طبعی گولکنڈوی: ثم حیدرآبادی،مضمون نگار: نورالسعید اختر

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

طبعی دکنی اردو کے دبستان گولکنڈہ کا آخری روشن ستارہ ہے جس کے فن کی تابندگی سے دکنی اردو کی نئی روشیں فروزاں ہیں۔ طبعی کی حیات کے سلسلے میں ہماری معلومات نہایت محدود ہیں۔ صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ طبعی نے ملا وجہی اور غواصی جیسے بلند پایہ شاعروں کو قطب شاہوں کے یہاں پروان چڑھتے دیکھا۔ بادشاہوں کی علم پروری اور شعرا کی دربار داری دیکھی۔ وجہی کا عروج وزوال دیکھا۔ غواصی کے زور بیان اور رفعت تخیل سے آگاہ ہوا، دیگر دکنی شہ پاروں سے فیضیاب ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ (973ھ تا 1020ھ)کی رنگین مزاجیاں اور عبد اللہ قطب شاہ (1035ھ تا 1083ھ) کی جلوہ طرازیاں دیکھیں۔ ان اساتذہ کی موجودگی میں اس کی شعری کا دشیں خاطر خواہ بار آور نہ ہوئیں۔ مؤرخوں اور تذکرہ نویسوں نے بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ ہم عصر شعرانے اس کا کہیں حوالہ پیش نہیں کیا۔ لہٰذا دکنی ادب کا یہ کوہ نورگولکنڈہ کی کان میں ایک مدت تک ناقدری اور چشم پوشی کے سنگریزوں میں دبا رہا۔
والیِ گولکنڈہ عبداللہ قطب شاہ کے کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ وہ حضرت شاہ راجو قتال متوفی 1092ھ کا مرید تھا اور ان کی ایما پر اس نے اپنی لڑکی ابوالحسن تاناشاہ سے بیاہ دی تھی۔ 1083ھ میں عبداللہ قطب شاہ کی آنکھیں بند ہوئیں اور اس کے ساتھ ہی قطب شاہی خاندان کی متزلزل سلطنت کی باگ ڈور حضرت شاہ راجو قتال کے فیضان سے ابوالحسن تانا شاہ کے ہاتھوں میں آئی لیکن اس وقت تک قطب شاہی قلعوں اور محلوں کی دیواروں پر بر باد کی کائی جم چکی تھی۔ محرابوں اور روشندانوں میں ابابیلوں اور چمگاڈروں نے گھونسلے بنالیے تھے۔ مغلیہ تاجدارا اورنگ زیب عالمگیر کو فتح دکن کے خواب سونے نہیں دیتے تھے۔ ان ناسازگار حالات میں بھی دبستان گولکنڈہ کے ایوانوں میں ایک خوش گفتا را در خوش الحان طوطی کی چہکار گونج رہی تھی۔
یہ امر بد یہی ہے کہ دکنی اردو کے اساتذہ، قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی، مقیمی، حسن شوقی، امین و دولت، خوشنود ، نصرتی اور ابن نشاطی کے سایۂ عاطفت میں طبعی کی شاعری پروان چڑھی۔ طبعی نے یقینا ان کے کلام سے استفادہ کیا ، طرز ادا کے یتور سیکھے، انداز بیان کی شراب کشید کی، یہی وجہ ہے کہ طبعی کے کلام میں اقتدارِ پارینہ کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔ نہایت رواں دواں اشعار اور پھڑکتے ہوئے مصرعوں کی بے ساختگی قاری کے دل میں کھب جاتی ہے۔ یہ خصوصیات طبیعی کی علمی بصیرت اور اور ادبی فضیلت کو اجاگر کرتی ہیں۔ کبھی کبھی اس کے انداز بیان کی لچکدار روانی، برقی رو کی طرح اسے اپنے وقت سے سو برس آگے پہنچا دیتی ہے۔ اس کا صاف ستھرا اور سجیلا طرز بیان، اشعار میں الفاظ کی بجائے جھلملاتے موتیوں کے انبار لگا دیتا ہے۔ گو کہ اسے اساتذۂ سخن کے سامنے اپنی افتاد طبع کی شمع روشن کرنے کا موقع ہاتھ نہ آیا اس کے باوجود بھی طبعی گوشتہ گمنامی میں سنورتا رہا اور اپنی شاعری کو معروف شعرا ئِ کرام کے فن پاروں سے جلا دیتا رہا۔
طبعی کے حالات اور کوائف سے ہم پوری طرح باخبر نہیں ہیں۔ افسوس ہے کہ اس کے پورے نام سے بھی آج تک واقفیت نہیں ہو سکی۔ طبعی نے اپنی ذات سے متعلق ساری مثنوی میں صرف ایک داخلی اشارہ چھوڑا ہے۔ جس سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ طبعی حیدرآباد (گولکنڈہ) کا زائیدہ ہے۔
در مدح بادشاہ ؎
تیرے شہر کا شاہ ہوں زایدا
ولے بخت نیں مج کوں کیا فائدا
طبعی کے مزید تعارف میں ڈاکٹر جمیل جالبی کا مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’ اس دور کے شاعروں میں طبعی سب سے زیادہ قابل توجہ ہے۔ جس نے مذاقِ زمانہ کے مطابق اگر چہ غزلیں بھی لکھیں لیکن اس کا اصل کار نامہ مثنوی ’بہرام و گل اندام‘ ہے۔ طبعی ابوالحسن تانا شاہ کا پیر بھائی تھا۔ اس مثنوی میں اس نے اپنے مرشد شاہ راجو، اور بادشاہ وقت ابوالحسن دونوں کی مدح میں اشعار لکھے ہیں۔ ’بہرام و گل اندام‘ 1340 اشعار پرمشتمل ہے۔ 40 دن کے عرصہ میں 1081ھ (1670) میں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ ابوالحسن کی تخت نشینی کا سال 1083ھ/ 1672 ہے اور اس مثنوی میں ابوالحسن کو شاہِ دکن کہا گیا ہے ؎
شہ بو الحسن سچ توں شاہ دکن
تجے شاہ راجو مدد بو الحسن
ہو سکتا ہے کہ 1083ھ/ 1672 میں جب ابوالحسن تاناشاہ تخت نشیں ہوا تو طبعی نے مدح کے اشعار کا اضافہ کر کے مثنوی کو بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا ہو۔ یا پھر شاہ راجو کی پیشین گوئی کے پیش نظر کہ ’’ابوالحسن بادشاہ ہو گا۔ 1081ھ/ 1670 میں جب مثنوی لکھی تو اسے شاہ دکن کہہ کر ہی مخاطب کیا ہو۔‘‘ 1؎
تصانیف : طبعی کی یادگار کے طور پر صرف اس کی مثنوی ’بہرام و گل اندام‘ باقی ہے۔ ممکن ہے اس کی ادبی کا وشیں اور بھی ہوں جو دستبردِ زمانہ کا شکار ہوگئی ہوں۔ مثنوی ’بہرام وگل اندام ‘ کے متن میں چند غزلیں بھی دستیاب ہوتی ہیں جن سے طبعی کی غزل گوئی کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ گمان ہوتا ہے کہ طبعی کا دیوان بھی ضرور ہو گا۔ مثنوی کے رواں دواں تخلیقی اشعار ہمارے قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ زمانے نے طبعی کے دیگر ادبی کا رناموں کانام و نشان مٹا دیا۔
مثنوی بہرام و گل اندام: اس مثنوی کا نام اہم کرداروں کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ طبعی نے مثنوی کے ابتدائی اشعار میں مشہور زمانہ عاشقوں کے نام گنوائے ہیں۔ ’ بہرام وگل اندام‘ کا تذکرہ بھی اسی باب میں ہے۔ ملاحظہ کیجیے ؎
توں بہرام ہے توں گل اندام توں
توں جمشید اَپی ہو رہے جسام توں
خدائے سخن نظامی گنجوی اور مولانا عبد الرحمن جامی کی پیروی میں دکنی اردو کے شعرا نے مثنویاں تحریر کر دی تھیں۔ طبعی نے امین سبزواری کے اچھوتے قصے کو موضوع بنایا اور دکنی ادب میں ایک بیش بہا اضافہ کیا۔ طبعی نے یہ مثنوی صرف چالیس دن میں مکمل کی تھی ؎
ہے کیا ہوں میں چالیس دن میں کتاب
بہوت فکر کر رات دن بے حساب
مثنوی بہرام و گل اندام کا سن تصنیف : اس مثنوی کے اب تک صرف دو قلمی نسخوں کا پتہ چلا ہے۔ نسخہ الف میں سنہ تصنیف 1081 ھ اور نسخہ ’ب‘ میں سن تصنیف 1083 ھ مد درج ہے :
ملاحظہ کیجیے:
1 نسخۂ الف
اتھا سال تاریخ کا خوب نیک

سنہ ایک ہزار اور ہشتاد ایک
1081ھ/ 1670
2 نسخۂ ب
اتھا سال تاریخ کا خوب نیک

سَنے یک ہزار اور ہشتاد و تین
1083ھ/ 1672
.3 تاریخ اردو ادب میں ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے اس مثنوی کا سنہ تصنیف 1660 درج کیا ہے جو صحیح نہیں ہے2؎ نسخہ’الف‘ اور ’ب‘ کے درمیان سنہ تصنیف کا فرق دو سال ہے۔ 1081ھ میں سلطان عبداللہ قطب شاہ زندہ تھا اور 1083ھ میں اس کی موت واقع ہوچکی تھی۔ راقم کا خیال ہے کہ طبعی نے یہ مثنوی 1081ھ میں مکمل کی اور ابوالحسن تاناشاہ کی تخت نشینی کے بعد 1083ھ/ 1672 میں اس میں مدح کے اشعار کا اضافہ کردیا۔ ڈاکٹر محی الدین قادری 3؎زور ، محمد اکبر الدین صدیقی4؎ اور ڈاکٹر جمیل جالبی5؎ اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ہمنوا ہیں۔ راقم بھی ان صاحبانِ نظر کا معترف ہے۔
اس ضمن میں ڈاکٹر جمیل جالبی کا یہ کہنا کہ ’’شاہ راجو کی پیشن گوئی کے پیش نظر طبعی کا قبل از وقت مثنوی کا لکھ6؎ لینا بعیدا ز قیاس معلوم ہوتا ہے۔
بہرکیف ابوالحسن تاناشاہ کی تخت نشینی 1083ھ/ 1672 کے وقت ’بہرام و گل اندام‘ لکھی جاچکی تھی۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نظر نہیں آتی۔
تعداد اشعار: ’مثنوی بہرام و گل اندام‘ کے زیرنظر مخطوطات میںاشعار کی تعداد میںا ختلاف ہے۔ مخطوطہ (الف) لندن میں مثنوی کے اشعار کی تعداد 1340 اور مخطوطہ ’ب‘ حیدرآباد میںا شعار کی تعداد 1330 بتائی گئی ہے ؎
.1 مخطوطہ الف:
گنا بیٹ بیتاں کوں میں رنگ جو دل

(لندن)
ہزار اور اہے تین سو پو چہل
(1340)
.2 مخطوطہ ب:
کیا میں یو بیتاں نوا کر جو سیس

(آصفیہ حیدرآباد)
ہزار اور اہے تین سو پر تیس
(1330)
3 مخطوطہ الف (لندن) میں دستیاب شدہ اشعار کی تعداد صرف 1313ہے اور اس طرح مخطوطہ ’ب‘ (حیدرآباد) میں صرف 1289 اشعار منقول ہیں۔
4 مخطوطہ ’الف‘ (لندن) میں اصل تعداد اشعار سے 27 اشعار کم ہیں اور اس طرح مخطوطہ ’ب‘ میں صحیح تعداد اشعار سے 52 اشعار کم ہیں۔
5 مخطوطہ ’الف‘ (لندن) میں کچھ اشعار ایسے ہیں جن کا وجود مخطوطہ ’ب‘ (حیدرآباد) میں نہیں ہے۔ مخطوطہ ’ب‘ (حیدرآباد) کی بھی یہی حالت ہے۔
6 دونوں مخطوطات کے تصحیح متن کے بعد مثنوی کے کل اشعار کی تعداد 1337 ہوگئی ہے۔ جس سے مخطوطہ ’ الف‘ لندن میں ظاہر کی گئی تعداد (1340) صحیح معلوم ہوتی ہے۔
7 راقم کورتن پینڈو روی صاحب کی کتاب ’ ہندی کے مسلمان شعر ا‘7؎ میں اس مثنوی کے مزید دو8؎ اشعار دستیاب ہوتے ہیں۔ جن کا مثنوی کے مرتبہ متن نمبر شمار 1336 اور 1337 ہے۔ افسوس ہے کہ رتن پنڈوروی صاحب نے ان کے ماخذ کی طرف کوئی نشاندہی نہیں کی ورنہ مثنوی کے تیسرے خطی نسخے کا سراغ لگ جاتا۔
8 مثنوی کے مرتبہ متن میں صرف ایک شعر کی کمی رہ گئی ہے۔ فی الوقت مثنوی کے مرتبہ متن کی تعداد 1339 ہے۔
9 ڈاکٹر محی الدین قادری زور (مرحوم) نے تاریخ ادب اردو میں کسی تسامح کے باعث مثنوی بہرام و گل اندام از طبعی کے اشعار کی تعداد2700 لکھ دی ہے جو یقینا کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
10 مثنوی بہرام و گل اندام از طبعی میں سات اشعار ملا اسد اللہ وجہی کی قطب مشتری سے ماخوذ ہیں۔ مثنوی کا اصل متن 1332 اشعار پر محیط ہے۔
طبعی کے نظریات
زبان و بیان سے متعلق طبعی کے نظریات نہایت واضح اور صاف ہیں۔ وہ کلام میں ’سلاست ‘ زبان میں ’فصاحت‘ بیان میں ’ بلاغت‘ اور خیالات میں ’ملاحت‘ کا قائل ہے۔ دراصل ایک قادر الکلام شاعر کا ان خصوصیات سے مزین ہونا لازمی ہے۔ طبعی اللہ تبارک تعالیٰ سے اپنے کلام کو ان جملہ صفات سے مزین ہونے اور زینت بخشے کی استدعا کرتا ہے۔ نیک نیتی انسان کے فعل کو مقبول بنا دیتی ہے۔ لہٰذا طبعی کی مثنوی کا ان خصوصیات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ اس کی دعا ئیں بارگاہ الٰہی میں کس حد تک باریاب ہوئی ہیں۔
طبعی کے طبع زاد اشعار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس کی دعا بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی ہے۔ ان اشعار کو ہم ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ زبان وبیان سے متعلق طبعی کا مندرجہ ذیل شعر کس قدر جامع اور مکمل ہے۔ ملاحظہ کریں ؎
زباں آشنا کر سلاست سیتی
فصاحت، بلاغت، ملاحت سیتی
طبعی کا تنقیدی نظریہ بھی انفرادی نوعیت کا ہے۔ وہ تنقید برائے تنقید کا قائل نہیں ہے۔ اس کے نزدیک ناقد کا باہنر ہو نالازمی ہے۔ وہ ہر کس و ناکس کی حرف گیری کو معیوب سمجھتا ہے۔ ناقد کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنقید کے اصولوں پر حاوی ہو۔ ایسے شخص (ناقد ) کی تنقید معیاری اور جامع ہوگی۔ ورنہ بے ہنر، بلندپایہ نکات میں خواہ مخواہ عیب جوئی کرے گا۔ چنانچہ بارگاہ الٰہی میں دستِ دعا دراز کرتے ہوئے طبعی کہتا ہے ؎
الٰہی تو میرے اوپر رحم کر
کہ تا نا چو نے عیب ہر بے مہر
طبعی عیب جو، چور اورغماز سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے ؎
اوّل یک غلط خواں بد آواز تہی
دو جا عیب مجو ، چور ، غماز تہی


حب وطن
طبعی کے چند اشعار اخلاقی شاعری کی بہترین مثالیں ہیں۔ وطن کی موت سے ہر شخص کادل معمور اور سر شار ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ شخص طبعی کے نزدیک مردے سے بھی بدتر ہے۔ چنانچہ حب وطن سے متعلق طبعی کے جذبات ملاحظہ کیجیے ؎
جکوئی یاد کرتا نہیں اپنا وطن
او مردا ہے بیرن سو اس کا کفن
اگر کوئی غربت میں شاہی کرے
اگر مال ہور ملک لاکھاں دھرے
وطن سب کوں دنیا میں پیار اہے
سفر ہے سو جوں باد باراں اہے
انہی خیالات کو امین9؎ سبزواری نے یوں ادا کیا ہے ؎
زنی گر بخت بر غربت بر افلاک
ہماں خاکِ وطن جوید دلِ پاک
ہر آن جانی کہ جویائی وطن نیست
یقین می دان کہ آگاہ از بدن نیست
طبعی کے فلسفہ کے مطابق دوست اور دوستی نہایت نازک رشتے ہیں۔ دوست کے انتخاب میں چھان بین ضروری ہے۔ چونکہ ہر شخص اس مرتبہ کے لائق نہیں ہوتا۔ لہٰذا طبعی نے ناصحانہ انداز میں کہا ہے کہ ہرکسی کو اپنی مجالس میں راہ نہ دو۔ خاص طور سے جاہلوں کی دوستی سے پر ہیز کرو۔ چنانچہ طبعی محتاط ہو کر لکھتا ہے ؎
نگو دے توں مجلس میں ناکس کوں راہ
کہ سہل آدمی تے خدا دے پناہ
ہمیشہ توں مل بیٹ عاقل سیتے
توں اندیشہ کر مرد کامل سیتے
طبعی کی زبانی، بہرام کے باپ کے دیے ہوئے پند و نصائح ہماری رہبری اور بہتری کے لیے کارآمد ہیں۔ چنانچہ غور و فکر کے بعد یہی مشورے ہماری زندگی کو سنوارتے ہیں۔ اگر ہم ان سے ہٹ کر کوئی قدم آگے بڑھاتے ہیں تو متوقع نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔ ہمیں نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ طبعی عملی زندگی کے اس حصہ کی توضیح کرتے ہوئے مشورہ دیتا ہے کہ ؎
توں اندیشہ ہر کام میں بھوت کر
کہ اندیشہ ہے بھوت عالی گہر
امین سبزواری اور طبعی کی مثنویوں کا غائر مطالعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں شیخ سعدی شیرازی کی ’گلستاں‘ اور ’بوستاں‘ 10؎سے بے حد متاثر ہیں۔ طبعی نے سعدی کی تصانیف کا نہ صرف اپنی مثنوی میں حوالہ دیا ہے بلکہ وہ اپنی ساری داستان کو ’گلستاں‘ اور ’بوستاں‘ سے تشبیہ دیتا ہے ؎

حکایت سنو شوق تے دوستاں
کہ ہے یو گلستاں ہور بوستاں
ذیل میں طبعی کی مثنوی سے اخلاقی اور نظریاتی اشعار نقل کیے جارہے ہیں جن سے طبعی کے ذہن و مزاج کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؎
1
کر اندیشہ ہر کام میں بے حساب

کہ اندیشہ بن کام ہوتا خراب
2
نہنے آدمی تے توں ہرگز نہ مل

نہ ہنس کر کسے دیک کر کھل کھل
3
ہمیشہ ہنرمند سوں یار ہو

توں صورت تے جاہل کی بیزار ہو
4 ع
سخی دونوں عالم میں ہے رُو سفید
5 ع
ٹھنڈا کر غصہ کی تون آنچ کوں
گنہ خلق کا کوئی چھپاتا اہے
خدا کوں وہی شخص بھاتا اہے
طبعی اور ملا وجہی
سرقہ اور تو ارد سے متعلق ملا وجہی کے مندرجہ ذیل بیانات واضح اور صاف ہیں۔ ’قطب مشتری‘ (1018ھ) میں وجہی کے ان بیانات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
وجہی کے مطابق نئی بات کہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دوسروں کے مضامین اور انداز اختیار کرنے والا چور اور دغا باز ہے۔ بقول وجہی ؎
نوا دل تی لیانا ہے مشکل کنا
کہ آسان ہے دیک کر بولنا
قطب مشتری

ہنروند اس کوں کھیا جائے گا
جکوئی اپنے دل کی نوالیا ئے گا

فرق ہے اول ہور آخیر میں
تفاوت ہے نیر ہور شیر میں

ہنر د یک سکتا ہے اُستاد کا
فہم چور ہے آدمی زاد11؎ کا

سخن گو وہی ہے جس کی گفتار تھے
اْچھل کر پڑے آدمی ٹھار تھے12؎
قطب مشتری
نکو بول مضمون توں ہور کا
کہ کالا ہے دو جگ میں موں چور کا

جتا چوری کر چورا پے ساؤ ہوئے
دغا باز اچکّے کوں مانے نہ کوئے

چرا کر چر ایا نہ کئی چور کوئی
یو باتاں سمجھتے سو ہیں ہوا کوئی
قطب مشتری
وجہی کے مندرجہ بالا بیانات کی روشنی میں طبعی کی مثنوی کا جائزہ لیا جائے تو وجہی کا طبعی کے خواب میں آکر خوش حال ہونا اور اپنی جگہ پر اچھل پڑنا بے محل اور تعجب خیز امر ہے۔ ممکن ہے طبعی نے استہزا پیدا کرنے کے لیے اور غالباً قارئین کی توجہ حقیقت سے منعطف کرنے کی خاطر ایسا انداز اختیار کیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابوالحسن تاناشاہ سے وہ کسی صلہ کی توقع یا تمنا رکھتا ہو۔ جس کے باعث اس نے سچائی ظاہر نہ کی ہو اور قارئین کو گمراہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ راقم کے نزدیک طبعی کا غیر ذمہ دارانہ انداز سرقہ و توارد سے کم نہیں ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ مثل ’ملاں وجہی‘ کے مندرجہ ذیل اشعار کے مقطع میں تضمین کرکے طبعی نیہمارے شک و شبہ کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ مثل ملان وجہی علیہ الرحمہ ؎
کتا13؎ ہوں سنو کان دھر لوگ ہو
کہاوت منے بات ہو14؎ آئی سو
اگر شعر خوب15؎ کہہ کر جو لائے
تو خوباں کوں سن رشک البتہ آئے
یکس16؎ کوں سو یک دیک سکتے نہیں
یکس17؎ سوں یک مان رکتے نہیں
اگر کچھ18؎ کہے تو کدھر کا کد ھر
کہے تو کتے ہیں اسے ہیچ کر
اڑانے ملیں اس کوں چوں دھیر تہی
فضیحت کریں پالو لگ سیر تہی
اگر خوب جو بولے تو دوں اہے
اگر جو19؎ برا بولے تو یوں اہے
طبعی توں20؎ یو کام کر اختیار
کہ رہے21؎ تا قیامت ترا یاوہ گار
طبعی کی تضمین کے اغراض و مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اکبر الدین صدیقیرقمطراز ہیں کہ:
’’طبعی کو وجہی سے قرب زمانی حاصل ہے، اس لیے اس امر کا یقین ہے کہ طبعی نے وجہی کے جو اشعار اپنی مثنوی میں شریک کیے ہیں۔ وہ تبدیلی یا الحاق و آمیزش سے منزہ ہیں۔ وجہی نے مثنوی پہلے کہی اور بعد کو بادشاہ کے دربار میں پیش کرنے کا خیال ہوا تو اس کو ’ا تا قطب شاہ کی مدح‘ سے بدل دیا۔ اور ایک مدح کا اضافہ کر دیا:
برٹش میوزیم (لندن) کے نسخہ میں ’طبعی‘ لکھا ہے۔ اس کا کوئی محل نہیں اور پیش نظر نسخہ نسبتاً صحیح معلوم ہوتا ہے ۔‘‘ 22؎
راقم الحروف کو دکنی ادب کے اس جید عالم اور فقید العصر محقق سے قدرے اختلاف کی جسارت ہے۔ راقم کا ادعا ہے کہ طبعی نے ’ مثل ملاں و جہی‘ کے مقطع میں تضمین کی ہے اور اپنے حقیقی ومعنوی استاد کے پیرایہ بیان انداز اپنایا ہے۔
دراصل طبعی کی مثنوی، وجہی کی ’قطب مشتری‘ 1018ھ کے 65 سال بعد لکھی گئی۔ لہٰذا اسے قرب زمانی حاصل نہیں ہے، چنانچہ وجہی اور طبعی کے اشعار کا تقابلی مطالعہ خاطر خواہ نتیجہ فراہم نہیں کر سکتا۔ تقریباً نصف صدی سے زائد گذر جانے کے بعد زبان کا کینڈا بدل جاتا ہے۔ در اصل طبعی کی مثنوی کا تقابلی مطالعہ قرب زمانی کی مثنویوں امین و دولت کی بہرام و با نوئے حسن 1050ھ یا ابن نشاطی کی ’پھول بن‘ 1076ھ سے کیا جائے تو لسانی اتار چڑھاؤ اور طرز ادا کی تبدیلیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بقول جمیل جالبی:
’’ طبعی کی مثنوی کی ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ شعریت اور قصہ کے اتار چڑھاؤ سے اس میں مثنوی کا فن ترقی یافتہ شکل میں نظر آتا ہے۔‘‘ 23؎
خود طبعی اپنی ترقی یافتہ زبان پر نازاں ہے ؎
لگیا میں جو یو مثنوی بولنے 24؎
یو موتیاں نچھل25؎ ڈال یوں رولنے
طبعی اپنی مثنوی کو ڈھلے ہوئے چمکدار موتیوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ اس لیے کہ طبعی اپنی ترقی یافتہ زبان پر نازاں ہے۔ اس کی مثنوی میں ان جواہر کا اضافہ اس کے عمیق و غائر مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ اس نے محمد قلی قطب شاہ (متوفی 1020ھ) سے لے کر ابن نشاطی 1076ھ کے شعری و ادبی کارناموں کا غائر مطالعہ کیا تھا۔ اس نے ایک مدت تک اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو تجربہ اور مطالعہ کی گلخن میں تپایا تھا۔ اور جب یہ سو ناکندن بن گیا تو طبعی نے تخلیقی اضافوں کے ساتھ اس کو دکنی کے آزاد و جز دی ترجمہ کی شکل میں ڈھالا۔ طبعی کی اس جسارت میں اس کے تخیل کی بلند پروازی اور فطری شاعرانہ صلاحیت کو بڑا دخل ہے۔ بقول ڈاکٹر اکبر الدین صدیقی :
’’ طبعی نے رزم و بزم کے مضامین کے لیے زبان بھی موزوں و مناسب استعمال کی ہے۔‘‘26؎
طبعی نے طرز ادا کی سادگی، صحیح مرقع نگاری، منظر کشی اور جذبات نگاری کی تمام باریکیوں کا خیال رکھا ہے۔ لہٰذا بقول جمیل الدین جالبی :
’’اس مثنوی میں قدم قدم پر ایک اہتمام کا احساس ہوتا ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ طبعی دکنی مثنویوں کی روایت سے باخبر تھا۔‘‘27؎
طبعی کا تخلیقی شعور اور فن
یہ امر بدیہی ہے کہ مثنوی کا آغاز ایران میں ہوا۔ یہ انتہائی عروج کو اسی سرزمین میں پہنچی۔ مثنوی نظم کی وہ صنف ہے جس کے ہر بیت کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ یہ صنف عربی میں موجود نہ تھی۔ اس صنف سخن کا دامن نہایت وسیع ہے۔ ایک قافیہ کی پابندی نہ ہونے کے باعث اس میں طوالت کی گنجائش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی میں ساٹھ ہزار اشعار پرمشتمل ’شاہ نامۂ فردوسی‘ دستیاب ہے۔ مثنوی کے مخصوص سات اوزان ہیں۔ جن کا رشتہ ناطہ بھی عجم سے پیوستہ ہے۔
طبعی نے اپنے مزاج کے مطابق نہایت شگفتہ اور مترنم28؎ سحر کا انتخاب کیا۔ تاکہ اپنے قول کے مطابق سلاست، فصاحت، بلاغت اور ملاحت سے اپنی مثنوی کو دلکش اوربے مثال بنا سکے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے ؎
زباں آ
شناکر
سلاست
سیتی
فعولن
فعولن
فعولن
فعل
فصاحت
بلاغت
ملاحت
سیتی
فعولن
فعولن
فعولن
فعل
طبعی نے نظامی گنجوی کے ’سکندرنامہ‘ کی بحر ’بحر متقارب مثمن، مقصور یا محذوف استعمال کی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے نظامی کی ’ہفت پیکر‘ کی بحر کا تتبع بتلایا ہے۔ یہ موصوف کا اشتباہ ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی نے طبعی کی مثنوی کی فنی خوبیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
’’فنی اعتبار سے اس میں ایک تو ازن ناپ تول اور ہیئت کے طول و عرض کے تناسب کا احساس ہوتا ہے۔ قصہ میں تسلسل بھی ہے۔ اور ترتیب بھی۔ ان تمام چیزوں نے مل کر ادبی اور فنی اعتبار سے اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔‘‘29؎
ڈاکٹر جمیل جالبی کے مندرجہ بالا بیانات کا اطلاق طبعی کے ان اشعار پر موزوں معلوم ہوتا ہے جو طبعی کے ذہنی ایج کی پیدا وار ہیں۔ طبعی کے تخلیقی اشعار کی بنا پر اس کی مثنوی فنی اعتبار سے قدر و قیمت کی متقاضی ہے۔ ورنہ عموماً اس کے یہاں ’توازن‘ ناپ تول اور ہیئت کے طول و عرض کا تناسب مانگے کا اجالا ہے۔ یہ چیزیں اس کے ذہنی امیج کی پرداخت نہیں ہیں۔
وجہی کی ’قطب مشتری‘ 1018ھ/ 1609 سے لے کر ابن نشاطی کی ’ پھولبن‘ 1076ھ/ 1665 تک مثنوی کا ڈھانچہ فارسی ہی کے متعین کردہ اصولوں کا پابند رہا ہے۔ لہٰذا طبعی نے مثنوی ’ بہرام و گل اندام‘ کی اساس، امین کی فارسی مثنوی کے علاوہ ملا وجہی کی ’قطب مشتری‘ کی نہج پر رکھی۔ طبعی کی مثنوی کے ابتدائی ابواب ’قطب مشتری‘ سے مشابہ ہیں۔ اس کے بعد کے عنوانات اور قصہ امین 31؎ سبزواری 1063ھ/ 1652 کی فارسی مثنوی پر مبنی ہے۔
طبعی کی مثنوی کی ابتدائی ترتیب ملاحظہ فرمائیے:
.1 حمد (عنوان ندارد)
.2 مناجات (اسی میں وجہ تصنیف کا اظہار ہے۔ یہ دستور سے انحراف ہے)
.3 نعت
.4 منقبت
.5 قصیدہ- در مدح شاہ راجو حسینی۔
.6 (قصیدہ) در مدح پادشاہ سلطان ابوالحسن تاناشاہ۔
.7 آغاز داستان (اس میں توصیف سخن ہے) یہ توصیف، ابتدائیہ کا کام دیتی ہے۔
.8 مثل ملاں وجہی (ملا وجہی کی قطب مشتری سے سات اشعار)
.9 حکایت بہرام و گل اندام (اس میں گل اندام کا سراپا ہے)
.10 چرخیات: (اس کے ابتدائی اشعار میں علم ہیئت کی اصطلاحوں کی طرف درپردہ اشارہ ہے۔ یہاں پر نصرتی کا تتبع ہے۔32؎
طبعی کی جدت طراز طبیعت نے مثنوی کے اصولوں اور ترتیب میں بھی رد و بدل کردیا ہے۔ اس نے ’چرخیات‘ کا موضوع دکنی مثنوی میں بڑی خوبی سے پیش کیا ہے‘‘ ’ستاریاں کی بارہ بکریاں‘ (بارہ برجوں) کی طرف بلیغ اشارہ کرکے علم ہیئت و نجوم کی مندرجہ دیل اصطلاحات33؎ کی طرف ہماری توجہ منعطف کی ہے۔
طبعی کا اشارہ ملاحظہ کیجیے ؎
سورج باگ یک دیس جاگے تے ہل
گگن کے گوئے تے جو آیا نکل
ستاریاں کے بکریاں بارا باٹ کر
یودھنگر گیا چاند کا نھاٹ کر
(شہ روم اس دیس دل شاد تھا
یودنیاں کے فکراں تے آزاد تھا)
نوٹ: برج اسد: (آسمان کا وہ حصہ جس میں چند ستارے مل کر شیر کی شکل بناتے ہیں۔ طبعی کا اشارہ اس طرف ہے)۔
مذکورہ بالا نکات کے علاوہ طبعی کی مثنوی میں جابجا تخلیقی اور اپجی عناصر و و عوامل متشرح ہوتے ہیں۔ طبعی کی باصلاحیت طبیعت نے اسے بارہا نئی روشوں پر چلایا۔ اس نے کوشش کی کہ اس راہ پر نہ چلے جس پر دوسرے چل چکے ہیں۔ اس کا اپنا تخلص (طبعی) بھی اسی احساس کی غمازی کرتا ہے۔ طبعی جابجا اپنی موزونیٔ طبع اور شاعری کے فطری رجحان کے تمام جوہر ظاہر کرتا ہے۔
جب بھی طبعی کے ذہن میں جدت پسند عناصر کلبلانے لگتے ہیں نئی مگر اچھوتی بول چال کی اصطلاحات کا آتش فشاں اس کے قلم سے پھوٹ پڑنے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ تب وہ بے تکلفی سے سنسکرت، گجراتی اور مراٹھی زبان کے الفاظ استعمال کرتا چلا جاتا ہے۔ اس نے نت نئے الفاظ اور ترکیبیں تراشیں۔ ترجمہ کے خاطر لفظی ہیرپھیر کیا۔ محاوروں اور کہاورتوں کو بے دریغ استعمال کیا۔ بہرصورت اس نے مثنوی کے شعری آہنگ کو برقرار رکھا اور فن کا احترام کیا۔
طبعی کی مثنوی میں ترجمہ شدہ اشعار کے علاوہ بیشتر ایسے اشعار پائے جاتے ہیں جو اس کی شاعرانہ طبیعت کی دین ہیں۔ یہ اشعار سبک رواں اور پرکیف ہیں۔ لہٰذا ہم کو طبعی کی استادی اور فن کاری کے جوہر تسلیم کرنے پڑتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:
’’بہرام و گل اندام، اس دور کی بہترین مثنوی ہے جس نے فنی سطح کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کی نئی روایت کی طرف آگے قد بڑھایا ہے۔‘‘34؎
ذیل میں ’گل اندام‘ کا سراپا پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں صرف ایک بات پر اکتفا کرنا ہوگا کہ جن افکار کی امین سبزواری کا ’اشہب قلم ترجمانی نہ کرسکا‘ طبعی نے نہایت کامیاابی کے ساتھ ان کو شعری جامہ پہنایا ہے اور یہی اس کی فنی پختگی کا انتہائی کمال ہے۔
ذیل کے اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
گگن پر او صورت کے ہے آج سور
اِسے دیک کر، چاند ہوتا چکور
او زلفاں دلاں کے ہنڈولے اہیں
غلط نیں کیا دو سنپولے اہیں
بہوان باگ نکہہ ہوا نکہیاں ہرن
کہ او موہنی ہے عجب من ہرن
او گالاں کی سرخی سو لالے میں نیں
او بالاں کی خوشبو سو بالے میں نیں
دِسے پھول دو سیونتی کی دوکان
چنپے کی کلی ناک ہے درمیان
اَدَھر دو میہٹی جونکہ35؎ جب او بنات
پچھرتا ہے اس میں تے آبِ حیات
جھمکتی ہیں جیوں بجلیاں ہو دسِن
کہ جیوں پھول جھڑتے ہیں مک تے بچن
عجائب او چاہِ زنخداں ہے
کہ غرق اس منے دین و ایمان ہے
او گردن سو جیوں صاف شمشاد سی
جکوئی اس کوں دیکھے سو روئے ہنسی
او جوبن سوچولی کے دو ہات میں
جو امریت پھل چھپ رہے پات میں
دے پان36؎ نازوک پھل ڈال تے
کمر اس کی باریک ہے بال تے
اتھا پیٹ جوں آرسی ناد صاف
کہوں کیا جھمکتا اتھا جیوں شفاف
او بونبی سو مد کا پیالا دِسے
کہ خوش رنگ جوں پھول لالا دِسے
کروں کیا میں تعریف اندام کا
گوہرتے (ہے) نادِر ’کل‘ اندام کا
او ڈھکرا روپے کا سوڈونگر ہے جیوں
سفید اور گھٹا سنگ مرمر ہے جیوں
دو کیلی کے کابی37؎ سو دو ران ہے
کہ عشاق اس پر تے قربان ہے
چلے باٹ تو پنڈریاں یوں ہلیں
کہ بن نیرتے مین38؎ جوں تلملے
کنول نے بی نازک ہے اس کے چرن
اسے عاشقاں دیک کرتے شرن39؎
طبعی کی غزل گوئی
طبعی کی مثنوی ’بہرام و گل اندام‘ میں کل چار غزلیں دستیاب ہوتی ہیں۔ طبعی کی پہلی غزل دعائیہ ہے۔ امین سبزواری کی فارسی مثنوی میں اسی نہج کی پہلی غزل موجود ہے۔ طبعی نے امین کی پیروی میں یہ غزل ترتیب دی ہے۔ البتہ اس میں جزوی اختلافات موجود ہیں۔ ان غزلوں کے مطلعے بہ اعتبار معنی ایک دوسرے سے ٹکرا گئے ہیں۔
ملاحظہ کیجیے کہ ؎
امین :
بدولت باد جام بادہ ات نوش

عروس مملکت دایم در آغوش
طبعی:
ترے ہات میں شاہ جم جاہ اُچھو

ہمیشہ بغل میں دلا ٓرام اُچھو
مندرجہ بالا اشعار میں امین سبزواری نے عروس مملکت کو ہمیشہ کے لیے آغوش میں رکھنے کا مضمون باندھا ہے۔ طبعی نے عروس مملکت کی بجائے دل آرام کو جگہ دی ہے۔
اسی غزل میں طبعی کا ایک دعائیہ شعر امین کے مفہوم سے بہتر اور صاف ہے جو اس کے شاعرانہ کمال پر دال ہے۔ ملاحظہ کیجیے ؎
امین سبزواری
کلاہِ سروری پیوستہ برفرق

قبائے سلطنت ہموارہ بردوش
طبعی
اچھے لگ گگن ہور زمین برقرار

ترے پگ پو قربان بہرام اچھو
طبعی کی غزلیں شعریت سے لبریز ہیں۔ اس کے اشعار اس امر کی غمازی کرتے ہیں ہیں کہ وہ بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے۔ اس کا صحیح رجحان غزل گوئی کی طرف ہے- یہی وجہ ہے کہ اس کی مثنوی میں کئی اشعارا اور مصرعے نہایت رواں دواں اور بولتے ہوئے ہیں۔ ان میں تغزل کا بھرپور رنگ و آہنگ موجود ہے۔ غزل کے درج ذیل شعر میں مبالغہ کی انوکھی شان ہے۔ ملاحظہ کیجیے ؎
چندر سور کے جام تے آسماں
تجے غسل کرنے کوں حمام اچھو
طبعی نے دوسری غزل بھی بہرام کی زبانی کہلوائی ہے، اس غزل میں جزوی ترجمہ کی جھلکیاں موجود ہیں۔ تقابلی مطالعہ کی غرض سے دونوں غزلیں پیش کی جارہی ہیں تاکہ طبعی کی فنکاری کا اندازہ ہو سکے۔ ملاحظہ کیجیے ؎
امین سبزواری
درونِ وادی خونخوار رفتم
بتن زار و بدل افگار رفتم

رخی چوں کہر با گردد دریں غم
دو چشمی پر دُر شہوار رفتم

فگندہ تاج و تختِ شہریاری
برای طلعتِ دیدار رفتم

بگوای باد باکشور کہ در غم
بچین از بہرِ آن دلدار رفتم

طبعی
مرے شہرتے یار خاطر گیا
برہمن ہو زُنار خاطر گیا

پیالے تے دل کا لہو گھوٹ کر
میں او یار خونخوار خاطر گیا

یو دریا منے غم کے اے دوستاں
میں اس درّ شہوار خاطر گیا

مرے باپ کوں بول اے بادتوں
کہ بہرام دیدار خاطر گیا
طبعی کا مطلع اور امین سبزواری کا تیسرا شعر ہم مضمون ہیں۔ لیکن دونوں کے شعری آہنگ میں فرق ہے۔ طبعی کی تشبیہات سے ہندوستانی عناصر کی جھلکیاں نمودار ہو رہی ہیں جس سے شعر کا حسن دو چند ہو گیا ہے۔ دونوں شاعروں کے آخری اشعار ایک ہی مضمون کو اداکر رہے ہیں۔ البتہ طبعی نے ’ دیدار‘ کا لفظ استعمال کر کے شعر کو بالا تر کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے بلا کی شعریت اور ایک والہانہ انداز پیدا ہوگیا ہے۔
یہی وہ تفاوت ہے جو طبعی کو ایک منفرد غزل گو کی حیثیت بخشتا ہے۔ افسوس ہے کہ طبعی کا دیوان دستیاب نہیں ہے۔ ورنہ اس کی شاعرانہ عظمت کے جو ہر مزید آب و تاب کے ساتھ ابھر کر ہمارے سامنے آتے۔ اور ہماری شاعری کا بہترین اثاثہ ثابت ہوتے۔ طبعی کے تخلیقی عمل اور زبان و بیان کے نئے موڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے جمیل جالبی رقمطراز ہیں کہ:
’’ادب کی طویل روایت اور شمال کے گہرے اثرات کی وجہ سے زبان وبیان میں صفائی اور روانی پیدا ہوگئی ہے۔ اور زبان وبیان کے نئے خد و خال صاف نظر آر ہے ہیں۔ فارسی تراکیب اور بندشوں میں ویسے ہی تیور نظر آنے لگے ہیں۔ جو آگے چل کر ریختہ کا معیار بنتے ہیں۔‘‘ 40؎
حواشی
1 تاریخ اردو ادب، جلد اوّل، جمیل جالبی، ص 508
2 تاریخ اردو ادب از زور، ص 39
3 اردو شہ پارے از زور، ص 110-113
4 بجھتے چراغ: محمد اکبرالدین صدیقی، ص 16
5 تاریخ ادب اردو : جمیل جالبی، جلد اوّل، ص 507-510
6 ایضاً،
7 ہندی کے مسلمان شعرا: رتن پنڈوروی، 1982،ص 174
8 تاریخ ادب اردو: ڈاکٹر محی الدین قادری زور، 1944، ص 39
9 امین الدین محمد متخلص بہ ’امین‘ سنجق سبز وار کا باشندہ تھا۔ اس نے اپنے وطن سے دور شہر فارس کے حاکم شمس الدین محمد کی مدح سرائی کی ہے۔ اس کی مثنوی بہرام و گلند ام کے چند نسخے دستیاب ہیں، بحوالہ فہرست مشترک پاکستان : نمبر 1794۔ اس مثنوی کا ایک مخطوطہ راقم کی ملکیت ہے۔
10 مثنوی ’بہرام و گل اندام‘: امین سبزواری، مملوکہ، راقم، ص 95
11 قطب مشتری از وجہی، ص 13
12 مثنوی ’بہرام و گل اندام‘ : طبعی، ’سنیا سو پڑیا خواب تہی میں اچھل‘
13 قطب مشتری : ملا وجہی، مرتبہ: مولوی عبدالحق، ص 15
14 جو
15 کوئی کہہ نوا کر
16 اپس میں اپے دیک
17 یکس کا
18 اگر کوچ کا کوچ
19 دگر جو
20 اتاقطب کی مدح کر اختیار
21 جو رہے یو قیامت تلک یادگار
22 بجھتے چراغ: ڈاکٹر اکبرالدین صدیقی، نومبر 1975، حیدرآباد، ص 118
23 تاریخ اردو ادب (جلد اوّل): جمیل جالبی، لاہور 1984، ص 509
24 مثنوی ’بہرام و گل اندام‘: طبعی، مرتبہ: راقم ’آغاز داستان سے‘
25 نسخۂ ’ب‘ یو موتیاں نچھل گیاں کیاں رولنے (واضح مفہوم)
26 بجھتے چراغ: اکبرالدین صدیقی، ص 123
27 تاریخ اردو ادب (جلد اوّل): جمیل جالبی، لاہور 1984، ص 510
28 بحر متقارب مثمن محذوف طبعی نے بعض مقامات پر بحر متقارب مثمن سالم کا بھی استعمال کیا ہے۔
29 ’بہرام و گل اندام‘ کی بحر بھی وہی ہے جو نظامی نے ہفت پیکر میں استعمال کی ہے۔ تاریخ ادب اردو جمیل جالبی، ص 510۔ نظامی کی ہفت پیکر کی بحر بحر خفیف مسدس مجنون مقطوع فاعلاتن مفاعلن، فعل ہے۔
30 تاریخ ادب اردو، جلد اوّل، ڈاکٹر جمیل جالبی، ص 510
31 ڈاکٹر محی الدین قادری زور صاحب کا یہ بیان ہے کہ’ ’مثنوی بہرام و گل اندام‘ نظامی گنجوی کی مثنوی ’ہفت پیکر‘ پر مبنی ہے‘‘ (تاریخ ادبِ اردو از زور، ص 39) درست نہیں ہے۔
32 نصرتی مرتبہ عبدالحق، اردو، اورنگ آباد
33 حمل (1)، جوزا (3)، اسد (3)، میزان (4)، قوس (5)، دلو (6)، ثور (7)، سرطان (8)، سنبلہ (9)، عقرب (10)، جدیٰ (11)، حوت (12)
34 تاریخ ادب اردو، جلد اوّل: جمیل جالبی، ص 510
35 خون چوسنے والا آبی کیڑا (Leech)
36 پان: پانو
37 کابے: کیلی کے درخت کے سڈول تنے
38 مچھلی
39 پابوسی
40 تاریخ ادب اردو (جلد اوّل): جمیل جالبی، ص511

ماخذ: مثنوی بہرام و گل اندام، مصنف: طبعی گولکنڈوی، مرتبہ: ڈاکٹر نورالسعید اختر، سنہ اشاعت: 1999، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

محمد یحیی تنہا اور سیر ا لمصنفین، مضمون نگار:ابراہیم افسر

تلخیص: میرٹھ میں تحقیقی کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں محمد یحییٰ کا شمار صفِ اوّل کے قلم کاروں میں ہوتا ہے۔محمد یحییٰ تنہا نے اُردو نثر نگاروں کا پہلا

عصمت کی ڈراما نگاری ،مضمون نگار: جمیل اختر

تلخیصعصمت چغتائی اپنے عہد کی منفرد افسا نہ نگار رہی ہیں۔وہ ایک اچھی افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ، ناول نگار، خاکہ نگار، ڈراما نگار، مضمون نگار، فلم نگار، ڈائیلاگ

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر