اردو دنیا،دسمبر 2025:
دریائے گنگاکے کنارے سناتن دھرم کے تین تیر تھ استھان— ہری دوار، رشی کیش اور کاشی یا بنارس ہیں۔ ان کے علاوہ الہ آباد (پریاگ راج) ایک اہم تیرتھ استھان ہے جو گنگا اور جمنا کے سنگم پر واقع ہے۔ ان چار شہروں میں بنارس کو تاریخی اہمیت اور قدامت حاصل ہے۔ اس کا سرکاری نام ’وارانسی ‘ ہے۔ ویسے یہ شہر بنارس اور وارانسی کے ساتھ ساتھ کاشی کے نام سے مشہور ہے۔ اسے سناتن دھرم کی طرح بودھ مت اور جین مت میں بھی بہت مقدس مانا جاتا ہے۔ وہاں ایک سو کے آس پاس مندر ہیں اور کم و بیش اسی تعداد میں مرد و زن کے لیے اشنان گھاٹ ہیں۔ ہندو دیومالا کے مطابق یہ شہر کرہ ارض کا مرکز ہے اور ہزاروں سال پہلے بھگوان شیو کے ذریعے بسایا گیا تھا۔ اس کا قدیم نام ’کاسی‘ ہے۔ دراصل ’کاسی‘، سنسکرت کے لفظ ’کاس‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’روشنی‘ یا ’چمک ‘ہیں۔ کثرت استعمال سے لفظ ’کاسی‘ کاشی بن گیا۔ وہاں کے دششوا میدھ گھاٹ پر شام کے وقت ہونے والی گنگا آرتی کی قدیم روایت ہے۔ اس رعایت سے کاشی کو ’روشنیوں کا شہر‘ (City of illumination) بھی کہاجاتا ہے۔
بنارس دریائے گنگا کے بائیں کنارے پر آباد ہے۔ شہر کے اتر میں ’ورونا‘ اور دکھن میں ’اسی‘ دو چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں جو گنگا سے نکلی ہیں۔ اس طرح پورا شہر تین طرف سے چھوٹی بڑی ندیوں سے گھر ا ہوا ہے اور بڑا سرسبز و شاداب او ر پرفضا بن گیا ہے۔ دونوں چھوٹی ندیوں یعنی ’ورونا‘ اور ’اسی‘ کے بیچ تقریباً دس کیلو میٹر کے میدانی علاقے میں آباد ہونے کے سبب ’وارانسی‘ کہلانے لگا۔ امتداد زمانہ کے ساتھ یا بعض مورخین کے مطابق انگریزوں کے زمانے میں لفظ ’وارانسی‘ بگڑ کر ’بنارس‘ ہوگیا۔
زمانہ قدیم سے بنارس اور اس کے آس پاس کا علاقہ بشمول سارناتھ مختلف مذہبوں کے لیے اہم اور مقدس تھا۔ وہاں ہندو، بودھ، جین اور اسلام کی عبادت گاہیں قائم تھیں نیز مذہبی پیشوائوں،عالموں، راجائوں اور بادشاہوں کی آماجگاہ اور علوم و فنون کا گہوار بھی تھا۔ وہاں کی تاریخ کی ہلکی سی جھلک نذیر بنارسی کے ان شعروں میں ملتی ہے ؎
یہیں کے باسی کبیر، تلسی، یہاں بڑے سے بڑے گیانی
یہ کاشی ترلوک سے نیاری، ہمالہ ہے جس کی راجدھانی
یہاں پہ اس کی ہے جنم بھومی، بنی جو جھانسی میں جاکے رانی
فرنگی سینا سے لڑتے لڑتے لٹادی جس نے بھری جوانی
عبادت گاہوں کے علاوہ دوسری قدیم تعمیرات میں لاٹ، گنبد، حویلیاں، باغ باغیچے، تالاب، گھاٹ وغیرہ میں سے اکثر اب تک موجود ہیں جب کہ بعض کے آثار اور کھنڈرکہیں کہیں ملتے ہیں۔ چینی سیاح فاہیان (337-422) اورایرانی سیاح ابو ریحان البیرونی (973-1048) نے اپنے تاریخی سفرناموں میں بنارس کے حدود اربعہ، مذہبی تصورات، سماجی رسومات، ثقافتی اختصاصات اور لسانی امتیازات کی نشاندہی کی ہے۔ کبیر کوثر بھوپالی اپنی نظم کے ایک بند میں اس شاندار ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں ؎
تمدن جس جگہ ابھرا رہا، سنورا کیا برسوں
تعلم جس جگہ ٹھہرا رہا، پھیلا کیا برسوں
جہاں علم خودی چھایا رہا، برسا کیا برسوں
مذاق شاعری ڈوبا رہا، ابھرا کیا برسوں
بنارس ارضِ بھارت پر، خدا کی شان ہے گویا
فنون و علم و درس وفقر کی میزان ہے گویا
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب بنارس بالکل بدل چکا ہے۔ گنگا کنارے مندروں کے اردگرد ماضی کے مٹتے نقوش مل جاتے ہیں لیکن بنارس کا اصل حسن تاریخ کے پنوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ پچھلی ایک صدی میں تعلیمی اداروں، رہائشی کالونیوں، تجارتی کوٹھیوں، طرح طرح کی دکانوں بھیڑ بھاڑ والے مال اور شاہراہوں کا ایک جال بچھ گیا ہے۔ ہتھ کرگھا کی قدیم صنعت کی جگہ پاور لوم نے لے لی ہے۔ ان تبدیلیوں اور ترقیوں سے زندگی تیز رفتار ضرور ہوئی ہے تاہم شہر کا نقشہ کیا بدلا، اس کی روح پرور شادابی اور خوشگوار ماحول مغربی طرز ترقی اور صارفیت کی اوٹ میں اوجھل ہونے لگا ہے۔
بہر کیف یوں تو بنارس اردو شعر وادب کی وسیع تاریخ میں نہ دکن، دہلی، لکھنو اور عظیم آباد کی طرح کوئی دبستانی حیثیت رکھتا ہے اور نہ رام پور، مرشدآباد، کلکتہ اور لاہور کی طرح کا کوئی مرکز ہے۔ پھر بھی ہر دور میں یہ شہر عقیدت مندوں کے ساتھ ساتھ شاعروں، ادیبوں اور دوسرے فنکاروں کا دل لبھاتا رہا ہے۔ اردو فارسی کے کئی شاعروں اور ادیبوں نے بھی اس پر توجہ مرکو ز کی ہے۔ انھوں نے وہاں کی سیر کی ہو یا نہیں، ا س کا ذکر بڑے احترام اور اہتمام سے کیا ہے۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی خصوصیتیں ہیں، جن کی بناپر ارباب علم و ہنر کے ذہن میں بنارس صرف تیرتھ استھان کے طور پر نہیں، ایک خوشنما فطری قوس قزح کی طرح ابھرتاہے۔اس تناظر میں ادبی مطالعے سے اس شہر کی درج ذیل خصوصیتیں سامنے آتی ہیں جو فنکاروں کے لیے باعث کشش ہیں:
1 گنگا کنارے صبح کا منفرد اور دلکش نظارہ ہوتا ہے۔ ابھرتے سورج کی نرم نرم کرنیں گنگا کی بل کھاتی لہروں پر رقص کرتی ہیں اور ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت بخش ہوائیں روحانی آسودگی دیتی ہیں۔
2 بڑی تعداد میں موجود عالمی شہرت یافتہ گھاٹ پر اشنان سے ایک الگ لطف ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اشنان ظاہری و باطنی تازگی کا سبب ہے۔
3 شان بے نیازی سے جھومتی ہوئی گنگا کی لہروں کے کنارے سورج کے غروب ہونے کا ایک دلفریب منظر ہوتا ہے۔
4 دششوامیدھ گھاٹ پر ہونے والی شام کی گنگا آرتی قابل دید ہوتی ہے۔ اس میں پنچ مکھی دیپ کی گردش ناظرین کو مسخر کر دیتی ہے۔
5 ناقوس (سنکھ) کی آواز دھارمک ماحول بناتی ہے۔
6 قدرت نے مٹی اور پانی میں ایسی تاثیر دی ہے کہ آم اور پان میں ایک الگ لذت اور ذائقہ ملتا ہے۔
7 عالمی سطح پر پہچان رکھنے والی نفیس اور خوش رنگ ساڑیاں اور دوپٹے (دونوں بغیر سلے ہوئے کپڑے) قدیم سودیشی یا کھادی صنعت کی علامت ہیں۔
مذکورہ بالاخصوصیات کا ذاتی مشاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ سب اردو، فارسی کی علمی وادبی کتابوں اور تحریروں سے ماخوذ ہیں۔ اگر ادب کے حوالے سے بنارس کی ان خصوصیات پر گفتگو کی جائے تواس کی شروعات ایرانی شاعر شیخ علی حزیں (وفات 1180ھ / 1768) کے اس شعر سے ہوتی ہے ؎
از بنارس نہ روم معبد عام است ایں جا
ہر برہمن پسرے لچمن و رام است ایں جا
اسی کے ساتھ شہر بنارس کے اس عاشق شاعر کی یہ رباعی بھی تذکرے میں آتی ہے ؎
پری رخان بنارس ہزار رنگا رنگ
پئے پرستش مہدیو چوں کنند آہنگ
بہ گنگ غسل کنند و بہ سنگ پا مالند
زہے شرافت سنگ و زہے لطافتِ گنگ
اس کے بعد غالب کی فارسی مثنوی ’چراغ دیر‘ کا ذکر کیاجاتا ہے جس میں انھوں نے شہر بنارس کے حسین نظاروں کی پرشکوہ ترجمانی کی ہے۔ دراصل اپنے سفر کلکتہ کے دوران جب وہ بنارس میں مقیم ہوئے تو بالکل جوان تھے۔ ان کے حواس خمسہ میں ہندوستان کی مٹی اورماحول کی بوباس سمائی ہوئی تھی نیز وہ ملک کے بدلتے ہوئے حالات اور مسائل سے بھی نبرد آزما تھے۔ زوال آمادہ مشرقی اقدار و آداب کے امین ہونے کے باوجود مغرب کے استحصالی رویوں، معاشی، تہذیبی اور ثقافتی بندشوں سے سمجھوتا کرنے پر مجبور تھے۔ کبھی کبھی ماحول کی کربناکیوں سے فرار اختیارکرتے ہوئے ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دو بارہ نیست‘‘ میں بھی مبتلا ہوجاتے تھے۔ کبھی کبھی ان کی طرز زندگی، اندا ز گفتار، فکری روش اور احساس حسن پر یہ جذبہ حاوی ہوجاتا تھا۔غالب کی اردو شاعری ہو یا فارسی دونوں میںموضوعات اور اسالیب کا یہ رنگ کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ ہر چند ان کے بقول ؎
فارسی بیں تابہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگ من است
غزل پر تو نہیں، ہاں مثنوی پر غالب کا یہ خیال صادق آتا ہے اور اس کی زندہ مثال ان کی مثنوی ’چراغ دیر‘ ہے جو بڑی رواں اور شگفتہ فارسی زبان میں لکھی ہوئی ایک شاہکار مثنوی ہے۔ اس میں ایک نوجوان ہندوستانی کے مشاہدوں سے برانگیختہ ہونے والے خیالات، جذبات اور احساسات سرایت کرجاتے ہیں۔ چہار سو حسن و جما ل کے گونا گوں نظارے جوان دلوں کی دھڑکنوں میں اضافہ کرتے ہیں اور شعری اظہار کا ایک اہم محور بن جاتے ہیں۔ یوں تو اس مثنوی کے کئی شعری اور نثری ترجمے ہوئے ہیں مگر حنیف نقوی کے شعری ترجمے سے واضح ہوگیا ہے کہ مثنوی کا بنیادی آہنگ اپنی اسلوبیاتی اور لفظیاتی کیفیتوں کے ساتھ اردو میں ضم ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر چند شعر اور ان کے تراجم دیکھیے:
1
غالب:نفس با صور دمساز ست امروز
خموشی محشر رازست امروز
نقوی:خموشی آج دمساز فغاں ہے
نفس پر صورِ محشر کا گماں ہے
2
غالب: تعالیٰ اللہ بنارس چشم بد دور
بہشت خرّم و فردوس معمور
نقوی:بنارس نام اس کا چشم بد دور
بہشت خرّم و فردوس معمور
3
غالب:بخوشی پُرکاریٔ طرزِ وجودش
ز دہلی می رسد ہر دم درودش
نقوی:مناظر اس کے ہیں اتنے دل افروز
سلام آتے ہیں دلّی کے شب و روز
4
غالب:بہ لطف از موجِ گوہر نرم روتر
بہ ناز از خونِ عاشق گرم رو تر
نقوی:کرم میں موجِ گوہر کی روانی
ستم میں خونِ عاشق کی جوانی
5
غالب:زرنگیں جلوہ ہا غارت گر ہوش
بہار بستر و نوروز آغوش
نقوی:فروغ حسن سے غارت گر ہوش
بہار بستر و نوروز آغوش
اس میں شک نہیں کہ حنیف نقوی نے خیال اور الفاظ دونوں کا محتاط، متوازن اور عالمانہ ترجمہ کیا ہے۔ اردو فارسی شعریات پر ان کی مضبوط گرفت ہر جگہ عیاں ہے۔ بعض شعر میں الفاظ، ترکیبیں اور مصرعے جوں کا توں رہنے دیئے ہیں۔ اس بناپر ترجمہ میں تخلیقی حسن پیدا ہوگیا ہے۔ باشعور قارئین اس کے آہنگ، شگفتگی اور روانی سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
غالب نے بنارس کی تعریف و توصیف صرف اس مثنوی میں نہیں کی ہے، وہ اپنے فارسی خطوط میں بھی شہر کی سحر آفرینی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ اس کی تفصیل خلیق انجم کی کتاب ’غالب کا سفر کلکتہ اور کلکتے کا ادبی معرکہ‘ میں درج ہے۔ مضمون کو شاعری تک محدود کرتے ہوئے اگر قدامت کی تحقیق کی جائے تو ولی دکنی (1667-1707) کا یہ شعر اہم ہے ؎
کوچۂ یار عین کاسی ہے
جوگیٔ دل وہاں کا باسی ہے
ہوسکتا ہے، ولی سے پہلے کے اردو شاعروں نے بھی بنارس کے متعلق شعر کہے ہوں تاہم میرے مطالعے میں ایسا کوئی شعر نہیں آیا۔ بہار کے ایک مشہور کلاسیکی شاعر شیخ غلام علی راسخ عظیم آبادی (1748-1823) جو اولاً مرزا محمد علی فدوی عظیم آبادی (وفات: 1795-96) کے شاگرد تھے بعدہٗ محمد تقی میر(1723-1810) سے اصلاح لی۔ وہ نواب آصف الدولہ کے عہد میں لکھنو جاتے ہوئے بنارس میں مقیم ہوئے تھے اور وہاں کے قدرتی حسن سے متاثر ہوکر اپنے جذبات کا اظہار ایک عشقیہ مثنوی ’کشش عشق‘ میں اس طرح کیا ؎
زہے شہر محسود باغ بہشت
زن و مرد سب حور و غلماں سرشت
مئے خالص حسن دلکش سے مست
جفا پیشہ و سنگ دل بت پرست
انھوں کے رخ خوب ماہِ تمام
کرے صبح عاشق کو زلف ان کی شام
……………………
……………………
پڑے چشم جس گوشۂ بام پر
خدا ہی کی آجائے قدرت نظر
لب بحر جاوے اگر کوئی واں
تو دیکھے عجب طرح کا اک سماں
شہر کے پرشکوہ مناظر کے علاوہ کنار گنگا اور صبح کا قدرتی حسن شاعروں کا دل موہ لیتا ہے۔ صفی لکھنوی کے یہ شعر ملاحظہ ہوں ؎
ہے لب دریائے گنگ اب کی بہار آئی ہوئی
کوثر آشاموں کی ہرسو چھائونی چھائی ہوئی
ہر طبیعت حسن کے منظر پہ لہرائی ہوئی
لب پہ اک موج تبسم آنکھ شرمائی ہوئی
ڈوب کر کیوں کر نکلتے ہیں ستارے دیکھ لو
یہ تماشا آئو گنگا کے کنارے دیکھ لو
صبح دم سے اکثر شاعر لطف اندوز ہوئے ہیں۔ احسان دانش بھی ان لمحوں سے بھڑک اٹھتے ہیں اور بڑی چابکدستی سے پو پھٹنے کا منظر لفظوں میں سمیٹ لیتے ہیں ؎
ظلمت کی نقابیں چاک ہوئیں، جلووں کی ردائیں پھیل گئیں
موجوں کے سفینے لے لے کر وارفتہ ہوائیں پھیل گئیں
گنگا میں شہابی رنگ گھلا، ساحل پہ ضیائیں پھیل گئیں
یہ صبح بنارس کیا کہیے، افسوس کہ تم سے دور ہوں میں
جلووں میں اندھیرا ڈوب گیا، میدان نے دامن پھیلائے
پانی کے مچلتے دھاروں پر ملاحوں کے نغمے لہرائے
موجوں میں جھکولے تیز ہوئے، گردابوں کے جھونکے چکرائے
یہ صبح بنارس کیا کہیے، افسوس کہ تم سے دور ہوں میں
حفیظ بنارسی نے بھی علی الصباح گنگا کی مستانہ لہروں پر اُگتے سورج کی بکھرتی کرنوں کی خوبصورت تصویر اتاری ہے ؎
یہ اس پار سورج کا اوپر نکلنا
یہ پانی پہ کرنوں کا گر کر مچلنا
یہ سونے کا حدِ نظر تک پگھلنا
کسی دیوتا کی جبیں دیکھتا ہوں
بنارس کی صبح حسیں دیکھتا ہوں
عرش ملسیانی کا یہ شعر بھی لاجواب ہے ؎
کہتی ہے راز سرمدی
صبح بنارس کی زباں
سیماب اکبر آبادی کے یہ دو شعر بھی منظر کشی کے عمدہ نمونے ہیں ؎
طلوع آفتاب صبح ہے گنگا کے ساحل سے
حسیں جس طرح کوئی جھانکتا ہو چاک محمل سے
ہوائیں غسل کرنے آرہی ہیں رود گنگا میں
جو نزہت ہے لب دریا وہی نزہت ہے صحرا میں
اختر شیرانی اپنی نظم ’بنارس‘ میں رومانی ماحول کی حسین عکاسی کرتے ہیں۔ گنگا کنارے گھاٹ کے پرکشش نظارے، مندر کی گھنٹیوں کی مدھر آواز اور صبح کی جاں بخش ہوا میں ایک روح پرور منظر ابھرتا ہے ؎
ہر اک کو بھاتی ہے دل سے فضا بنارس کی
وہ گھاٹ اور وہ ٹھنڈی ہوا بنارس کی
وہ مندروں میں پجاریوں کا ہجوم
وہ گھنٹیوں کی صدا، وہ فضا بنارس کی
بنارس کے مندر اور اشنان گھاٹوں کی الگ الگ تراش خراش، ڈھرا اور ڈھنگ ہے۔ اشنان کرنے والوں کے ہجوم کی بھی اپنی علیحدہ علیحدہ پہچان ہے۔ پجاریوں، ارادت مندوں اور حسینائوں کے اشنان کے منفرد انداز ہیں۔ دیکھیے شاعروں نے کس کس طرح انھیں لفظوں میں قید کیا ہے ؎
تماشا کی وہ ارزانی، وہ گنگا، وہ صنم خانہ
بنارس کی سحر، اشنان کی تقریب روزانہ
حرم والے ذرا کاشی کا منظر دیکھتے جائیں
کہیں دیکھیں گے جنت اور ابھی دیکھیں صنم خانہ
عقیدت کیش ٹھٹ کے ٹھٹ پری زادوں کا اک جمگھٹ
سہانی صبح اور پنگھٹ جواں، رسم قدیمانہ
ہیں پریاں گھات پر یا مانگ میں کاشی کی تارے ہیں
بنارس خود دلہن ہے اور گنگا آئینہ خانہ
(اجتبیٰ رضوی)
نکلے ہے نہاکے کوئی چالاک
جپ کرتی ہے کوئی بند کر ناک
سورج ہی کی کوئی کرکے پوجا
کہتی ہے نہیں ہے تجھ سا دوجا
بیٹھی ہے بچھائے کوئی آسن
کہتی ہے یہی کہ اے برہمن
آ مجھ کو تنک تلک لگادے
صورت مجھے شیو کی دکھادے
سورج سے کوئی نظر ملاکر
پانی کو ہتھیلی میں اٹھاکر
چک پھیری کے جلد پڑھ کے کچھ ساتھ
لے جاتی ہے لب سے مانگ تک ہاتھ
(سعادت یار خاں رنگین)
زن و مرد کا تھا بہت واں ہجوم
سر آپ آتش پرستوں کی دھوم
تھے آمادئہ غسل اس جائے سب
کوئی ان میں گل چہرہ کوئی غنچہ لب
ہر اک سمت خیل پری وش زماں
بہم گرم بازی و غوطہ زناں
کوئی دست بستہ سوئے آفتاب
کوئی شرمگیں ہے کوئی بے حجاب
(راسخ عظیم آبادی)
اٹھ رہی ہے یوں شوالوں سے صدا ناقوس کی
چھیڑدے جیسے کوئی برہا کی ماری راگنی
(عشرت کرتپوری)
سناتن دھرم کے ماننے والے بنارس کے مندروں کے ساتھ ساتھ دریائے گنگا کے پاک و مقدس پانی سے گہری عقیدت رکھتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ پچھلے چالیس پچاس برسوں میں دریائے گنگا کی صفائی پر بہت کم دھیان دیا گیا ہے۔ اس میں غلاظت اور گندگی بڑی بے دردی سے ڈالی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس کے پاک و صاف پانی کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگا ہے۔ اس کی طرف نذیر بنارسی نے اپنی نظم ’گنگا پردوشن‘ میں توجہ مبذو ل کرائی ہے ؎
ڈرتا ہوں رک نہ جائے کویتا کی بہتی دھارا
میلی ہے جب سے گنگا، میلا ہے من ہمارا
قبضہ ہے آج اس پر بھینسوں کی گندگی کا
اسنان کرنے والو جس پر ہے حق تمہارا
شردھائیں چیختی ہیں، وشواس رو رہا ہے
خطرے میں پڑ گیا ہے پر لوک کا سہارا
دوسری نظم’جس کوکہتے ہیں بنارس‘ کا یہ شعر بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے ؎
گندگی لہروں کی دیکھو دھیان سے پیارے صنم
یہ وہی گنگا ہے ہم نے جس کی کھائی تھی قسم
جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے، بنارس کی زراعی پیداوار میں آم اور پان کا مفرح ذائقہ ہے۔ ہر چند وہاں کے لنگڑا آم کی کاشت اب برصغیر کے مختلف علاقوں میں ہونے لگی ہے، بنارس کے لنگڑا آموں کا مزہ اور چاشنی منفرد ہے۔ نذیر بنارسی اس کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہیں ؎
بنارس کی قسم رس سے بھرا ہے
یہی اک پھل ہے جو سب کا سگا ہے
ملاکر منہ سے منہ کرتا ہے باتیں
یہ لنگڑا آم کتنا منہ لگا ہے
کسے اس دور میں فرصت ہے پیارے
کہ تجھ کو بیٹھ کر چاقو سے چھیلے
ادھر آ میں تجھے منہ سے لگالوں
مرے لنگڑے مرے بانکے رسیلے
ظریف شاعر ساغر خیامی کا یہ قطعہ بھی لنگڑا آم کی عوامی پسندیدگی پر دال ہے ؎
تجربہ سے ہمیں محبت کا
دل حسینوں سے پیار کرتا ہے
آم تیری یہ خوش نصیبی ہے
ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے
اکبر الہ آبادی نے علامہ اقبال کو لنگڑا آموں کا تحفہ پارسل سے بھیجا تھا پھر پارسل ملنے کی خبر آنے پر اپنے مخصوص انداز میں ایک پر مزاح شعر کہا تھا ؎
اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا
بنارسی پان کی پورے ملک میں اپنی ایک پہچان ہے۔ شوقین لوگ اسے بطور تحفہ بھی لے جاتے ہیں۔ اس میں دھیمی دھیمی خوشبو اور الگ مزہ ہوتاہے۔ اس کے ملائم اور ذائقہ دار پتوں کا نفاست سے گلوری بنانا اور دھیرے دھیرے چبانا تہذیب اور توقیر کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ محبوب کے ہونٹوں کی لالی او ر حسن و جمال میں اضافے کا سبب بھی ہے۔ اس ضمن میں دو شعر دیکھیے ؎
مسّی کوئی آئی ہے لگاکر
آئی ہے دھڑی کوئی جماکر
کوئی کرکے گلوری پان کی ٹھیک
پھینکے ہے چباکے بس وہیں پیک
(رنگین)
اس میں شک نہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ نہ صرف بنارس میں آباد ہیں بلکہ وہاں سے جذباتی وابستگی اور روحانی ارادت رکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ سیکڑوں برسوں پر محیط ہے۔ دوسری زبانوں کے قلمکاروں کی طرح اردو شاعروں نے بھی گاہے گاہے، بنارس کے رنگا رنگ فطری ماحول و منظر اور مذہبی ریتی رواج کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے نیز اپنے جذبات و احساسات کا حسین ملفوظی مرقع پیش کیا ہے جو ادبی تاریخ میں قابل ذکر اضافے کا باعث ہے۔
مآخذ و مصادر
1 تاریخ بنارس (دوجلدیں) مصنفہ سید مظہر حسن مطبوعہ بنارس، 1916-1926
2 سخنوران بنارس مصنفہ امرت لعل عشرت مطبوعہ وارانسی، 1968
3 صبح بنارس مرتبہ عشرت کرتپوری مطبوعہ دہلی، 1963
4 غالب اور بنارس مرتبہ شاہد ماہلی مطبوعہ دہلی، 2010
5 مثنوی چراغ دیر مع پانچ اردو تراجم مرتبہ پروفیسر صادق مطبوعہ دہلی، 2015
6 غالب کا سفر کلکتہ اور کلکتے کا ادبی معرکہ مصنفہ خلیق انجم، مطبوعہ نئی دہلی،2005
7 کلیات نذیر بنارسی مرتبہ ناصر حسین خاں، مطبوعہ دہلی، 2014
Prof. Rais Anwer
Maheshpatti
Raj Toli Lane
Darbhanga-846004
Cell: 7903767402, 9471642697
rais.anwer4@gmail.com