سند بھی اشعار سے ہی پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں معنوی وضاحت بھی بھرپور طریقے پر کی گئی ہے۔
یہ چونکہ ایک باقاعدہ لغت کی بجائے مصطلحات (شعری اصطلاحات) پر مبنی ایک مختصر سی لغت ہے اس لیے مولف نے اس میں ترتیب کا کوئی التزام نہیں رکھا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اشعار نوٹ کیے جاتے رہے جن میں کوئی محاورہ (اصطلاح) باندھا گیا ہے اور پھر انھیں ہجائی ترتیب کا التزام رکھے بغیر تقطیع وار جمع کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ’ب‘ کی تقطیع میں اندراجات کی ترتیب اس طرح ہے:
بگ لگنی/ بک بک/ بسرام لینا/ بستر/ بدن (ص 14 و 15)۔ ان اندراجات سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ ’ب‘ کے مابعد والے حروف معکوس ترتیب کے ساتھ لائے گئے ہیں۔ یعنی ب کے بعد پہلے ک پھر ب کے بعد س والے الفاظ اور پھر ’ت‘ کے الفاظ۔ مگر اس مثال کا آخری لفظ بدن ہے جس میں ’ب‘ کے بعد دال ہے۔ اسی طرح ایک دوسری مثال لیجیے۔
بھیگتے جانا رات کا، بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دینا/بھچک جانا۔ ص 16
اس مثال میں پہلے بھ کے مابعد ’ی‘ پھر ’بھ‘ کے مابعد الف اور پھر ’چ‘ کا لفظ لایا گیا ہے۔ اس لغت میں اندراجات میں ترتیب کا لحاظ نہ رکھنے کی ایک تیسری واضح مثال درج ہے۔ ہاتھ کے تحت محاورات اس طرح ملتے ہیں:
ہاتھ لگانے/ ہاتھوں ہاتھ لے جانا،
ہوا لگنی/ ہوا پھرنی/ ہاتھ پتھر تلے دینا وغیرہ (ص 48,49)
اس مثال میں پہلا اندراج ’ہاتھ لگانے‘ (لگانا) اور آخری اندراج ’ہاتھ تلے پتھر دینا‘ اور درمیان میں ’ہوا لگنی‘ اور ’ہوا پھرنی‘ وغیرہ کو درج کیا گیا ہے۔
ایک دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ جو محاورہ شعر میں جس تصریفی شکل میں نظم ہوا ہے اسے اس کی اسی استعمال کی شکل میں ہی درج لغت کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہاتھ لگانا کی بجائے ہاتھ لگانے، درج کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر پیش کیے گئے شعر کا مصرعہ ہے— کہ خوبوں نے لگائے ہیں مجھے ہاتھ (ص 8)۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں پھول جانا، کی بجائے ’ہاتھ پاؤں پھول جائے‘ درج کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر شعر کا مصرع ہے؟
کہ میرے ہاتھ پاؤں گئے ہیں پھول (ص 49)
اسی طرح دن پھرنے، اور ’دن بھرنے‘ ( ہم بھی اپنے دنوں کو بھرتے ہیں)، ص 32) درج کیا گیا ہے جب کہ اصل محاورہ، دنوں کو بھرنا ہے۔
اس لغت کی ایک دوسری قابل ذکر اور خاص بات یہ ہے کہ یہ اردو کی وہ پہلی لغت ہے جس میں اردو کی ہکاری آوازوں (بھ، پھ، تھ، وغیرہ) کو ایک علاحدہ اور باقاعدہ حرف کی شکل دے کر ان کے اندراجات الگ کیے گئے ہیں۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مولف لغت اس بات سے پوری طرح واقف ہے کہ یہ ہکاری آوازیں اپنے آپ میں مکمل اور دوسری آوازوں سے جداگانہ اور مشخص ہیں اس لیے انھیں اردو کے حروف تہجی میں بھی جداگانہ حیثیت دی جانی چاہیے۔ یہ چونکہ ایک مختصر بلکہ خود مصنف کے الفاظ میں منتخب مصطلحات کی لغت ہے اس لیے بیشتر تقطیع میں ایک یا دو ہی اندراجات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’تھ‘ کی تقطیع میں صرف ایک ہی اندراج— ’تھتھانا منھ کا‘ ملتا ہے۔ (ص 32)
دلیلِ ساطع
’غرائب اللغات‘ اور پھر ’نوادرالالفاظ‘ (1750) نیز شمس البیان فی مصطلحاتِ ہندوستان (1792) کی تدوین کے بعد 1833 میں دلیلِ ساطع کی تدوین تک باقاعدہ لغت نویسی کا سلسلہ تقریباً منقطع ہی رہا۔ اس دوران اس سمت میں جس قدر کوشش کی گئی وہ سب لغاتی نصاب ناموں کی تدوین و تالیف تک ہی محدود رہی بہرحال 1833 (مطابق 1248ھ) میں مولوی محمد مہدی واصف نے ’دلیل ساطع‘ کے نام سے ایک فارسی- اردو لغت مدون کی جو مطبع مظہرالعجائب مدراس سے شائع ہوئی۔ جیسا کہ خود مولف نے اس لغت کے دیباچے میں ذکر کیا ہے، اس میں شامل الفاظ کسی انگریزی لغت سے ماخوذ ہیں۔ ہر اندراجی لفظ کے آگے حرف ’ہ‘ یا ’س‘ کے ذریعے اس کے ہندی یا سنسکرت ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اور تلفظ کے سلسلے میں وضاحتی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس لغت کے اکثر الفاظ ایسے ہیں جو اب یا تو متروک ہوچکے ہیں یا جو پہلے بھی بہت شاذ استعمال ہوتے تھے۔
نفائس اللغات
’دلیل ساطع‘ کی تدوین کے چند سال بعد یعنی 1837 (1253ھ) میں مولوی اوحدالدین بلگرامی نے ایک لغت- ’نفائس اللغات‘ کے نام سے مدون کی جو 1849 میں مطبع نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اس لغت کی تدوین کا مقصد بھی وہی تھا جو میر عبدالواسع ہانسوی نے اپنی لغت ’غرائب اللغات‘ کے دیباچے میں بتایا تھا کہ ’’اردوئی ہندوستانی کہ مرکب از فارسی و عربی و ہندی برجی ترکی است، اصل لغت قراردادہ عربی و فارسی آنرا بیان نمود—‘‘ چنانچہ اس لغت میں بھی بنیادی اندراج اردو الفاظ کو بنا کر ان کی تشریح فارسی زبان میں کی گئی ہے اور ان کے عربی اور فارسی مترادفات بھی دیے گئے ہیں۔ اردو الفاظ کی سند دینے کی بجائے عربی اور فارسی مترادفات کی سند کے طور پر جابجا عربی اور فارسی اشعار پیش کے گئے ہیں۔ اس لغت کو سابقہ لغات پر اس لیے اہمیت دی جاسکتی ہے کہ ایک تو یہ سابقہ لغات سے سب سے زیادہ ضخیم (636 صفحات) ہے اور دوسرے یہ کہ یہ پہلی لغت ہے جس میں اندراجی (اردو) الفاظ کے تلفظ کی نشان دہی کی گئی ہے۔
’نفائس اللغات‘ سے پہلے کی اردو-فارسی لغات میں اندراجی الفاظ کی بجائے ان کے عربی اور فارسی مترادفات کے املا اور تلفظ کی وضاحت کی گئی تھی۔ پھر یہ کہ اس سے پہلے کی لغات میں صرف ہندی اصل والے اردو الفاظ کو ہی بنیادی اندراجات کی حیثیت میں شامل کیا جاتا تھا جب کہ اس لغت میں وہ تمام عربی اور فارسی الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جو کہ اردو میں مستعمل تھے۔
یہ لغت اگرچہ— ’’اچھی خاصی ضخیم ہے لیکن اس میں الفاظ بہت کم اور محاورے بہت خال ہیں۔ مثلاً الف ممدودہ بابائے موحدہ کے باب میں صرف تین الفاظ (آنجورہ، آبریز اور آبدیز) ہیں اور الف ممدودہ بارائی مہملہ کے باب میں صرف دو لفظ (آڑ اور آڑو) دیے گئے ہیں۔ اسی طرح آنکھ کے تحت صرف پانچ محاورے درج کے گئے ہیں۔ یائے تحتانی باواو کے تحت صرف ایک لفظ ’یومیہ‘ ہے اور باہا کے باب میں صرف ’یہاں‘ ہے تاہم جو کچھ بھی لکھا ہے وہ مستند ہے۔‘‘42؎
نفس اللغہ
1844 میں میر علی اوسط اشک شاگردِ ناسخ نے ’نفس اللغہ‘ کے نام سے یہ لغت تالیف کی جس میں اردو الفاظ کے معنی فارسی زبان میں وضاحت کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ اسے لغت کی بجائے فرہنگ کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔ اس میں کہیں کہیں الفاظ کی تشریح کافی اختصار سے بھی کی گئی ہے اور بعض جگہ تو صرف اتنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے کہ ’فارسی است‘ اور کوئی تشریح نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح محاورات بھی بہت کم دیے گئے ہیں۔ کہیں کہیں تشریح ناقص بھی ملتی ہے— مثلاً ’پھینی‘ کے معنی لکھتے ہیں ’’حلوائیاں می سازند وآں را باقند و شیرخورند۔‘‘ اسی طرح ’تسلی‘ کے لیے اتنا ہی لکھا گیا ہے ۔عربی است ف۔ خورسندی‘‘ الفاظ بہت سے چھوٹ بھی گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس لغت میں بھی اردو الفاظ کی سند یا مثال پیش نہیں کی گئی ہے۔ اس لغت کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے ہے کہ مولف کو فنِ لغت نویسی کے اصول سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ اس لغت کی صرف پہلی جلد ہی طبع ہوسکی جس میں صرف ’ت‘ تک کے الفاظ شامل ہیں۔
منتخب النفائس
یہ بھی ایک اہم لغت ہے جس کا تذکرہ بابائے اردو ڈاکٹر عبدالحق نے اپنی لغت کبیر اردو کے طویل مقدمے میں نہیں کیا ہے۔ اس لغت کو 1845 (1262ھ) میں محبوب علی رام پوری نے مدون کیا مگر اس فرق کے ساتھ کہ اب تک کی اردو-فارسی لغات تشریحی طریقے پر لکھی گئی تھیں جب کہ اس میں تشریحی طریقے کی بجائے اردو الفاظ کے عربی اور فارسی مترادفات تین کالموں میں دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کو بنیادی طور پر اردو-فارسی لغت نہ کہہ کر اردو-فارسی عربی یعنی تین لسانی لغت کہنا چاہیے۔
اس لغت کا دیباچہ کافی دلچسپی کا حامل ہے۔ اس میں مولف نے ’انفس النفائس‘ کو ’نفائس اللغات‘ کا چربہ بتا کر سرقہ قرار دیا ہے اور ’انفس النفائس‘ کے مولف کو سارق بتایا ہے۔ اس لغت کا ایک دوسرا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اگرچہ بنیادی طور پر یہ اردو الفاظ کی لغت ہے اور فارسی و عربی الفاظ، اردو الفاظ کے صرف مترادف کے طور پر ہی شامل کیے گئے ہیں مگر اس میں تحقیق و تعلیم کا سارا زور عربی الفاظ پر ہی توڑا گیا ہے۔ چنانچہ بنیادی الفاظ یعنی اردو یا فارسی الفاظ کا تلفظ بتانے کی بجائے عربی الفاظ کے تلفظ کی نشان دہی اعراب کے ذریعے کی گئی ہے اور یہی نہیں بلکہ تمام حاشیائی تشریحات بھی عربی الفاظ سے ہی متعلق ہیں۔ کہیں تو یہ کیا گیا ہے کہ اصل متن میں اعراب کے ذریعے بتائے گئے، عربی الفاظ کے تلفظ کو ہی حاشیہ میں بھی توضیحی طریقے پر پیش کردیا گیا ہے اور کہیں ان کے مادّے، ان کی اصل اور تصریف پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس لیے یہ لغت اگر اردو کی بجائے عربی الفاظ کی تحقیق کی لغت قرار دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس لغت کے ہر صفحے پر 28 اردو الفاظ درج ہیں اور صفحات کی تعداد 172 ہے۔ اس طرح اس لغت کو تقریباً پانچ ہزار الفاظ کی لغت کہا جاسکتا ہے۔ اس میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے وہ مستند ہے۔
1845 ہی میں میر حسن ولد میر حسین عرف میر کامل نے ’نفائس اللغات‘ کی تلخیص ’انفس النفائس‘ کے نام سے سہ کالمی اندازمیں شائع کی، پہلے کالم میں اردو لفظ، دوسرے کالم میں فارسی اور تیسرے کالم میں اس کا عربی مترادف دیا گیا ہے۔ اس لغت کی بابت اگرچہ مولف ’منتخب النفائس‘ نے ’نفائس اللغات‘ کے سرقے کا ازام لگایا تھا مگر خود اس لغت کے مولف نے اپنے نو صفحات کے (فارسی) دیباچے میں خود کو اس وقت کے دو مشہور ماہرینِ لغت، مولوی اوحدالدین بلگرامی (مولف نفائس اللغات) اور مولوی قدرت اللہ گوپامئوی کا دست نگر بتایا ہے۔
مآخذ و مصادر
.1 کہا جاتا ہے کہ چین میں ولادتِ عیسیٰ سے ہزاروں سال قبل ہی لغات کی ترتیب اور تدوین کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا مگر چینی زبان کی سب سے پہلی لغت، پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں شواوین نے مرتب کی۔ ایک دوسرے قیاس کے مطابق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شواوین کی یہ لغت چین کے ہاں حکمرانوں کے دور میں بھی موجود تھی۔ یوریشیائی علاقے میں تالیف کی گئی ایک سب سے قدیم اکادی، سمیری لغت کا ذکر ملتا ہے جس کی پہلی بار تدوین قیاس اور اندازے کے مطابق ساتویں صدی قبل مسیح کی گئی ہے۔
دیباچہ: شبا، ساگر، جلد اوّل، ص 11، ناگری پرچانی سبھا، کاشی
.2 J.A. Haywood: Arabic Lexicography, P 8
.3 یورپ میں سب سے پہلے ہیلنی عہد کے یونانیوں نے جس طرح ادب، فلسفہ، قواعد، سیاسیات وغیرہ کی بنیاد رکھی تھی اس طرح انھوں نے ہی لغت نویسی کی بھی ابتدا کی چنانچہ سب سے پہلے ‘Glaucus’ (220 ق م) نے ایک تہجی فرہنگ ‘Vipperles Lexikan’ کی تدوین کی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد نہم، ص 86
.4 انگریزی لغت نویسی کی ابتداا ینگلو سیکسن عہد میں لاطینی تحریروں مثلاً Psalter اور Gospals کی لغات حاشیہ نگاری (Glossing) روایات کے طور پر ہوئی۔ یہ حاشیائی لغات ان قارئین کے لیے مدون کی جاتی تھی جو لاطینی سے نابلد ہوتے تھے۔
J. Murrey: Eveoltion of English Lexicography, P 12
.5 ڈاکٹر سید عبداللہ: مقدمہ نوادرالالفاظ، ص 20، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، 1951
.6 ایضاً، ص 20
.7 مضمون : فارسی زبان کی ایک قدیم فرہنگ میں اردو زبان کا عنصر، رسالہ مخزن مارچ 1929، لاہور
.8 پروفیسر نذیر احمد: فارسی کی قدیم فرہنگوں میں ہندوستانی عناصر، مشمولہ ارمغانِ مالک، دہلی 1971
.9 ملاحظہ کیجیے: مضمون، فرہنگ زفان گویا و جہان پویا، (مشمولہ، غالب نامہ بابت جنوری 1986، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی)
.10 حکیم سید شمس الدین قادری نے اس کا سنہ تالیف 795ھ مطابق 1392ء بتایا ہے۔ (اردوئے قدیم، 1963 کراچی)
.11 نقوش سلیمانی، ص 237 معارف پریس اعظم گڑھ، 1939
.12 مقدمہ حفظ اللسان معروف بہ خالق باری، انجمن ترقی اردو، نئی دہلی 1944
.13 ڈاکٹر عبدالحق، قدیم اردو، انجمن ترقی اردو پاکستان۔
.14 مضمون: خسرو بحیثیت ہندی شاعر، مشمولہ نوائے ادب، بمبئی، جنوری 1961
.15 مقدمہ لغات گجری، ادبی پبلشرز، بمبئی، 1962، ص 10
.16 حوالہ جات: (الف) مقدمہ حفظ اللسان خالق باری، مرتبہ: حافظ محمود شیرانی، 1947، (ب) مباحث: ڈاکٹر سیدعبداللہ، ص 111
.17 ڈاکٹر جمیل جالبی: تاریخ ادب اردو، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دلی 1977
محمد رضوان خان نے بھی محمود شیرانی کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے امیر خسرو کی ہی تصنیف بتایا ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر صفدر آہ کی تصنیف ’امیر خسرو بہ حیثیت ہندی شاعر‘ کے حوالے سے خالق باری کے ایک قدیم ترین نسخے کی نشاندہی کی ہے۔
.18 ڈاکٹر صفدر آہ،نوائے ادب، بمبئی، جنوری 1962، ص 32
.19 حافظ محمود شیرانی، اورینٹل کالج میگزین، لاہور نومبر، 1931، ص 9
.20 ملاحظہ کیجیے ’خالق باری اکرم‘ مولفہ میاں جی محمد اکرم سنہ تالیف 1205ھ مطبع مصطفائی، لکھنؤ (1263ھ)
.21 مقدمہ لغات گجری، مرتبہ: ڈاکٹر نجیب اشرف ندوی، ادبی پبلشرز بمبئی، 1962، ص 110
.22 گنج نامہ: اس نصاب نامے کی سنہ تالیف، مولف کا نام اور سنہ کتابت وغیرہ ہنوز تحقیق طلب ہیں۔ اس کے آخری شعر سے مہلہہ تخلص واضح ہوتا ہے جو صحت طلب ہے۔ یہ نصاب نامہ بھی ’خالق باری‘ اور ’رازق باری‘ کی طرز پر ہے۔
.23 حفظ اللسان معروف بہ خالق باری، مرتبہ: پروفیسر محمود شیرانی
.24 قدیم اردو، ص 199
.25 مباحث، ص 111، نیز مقدمہ نوادرالالفاظ، ص 7
.26 مقدمہ لغات گجری، ص 40
.27 مقدمہ لغت کبیر اردو، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، 1973
.28 مقدمہ نوادرالالفاظ، انجمن ترقی اردو،کراچی، 1951
.29 غرائب اللغات، ص 776
.30 ایضاً، ص 93
.31 ڈاکٹر سیدعبداللہ، مقدمہ غرائب اللغات مع نوادرالالفاظ، ص 7
.32 دیباچہ، غرائب اللغات، ص 5
.33 مقدمہ نوادرالالفاظ، ص 17
.34 نوادرالالفاظ مع غرائب اللغات مرتبہ: ڈاکٹر سیدعبداللہ، ص 480
.35 ایضاً، ص 234
.36 شمس البیان فی مصطلحات ہندوستان، شائع کردہ عابد رضا بیدار خدا بخش لائبریری پٹنہ، 1979، ص 7
.37 شمس البیان، ص 7، مطبوعہ خدا بخش لائبریری پٹنہ، 1979
.38 ایضاً، ص 11
.39 ایضاب، ص 20
.40 ایضاً، ص 23
.41 ایضاً، ص 23
.42 ڈاکٹر عبدالحق: مقدمہ لغت کبیر اردو، ص 38، کراچی 1973
.43 ڈاکٹر عبدالحق: مقدمہ لغت کبیر اردو، کراچی، 1973، ص 38
.44 ملاحظہ ہو: منتخب النفائس، محبوب علی رام پوری، مطبوعہ 1845، کتب خانہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
.45 عبدالماجد دریابادی، مضمون: اردو کے کم یاب لغات، مشمولہ رسالہ نیا دور، اکتوبر 1974، ص 65
ماخذ: اردو لغت نویسی کا تنقیدی جائزہ، مصنف: ڈاکٹر مسعود ہاشمی، سنہ اشاعت: پہلا ایڈیشن: 2000، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی