شمولیاتی تعلیم کی روشن دنیا،مضمون نگار: مظفر اسلام

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025

تعلیم انسانی ترقی اور سماجی انصاف کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ ایک مہذب، روشن خیال اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک فرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف علمی مہارتیں ہی نہیں سیکھتا بلکہ سوچنے، مسئلہ حل کرنے، اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی صلاحیت بھی حاصل کرتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسان اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور اخلاقی اقدار کو سمجھتا ہے اور سماجی زندگی میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنتا ہے۔ تاہم، اگر تعلیم سب کے لیے یکساں مواقع فراہم نہ کرے تو اس کی افادیت اور اثر کم ہو جاتا ہے، اور معاشرتی نابرابری کے مسائل مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں ’شمولیاتی تعلیم‘ (Inclusive Education) کا تصور ابھرا، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ کوئی بھی بچہ سماجی، معاشی، لسانی یا جسمانی فرق کی بنیاد پر تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ شمولیاتی تعلیم کا مقصد ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جس میں تمام بچے اپنی انفرادی صلاحیتوں اور ضروریات کے مطابق سیکھیں اور ترقی کریں۔ یہ تعلیم صرف معذور یا پسماندہ طلبہ کو مرکزی دھارے میں شامل نہیں کرتی بلکہ ایک ایسا سماجی ڈھانچہ بھی تشکیل دیتی ہے جو مساوات، رواداری، احترام، اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم ہو۔
علاوہ ازیں، آج کے دور میں شمولیاتی تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ دنیا تیزی سے گلوبلائزیشن، لسانی و ثقافتی تنوع اور معاشرتی پیچیدگیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں، اور پس منظر کے بچے جب ایک ہی کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں تو وہ نہ صرف علمی اور ذہنی ترقی کرتے ہیں بلکہ زندگی کے لیے درکار اعلیٰ انسانی اقدار، جیسے برداشت، رواداری، احترام، اور انسان دوستی، بھی سیکھتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے بچے معاشرتی ہمدردی اور ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، جو ایک مثبت اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ اس طرح شمولیاتی تعلیم محض ایک تعلیمی پالیسی نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی وژن اور مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہ ہر بچے کو اپنی منفرد صلاحیت کے مطابق روشنی بکھیرنے کا مساوی موقع فراہم کرتی ہے، اور ایسے معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے جہاں تعلیم سب کے لیے ہے اور ہر فرد اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھ سکتا ہے۔ شمولیاتی تعلیم نہ صرف تعلیمی ترقی بلکہ انسانی وقار، مساوات، اور سماجی انصاف کے فروغ کا بھی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
شمولیاتی تعلیم کی اہمیت
شمولیاتی تعلیم فرد، ادارے اور معاشرے تینوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ صرف تعلیمی مواقع فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور مساوات کے خواب کو عملی شکل دیتی ہے۔ ذیل میں اس کی چند نمایاں خوبیاں پیش کی جا رہی ہیں:
تعلیم کا حق سب کے لیے: شمولیاتی تعلیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی بچہ جسمانی معذوری، ذہنی فرق، معاشی پسماندگی یا لسانی تنوع کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ ہو۔ یہ مساوات کی بنیاد پر سب کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سماجی ہم آہنگی اور رواداری: مختلف پس منظر کے بچے جب ایک ہی کلاس روم میں پڑھتے ہیں تو وہ برداشت، بھائی چارہ اور تعاون جیسے اوصاف سیکھتے ہیں۔ اس سے معاشرہ زیادہ پرامن اور ہم آہنگ بنتا ہے۔
اعتماد اور خود انحصاری: شمولیاتی ماحول طلبہ میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ ہر بچہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھا کر یہ احساس کرتا ہے کہ وہ معاشرے کا ایک باوقار اور فعال رکن ہے۔
تعلیمی معیار میں بہتری: چونکہ شمولیاتی تعلیم میں تدریسی طریقوں کو متنوع اور لچکدار بنایا جاتا ہے، اساتذہ زیادہ تخلیقی انداز میں پڑھاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
پائیدار ترقی کی ضمانت: شمولیاتی تعلیم عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کا بھی حصہ ہے۔ یہ صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری ہے جو معاشرے کو زیادہ انصاف پسند اور ترقی یافتہ بناتی ہے۔
شمولیاتی تعلیم محض ایک اضافی یا غیر ضروری پہلو نہیں ہے جو کبھی کبھار اسکولوں میں شامل کر دی جاتی ہے، بلکہ یہ تعلیمی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تعلیمی ادارے حقیقی معنوں میں مؤثر اور معیاری تعلیم فراہم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں شمولیاتی تعلیم کو اپنی تدریسی حکمت عملیوں، نصاب، اور پالیسیوں کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ شمولیاتی تعلیم تعلیمی بہتری اور معیار کے لیے لازمی ہے۔ جب ہر بچے کو اس کی انفرادی ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تو نہ صرف طلبہ کی علمی ترقی ہوتی ہے بلکہ اساتذہ کی تدریسی مہارت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس طرح تعلیمی ادارے متوازن، تخلیقی اور باہمی تعاون پر مبنی ماحول فراہم کر پاتے ہیں، جو تعلیمی نتائج اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ تعلیم کا ایک حاشیہ یا ثانوی موضوع نہیں بلکہ ہر تعلیمی عمل کا مرکزی اور لازمی جزو ہے، جو فرد، ادارے اور معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
شمولیاتی تعلیم کے چیلنجز
اگرچہ شمولیاتی تعلیم ایک روشن اور انسان دوست تصور ہے، مگر اسے عملی جامہ پہنانا آسان نہیں۔ مختلف سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں اس کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ ذیل میں اس کے نمایاں چیلنجز درج ہیں:
وسائل اور مالی معاونت کی کمی: بہت سے اسکولوں میں بنیادی سہولیات ہی ناکافی ہیں۔ معذور طلبہ کے لیے خصوصی آلات، ریمپ، یا معاون تدریسی مواد مہیا کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کمی کی وجہ سے شمولیاتی تعلیم کا تصور محدود ہو جاتا ہے۔
اساتذہ کی تربیت کا فقدان: زیادہ تر اساتذہ روایتی تدریس کے عادی ہیں۔ شمولیاتی ماحول میں انھیں خصوصی تدریسی مہارتیں درکار ہوتی ہیں، جیسے سیکھنے کے مختلف انداز کو سمجھنا اور متنوع تدریسی حکمتِ عملیاں اپنانا۔ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس نظام کو صحیح طور پر نافذ نہیں کر پاتے۔
نصاب اور تدریسی طریقوں میں سختی: ہمارے تعلیمی نصاب اور امتحانی نظام میں لچک کم ہے۔ ایک ہی پیمانے پر سب کی کارکردگی ناپی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مختلف صلاحیتوں والے طلبہ کو مشکلات پیش آتی ہیں۔
سماجی رویے اور والدین کی آگاہی کی کمی: بعض اوقات والدین یا کمیونٹی کے لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ مختلف صلاحیتوں والے بچوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا کتنا ضروری ہے۔ اس رویے کی وجہ سے بھی شمولیاتی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
پالیسی اور عملدرآمد میں فرق: اگرچہ حکومتیں شمولیاتی تعلیم کی پالیسی بناتی ہیں، لیکن عملی سطح پر اسکولوں میں اس پر مؤثر طریقے سے عمل نہیں ہو پاتا۔ پالیسی اور حقیقت کے اس خلا کو پُر کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔
شمولیاتی تعلیم کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ اسے محض نظریاتی سطح پر نہیں بلکہ عملی طور پر مؤثر بنایا جائے۔ زیادہ تر ممالک اور ادارے شمولیاتی تعلیم کے لیے پالیسی بناتے ہیں، مگر حقیقی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ پالیسیاں کلاس روم کی حقیقت میں کس حد تک نافذ ہو رہی ہیں۔ اسکولوں میں استاد، نصاب، تدریسی وسائل اور تعلیمی ماحول اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق سیکھ سکے۔ اگر پالیسی کو عملی شکل نہ دی جائے تو شمولیاتی تعلیم کے تمام فوائد حاصل نہیں ہوسکتے، اور وہ صرف ایک نظریے یا ضابطے تک محدود ہوجاتی ہے۔ اس لیے اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ہر کلاس روم میں یہ اصول حقیقتاً اپنائے جائیں اور ہر طالب علم کو حقیقی معنوں میں شامل کیا جائے۔
شمولیاتی تعلیم کے حل اور تجاویز
شمولیاتی تعلیم کے چیلنجز کے باوجود، مؤثر حکمت عملی اپنانے سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں چند اہم حل اور تجاویز پیش کیے جا رہے ہیں:
وسائل کی فراہمی اور مالی معاونت: اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی ضروری ہے۔ معذور طلبہ کے لیے ریمپ، خصوصی تدریسی مواد، اور جدید تعلیمی آلات فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ سب طلبہ یکساں طور پر سیکھ سکیں۔
اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی: اساتذہ کو شمولیاتی تعلیم کے لیے خصوصی تربیت دی جائے۔ انھیں مختلف سیکھنے کے انداز، تدریسی حکمت عملی، اور کلاس روم مینجمنٹ کے جدید طریقے سکھائے جائیں تاکہ وہ ہر بچے کو اس کی ضرورت کے مطابق پڑھا سکیں۔
نصاب میں لچک اور متنوع تدریسی طریقے: نصاب کو زیادہ لچکدار بنایا جائے تاکہ مختلف صلاحیتوں والے طلبہ اسے اپنی رفتار اور ضرورت کے مطابق سمجھ سکیں۔ تکنیکی مدد اور تخلیقی تدریسی طریقے اپنانا اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
والدین اور کمیونٹی کی آگاہی: والدین اور کمیونٹی کو شمولیاتی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ ورکشاپس، سمینارز، اور مقامی سطح پر مہمات کے ذریعے وہ بھی اس عمل کا حصہ بنیں اور مثبت رویہ اپنائیں۔
پالیسی کے مؤثر نفاذ کی یقین دہانی: حکومت اور تعلیمی ادارے پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے مؤثر نفاذ پر بھی توجہ دیں۔ اسکولوں میں شمولیاتی تعلیم کی نگرانی اور رہنمائی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ پالیسی عملی شکل اختیار کرے۔
شمولیاتی تعلیم کی کامیابی کا دارومدار محض اچھی نیت یا پالیسی بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے فروغ کے لیے تین بنیادی عناصر کی ہم آہنگی ضروری ہے: پالیسی، تدریسی عمل، اور کمیونٹی کی شمولیت۔ جب یہ تینوں پہلو ایک ساتھ مربوط ہو کر کام کرتے ہیں تو شمولیاتی تعلیم نہ صرف اسکولوں میں عملی طور پر نافذ ہوتی ہے بلکہ طلبہ کی علمی، سماجی اور جذباتی ترقی کو بھی یقینی بناتی ہے۔ ایک مضبوط پالیسی وہ رہنما اصول فراہم کرتی ہے جو تعلیمی اداروں کو واضح سمت دیتی ہے، جب کہ تدریسی عمل میں اس پالیسی کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری اساتذہ پر ہوتی ہے۔ اگر صرف پالیسی موجود ہو مگر کلاس روم میں اس پر عمل نہ کیا جائے، تو شمولیاتی تعلیم کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا (Florian, 2014) اسی کے ساتھ، کمیونٹی کی شمولیت بھی بے حد اہم ہے۔ والدین، مقامی رہنما، اور معاشرتی ادارے طلبہ کے سیکھنے کے ماحول کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کمیونٹی اس عمل میں شامل ہوتی ہے تو بچوں کے لیے تعلیمی مواقع اور معاونت میں اضافہ ہوتا ہے، اور معاشرتی رویے بھی شمولیاتی تعلیم کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح پالیسی، تدریسی عمل، اور کمیونٹی تعاون کے اشتراک سے ایک ایسا متوازن اور مؤثر نظام قائم ہوتا ہے جو ہر بچے کو مساوی مواقع فراہم کرتا ہے اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کو فروغ دیتا ہے(Sharma & Desai, 2019)۔ لہٰذا شمولیاتی تعلیم کے فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ تینوں عناصر ہم آہنگ اور مربوط انداز میں کام کریں، تبھی یہ تعلیمی نظام حقیقی معنوں میں سب کے لیے یکساں اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ یہ ہم آہنگی ہر اسکول، ہر کلاس روم اور ہر بچے کے لیے تعلیم کو روشن، مساوی اور پُراثر بناتی ہے۔ (Booth & Ainscow, 2011)
نتیجہ
شمولیاتی تعلیم صرف تعلیمی نظام نہیں بلکہ ایک سماجی وژن ہے، جو ہر بچے کو بغیر کسی امتیاز کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ تعلیم مساوات، رواداری اور باہمی احترام جیسے اقدار کو فروغ دیتی ہے، اور بچوں کو نہ صرف علمی بلکہ اخلاقی طور پر بھی تیار کرتی ہے۔ شمولیاتی تعلیم کا اصل مقصد ہر بچے کی صلاحیت کو اجاگر کرنا اور اسے معاشرتی ڈھانچے میں باوقار مقام دینا ہے۔ اگرچہ وسائل کی کمی، نصاب کی سختی، اساتذہ کی تربیت اور والدین کی محدود آگاہی جیسے چیلنجز موجود ہیں، لیکن مثبت حکمت عملی، کمیونٹی تعاون، اور حکومت کی مؤثر پالیسی نفاذ کے ذریعے یہ سب حل کیے جا سکتے ہیں۔ شمولیاتی تعلیم کے فروغ سے معاشرہ زیادہ ہم آہنگ، مہذب اور پرامن بنتا ہے۔ مزید برآں، شمولیاتی تعلیم عالمی ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ لہٰذا شمولیاتی تعلیم کو محض نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر اپنانا ضروری ہے۔ یہ تعلیم فرد، ادارے اور معاشرے تینوں کی ترقی کی ضامن ہے۔ شمولیاتی تعلیم کی راہ پر قدم رکھنے والے معاشرے واقعی ایک روشن، پرامن اور ترقی یافتہ دنیا کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Dr Mozaffar Islam
Assistant Professor (Education)
MANUU College of Teacher Education, Darbhanga-846001 (Bihar)
Email: mislam1@manuu.edu.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

امتزاجی تعلیم : عصرِ حاضر کی ایک ناگزیر ضرورت،مضمون نگار: محمد مہتاب عالم

اردودنیا،جنوری 2026: تعلیم کا نظام وقت اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہمیشہ ارتقا پذیر رہا ہے۔ اکیسویں صدی جسے ڈیجیٹل انقلاب کا دور کہا جاتا ہے، نے انسانی زندگی کے

بنیادی تعلیم

مضمون نگار: : ڈی ایس گورڈن، مترجم: خلیل الرحمن سیفی پریمی اردو دنیا،نومبر 2025   منصوبی طریقے کی قدرو قیمت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس میں بامقصد عمل

گروکل کا تعلیمی نظام اور جدید تعلیم ،مضمون نگار: آفتاب عالم

اردو دنیا،نومبر 2025 ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل